Labels

حکومت سیدنا معاویہ عادلانہ تھی اور نعرہ فیضان معاویہ جاری رہے گا کی تحقیق اور شرائط صلح معاویہ

 *#حکومتِ سیدنا معاویہ عادلانہ تھی اور نعرہ فیضان معاویہ جاری رہے گا کی تحقیق اور شرائط صلح معاویہ کی تفصیل و تحقیق.........!!*

.

توجہ:

سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کے متعلق کوئی بھی اعتراض یا اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے ہمیں 03062524574 پر واٹسپ میسج کیجیے۔۔یہی نمبر وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنا دیجئے تاکہ میں پہلے سے بھی بڑھ کر دین کی خدمت کر سکوں ، علمی اصلاحی تحقیقی تحریرات زیادہ سے زیادہ پھیلا سکوں

۔

علمی تحقیقی اصلاحی سیاسی تحریرات تحقیقات کے لیے اس فیسبک پیج کو فالوو کیجیے،پیج میں سرچ کیجیے،ان شاء اللہ بہت مواد ملے گا...اور اس بلاگ پے بھی کافی مواد اپلوڈ کردیا ہے...لنک یہ ہے:

https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1

https://www.facebook.com/share/1D9ZRwsa67/

.

سیدنا معاویہ کی حکومت سیدنا عمر کی حکومت جیسی عادلانہ برحق تھی،رضی اللہ تعالیٰ عنھما

عَمِلَ مُعَاوِيَةُ بِسِيرَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سِنِينَ لَا يَخْرِمُ مِنْهَا شَيْئًا»

سیدنا معاویہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت پر سالوں تک عمل کیا۔۔۔ان سالوں میں سوئی برابر بھی راہ حق سے نہ ہٹے 

(السنة لأبي بكر بن الخلال روایت683)

وقال المحقق إسناده صحيح

(حاشیۃ معاوية بن أبي سفيان أمير المؤمنين وكاتب وحي النبي الأمين صلى الله عليه وسلم - كشف شبهات ورد مفتريات1/151)

سالوں کی قید شاید اس لیے لگاءی کہ تاکہ وہ سال نکل جائیں جن میں سیدنا معاویہ نے ولی عہد کیا...کیونکہ ولی عہد سیدنا عمر کی سیرت نہیں بلکہ سیدنا معاویہ کا اجتہاد تھا...جب سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت سیدنا عمر کے نقش قدم پر تھی اور سیدنا عمر کی حکومت رسول کریم کے ارشادات کے مطابق تھی تو ایسی برحق عادلانہ حکومتوں کے بارے میں کیوں نہ کہا جائے کہ فیضان عمر جاری رہے گا ، فیضان علی جاری رہے گا ، فیضان معاویہ جاری رہے گا 

.

سیدنا معاویہ فقیہ مجتہد تھے

قَالَ : إِنَّهُ فَقِيهٌ

  فرمایا کہ بےشک معاویہ فقیہ ہیں

(بخاری روایت3765)

.

الحدیث:

فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ

 اجتہاد کرے پھر وہ درستگی کو پائے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اگر اجتہاد کرے اور خطاء کرے تو اس کے لئے ایک اجر ہے(بخاری حدیث7352)

.

 لہذا ولی عہد کرنا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اجتہاد تھا اور اجتہاد میں اگر خطاء بھی واقع ہو تو اس کے لیے ایک اجر ہے...لیھذا ولی عہدی کی وجہ سے سیدنا معاویہ پر طعن و مذمت نہیں بنتی......!!

.

*#شرائط_صلح*

فأرسل إليه الحسن يبذل له تسليم الأمر إليه، على أن تكون له الخلافة من بعده، وعلى ألا يطالب أحدًا من أهل المدينة والحجاز والعراق بشيء مما كان أيام أبيه، وعلى أن يقضي ديونه، فأجاب معاوية إلى ما طلب، فاصطلحا على ذلك فظهرت  المعجزة النبوية في قوله صلى الله عليه وسلم: "يصلح الله به بين فئتين من المسلمين"

(پہلی شرط:)

سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ سیدنا معاویہ کو خلافت اور حکومت دینے کے لیے تیار ہیں ان شرائط پر کہ سیدنا معاویہ کے بعد حکومت سیدنا حسن کو ملے گی

اور

(دوسری شرط)

اہل مدینہ، اہل حجاز اور اہل عراق سے(محض اختلاف و گروپ کی وجہ سے)کوئی مطالبہ مواخذہ نہیں کیا جائے گا(شرعا جو مواخذہ ہوگا وہ کیا جائے گا)

اور

(تیسری شرط)

ایک شرط یہ تھی کہ سیدنا معاویہ حضرت امام حسن کا قرض چکائیں گے تو حضرت معاویہ نے ان شرائط پر صلح کرلی تو معجزہ نبوی ظاہر.و.پورا ہوا کہ جو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالی میرے اس بیٹے کے ذریعے سے دو مسلمان گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا 

(تاريخ الخلفاء ص147)

(سمط النجوم العوالي3/89)

(أسد الغابة ط الفكر1/491)

(تهذيب الأسماء واللغات1/159)

.

(چوتھی شرط)

وإني قد أخذت لكم على معاوية أن يعدل فيكم

امام حسن نے فرمایا کہ میں نے سیدنا معاویہ سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ تم میں عدل کا معاملہ کریں گے 

(الطبقات الكبرى-متمم الصحابة1/326)

.

.

(پانچویں_شرط)

*#متنازعہ،غیر متفقہ شرط کہ ولی عہد نہ کریں گے:*

صالحه عَلَى أن يسلم إِلَيْهِ ولاية أمر المسلمين عَلَى أن يعمل فِيهَا بكِتَاب اللَّهِ وسنة نبيه وسيرة الخلفاء الصالحين؟! وعلى أنه ليس لمعاوية أن يعهد لأحد من بعده، وأن يكون الأمر شورى....ردھما الی معاویہ

سیدنا امام حسن نے اس بات پر صلح کی کہ سیدنا معاویہ کو وہ حکومت دیں گےاس شرط پر کہ سیدنا معاویہ عمل کریں گے کتاب اللہ پر نبی پاک کی سنتوں پر اور خلفائے راشدین کی سیرت پر۔۔۔۔۔۔اور سیدنا معاویہ اپنے بعد کسی کو مقرر نہ کریں گے بلکہ معاملہ شوری پر چھوڑیں گے۔۔۔یہ شرائط لکھ کر سیدنا معاویہ کی طرف خط بھیجا  

(أنساب الأشراف للبلاذري3/42)

.

متنازعہ شرط نہ منظور ہوکر صلح ہوئی:

فَلَمَّا أَتَتِ الصَّحِيفَةُ إِلَى الْحَسَنِ اشْتَرَطَ أَضْعَافَ الشُّرُوطِ الَّتِي سَأَلَ مُعَاوِيَةَ قَبْلَ ذَلِكَ وَأَمْسَكَهَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْحَسَنُ الْأَمْرَ إِلَى مُعَاوِيَةَ طَلَبَ أَنْ يُعْطِيَهُ الشُّرُوطَ الَّتِي فِي الصَّحِيفَةِ الَّتِي خَتَمَ عَلَيْهَا مُعَاوِيَةُ، فَأَبَى ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ وَقَالَ لَهُ: قَدْ أَعْطَيْتُكَ مَا كُنْتَ تَطْلُبُ فَلَمَّا اصْطَلَحَا

جو صحیفہ امام حسن کی طرف معاویہ نے روانہ کیا تھا جس پر مہر لگائی تھی امام حسن نے مذکورہ شرائط کے علاوہ کئ شرائط لگا دی تو حضرت معاویہ نےان(زائد)شرائط کو پورا کرنے سے انکار کر دیا پھر جب(زائد متنازع شرائط کو نکال کر ) دونوں نے صلح کرلی

(الكامل في التاريخ ج3 ص6)

۔

تفصیل:

یہ پانچویں شرط کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کتاب اللہ پر عمل کریں گے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے اور خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کریں گے تو اوپر گزرا کی سیدنا معاویہ کی حکومت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی طرح تھی، سیدنا معاویہ سیدنا عمر کے نقش قدم پر چلے۔۔۔باقی رہی بات یہ کہ سیدنا معاویہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ بنا کر نہ جائیں گےتو اس شرط کے غیرمتفقہ متنازعہ  غیرموجود مردود ہونے کی تین وجوہ ہیں

①ایک وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلی شرط یہ تھی کہ حکومت سیدنا معاویہ کے بعد سیدنا حسن کو ملے گی شوری کا تو تذکرہ ہی نہیں تھا جبکہ یہ پانچویں شرط شوری کا بتا رہی ہے لیھذا یہ شرط پہلی شرط کے خلاف و مردود ہے…پہلی شرط میں یہ ہے کہ سیدنا حسن کو بعد از سیدنا معاویہ خلافت ملے گی، پہلی شرط میں یہ نہیں لکھا کہ سیدنا حسین کو حکومت ملے گی لیھذا سیدنا حسن کی وفات ہوگئ تو پہلی شرط خود بخود کالعدم ہوگئ اس لیے سیدنا معاویہ نے اجتہاد کرتے ہوئے یزید کے لیے بیعت لی...زیادہ سے زیادہ اسے اجتہادی خطاء کہا جاسکتا ہے مگر سیدنا معاویہ کو بدعہد خائن دھوکےباز نہیں کہا جاسکتا

②اور کسی کو مقرر نہ کرنے کی یہ شرط کسی معتبر تاریخ کی کتاب میں بھی نہیں آئی۔۔۔

③نیز یہ بھی کتابوں میں آیا ہے کہ کچھ شرطیں ایسی تھی کہ جن کو سیدنا معاویہ نے رد کر دیا تھا تو عین ممکن ہے کہ یہ بھی انہی شرائط میں سے ہوں کہ جن کو سیدنا معاویہ نے رد کر دیا اور اس کے بعد سیدنا حسن سے صلح ہو گئی ہو

.

*سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ کی بیعت کی اور بیعت کا حکم دیا:*

جمع الحسن رءوس أهل العراق في هذا القصر  قصر المدائن- فقال: إنكم قد بايعتموني على أن تسالموا من سالمت وتحاربوا من حاربت، وإني قد بايعت معاوية، فاسمعوا له وأطيعو

ترجمہ:

سیدنا حسن نے مدائن کے ایک محل میں عراق وغیرہ کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی اس بات پر کہ تم صلح کر لو گے اس سے جس سے میں صلح کروں اور تم جنگ کرو گے اس سے جس سے میں جنگ کروں تو بے شک میں نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے تو تم بھی سیدنا معاویہ کی بات سنو مانو اور اطاعت کرو 

(الإصابة في تمييز الصحابة ,2/65)

(المعرفة والتاريخ3/317)

(كوثر المعاني الدراري5/176)

(تاريخ بغداد ت بشار1/467)

.

فلما وقع الاتفاق على معاوية ونزل له السيد الحسن عن الأمر سُمي عام الجماعة

جب سیدنا معاویہ پر سب کا اتفاق ہو گیا اور  سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے خلافت سے دستبردار ہو گئے تو اس سال کو عام الجماعۃ کہتے ہیں یعنی اجتماع والا سال 

(المقدمة الزهرا في إيضاح الإمامة الكبرى ص22)

.

بايع الحسن معاوية

امام حسن نے سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی 

(أسد الغابة,2/13)

(البداية والنهاية ط هجر11/359)

(تاريخ الإسلام ت تدمري4/131)

(نهاية الأرب في فنون الأدب20/230)

۔

*#سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہا کے مطابق سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اجتہادی مخالف تھے مگر دشمن نہ تھے کافر ظالم وغیرہ نہ تھے*

۔

إِنَّ اِبْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَ لَعَلَّ اَللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ اَلْمُسْلِمِينَ  عَظيِمَتَيْنِ

بے شک یہ(حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ)میرا بیٹا سردار ہے اور امید ہے اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کروائے گا

.(شیعہ کتاب بحار الانوار 43/298  شیعہ کتاب کشف الغمة ي معرفة الأئمة1/519) ایسی حدیث پاک بخاری شریف میں بھی ہے

.

بأن معاوية ظالم كافر

شیعوں کے مطابق سیدنا معاویہ سے صلح کے وقت میں امام حسن نے فرمایا کہ معاویہ تو کافر و ظالم ہے...(شیعہ کتاب جواهر التاريخ - الشيخ علي الكوراني العاملي 2/110)

.

مُعَاوِيَةُ  كَافِرٌ بِهِمَا

شیعوں کے مطابق معاویہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتا، وہ کافر ہے

(شیعہ کتاب شرح الأخبار في فضائل الأئمة الأطهار2/154)

.

رسول کریمﷺنے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انکے گروہ کو مسلمان قرار دیا مگر شیعہ کافر کہتے ہیں…پہچانو کالےجعلی مسلمان شیعہ مکار بےوفا عیاش جعلی محبان اہل بیت کو

.

 امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے صلح فرما کر یہ بات واضح کر دی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کے عظیم گروہ میں سے ہیں اور اب صلح کے بعد امیر المومنین ہیں لیکن شیعہ مکار بے وفا جھوٹے ظالم جعلی محب نہ مانے اور نہ آج تک مانتے ہیں....ان فسادی تفرقہ باز مکاروں جھوٹوں پے اللہ کی لعنت، 

.

بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية

 امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے لکھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ صلح ہے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ

(شیعہ کتاب بحار الانوار44/65)

۔

*#اہم ترین نوٹ*

 بے شرم شیعہ ہٹ دھرمی کی انتہا کو پہنچ کر کہتے ہیں  کہ سیدنا حسن نے معاویہ کو کافر سمجھ کر صلح کی جیسے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے صلح کی۔۔۔۔۔ شیعوں کی یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔۔۔۔بے بنیاد ہے مردود اور باطل ہے کیونکہ

1۔۔۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے صلح کی مگر ان کی بیعت نہیں کی۔۔۔کسی مسلمان نے کفار کی بیعت نہیں کی جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہما اور دیگر صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں نے کی

۔

2۔۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے صلح کی مگر کفار کی اطاعت کرنے کا حکم نہ دیا جبکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کی اطاعت کرنے کا حکم دیا

۔

3۔۔۔۔سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں شیعہ کی کتب میں یہ دو ٹوک لکھا ہے کہ سیدنا حسن مسلمانوں کے گروہ میں صلح کرایں گے۔۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانوں اور کفار میں صلح کرایں گے بلکہ فرمایا کہ دو عظیم مسلمان گروہوں میں صلح کرائیں گے لیھذا ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا گروہ مسلمانوں کا گروہ تھا۔۔۔۔سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ عظیم مسلمانوں میں سے تھے

۔

4۔۔۔۔سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے شرط رکھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خلفائے راشدین کی پیروی جاری رکھیں گے جبکہ کفار کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں ہوتا کہ اپ خلفائے راشدین کی پیروی کریں

هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين

(شیعوں کے مطابق)امام حسن نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے

(شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)

سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق امام علی گذرے تھے لیکن سیدنا حسن "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جسکا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسن کا وہی نظریہ تھا جو سچے اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسن نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے امام حسن....اور دوسری بات یہ بھی اہلسنت کی ثابت ہوئی کہ "قرآن و سنت" اولین ستون ہیں کہ ان پے عمل لازم ہے جبکہ شیعہ قرآن و سنت کے بجائے اکثر اپنی طرف سے اقوال گھڑ لیتے ہیں اور اہلبیت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں...اور سیدنا معاویہ کی حکومت سنت رسول و سیرت خلفاء پر اچھی تھی ورنہ ظالمانہ ہوتی تو سیدنا حسن حسین ضرور باءیکاٹ فرماتے صلح نہ فرماتے چاہے اس لیے جان ہی کیوں نہ چلی جاتی جیسے کہ یزید سے بائیکاٹ کیا

۔

5۔۔۔۔۔۔سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خط لکھا تو اس میں

سلام علیکم تھا کفار کے لیے کوئی سلام علیکم لکھتا ہےبھلا۔۔۔۔۔؟؟

من الحسن بن علي أمير المؤمنين إلى معاوية بن أبي سفيان سلام عليكم 

( شیعہ کتاب بحار الانوار مجلسی جلد44 ص39)

۔

6۔۔۔۔سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا جو کہ مسلمان کی وفات کے غم میں پڑھا جاتا ہے

۔ 

فنعى الوليد إليه معاوية فاسترجع الحسين...سیدنا حسین کو جب سیدنا معاویہ کی وفات کی خبر دی گئ تو آپ نےاِنَّا لِلّٰہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا…(شیعہ کتاب اعلام الوری طبرسی1/434) مسلمان کو کوئی مصیبت،دکھ ملےتو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(سورہ بقرہ156)ثابت ہوا سیدنا معاویہ امام حسین کے مطابق کافر ظالم منافق دشمن برے ہرگز نہ تھے جوکہ مکار فسادی نافرمان دشمنان اسلام گستاخانِ معاویہ کے منہ پر طمانچہ ہے

۔

ان تمام نکات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ہرگز ہرگز کافر دشمن ظالم نہ تھے ہاں فروعی اجتہادی اختلاف تھا مگر کفر و دشمنی نہیں تھی

.

ہم جیسے اہل حق حق واضح کریں تو اسے تفرقہ بازی مت سمجھیے....یہ ناحق نفرت پھیلانا نہیں بلکہ لازم ہے کہ ایسے فسادی شیعہ نجدی خوارج چمنی اور مرزا پلمبریوں چوروں ڈاکوووں مکاروں جھوٹوں کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ مذمت بھی کی جائے تاکہ لوگ ان سے نفرت کریں اور انکو معتبر نہ سمجھیں اور انکی نہ سنیں نہ نہ مانیں نہ مدد کریں،  نہ مالی مدد کریں یا شرکتی حوصلاتی مدد کریں اور وقت اور بچے انہین نہ دے کر انکی مدد نہ کریں

.

