🟦مناظرہ فدک۔۔۔۔اور سر تا پا مکاری شیعہ حسن اللہیاری
مناظرہ فدک میں ہر فریق دعوی کر رہا ہے کہ وہ جیت گیا لیکن ائیں سوچیں سمجھیں کہ جیت کس کی اور ہار کون گیا۔۔۔۔؟؟1️⃣پہلے 3 اہم اصولی باتیں لکھوں گا پھر2️⃣فدک وغیرہ مالی میراث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں یہ ثابت کروں گا شیعہ کتابوں کے👈 14حوالوں سے3️⃣پھر اہلسنت کتب سے چند حوالے لکھوں گا کہ سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق سمیت تمام خلفائے راشدین ہیں باغ فدک سے خرچہ اہلبیت کرام اور ازواج مطہرات کو دیتےتھے4️⃣اور پھر اخر میں حسن اللہیاری کے دلائل کا جواب لکھوں گا،اور بتاوں گا کہ شیعہ حسن اللہیاری نے کیسے کیسے مکاری و دھوکہ سے بھرپور کام لیا۔۔۔فاقول مستعینا باللہ تعالی
۔
✅اہم اصول شیعہ حسن اللہیاری کے مطابق بھی:
1۔۔۔شیعہ حسن اللہیاری کہتا ہے کہ فلاں حدیث کی سند پر جواب چاہیے یا سند کی تحقیق چاہیے تو مجھے مزید ٹائم دیا جائے،👈جس سے واضح ہوتا ہے کہ لائیو مناظرہ کو ہار جیت کا معیار نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ وہاں ٹائم ہی نہیں ملتا کہ دلائل کی تحقیق اور چھان بین کی جائے اور مخالفین کے دلائل کی تحقیق و رد کیا جائے
۔
2۔۔۔ویڈیو میں میزبان کہتا ہے کہ جیسے شیعہ مناظر حسن اللہیاری کی ٹیم جس طرح دلائل بھیج رہی ہے ،اپ بھی اسی طرح اسکین بھیجیں۔۔۔👈جس کا واضح مطلب ہے کہ ایک طرف شیعہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ بھی پوری ٹیم تھی،تو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یحیی صاحب کے ساتھ ٹیم تھی اور ایک طرف اکیلا شیعہ مناظر تھا،یہ سراسر جھوٹ ہے
۔
3۔۔۔سند کی تحقیق میں اور دلائل کی چھان بین میں بندہ علماء کرام کی تحقیق سے ہی تو کام لیتا ہے کہ فلاں عالم صاحب نے فلاں راوی کو جھوٹا قرار دیا ہے یا ضعیف قرار دیا ہے تو گویا کہ اپ ایک عالم صاحب کی کتاب سے مدد لے رہے ہیں جب اپ کسی عالم کی کتاب سے مدد لے سکتے ہیں تو ساتھ بیٹھے عالم صاحب کی مدد کیوں نہیں لے سکتے۔۔؟؟
👈بلکہ لازمی ہے کہ دوسرے علماء سے بھی مدد لی جائے، لیھذا کسی کے ہار جیت کا پیمانہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ علماء سے مدد لیتا ہے یا نہیں لیتا۔۔یقینا شیعہ مناظر بھی اپنی ٹیم سے مدد لیتا ہے اور اپنی ٹیم میں موجود علماء سے اور اپنے ہم مسلک علماء کی کتب سے مدد لیتا ہے اور یقینا شیعہ علماء سے بھی مدد لیتا ہے،کیا شیعہ مناظر نے اپنے استادوں سےنہیں پڑھا، پڑھا ہے ،کتب پڑھی ہیں تو یقینا شیعہ نے بھی زندہ اور فوت شدہ سب سے مدد لی
۔
🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟦 *#رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مالی میراث نہیں، انکا مال صدقہ ہے،شیعہ کتب سے چودویں کے چاند کی روشن مختصرا 14دلائل و حوالہ جات پڑھیے۔۔۔!!*
۔
🟣دلیل1
القرآن:
مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ
جو اللہ کے نازل کردہ حکم جاری نہ کرے وہی کافر ہیں
(سورہ مائدہ ایت44)
۔
شیعوں کا معتبر ترین امام شیخ الکل طوسی اور شیعوں کے ہاں معتبر ترین علماء میں شمار ہونے والے شیخ شریف مرتضی لکھتے ہیں
فلما وصل الأمر إلى علي بن أبي طالب عليه السلام كلم في رد فدك، فقال: إني لأستحي من الله أن أرد شيئا منع منه أبو بكر وأمضاه عمر
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ جب خلیفہ مقرر ہوئے تو ان سے بات کی گئی باغ فدک کو میراث کے طور پر لوٹانے کی تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں اللہ سے حیا کرتا ہوں کہ میں وہ چیز لوٹاؤں کہ جس کو ابوبکر نے منع کیا ہے اور عمر جاری کیا ہے
(شیعہ کتاب الشافي في الامامة - الشريف المرتضى4/76)
(شیعہ کتاب تلخيص الشافي٫ الشيخ الطوسي3/144)
۔
✅نتیجہ:
شیعہ کے مطابق اللہ کا حکم ہے کہ والد کی وارث بیٹی بھی ہے چاہے والد انبیاء کرام میں سے کوئی نبی علیہ السلام ہو یا کوئی اور۔۔۔۔اب اگر شیعوں کی بات کو مانا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تھی اور اس کی وارث ان کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا تھی اور وراثت میں باغ فدک بھی تھا تو پھر ایت مبارکہ کہہ رہی ہے حکم ہے اللہ کا کہ میراث جاری کرو ورنہ کافر کہلاؤ گے،اب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرما رہے ہیں کہ میں میراث جاری نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے اللہ سے حیا ارہی ہے کہ میں اس کام کے برخلاف کیسے کر سکتا ہوں جس کو سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے جاری کیا ہو۔۔۔اب یا تو نعوذ باللہ تعالی اللہ کے حکم کو ٹھکرا کر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کفر کیا،یا پھر مان جاؤ کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مطابق بھی حق وہی ہے کہ انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی
۔
بديهي ان ضرورة تنفيذ الاحكام لم تكن خاصة بعصر النبي (ص) بل الضرورة مستمرة
خمینی شیعیوں کا معتبر ترین معتدل ترین عظیم ترین امام خمینی کہتا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلامی احکامات کو نافذ کرنا ضروری ہے یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ احکامات نافذ کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ کے لیے ہے ہمیشہ ہمیشہ قیامت تک کے لیے ہے
(شیعہ خمینی کی کتاب الحکومت الاسلامیہ ص25)
۔
اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ جب خلیفہ بنے تو ان پر ضروری تھا ان پر لازم تھا ان پر فرض تھا کہ وہ اسلامی سچے احکامات نافذ کرتے اب اگر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا خلیفہ بننا اسلامی احکامات کے خلاف تھا اور انہوں نے باغ فدک کے معاملے میں جو کچھ کیا وہ سب غلط تھا تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ پر فرض تھا کہ اس کی درستگی فرماتے لوگوں کو دوبارہ کلمہ پڑھاتے اور فدک میں میراث جاری کرتے لیکن سیدنا علی نے ایسا نہیں کیا
لہذا یا تو یہ خمینی شیعہ سارے جھوٹے ہیں یا پھر ان کے مطابق نعوذ باللہ سیدنا علی جھوٹے ہیں یا پھر مان جاؤ کہ سیدنا رضی اللہ تعالی عنہ نے حق کی طرف رجوع کیا اور حق وہی ہے کہ خلافت کا معاملہ ہو یا فدک کا معاملہ ہو میراث کا معاملہ ہو تمام معاملات میں صحابہ کرام بھی بر حق ہیں
.
