Labels

کیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے گھر کی بےحرمتی کی، کیا انکےپیٹ میں مکا مار کر بچہ گرا دیا۔۔؟شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعوں کے30حوالہ جات کی اصلیت و تحقیق و جوابات اس تحریر میں تسلی سے پڑھیے،سیوو کیجیے،شیئر کیجیے

 🟥 *#کیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے گھر کی بےحرمتی کی، کیا انکےپیٹ میں مکا مار کر بچہ گرا دیا۔۔؟شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعوں کے30حوالہ جات کی اصلیت و تحقیق و جوابات اس تحریر میں تسلی سے پڑھیے،سیوو کیجیے،شیئر کیجیے*

۔

📣 *#توجہ*

نیچے دی گئ لنکس پے آپ میری کافی ساری تحقیقی تحریرات پڑھ سکتے ہیں۔لنکس یہ ہیں👇

https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1

https://www.facebook.com/share/17EiysLaaj/

🟥✅ *#ایک اہم جواب*

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق جو شیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے تاحیات ناراض رہیں،اس اعتراض کا جواب اس لنک پر ملاحظہ کیجئے

https://www.facebook.com/share/p/1CeUUT9LMh/

🟩✅دو اہم اصول شیعہ کتب سے کہ:

شیعہ کے مطابق سیدنا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

قال أمير المؤمنين (عليه السلام): لولا أن المكر والخديعة في النار لكنت أمكر الناس

 شیعوں کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر مکر و فریب دھوکہ جہنم میں لے جانے والے کام نہ ہوتے تو میں سب سے زیادہ مکار ہوتا

(شیعہ کتاب الكافي - الشيخ الكليني2/336)

(شیعہ کتاب بحار الأنوار - العلامة المجلسي72/286)

.

1️⃣ثابت ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مطابق خیانت کرنا مکر و فریب دھوکہ کرنا جہنمی کام ہے اور کتابوں کی ادھی عبارات پیش کرنا بھی مکرو فریب خیانت دھوکہ ہی ہے

۔

2️⃣نیز سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق سمیت تمام صحابہ کرام کی تعریف کی ہے انہیں نیک متقی پرہیزگار قرار دیا ہےجیسے کہ نیچے دلائل شیعہ کتاب سے لکھے ہیں تو بتائیے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ان کو بدعتی ظالم گھر پر ظلم کرنے والے خلافت چھیننے والے فدک چھیننے والے قرار دے کر سیدنا علی متضاد مکارانہ باتیں کرکے تقیہ بازی کرے مکر و فریب دیں گے...؟؟ ہرگز ہرگز نہیں

۔

اللہ بدمذہبوں باطلوں کو ہدایت دے اور عوام کو ان کے زہر گمراہیوں گستاخیوں بدمذہبیوں شر وغیرہ سے محفوظ فرمائے

.

🌹 *#سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا*

إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه، فلم يكن للشاهد أن يختار ولا للغائب أن يرد، وإنما الشورى للمهاجرين والأنصار، فإن اجتمعوا على رجل وسموه إماما كان ذلك لله رضى

میری(سیدنا علی کی)بیعت ان صحابہ کرام نے کی ہےجنہوں نےابوبکر و عمر کی کی تھی،یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کسی کی بیعت کرلیں تو اللہ بھی راضی ہے، ہمیں بھی راضی ہونا ہوگا(اور وہ خلیفہ برحق کہلائے گا) تو ایسی بیعت ہو جائے تو دوسرا خلیفہ انتخاب کرنے یا تسلیم نہ کرنے کا حق نہیں(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص491)

1۔۔۔یہ سیدنا علی کا فرمان ان کے سامان ہدایت ہے جو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق دو ٹوک یا ڈھکے چھپے الفاظ میں گستاخی و بکواس کرتےہیں

۔

2۔۔۔۔مزید اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ

سیدنا علی کے مطابق سیدنا ابوبکر و عمر مہاجرین انصار صحابہ کرام برحق سچےاچھےتھے ،انکی خلافت برحق تھی تبھی تو سیدنا علی نے انکی بیعت کو دلیل بنایا.....!!

۔

3۔۔۔اس قول سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق رسول کریمﷺنے دوٹوک کسی کو خلیفہ نہ بنایا اگر بنایا ہوتا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی رائے و انتخات کو وقعت نہ دیتے بلکہ وہ نص بیان فرماتے کہ میں تو فلاں آیت یا حدیث کی وجہ سے خلیفہ بلافصل ہوں

۔

4۔۔۔۔اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ  سیدنا علی کے مطابق خلافت میں پہلا نمبر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا نمبر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا

۔

👈5۔۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر وغیرہ صحابہ کرام کافر مشرک مرتد منافق ظالم غاصب بدعتی نہ تھے، انہوں نے خلافت نہ چھینی، نہ ہی باغ فدک چھینا ، نہ ہی گھر کی بےحرمتی کی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا وغیرہ پر کوئی ظلم وغیرہ نہیں کیا ، کوئی گھر وغیرہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ خلافت و باغ فدک کے معاملے میں بلکہ ہر معاملے میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام کا فیصلہ شریعت و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا

۔

6۔۔۔۔اس قول مبارک سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام نیک و عبادت گذار سچے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ انکی تعریف و مدح کرتے تھے

.

🌹هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين

(شیعوں کے مطابق)امام حسن نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے

(شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)

۔

✅سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اوس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق امام علی گذرے تھے لیکن سیدنا حسن "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جسکا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسن کا وہی نظریہ تھا جو سچے اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسن نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے امام حسن....👈اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ صرف خلفاء نہیں بلکہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفائے صالحین قرار دیا سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو۔۔لیھذا سیدنا علی اور سیدنا حسن اور اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہم رشد و ہدایت والے تھے نیک متقی پرہیزگار تھے انہوں نے کوئی ظلم نہیں کیا، کوئی خلافت نہیں چھینی ،کوئی باغ فدک نہیں چھینا، کوئی بے حرمتی گھر کی نہیں کی

۔

2۔۔۔۔اور دوسری بات یہ بھی اہلسنت کی ثابت ہوئی کہ "قرآن و سنت" اولین ستون ہیں کہ ان پے عمل لازم ہے جبکہ شیعہ قرآن و سنت کے بجائے اکثر اپنی طرف سے اقوال گھڑ لیتے ہیں اور اہلبیت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں

۔

3۔۔۔۔اور سیدنا معاویہ کی حکومت سنت رسول و سیرت خلفاء پر اچھی تھی ورنہ ظالمانہ ہوتی تو سیدنا حسن حسین ضرور باءیکاٹ فرماتے صلح نہ فرماتے چاہے اس لیے جان ہی کیوں نہ چلی جاتی جیسے کہ یزید سے بائیکاٹ کیا

۔

4۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے ، انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی کیونکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفاء راشدین یعنی رشد و ہدایت والے خلیفہ قرار دے رہے ہیں

.

🌹 *#سیدنا علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا*

رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً

میں(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ بہت عجر و انکساری والے، بہت نیک و عبادت گذار تھے(فاسق فاجر ظالم غاصب نہ تھے)تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں...(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر کتاب نہج البلاغہ ص181)

.

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جو فرمایا وہ ڈر کی وجہ سے مکاری کرتے ہوئے نہیں فرمایا کیونکہ اوپر شیعہ کتب سے لکھا ہے کہ سیدنا علی نے مکاری کو جہنمی کام قرار دیا ہے۔۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ حق سچ فرمایا جو مستند کتابوں میں ایا ہو یا جو مستند کتابوں کے موافق ہو۔۔۔لیکن جو حق سچ نہ ہو ، مستند کتابوں کے موافق نہ ہو تو وہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ و دیگر اہلبیت حضرات رضی اللہ عنھم کی طرف جھوٹ منسوب کہلائے گا

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟩اب آتے ہیں شیعوں کے حوالہ جات کی اصلیت جاننے کی طرف اور انکی تحقیق کی طرف اور انکےعلمی مدلل جوابات کی طرف

۔

🟥 *#حوالہ1*

شیعہ شہنشاہ نقوی و دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ

بخاری مسلم میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور بخاری میں ہی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ پاک رضی اللہ تعالی عنہا کو ناراض کیا

۔

✅ *2جواب*

اس کا مفصل و مدلل تحقیقی جواب ہم لکھ چکے ہیں جس کا لنک اوپر دے دیا ہے، تحریر کے شروع میں اہم جواب کے عنوان سے

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ2*

شیعوں کا پاکستان میں شہنشاہ۔۔۔ شہنشاہ نقوی و دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ معتبر اہل سنت عالم دین 📌مسعودی اپنی کتاب میں لکھتا ہے

فهجموا عليه، وأحرقوا بابه،واستخرجوه منه كرها، وضغطوا سيّدة النساء بالباب حتى أسقطت(محسنا)

شیعوں کے مطابق سنی عالم دین مسعودی نے لکھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر صحابہ کرام حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر پر وہ جھوم کی صورت میں حملہ آور ہوئے اور زبردستی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو گھر سے نکالا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو گھر کے دروازے پے دے مارا جس کی وجہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پیٹ میں جو بچہ تھا حمل کی صورت میں ،جس کا نام محسن رکھا جانا تھا وہ شہید ہو گیا

إثبات الوصية، المسعودي، ص146

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

سند ہی نہیں لکھی

۔

دوسری بات

 👈اسے اہلسنت عالم کہنا عین مکاری دھوکے بازی ہے...مروج الذہب کا مصنف معتزلی شیعہ تھا معتبر اہلسنت نہ تھا اگرچہ اسکی کتب میں سنی شیعہ معتزلی سب کی حمایت میں مواد موجود ہے

۔

وكان معتزليًّا

 مروج الذهب کا مصنف (سنی نہیں) معتزلی تھا

(تاريخ الإسلام - ت بشار7/829)

.

