🟥 *#اہلحدیث نجدی غیرمقلد کہتے ہیں کہ شعبان میرا مہینہ ہے، یہ جھوٹی من گھڑت حدیث ہے جبکہ تحقیق و اسلاف کے مطابق یہ فضائل میں معتبر قابل قبول مرسل ضعیف حدیث ہے۔تحقیق و تفصیل اس تحریر میں پڑھیے*
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیجوں
👈نیچے دی گئ لنکس پے آپ میری کافی ساری تحقیقی تحریرات پڑھ سکتے ہیں۔لنکس یہ ہیں
https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1
https://www.facebook.com/share/17EiysLaaj/
👈ہوسکے تو میرے واٹسپ چینل کو بھی ضرور فالوو کریں۔۔لنک یہ ہے
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jkhv3bbV8xUTNZI1E
👈اور واٹسپ چینل پہ فیس بک پیج پہ بلاگ پیج پہ وقتا فوقتا ضرور ایا کریں، جزاکم اللہ خیرا
.
📌 *#نوٹ*
دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر، نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!
.
🟥 *#سوال*
علامہ صاحب میں خطیب ہوں اور علمائے کرام کی کتابوں سے دیکھ کر تقریر کرتا ہوں۔۔ علماء کرام کی ہی کتابوں میں لکھا ہے کہ حدیث پاک میں ہے کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔۔ یہ حدیث جمعہ مبارک کے خطاب میں پڑھی تو صلواۃ و سلام کے بعد ایک شخص نے اعتراض کیا کہ یہ من گھڑت جھوٹی حدیث ہے، سرعام توبہ استغفار کرو، میں نے اسے کہا کہ میں اپ کو اس کا حوالہ دوں گا، جب میں نے اس کو حوالہ دیا تو اس نے کہا کہ یہ بعد کے غیر محقق عالم نے لکھی ہے جبکہ محققین نے اس کو موضوع من گھڑت جھوٹی حدیث لکھا ہے، اس نے یہ تحریر بھیجی👇
((رجَبٌ شَهرُ اللَّهِ وشعبانُ شَهري ورمضانَ شَهرُ أمَّتي))
ترجمہ: رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔اس حدیث پر متعدد محدثین نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے یعنی یہ حدیث من گھرنت ہے، کسی نے اپنی طرف سے اس کو گھڑ کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کردیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اتنا گناہ اس کو بھی ملے گا جو اس جھوٹی حدیث کو لوگوں میں بول کر یا لکھ کرپھیلائے گا۔
جن محدثین نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے ان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں ۔(1)امام صغانی نے "الموضوعات:72" میں موضوع کہا ہے۔(2)علامہ ابن القیم نے "المنارالمنیف:76" میں موضوع کہا ہے۔(3)علامہ شوکانی نے "الفوائد المجموعۃ:100" میں موضوع کہا ہے۔(4)امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام :28/351" میں موضوع کہا ہے۔(5)علامہ ابن الجوزی نے "الموضوعات: 2/576 " میں اسے موضوع کہا ہے۔(6)حافظ ابن حجر عسقلانی نے" تبیین العجب:35" میں موضوع کہا ہے۔
.