وان الامام عليه السلام نفسه ينهي عن الرجوع الى سلاطين الجور وقضاته، ويعتبر الرجوع اليهم رجوعا الى
الطاغوت
امام برحق روکتا ہے کہ ناحق بادشاہوں کی طرف رجوع نہ کیا جائے اور اگر کوئی ان بادشاہوں کی طرف رجوع کرے گا تو وہ شیطان کی طرف رجوع کرنے والا کہلائے گا
(شیعہ خمینی کی کتاب الحکومت الاسلامیہ ص92)
۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے باغ فدک کے معاملے میں اور خلافت کے معاملے میں مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی طرف رجوع کیا سیدنا ابوبکر صدیق و عمر کی طرف رجوع کیا اور ان کا حکم جاری کیا تو شیعہ کے مطابق نعوذ باللہ سیدنا علی نے شیطان کی طرف رجوع کیا۔۔۔۔لا حول ولا قوۃ الا باللہ یا پھر مان جاؤ کہ سیدنا رضی اللہ تعالی عنہ نے حق کی طرف رجوع کیا اور حق وہی ہے کہ خلافت کا معاملہ ہو یا فدک کا معاملہ ہو میراث کا معاملہ ہو تمام معاملات میں صحابہ کرام بھی بر حق ہیں
.
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل2
رسول الله صلى الله عليه وآله يقول: " نحن معاشر الأنبياء لا نورث ذهبا ولا فضة ولا دارا ولا عقارا وإنما نورث الكتاب والحكمة والعلم والنبوة وما كان لنا من طعمة فلولي الأمر بعدنا أن يحكم فيه بحكمه
شیعہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم گروہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے سونے کا نہ چاندی کا نہ ہی گھر کا نہ ہی زمینوں کا... ہم تو کتاب اور حکمت اور علم کا وارث بناتے ہیں... جو کچھ ہمارا مال ہے وہ ہمارے بعد جو خلیفہ آئے گا اس کے سپرد ہے اس کی صوابدید پر موقوف ہے کہ وہ کس طرح خرچ کرتا ہے
(شیعہ کتاب الاحتجاج - الشيخ الطبرسي1/142)
.
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل3
وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم
شیعہ معتر عالم کلینی لکھتا ہے کہ
بے شک علماء ہی انبیاء کرام کے وارث ہیں اور انبیاء کرام نے درہم اور دینار کی وراثت نہیں چھوڑتے بلکہ وہ تو صرف علم کی وراثت چھوڑتے ہیں
(الكافي، ج 1، الشيخ الكليني، ص 34۔)
.
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل4
إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياءلم يورثوا درهما ولا دينارا ، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم ،
شیعہ کہتے ہیں کہ بے شک علماء انبیاء کرام کے وارث ہیں
کیونکہ
انبیائے کرام نے کسی کو درہم اور دینار( مالی وراثت )کا وارث نہیں بنایا انکی وراثت تو فقط علم ہے
(شیعہ کتاب الكافي - الشيخ الكليني1/32)
.
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل5
أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله يقول: نحن معاشر الأنبياء لا نورث ذهبا ولا فضة ولا دارا ولا عقارا وإنما نورث الكتب والحكمة والعلم والنبوة، وما كان لنا من طعمة فلولي الامر بعدنا ان يحكم فيه بحكمه
شیعہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم گروہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے سونے کا نہ چاندی کا نہ ہی گھر کا نہ ہی زمینوں کا... ہم تو کتاب اور حکمت اور علم کا وارث بناتے ہیں... جو کچھ ہمارا مال ہے وہ ہمارے بعد جو خلیفہ آئے گا اس کے سپرد ہے اس کی صوابدید پر موقوف ہے کہ وہ کس طرح خرچ کرتا ہے
(شیعہ کتاب بحار الأنوار - العلامة المجلسي29/231)
.
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل6
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه، فلم يكن للشاهد أن يختار ولا للغائب أن يرد، وإنما الشورى للمهاجرين والأنصار، فإن اجتمعوا على رجل وسموه إماما كان ذلك لله رضى
میری(سیدنا علی کی)بیعت ان صحابہ کرام نے کی ہےجنہوں نےابوبکر و عمر کی کی تھی،یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کسی کی بیعت کرلیں تو اللہ بھی راضی ہے، ہمیں بھی راضی ہونا ہوگا(اور وہ خلیفہ برحق کہلائے گا) تو ایسی بیعت ہو جائے تو دوسرا خلیفہ انتخاب کرنے یا تسلیم نہ کرنے کا حق نہیں(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص491)
1۔۔۔یہ سیدنا علی کا فرمان ان شیعوں کے منہ پےزناٹےدار تھپڑ ہیں جو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق دو ٹوک یا ڈھکے چھپے الفاظ میں گستاخی و بکواس کرتےہیں، ظالم غاصب کہتے ہیں
۔
2۔۔۔۔مزید اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ
سیدنا علی کے مطابق سیدنا ابوبکر و عمر مہاجرین انصار صحابہ کرام برحق سچےاچھےتھے ،انکی خلافت برحق تھی تبھی تو سیدنا علی نے انکی بیعت کو دلیل بنایا.....!!
۔
3۔۔۔اس قول سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق رسول کریمﷺنے دوٹوک کسی کو خلیفہ نہ بنایا اگر بنایا ہوتا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی رائے و انتخات کو وقعت نہ دیتے بلکہ وہ نص بیان فرماتے کہ میں تو فلاں آیت یا حدیث کی وجہ سے خلیفہ بلافصل ہوں....
۔
4۔۔۔۔اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق خلافت میں پہلا نمبر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا نمبر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا...
۔
5۔۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر وغیرہ صحابہ کرام کافر مشرک مرتد منافق ظالم غاصب بدعتی نہ تھے، انہوں نے خلافت نہ چھینی نہ ہی باغ فدک چھینا بلکہ خلافت و باغ فدک کے معاملے میں بھی سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام کا فیصلہ شریعت و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل7
هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين
(شیعوں کے مطابق)امام حسن نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے
(شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)
۔
1۔۔۔سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق امام علی گذرے تھے لیکن سیدنا حسن "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جسکا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسن کا وہی نظریہ تھا جو سچے اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسن نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے امام حسن....
۔
2۔۔۔۔اور دوسری بات یہ بھی اہلسنت کی ثابت ہوئی کہ "قرآن و سنت" اولین ستون ہیں کہ ان پے عمل لازم ہے جبکہ شیعہ قرآن و سنت کے بجائے اکثر اپنی طرف سے اقوال گھڑ لیتے ہیں اور اہلبیت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں
۔
3۔۔۔۔اور سیدنا معاویہ کی حکومت سنت رسول و سیرت خلفاء پر اچھی تھی ورنہ ظالمانہ ہوتی تو سیدنا حسن حسین ضرور باءیکاٹ فرماتے صلح نہ فرماتے چاہے اس لیے جان ہی کیوں نہ چلی جاتی جیسے کہ یزید سے بائیکاٹ کیا
۔
4۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے ، انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی کیونکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفاء راشدین یعنی رشد و ہدایت والے خلیفہ قرار دے رہے ہیں
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل8
بأصحاب نبيكم لا تسبوهم الذين لم يحدثوا بعده حدثا ولم يؤووا محدثا، فإن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أوصى بهم
حضرت علی وصیت و نصیحت فرماتے ہیں کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق میں تمھیں نصیحت و وصیت کرتا ہوں کہ انکی برائی نہ کرنا ، گالی لعن طعن نہ کرنا(کفر منافقت ظلم تو دور کی بات) انہوں نے نہ کوئی بدعت نکالی نہ بدعتی کو جگہ دی،بےشک رسول کریم نے بھی صحابہ کرام کے متعلق ایسی نصیحت و وصیت کی ہے.(شیعہ کتاب بحار الانوار22/306)
ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے کیونکہ انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل9
َ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَنْ حِلْيَةِ اَلسُّيُوفِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ قَدْ حَلَّي أَبُو بَكْرٍ اَلصِّدِّيقُ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُ سَيْفَهُ قُلْتُ فَتَقُولُ اَلصِّدِّيقَ قَالَ فَوَثَبَ وَثْبَةً وَ اِسْتَقْبَلَ اَلْقِبْلَةَ وَ قَالَ نَعَمْ اَلصِّدِّيقُ نَعَمْ اَلصِّدِّيقُ نَعَمْ اَلصِّدِّيقُ فَمَنْ لَمْ يَقُلْ لَهُ اَلصِّدِّيقُ فَلاَ صَدَّقَ اَللَّهُ لَهُ قَوْلاً فِي اَلدُّنْيَا وَ لاَ فِي اَلْآخِرَةِ
امام باقر سے پوچھا گیا کہ تلوار کو سجایا جا سکتا ہے تو اپ نے فرمایا بے شک ہاں کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیق نے سجایا ہے تو راوی نے کہا کہ اپ صدیق کہہ رہے ہیں تو غضب ناک ہوئے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے فرمایا کہ ہاں صدیق ہاں صدیق ہاں صدیق اور جو اس کو صدیق نہ کہے اللہ تعالی اس کا دنیا و اخرت میں کوئی قول کلمہ (ایمان) قبول نہیں فرماتا
(شیعہ کشف الغمة في معرفة الأئمة2/147)
لیھذا سیدنا ابوبکر صدیق کو سچا سمجھنا صدیق سمجھنا ضروری ہے اور وہ حدیث میراث اور فدک کے معاملے میں سچے تھے
.