وكتبه طافحة بأنه كان شيعيا متعزليا

 مروج الذهب کا مصنف اسکی کتب بھری پڑی ہیں ایسی باتوں سے کہ جو اسکے شیعہ اور معتزلی ہونے کا ثبوت ہیں

(ابن حجر العسقلاني ,لسان الميزان ,4/225)

.

 🚨👈حتی کہ شیعہ مصنفین نے اسے اپنا معتبر عالم تک لکھا ہے

علي بن الحسين بن علي المسعودي بخط التقي المسعودي شيعي۔۔كتاب اثبات الوصية له ويدل على أنه من أكمل الشيعة وخواصهم

 👈مروج الذہب اور اثبات الوصیہ کتابوں کا مصنف مسعودی شیعہ تھا بلکہ کامل شیعہ تھا خواص شیعہ میں سے تھا

(شیعہ کتاب أعيان الشيعة -محسن الأمين8/221)

.

🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ3*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کی معتبر ترین تاریخ کی کتاب 📌تاریخ یعقوبی میں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا


✅ *#جواب*

پہلی بات:

اس بات کی کوئی سند ہی تاریخ یعقوبی میں موجود نہیں

۔

دوسری بات:

👈تاریخ یعقوبی اہل سنت کی معتبر تاریخی کتاب نہیں بلکہ تاریخی یعقوبی کا مصنف شیعہ امامی تھا، حتی کہ شیعہ نے ان کو اپنا عالم تک لکھا ہے

أحمد بن أبي يعقوب اسحق (ت ٢٨٤ هـ)  مؤرخ شيعي إمامي

 تاریخ یعقوبی کا مصنف امامی شیعہ تھا 

(عصر الخلافة الراشدة محاولة لنقد الرواية التاريخية وفق منهج المحدثين ص19)

.

 حتی کہ شیعوں نے اسے اپنا علامہ مانا  ہے 

 ويظهر تشيعه من كتابه في التاريخ .... أن مؤلفه شيعي

 تاریخ یعقوبی کی کتب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شیعہ تھا اور اس کی جو کتابیں ہیں ان میں شیعہ روایات ہیں 

(شیعہ کتاب اعیان الشیعۃ3/202)

۔

تیسری بات:

👈تاریخ یعقوبی میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو زد و کوب کیا گیا یا دھکا دیا گیا یا مکا مارا گیا، ایسا کچھ نہیں لکھا اور یہ بھی نہیں لکھا کہ دروازہ توڑا گیا اگ لگائی گئ وغیرہ وغیرہ نہیں لکھا بلکہ ان سب کی نفی اس کتاب میں موجود ہے۔۔۔ کیونکہ تاریخ یعقوبی میں ہے کہ:

ودخلوا الدار فخرجت فاطمة فقالت : والله لتخرجن أو لأكشفن شعري ولأعجن إلى الله ! فخرجوا وخرج من كان في الدار

تاریخ یعقوبی کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں داخل ہوئے تو سیدہ پاک کمرے سے باہر تشریف لائیں اور فرمایا کہ خدا کی قسم اپ لوگ گھر سے نکل جاؤ ورنہ میں بال کھول کر اللہ کی بارگاہ میں فریاد کروں گی تو سارے صحابہ کرام گھر سے تشریف لے گئے

تاریخ یعقوبی اصل عربی2/126

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ4*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ ایک حوالہ کنز العمال کا پیش کرتے ہیں کہ اس میں بھی لکھا ہے کہ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بد سلوکی کی گئی

۔

✅ *#جواب*

اس کی سند وہی ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ کی ہے اور اس پر ہم تفصیل سے کلام نیچے لکھیں گے۔۔اس روایت کا راوی اسلم  واقعے کے وقت موجود ہی نہیں تھا لہذا اس نے نہ جانے کس سے سن کر بیان کر دیا لہذا غیر معتبر کہلائے گا

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ5*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ اعتراض کرتے ہیں کہ

اہل سنت کے مشہور محدث، 📌ابن ابی شیبہ کتاب ”المصنف“کے موْلف صحیح سند سے اس طرح نقل کرتے

ہیں:

 مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ أَنَّهُ حِينَ بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ يَدْخُلَانِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُشَاوِرُونَهَا وَيَرْتَجِعُونَ فِي أَمْرِهِمْ , فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: «يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ , وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا بَعْدَ أَبِيكِ مِنْكِ , وَايْمُ اللَّهِ مَا ذَاكَبِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ ; أَنْ أَمَرْتُهُمْ أَنْيُحَرَّقَ عَلَيْهِمِ الْبَيْتُ» , قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاءُوهَا فَقَالَتْ: تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَاءَنِي وَقَدْ حَلَفَ بِاللَّهِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيُحَرِّقَنَّ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَ وَايْمُ اللَّهِ لَيَمْضِيَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ , فَانْصَرِفُوا رَاشِدِينَ , فَرَوْا رَأْيَكُمْ وَلَا تَرْجِعُوا إِلَيَّ , فَانْصَرَفُوا عَنْهَا فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهَا حَتَّى بَايَعُوا لِأَبِي بَكْرٍ

شیعہ نے ترجمہ کیا کہ:

جس وقت لوگ ابوبکر کی بیعت کر رہے تھے، علی اور زبیر حضرت فاطمہ زہرا کے گھر میں گفتگو اور مشورہ کر رہے تھے اور یہ بات عمر بن خطاب کو معلوم ہوگئی۔ وہ حضرت فاطمہ کے گھر آئے اور کہا: اے رسول کی بیٹی، سب سے محبوب انسان ہمارے نزدیک تمہارے والد گرامی تھے اور ان کے بعد اب تم سب سے زیادہ محترم ہو لیکن خدا کی قسم یہ محبت اس بات کے لئے مانع یا رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ یہ لوگ تمہارے گھر میں جمع ہوں اور میں اس گھر کو ان لوگوں کے ساتھ جلانے کا حکم نہ دوں۔اس جملہ کو کہہ کر باہر چلے گئے جب علی اور زبیر گھر میں واپس آئے تو حضرت فاطمہ زہرا نے علی اور زبیر سے کہا: عمر یہاں آئے تھے اور اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر تم دوبارہ اس گھر میں جمع ہوئے تو تمہارے گھر کو ان لوگوں کے ساتھ آگ لگا دوں گا، خدا کی قسم ! اس نے جو قسم کھائی ہے وہ اس کو انجام دے کر رہے گا۔(معترض شیعہ رافضی نیم رافضی نے اگلی دو تین لائنوں کا ترجمہ چھوڑ دیا، پورا ترجمہ یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ نے فرمایا اپنا بھلا سوچو اور میرے پاس مت آنا پھر سیدنا علی و زبیر وغیرہ نے بیعت کر لی)

.

👈رافضی نیم رافضی نےتوجہ دلائی کہ:

دوبارہ وضاحت کرتا ہوں کہ یہ واقعہ المصنف نامی کتاب میں 📌صحیح سند کے ساتھ نقل ہوا ہے

.

