Labels

چاند کی دعا و احتیاط،چھوٹا بڑا چاند کلینڈر مسلہ پشاور

🛑 *#شریعت مطہرہ کا حکم ہے ہر ملک چاند دیکھ کر روزے رکھے عید کرے لیکن سعودی عرب امریکہ ایران یا نجومی کلینڈر وغیرہ کی پیروی کا حکم نہیں۔۔چاند دیکھنے کی دعا۔و۔احتیاط، کلینڈر پشاور سعودی...؟؟جواب و دلائل اس مختصر مدلل تحریر میں پڑھیے پھیلائیے*

۔

🤲نئے قمری سال یا نئے قمری مہینے کے شروع ھونے پے نبی پاک صلی اللہ علیہ و علی الہ واصحابہ اجمین کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین اس دعا کی تعلیم فرماتے تھے:

اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ،وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ،وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ(طبرانی6241)

اور بھی دعائیں،معتبر وظائف ہیں وہ بھی پڑھ سکتے ہیں

.

🚨خیال رہے کہ چاند کی طرف ہاتھ کرکے یا چاند کی طرف رخ کرکے دعا نہیں مانگنی چاہیے...اسی طرح چاند کی طرف تنکا پھینکنا یا چاند سے کچھ مانگنا بھی بہت بری جہالت ہے....نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم چاند دیکھ کر اس سے رخ ہٹا لیتے،پھر دعا فرماتے( دیکھیے ابوداود 2/339، فتاوی رضویہ10/458,459)

.

📌فتاوی عالمگیری میں ہے کہ:

وتكره الإشارة إلى الهلال عند رؤيته تعظيما له أما إذا أشار إليه ليريه صاحبه فلا بأس به

ترجمہ:

چاند دیکھتے وقت اسکی طرف اشارہ کرنا اس وقت مکروہ ہے کہ جب چاند کی تعظیم مقصد ہو، اور اگر دوسروں کو چاند دکھانے کے لیے اشارہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں

(فتاوی عالمگیری جلد5 ص380)

.

🟩 *#چھوٹا یا بڑا چاند...........؟؟*

ایک سوچ:

چاند نظر آنے کے کافی امکان ہوتے ہیں مگر نظر نہیں آتا پھر اگلے دن پہلی تاریخ کے واضح یا بڑے چند کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہ تو دو دن کا ہے...؟؟

جواب:

 یہ خیال ٹھیک نہیں...پہلی تاریخ کا چاند کبھی بہت باریک اور کم وقت تک نظر آنے والا ہوتا ہے اور کبھ کچھ بڑا ہوتا ہے،دیر تک نظر آتا ہے..

الحدیث:

سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ

إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن الله مده للرؤية، فهو لليلة رأيتموه

ترجمہ:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس(پہلی تاریخ کے)چاند کو اللہ نے بڑا(یا زیادہ دیر تک نظر آنے والا) کیا ہے دیکھنے کے لیے،

یہ اسی رات کا ہے جس رات دیکھو

(مسلم حدیث نمبر1018 باب چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں)اب تو سائنسی لحاظ سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ پہلی تاریخ کا چاند تھوڑا بڑا اور واضح ہوسکتا ہے..

.

.

✅ *#چاند یا سعودی عرب،مسلہ پشاور کا حل....؟؟*

1....الحدیث..

صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته

ترجمہ:

چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ختم کرو(یعنی چاند دیکھ کر ہی عید کرو)

(بخاری حدیث1909)

.

2....الحدیث..ترجمہ:

جب(رمضان کا)چاند دیکھ لو یا شعبان کی 30دن کی گنتی پوری ہو تو روزے رکھو..(ابوداود حدیث2326)

.

3....حدثنا يحيى بن يحيى ، ويحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قال يحيى بن يحيى: اخبرنا، وقال الآخرون: حدثنا إسماعيل وهو ابن جعفر ، عن محمد وهو ابن ابي حرملة ، عن كريب ، ان ام الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية  بالشام، قال: فقدمت الشام فقضيت حاجتها، واستهل علي رمضان وانا بالشام، فرايت الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسالني عبد الله بن عباس رضي الله عنهما، ثم ذكر الهلال، فقال: " متى رايتم الهلال؟ "، فقلت: " رايناه ليلة الجمعة "، فقال: " انت رايته؟ "، فقلت: " نعم ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية "، فقال: " لكنا رايناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين او نراه "، فقلت: " او لا تكتفي برؤية معاوية وصيامه "، فقال: " لا هكذا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم "، وشك يحيى بن يحيى في نكتفي او  تكتفي.

