Labels

ملک کی معیشت کرنسی مہنگائی بحران تباہی غلامی کی اصل وجہ اور اسکا ممکنہ حل کے10 اہم نکات۔۔۔؟؟پڑھیے ناچیز کی ادنی سی ابتدائی کاوش

 🟩 *#ملک کی معیشت کرنسی مہنگائی بحران تباہی غلامی کی اصل وجہ اور اسکا ممکنہ حل کے10 اہم نکات۔۔۔؟؟پڑھیے ناچیز کی ادنی سی ابتدائی کاوش۔۔۔۔!!*

📣 *#توجہ*

نیچے دی گئ لنکس پے آپ میری کافی ساری تحقیقی اصلاحی دفاعی سیاسی مدلل تحریرات پڑھ سکتے ہیں۔لنکس یہ ہیں👇

https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1

https://www.facebook.com/share/17EiysLaaj/

👈ہوسکے تو میرے واٹسپ چینل کو بھی ضرور فالوو کریں۔۔لنک یہ ہے

https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jkhv3bbV8xUTNZI1E

🟥 *#تمھید*

1....جب عمران خان نے شاید امریکہ سے تھوڑی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے روس سے معاہدہ کرنا چاہا تو عین اسی وقت کرنسی گر ہو گئی، معیشت تباہ ہونے لگی، ڈالر مہنگا ہو گیا ، ہر چیز مہنگی ہو گئی اور افراتفری اور بحرانوں کا طوفان کھڑا ہو گیا، اور اخر کار امریکہ جیت گیا ہمیں پھر سے امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی غلامی کرنی پڑ رہی ہے حتی کہ لگتا ہے خود عمران خان بھی اب غلامی کرنے کو تیار بلکہ بےتاب ہے لیکن امریکہ کو اس پر اب اعتماد نہیں رہا

۔

2....یہی حال کچھ ایران میں لگ رہا ہے کہ معیشت مہنگائی کے بحران طوفان کھڑے ہو گئے ہیں اور اس کی پس پشت نعرے لگ رہے ہیں کہ ہمیں مذہبی ازادی چاہیے سیکولرزم مغربیت جمہوریت چاہیے

.

🕵️یہ سب اچانک کیسے ہو جاتا ہے، جو مجھے سمجھ ا رہا ہے وہ میں اپ کے سامنے رکھ رہا ہوں

۔

🟩 *#تبصرہ حصیر*

میں کوئی ماہر معیشت نہیں ہوں لیکن الحمد للہ تعالی رب تعالی نے توفیق عطا فرمائی کہ میں شروع شعور کے دن سے خبریں سیاست معیشت تحقیق ہر چیز میں تحقیق کرنا اور اس کی جڑیں پکڑنا سمجھنا میری فطرت میں رہا ہے اور اسلاف لکھ گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کام میں کافی حد تک ماہر ہو تو دوسرے کاموں میں بھی اس مہارت کا فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ یہ تحریر بھی اصل جڑ پکڑنے اور اس کا حل پیش کرنے کی ادنی سی کاوش ہے جو ناقص بھی ہو سکتی ہے کیونکہ میں اس میدان کا ماہر تو نہیں کہ کنفرم کہہ سکوں کہ یہی اصل جڑ ہے اور یہی اصل حل ہے لیکن شاید یہ تحریر کافی کچھ فائدہ دے

۔

🟩میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے

1️⃣دشمن ممالک شروع سے ہی اپ کو خود مختار بننا نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ وہ اپ کو اپنی چیزیں سستی بیچنا شروع کر دیتے ہیں جس میں اپ کو لگتا ہے کہ میں خود بناؤں گا تو مہنگی بنے گی کیوں نہ سستی لے کر ملک میں سستائی کروں