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل10
ان العلماء لورثة ( 2 ) الأنبياء ان الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما إنما ورثوا العلم
شیعہ کہتے ہیں کہ علماء کا ہی انبیاء کرام کے وارث ہیں بے شک انبیاء کرام درہم اور دینار ورثے میں چھوڑ کے نہیں جاتے بلکہ وہ تو علم چھوڑ جاتے ہیں
(شیعہ کتاب بصائر الدرجات،ص 23)
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل11
إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا وإنما ورثوا أحاديث
شیعہ کہتے ہیں کہ بے شک علماء کرام ہی انبیاء کرام کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء کرام درہم اور دینار کے وارث نہیں بناتے بلکہ وہ تو احادیث کے وارث بناتے ہیں
(شیعہ کتاب بصائر الدرجات،ص30)
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل12
قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وآله ).... وإن العلماء ورثة الأنبياء ، إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ، ولكن ورثوا العلم
اشیعہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انبیاء کرام کے وارث تو علماء ہی ہیں کیونکہ انبیاء کرام کی درہم اور دینار کی وراثت نہیں، وہ تو علم کی وراثت چھوڑ جاتے ہیں
(شیعہ کتاب الأمالي، الشيخ الصدوق، ص 116)
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل13
إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن العلماء لم يورثوا درهما " ولا دينارا " وإنما ورثوا أحاديث
انبیاء کرام کے وارث تو علماء ہی ہیں کیونکہ انبیاء کرام کی درہم اور دینار کی وراثت نہیں، وہ تو علم کی وراثت چھوڑ جاتے ہیں
(شیعہ کتاب الاختصاص، الشيخ المفيد، ص 4)
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣دلیل14
إن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا وإنما ورثوا
أحاديث
انبیاء کرام کے وارث تو علماء ہی ہیں کیونکہ انبیاء کرام کی درہم اور دینار کی وراثت نہیں، وہ تو علم کی وراثت چھوڑ جاتے ہیں
(الناصريات، الشريف المرتضى، ص 32)
.
🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟦باغ فدک وغیرہ سے اہلبیت کرام کو خرچہ ملتا رہتا تھا
۔
إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ - يَعْنِي مَالَ اللَّهِ - لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ "، وَإِنِّي وَاللَّهِ، لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.... فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي.
ال محمد بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صدقہ سے کھاتے رہیں گے، واللہ میں ابوبکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار سے نہیں ہٹوں گا، بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار مجھے تو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ عزیز و محترم ہیں
(بخاری تحت حدیث3711)
.
أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
باغ فدک وغیرہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے وہی طریقے سے خرچہ جاری رکھا جو رسول کریم نے جاری رکھا تھا(یعنی اہل بیت وغیرہ کو بھی دیتے رہے)
(بخاری تحت حدیث3094)
۔
.
وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعْتُ فِيهَا الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ، ثُمَّ أَتَيَانِي فَسَأَلَانِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا، عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا، وَأَخَذْتُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمَا،
سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد میں خلیفہ ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اموال میں وہی تقسیم اور خرچہ جاری رکھا کہ جس طرح سیدنا ابوبکر صدیق کیا کرتے تھے... پھر ان اموال سے خرچہ اٹھانے کے لئے میں نے آپ اہل بیت کو یہ مال دیا اس شرط پر کہ آپ لوگ اسی طرح خرچہ اٹھاتے رہو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میں خرچہ دیا کرتے تھے جس طرح سیدنا ابوبکر صدیق آپ میں خرچہ کیا کرتے تھے اور آپ لوگوں سے اس پر عہد بھی لیا
(نسائی روایت4148)
۔
سیدنا عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ فدک وغیرہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اموال تھے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہلبیت و مسلمانوں و فی سبیل اللہ خرچ کیا کرتے تھے... سیدہ فاطمہ نے اپنی ملکیت کے لیے کچھ لینا چاہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا... پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اسی عمل و خرچے کو جاری رکھا پھر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی اس عمل کو جاری رکھا پھر یہ مروان کے حوالے کر دیا گیا اور پھر یہ مجھے ملا تو میں عمر بن عبدالعزیز کہتا ہوں کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کی ملکیت قرار نہ دیا وہ میرا حق نہیں ہو سکتا میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس کو اسی حال پر واپس لوٹا رہا ہوں کہ جس حال پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خرچ کیا کرتے تھے
(ابوداود تحت حدیث2972)
۔
قَالَ : فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.
سیدنا زهري فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق سے لے کر سیدنا علی وغیرہ تک یہ اسی طریقے پر جاری ہے( کہ اموال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی ملکیت نہیں ہے وہ صدقہ ہیں وہ اہل بیت و دیگر رشتہ داروں اور دیگر مسلمانوں اور اللہ کی راہ میں خرچ ہوتا رہا سب خلفاء راشدین کے دور میں)
(ابوداؤد تحت حدیث2968)
.
ولهذا لَمَّا صارت الخِلافة إلى عليٍّ لم يُغيِّرْها عن
كونها صدَقة
جب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے باغ فدک وغیرہ میں میراث جاری نہ کی بلکہ اسی طریقے کو جاری رکھا جو سیدنا ابوبکر صدیق نے جاری رکھا تھا اور اموالِ رسول کریم کو صدقہ قرار دیا
(اللامع الصبيح بشرح جامع صحيح9/156)
(منحة الباري بشرح صحيح البخاري6/209)
۔
🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟦حدیث پاک کہ انبیاء کرام کی مالی وراثت نہیں ہوتی جو وہ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے یہ حدیث پاک سیدنا ابو بکر صدیق کے علاوہ بھی کئی صحابہ کرام سے مروی ہے
۔
*#سیدنا علی،سیدنا عباس، سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا زبیر،سیدنا سعد بن ابی وقاص,سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھم کا نظریہ......!!*
یہ 7 ثقہ ترین معتبر ترین صحابہ کرام میں سے ہیں، حلفاً ارشاد فرما رہے ہیں کہ:
عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ......أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ ؟ قَالَ الرَّهْطُ : قَدْ قَالَ ذَلِكَ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ ؟ قَالَا : قَدْ قَالَ ذَلِكَ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا زبیر،سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم سے فرمایا
تم سب کو قسم ہے اللہ کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان ہے کیا بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہماری کوئی مالی وراثت نہیں....؟؟
سب نے کہا:
بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے
پھر سیدنا عمر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنھم سے فرمایا کہ تمھیں قسم ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمایا تھا....؟؟ سیدنا علی سیدنا عباس دونوں نے فرمایا کہ بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ہے
(بخاری حدیث3094... مسلم حدیث1757)
ابوداؤد حدیث2663... ترمذی حدیث1610)
الفاظوں پے غور کیجیے.....قسم دی جارہی ہے اللہ تعالیٰ کی اور یہ سات عظیم ترین ثقہ ترین معتبر ترین صحابہ کرام میں سے ہیں وہ بھی "قد قال" یعنی بےشک بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
.