القرآن:

فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ  الذِّکۡرٰی  مَعَ الۡقَوۡمِ  الظّٰلِمِیۡنَ

یاد آجانے(دلائل آجانے)کے بعد تم ظالموں(بدمذبوں گمراہوں گستاخوں مکاروں گمراہ کرنے والوں منافقوں ظالموں) کے ساتھ نہ بیٹھو(نہ میل جول کرو، نہ انکی محفل مجلس میں جاؤ، نہ کھاؤ پیو، نہ شادی بیاہ دوستی یاری کرو،ہر طرح کا ائیکاٹ کرو)

(سورہ انعام آیت68)

لیھذا مکار گستاخ غالی شیعہ رافضی نیم رافضی اور بغض و عناد و کم علم بےباک ناصبی خارجی نجدیوں اور غامدیوں سرسیدیوں نیچریوں قادیانیوں غیرمقلدوں اہلحدیثوں جہلمیوں ذکریوں بوہریوں وغیرہ سب باطلوں سے دوری اختیار کیجیے

.

۔

بروں باطلوں مکاروں گمراہوں بدمذہبوں تفضیلیوں رافضیوں ناصبیوں ایجنٹوں قادیانیوں نیچریوں سرسیدیوں جہلمیوں غامدیوں قادیانیوں ذکریوں بوہریوں غیرمقلدوں نام نہاد اہلحدیثوں وغیرہ سب باطلوں سے ہر طرح کا تعاون نہ کرنا،انکی تحریروں کو لائک نہ کرنا، انہیں نہ سننا،  نہ پڑھنا، انہیں اپنے پروگراموں میں نہ بلانا، وقعت نہ دینا، جانی وقتی مالی تعاون نہ کرنا، مذمت کرنا مدلل کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ہے

الحدیث:

مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ ؛ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ

جو اللہ(اور اسلام کے حکم)کی وجہ سے محبت کرے اور(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) اللہ(اور اسلام کے حکم)کی وجہ سے(مستحق برے ضدی فسادی بدمذہب گستاخ وغیرہ سے)بغض و نفرت رکھے اور (مستحق و اچھوں) کی امداد و مدد کرے اور (نااہل و بروں بدمذہبوں گستاخوں منافقوں ایجنٹوں) کی امداد و تعاون نہ کرے تو یہ تکمیل ایمان میں سے ہے 

(ابوداود حدیث4681)


.

الحدیث:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أترعون عن ذكر الفاجر؟، اذكروه بما فيه يعرفه الناس

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا تم فاجر(فاسق معلن منافق ،بدعقیدہ، گمراہ گستاخ، کافر مرتد، خائن، دھوکے باز، بدمذہب) کو واضح کرنے سے ہچکچاتے ہو...؟(جیسا وہ ہے ویسا کہنے سے گھبراتے ہو...؟؟)

اسے ان چیزوں(ان کفر گمراہیوں گستاخیوں کرتوتوں، عیبوں اعلانیہ گناہوں ، خیانتوں، منافقتوں دھوکے بازیوں) کے ساتھ واضح کرو جو اس میں ہوں تاکہ لوگ اسے پہچان لیں(اور اسکی گمراہی خیانت منافقت بدعملی دھوکے بازی مکاری سے بچ سکیں)

(طبرانی کبیر حدیث1010)

(شیعہ کتاب ميزان الحكمة 3/2333نحوہ)

یہ حدیث پاک  کتبِ حدیث و تفاسیر اور فقہ و تصوف کی کئی کتب میں موجود ہے... مثلا جامع صغیر، شعب الایمان، احیاء العلوم، جامع الاحادیث، کنزالعمال، کشف الخفاء ردالمحتار ، عنایہ شرح ہدایہ، فتاوی رضویہ، تفسیر ثعالبی، تفسیر درمنثور وغیرہ کتب میں موجود ہے

لہذا مکاروں جھوٹوں باطلوں بدمزہبوں کو مذمت کرنا ان کے برے نظریات لکھنا بتانا اور ان کا رد کرنا فرقہ واریت نہیں بلکہ اسلام کا حکم ہے ہاں سمجھانے کی کوشش بھی ساتھ ساتھ ضرور ہونی چاہیے

.

 *#امام حسن اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما دونوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کی...لہذا شیعہ کا یہ بہانہ کرنا کہ امام حسین نے بیعت نہیں کی سراسر جھوٹ ہے مکاری ہے......!!*

معاوية، وأعد لهم الخطباء فقال:يا حسن قم قبايع فقام وبايع، ثم قال للحسين عليه السلام: قم فبايع، فقام فبايع

 ثالثین نے کہا کہ اے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھیے اور امام معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کیجئے تو امام حسن اٹھے اور بیعت کی اور پھر امام حسن نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے فرمایا کہ اٹھیے بیعت کیجئے تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے بھی سیدنا معاویہ کی بیعت کی

(شیعہ کتاب بحار الأنوار - العلامة المجلسي44/61)


.

والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں یہ بات بالکل واضح ہے ظاہر ہے کہ ان(سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم وغیرہ)کا اور ہمارا رب ایک ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہے، انکی اور ہماری اسلامی دعوت و تبلیغ ایک ہے، ہم ان کو اللہ پر ایمان رسول کریم کی تصدیق کے معاملے میں زیادہ نہیں کرتے اور وہ ہمیں زیادہ نہیں کرتے...ہمارا سب کچھ ایک ہی تو ہے بس صرف سیدنا عثمان کے قصاص کے معاملے میں اختلاف ہے

(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ3/114)

 ثابت ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان سیدنا معاویہ کا اسلام سیدنا علی کا اسلام اہل بیت کا اسلام صحابہ کرام کا اسلام قرآن و حدیث سب کے سب معاملات میں متفق ہی تھے،سیدنا علی و سیدنا معاویہ وغیرہ سب کے مطابق قرآن و حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ تھی....پھر کالے مکار بے وفا ایجنٹ غالی جھوٹے شیعوں نے الگ سے حدیثیں بنا لیں، قصے بنا لیے،الگ سے فقہ بنالی، کفریہ شرکیہ گمراہیہ نظریات و عمل پھیلائے، سیدنا علی و معاویہ وغیرہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے اختلاف کو دشمنی منافقت کفر کا رنگ دے دیا...انا للہ و انا الیہ راجعون

.

سیدنا معاویہ رضی اللہ سے صلح کو اس حدیث کا مصداق ٹہرایا صحابہ کرام اہلبیت عظام و علماء اسلاف نے....لیھذا صحابہ کرام اہلبیت عظام علماء اسلاف کے مطابق سیدنا معاویہ اور انکا گروہ مسلمان گروہ تھا غدار منافق کافر وغیرہ نہیں تھا کیونکہ حدیث پاک میں دو مسلمان گروہ آیا ہے جبکہ دوسری طرف ایات و احادیث کے سرعام یا خفیہ کالے شیعہ جلے بھنے رافضی نیم رافضی بکتے ہیں کہ شاہت الوجوہ  یعنی شاہ وہ نہیں جو سب حوالے کردے یعنی نعوذ باللہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شاہ نہیں جوکہ حدیث پاک کی سراسر نفی ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ میرا بیٹا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید(شاہ) ہے اور دوسرے رافضی شیعہ میہ کالے کمینے بکواس کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافر تھے، امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ چاہتے ہوئے صلح کی اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صلح نہ کی حالانکہ بھی حدیث پاک کے سراسر خلاف ہے کیونکہ حدیث پاک میں دو عظیم مسلمان گروہ کا لفظ آیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ اور انکا گروہ مسلمان تھے ایمان والے تھے کافر منافق نہ تھے....کافر منافق پیسہ خور ایجنٹ یہ کمینے گستاخ لوگ ہیں

.

*#امام عالی مقام سیدنا حسن مجتبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:*

ﺍﺭﻯ ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺍﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺧﻴﺮ ﻟﻲ ﻣﻦ ﻫﺆﻻﺀ، ﻳﺰﻋﻤﻮﻥ ﺍﻧﻬﻢ ﻟﻲ ﺷﻴﻌﺔ ، ﺍﺑﺘﻐﻮﺍ ﻗﺘﻠﻲ ﻭﺍﻧﺘﻬﺒﻮﺍ ﺛﻘﻠﻲ، ﻭﺃﺧﺬﻭﺍ ﻣﺎﻟﻲ، ﻭﺍﻟﻠﻪ ﻟﺌﻦ ﺁﺧﺬ ﻣﻦ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻋﻬﺪﺍ ﺍﺣﻘﻦ ﺑﻪ ﺩﻣﻲ، ﻭﺍﻭﻣﻦ ﺑﻪ ﻓﻲ ﺍﻫﻠﻲ، ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺍﻥ ﻳﻘﺘﻠﻮﻧﻲ ﻓﺘﻀﻴﻊ ﺍﻫﻞ ﺑﻴﺘﻲ ﻭﺍﻫﻠﻲ

ترجمہ:

(امام عالی مقام سیدنا حسن مجتبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں)اللہ کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جو میرے شیعہ کہلانے والے ہیں ان سے معاویہ رضی اللہ عنہ بہتر ہیں، ان شیعوں نے تو مجھے قتل کرنے کی کوشش کی، میرا ساز و سامان لوٹا، میرا مال چھین لیا، اللہ کی قسم اگر مین معاویہ سے عہد لے لوں تو میرا خون سلامت ہو جائے اور میرے اہلبیت امن میں آجاءیں، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ شیعہ مجھے قتل کریں اور میرے اہل و اہلبیت ضائع ہوجائیں گے 

(شیعہ کتاب احتجاج طبرسی جلد2 ص9)

.