✅ *#جواب*

پہلی بات:

 انتہائی مکاری عیاری دھوکے بازی کا مظاہرہ کیا گیا ہےجوکہ شیعہ رافضی نیم رافضی کی عادت قبیحہ ہے،باطل جھوٹا مکار ہونے کی دلیل ہے....مذکورہ روایت المصنف میں موجود تو ہے 👈مگر صحیح نہیں بلکہ منقطع منکر ضعیف و ناقابل حجت ہے، اس روایت کے پہلے راوی کو ثقہ ثابت کرکے دھوکہ دینے کی کوشش کی گئ ہے کہ روایت صحیح ہے....شیعہ رافضی نیم رافضی اور مولانا َموصوف مکار منافق دھوکے باز نہ ہوتے حق پسند ہوتے تو اس روایت کے مرکزی راوی اسلم کے اس روایت کے متعلق ثابت کرتے کہ اسلم واقعہ میں موجود تھا یا اسلم نے فلاں ثقہ راوی سے سنا 

کتب اہلسنت میں دوٹوک لکھا ہے کہ اسلم راوی دھمکی والے فرضی واقعہ کے وقت موجود ہی نہ تھا تو یہ واقعہ کیسے سنا رہا ہے لازماً کسی اور سے سنا ہوگا مگر کس سے سنا، کسی شیعہ راوی سے تو نہیں سنا ، کسی افواہ کو سن کر روایت تو نہیں کر رہا بحرحال اسلم جب موجود ہی نہ تھا تو اسکی روایت قابل حجت نہیں.....انتہائی ضعیف و منقطع و منکر مردود روایت کہلائے گی

.

✅ *#دلیل.....!!*

👈پہلی بات

بیعت کا واقعہ کہ جس میں حضرت عمر کو دھمکی دینے والا کہا گیا ہے اگر بالفرض مان لیا جائے تو مدینہ میں گیارہ ہجری ماہ ربیع الاول کا واقعہ ہے

اور

اس وقت اسلم مکہ میں تھا بارہ ہجری یا گیارہ ہجری ماہ ربیع الاول کے کچھ ماہ بعد حج کے موقعہ پر حضرت عمر نے اسلم کو خریدا تھا کیونکہ یہ غلام تھا.....ثابت ہوا کہ واقعہ بتانے والا مرکزی راوری اسلم واقعہ کے وقت تھا ہی نہیں اس نے ناجانے کس سے کسی شیعہ سے کسی ضعیف سے کسی دشمن اسلام سے یا افواہ سن کر روایت کر دی جوکہ ناقابل حجت ہے

.

امام بخاری فرماتے ہیں

بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ فَأَقَامَ لِلنَّاسِ الْحَجَّ وَابْتَاعَ فِيها أَسْلَمَ

گیارہ ہجری کو سیدنا ابوبکر نے سیدنا عمر کو حج قائم کرانے مکہ بھیجا...حضرت عمر نے ان دنوں مکہ میں اسلم کو خریدا

(بخاری....تاریخ صغیر1/62)

.

, عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " اشْتَرَانِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَنَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ

 سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام اسلم فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب نے بارہ ھجری کو خریدا تھا

(الطبقات الكبرى ط دار صادر ج5 ص10)

(جمع الجوامع المعروف للسيوطي14/272)

(تاريخ الإسلام ذہبی - ت تدمري 5/362نحوہ)


.

👈 *#دوسری بات.....!!*

 امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتب میں صحیح روایت کو ہی ذکر کرنے کا التزام نہیں کیا بلکہ آپ کی کتب میں ضعیف جدا اور منکر وغیرہ روایات موجود ہیں حتی کہ موضوع جھوٹی روایات تک بعض علماء کے مطابق موجود ہیں

۔

طريق ابن أبي شيبة: موضوع

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ ابن ابی شیبہ کی جو سند ہے موضوع من گھڑت جھوٹی ہے

(المطالب العالية محققا ابن حجر16/593)

.

أخرجه أيضًا: ابن أبى شيبة (٧/١٩١، رقم ٣٥٢٣٥) . قال العجلونى (١/٢٢) : هو موضوع كما قال الصغانى

 ایک روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے لکھا ہے لیکن علامہ عجلونی اور امام صغانی نے اسے موضوع من گھڑت اور جھوٹی روایت قرار دیا ہے

(جامع الأحاديث للسیوطی11/61)

.

 ابن ابی شیبہ نے جابر بن یزید الجعفی سے روایت کی ہے جبکہ کئی علماء کے مطابق یہ سخت ضعیف اور شیعیت میں غلو کرنے والا تھا

- جَابر بن يزِيد الْجعْفِيّ كَانَ ضَعِيفا يغلو فِي التَّشَيُّع

 جابر بن یزید الجعفی سخت ضعیف اور شیعیت میں غلو کرنے والا تھا

(لثقات للعجلي ت البستوي1/264)

.

وهذا من مسند ابن أبي شيبة.قال الأزدي: منكر الحديث.وقال ابنُ مَعِين: ليس بشيء

 ایک روایت کے بارے میں ہے کہ یہ ابن ابی شیبہ نے روایت لکھی ہے لیکن الازدی نے فرمایا یہ منکر الحدیث(صحیح روایت کے خلاف)روایت ہے امام ابن معین نے فرمایا اس روایت کی کوئی وقعت نہیں

(لسان الميزان ت أبي غدة3/448)

۔

👈مطلب امام ابن ابی شیبہ کبھی موضوع من گھڑت جھوٹی روایت تک لکھ دیتے ہیں اور ایسی روایت بھی لکھتے تھے کہ جن کی کوئی وقعت نہیں ہوا کرتی تھی وہ منکر مردود ہوا کرتی تھی۔۔۔ اس کے لکھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی تھی کہ محققین تک بات پہنچ جائے اور وہ اس کی اگے تحقیق کریں

.

 

👈 *#تیسری بات*

کچھ کتب میں اصل واقعہ یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا علی نے چھ ماہ بعد بیعت کی جیسے کہ بخاری مسلم میں ہے بخاري4241 مسلم1759 میں ہے اور اس میں دھمکی شمکی گھر جلانے کا کوئی ذکر نہیں جبکہ ابن ابی شیبہ کی مذکورہ روایت بخاری مسلم کے خلاف یہ بتا رہی ہے کہ بیعت فورا کرلی اور دھمکی دی لیھذا صحیح بخاری مسلم کی روایت کے خلاف ابن ابی شیبہ کی روایت منکر مردود کہلائے گے

لیکن

ایک اور روایت المستدرك4457 اور السنن الكبرى للبيهقي 16/512 میں ہے کہ فورا سیدنا علی نے بیعت کی اور دھمکی شمکی گھر جلانے والی کوئی بات ذکر نہیں کی...لیھذا اس روایت کو لیجیے تو بھی ابن ابی شیبہ کی روایت اس قوی روایت کے خلاف منکر مردود ہے

اور

شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ

فحديثه منكر مردود

اس(غیر ثقہ راوی)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید

مخالفِ صحیح ہو تو)منکر و مردود ہے

(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)

(المقنع في علوم الحديث1/188)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ6*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہلسنت کے امام 📌طبرانی نے لکھا ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے خود اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی

۔

✅ *#جواب*

امام طبرانی نے اس کی سند یہ لکھی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ،

طبرانی کبیر روایت43

۔

👈اس روایت میں ایک راوی علوان بن داؤد البجلی منکر راوی ہے اور منکر راوی کی روایت شیعہ سنی سب کے نزدیک معتبر نہیں ہوتی

۔

قال البخاري وأبو سعيد بن يونس: " منكر الحديث

 امام بخاری اور امام ابو سعید نے فرمایا کہ یہ راوی  علوان منکر الحدیث( صحیح حدیث و روایات کے خلاف روایات کرتا) ہے

(المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري ,1/388)

.

امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں

علوان" بن داود البجلي مولى جرير  بن عبد الله ويقال علوان بن صالح قال البخاري علوان بن داود ويقال ابن صالح منكر الحديث وقال العقيلي له حديث لا يتابع عليه

ولا يعرف إلا به

 یہ راوی  علوان امام بخاری اور امام ابن صالح اور امام عقیلی کے مطابق منکر الحدیث(صحیح حدیث و روایات کے خلاف روایات کرتا) ہےاسکی روایت کی تاءید کسی معتبر نے نہیں کی

( لسان الميزان4/188)


.

امام ذھبی لکھتے

منكر الحديث وقال العقيلي: له حديث لا يتابع عليه، ولا يعرف إلا به

علوان منکر الحدیث(صحیح حدیث و روایات کے خلاف روایات کرتا) ہےامام عقيلي فرماتے ہیں کہ علوان کی کوئی پہچان نہیں سوائے اس کے کہ یہ اس روایت کے ذریعہ سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی اس روایت کی تائید و متابعت کسی دوسری روایت سے نہیں ہوتی 

(ميزان الاعتدال ,3/108)

.

قال البخاري: علوان بن داود ويُقال: ابن صالح منكر الحديث.

وقال العقيلي: له حديث لا يتابع عليه، وَلا يعرف إلا به.