*#سیدنا ابوبکر سیدنا عمر رضی اللہ عنھما دونوں نے سنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے*
أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " إِنِّي لَا أُورَثُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ہم نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری کوئی مالی وراثت نہیں
(ترمذی حدیث1609)
.
*#سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ راوی ......!!*
عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے
(مسند احمد حدیث336)
.
*#سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی وہی اوپر والا ترجمہ...!!*
فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
(بخاری حدیث6730....مسلم حدیث1758)
.
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ "
(مسند احمد حدیث25125)
.
*#راوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ترجمہ وہی اوپر ولا....!!*
أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
(مسلم حدیث1761)
.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ
(مسند احمد حدیث9972)
.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي بَعْدِي
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد میری کوئی وراثت تقسیم نہیں ہوگی
(صحیح ابن حبان حدیث6699)
.
.*#راوی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنھا.....!!*
وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ تُوفِّيَ إِلَّا بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً».
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ
سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی وفات کے وقت چھوڑا سواری کے جانور، عصا مبارک، جنگی سامان، اور جائیداد
سب کچھ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ عامہ قرار دے دیا( جو کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتا)
امام ہیثمی فرماتے ہیں اس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے معتبر ہے
(مجمع الزوائد حدیث14285)
.
.*#سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما راوی.....!!*
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ".رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم انبیاء کرام علیہم السلام کسی کو مالی وارث نہیں کرتے جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے.... امام ہیثمی فرماتے ہیں کہ اس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک راوی ہے جس کو کچھ علماء نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام ابن حبان نے اس کو ثقہ معتبر قرار دیا ہے اور باقی راوی اس کے سب ثقہ معتبر ہیں
(مجمع الزوائد حدیث14287)
.
*#سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی......!!*
حُذَيْفَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نبی کا تو کوئی مالی وارث نہیں ہوتا
(السنن الكبرى للبيهقي حدیث12743)
.
*#سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ راوی......!!*
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ
مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے خمس حلال ہے اور یہ خمس میرے بعد تم ہی کی طرف صدقہ ہو کر لوٹے گا(صدقہ عامہ ہوگا کسی کی وراثت و ملکیت نہ ہوگا)
(السنن الكبرى للبيهقي حدیث12747)
.
🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟦اب آتے ہیں شیعہ حسن اللہیاری کے دلائل و حوالہ کی طرف اور انکے جواب کی طرف اور اپ کو دیکھیں گے کہ شیعہ نے کیسے مکاری اور دھوکہ سے کام لیا
۔
🔵دلیل1
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ حدیث پاک میں ہے کہ قران علی کے ساتھ ہے اور علی قران کے ساتھ ہے اور دوسری حدیث پاک میں ہے کہ علی ہر مومن کا ولی ہے۔۔لیھذا جب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فدک کا مطالبہ کیا تو ان کا مطالبہ ماننا لازم تھا
۔
✅جواب:
حدیث کے الفاظ میں اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے فرمایا گیا کہ قران ان کے ساتھ ہے اور وہ قران کے ساتھ ہے لیکن دیگر احادیث میں فرمایا گیا کہ خلفائے راشدین کی زبان پر اللہ نے حق کو جاری کیا اور اللہ نے انہیں خطا سے محفوظ رکھا اور وہ خلیفہ راشد ہیں یعنی ہدایت والے ہیں اور ہدایت دینے والے ہیں اور ان کی پیروی کا حکم دیا
تو
اس سے لازمی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ قران مجید سیدنا ابوبکر صدیق کے ساتھ ہے سیدنا عمر کے ساتھ ہے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ہے خلفائے راشدین کے ساتھ ہے اور خلفائے راشدین قران کے ساتھ ہیں تبھی تو رشد و ہدایت والے کہلائیں گے کیونکہ اگر قران کے ساتھ نہ ہوں گے تو رشد و ہدایت نہیں جبکہ حدیث پاک میں انہیں رشد و ہدایت والا قرار دیا ہے
اور
خلفائے راشدین بالخصوص سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق کا نام لے کر فرمایا گیا کہ ان کی پیروی کرنا۔۔۔۔ تو لازما قران اور حدیث ان کے ساتھ ہے اور وہ ان کے ساتھ ہیں تو ہی ان کی پیروی برحق بنتی ہے تبھی رسول کریم نے ان کی پیروی کا حکم دیا
اور
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو جو مولا فرمایا ہے ولی فرمایا ہے اس سے دو ٹوک طور پر اہل بیت کے نام نے فرمایا اور قران مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مولا ولی سے مراد یہاں پر دوست ہے جس پر ایک مستقل تحریر لکھی جا چکی ہے جسے چاہیے طلب کر سکتا ہے
۔
مختصر دلائل:
1۔۔۔الحدیث:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه
بےشک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ اللہ عزوجل نے حق کو عمر کی زبان و دل پے رکھا ہے
(ترمذی حدیث3682)
.
2...الحدیث:
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا
نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پر میری سنت لازم ہے اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت لازم ہے، ان سنتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو
(ابوداؤد حدیث4607)
(ابن ماجہ حدیث43نحوہ)
(ترمذی حدیث2676نحوہ)
.
3...اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ "
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا
(ترمذی حدیث3662)
۔
4۔۔۔وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا.... صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق ہم سب سے زیادہ علم والے تھے
(بخاری تحت حدیث466)
۔
✅علم زیادہ ہوگا تو وہ فیصلے کر سکے گا اور فیصلے کر سکے گا تو اس کی پیروی کی جائے گی تو پیروی کرنے سے ثابت ہو جاتا ہے کہ ان کا علم زیادہ تھا اس لیے تو انکی پیروی کا حکم تھا... لہذا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا علم سب سے زیادہ تھا پھر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا علم زیادہ تھا۔۔۔۔۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سب سے زیادہ علم والے تھے تو لازم ہے کہ ان کو قران مجید کا علم تھا اور احادیث مبارکہ کا بھی علم تھا تو قران سیدنا ابوبکر صدیق کے ساتھ بھی ہیں اور وہ قران مجید کے ساتھ ہیں
.
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل2
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ
السنۃ لابن ابی بکر میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد خلیفہ علی ہے۔۔۔۔۔لیھذا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مطالبہ کیا اور خلیفہ وہی ہے وہ سارے اختیار اسی کو ہیں ان کا مطالبہ فدک کا برحق تھا
۔
جواب:
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فدک کا مطالبہ کیوں کیا اس کی اگے بحث لکھیں گے۔۔۔پہلے روایت کا جواب پڑھیے
شیعہ
مکار حسن اللہیاری نے مکاری فریب اور دھوکہ دیتے ہوئے غلط مطلب نکالا کہ سیدنا علی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہیں جبکہ مذکورہ روایت اور حدیث میں یہ ہے جس کا حوالہ حسن اللہ پیاری دے رہا ہے اس میں یہ ہے کہ رسول کریم نے فرمایا کہ میں غزوہ تبوک میں جا رہا ہوں تو اپ غزوہ تبوک میں اے علی رضی اللہ عنہ نہ ائیں تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ آنسو بہانے لگے تو رسول کریم نے فرمایا کہ اس میں غم کی بات نہیں ہے،غزوہ تبوک کی طرف جانے کے بعد مدینے میں رہ جانے والے لوگوں میں میرے نائب تو اپ ہیں
کہاں
وہ وقتی نیابت اور کہاں خلافت بلافصل۔۔۔حسن اللہیاری نے کی پھر مکاری، پوری کمال کی ڈنڈی ماری۔۔۔۔یہ رہی پوری روایت
وَخَرَجَ النَّاسُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَكَ. قَالَ: «لَا» . قَالَ: فَبَكَى. قَالَ: «أَفَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، وَأَنْتَ خَلِيفَتِي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بَعْدِي»
(السنۃ لابن ابی بکر روایت1222)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل3
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جب باغ فدک کا مطالبہ کیا اور سیدنا صدیق اکبر نے حدیث پاک سنائی تو اس ضمن میں سیدنا عمر نے فرمایا کہ اے علی تم میں صدیق اکبر کو جھوٹا سمجھا غدار اور خائن سمجھا گنہگار سمجھا۔۔۔لہذا وہ جو سیدنا ابوبکر صدیق کی روایت کردہ حدیث ہے کہ انبیاء کرام کی میراث نہیں ہوتی وہ سیدنا علی کے مطابق جھوٹی روایت ہے۔
۔
✅جواب:
یہاں بھی شیعہ نے مکاری فریب دھوکہ دہی سے بھرپور کام لیتے ہوئے ڈنڈی ماری ہے۔۔۔۔کیونکہ اسی روایت میں ہے کہ
انشدمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ؟ قَالُوا : نَعَمْ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ ، وَعَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " ؟ قَالَا : نَعَمْ.