👈علامہ صاحب میں نے کچھ علماء کرام سے اسکا جواب لے کر اس شخص کو دیا تو ان کے جواب سے یہ شخص مطمئین نہ ہوا،کہنے لگا کہ میں نے جو حوالہ جات دییے انکا جواب دو اور کسی معتبر عالم سے سند کے ساتھ دکھاو کہ یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ فلاں معتبر کتاب میں ہے، میں نے نیٹ میں سرچ کیا تو یہی ملا کہ یہ حدیث موضوع من گھڑت ہے۔۔پھر گروپ میں اپ کا نمبر دیکھا اور اپ کی تحریرات کچھ پڑھیں، بہت مزہ ایا اور اپ سے التجا ہے کہ اس کا زبردست اور اطمینان بخش جواب لکھیے
۔
🟩✅ *#جواب۔و۔تحقیق*
محترم اپ جس انداز میں خطاب کر رہے ہیں اس کو جاری رکھیے یعنی مستند علماء کرام کی کتابوں سے مواد دیکھ کر اس سے اپنا خطاب تقریر بیان کیجئے لیکن🚨 نیٹ پہ موجود ویب سائٹ پر اندھا دھند اعتبار نہ کیجئے کیونکہ اس میں بدمذہبوں کی بھی ویب سائٹ ہیں ، لہذا ویب سائٹ کے مواد کو بھی اہل سنت کی کتب سے میچ کیجیے یا معتبر اہلسنت عالم کی تصدیق سے اگے بیان کریں اور بدمذہبوں کی تحقیقات و مواد و کتب و تحریرات و وڈیوز سے بھی اپنے اپ کو دور رکھیے۔۔۔👈الحمد للہ علماء موقعہ مناسبت سے کافی حد تک تفصیلی جواب دیتے ہیں اور کچھ تو بڑی ہی تفصیل سے جواب سے لبریز لمبی تحریر کتاب رسالہ لمبی وڈیوز لمبی وائس تک استعمال فرماتے ہیں، اگر اپ کو کہیں سے تفصیلی جواب کے بجائے مختصر ملا تو جواب تفصیلی نہ ہونے کی وجہ سے کبھی اطمینان بخش نہیں لگتا۔۔لیکن زیادہ تر علماء ورکز مختصر لکھتے ہیں کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ عوام زیادہ تر مختصر بات سننا پڑھنا چاہیتی ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ میری لمبی تحقیقی تحریر پے بھی کبھی اتنے لائکس کمنٹ ویوز نہیں آتے،میں اکثر تفصیلی تحقیقی تحریر لکھتا ہوں اور یہ نہیں دیکھتا کہ پڑھنے والا کوئی ہے یا نہیں، مجھے اگرچہ اتنے لائکس کمنٹس نہیں ملتے لیکن پھر بھی میں اپنی اس روش تحقیق تفصیل پر برسوں سے قائم ہوں ، اپ جیسے احباب بھی یاد فرماتے ہیں اور تسلی دیتے ہیں اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ واقعی تفصیلی تحریر کے میدان میں بھی کچھ علمائے کرام ہونے چاہیے۔۔👈میں تو ادنی سا خادم ہوں کہ میں تو بس علماء کرام کے اقوال تشریحات کو بمع وضاحت کے جمع کرکے لکھتا ہوں، میرے علاوہ 🌹کئی معتبر محقق اہلسنت سرگرم ہیں،کوئی تحریر کے ذریعے سے ،کوئی ویڈیو کے ذریعے سے ، کوئی واٹسپ فیسک گروپس پیجز پے جوابات دینے کے ذریعے سے، کوئی وائس کےذریعےسے، کوئی مختصر مواد کے ذریعے تو کوئی تفصیل سے۔۔۔ان سب سے بھی دینی فائدہ حاصل کیا کیجیے
۔
🟩تو ائیے مذکورہ اعتراض کا تفصیلی جواب پڑھتے ہیں
*#پہلی بات* 1️⃣
ائیے پہلے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موضوع من گھڑت جھوٹی حدیث کب کہا جاتا ہے
1....وهُو الطَّعْنُ بكَذِبِ الرَّاوي في الحَديثِ النبويِّ هو المَوضوعُ
حدیث پاک کی سند یا روایت کی سند میں کذاب جھوٹا راوی ہو تب وہ موضوع من گھڑت جھوٹی حدیث و روایت کہلاتی ہے
(نزھۃ النظر ابن حجر عسقلانی ص89)
۔