اور پھر 👈👈اپ تقریبا ہر چیز میں باہر کے محتاج ہو جاتے ہیں

1۔۔۔۔۔۔ادویات ویکسین کا دارومدار باہر سے

2۔۔۔۔۔جدت و ٹیکنالوجی باہر سے

3۔۔۔۔۔موبائل گیجٹس وغیرہ باہر سے

4۔۔۔۔۔جنگی ساز و سامان جہاز میزائل وغیرہ باہر سے

5۔۔۔۔۔پرزے پارٹ منگوانا بھی باہر سے

6۔۔۔۔۔تیل گھی اٹا چینی خوراک بیج وغیرہ بھی باہر سے اور باہر سے ملی معلومات سے انکی اپڈیٹگ ایڈیٹنگ خلط ملط

7۔۔۔۔۔ جدید تعلیم انفارمیشن بھی باہر سے

8۔۔۔۔۔ ضروریات زندگی کی کافی ساری اہم چیزیں باہر سے

9۔۔۔۔۔ روڈ سڑکیں بسیں ٹرینیں جہاز بھی باہر سے

👈10..... حتی کہ ہمارے راز و طاقت باہر والوں کے ہاتھ میں،جی ہاں۔۔۔ موبائل فون کے سافٹ ویئر اینڈروڈ اپریٹنگ سسٹم سب باہر کے، کمپیوٹر میں چلنے والے سارے سسٹم سافٹ ویئر باہر کے۔۔۔ جنگی ساز و سامان میں اپریٹنگ سسٹم سیٹلائٹ وغیرہ بھی باہر کے۔۔۔🚨سیاست حکومت تجارت ہر شعبے میں حتی کہ اسلامیات میں بھی باہر کے بندے ایجنٹ بن کر شامل، ہمارا کوئی راز راز ہی نہیں ہماری کوئی طاقت خود مختار ہی نہیں،

۔

👈یہ سب باہر سے منگواتے ہیں اور شروع شروع میں ہماری اپنی کرنسی وہ لوگ قبول کرتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم کافی بچت کر رہے ہیں اور ملک میں سستائی کر رہے ہیں

۔

2️⃣۔۔۔۔ پھر دوسرا وار یہ ہوتا ہے کہ جب ہم باہر کی چیزیں خریدنے کے لیے 👈سودی قرض اٹھاتے ہیں تو ہمیں سودی قرض اپنی ملکی کرنسی کے بجائے دوسرے ممالک کی کرنسی میں دینا ہوتا ہے یا اپنی معدنیات یا اپنی معیشت کو مفت میں دے کر سودی قرض چکانا ہوتا ہے

۔

🚨🟥نتیجہ:

اب حال یہ ہوتا ہے کہ ہم ظاہری سوچ کے اندر بڑے خود مختار اور سستائی کرنے والے ترقی کرنے والے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ہم سب کچھ معاملات میں یعنی۔۔۔۔تمام اہم معاملات میں باہر کے محتاج ہوتے ہیں اور👈جیسے ہی باہر کی طاقتوں کو لگتا ہے کہ اس ملک میں فلاں طاقت ہمارے خلاف بن چکی ہے یا بننے جا رہی ہے تو وہ سیدھا وار کرتے ہیں اس طرح کہ

1۔۔۔ ضروریات سہولیات کی ساری چیزیں اپ کو ہم دیں گے لیکن کرنسی اپ کی نہی لیں گے بلکہ ہمیں فلاں کرنسی چاہیے ڈالر چاہیے یا روسی کرنسی چاہیے یا چینی کرنسی چاہیے یا پھر ہمیں اپنی معدنیات گیس تیل وغیرہ دو یا پھر ہمارے نظریات اپنے ملک میں لاگو کرو اور ہمارے حکمرانوں کے پاس سب سے سستا اپشن ایجنٹ حکومت کے پاس یہی ہوتا ہے کہ باہر کے نظریات لاگو کر دو