وقال أبو سعيد بن يونس: منكر 

  امام بخاری فرماتے ہیں کہ علوان منکر الحدیث ہے(صحیح حدیث و روایات کے خلاف روایات کرتا ہے) یہ علوان بن داود ہے اور اسے علوان بن صالح بھی کہا گیا ہے..امام عقيلي فرماتے ہیں کہ علوان کی کوئی پہچان نہیں سوائے اس کےکہ یہ اس روایت کے ذریعہ سے پہچانا جاتا ہےاور اس کی اس روایت کی تائید و متابعت کسی دوسری روایت سے نہیں ہوتی ، ابوسعید بن یونس نے فرمایا کہ علوان منکر الحدیث(صحیح حدیث و روایات کے خلاف روایات کرتا)ہے

(لسان الميزان ت أبي غدة ,5/472)


👈اور شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ

فحديثه منكر مردود

اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید

مخالفِ صحیح ہو تو)منکر و مردود ہے

(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)

(المقنع في علوم الحديث1/188)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ7*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیا کہتے ہیں کہ اہلسنت کتاب 

📌تحفہ اثنا عشری میں شاہ صاحب نے اقرار کیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر کی بے حرمتی سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کی

۔

✅ *#جواب*

فارسی کتاب دکھا کر اردو پڑھے لکھے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی کہ وہ فارسی تو پڑھ نہیں پائیں گے اور اردو ترجمہ پر بھروسہ نہیں کریں گے تو یہ چال چلی اور فارسی کتاب کا حوالہ دیا لیکن ہم اپ کے سامنے فارسی کتاب سے ہی شاہ صاحب کی عبارت پیش کر رہے ہیں، شاہ صاحب لکھتے ہیں:

  طعن دوم آنکه عمر رضی اللہ عنہ خانہ حضرت سیدة النسا را بوسخت و بر پهلوی مبارک آنمعصومه بشمشیر خود صدمه رسانیده که موجب اسقاط حمل گردید، اینقصه سراسر واهی و بہتان و افترا است

ترجمہ

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر دوسرا اعتراض شیعہ یہ کرتے ہیں کہ عمر نے حضرت سیدہ النساء کے گھر پر چڑھائی کی اور اس معصومہ خاتون( شاہ صاحب نے شیعہ کے الفاظ نقل کر کے سیدہ فاطمہ کو معصومہ لکھا ہے) کے مبارک پہلو کو اپنی تلوار سے زخمی کر دیا جس سے اسقاط حمل ہو گیا۔(شاہ صاحب نے اپنا تبصرہ لکھا کہ)یہ کہانی سراسر جھوٹی، بہتان اور افتراء ہے۔

تحفہ اثناعشری فارسی ص464

واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہ صاحب نے اس کہانی کو سراسر جھوٹ بہتان قرار دیا۔۔ ہاں اگے شاہ صاحب نے یہ تحقیق لکھی ہے کہ کچھ شیعہ کہتے ہیں کہ یہ فقط دھمکی تھی تو اس کا جواب بھی شاہ صاحب نے دیا کہ یہ دھمکی مان لی جائے تو بھی یہ دھمکی سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے نہیں تھی بلکہ ان شرپسندوں کے لیے تھی جن کو خود سیدہ فاطمہ اپنے گھر سے نکالنا چاہتی تھیں

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ8*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہلسنت کتاب 📌کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ خود اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی

۔

✅ *#جواب*

کتاب الاموال میں اس کی سند یہ لکھی ہے

أَنَا حُمَيْدٌ أنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفَهْمِيُّ، حَدَّثَنِي عُلْوَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ

کتاب الاموال روایت467

۔

👈اس کی سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علوان بن داؤد راوی ہے جس کے متعلق ہم نے حوالہ6 کے اندر تفصیل سے لکھا ہے کہ یہ راوی منکر راوی ہے اور منکر راوی کی روایت سنی شیعہ کے مطابق مردود و باطل ہے

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ9*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ دو ٹوک کہتے ہیں کہ دیکھو اہل سنت کی معتبر ترین کتاب 📌الامامہ والسیاسیہ ابن قتیبہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ سیدہ فاطمہ کے گھر پر حملہ کیا گیا اور ان کا حمل گرایا گیا

.

✅ *#جواب*

پہلی بات

الامامۃ و السیاسۃ بھی معتبر اہلسنت کتاب نہیں بلکہ متنازعہ کتاب ہے بعض نے اسے ابن قتیبہ کی تصنیف ہی قرار نہ دیا بعض نے لکھا کہ ابن قتیبہ دو تھے ایک سنی ایک شیعہ،شیعہ نے کتاب لکھی اور شیعہ اسے سنی مصنف کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں..(دیکھیے میزان الکتب ص 275 لسان المیزان ر4460)

۔

*#دوسری بات*

👈علماء نے دلائل سے ثابت کیا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں۔۔۔مثلا ایک محقق لکھتے ہیں کہ:

 كتاب مكذوب على ابن قتيبة ـ رحمه الله تعالى ـ ، وعلى الرغم من ذلك ؛ فهو مصدر هام عند كثير من المؤرخين المعاصرين ، ويجب التعامل مع هذا الكتاب بحذر شديد ؛ إذ حوى مغالطات كثيرة ، ولذا ؛ شكك ابن العربي من نسبة جميع ما فيه لابن قتيبة .

والأدلة على عدم صحة نسبة هذا الكتاب لابن قتيبة كثيرة . منها :

1. أن الذين ترجموا لابن قتيبة لم يذكروا هذا الكتاب بين ما ذكروه له ، اللهم إلا القاضي أبا عبدالله التوزي المعروف بابن الشباط ، فقد نقل عنه في الفصل الثاني من الباب الرابع والثلاثين من كتابه ( صلة السمط ) .

2. أن الكتاب يذكر أن مؤلفه كان بدمشق . وابن قتيبة لم يخرج من بغداد إلا إلى دينور .

3. أن الكتاب يروى عن أبي ليلى ، وأبو ليلى كان قاضياً بالكوفة سنة(148هـ)أي قبل مولد ابن قتيبة بخمس وستين سنة

4. أن المؤلف نقل خبر فتح الأندلس عن امرأة شهدته ، وفتح الأندلس كان قبل مولد ابن قتيبة بنحو مائة وعشرين سنة .

5. أن مؤلف الكتاب يذكر فتح موسى بن نصير لمراكش ، مع أن هذه المدينة شيدها يوسف بن تاشفين سلطان المرابطين سنة (455هـ) وابن قتيبة توفي سنة (276هـ) .

6. أن هذا الكتاب مشحون بالجهل والغباوة والركة والكذب والتزوير ؛ ففيه أبو العباس والسفاح شخصيتان مختلفتان ، وهارون الرشيد هو الخلف المباشر للمهدي ، وأن الرشيد أسند ولاية العهد للمأمون ، وهذه الأخطاء يتجنبها صغار المؤرخين ، فضلاً عمن هو مثل ابن قتيبة

7. أن مؤلف (الإمامة والسياسة) يروي كثيراً عن اثنين من كبار علماء مصر ، وابن قتيبة لم يدخل مصر ولا أخذ من هذين العالمين ؛ فدل هذا على أن الكتاب مدسوس عليه .

وقد جزم بوضع الكتاب على ابن قتيبة غير واحد من الباحثين ، من أشهرهم :

1- محب الدين الخطيب في مقدمة كتاب ابن قتيبة

2- ثروت عكاشة في مقدمة كتاب ابن قتيبة (المعارف)

3- عبد الله عسيلان في رسالة صغيرة مطبوعة بعنوان (كتاب الإمامة والسياسة في ميزان التحقيق العلمي) ، ساق فيها اثني عشر دليلاً على بطلان نسبة هذا الكتاب لابن قتيبة .

4- عبد الحليم عويس في كتابه (بنو أمية بين الضربات الخارجية والانهيار الداخلي) ص 9-10.

5- سيد إسماعيل الكاشف في كتابه (مصادر التاريخ الإسلامي) ص33 .

6- وقد قُدِّمت في الجامعة الأردنية كلية الآداب عام 1978م رسالة ماجستير عنوانها ( الإمامة والسياسة دراسة وتحقيق ) ، قال الباحث فيها : وعلى ضوء هذه الدراسة ؛ فقد تبين أن ابن قتيبة الدينوري بعيد عن كتاب (الإمامة والسياسة) ، وبنفس الوقت ؛ فإنه لم يكن بالإمكان معرفة مؤلف الكتاب ، مع تحديد فترة وفاته بحوالي أواسط القرن الثالث الهجري ،

 7- وقد جزم ببطلان نسبة هذا الكتاب لابن قتيبة أيضاً السيد أحمد صقر في مقدمة تحقيقه لـ ( تأويل مشكل القرآن ) ص32 ؛ فقال : ( كتاب مشهور شهرة بطلان نسبته إليه )

8۔وإلى هذا ذهب الحسيني في رسالته (ص77-78) ، 9.والجندي في كتابه عن ابن قتيبة ( 169-173 )

10۔وفاروق حمادة في ( مصادر السيرة النبوية ) ص91 ،

 11۔وشاكر مصطفى في ( التاريخ العربي والمؤرخون ) (1/241-242)

ترجمہ:

کتاب الامامۃ و السیاسۃ ابن قتیبہ کی طرف جھوٹی منسوب کی گئی من گھڑت کتاب ہے۔ لوگ اس کتاب سے حوالہ دیتے ہیں لیکن اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے وقت انتہائی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ اس میں بے شمار غلطیاں اور گڑبڑیاں موجود ہیں۔ اسی بنا پر 👈امام ابن العربی نے اس کتاب کی تمام روایات کا ابن قتیبہ کی طرف منسوب ہونا مشکوک قرار دیا ہے۔

👈یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں اس پر کئی دلائل موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

(1) جن اہلِ علم نے ابن قتیبہ کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے اس کتاب کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا۔ صرف قاضی ابو عبد اللہ التوزی المعروف ابن الشباط نے اپنی کتاب صلة السمط کے باب 34 کے دوسرے فصل میں اس سے کچھ نقل کیا ہے۔


(2) کتاب الامامۃ و السیاسۃ میں مصنف لکھتا ہے کہ وہ دمشق میں رہا۔ لیکن ابن قتیبہ بغداد سے صرف دینور گئے تھے، دمشق کبھی نہیں گئے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں


(3) اس کتاب میں ’’ابو لیلى‘‘ سے روایت ہے، جو 148 ہجری میں کوفہ کے قاضی تھے۔ یعنی یہ ابن قتیبہ کی پیدائش سے 65 سال پہلے کا زمانہ ہے—لہٰذا ابن قتیبہ کا ان سے روایت لینا ناممکن ہے۔تو اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں


(4) اس کتاب میں مصنف نے فتحِ اندلس کا واقعہ ایک ایسی عورت سے نقل کیا ہے جو اس موقع پر موجود تھی، جبکہ فتحِ اندلس ابن قتیبہ کی پیدائش سے 120 سال قبل ہوا تھا۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں


(5) اس کتاب میں مصنف کہتا ہے کہ موسیٰ بن نصیر نے مَرّاکَش فتح کیا، حالانکہ مَرّاکَش شہر تو سلطان یوسف بن تاشفین نے 455 ہجری میں تعمیر کیا—جبکہ ابن قتیبہ 276 ہجری میں وفات پا چکے تھے۔تو جو ابن قتیبہ 276ھ میں وفات پا چکا وہ 455ھ کا واقعہ کیسے لکھے گا۔۔۔؟؟ثابت ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں


👈(6) یہ کتاب جہالت، بے علمی، کمزور اسلوب، جھوٹ اور تحریف سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر:

اس میں ابو العباس اور سفاح کو دو الگ الگ شخصیات بنا دیا گیا ہے،

ہارون الرشید کو براہِ راست مہدی کا جانشین لکھا گیا ہے،

اور یہ بھی کہ الرشید نے خلافت کی ولی عہدی مأمون کو سونپی۔

یہ غلطیاں عام طالب علمِ تاریخ بھی نہیں کرتے، چہ جائیکہ ابن قتیبہ جیسا امام ایسی غلطیاں لکھے۔۔تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

(7) اس کتاب کا مصنف مصر کے دو بڑے علماء سے بار بار روایت کرتا ہے، جبکہ ابن قتیبہ کبھی مصر گئے ہی نہیں، نہ اُن علماء سے پڑھا۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب ابن قتیبہ پر گھڑی گئی ہے۔

👈وہ محققین جنہوں نے صراحتاً ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں:

1...محب الدین الخطيب — مقدمہ کتاب ابن قتیبة

2...ثروت عکاشہ — مقدمہ المعارف لابن قتیبہ

3...عبد اللہ عُسیلان — رسالہ كتاب الإمامة والسياسة في ميزان التحقيق العلمي (جس میں انہوں نے بارہ دلائل پیش کیے)

4...عبد الحليم عويس — بنو أمية بين الضربات الخارجية والانهيار الداخلي، ص 9–10

5...سید اسماعیل الکاشف مصادر التاريخ الإسلامي، ص33

1978ء میں جامعہ اردنیہ میں پیش کی گئی ایم اے کی تحقیق "الإمامة والسياسة: دراسة وتحقيق"

اس میں محقق نے واضح کیا کہ ابن قتیبہ کا اس کتاب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ مصنف کی وفات غالباً تیسری صدی ہجری کے وسط میں ہوئی۔

6...السید أحمد صقر — مقدمہ تأويل مشكل القرآن، ص 32

انہوں نے کہا:

“یہ کتاب اپنی جھوٹی نسبت کی شہرت ہی کی وجہ سے مشہور ہے۔”

7...الحسینی — اپنی رسالہ، ص 77–78

8...الجندی — کتاب: ابن قتيبة، ص 169–173

9...فاروق حمادة — مصادر السيرة النبوية، ص 91

10...شاكر مصطفى — التاريخ العربي والمؤرخون، ج1، ص 241–242

(كتب حذر منها العلماء 2/298-301ملتقطا)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ10*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ

📌ازالۃ الخفاء میں اہلسنت کے معتبر عالم دین شاہ صاحب نے مصنف ابن ابی شیبہ والی روایت کو صحیح قرار دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کس طرح سیدہ پاک کے گھر پر حملہ کیا

۔

✅ *#جواب*

نہیں شاہ صاحب نے مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کو صحیح قرار نہیں دیا بلکہ یہ ارشاد فرمایا کہ حضرات شیخین سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اس معاملے کو بہت حکمت اور بہترین تدبیر سے ختم کر دیا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دل پر جو رنج و ملال محسوس ہوا تھا اسے خوب مہربانی سے دور کیا۔اس سے تو واضح ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کوئی بے حرمتی گھر کی نہیں کی بلکہ اچھی تدبیر سے مسئلہ حل کیا لہذا جس روایت میں ہو کہ بے حرمتی ہوئی وہ روایت معتبر نہیں ہے شاہ صاحب کے نزدیک۔۔۔۔!!

۔

👈شاہ صاحب کے اصل فارسی الفاظ پڑھیے

ايام مشكلي ديگر كه فوق جميع مشكلات توان شمرد پيش آمد و آن اين بود كه زبير و جمعي از بني هاشم در خانه ي حضرت فاطمه رضي الله تعالي عنها جمع شده در باب نقض خلافت مشورت ها بكار مي بردند حضرت شيخين آن را به تدبيري كه بايستي بر هم زدند و تدارك ملالي كه بر مزاج حضرت مرتضي عارض شده بود به حسن ملاطفت فرمودند، روات اين قصه هر يكي چيزي را حفظ كرد و چيزي ترك نمود در اين جا چند روايت بنويسم تا قضيه منقح گردد، عن زید بن اسلم عن ابیہ

ترجمہ

انہی دنوں ایک اور مشکل پیش آگئی جو تمام مشکلات سے بڑھ کر تھی۔ وہ یہ کہ زبیر اور بنی ہاشم کے بعض لوگ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو کر خلافت کو چیلنج کرنے اور اسے ختم کرنے کے متعلق مشورے کر رہے تھے۔ حضرات شیخین سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اس معاملے کو بہت حکمت اور بہترین تدبیر سے ختم کر دیا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دل پر جو رنج و ملال محسوس ہوا تھا اسے خوب مہربانی سے دور کیا۔۔۔۔اس واقعے کے راویوں میں سے ہر ایک نے کچھ باتیں یاد رکھیں اور کچھ چھوڑ دیں۔ اس لیے مناسب ہے کہ یہاں چند روایات ذکر کر دی جائیں تاکہ پوری حقیقت واضح ہو جائے۔(پھر شاہ صاحب نے مصنف ابن ابی شیبہ والی روایت لکھی) زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کیا۔۔۔

ازالۃ الخفاء1/29

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ11*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ

📌الاستیعاب میں اہل سنت کے جید عالم نے مصنف ابن ابی شیبہ والی روایت کو صحیح قرار دیا ہے

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

👈ایک جواب تو وہ ہے کہ جو ہم نے حوالہ نمبر5 میں لکھا کہ مصنف ابن ابی شیبہ والی روایت کا راوی اسلم واقعے کے وقت موجود ہی نہیں تھا تو لہذا اس کی روایت غیر معتبر کہلائے گی اور الاستیعاب میں بھی وہی سند ہے جس میں اسلم ہے جو واقعے کے وقت موجود ہی نہیں تھا اس لیے الاستیعاب والی روایت بھی باطل و مردود کہلائے گی

۔

*#دوسری بات*

 👈الاستیعاب کے مصنف نے فقط اس روایت کو لکھا ہے اور اس پر کسی قسم کی توثیق نہیں کی، اس کو صحیح قرار نہیں دیا بلکہ اس روایت سے پہلے یہ لکھا کہ

، لم يزل سامعا مطيعا لَهُ يثني عَلَيْهِ ويفضله

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ہمیشہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنتے رہے مانتے رہے اور ان کی مدح و تعریف کرتے رہے اور انہیں اپنے اپ سے افضل قرار دیتے رہے