سیدنا عمر
نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ وہ قسم دے کر فرمایا کہ تمہیں قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں زمین و اسمان ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم انبیاء کرام کسی کو ہماری وارث نہیں بناتے جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے تو سیدنا علی و سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہما سمیت سب نے فرمایا کہ جی بے شک
(مسلم بخاری)
۔
🚨اعتراض:
جب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سمجھتے تھے کہ انبیاء کرام کی وراثت نہیں ہوتی یہ برحق اور سچ ہے تو پھر انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق کو جھوٹا کیوں سمجھا۔۔۔۔؟؟
۔
✅جواب:
فإن قلت كيف جاز لهما مثل هذا الاعتقاد في حقه قلت قالا باجتهادهما قبل وصول حديث لا نورث إليهما وبعد ذلك رجعا عنه واعتقدا أنه محق
امام کرمانی فرماتے ہیں کہ اپ اگر اعتراض کریں کہ سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے لیے یہ کیسے جائز ہوا کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق کے متعلق ایسا عقیدہ رکھیں کہ وہ جھوٹے خائن وغیرہ تھے تو امام کرمانی فرماتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اجتہاد سے یہ بات شروع میں کہی تھی جب ان کو حدیث سیدنا ابوبکر صدیق نے نہ سنائی تھی تو شروع میں انہوں نے یہ خیال کیا کہ یہ تو سیدنا صدیق اکبر بظاہر جھوٹا فیصلہ فرما رہے ہیں اور خیانت فرما رہے ہیں لیکن جب انہیں حدیث پاک سنائی گئی کہ نبی کریم نے فرمایا کہ انبیاء کرام کسی کو مالی وارث نہیں بناتے تو ان دونوں نے اپنے اعتقاد اور اپنے قول سے رجوع کر لیا اور تسلیم کر لیا کہ بالکل سیدنا ابوبکر صدیق سچے اور برحق ہیں
(الکواکب الدراری جز25 ص52)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل4
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہما سیدنا ابوبکر صدیق کو اس حدیث کے معاملے میں جھوٹا سمجھتے تھے جس میں ہے کہ انبیاء کی کوئی مالی وراثت نہیں ہوتی اسی لیے تو جب سیدنا عمر فاروق خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس دوبارہ مطالبہ میراث کیا
۔
✅جواب:
اوپر جواب دیا جا چکا ہے کہ جب ان کو حدیث پہنچی تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنے نظریے سے رجوع کر لیا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق کو سچا اور حق والا سمجھا تھا۔۔۔باقی رہی بات کہ سیدنا عمر فاروق کے پاس وہ کیوں ائے تھے تو وہ میراث کے مطالبے کے طور پر نہیں ائے تھے بلکہ اس طور پر ائے تھے کہ جس طرح خرچہ پہلے اہل بیت کو ملا کرتا تھا تو اس خرچے کو الگ الگ تقسیم کر کے دے دیا جائے یعنی تقسیم کا مطالبہ تھا نہ کہ میراث کا مطالبہ۔۔۔امام ابو داؤد فرماتے ہیں
قال أَبُو دَاوُدَ : إِنَّمَا سَأَلَاهُ أَنْ يَكُونَ يُصَيِّرُهُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ، لَا أَنَّهُمَا جَهِلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہما نے جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا وہ میراث کا سوال نہیں کیا بلکہ یہ سوال کیا کہ اس کو الگ الگ تقسیم کر دیں،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انبیاء کرام کی کوئی مالی میراث نہیں ہوتی
(ابوداود تحت حدیث2964)
.
فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي فِيمَا رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مِنْ طَرِيقِهِ لَمْ يَكُنْ فِي الْمِيرَاثِ إِنَّمَا تَنَازَعَا فِي وِلَايَةِ الصَّدَقَةِ
امام دار قطنی نے بھی روایت کیا ہے کہ قاضی اسماعیل نے بھی یہی فرمایا ہے کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا عمر فاروق سے بطور میراث تقاضا نہیں کیا تھا بلکہ صدقہ جو خرچے کے طور پر ملا کرتا تھا اس کی تقسیم کے لیے اس معاملے میں ان کا تنازعہ تھا
(فتح الباری شرح بخاری6/207)
🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل5
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ سیدہ فاطمہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپ ابوبکر وارث ہوں گے یا اس کے اہل خانہ تو سیدنا ابوبکر نے فرمایا اس کے اہل خانہ۔۔۔۔ثابت ہو گیا کہ انبیاء کرام کے وارث مالی وارث اس کے اہل خانہ ہوتے ہیں
۔
✅جواب:
اس حدیث کو پورا پڑھیں ڈنڈی نہ ماریں مکاری نہ کریں،اگے سیدنا ابوبکر صدیق نے حدیث پاک سنائی کہ انبیاء کرام کا کوئی وارث نہیں ہوتا تو سیدہ فاطمہ نے فرمایا کہ اپ حدیث پاک پر عمل کریں۔۔۔لہذا سیدنا صدیق اکبر نے جو یہ فرمایا ہے کہ رسول کریم کے وارث اس کے اہل خانہ ہوں گے تو اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی کہ جس میں ہے کہ انبیاء کرام مالی وارث نہیں بناتے اگر وہ حدیث نہ ہوتی تو پھر عام اصول کے تحت رسول کریم کے بھی وارث اس کے اہل خانہ ہوتے۔۔۔👈اور دوسرا جواب یہ ہے کہ علماء نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث متن کے لحاظ سے شاذ ہے اور شاذ صحیح نہیں ہوا کرتی ضعیف ہوا کرتی ہے اور ضعیف سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا
۔
فإن قيل: فما معنى قول أبى بكر لفاطمة: بل ورثه أهله؟ قيل: معنى ذلك: بل ورثه أهله إن كان خلف شيئًا يورثه، ولم يترك شيئًا يورث عنه
امام ابن بطال فرماتے ہیں کہ اپ اگر کہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے یہ کیسے فرمایا کہ رسول کریم کے وارث اس کے اہل خانہ ہوں گے تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس کا مطلب ہے کہ اگر رسول کریم شرعی طور پر وارث بنا کر جاتے تو پھر وارث اہل خانہ ہوتے جبکہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ میرا کوئی انبیاء کرام کا کوئی مالی وارث نہیں ہوتا
(شرح بخاری ابن بطال5/269)
۔
شاذ المتن لأن ظاهره إثبات كون النبي ﷺ يورث وهو مخالف للأحاديث الصحيحة المتواترة انتهى وفيه محمد بن فضيل أورده الذهبي في ذيل الضعفاء.... وقال أبو حاتم كثير الخطأ والوليد بن جميع قال ابن حبان فحش تفرده فبطل الاحتجاج به
یہ جو روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا ہے کہ رسول کریم کے وارث اس کے اہل خانہ ہوں گے تو یہ روایت متواتر حدیث کے خلاف ہے لہذا شاز ہے ضعیف ہے متواتر حدیث وہ کہ جس میں رسول کریم نے فرمایا کہ انبیاء کرام کا کوئی مالی وارث نہیں ہوتا،اور اس روایت میں محمد بن فضیل ہے جس کو امام ذہبی نے ضعیف راویوں میں شمار کیا ہے،اس کے متعلق امام ابو حاتم نے فرمایا ہے کہ بہت زیادہ خطائیں کرتا تھا،اور اس روایت کی سند میں ولید بھی ہے جس کے بارے میں امام ابن حبان نے فرمایا ہے کہ اس کے تفردات فحش قسم کے ہیں تو اس سے دلیل اخذ کرنا باطل ہے
(فيض القدير – عبد الرؤوف المناوي2/205)
🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل6