2....المدارعلی الاسناد فان تفردبہ کذاب اووضاع فحدیثہ موضوع وان کان ضعیفا فالحدیث ضعیف فقط
مدار سند حدیث پر ہے اگر اس سے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفرد ہو تو وہ روایت و حدیث موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت و حدیث صرف ضعیف ہوگی
(شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم ج9 صفحہ 337)
۔
3...حضرت علامہ ملا علی قاری فرماتے ہیں: موضوع اس روایت و حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو
(شرح نخبۃ الفکر جلد1 صفحہ 435)
۔
4...موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا....یا ناقل رافضی(ہو اور) حضرات اہلبیت کرام علٰی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں(تو روایت موضوع من گھرٹ جھوٹی مردود کہلائے گی)
(2تا4 کا حوالہ فتاوی رضویہ 5/461. .466ملتقطا بشرح یسیر)
۔
✅👈 *#نتیجہ و اصول*
یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک سند کے حساب سے حدیث موضوع من گھڑت یا ضعیف ہوتی ہے لیکن دوسری سند کے حساب سے قابل قبول ہوتی ہے، کبھی کوئی حدیث و روایت ایک سند کے حساب سے موضوع من گھڑت ہوتی ہے لیکن اس کی دوسری سند ہوتی ہے جو ضعیف ہوتی ہے اور فضائل اعمال میں ضعیف قابل قبول ہوتی ہے، سب مکاتب فکر کے ہاں یہ قاعدہ قانون معتبر ہے۔۔معتبر علماء محققین کے5حوالہ جات پڑھتے جائیے
۔
1۔۔۔۔امام ملا علی قاری فرماتے ہیں:
أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثَ مَوْضُوعًا مِنْ طَرِيقٍ صَحِيحًا مِنْ آخَرَ لأَنَّ هَذَا كُلَّهُ بِحَسْبِ مَا ظَهَرَ لِلْمُحَدِّثِينَ مِنْ حَيْثُ النَّظَرِ إِلَى
الإِسْنَادِ
ایسا ہوتا ہے کہ ایک سند کے حساب سے کوئی حدیث و روایت موضوع من گھڑت ہوتی ہے لیکن دوسری سند کے حساب سے صحیح ہوتی ہے، محدثین جو من گھڑت موضوع یا صحیح یا ضعیف کا حکم لگاتے ہیں وہ سند کو دیکھتے ہوئے لگاتے ہیں
(المصنوع في معرفة الحديث الموضوع ص44)
لہذا ہو سکتا ہے کسی کو کسی حدیث و روایت کی صحیح سند نہ ملی ہو بلکہ من گھڑت سند ملی ہو تو وہ اپنی کتاب میں من گھڑت لکھ گیا ہو لیکن ممکن ہے کسی اور محدث کو اسی حدیث کی صحیح یا ضعیف سند مل جائے تو وہ اس کو صحیح یا ضعیف کہے گا
2۔۔۔۔اہل حدیث غیر مقلد وغیرہ کے ہاں بھی معتبر ترین امام امام ابن حجر و امام ذہبی نے لکھا:
وهذا موضوع، والحمل فيه على الشرابي، وللمتن إسناد آخر ضعيف
ایک حدیث کے متعلق امام ابن حجر اور امام ذہبی نے لکھا کہ یہ موضوع من گھڑت ہے کیونکہ اس میں ایک راوی الشرابی ہے مگر اسی حدیث و روایت کی ایک اور سند ہے جو کہ ضعیف ہے
(ميزان الاعتدال ذہبی3/653)
(لسان الميزان -ابن حجر7/367)
لہذا ایک ہی حدیث و روایت کی دو سندیں ہو سکتی ہیں ایک سند کے لحاظ سے ضعیف ہو اور ایک سند کے لحاظ سے موضوع ہو، لہذا بظاہر موضوع حدیث پر بھی عمل اس شرط پر کیا جا سکتا ہے کہ اس کی کوئی ضعیف سند موجود ہو جو عام مشہور نہ ہو تو یہی لگے گا کہ موضوع حدیث پر عمل کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت میں ضعیف حدیث پر ضعیف سند کی بنیاد پے فضیلت کے معاملے میں عمل کیا جا رہا ہوتا ہے
.