اور پھر سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنھما نے بمع رفقاء سیدنا معاویہ سے صلح و بیعت کرلی....(دیکھیےشیعہ کتاب بحار الانوار44/65 شیعہ کتاب  جواهر التاريخ - الشيخ علي الكوراني العاملي3/81)

.

*امام حسن رضی اللہ عنہ نےفرمایا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کرو، اطاعت کرو*

وإنكم قد بايعتموني أن تسالموا من سالمت وتحاربوا من حاربت، وإني قد بايعت معاوية فاسمعوا له وأطيعوا

ترجمہ:

(سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدائن کے ایک محل میں عراق وغیرہ کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور) فرمایا کہ تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی اس بات پر کہ تم صلح کر لو گے اس سے جس سے میں صلح کروں اور تم جنگ کرو گے اس سے جس سے میں جنگ کروں تو بے شک میں نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کر لی ہے تو تم بھی سیدنا معاویہ کی بات سنو مانو اور اطاعت کرو 

(الإصابة في تمييز الصحابة ,2/65...شیعہ کتاب  جواهر التاريخ - الشيخ علي الكوراني العاملي3/81)

*لیکن*

جب سیدنا حسن نے حدیث پاک کی بشارت مطابق سیدنا معاویہ سے صلح کی، سیدنا معاویہ کی تعریف کی،انکی بیعت کی،بیعت کرنے کا حکم دیا تو بعض شیعوں نےسیدنا حسن کو کہا:في أنه كان أصحاب الحسن المجتبى (عليه السلام) يقولون له: يا مذل المؤمنين و يا مسود الوجوه

ترجمہ

اے مومنوں کو ذلیل کرنےوالے،مومنوں کے منہ کالا کرنے والے(شیعہ کتاب مستدرک سفینہ بحار8/580)

.

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:

قد خذلتنا شیعتنا

ترجمہ:

بے شک ہمارے کہلانے والے شیعوں نے ہمیں رسوا کیا،دھوکہ دیا، بےوفائی کی

(مقتل ابی مخنف ص43  مطبوعہ حیدریہ نجف)

(شیعہ کتاب موسوعہ کلمات الامام الحسین ص422)

.

.

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ

سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کا اختلاف بےشک تھا مگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مطابق بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہتر و اچھے تھے، کافر گمراہ منافق وغیرہ نہ تھے

.

سیدنا حسن  رضی اللہ عنہ کی بات ان لوگوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے جو کہتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ نے نه چاہتے ہوئے بیعت کی،مجبور ہوکر بیعت کی،تقیتًا بیعت کی

بلکہ

الٹا شیعوں کی مذمت ہے کیونکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات سے واضح ہے کہ ان کو شیعوں کی بےوفائی و منافقت کا تقریبا یقین تھا، آپ کو خوف تھا کہ شیعہ جان مال اور اہلبیت کو بھی قتل کر دیں گے....اس لیے آپ نے اپنی جان مال اور اہلبیت کے تحفظ کے لیے سیدنا معاویہ سے صلح کی کیونکہ سیدنا حسن کا خیال تھا کہ شیعہ اہلبیت کو نقصان دیں گے مگر سیدنا معاویہ تحفظ دیں گے......اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بڑی شان بیان ہے اور شیعوں کی بےوفاءی مکاری اسلام و اہلبیت سے دشمنی کا بیان ہے

.

سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوٹوک فرمایا کہ شیعوں نے ان پر حملہ کیا، مال لوٹا، ساز و سامان چھین کر لےگئے، اس سے ثابت ہوتا ہے شیعہ جعلی محب اور مکار ہیں....... محبت کا ڈھونگ رچا کر وہ دراصل اسلام دشمنی اہلبیت دشمنی نبہانے والے ہیں.....اسلام کو تباہ کرنے والے، قرآن و سنت اسلام میں شکوک و شبہات پھیلانے والے دشمن اسلام ہیں، دشمنان اسلام کے ایجنٹ ہیں.......انکی باتیں کتابیں جھوٹ و مکاریوں سے بھری پڑی ہیں...........سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی انہی بےوفا مکار کوفی شیعوں نے شہید کرایا، یہ لوگ مسلمانوں میں تفرقہ فتنہ انتشار قتل و غارت پھیلانے والے رہے ہیں... انہیں اسلام کی سربلندی کی کوئی فکر نہین بلکہ اسلام دشمن ہیں یہ لوگ..... انکا کلمہ الگ ،اذان الگ، نماز الگ، زکاۃ کے منکر، حج سے بیزار، قران میں شک کرنےوالے، شک پھیلانے والے، جھوٹے عیاش چرسی موالی بےعمل بدعمل بےوقوف و مکار دشمن اسلام دشمن اہلبیت ہیں...اسی طرح مرزا جہلمی اور نجدی اور نیم رافضی مشہدی چمنی وغیرہ بھی ایجنٹ منافق فسادی چاپلوس شہرت و پیسے کے پجاری فسادی ہیں، تحقیق کے نام پے دھوکہ گستاخیاں بے باکیاں ایجنٹیاں کرتے ہیں، اللہ کریم ان کو ہدایت دے ورنہ مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے

.

اہلسنت نے ہر صحابیِ نبی جنتی جنتی نعرہ لگایا اور لگاتے ہیں اور لگاتے رہیں گے....حق چار یار کا نعرہ لگایا اور لگاتے ہیں اور لگاتے رہیں گے...خلفاء راشدین کی سیاست حکومت زندہ آباد نعرہ لگایا ، لگاتے رہیں گے، خلفاء راشدین کا فیضان جاری رہے گا نعرہ لگایا ، لگاتے رہیں گے

مگر

اس کے ساتھ ساتھ صحابی سیدنا معاویہ جنتی کا نعرہ لگایا…سیاست معاویہ زندہ آباد کا نعرہ لگایا، فیضان معاویہ جاری رہے گا کا نعرہ لگایا

تو

غیراہلسنت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی سیدنا معاویہ کے نعروں کے خلاف ہوگئے اور مذمت کرنے لگے جو اہلسنت ہونے کا دعوی کرتے ہیں

.

کچھ تو آپ اوپر ملاحظہ کر چکے کہ سیدنا معاویہ کی حکومت سیاست عادلانہ زندہ باد تھی....آئیے مزید چند حوالے دیکھتے ہیں کہ سیدنا معاویہ کی سیاست کیسی تھی…انکی سیرت، انکا کردار کیسا تھا کہ زندہ باد اور فیضان معاویہ جاری رہے گا کے نعرے درست و حق کہلائیں........؟؟

.

القرآن:

لَا یَسۡتَوِیۡ  مِنۡکُمۡ مَّنۡ  اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ  اَعۡظَمُ  دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ  بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ  الۡحُسۡنٰی

 تم میں سے جس نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان لوگوں سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سارے صحابہ سے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے

(سورہ الحدید آیت10)

.

آیت کی تفسیر ملاحظہ کیجیے کہ سیدنا ابوبکر و عمر سیدنا علی و سیدنا معاویہ مہاجرین انصار اور ان کے بعد کے سارے صحابہ کرام جنتی ہیں...ہر صحابی نبی جنتی جنتی

۔۔۔۔۔۔۔{وكلا} كلا لفريقين  من أنْفق وَقَاتل من قبل الْفَتْح وَبعد الْفَتْح {وَعَدَ الله الْحسنى} الْجنَّة

یعنی 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ کرام نے خرچ کیا جہاد کیا اور فتح مکہ کے بعد جنہوں نے خرچ کیا جہاد کیا ان کے درجات میں اگرچہ تفاوت ہے لیکن سب صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے 

(تنوير المقباس من تفسير ابن عباس ص457وماقبلہ)


أوجب الله  لجميع الصحابة الجنة والرضوان

ترجمہ 

 اللہ تعالی نے تمام صحابہ کے لیے جنت اور رضامندی کو واجب کردیا ہے 

(أنموذج اللبيب في خصائص الحبيب1/236)

.