۔

2۔۔۔ ہم سودی قرض میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں اور قرض لینے والے ہماری کرنسی نہیں لیتے بلکہ ہم سے قرض کی وصولی ڈالر میں یا روسی کرنسی میں یا چینی کرنسی میں یا معدنیات یا گیس تیل وغیرہ سے لیتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ سودی قرض ہم تم سے مہلت میں لیں گے اگر تم ہمارے نظریات لاگو کرو اہستہ اہستہ۔۔۔ تو ہمارے حکمران اپنا قرض چکانے کے لیے مزید سودی قرض لے کر وہ غلام بننا پڑتا ہے یا نظریات بیرونی نظریات سیاست وغیرہ کے لاگو کرتے جاتے ہیں،👈الغرض کسی نہ کسی طرح ہمیں مجبور ہو کر یا پھر ایجنٹ حکمرانوں کی غفلت و ایجنٹی کی وجہ سے غلامی کرنی پڑتی ہے بیرونی نظریات اہستہ اہستہ نافذ کرنے پڑتے ہیں

۔

3۔۔۔ اب باہر کی چیزیں خریدنے کے لیے ہماری کرنسی تو وہ لوگ قبول نہیں کرتے تو ہمیں سودی قرض چاہیے دوسری کرنسی کا۔۔۔تو اب لازمی طور پر باہر سے سودی قرض لیا جاتا ہے ڈالر چینی کرنسی یا روسی کرنسی وغیرہ قرض لیا جاتا ہے تاکہ ملک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے تنخواہوں کو پورا کیا جا سکے تجارت معیشت دفاع وغیرہ کو پورا کیا جا سکے اور سودی قرض لوٹانا ہماری کرنسی میں وہ قبول نہیں کرتے تو لہذا ہمارے پاس کوئی خاص بہت بڑی مقدار میں تیل معدنیات وغیرہ نہیں ہوتے کہ وہ ہم بیچ ڈالیں یا اگر ہم وہ بیچ ڈالیں گے تو لوگ حکومت پر فورا شک کر دیں گے 👈اس طرح یہ پورا وار بیرونی وار سیدھا حکمرانوں پر لگتا ہے اور حکمران یا تو شروع سے ہی غافل ہوتے ہیں یا پھر شروع سے ہی مجبور ہوتے ہیں یا پھر شروع سے ہی ایجنٹ ہوتے ہیں یا پھر مکس اچار

۔

4۔۔۔ اب جب ہم خود مختاری کے لیے قدم اٹھانا چاہتے ہیں تو ہم اٹھا نہیں سکتے کیونکہ ہمارے پاؤں ہر لحاظ سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں, بیرونی طاقتیں ہمیں پہلے ہی جکڑ چکی ہوتی ہیں, اگر ہم کوئی اقدام اٹھائیں گے تو ہمیں تباہی کا سامنا ہی کرنا پڑے گا۔۔۔۔👈ہماری ساری چیزیں باہر سے اتی ہیں ہم باہر کے محتاج ہوتے ہیں تو باہر ہماری کرنسی قبول نہیں ہوتی تو لہذا ہماری کرنسی گر جاتی ہے اس کی ویلیو ختم ہو جاتی ہے اور ہمیں دوسری کرنسی کا محتاج ہونا پڑتا ہے اور اس طرح عوام میں اچانک سے مہنگائی کا بم پھوٹ پڑتا ہے کیونکہ باہر سے چیز ہم منگوا نہیں سکتے کیونکہ ہمارے پاس بیرونی کرنسی نہیں ہے تو لہذا اندر جو چیز موجود ہوگی تھوڑی مقدار میں ہوگی اور وہ مہنگی ہو جائے گی لوگوں کو کفایت نہیں کرے گی اس طرح میرے خیال سے بحران اتے ہیں معیشت کے ، کرنسی کے، غلامی کے

۔

✅ *#حل*

میری ایک عادت ہے کہ میں اس بات پر اکتفا نہیں کرتا کہ مسئلے کی اصل جڑ بتاؤں بلکہ اس کا حل تلاش کرنا میرا اولین مقصد ہوتا ہے، مجھے ناچیز کو جو حل سمجھ میں ا رہا ہے وہ اپ کے سامنے رکھ رہا ہوں

👈اب دو ٹوک تو ہم خود مختاری کے اقدام اٹھا نہیں سکتے تو ہمارے پاس دو ہی راستے بچ جاتے ہیں