الاستیعاب3/973

۔

 👈الاستیعاب کے مصنف کے نزدیک تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی مدح سرائی کیا کرتے تھے، تعریف کیا کرتے تھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کے بعد بھی۔۔۔۔۔اگر بالفرض ظلم کیا ہوتا ، گھر جلایا ہوتا، پیٹ میں بچہ محسن شہید کیا ہوتا اور سیدہ کو شہید کیا ہوتا تو کیا مصنف پھر بھی لکھتے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا ابوبکر صدیق کی سیدہ پاک کی وفات کے بعد بھی تعریف کرتے رہے اور اپنے سے افضل قرار دیتے رہے۔۔۔؟؟

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ12*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ

اہل سنت کی معتبر کتاب 📌فرائد السمطین میں حدیث پاک ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کس قدر بد سلوکی ہوگی، ان کا حق چھینا جائے گا میراث نہیں دی جائے گی، ان کی پسلیاں توڑی جائیں گی

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

👈فرائد السمطین معتبر اہلسنت کتب میں سے نہیں بلکہ شیعہ کتب میں سے ہے... اس کے مصنف پر شیعہ ہونے کا حکم اور جرح علماء نے لکھی ہے لہذا اگر اس کی سند بھی ہوتی صحیح  بھی ہوتی تو بھی یہ غیر معتبر روایت کہلاتی کہ پہلا راوی یعنی خود مصنف ہی غیر معتبر ہے

۔

وجعله الأمين العاملي من أعيان الشيعة ولقبه بالحموئي (نسبة إلى جده حمويه) وقال : له (فرائد السمطين في فضائل المرتضى والبتول والسبطين - خ) في طهران (الجامعة المركزية 583) في 160 ورقة وقال الذهبي : شيخ خراسان كان حاطب ليل - يعني في رواية الحديث - جمع أحاديث ثنائيات وثلاثيات ورباعيات من الأباطيل المكذوبة

یعنی

فرائد السمطين کا لکھنے والا شیعوں کے بڑے بڑے علماء میں سے تھا اس نے بہت ساری باطل جھوٹی روایتیں بیان کی ہیں

 [الأعلام لخير الدين الزركلي الجزء1 صفحة63)

۔

.👈حتی کہ شیعوں نے اسے اپنا عالم تسلیم کیا ہے

ذهب فيه إلى تشيعه ويمكن ان يستفاد تشيعه من أمور 1 روايته عن أجلاء علماء الشيعة..

 شیعہ علماء نے کہا ہے کہ یہ شیعہ تھا اور اس بات کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس نے بڑے بڑے شیعہ علماء سے روایت لی ہیں

(شیعہ کتاب أعيان الشيعة2/219ملتقطا)

۔

*#دوسری بات*

فرائد السمطین میں اسکی سند یہ لکھی ہے

أنبأني الشيخ أبو طالب علي بن أنجب بن عبيد الله بن الخازن عن كتاب الإمام برهان الدين أبي الفتح ناصر بن أبي المكارم المطرّزي عن أبي المؤيد ابن الموفق ، أنبأنا علي بن أحمد بن موسى الدقاق (۱) قال أنبأنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي قال :أنبأنا موسى بن عمران عن عمه الحسين بن يزيد النوفلي عن الحسن بن علي بن حمزة عن أبيه

۔

👈اس سند میں ایک راوی محمد بن ابی عبداللہ کوفی اتنا بڑا شیعہ راوی ہے کہ یہ معتبر ترین شیعہ کلینی کا بھی استاد ہے،یہ بات خود شیعوں نے لکھی ہے

۔

 .محمد بن أبي عبد الله الكوفي :

ووقع في طريق الصدوق إلى عدة من أصوله التي استخرج منها أحاديث كتابه ، وأشار الخوئي في ج 14 / 283 إلى مواضع روايته .ولعله متحد مع ابن أبي عبد الله الكوفي الأسدي أبي الحسين الذي روى الصدوق في الخصال ج 2 / 113 عن جماعة من مشائخه ، وهي تفيد حسنه وكماله .

وعد من مشائخ الكليني

شیعہ محقق کہتا ہے کہ محمد بن ابی عبداللہ کوفی سے شیخ صدوق شیعہ نے کئی احادیث لکھی ہیں اور دیگر مشائخ شیعہ سے بھی اس کی روایات ہیں  جو کہ بہت ہی حسن و کمال والی ہیں اور یہ راوی شیعہ راوی امام کلینی کے مشائخ و اساتذہ میں سے ہے

مستدركات علم رجال الحديث6/386

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ13*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ

اہل سنت کی معتبر کتاب 📌تاریخ طبری میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے دھمکی دی کہ میں تمہارے گھر کو اگ لگا دوں گا

.

✅ *#جواب*

👈تاریخ طبری میں اس کی سند یہ لکھی ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ،

تاریخ طبری3/202

۔

👈مذکورہ روایت کا ایک راوی ابن حمید جھوٹا کذاب غیر معتبر راوی ہے لہذا اس کی بیان کردہ روایت مذکورہ باطل و مردود ہے

۔

وَقَالَ السَّعْدِيّ: كَانَ رَدِيء المَذْهَب، غير ثِقَة۔۔كذبه أبو زرعة، وابن وارة.وقال النسائي: ليس بثقۃ.وقال صالح بن محمد الأسدي: ما رأيت أحذق بالكذب منه ومن الشاذكوني.قال يعقوب بن شيبة: كثير المناكير۔۔وقال ابن خراش: حدثنا ابن حميد - وكان والله يكذب

امام سعدی نے فرمایا کہ ابن حمید برے مذہب والا تھا انتہائی غیر معتبر تھا اور امام ابوزرعہ نے اس کو جھوٹا کذاب راوی قرار دیا ہے، اسی طرح امام ابن وارہ نے بھی جھوٹا قرار دیا ہے، امام نسائی نے بھی اسے غیر معتبر قرار دیا، امام اسدی نے فرمایا کہ میں نے شاذکونی اور ابن حمید سے بڑھ کر کسی کو جھوٹ بولنے میں ماہر نہیں پایا، امام یعقوب فرماتے ہیں کہ یہ بہت منکر روایتیں کرتا تھا اور امام ابن خراش نے فرمایا کہ خدا کی قسم ابن حمید روایات میں جھوٹ بولتا ہے

(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين13/222ومابعدہ)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ14*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ

اہل سنت کے معتبر عالم دین علامہ 📌سیوطی نے سیدہ نساء اہل الجنۃ کتاب میں لکھا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ فاطمہ کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات:

یہ کتاب علامہ سیوطی کی نہیں بلکہ علامہ مناوی کی ہے

۔

دوسری بات:

👈سند میں صرف اخری راوی لکھا ہے باقی راوی نہیں لکھے اور جو اخری راوی لکھا ہے وہ عبدالرحمن بن عوف لکھا ہے

اور اوپر حوالہ8 کے تحت ہم نے جو سند لکھی ہے اس میں بھی اخری راوی عبدالرحمن بن عوف ہیں اور وہ روایت بھی یہی والی ہے کہ جس میں کہا جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی۔۔۔ لہذا اس کتاب میں جو یہ روایت ہے اس کی سند وہی ہے جو ہم نے روایت8 میں لکھی اور روایت8 میں سند کے اندر علوان بن داؤد غیر معتبر منکر راوی ہے جیسے کہ تفصیل حوالہ6 میں لکھ دی ہے

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ15 حوالہ16*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کا عالم امام 📌ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور 📌ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں اقرار کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ فاطمہ کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی

۔

✅ *#جواب*

اور یہاں بھی چلا کی مکاری اور دھوکہ بازی خیانت کرتے ہوئے دونوں مصنفین کا 🚨تبصرہ حذف کردیا جو رافضیوں نیم رافضیوں شیعوں کے باطل مردود فسادی جھوٹے مکار ہونےکی نشانی ہے

👈علامہ ذہبی اور علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں اس روایت کے متعلق کہ:

علوان" بن داود البجلي مولى جرير  بن عبد الله ويقال علوان بن صالح قال البخاري علوان بن داود ويقال ابن صالح منكر الحديث وقال العقيلي له حديث لا يتابع عليه

ولا يعرف إلا به

 علوان بن داود اس روایت کا راوی ہے امام بخاری نے کہا ہے کہ یہ منکر الحدیث ہے  صحیح حدیث و روایت کے خلاف روایت کرتا ہے امام عقیلی نے فرمایا کہ اس کی حدیث کی کسی نے مطابقت نہیں کی 

( ميزان الاعتدال3/108 لسان المیزان4/188)

اور

شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ

فحديثه منكر مردود

اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید

مخالفِ صحیح ہو تو)منکر و مردود ہے

[شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185]

[المقنع في علوم الحديث1/188]

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ17*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کا عالم 📌شھرستانی نے الملل میں لکھا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پیٹ میں مکا مارا اور ان کا بچہ گر گیا

۔

✅ *#جواب*

شیعوں نے یہاں بھی آدھی عبات لکھ کر بہت بڑی مکاری دھوکہ دہی کی ہے

الملل و النحل کی پوری بات پڑھیے لکھا ہےکہ

وزاد في الفرية فقال: إن عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى ألقت الجنين من بطنها

ترجمہ:

(فرقہ نظامیہ کا بانی إبراهيم بن يسار بن هانئ النظام نے)مزید جھوٹ و بہتان باندھتے ہوئے کہا کہ عمر نے فاطمہ کے پیٹ پے مارا اور اپ کے پیٹ میں بچہ گر گیا

(الملل و النحل1/57)

.