ترجمہ:

 کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں ملک شام گیا اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا ملک شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو ہی عید کریں گے...میں نے کہا: کیا آپ کافی نہیں جانتے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے چاند دیکھا روزہ رکھا....؟؟  آپ نے فرمایا نہیں(شام دور ہے اسکا مطلع الگ ہے اسکا چاند ہم پر لاگو نہ ہوگا)... ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «‏‏‏‏نَكْتَفِى» ‏‏‏‏ کہا یا «‏‏‏‏تَكْتَفِى» ۔

(مسلم حدیث2528)

.

وَالْأَشْبَهُ أَنْ يُعْتَبَرَ لِأَنَّ كُلَّ قَوْمٍ مُخَاطَبُونَ بِمَا عِنْدَهُمْ...وَالدَّلِيلُ عَلَى اعْتِبَارِ الْمَطَالِعِ مَا رُوِيَ عَنْ كُرَيْبٌ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بَعَثَتْهُ إلَى مُعَاوِيَةَ

ترجمہ:

زیادہ(حق و درستگی کے) مشابہ یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر ہے کیونکہ ہر قوم کو خطاب کیا گیا ہے جو ان کے پاس ہو، اس کی دلیل وہ ہے کہ جو کریب سے مروی ہے( اس حدیث پاک کو ہم ابھی ابھی اوپر بیان کر رہے آئے ہیں)

[تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ,1/321]


وَقِيلَ: يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْمَطَالِعِ)وَفِي التَّبْيِينِ، وَالْأَشْبَهُ أَنْ يُعْتَبَرَ هَذَا الْقَوْلُ؛ لِأَنَّ كُلَّ قَوْمٍ يُخَاطَبُونَ بِمَا عِنْدَهُمْ

ترجمہ:

ایک فتوی یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر ہے،تبیین میں ہے کہ یہی قول زیادہ مشابہ ہے حق و درستگی کے۔۔۔کیونکہ ہر قوم کو مخاطب کیا گیا ہے جو ان کے پاس ہو 

[مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ,1/239]

.

فَأَمَّا إذَا كَانَتْ بَعِيدَةً فَلَا يَلْزَمُ أَحَدَ الْبَلَدَيْنِ حُكْمُ الْآخَرِ لِأَنَّ مَطَالِعَ الْبِلَادِ عِنْدَ الْمَسَافَةِ الْفَاحِشَةِ تَخْتَلِفُ فَيُعْتَبَرُ فِي أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ مَطَالِعُ بَلَدِهِمْ دُونَ الْبَلَدِ الْآخَرِ.

ترجمہ:

جب دو علاقوں ممالک میں مسافت بہت زیادہ ہو فاصلہ بہت زیادہ ہو تو ایک کی رؤیت دوسرے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ مختلف مطلع والے  علاقے ممالک اپنے علاقے ممالک میں چاند دیکھیں گے(اور اسی کے مطابق عمل کریں گے) 

[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,2/83]

.

وقيل: يعتبر فلا يلزمهم قال الشارح: وهو الأشبه

ترجمہ:

ایک فتویٰ یہ ہے کہ ایک علاقے(شہر، ملک)میں چاند ثابت ہو جائے تو دوسرے علاقے والوں پر لازم نہیں ہو جاتا شارح نے فرمایا ہے کہ یہی قول زیادہ مشابہ ہے حق کے 

[النهر الفائق شرح كنز الدقائق ,2/14]

.

ولا يلزم أحد المصرين برؤية الآخر) أي لا يلزم الصوم ولا الإفطار أحد المصرين برؤية أهل المصر الآخر، لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم، إلا إذا اتحدت المطالع

ترجمہ:

ایک علاقے کی رویت سے دوسرے علاقے کی رویت ثابت نہیں ہوگی یعنی ایک علاقے(شہر، ملک) کی رویت سے دوسرےعلاقے کے لئے عید اور روزہ لازم نہیں ہوگا کیونکہ ہر قوم مخاطب ہے جو اس کے پاس ہے ہاں اگر مطلع ایک ہی ہو تو مختلف شہروں کے لئے ایک ہی چاند کافی ہے 

[منحة السلوك في شرح تحفة الملوك ,page 258]

.

1️⃣روزہ اور عید کا تعلق چاند دیکھنے سے ہے... سعودی ایران لندن وغیرہ ملکوں کی پیروی کا حکم نہیں.۔۔۔ لہذا پاکستان بنگلہ دیش انڈیا سعودی عرب مصر شام وغیرہ کے چاند نظر انے میں دو تین دن کا فرق ہو سکتا ہے، ہر ملک اختلاف مطالع کے مطابق چاند دیکھ کر عید کرے روزے رکھے

.