اكْثَرُ الْمُفَسِّرِينَ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ...(وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنى) أَيِ الْمُتَقَدِّمُونَ الْمُتَنَاهُونَ  السَّابِقُونَ، وَالْمُتَأَخِّرُونَ اللَّاحِقُونَ، وَعَدَهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا الْجَنَّةَ مَعَ تَفَاوُتِ الدَّرَجَاتِ

یعنی 

اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور اللہ تعالی نے سب صحابہ کے لئے جنت کا وعدہ کیا ہے درجات کی اونچ نیچ کے ساتھ 

(تفسير القرطبی,17/239,241)

.

اور سیدنا معاویہ فتح مکہ کے بعد ایمان لائے وہ عظیم فقیہ مجتہد صحابہ کرام میں سے تھے جیسے کہ نیچے حوالہ جات ائیں گے لیھذا اس ایت میں سیدنا معاویہ کی بھی فضیلت ہے، ان کے لیے بھی جنت کا وعدہ ہے.....!!

.

دَعَوْنَا مِنْ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں سیدنا معاویہ کے متعلق نازیبا بات نہ کرو وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں

(المعجم الكبير للطبراني11/124)

(الشريعة للآجري5/2459نحوه)

(مشكاة المصابيح1/399نحوہ)

۔

لہذا ایات و احادیث میں صحابہ کرام کی جو تعریف و عظمت و فضیلت و شان بیان ہوئی اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل ہیں 

۔


.

قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ: مُعَاوِيَةُ أَوْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ؟ فَقَالَ: «مُعَاوِيَةُ أَفْضَلُ، لَسْنَا نَقِيسُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا» . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيَ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ

 امام احمد بن حنبل سے سوال کیا گیا کہ سیدنا معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیز، امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ سیدنا معاویہ افضل ہیں... ہم کسی غیر صحابی(حتی کہ عظیم الشان تابعی وغیرہ جیسے عمر بن عبدالعزیز)کو(سیدنا معاویہ وغیرہ)کسی صحابی کے برابر نہیں کرسکتے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل ترین وہ لوگ(صحابہ) ہیں کہ جن میں میں ظاہری حیات رہا(بخاری حدیث2651)

(السنة لأبي بكر بن الخلال2/434)


.

وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي....رسول کریمﷺنےفرمایا:

میرے صحابہ میری امت کے لیے (ستاروں کی طرح) امان ہیں

(مسلم حدیث6466)

.

وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي

رسول کریمﷺنےفرمایا:

جس نےمیرےصحابہ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی(ترمذی حدیث3862)

.

فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ

رسول کریمﷺنےفرمایا:

(میرے صحابہ کی تو ایسی عظیم شان و فضیلت و عظمت ہے کہ)تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے تو میرے صحابہ کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر نہیں

(بخاری حدیث3673)

.

الحدیث:

فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ،

رسول کریمﷺنےفرمایا:

جو میرے صحابہ سے محبت رکھے تو یہ مجھ سے محبت ہے اسی وجہ سے میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور جو ان سے بغض کرے نفرت و گستاخی کرے تو یہ مجھ سے بغض و نفرت ہے...(ترمذی حدیث3862)

.

مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے میرے صحابہ کی گستاخی کی اس پر اللہ کی لعنت ہے

(استاد بخاری المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت6/405)

(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل2/908نحوہ)

(جامع الأحاديث سیوطی16/149نحوہ)

(السنة لابن أبي عاصم2/483نحوہ)

.

الحدیث:

 لاَ تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے مجھے حالت اسلام میں دیکھا (اور اس کی وفات حالت ایمان میں ہوئی )تو اسے آگ نہ چھوئے گی اور اس کو بھی آگ نہ چھوئے گی جو میرے صحابہ کو حالت ایمان میں دیکھے(اور حالت ایمان میں وفات پا جائے)

(ترمذی حدیث3858حسن)

(حسن، كتاب مشكاة المصابيح حدیث6013)

( جامع الأحاديث حدیث16938)

( الرياض النضرة 1/220)

(الجامع الصغير وزيادته حدیث14424)

(السنة لابن أبي عاصم 2/630)

(کنز العمال حدیث32480-)

 

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَعَنْ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ ضَمِنَ اللَّهُ لَهُمْ فِي كِتَابِهِ أَنَّهُ لَا يُخْزِيهِمْ , وَأَنَّهُ يُتِمُّ لَهُمْ نُورَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَيَغْفِرُ لَهُمْ...أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ , وَأَنَّهُ أَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا , فَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , وَنَفَعَنَا بِحُبِّهِمْ , وَبِحُبِّ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَبِحُبِّ أَزْوَاجِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ

یعنی

 تمام صحابہ کے بارے میں اللہ تعالی نے جنت و عزت کی ضمانت دی ہے قران میں اور ان کے لیے تیار رکھا ہے جنت کو اور ان سے راضی ہوا ہے۔۔۔اللہ ہمیں ان کی محبت سے سرفراز فرمائے اور اہل بیت کی محبت عطا فرمائے اور ازواج مطہرات کی محبت عطا فرمائے 

(الشريعة للآجري قبل الحدیث1168)


.

يُشِيرُ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ إِلَى الرَّدِّ عَلَى الرَّوَافِضِ وَالنَّوَاصِبِ. وَقَدْ أَثْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى الصَّحَابَةِ هُوَ وَرَسُولُهُ، وَرَضِيَ عَنْهُمْ، وَوَعَدَهُمُ الْحُسْنَى.كَمَا قَالَ تَعَالَى: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [التَّوْبَةِ: 100] .

یعنی 

علامہ طحاوی رحمۃ اللہ تعالی اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس میں رد ہے رافضیوں کا اور ناصبیوں کا وہ اس طرح کے اللہ تعالی نے تمام صحابہ کرام سے سابقین اولین مہاجرین و انصار وغیرہ جو ان کے بعد آئے ان سب سے اللہ تعالی راضی ہوا اور ان کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے 

(,شرح الطحاوية ت الأرناؤوط ,2/689)

.

صحابی کی معتبر تعریف یہ ہے

الصَّحابيِّ مَنْ لَقِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ [تَعالى] عليهِ [وآلهِ] وسلَّمَ ُمؤمِناً بهِ وماتَ عَلى الإِسلامِ

صحابی اس کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو یا ملاقات کی ہو اور اس کی وفات اسلام پر ہوئی ہو 

[نزهة النظر في توضيح نخبة الفكرpage 111]


.


لہذا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہو گئے وہ صحابہ نہیں،صحابی تو ہوتا ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے یا ملاقات کرے اور حالت ایمان پر اس کی وفات ہو۔۔۔۔صحابہ کرام تمام کے تمام عدول و نیک اور جنتی ہیں ان میں کوئی بھی کافر مرتد گستاخ فاسق نہیں۔۔۔۔حتی کہ آپس میں جنگ کرنے والے صحابہ کرام مثلا سیدنا معاویہ سیدنا علی وغیرہ رضی اللہ عنھم اجمعین بھی فاسق نہیں۔۔۔صحابہ کرام کو عادل و نیک  ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ قرآن کی آیات اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام عادل اور نیک تھے مرتد گستاخ و فاسق نہیں

۔

قَالَ الخَطِيْبُ البَغْدَادِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بَعْدَ أنْ ذَكَرَ الأدِلَّةَ مِنْ كِتَابِ اللهِ، وسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -، الَّتِي دَلَّتْ على عَدَالَةِ الصَّحَابَةِ وأنَّهُم كُلُّهُم عُدُوْلٌ، قَالَ: «هَذَا مَذْهَبُ كَافَّةِ العُلَمَاءِ، ومَنْ يَعْتَدُّ بِقَوْلِهِم مِنَ الفُقَهَاءِ

خطیب بغدادی نے قرآن سے دلاءل ذکر کیے، رسول اللہ کی سنت سے دلائل ذکر کیے اور پھر فرمایا کہ ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم گمراہ نہیں)اور یہی مذہب ہے تمام علماء کا اور یہی مذہب ہے معتدبہ فقہاء کا 

(الكفاية ص67)

.

أجمعت الأمة على وجوب الكف عن الكلام في الفتن التي حدثت بين الصحابة.

ونقول: كل الصحابة عدول، وكل منهم اجتهد، فمنهم من اجتهد فأصاب كـ علي فله أجران، ومنهم من اجتهد فأخطأ كـ معاوية فله أجر، فكل منهم مأجور، القاتل والمقتول، حتى الطائفة الباغية لها أجر واحد لا أجران، يعني: ليس فيهم مأزور بفضل الله سبحانه وتعالى.

امت کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام میں جو فتنے جنگ ہوئی ان میں نہ پڑنا واجب ہے تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم گمراہ نہیں)ان میں سے ہر ایک مجتہد ہے اور جو مجتہد حق کو پا لے جیسے کہ سیدنا علی تو اسے دو اجر ہیں اور جو مجتہد خطاء پر ہو جیسے سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا علی اور معاویہ کے قاتل مقتول سب جنتی ہیں حتیٰ کہ سیدنا معاویہ کا باغی گروہ بھی جنتی ہے اسے بھی ایک اجر ملے گایعنی تمام صحابہ میں سے کوئی بھی گناہ گار و فاسق نہیں اللہ کے فضل سے  

[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي ١٣/٦٢]

.