👈ذرا سی بھی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ ملل نحل میں تو اس کو جھوٹ بہتان و افتراء کہا ہے اور شیعہ آدھی بات پیش کرکے مکاری و دھوکہ بازی دیتے ہوئے مفھوم بدل کر پیش کر رہے ہیں

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ18*

.شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کا عالم محمد بن یوسف گنجی میں اپنی کتاب 📌کفایۃ الطالب میں لکھا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ فاطمہ کے پیٹ پہ مکہ مار کر ان کا بچہ گرا دیا

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات:

🚨پہلے محمد بن یوسف گنجی کی عبارت پڑھیں

 وأسقط المفيد من البنات اربعاً.۔وزاد على الجمهور ، وقال : إن فاطمة عليها السلام اسقطت بعد النبي ذكراً ، كان سماه رسول الله لا محسناً 

محمد بن یوسف گنجی لکھتا ہے کہ شیخ مفید( جو کہ شیعوں کا بہت بڑا عالم ہے اس) نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی چار بیٹیوں کو ان کی اولاد سے حذف کر دیا اور جمہور کا ساتھ اختلاف کرتے ہوئے شیخ مفید نے اتنا اضافہ کر دیا کہ سیدہ فاطمہ کا ایک بیٹا محسن تھا جو پیٹ سے ساقط ہو گیا

کفایۃ الطالب ص412ملتقطا

۔

👈یعنی یہ جو لکھا ہے کہ پیٹ سے بچہ گر گیا یہ شیعہ کی بات ہے شیعہ شیخ مفید کی بات ہے، اہل سنت کی بات نہیں ہے

۔

👈اور یہ بھی نہیں لکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مکہ مارا ہو تب جا کے بچہ ساقط ہو گیا بلکہ مطلق لکھا ہے کہ ساقط ہو گیا

۔

*#دوسری بات*

👈شیخ گنجی بھی اہلسنت سنت کا معتبر عالم نہیں ہے

علامہ عینی اور علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں

وقال ابن كثير: وقتلت العامة وسط الجامع شيخا رافضيا، كان مصانعا للتتار على أموال الناس، يقال له: الفخر محمد بن يوسف بن محمد الكنجى، كان خبيث الطوي

ابنِ کثیر کہتے ہیں:  عوام نے جامع مسجد کے بیچ میں ایک رافضی شیخ کو قتل کر دیا، جو لوگوں کے مال کے معاملے میں تاتاریوں کا ساتھی اور مددگار بنا ہوا تھا۔ اس کا نام فخر محمد بن یوسف بن محمد گنجی تھا۔ نہایت خبیث انسان تھا

عقد الجمان في تاريخ أهل الزمان1/250

۔

وقتلوا الفخر محمد بن يوسف ابن محمد الكنجي في جامع دمشق۔۔۔كان في شر وميل إلى مذهب الشيعة

محمد بن یوسف بن محمد گنجی کو جامع مسجد دمشق میں لوگوں نے قتل کر دیا اور وہ شر کی طرف مائل تھا اور وہ مذہبی شیعہ رکھتا تھا

 ذيل مرآة الزمان1/361

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ19*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کی معتبر کتاب 📌تاریخ ابو الفداء میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارا گھر جلا دوں گا

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات:

👈اس کی کوئی سند نہیں لکھی اور ایسے حساس اہم معاملے میں سند کے بغیر کسی کا بھی کلام معتبر نہیں

🌹👊اہم اصول:

الإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ. وَلَوْلَا الإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ

 سند دین کے اصولوں میں سے ہے اگر سند (لانے لکھنے کی سختی)نہ ہوتی تو جو شخص جو منہ میں آتا کہہ دیتا

(صحيح مسلم - ت عبد الباقي1/15)

(شرح صحيح البخاري للحويني4/1)

(العلل الواقع بآخر جامع الترمذي - ت بشار ص232نحوہ)

(الكافي في علوم الحديث ص403)

(مقدمة ابن الصلاح ومحاسن الاصطلاح ص437)

(الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي2/213)

۔

*#دوسری بات*

👈علامہ محمد علی نقشبندی نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ یہ گستاخ صحابہ کٹر تقیہ باز شیعہ تھا حتی کہ شیعوں کا بھی معتبر بندہ تھا

دیکھیے میزان الکتب ص324ومابعدہ

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ20*

شہنشاہ نقوی شیعہ اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کی معتبر کتاب 📌العقد الفرید میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارا گھر جلا دوں گا

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

اس کی کوئی سند نہیں لکھی اور ایسے حساس اہم معاملے میں سند کے بغیر کسی کا بھی کلام معتبر نہیں۔جیساکہ حوالہ19 کے جواب میں دلیل لکھی ہے۔۔۔۔!!

۔

*#دوسری بات*

👈معتبر اہل سنت کتاب نہیں بلکہ اس میں شیعہ روایات موجود ہیں باطل روایات موجود ہیں تو اس کی روایات کو دیگر روایات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا


..ويدل كثير من كلامه على تشيع فيه وميل إلى الحد من بني أمية وهذا عجيب منه لأنه أحد مواليهم وكان الأولى به أن يكون ممن يواليهم لا ممن يعاديهم)]البداية والنهاية () [وقال في موضع آخر ـ رحمه الله تعالى ـ : ( كان فيه تشيع شنيع ومغالاة في أهل البيت

 عقد الفرید کے مصنف کی کتب میں ایسی باتیں ہیں کہ جو اس کے شیعہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں یہ بہت برا شیعہ تھا اہل بیت میں غلو کرتا تھا 

(البداية والنهاية 10/ 433 و 11/230 ملتقطا)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ21 حوالہ22*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ اہل سنت کی معتبر کتب 📌سیر اعلام اور 📌میزان االاعتدال وغیرہ  میں لکھا ہے کہ عمر نے سیدہ فاطمہ کو مکا مارا اور پیٹ میں بچہ محسن شہید کردیا

انَّ عُمر رفَسَ فَاطِمَة حَتَّى أَسقطتْ محسّناً

بے شک عمر نے فاطمہ کو مکا مارا یہاں تک کہ فاطمہ کا بچہ محسن پیٹ میں شہید ہوگیا 

(سیر اعلام النبلاء،میزان الاعتدال)

.

✅ *#جواب*

👈شیعوں نے یہاں بھی ادھی عبارت لکھ کر مکاری دھوکہ دہی خیانت جہنمی مردود باطل شیطانی کام کیا ہے

۔

دراصل ایک راوی أحمد بن محمد بن السري بن يحيى بن أبي دارم المحدث کے ترجمہ و حالات میں یہ بات بیان کی ہے کہ یہ محدث غیر معتبر اور غیر ثقہ جھوٹا رافضی کذاب ہے اس کے جھوٹ اور خرابیوں میں سے یہ ہے کہ اس کے پاس کہا جاتا تھا کہ حضرت عمر نے مکا مارا اور بی بی فاطمہ کا پیٹ میں بچہ شہید ہو گیا۔۔۔یہ اس بات پر خاموش رہتا تھا گویا کہ یہ اقرار کر رہا ہوں کہ یہ بات ٹھیک ہے۔۔👈لہذا یہ اس کے عیوب و جھوٹ خرابیوں میں سے ہے, یہ اس کی غیر مستند باتوں میں سے ہے۔۔۔سیر اعلام النبلاء اور میزان الاعتدال میں اس کی بات کو مستند بات کہہ کر لکھا نہیں ہے بلکہ جھوٹ و بہتان عیوب و تہمت والی غیر مستند غیر معتبر  باتوں میں سے لکھا ہے

۔

شیعوں رافضیوں نیم رافضیوں نے حسبِ عادت بڑی چالاکی اور مکاری دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے ان دونوں کتابوں کی آدھی عبارت پیش کی اور آدھی کو چھوڑ دیا۔۔۔ہم آپ کے سامنے پوری عبارت پیش کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیے 

.قَالَ الحَاكِمُ: هُوَ رَافضي، غَيْرُ ثِقَةٍ .