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا ہے کہ اس زبان نے مجھے ان جگہوں پر لا کھڑا کیا۔۔۔مطلب شیعہ نے یہ مطلب نکالا کہ سیدنا صدیق اکبر نے زبان سے جھوٹ بولا کہ انبیاء کرام کی مالی وراثت نہیں ہوتی۔۔۔اور ایک حوالہ یہ دیا شیعہ نے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ شیطان مجھ پر حاوی ہو جاتا ہے
۔
✅جواب:
یہ بطور عاجزی ہے،نہ یہ کہ حقیقت میں انہوں نے نعوذ باللہ تعالی زبان سے جھوٹ بولا جیسے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ میں نے ظلم کیا۔۔۔جب کہ انبیاء کرام ظلم گناہ سے پاک ہیں معصوم ہیں تو مفسرین نے فرمایا کہ نبی کریم نے یہ عاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔۔۔اور وہ جو سیدنا ابوبکر صدیق نے فرمایا ہے کہ شیطان مجھ پر حملہ کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ
1۔۔۔وہاں صاف لکھا ہے کہ یعترینی۔۔۔اور اس لفظ کا معنی ہے
پیش آنا، لاحق ہونا
(منجد ص648)
تو شیطان تو انبیاء کرام کے سامنے بھی پیش اتا ہے اور بڑے بڑے اولیاء کرام کے بھی پیش اتا ہے تاکہ بہکا سکے لیکن وہ اس کے بہکاوے میں نہیں اتے۔۔۔لہذا اپ نے جو ترجمہ کیا ہے اپ شیعہ نے جو ترجمہ کیا ہے کہ شیطان مجھ پر غالب اور حاوی ا جاتا ہے یہ ترجمہ ٹھیک نہیں ہے
۔
2۔۔۔یہ بھی بطور عاجزی ہے
۔
القرآن:
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ فَاغۡفِرۡ لِیۡ فَغَفَرَ لَہٗ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ
نبی علیہ السلام نے عرض کی کہ اے میرے رب میں نے ظلم کیا ہے مجھے بخش دے بے شک اے اللہ اپ ہی بہت بخشنے والے رحم فرمانے والے ہیں
(سورہ قصص ایت16)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل7
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے جو فرمایا کہ انبیاء کرام کا کوئی مالی وارث نہیں ہوتا تو یہ فقط سیدنا ابوبکر صدیق کی خبر واحد ہے سیدنا ابوبکر صدیق کے علاوہ کسی سے مروی نہیں ہے لہذا معتبر نہیں،جیسا کہ سیدہ عائشہ نے بھی فرمایا کہ کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا سوائے یہ کہ سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا کہ انبیاء کرام کی کوئی مالی وراثت نہیں ہوتی
۔
✅جواب:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو کسی کو بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وفات پا سکتے ہیں تو اس وقت سیدنا صدیق اکبر نے ایت تلاوت فرمائی اور صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمیں ایسے لگا جیسے یہ ایت ہم نے کبھی پڑھی ہی نہیں تھی یہ تو سیدنا صدیق اکبر نے ہمیں سنائی ہے۔۔۔یعنی بعض اوقات غم اور دیگر حالات کی وجہ سے توجہ نہیں رہتی اور حدیث یا ایت یاد نہیں اتی لیکن کسی اور کو یاد ہوتی ہے تو بظاہر وہ صرف اسی سے منسوب لگتی ہے لیکن حقیقت میں جب بعد میں تفکر کیا جاتا ہے تو کئی سندیں نکل اتی ہیں اور یاد ا جاتا ہے کہ ہاں میں نے بھی سنا تھا۔۔۔اسی طرح سیدنا صدیق اکبر نے جو حدیث سنائی کہ انبیاء کرام کی مالی وراثت نہیں ہوتی یہ صرف سیدنا صدیق اکبر کی نہیں ہے بلکہ بظاہر پہلے پہل انہوں نے اس کو اجاگر کیا پھر جب دیگر صحابہ نے غور و فکر کیا تو انہیں بھی یاد ایا کہ بالکل رسول کریم نے ایسا فرمایا ہے تو ابتدائی طور پر اجاگر کرنے والے سیدنا صدیق اکبر ہیں جبکہ ہم نے اسی تحریر کے اوپر اسی روایت حدیث کی کم و بیش 10سندیں لکھی ہیں
ایت والا واقعہ کہ صحابہ کرام نے فرمایا کہ گویا کہ ہم نے وہ ایت پڑھی ہی نہیں تھی وہ تو سیدنا صدیق اکبر نے ہمیں یاد دلائی اس کی تفصیل دیکھیے
لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوهَا.
(بخاری تحت حدیث1241,1242)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل8
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ طبقات کبری میں روایت ہے کہ سیدنا علی نے قران مجید سے دلیل دی کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے۔۔۔لہذا انبیاء کرام وارث بنتے بھی ہیں اور وارث بناتے بھی ہیں
۔
جواب:
1۔۔۔مالی وراثت کی بات نہیں ہو رہی بلکہ ملک اور حکومت وغیرہ علم و حکمت وغیرہ کے وارث ہوئے
۔
2۔۔۔اس کی سند میں عمر الواقدی ہے جس کے بارے میں ہے کہ وہ احادیث کے معاملے میں کذاب من گھڑت جھوٹا راوی ہے
الْوَاقِدِيّ) كَذَّاب (قَالَه) أَحْمد، وَزَاد النَّسَائِيّ وضَّاع.
واقدی کے متعلق امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ وہ بہت بڑا جھوٹا ہے حدیث کے معاملے میں۔۔۔۔۔ اور امام نسائی نے فرمایا ہے کہ وہ تو اپنی طرف سے من گھڑت حدیثیں گھڑ لیتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتا تھا یا دیگر صحابہ کرام اہلبیت کرام کی طرف منسوب کر دیتا تھا
(البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبير – ابن الملقن4/542)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل9
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ اہل سنت کے ہاں اصول ہے کہ اہل خیر من گھڑت روایت کرتے ہیں
۔
✅جواب:
اپ نے اصول کو صحیح طرح پڑھا نہیں اور صحیح طرح واضح و اجاگر نہیں کیا۔۔۔اس اصول کا یہ مطلب نہیں کہ تمام اہل خیر من گھڑت روایت کرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ من گھڑت روایتیں کرنے والوں میں کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے کہ جو اہل خیر ہیں یعنی خیر کی نیت سے بھلائی کی نیت سے وہ حدیثیں گھڑ لیتے ہیں لیکن ہر ایک کے متعلق ہر اہل خیر کے متعلق ہم نہیں کہیں گے کہ اس نے حدیث گھڑ لی بلکہ محققین جرح و تعدیل کرنے والے جس کے متعلق فرما دیں کہ وہ حدیث گھڑتا ہے جھوٹا راوی ہے تو پھر اسی کے متعلق کہا جائے گا
یہی بات امام سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمائی ہے عربی عبارت ملاحظہ کریں
وَالْوَاضِعُونَ أَقْسَامٌ) بِحَسَبِ الْأَمْرِ الْحَامِلِ لَهُمْ عَلَى الْوَضْعِ، (أَعْظَمُهُمْ ضَرَرًا قَوْمٌ يُنْسَبُونَ إِلَى الزُّهْدِ وَضَعُوهُ حِسْبَةً) ، أَيِ احْتِسَابًا لِلْأَجْرِ عِنْدَ اللَّهِ (فِي زَعْمِهِمْ) الْفَاسِدِ، (فَقُبِلَتْ مَوْضُوعَاتُهُمْ ثِقَةً بِهِمْ) ، وَرُكُونًا إِلَيْهِمْ، لِمَا نُسِبُوا إِلَيْهِ مِنَ الزُّهْدِ، وَالصَّلَاحِ.وَلِهَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: مَا رَأَيْتُ الْكَذِبَ فِي أَحَدٍ أَكْثَرَ مِنْهُ فِيمَنْ يُنْسَبُ إِلَى الْخَيْرِ، أَيْ لِعَدَمِ عِلْمِهِمْ بِتَفْرِقَةِ مَا يَجُوزُ لَهُمْ، وَمَا يَمْتَنِعُ عَلَيْهِمْ، أَوْ لِأَنَّ عِنْدَهُمْ حُسْنَ ظَنٍّ وَسَلَامَةَ صَدْرٍ، فَيَحْمِلُونَ مَا سَمِعُوهُ عَلَى الصِّدْقِ، وَلَا يَهْتَدُونَ لِتَمْيِيزِ الْخَطَأِ مِنَ الصَّوَابِ، وَلَكِنِ الْوَاضِعُونَ مِنْهُمْ، وَإِنْ خَفِيَ حَالُهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَى جَهَابِذَةِ الْحَدِيثِ، وَنُقَّادِهِ.