قال حجة الإسلام الغزالي رحمه الله يحرم على الواعظ وغيره......وما جرى بين الصحابة من التشاجر والتخاصم فانه يهيج بغض الصحابة والطعن فيهم وهم اعلام الدين وما وقع بينهم من المنازعات فيحمل على محامل صحيحة فلعل ذالك لخطأ في الاجتهاد لا لطلب الرياسة او الدنيا كما لا يخفى وقال في شرح الترغيب والترهيب المسمى بفتح القريب والحذر ثم الحذر من التعرض لما شجر بين الصحابة فانهم كلهم عدول خير القرون مجتهدون مصيبهم له أجران ومخطئهم له أجر واحد

یعنی

حجة الاسلام امام غزالی نے فرمایا کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئےان کو بیان کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ صحابہ کرام کے متعلق بغض بغض اور طعن پیدا ہو۔ ۔۔۔۔۔صحابہ کرام میں جو مشاجرات ہوئے ان کی اچھی تاویل کی جائے گی کہا جائے گا کہ ان سے اجتہادی خطا ہوئی انہیں حکومت و دنیا کی طلب نہ تھی

ترغیب وترہیب کی شرح میں ہے کہ

مشاجرات صحابہ میں پڑنے سے بچو بے شک تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)تمام صحابہ کرام خیرالقرون ہیں مجتہد ہیں مجتہد میں سے جو درستگی کو پہنچا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر 

[روح البيان، ٤٣٧/٩]

.

قال ابن الصّلاح: «ثم إن الأمة مجمعة۔۔۔الخ

یعنی

محقق عظیم علامہ ابن صلاح فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)وہ صحابہ کرام بھی عدل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اس پر معتدبہ علماء کا اجماع ہے۔۔۔ علامہ خطیب بغدادی فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)صحابہ کرام کی تعدیل اللہ نے فرمائی ہے اور اللہ نے ان کی پاکیزگی کی خبر دی ہے 

[ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، ٢٢/١]


.

امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں:

فان معاویة واحزابه بغوا عن طاعته مع اعترافهم بانه افضل اھل زمانه وانه الاحق بالامامة بشبهه هی ترک القصاص عن قتله عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنه ونقل فی حاشیة کمال القری عن علی کرم اللہ تعالیٰ وجهه انہ قال اخواننا بغوا علینا ولیسوا کفرة ولا فسقة لما لھم من التاویل وشک نیست کہ خطاء اجتہادی از ملامت دور است واز طعن وتشنیع مرفوع

بے شک

سیدنا معاویہ اور اس کے لشکر نے حضرت علی  سے بغاوت کی، باوجودیکہ کہ وہ مانتے تھے کہ وہ یعنی سیدنا علی تمام اہل زمانہ سے افضل ہے اور وہ اس سے زیادہ امامت کا مستحق ہے لیکن پھر بھی انکی بیعت نہ کی ازروئے شبہ کے کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص کا ترک کرنا ہے ۔ اور حاشیہ کمال القری میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی حالانکہ نہ ہی وہ کافر ہیں اور نہ ہی فاسق کیونکہ ان کے لیے تاویل ہے اور شک نہیں کہ خطائے اجتہادی ملامت سے دور ہے اور طعن وتشنیع سے مرفوع ہے

(مکتوبات امام ربانی 331:1) 


.


وقد قال - صلى الله عليه وسلم: " «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا» " أي: عن الطعن فيهم، فلا ينبغي لهم أن يذكروهم إلا بالثناء الجميل والدعاء الجزيل۔۔۔۔۔الخ

اور بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ میرے صحابہ کا ذکر ہو تو رک جاؤ، یعنی لعن طعن سے رک جاؤ...تو ضروری ہے کہ انکا ذکر ایسے ہو کہ انکی مدح سرائی کی جائے اور دعاء جزیل دی جائے، لیکن اسکا یہ مطلب نہین کہ حضرت علی سے جنگ کرنے والوں کو یا سیدنا معاویہ اور انکے گروہ کو باغی نا کہا جائے(بلکہ مجتہد باغی کہا جائے گا یہ فضائل بیان کرنے کے منافی نہین کہ مجتہد باغی گناہ نہیں) کیونکہ حدیث عمار کہ اے عمار رضی اللہ عنہ تجھے باغی گروہ قتل کرے گا....کیونکہ (اجتہادی باغی خاطی کہنا مذمت کے لیے نہین بلکہ)اس لیے ہے کہ وہ حکم واضح کر دیا جائے جو حق و باطل میں تمییز کرے اور مجتہد مصیب اور مجتہد خطاء کار مین فیصلہ کرے، اس کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی(فقط زبانی منافقانہ نہیں بلکہ) دلی تعظیم و توقیر ہو، اللہ کی رضا کی خاطر

(مرقاۃ تحت الحدیث3397ملتقط)

ان لوگوں کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ کے متعلق سکوت اختیار کرو۔۔۔۔ارے جناب یہ حدیث کا غلط معنی نکال کر حدیث میں تحریف کی ہے جو کہ کفر تک لے جا سکتی ہے۔۔۔حدیث پاک کا واضح معنی ہے کہ صحابہ کرام کا تذکرہ کیا جائے تو زبان کو سنبھال کر تذکرہ کرو تذکرہ خیر کرو اور تمام علماء نے یہی معنی مراد لی ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی صحابہ کرام کی شان بیان کی ہے تو کیا نعوذ باللہ سیدنا معاویہ کے متعلق سکوت کا حکم اس حدیث سے ثابت کرنے والے یہ بھی کہیں گے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی صحابی ہیں ان کے متعلق بھی سکوت کرو ان کے فضائل بیان نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔؟؟


.

پیران پیر دستگیر محبوب سبحانی سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

واتفق أهل السنة على وجوب الكف عما شجر بينهم، والإمساك عن مساوئهم، وإظهار فضائلهم ومحاسنهم، 


اہلسنت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام میں جو اختلافات و مشاجرات ہوئے، جو کچھ سیدنا علی و طلحہ و زبیر وعائشہ و معاویہ  رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین میں جو کچھ جاری ہوا اس میں ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنی ربان کو لگام دیں اور ان کی مذمت و برائی سے رک جائیں، اور ان کے فضائل و اچھائیاں بیان کریں 

(غنیۃ الطالبین جلد1 ص161,163ملتقطا مع حذف یسیر)

۔

 قادری کہلاتا ہےمگر سیدنا شیخ عبدالقادر کی مانتا نہیں۔۔؟؟لوٹ آ ورنہ قادری کہلا کر منافقت نہ کر، قادری کہلا کر چندہ عزت دولت شہرت کما کر کمینگی نہ کر۔۔ورنہ اصلی قادری نہیں تم۔۔۔۔!!

۔


مُعَاوِيَةَ وَيَقُولُ: كَانَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ

سیدنا فضیل فرماتے ہیں سیدنا معاویہ اصحاب محمد کے علماء صحابیوں میں سے ہیں

(السنة لأبي بكر بن الخلال2/438)

.

وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ النُّجَبَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّا الْحُرُوبُ الَّتِي جَرَتْ فَكَانَتْ لِكُلِّ طَائِفَةٍ شُبْهَةٌ اعْتَقَدَتْ تَصْوِيبَ أَنْفُسِهَا بِسَبَبِهَا وَكُلُّهُمْ عُدُولٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَمُتَأَوِّلُونَ فِي حُرُوبِهِمْ وَغَيْرِهَا وَلَمْ يُخْرِجْ شئ مِنْ ذَلِكَ أَحَدًا مِنْهُمْ عَنِ الْعَدَالَةِ

سیدنا معاویہ عادل و دیندار فضیلت والے نجباء صحابہ میں سے ہیں باقی جو ان میں جنگ ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کے پاس شبہات تھے اجتہاد جس کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی عادل ہونے کی صفت سے باہر نہیں نکلتا اور ان میں کوئی نقص و عیب نہیں بنتا

(امام نووي ,شرح النووي على مسلم ,15/149)


.

*#سیدنا معاویہ جنتی صحیح بخاری سے*

الحدیث:

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا

میری امت کا پہلا گروہ کہ جو بحری جہاد کرے گا ان کے لئے جنت واجب ہے 

(صحيح البخاري,4/42حدیث2924)

(المعجم الكبير  للطبراني حدیث323)

(دلائل النبوة للبيهقي مخرجا 6/452)

(مستدرك للحاکم4/599حدیث8668)

.