3۔۔۔۔اہل حدیث غیر مقلد وغیرہ کے ہاں بھی معتبر علامہ فتنی لکھتے ہیں:
عَن سَالم بن عبد الْأَعْلَى وَهُوَ مُتَّهم بِالْوَضْعِ، قَالَ ابْن حبَان الحَدِيث بَاطِل....وَلابْن عدي بِسَنَد ضَعِيف
ایک حدیث و روایت کے متعلق امام فتنی لکھتے ہیں کہ سالم کی وجہ سے حدیث باطل موضوع ہے لیکن ابن عدی نے ایک اور سند سے روایت کیا ہے جو کہ ضعیف ہے
( تذكرة الموضوعات للفتني ص116)
واضح ہوا کہ کچھ علماء کے مطابق حدیث موضوع من گھڑت ہوتی ہے مگر کسی محقق عالم کو اس کی ضعیف سند مل جاتی ہے تو اس صورت میں ضعیف سند پر فضیلت کے معاملے میں عمل کیا جا سکتا ہے
۔
4۔۔۔۔اہل حدیث غیر مقلد وغیرہ کے ہاں بھی معتبر ابن کثیر لکھتے ہیں:
انه لا يلزم من الحكم بضعف سند الحديث المعين الحكم بضعفه في نفسه، إذ قد يكون له إسناد آخر
ایک سند کے لحاظ سے کسی حدیث کو ضعیف کہا جائے تو ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی ضعیف ہو کیونکہ ممکن ہے اس کی دوسری کوئی سند ہو جس کی وجہ سے حدیث صحیح یا حسن معتبر ہو جائے
(الباعث الحثیث ابن کثیر ص90)
.
5...اہل حدیث غیر مقلد وغیرہ کے ہاں بھی معتبر علامہ صنعانی لکھتے ہیں
قال زين الدين ومطلق وجود كذاب في السند لا يلزم منه أن يكون الحديث مكذوبا لجواز أنه ثابت من غير
طريقه
سند میں کذاب جھوٹا راوی ہو تو وہ حدیث موضوع من گھڑت ہوتی ہے لیکن ممکن ہے کہ اس کی کوئی اور سند ہو جس سے حدیث ثابت و قابل عمل کہلا سکتی ہے
(توضیح الافکار2/53)
۔
*#دوسری بات* 2️⃣
✅👈فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی قابل قبول ہوتی ہے یعنی ضعیف حدیث سے کوئی فضیلت ثابت کی جا سکتی ہے لیکن شرعی حکم فرض واجب وغیرہ ثابت نہیں کیا جا سکتا ضعیف حدیث سے۔۔۔ یہ قاعدہ اصول بھی تمام مکاتب فکر کے ہاں معتبر و مستند ہے اس پر 6 اہم حوالہ جات پڑھیے
.
1....يتْرك)أَي الْعَمَل بِهِ فِي الضَّعِيف إِلَّا فِي الْفَضَائِل
فضائل کے علاوہ میں حدیث ضیف پر عمل نہ کیا جائے گا مگر فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے
(شرح نخبة الفكر للقاري ص185)
.
2....قال الحافظ فى " النتائج " 2 / 299:ترقى الحديث إلى درجة الضعيف الذى يعمل به الفضائل
حافظ ابن حجر عسقلانی نے النتائج میں لکھا ہے کہ ضعیف جو غیر مقبول ہو(ضعیف جدا ہو، منکر بلاتائید ہو)وہ ترقی کرکے ایسی ضعیف بن جاتی ہے جس پر فضائل میں عمل جائز ہے
(روضة المحدثين11/349)
.
3.....وَيجوز الْعَمَل فِي الْفَضَائِل بالضعيف.
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے
(تذكرة الموضوعات للفتني ,page 117)
.
4....أَنَّ الضَّعِيفَ مَعْمُولٌ بِهِ فِي الْفَضَائِلِ اتِّفَاقًا
بےشک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے اس پر سب(جمھور علماء محدثین)کا اتفاق ہے
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,4/1474)
.
5....قال العلماءُ من المحدّثين والفقهاء وغيرهم: يجوز ويُستحبّ العمل في الفضائل والترغيب والترهيب بالحديث الضعيف ما لم يكن موضوعاً
علماء محدثین فقہاء وغیرہ نے فرمایاکہ فضائل ،ترغیب و ترہیب میں جائز ہے مستحب و ثواب ہے ضعیف حدیث پے عمل کرنا بشرطیکہ موضوع و من گھڑت نہ ہو
(الأذكار للنووي ص36)
.
6....ويجوز رواية ما عدا الموضوع في باب الترغيب والترهيب، والقصص والمواعظ، ونحو ذلك، إلا في صفات الله عز وجل، وفي باب الحلال والحرام.