2️⃣خبروں میں آتا ہے کہ دنیا کے فلاں فلاں ممالک میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا اس لیے ان ممالک میں روزہ ہوگا یا شوال کا چاند نظر آیا ہے کل کو عید ہوگی اور فلاں میں چاند نظر نا آیا اس لیے وہاں روزہ یا عید نہیں...لیکن امریکہ برطانیہ کے متعلق یہ پڑھ کر حیرانگی ہو رہی ہے کہ ان میں روزہ و عید فقط اس لیے ہوگی کیونکہ سعودی عرب میں روزہ و عید ہے...حیرت کی بات ہے.......!!

پشاوریوں کے عمل کردار سے واضح ہوتا ہے کہ چاند نظر آنے کی شہادتیں تو محض بہانہ ہیں.. ہاں اگر واقعی پشاور اور گرد و نواح مین چاند نظر آتا تو الگ بات تھی

.

3️⃣پشاوری چاند تنازعے کا بہترین حل حکومت اور میڈیا ہے... ان علاقوں کے مساجد کو لائیو کوریج دی جائے... جہاں چاند کی اطلاع ملے وہاں کی عوام کو لائیو کوریج دی جائے..مدارس  مساجد کے امام اور حکومتی ادارے اور فوج اور پولیس اور دیگر سرکاری ذمہ داروں سے رابطہ رہے... اس طرح دو تین سال مسلسل کیا جائے تو سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے........!!

.

👈👈جس علاقے شہر سے چاند دکھنے کی گواہی ملے تو وہاں کے کثیر تعداد نے دیکھا ہو تب گواہی معتبر(فتاوی عالمگیری1/198)پوپلزئی کو پشاور سے بھی چاند دکھنے کی گواہی ملتی ہے مگر عجیب چاند ہے کہ پشاور میں اکثر کو نظر نہیں آتا حتی کہ پوپلزئی اور اس کے مقتدیوں کو بھی نظر نہیں آتا….پوپلزئی جھوٹ و فتنہ نہیں تو اور کیا ہے…؟؟

.

🛑 *#سائنسی قمری کلینڈر کی شرعی حیثیت......؟؟*

سائنس و ٹیکنالوجی کا قمری کلینڈر سہولت کے طور پر تو جائز ہے مگر روزہ عید چاند کی تاریخ کے تعین میں معتبر نہیں....چاند آنکھوں سے دیکھ کر ہی روزے رکھے جائیں گےاور چاند دیکھ کر ہی عید کی جائے گی یا تیس دن کی گنتی پوری کی جائے گی......سعودی ایران ترکی انڈونیشیا برطانیہ امریکہ وغیرہ کی ملک کی پیروی کا حکم نہیں بلکہ ہر ملک و خطہ خود اپنے ملک خطے میں چاند دیکھ کر روزے اور عید کرے گا....سعودی عرب کےساتھ یا شفاف تحقیق و تفتیش مشاورت لحاظ شرعت و احتیاط کے بغیر روزہ و عید کا اعلان کرنے والا پوپلزئی اور سائنس و ٹیکنالوجی کےتحت چاند کا اعلان کرنے والا فواد چوہدری دونوں غیر معتبر اور باعثِ انتشار و فتنہ ہیں...انکو سمجھانا، ان کے شبہات کا جواب دینا لازم پھر بھی ضد پے رہیں تو لگام لگانا لازم...............!!

.

تلخیصِ حدیث:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ترجمہ:

ہم روزہ،عید،چاند کےمتعلق نجومیوں والا حساب کتاب نہیں رکھتے(ہم تو چاند دیکھ کر ہی روزہ و عید کریں گے)

(بخاری حدیث1913ملخصا)

.

وَأَشَارَ الْمُصَنِّفُ إلَى أَنَّهُ لَا عِبْرَةَ بِقَوْلِ الْمُنَجِّمِينَ قَالَ فِي غَايَةِ الْبَيَانِ: وَمَنْ قَالَ: يَرْجِعُ فِيهِ إلَى قَوْلِهِمْ فَقَدْ خَالَفَ الشَّرْعَ

یعنی

روزہ،عید،چاند کےمعاملےمیں نجومیوں(چاند و ستارے سیارے فلکیات وغیرہ کا حساب کتاب رکھنے والوں)کا قول معتبر نہیں، جس نے انکا قول معتبر سمجھا بےشک اس نے شریعت کی خلاف ورزی کی..(البحر الرائق2/284ملخصا)

.

لأَِنَّ الْمَعْرُوفَ عَنْهُ مَا عَلَيْهِ الْجُمْهُورُ

جمھور و اکثر(فقھاء علماء محدثین محققین)کے مطابق چاند دیکھنے کے معاملے میں علم حساب و نجوم و فلکیات کا کوئی اعتبار نہیں

(موسوعہ فقہیۃ کوئیتیۃ22/32)

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.