وَفِيهِ فَضْلٌ لِمُعَاوِيَةَ إِذْ جَعَلَ مَنْ غَزَا تَحْتَ رَايَتِهِ مِنَ الْأَوَّلِينَ

یعنی اس حدیث پاک سے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اسی کے جھنڈے تلے مسلمانوں نےسب سے پہلے بحری جہاد کیا

(الاستذکار لابن عبد البر5/128)

۔

سیدی امام احمد رضا نے بھی اسی حدیث پاک کو دلیل بنا کر سیدنا معاویہ کو جنتی لکھا ہے...(دیکھیے سیدی رضا کی کتاب "تعلیقات امام اہل السنۃ علی العلل المتناہیۃ ص5 مخطوظ)


.

*امام حسن نے جب خلافت سیدنا معاویہ کے سپرد کی ، صلح کی اور سیدنا معاویہ کی حکومت منھج رسول ، منھج خلفاء راشدین پے رہی الا چند مجتہدات کے تو سیدنا معاویہ کی حکومت عادلہ راشدہ کہلائی، خلافت راشدہ تب کہلاتی جب حدیث کے مطابق تیس سال کے دوران ہوتی...امارت حکومت عادلہ ہے تو ایسی حکومت زندہ باد کیوں نہ ہو.....؟؟ ایسی سیاست و کردار کا فیضان کیوں نا جاری رہے.....؟؟*

.

وقد كان ينبغي أن تلحق دولة معاوية وأخباره بدول الخلفاء وأخبارهم فهو تاليهم في الفضل والعدالة والصحبة

تفسیری ترجمہ:

(سیدنا امام حسن نے جب حکومت سیدنا معاویہ کو دی انکی بیعت کی، ان سے صلح کی تو اس کے بعد)سیدنا معاویہ کی حکومت خلفاء راشدین کی حکومت کی طرح حکومت عادلہ کہلانی چاہیے اور سیدنا معاویہ کے اقوال و اخبار بھی خلفاء راشدین کے اقوال و اخبار کی طرح کہلانے چاہیے کیونکہ فضیلت عدالت اور صحابیت میں سیدنا معاویہ خلفاء راشدین کے بعد ہیں

(تاریخ ابن خلدون2/650)

.

فأرسل إِلَى معاوية يبذل له تسليم الأمر إليه، عَلَى أن تكون له الخلافة بعده، وعلى أن لا يطلب أحدًا من أهل المدينة والحجاز والعراق بشيء مما كان أيام أبيه، وغير ذلك من القواعد، فأجابه معاوية إِلَى ما طلب، فظهرت المعجزة النبوية في قوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إن ابني هذا سيد يصلح اللَّه به بين فئتين من المسلمين ".ولما بايع الحسن معاوية خطب الناس

ترجمہ:

حضرت سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ خلافت و حکومت معاویہ کو دینے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ سیدنا معاویہ کے بعد خلافت انہیں ملے گی اور یہ بھی شرط کی کہ اہل مدینہ اہل حجاز اور اہل عراق میں سے کسی سے بھی کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے علاوہ بھی کچھ شرائط رکھیں سیدنا معاویہ نے ان شرائط کو قبول کرلیا تو نبی کریم کا وہ معجزہ ظاہر ہوگیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ میرا بیٹا یہ سید ہے اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا اور سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی تو خطبہ بھی دیا  

[أسد الغابة ملتقطا,2/13]

.

قَالَ كَعْب الْأَحْبَار لم يملك أحد هَذِه الْأمة مَا ملك مُعَاوِيَة

ترجمہ:

سیدنا کعب الاحبار نے فرمایا کہ جیسی(عظیم عادلہ راشدہ) بادشاہت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی ایسی کسی کی بادشاہت نہیں تھی 

(صواعق محرقہ2/629)

.


ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُوْلُ:مَا رَأَيْتُ رَجُلاً كَانَ أَخْلَقَ لِلمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَ

ترجمہ:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کے میں نے(رسول کریم اور خلفاء راشدین وغیرہ مستحقین کے بعد) معاویہ سے بڑھ کر حکومت کے لیے بادشاہت کے لیے کسی کو عظیم مستحق ترین , لائق ترین اور عظیم  اخلاق والا  نہیں پایا 

[سير أعلام النبلاء3/153]

.

*سیدنا معاویہ اور عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جھلک*

أوصى أن يكفن فِي قميص...

سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں کفن میں وہ قمیض پہنائی جائے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنائی تھی اور سیدنا معاویہ کے پاس حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ناخن مبارک کے ٹکڑے تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ وہ ان کی آنکھوں اور منہ پر رکھے جائیں 

[أسد الغابة ,5/201]

.

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے تھے،ایک دفعہ حضرت قابس بن ربیعہ آپ کے پاس آئے تو آپ انکی تعظیم میں کھڑے ہوگئے اور انکی پیشانی پر بوسہ دیا اور مرغاب نامی علاقہ ان پر نچھاور کر دیا، ان کے لیے وقف کردیا

وجہ فقط اتنی تھی کہ حضرت قابس کے چہرے کی کچھ مشابہت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے تھی 

(دیکھیے شفا جلد دو ص40)

.

جب امام حسن امیر معاویہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے،کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں۔(مرآۃ شرح مشکاۃ8/460)

.

*جہاد و فتوحاتِ سیدنا معاویہ کی جھلک*

خلاصہ:

رخج وغیرہا کئ ممالک سجستان ودان کور سوڈان قعقان قوہستان وغیرہ کئ ممالک سلطنتیں سیدنا معاویہ کے دور میں فتح ہوئے...عرب تا افریقہ تک تقریبا آدھی دنیا پر سیدنا معاویہ کی حکومت تھی

[تاريخ الخلفاء ,page 149ملخصا]

.

*سیدنا معاویہ کی اہلبیت و امام حسن کی تعظیم و خدمت کی ایک جھلک*

اس صلح کے وقت واقعہ یہ ہوا کہ امیر معاویہ نے امام حسن کے پاس سادہ کاغذ بھیجا اور فرمایا کہ آپ جو شرائط صلح چاہیں لکھ دیں مجھے منظور ہے،امام حسن نے لکھا کہ اتنا روپیہ سالانہ بطور وظیفہ ہم کو دیا جایا کرے اور آپ کے بعد پھر خلیفہ ہم ہوں گے، آپ نے کہا مجھے منظور ہے۔چنانچہ آپ سالانہ وظیفہ دیتے رہے اس کے علاوہ اکثر عطیہ نذرانے پیش کرتے رہتے تھے،ایک بار فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ نذرانہ دیتا ہوں جو کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔چنانچہ آپ نے اربعۃ مائۃ الف الف نذرانہ کیے یعنی چالیس کروڑ روپیہ۔(مرقات)جب امام حسن امیر معاویہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے،کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں۔

(مراۃ شرح مشکاۃ8/460)

.

*سیدنا معاویہ کی ازواج مطہرات کی خدمت کی ایک جھلک*

سیدنا معاویہ بی بی عائشہ کو تحفے تحائف تک بھیجا کرتے تھے جو اس طرف واضح اشارہ ہے کہ سیدنا معاویہ رسول کریم کی ازواج مطہرات کا خیال رکھا کرتے تھے

أَهْدَى مُعَاوِيَةُ لِعَائِشَةَ ثِيَابًا وَوَرِقًا وَأَشْيَاءَ

ترجمہ:

حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو کپڑے اور چاندی کے سکے(نقدی) اور دیگر چیزیں تحفے میں بھیجیں

(حلية الأولياء 2/48)

.

سیدنا معاویہ اہلبیت کو تحائف دیتے وہ قبول فرماتے

ﻭﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮِ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﺃﻥَّ ﺍﻟﺤﺴﻦَ ﻭﺍﻟﺤﺴﻴﻦَ ﻛﺎﻧﺎ ﻳَﻘْﺒَﻼ‌ﻥِ ﺟﻮﺍﺋﺰَ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ.

سیدنا حسن حسین سیدنا معاویہ کے تحائف قبول کرتے تھے

( المصنف - ابن أبي شيبة -4/296)

.


ﻭﻋﻦ ﻋﺒﺪِﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺑُﺮﻳﺪﺓَ، ﺃﻥ ﺍﻟﺤﺴﻦَ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ رضي الله عنهما ﺩﺧﻞ ﻋﻠﻰ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻓﻘﺎﻝ: ﻷ‌ُﺟﻴﺰَﻧَّﻚ ﺑﺠﺎﺋﺰﺓٍ ﻟﻢ ﺃﺟﺰ ﺑﻬﺎ ﺃﺣﺪﺍً ﻗﺒﻠﻚ، ﻭﻻ‌ ﺃﺟﻴﺰ ﺑﻬﺎ ﺃﺣﺪﺍً ﺑﻌﺪﻙ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺮﺏ، ﻓﺄﺟﺎﺯﻩ ﺑﺄﺭﺑﻌﻤﺎﺋﺔ ﺃﻟﻒ، ﻓﻘَﺒِﻠﻬﺎ.

ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے تو سیدنا معاویہ نے فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ تحفہ دوں گا کہ ایسا تحفہ آپ سے پہلے کسی کو نہ دیا اور نہ دوں گا پھر سیدنا معاویہ نے آپ کو چار لاکھ درھم تحفے میں دیے امام حسن نے قبول فرمائے

(المصنف - ابن أبي شيبة -6/188)

.