موضوع من گھڑت روایت کو فضیلت اور احکام کسی بھی معاملے میں دلیل نہیں بنایا جا سکتا عمل نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے علاوہ جو بھی صحیح یا حسن یا ضعیف حدیث ہو تو اس پر فضائل کے معاملے میں ترغیب کے معاملے میں وعظ و نصیحت کے معاملے میں اس پر عمل کیا جا سکتا ہے لیکن عقائد اور حلال و حرام ضعیف حدیث سے ثابت نہیں کیے جا سکتے
(الباعث الحثیث ابن کثیر ص90)
۔
*#تیسری بات* 3️⃣
🟥اب ہم پہلے مذکورہ اعتراض میں دیے گئے حوالہ جات کا جواب دیتے ہیں
1۔۔۔علامہ صغانی نے موضوع من گھڑت لکھا مگر دلیل نہ دی کہ کس وجہ سے موضوع من گھڑت ہے ،کس راوی کی وجہ سے موضوع من گھڑت ہے، کیونکہ اوپر قاعدہ بتایا جا چکا ہے کہ ایک راوی کی وجہ سے کوئی حدیث موضوع من گھڑت ہوتی ہے لیکن دوسرے صحیح یا فقط ضعیف راوی کی وجہ سے حدیث قابل قبول ہوتی ہے
۔
2۔۔۔ ابن قیم جوزی مذکورہ حدیث پاک کے من گھڑت ہونے کے متعلق لکھتے ہیں
عن ابن جھضم وهو واضع الحديث
شعبان میرا مہینہ ہے۔۔۔یہ حدیث ابن جہضم کی وجہ سے موضوع من گھڑت ہے
(المنار المنيف في الصحيح والضعيف ص83)
واضح ہوتا ہے کہ ابن قیم کے مطابق مذکورہ راوی ابن جھضم کی وجہ سے حدیث موضوع من گھڑت ہے لیکن اگر کوئی دوسرا قابل قبول راوی روایت کرے تو حکم الگ ہو جائے گا
۔
3۔۔۔شوکانی مذکورہ حدیث کے موضوع من گھڑت ہونے کی وجہ لکھتے ہیں کہ
وَهُوَ حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ وَهُوَ مُتَّهَمٌ
شعبان میرا مہینہ ہے یہ حدیث موضوع من گھڑت ہے اس وجہ سے کہ اس کی سند میں ابوبکر بن حسن نقاش متہم راوی ہے(یعنی جس پر جرح ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے، اپنی طرف سے حدیث و روایت گھڑ لیتا ہے)
(الفوائد المجموعة ص100)
واضح ہوا کہ شوکانی کے مطابق یہ حدیث ابوبکر بن حسن نقاش کی وجہ سے موضوع من گھڑت ہے لیکن اگر کوئی اور قابل قبول سند پائی جائے تو موضوع من گھڑت کا حکم نہیں لگے گا
۔
4۔۔۔ذھبی بھی مذکورہ حدیث کے موضوع من گھڑت ہونے کی وجہ یہ لکھی کہ
وَالْحَدِيثُ مَوْضُوعٌ، وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ رِوَايَةِ ابن جَهْضَمٍ. وَقَدِ اتَّهَمُوهُ بِوَضْعِ هَذَا الْحَدِيثِ
شعبان میرا مہینہ ہے یہ حدیث موضوع من گھڑت ہے کیونکہ اس کی مشہور و معروف سند میں ابن جہضم ہے جس پر جرح ہے کہ اس نے یہ حدیث گھڑی ہے
(تاريخ الإسلام - ت تدمري28/351)
بالکل واضح ہے کہ ذہبی کے مطابق بھی یہ حدیث اس وجہ سے موضوع ہے کہ اس حدیث کا راوی ابن جھضم پر جرح ہے کہ وہ جھوٹ بولتا تھا جھوٹی حدیث گھڑتا تھا۔۔ لہذا اگر کوئی اور راوی کوئی اور سند قابل قبول پائی جائے تو یہ حدیث معتبر قابل قبول ہو سکتی ہے
۔
5۔۔۔مذکورہ روایت حدیث کو من گھڑت کہنے کی وجہ ابن جوزی نے بھی مذکورہ راوی ابن جہضم کو قرار دیا، ابن جوزی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقد اتهموا بِهِ ابْن جهيم ونسبوه إِلَى الْكَذِب