1۔۔۔۔اپنوں سے  یعنی اپنے ہمنوا ملکوں سے قرض لیں اور ملک کو چلائیں اور مل کر ایک بلاک بنائیں ، اپس میں تجارت معیشت ہر قسم کی ٹیکنالوجی جدت وغیرہ شیئر کریں، سستے داموں کریں۔۔۔ یہ انقلابی منصوبہ ہے لیکن یہ منصوبہ سرعام واضح طور پر ہم نہیں کر سکتے کیونکہ اس وقت دشمن بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے وہ ہمیں چن چن کر ہماری کمزوریاں پکڑ پکڑ کر تباہ کرتا جائے گا، لیکن یہ کام خفیہ طور پر کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے بہت زیادہ عقلمندی ہوشیاری کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں بعض اوقات دشمنوں کا دوست بھی بننا پڑتا ہے تاکہ اس سے وہ کچھ لے لیں جو وہ صرف دوستوں کو دیتا ہے، لیکن وہ بھی تو سمجھدار ہے، یہی تو سرد جنگ و جہاد ہے

۔

2۔۔۔دوسرا حل یہ ہے کہ خفیہ طریقے سے اہستہ اہستہ اپنے اپ کو خود مختاری کی طرف لے کے جانا۔۔۔۔ جن جن معاملات میں ہم باہر سے منگواتے ہیں، وہ چیزیں ہم خود بنانا شروع کر دیں، 👈اور عوام اس بات کو سمجھے کہ ہم مجبورا عارضی طور پر نقلی طور پر بیرونی نظریات کو قبول کریں ، دلی طور پر اسلام پر مضبوط رہیں، اور اسی طرح بڑی عقلمندی ہوشیاری کے ساتھ اہستہ اہستہ اپنے اپ کو مضبوط و خود مختار کیا جا سکتا ہے جس کے لیے کافی وقت بھی لگ سکتا ہے اور بظاہر وقتی طور پر کچھ نقصانات بھی اٹھانے پڑیں گے، بیرونی نظریات بھی کچھ لاگو کرنے پڑیں گے

👈 لیکن عوام کو سمجھانا بڑا ہی مشکل ہے کیونکہ ہر بندے تک یہ عقلمندی والا منصوبہ بات پہنچ نہیں پاتی، یا ہر ادمی ہم پر بھروسہ نہیں کر پاتا بلکہ وہ ہمیں ایجنٹ ہی سمجھنے لگ جاتا ہے 👈اور اس کی مجبوری بھی ہے کہ ایجنٹ سمجھتا ہے کہونکہ یہاں ملک میں مکس اچار ہیں ، کچھ مخلص ہیں تو کچھ ایجنٹ ہیں اس طرح اندرونی بے اعتمادی اور اندرونی دشمن ہماری ترقی کی بہت بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں

لیکن

✅✅معتبر مستند علماء ہی ہمارا سرمایہ و طاقت ہیں، انہی کی نگرانی میں اور انہی کی مشاورت سے ملک کو ترقی کی طرف لے کے جایا جا سکتا ہے، عوام کو اعتماد میں لایا جاسکتا ہے، اندرونی دشمنی بےاعتمادی کو انہی معتبر علماء کے ذریعے کم یا ختم کیا جاسکتا ہے

یعنی

1️⃣۔۔۔علماء جھکنے کے بجائے تھوڑا سا تعاون کریں لیکن زیادہ فوکس اس پر رکھیں کہ اپنی بات منوائیں اور احتجاج کروائیں تاکہ حکمران دشمنوں یا اپنے اقاوں کو کہہ سکیں کہ عوامی دباؤ ہے اس لیے ہمیں فلاں کام کرنا پڑے

۔

2️⃣۔۔۔علماء کو نگرانی کر کے اب یہ ذمہ داری بھی سنبھالنی ہوگی کہ وہ کافی سارے معتبر اہل سنت حضرات کو اہل سنت نوجوانوں کو دلائل سے سمجھا کر مختلف شعبہ جات میں بھیجیں یہ کہہ کر کہ ہمارا اصل مشن مقصد یہ ہے ظاہری طور پر شاید تمہیں کچھ خلاف شریعت کرنا پڑے تو اسے مجبوری سمجھ کر کرنا