وَقَالَ مُحَمَّدُ بنُ حَمَّاد الحَافِظ: كَانَ مُسْتَقِيْمَ  الأَمْر عَامَّة دَهْره، ثُمَّ فِي آخر أَيَّامه كَانَ أَكْثَرَ مَا يُقرأُ عَلَيْهِ المَثَالب، حَضَرْتُه وَرَجُل يَقْرأُ عَلَيْهِ أَنَّ عُمر رفَسَ فَاطِمَة حَتَّى أَسقطتْ

محسّناً

أحمد بن محمد بن السري بن يحيى بن أبي دارم المحدث کے متعلق امام حاکم نے فرمایا ہے کہ یہ رافضی ہے یہ غیر ثقہ ہےمُحَمَّدُ بنُ حَمَّاد الحَافِظ نے فرمایا کہ یہ راوی شروع میں ٹھیک تھا پھر آخری ایام میں اس کے پاس زیادہ تر عیوب و خرابیوں والی باتیں جھوٹ بہتان  تہمت والی باتیں پڑھی جاتی تھی۔۔۔(انہیں خرابیوں اور بہتان اور جھوٹ والی باتوں میں سے ہے کہ) ایک دن میں اس کے پاس آیا اور اس کے پاس ایک شخص پڑھ رہا تھا کہ حضرت عمر نے فاطمہ کو مکا مارا یہاں تک کے سیدہ فاطمہ کے پیٹ میں بچہ محسن شہید ہوگیا 

(سیر اعلام النبلاء15/578)

.

أحمد بن محمد بن السري بن يحيى بن أبي دارم المحدث.

الكوفي الرافضي الكذاب.الحاكم، وقال: رافضي، غير ثقة.

وقال محمد بن أحمد بن حماد الكوفي الحافظ - بعد أن أرخ موته: كان مستقيم  الأمر عامة دهره، ثم في آخر أيامه كان أكثر ما يقرأ عليه المثالب، حضرته ورجل يقرأ عليه: إن عمر رفس فاطمة حتى أسقطت

بمحسن.

أحمد بن محمد بن السري کوفی ہے رافضی ہے کذاب بہت بڑا جھوٹا ہے امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ رافضی ہے غیر ثقہ ہے

 مُحَمَّدُ بنُ حَمَّاد الحَافِظ نے فرمایا کہ یہ راوی شروع میں ٹھیک تھا پھر آخری ایام میں اس کے پاس زیادہ تر عیوب و خرابیوں والی باتیں جھوٹ بہتان  تہمت والی باتیں پڑھی جاتی تھی۔۔۔(انہیں خرابیوں اور بہتان اور جھوٹ والی باتوں میں سے ہے کہ) ایک دن میں اس کے پاس آیا اور اس کے پاس ایک شخص پڑھ رہا تھا کہ حضرت عمر نے فاطمہ کو مکا مارا یہاں تک کے سیدہ فاطمہ کے پیٹ میں بچہ محسن شہید ہوگیا

(میزان الاعتدال1/139ملتقطا)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ24*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت کے عالم 📌شبلی نعمانی نے الفاروق کتاب میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ درست ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے گھر جلانے کی دھمکی دی ہو

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

👈شبلی نعمانی اہل سنت کے مستند عالم نہیں ہیں

۔

*#دوسری بات*

انکی پوری بات پڑھیں

 اگرچہ سند کے اعتبار سے اس روایت پر ہم اپنا اعتبار ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ اس روایت کے رواۃ کا حال ہم کو معلوم نہیں ہو سکا۔ تاہم درایت کے اعتبار سے اس وقعہ کے انکار کی کوئی وجہ نہیں

الفاروق ص83

۔

👈جب  تحقیق سے واضح ہو گیا کہ اس روایت کے راوی غیر معتبر ہیں تو لہذا شبلی نعمانی کے مطابق بھی یہ روایت غیر معتبر کہلائے گی کیونکہ انہوں نے روایت کو غیر معتبر کہا تھا لیکن راویوں کے حال معلوم نہ ہونے کی وجہ سے خاموشی اختیار کی، اب چونکہ راویوں حال معلوم ہوچکا کہ اسلم راوی وقعے کے وقت موجود ہی نہیں تھا تو روایت باطل قرار پائی۔تفصیل حوالہ5 حوالہ6 میں اوپر لکھ دی ہے

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ25*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں اہل سنت کے معتبر عالم 📌ابن ابی الحدید نے بھی اس واقعے کو درست قرار دیا ہے

۔

✅ *#جواب*

یہ اہل سنت کا عالم دین نہیں ہے بلکہ شیعہ یا معتزلی عالم ہے

وابن أبي الحديد شارح «نهج البلاغة» الذي هو من الغلاة، على قول، ومن المعتزلة على قول آخر،

ابن ابی الحدید ایک قول کے مطابق کٹر شیعہ ہے غلو کرنے والا شیعہ ہے(اہلسنت کا معتبر عالم دین نہیں)۔۔ اور دوسرے قول کے مطابق معتزلی ہے(اہلسنت کا معتبر عالم دین نہیں)

 مسألة التقريب بين أهل السنة والشيعة1/78

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ26*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں اہل سنت کی معتبر کتاب 📌الوافی میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ کے پیٹ پہ مکہ مارا اور بچہ محسن شہید ہو گیا

.

✅ *#جواب*

👈شیعہ نے ادھی عبارت پیش کر کے دھوکہ دیا ہے خیانت کی ہے مکاری کی ہے الوافی میں یہ لکھا ہے کہ

النظام المعتزلي..وَصَارَ رَأْسا فِي الْمُعْتَزلَة وَإِلَيْهِ تنْسب الطَّائِفَة النظامية...وَمِنْهَا ميله إِلَى الرَّفْض ووقوعه فِي أكَابِر الصَّحَابَة رَضِي الله عَنْهُم.. وَقَالَ إِن عمر ضرب بطن فَاطِمَة يَوْم لبيعة حَتَّى أَلْقَت المحسن من بَطنهَا

نظام معتزلی معتزلہ کا  بہت بڑا عالم بن گیا(یہ اہل سنت نہیں تھا بلکہ) اس کا فرقہ نظامی تھا اس کے برے کرتوت میں سے یہ تھا کہ یہ رافضیوں کی طرف ہونے لگا اور اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنے لگا حتی کہ کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ فاطمہ کے پیٹ میں مکہ مارا اور بچہ محسن شہید کر دیا

الوافی بالوافیات6/12ومابعدہ

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ27*

شیعہ شہنشاہ نقوی اور دیگر شیعہ کہتے ہیں اہل سنت کی معتبر کتاب 📌مستدرک میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے علی میرے بعد تم سے امت دھوکہ کرے گی

۔

✅ *#جواب*

اس میں نہ سیدہ کے واقعہ کا ذکر ہے اور نہ ہی کچھ اور بلکہ اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ امت دھوکہ کرے گی یعنی خوارج دھوکہ کریں گے

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ28 حوالہ29*

شیعہ کہتے ہیں کہ 📌مروج الذہب اہل سنت کی معتبر کتاب میں ہے دو جگہ ہے کہ یہ واقعہ ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے گھر جلایا اور یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ فاطمہ کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی اور گھر جلانے والا واقعہ بھی لکھا ہے

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

اس کی معتبر سند نہیں لکھی اور ایسے حساس اہم معاملے میں معتبر سند کےبغیر کسی کا بھی کلام معتبر نہیں۔جیسا کہ حوالہ19 کے جواب میں دلیل لکھی ہے۔۔۔۔!!

۔

*#دوسری بات*

👈مروج الذہب اہل سنت کی معتبر کتاب نہیں جیسا کہ اس کے مصنف کے متعلق مسعودی کے متعلق حوالہ نمبر2 میں تفصیل سے رد لکھا ہے

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🟥 *#حوالہ30*

شیعہ کہتے ہیں کہ 📌 انساب الاشراف بلاذری اہل سنت کی معتبر کتاب میں ہے کہ یہ واقعہ ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے گھر جلایا اور یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے اقرار کیا کہ کاش میں نے سیدہ فاطمہ کے گھر کی بے حرمتی نہ کی ہوتی

۔

✅ *#جواب*

پہلی بات

👈اس کی معتبر سند نہیں لکھی اور ایسے حساس اہم معاملے میں معتبر سند کے بغیر کسی کا بھی کلام معتبر نہیں۔جیساکہ حوالہ19 کے جواب میں دلیل لکھی ہے۔۔۔۔!!

۔

دوسری بات

👈بلاذری معتبر اہل سنت مصنفین میں سے نہیں لہذا اس کی بات وہ بھی بغیر سند کے بھلا کیسے معتبر ہو سکتی ہے

 كثير الهجاء بذيء اللسان آخذا لأعراض الناس،

بلاذری بہت زیادہ مذمت و زبان درازی کرتا تھا۔۔فحش زبان تھا۔۔عزتوں کو پامال کرتا تھا

(معجم الادباء حموی2/531)

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

https://wa.me/923062524574

مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.