(تدریب الراوی1/332)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل10
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ بخاری میں ہے کہ سیدہ فاطمہ سیدنا ابوبکر صدیق سے ناراض رہیں، جو کہ واضح دلیل ہے کہ سیدہ فاطمہ کے مطابق وہ وارث مالی تھیں
۔
✅جواب:
اول بات تو یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا ناراض نہ ہوئیں تھیں، بعض کتب میں جو مہاجرت و ترک کلام لکھا ہے اسکا معنی علماء نے یہ لکھا ہے کہ فدک وغیرہ کے متعلق کلام ترک کردیا مطالبہ ترک کر دیا...(دیکھیے ارشاد الساری شرح بخاری5/192 ،عمدۃ القاری15/20وغیرہ کتب)
بالفرض
اگر سیدہ فاطمہ ناراض بھی ہوئی تھیں تو سیدنا ابوبکر نے انہیں منا لیا تھا راضی کر لیا تھا اور سیدہ فاطمہ راضی ہوگئ تھیں
ترضاھا حتی رضیت
سیدناصدیق اکبر بی بی فاطمہ کو مناتے رہے حتی کہ سیدہ فاطمہ راضی ہوگئیں(سنن کبری بیہقی12735 عمدۃ القاری15/20,السیرۃ النبویہ ابن کثیر4/575)
سیدنا علی راضی سیدہ فاطمہ راضی ، ہدایت ملے ورنہ جل بھن جائے رافضی نیم رافضی......!!
.
ابوبکر…فرضیت عنہ
فاطمہ ابوبکر(کی وضاحت،اظہارمحبت کےبعد)راضی ہوگئیں(شیعہ کتاب شرح نہج بلاغۃ2/57)
.
سیدنا علی نے سیدہ فاطمہ کو ناراض کیا،کیا کہو گے...؟؟*
جَاءَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيّاً فِي اَلْبَيْتِ فَقَالَ اِبْنُ عَمِّكَ فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَ بَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ کے گھر تشریف لائے تو سیدنا علی کو گھر میں نہ پایا تو فرمایا کہاں ہیں؟ تو سیدہ فاطمہ نے فرمایا کہ ہم دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور ہم دونوں ایک دوسرے پر ناراض ہو گئے اس لیے وہ گھر سے چلے گئے ہیں(پھر سیدعالم نےانکی صلح کرائی)
(شیعہ کتاب کشف الغمۃ1/66)
(شیعہ کتاب بحار الأنوار35/65نحوہ)
یہی کہنا پڑے گا کہ سیدنا علی نے جان بوجھ کر یا ناحق ناراض نہ کیا تھا....اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق نے بھی جان بوجھ کر ناحق ناراض نہ کیا سیدہ فاطمہ کو.......رضی اللہ عنھم اجمعین
.
بخاری حدیث نمبر 4240 اور مسلم حدیث نمبر1759 کے تحت امام زہری کا قول ہے ناکہ حدیث کہ سیدہ فاطمہ کی وفات کی خبر ابوبکر کو نہ دی گئ اور راتوں رات دفن کیا گیا حضرت علی نے جنازہ پڑھایا
یہ امام زہری کا تفرد اضافہ و ادراج ہے امام زہری کے علاوہ گیارہ راویوں نے یہی حدیث بیان کی مگر زہری والا اضافہ نہ کیا لیھذا زہری کا اضافہ بلاسند و بلادلیل ہے جوکہ مدرج و مرجوح ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے جنازہ پڑھایا...علماء کا اتفاق ہے کہ بخاری مسلم میں موجود اقوال ، تفردات تعلیقات ادجات صحیح ہوں یہ لازم نہیں..(دیکھیے نعمۃ الباری شرح بخاری7/615وغیرہ)
.
أن هذا الكلام كله للزهري
(سیدہ فاطمہ ناراض رہیں،انکی وفات کی خبر سیدنا ابوبکر صدیق کو نہ دی گئ اور چھپکے سے راتوں رات دفنایا گیا)یہ سب گفتگو زہری کی ہے،ادراج ہے
(الکوکب الوہاج 19/117)
.
وإذا تبيّن الإدراج فإنه لا يكون حجة
جب یہ ثابت ہو کہ ادارج ہے تو ادراج والی گفتگو بذات خود کوئی دلیل و ثابت شدہ بات نہیں کہلائے گی(ہاں دیگر دلائل سے وہ ادراج والی بات ثابت ہو تو یہ الگ معاملہ ہے)
(الکواکب الدریہ ص117)
.