صرف تحفے لینے اور دینے کا معاملہ نہ تھا بلکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالئ عنہ تعریف بھی کیا کرتے تھے

فَلَمَّا اسْتَقَرَّتِ الْخِلَافَةُ لِمُعَاوِيَةَ كَانَ الْحُسَيْنُ يَتَرَدَّدُ إِلَيْهِ مَعَ أَخِيهِ الْحَسَنِ، فَكَانَ مُعَاوِيَةُ يُكْرِمُهُمَا إِكْرَامًا زَائِدًا، وَيَقُولُ لَهُمَا: مَرْحَبًا وَأَهْلًا. وَيُعْطِيهِمَا عَطَاءً جَزِيلًا

 جب سیدنا معاویہ کی خلافت (سیدنا حسن و حسین وغیرھما کی صلح کے بعد) قائم ہوگئ تو سیدنا حسن اور حسین سیدنا معاویہ کے پاس آیا کرتے تھے اور سیدنا معاویہ ان کا بے حد احترام عزت و اکرام کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ مرحبا اپنے گھر میں ہی آئے ہو اور انہیں بہت بڑے بڑے تحفے دیتے تھے

(البداية والنهاية ت التركي11/476)

.

*معاویت بھی زندہ آباد مگر یزیدت مردہ باد*

الحدیث:

أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ

ترجمہ:

(رسول کریم نے حسن حسین وغیرہ اہلبیت سے فرمایا) تم جس سے جنگ کرو میری اس سے جنگ ہے،تم جس سے صلح کرو میری اس سے صلح ہے

(اہلسنت کتاب صحیح ابن حبان حدیث6977)

(شیعہ کتاب بحار الانوار32/321)

شیعہ ، رافضی، نیم رافضی سچے مسلمان نہیں، سچے محب اہلبیت نہیں.....حسنی حسینی سچا مسلمان اور سچا محبِ اہلبیت وہ ہےجو یزیدیت سے جنگ اور معاویت سے صلح رکھے،زبان قابو میں رکھے

کیونکہ

سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنھما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور سیدنا حسین نے یزید سے جنگ کی......اور حسنین کریمین کی صلح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح اور انکی جنگ رسول کریم کی جنگ ہے

.

*سیدنا معاویہ کی اتباع سنت کی ایک جھلک اور عوام کی خدمت*

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث و سنت کی اتباع و پیروی اور عوام کی فلاح و خدمت کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث و سنت کی اتباع و پیروی کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے

أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ ،فَقَالَ: مَا أَنْعَمَنَا بِكَ....فَقُلْتُ: حَدِيثًا سَمِعْتُهُ أُخْبِرُكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ، وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ، وَفَقْرِهِ» قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ

ترجمہ:

صحابی سیدنا ابو مریم الازدی حضرت سیدنا معاویہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت معاویہ نے فرمایا:

آپ کی تشریف آوری سے ہمارا دل باغ بہار ہوگیا، فرمائیے کیسے آنا ہوا.......؟؟

صحابی ابو مریم الازدی(جو سیدنا معاویہ سے عمر میں چھوٹے تھے)نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث پاک سنانے آیا ہوں

"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

جسے اللہ نے مسلمانوں کی حکومت(لیڈری، ذمہ داری، عھدے داری)سے نوازا ہو اور وہ لوگوں پر اپنے دروازے بند کر دے حالانکہ لوگ تنگ دستی میں ہوں حاجات والے ہوں اور فقر و فاقہ مفلسی والے ہوں تو اللہ قیامت کے دن ایسے(نا اہل) حکمران و ذمہ دار پر(رحمت کے، جنت کے) دروازے بند کر دے گا حالانکہ وہ تنگ دست ہوگا حاجت مند ہوگا مفلس و ضرورت مند ہوگا..."

صحابی کہتے ہیں کہ حدیث پاک سنتے ہی فورا سیدنا معاویہ نے لوگوں کی حاجات و مسائل کے سننے، حل کرنے ، مدد کرنے کے لیے ایک شخص کو مقرر کر دیا

(ابوداود حدیث2948بالحذف الیسیر)

.

.

①سیدنا معاویہ بڑے صحابی تھے اور سیدنا ابومریم کم عمر صحابی تھے.......لیکن اس کے باوجود سیدنا معاویہ نے صحابی کی کیسی تعظیم کی اور انکی امد کو سعادت سمجھا.....جب کم عمر صحابی سے اتنی محبت تو بڑے بڑے صحابہ کرام مثل سیدنا علی و عمر وغیرھما سے کتنی عقیدت واحترام رکھتے ہونگے....اندازہ لگنا مشکل نہیں

.

②سیدنا معاویہ بڑے تھے سیدنا الازدی چھوٹے تھے مگر چھوٹے کو ایسی علم و روایت کی بات معلوم تھی جو بظاہر بڑے کو معلوم نہ تھی.....اسکا مطلب چھوٹا بڑے سے کچھ معاملات میں بڑھ سکتا ہے اور بڑا کچھ باتوں سے لاعلم ہوسکتا ہے....لیھذا ہمیں اپنے آپ کو علمِ کل اور بڑی توپ نہیں سمجھنا چاہیے

.

③سیدنا معاویہ بڑے تھے، علم والے بھی تھے، حاکم وقت بھی تھے مگر اس کے باوجود چھوٹے صحابی نے انہیں باادب ہوکر علم کی بات سکھانے بتانے میں ججک و شرم محسوس نہ کی اور بڑے یعنی سیدنا معاویہ نےبھی کوئی بےعزتی و شرم محسوس نہ کی، وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کیا اور چھوٹے کی بات مان لی.........لیھذا بڑے علماء مشائخ وغیرہ چھوٹوں کی بات مان لینے میں شرم و ججک محسوس نہ کریں اور چھوٹے کچھ کہیں تو باادب ہوکر عرض کریں اپنے آپ کو توپ نہ سمجھیں

.

④صحابی ابومریم الازدی نے "ولاہ اللہ" کو سیدنا معاویہ پر فٹ کرکے یہ عقیدہ بتایا ہے کہ صحابہ کرام، اہلبیت سیدنا معاویہ کی خطاء اجتہادی مانتے تھے مگر انہیں ظالم فاسق غاصب گناہ گار نہیں سمجھتے تھے... انکا نظریہ تھا غیرمنصوص معاملے میں اختلاف پردلیل ہوتو اسے نفرت و گناہ نہیں کہہ سکتے... انکا نظریہ تھا کہ سیدنا معاویہ کو حکومت اللہ نے عطاء کی ہے....انکی حکومت کوئی ظالمانہ غاصبانہ نہیں

.

⑤سیدنا معاویہ نے جیسے ہی معتبر ذرائع سے حدیث پاک سنی تو چوں چراں تاویل شاویل سے کام نہیں لیا....یہ نہیں کہا کہ دلیل لاؤ... بلکہ اسلام لانے کے بعد حدیث و سنت سے اتنے محبت کرنے والے بن گئے تھے کہ حدیث و سنت کے متعلق سنتے ہی اس پر عمل پیرا ہوتے.....مذکورہ واقعہ اسکی بھرپور عکاسی کرتا ہے

.

⑥اسلاف کی علم دوستی کا حال دیکھیے کہ اتنی دور سے بادشاہ وقت کے پاس محض ایک حدیث پاک سنانے پہنچ گئے اور بادشاہ کی علم دوستی دیکھیے کہ حدیث پاک ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنتے ہی اس پر عمل پیرا ہوگئے

.

اللہ کریم ہم سب کو حسنِ عقیدت ، علم دوستی، احترامِ سنت، وسعتِ قلبی، اور فرائض واجبات کے ساتھ ساتھ سنتوں پر بھی عمل کی توفیق عطاء فرمائے....

.

*#الحاصل*

سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے جب حکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سپرد کردی اور بیعت کی اور ان کی بیعت کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دے دیا

اور

سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالئ عنہ متبع سنت تھے عادل تھے عاشق رسول تھے صحابہ اہلبیت وغیرہ کا احترام و خدمت کرتے تھے اور اپنی حکومت منھج سنت و منھج ِ خلفاء راشدین پر چلائی الا بعض اجتہادی مسائل کے اور بخاری میں ہے کہ سیدنا معاویہ فقیہ یعنی مجتہد تھے اور حدیث کے مطابق مجتہد خطاء بھی کرے تو ایک اجر

تو

ثابت ہوا کہ انکی حکومت اچھی عادلہ تھی اس لیے انکی سیاست زندہ باد کہنا اور فیضان معاویہ جاری رہے گا کا نعرہ لگانا بےجا نہیں برحق و سچ ہے...ہاں یزید کی سیاست و حکومت یزیدت مردہ باد لیکن والد کی وفات کے بعد بیٹے کے کرتوت ہوں تو اس کی وجہ سے باپ پر کوئی الزام و حرف نہیں آتا

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

naya whats App nmbr

03062524574

purana whats App nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.