۔

3️⃣۔۔۔علماء کو جدت اور ٹیکنالوجی میں تجارت میں سیاست میں بندے معتبر بندے کھڑے کرنے ہوں گے اور عوام کو چاہیے کہ وہ ان کی سپورٹ کرتے جائیں اور اہستہ اہستہ خود مختاری کی طرف جاتے جائیں

۔

4️⃣۔۔۔ایجنٹ ملاؤں اور برے علماء برےسیاسدانوں برےحکمرانوں برےجرنیلوں برےمیڈیا والوں برےسکالرز الغرض ہر فیلڈ میں موجود برے و ایجنٹ وغیرہ کو مدلل جواب دینا ہوگا اور سرعام رد کرنا ہوگا تاکہ عوام اسلام کے سچی ترجمان مسلک اہل سنت پر مضبوطی سے قائم رہے

۔

5️⃣۔۔۔جن معاملات میں شریعت کی اجازت کے تحت برداشت کا حکم ہے ان معاملات میں اختلافات نہ کیا جائے اور ان معاملات میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ دیا جائے اور برداشت کیا جائے اس طرح چھوٹے چھوٹے قابل برداشت اختلافات کی بنیاد پر گروپس اور تنظیمیں بنے لیکن بنیادی طور پر متحد ہوں تو کوئی حرج نہیں بلکہ ایسا ہونا چاہیے تاکہ دشمن کنفیوز رہے

۔

6️⃣۔۔۔عوام کو سمجھایا جائے کہ فورا کسی پروپیگنڈا پر عمل نہ کیا جائے اور عوام کو سمجھایا جائے کہ اپ سہولیات سے محرومی اور مہنگائی کو برداشت کرنے کی کوشش کیجئے گا مگر بھڑک نہ اٹھیے گا

۔

7️⃣۔۔۔اسکول کالج یونیورسٹی، سائنسی سیاسی طبی تمام علوم فنون کے اداروں میں نصاب اور نظام کی اسلامائزیشن کی طرف بھرپور کوشش کی جائے اور اس کے لیے بھرپور دباؤ ڈالا جائے، ورنہ کم از کم کیمرے اور پردہ کی سختی کی جائے اور اس سختی کو قبول کرنے کے لیے ایسے پرلاجک دلائل دینے چاہیے کہ طلباء خود ہی ان سختیوں کو اپنے لیے مانگ کرنے کی مانگ کریں

۔

8️⃣۔۔۔تحریر تقریر مدرسہ وغیرہ میں جدت کو بھی لانا ہوگا اور پرانے دلائل و مسائل کو نئے جدید لہجے  الفاظ و انداز و دلائل میں بیان کرنا ہوگا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ مضبوط ایمان والے بنتے جائیں

۔

9️⃣۔۔۔جدید مدلل انداز و جدید دلائل  میں اور پر لاجک انداز میں اسلام کے خلاف جو چیز ہیں ان کی برائی اور ان کی خرابی کو بیان کرنا ہوگا تاکہ لوگ دل سے ان چیزوں کو ایکسیپٹ نہ کریں، قبول نہ کریں

۔

1️⃣0️⃣۔۔۔ہمیں عیش و عشرت سہولیات پر کم توجہ دے کر بچت کرنا ہوگی۔۔۔۔صوبوں ملکوں قوموں کی ترقی سہولیات ذخائر وغیرہ تمام معاملات میں عدل کرکے اسلام موافق دوست بنانا ہوگا، ایک دوسرے پر تنقید میں کمی اور تنقید برائے ترقی کرنا ہوگی۔۔۔ باہر کی چیزوں کی محتاجی کو کم سے کم کرتے جانا ہوگق۔۔۔۔اور ملک کی معدنیات و تجارت سیاحت اناج تیل پگیس پھل فروٹ وغیرہ باہر ممالک میں بیچ کر قرض کو کم کرتے جانا ہوگا

۔

❤️یہ سب کام معتبرعلماء کرام کی نگرانی مشاورت اور اشارتی تائید کے تحت کرتے جانا ہوگا


✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

https://wa.me/923062524574

مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.