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل11
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ قران مجید میں ہے کہ رسول کریم اہل خانہ کو ڈرائیں اور قران کے تمام احکامات بتائیں تو میراث نہ ہونے کا حدیث پاک ہوتا تو رسول کریم سید فاطمہ کو ضرور بتاتے جیسا کہ امام رازی نے بھی لکھا ہے
۔
جواب:
1...امام رازی کا اپ نے جھوٹا حوالہ دے کر مکاری دھوکہ دہی کی ہے کیونکہ امام رازی نے یہ نہیں فرمایا کہ میں یہ کہتا ہوں بلکہ فرمایا کہ شیعہ یہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ کو علم ہونا چاہیے تھا تو اس کے جواب میں امام رازی فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ کو علم سیدنا ابوبکر صدیق کے ذریعے سے مل گیا تو لہذا کوئی اعتراض نہیں
وَالْجَوَابُ: أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ رَضِيَتْ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ هَذِهِ الْمُنَاظَرَةِ، وَانْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَسَقَطَ هَذَا السُّؤَالُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
(تفسیر رازی9/514)
۔
2۔۔۔سیدنا ابوبکر صدیق سمیت تقریبا 10 راویوں سے یہ روایت مروی ہے جیسے کہ ہم نے اوپر لکھا ہے تو لہذا کسی مخصوص اہل یت کو بتانا لازمی نہیں ہے،بلکہ خاص طور پر سیدنا ابوبکر صدیق کو بتانا بہتر تھا کیونکہ رسول کریم نے اشارتا فرمایا کہ میرے بعد شریعت کے احکام کو اجاگر کرنے والا ابوبکر صدیق خلیفہ بلا فصل ہے
الحدیث:
اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ "
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا
(ترمذی حدیث3662)
۔
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل12
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ
تفسیر ابن ابی حاتم کے متعلق خود مصنف نے فرمایا ہے کہ میں صحیح روایتیں جمع کروں گا اور اس کے حوالے سے ہے کہ اور دیگر کتب مثلا در منثور مسند ابی یعلی، مسند بزاز کے حوالے سے بھی ہے کہ جب ایت نازل ہوئی کہ ذوی القربی کو ان کا حق دو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ فدک سیدہ فاطمہ کو دے دیا
اور
فتح القدیر اور تفسیر روح المعانی میں بھی اس کو مستند قرار دیا گیا ہے
۔
✅جواب:
1۔۔۔۔مصنف یا دیگر لوگ جو کہتے ہیں کہ کتاب میں صحیح روایت لاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہر ہر روایت صحیح ہو ضروری ہے بلکہ اکثر کا حساب کیا جاتا ہے،جبکہ ہر ہر سند کے لحاظ سے سند کو ہی دیکھا جاتا ہے
۔
2...وَهَذَا الْحَدِيثُ مُشْكَلٌ لَوْ صَحَّ إِسْنَادُهُ؛ لَأَنَّ الآية مكية، وفدك إِنَّمَا فُتِحَتْ مَعَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ
اگر اس روایت کی سند کو بالفرض صحیح مان لیا جائے تو اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ آیت مکی ہے اور فدک تو (آیت کے نازل ہونے کے کئی سال بعد ) مدینہ میں 7 ہجری میں فتح خیبر کے ساتھ فتح ہوا تھا(یعنی آیت نازل ہوتے وقت باغ فدک رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ملکیت میں ہی نہیں تھا تو انھوں نے بی بی فاطمہ کو کیسے دیا۔۔۔۔؟؟
👈لیھذا سند اگرچہ درست ہو مگر متن مخالف حقیقت ہے شاذ ہے ناقابل قبول ہے)
(تفسیر ابن کثیر5/69)
۔
3۔۔۔اس روایت کا راوی عطیہ العوفی ہے جوکہ ضعیف ہے اور ضعیف سے ھبہ کا حکم روایت ثابت نہیں ہوتی
عَطِيَّة بن سعد أَبُو الْحسن الْكُوفِي ضعفه الثَّوْريّ وهشيم وَيحيى وَأحمد والرازي وَالنَّسَائی
عطیہ بن سعد الکوفی کو امام ثوری نے امام هشيم نے امام یحییٰ نے امام احمد نے امام رازی نے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے
[الضعفاء والمتروكون,2/180]
۔
عطبة بن سعد العوفى [الكوفي]
تابعي شهير ضعيف..كان عطية يتشيع
عطبة بن سعد العوفى الكوفي مشہور تابعی ہے ضعیف ہے اور اس میں شیعیت تھی
[ميزان الاعتدال ,3/79]
۔
4۔۔۔جھوٹ مکاری دھوکہ دہی سے کام لیا ہے شیعہ نے کیونکہ فتح القدیر اور روح المعانی میں اس کو مستند روایت قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ یہ روایت شاذ و غیر مقبول ہے کیونکہ ایت نازل ہوتے وقت فدک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں ہی نہیں تھا کیونکہ فدک فتح ہی نہیں ہوا تھا۔
۔
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل13
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ اہل سنت کتاب شواہد التنزیل سے چار پانچ دلائل دیے کہ فدک سیدہ فاطمہ کا حق ہے رسول کریم نے ان کو دیا تھا اور دیگر قسم کے دلائل اس کتاب سے دیے
۔
✅جواب:
شواہد التنزیل...یہ کوئی معتبر اہلسنت کتاب نہیں بلکہ شیعوں نے اسے اپنے علماء میں شمار کیا ہے، اسکی کتب کو اپنی کتب کہا ہے...اسکی کتب میں شیعہ کذاب راویوں کی بھر مار ہے..اس لیے علماء نے فرمایا
علامہ ابن قطلوبغا الحنفی فرماتے ہیں
وقد تكلم على رجاله كلام شيعي عارف بفن الحديث
شواہد التنزیل کے مصنف کی روایات کے راویوں پر محدثین نے شیعہ ہونے کا کلام کیا ہے
( تاج التراجم لابن قطلوبغا ص202)
.
🔶🔶🔶🔶🔶🔶
🔵دلیل14
شیعہ حسن اللہیاری نے دلیل دی کہ سیدنا قتادہ نے تفسیر کی ہے کہ نبی کریم نے دعا کی کہ ان کو بیٹا پیدا ہو جو ان کا مالی وارث ہو
۔
✅جواب:
1۔۔۔سند ہی نہیں،.....و اذا کان الحدیث لا اسناد له، فلا قيمة له و لا يلتفت اليه
جس کی کوئی اسناد نہ ہو اس حدیث کی کوئی قیمت نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں
(مقدمة المصنوع في معرفة الحديث الموضوع ص 18)
.
۔
2۔۔۔سیدنا قتادہ سے یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام مالی وارث نہیں بنے بلکہ علم کے وارث بنے
عَنْ قَتَادَة.... قَالَ: ورث الله لسليمان داود فورثه نبوته وملكه،
(تفسیر ابن ابی حاتم 8/2458)
(تفسیر طبری18/482)
۔
3۔۔۔تمام مستند مفسرین کا فرمان ہے کہ انبیاء کرام کی مالی وراثت نہیں ہوتی لھذا اسکے برخلاف جو بغیر سند صالح کے ہو وہ غیرمعتبر ہے
وَأَنَّ سُلَيْمَانَ لَمْ يَرِثْ مِنْ دَاوُدَ مَالًا خَلَّفَهُ دَاوُدُ بَعْدَهُ، وَإِنَّمَا وَرِثَ مِنْهُ الْحِكْمَةَ وَالْعِلْمَ، وَكَذَلِكَ وَرِثَ يَحْيَى مِنْ آلِ يَعْقُوبَ، هَكَذَا قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ
قران کریم کو سمجھنے والے تمام مفسرین اہل علم فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے مالی وارث نہ بنے تھے بلکہ علم و حکمت کے وارث بنے تھے اور اسی طرح یحیی علیہ السلام اور ( دیگر انبیاء کرام)
(تفسیر قرطبی11/78)
.
وَالْأَوْلَى أَنْ يُحْمَلَ عَلَى مِيرَاثِ غَيْرِ الْمَالِ لِأَنَّهُ يَبْعُدُ أَنْ يُشْفِقَ زَكَرِيَّا وَهُوَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أَنْ يَرِثَهُ بَنُو عَمِّهِ مَالَهُ.وَالْمَعْنَى: أَنَّهُ خَافَ تَضْيِيعَ بَنِي عَمِّهِ دِينَ اللَّهِ وَتَغْيِيرَ أَحْكَامِهِ عَلَى مَا كَانَ شَاهَدَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ تَبْدِيلِ الدِّينِ وَقَتْلِ الْأَنْبِيَاءِ، فَسَأَلَ رَبَّهُ وَلِيًّا صَالِحًا يَأْمَنُهُ عَلَى أُمَّتِهِ وَيَرِثُ نُبُوَّتَهُ وَعِلْمَهُ لِئَلَّا يَضِيعَ الدِّينُ. وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
درست یہ ہے کہ ایت میں سیدنا زکریا علیہ السلام نے مالی وراثت کی بات نہیں کی کیونکہ سیدنا زکریا علیہ السلام ایک نبی ہو کر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میرا مال کوئی ہڑپ نہ کر جائے۔۔۔ ہاں انبیاء کرام کی یہ شان ہے کہ انہیں یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ بنو اسرائیل جو شریر لوگ تھے تو ان سے خوف تھا کہ کہیں وہ دینی معلومات عقائد و نظریات تعلیمات کو بگاڑ کر رکھ نہ دیں ،اس لیے سیدنا زکریا علیہ السلام نے اپنی نبوت اور علم و تعلیمات کے لیے وارث بیٹے کی دعا فرمائی تاکہ دین ضائع نہ ہو اور یہی معنی سیدنا عطا رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اور یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بھی ہے
(تفسير بغوي5/219)
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475