شعبان میرا مہینہ ہے یہ حدیث موضوع من گھڑت ہے کیونکہ اس کی سند میں ابن جہضم ہے جس پر جرح ہے کہ جھوٹ بولتا ہے جھوٹی حدیث و روایت گھڑ لیتا ہے
(الموضوعات لابن الجوزي2/125)
واضح ہوتا ہے کہ ابن جوزی کے مطابق بھی یہ حدیث اس وجہ سے موضوع ہے کہ اس حدیث کا راوی ابن جھضم پر جرح ہے کہ وہ جھوٹی حدیث گھڑتا تھا۔۔ لہذا اگر کوئی اور راوی، کوئی اور سند قابل قبول پائی جائے تو یہ حدیث معتبر قابل قبول ہو سکتی ہے
۔
6۔۔۔امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اس حدیث کو موضوع من گھڑت اسی راوی ابن جھضم کی وجہ سے کہا، امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
حديث موضوع على رسول الله وقد اتهموا به ابن جهضم ، فنسبوه إلى الكذب
شعبان میرا مہینہ ہے یہ حدیث موضوع من گھڑت ہے کیونکہ اس کی سند میں ابن جہضم ہے جس پر جرح ہے کہ جھوٹ بولتا ہے جھوٹی حدیث و روایت گھڑ لیتا ہے
(تبیین العجب ص36)
.
*#چوتھی بات* 4️⃣
🌹🌹مذکورہ حدیث پاک سند ساتھ کچھ یوں ہے کہ:
الحدیث مع السند:
أخبرنا عبد الواحد بن علي بن فهد ببغداد، حدثنا أبو الفتح بن أبي الفوارس، حدثنا عبد الله بن محمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا، حدثنا يوسف بن إسحاق البابي- وكان ثقة-، حدثنا محمد بن بشير البغدادي، حدثنا قُرَّان بن تمَّام، عن يونس، عن الحسن، قال: قال رسول الله ﷺ: «مَنْ صَامَ [يَوْمًا] مِنْ رَجَبَ عُدِلَ لَهُ بِصَوْمِ سَنَتَيْنِ، وَمَنْ صَامَ النِّصْفَ مِنْ رَجَبٍ عُدِلَ لَهُ بِصَوْمِ ثَلَاثِينَ سَنَةٍ». وقال: قال رسول الله ﷺ: «رَجَبٌ شَهْرُ اللهِ ﷿، وَشَعْبَانُ شَهْرِي، وَرَمَضَانُ
شَهْرُ أُمَّتِي
سیدنا امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا اسے دو سال کے روزوں کا ثواب ملے گا اور جو رجب کے 15روزے رکھے تو اسے 30 سال کے روزوں کا ثواب ملے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے
(الترغيب والترهيب لاسماعیل حدیث1857)
✅🌹شعبان مہینے کو خصوصی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ منسوب فرمایا تو یقینا اسکی بڑی ہی شان بن گئ۔۔۔اس لیے ہمیں اس مہینے زکواۃ نکالنی چاہیے،ارد گرد غرباء و مستحق رشتےداروں و معتبر سرگرم مدارس کو یاد کرکے جانی مالی حوصلاتی ترقیاتی مدد کرنی چاہیے، اس پیارے مہینے میں صدقہ نوافل روزہ تلاوت درود عبادات کی کثرت کرنی چاہیے، قران مجید کو سمجھ کر پڑھنا شروع کر دینا چاہیے تاکہ تراویح میں لطف و مزہ بھی ائے اور علم بھی معتبر ذرائع سے حاصل کرتے رہنا چاہیے
۔
✅👈اس کتاب کی حاشیہ میں 6محققین أبو إسحاق مجدي عطية السمنودي، الصافي بن عبد السلام، أبو عمار ياسر بن الدسوقي اليماني، أبو عمار إبراهيم بن سلام، أبو عبد الله يوسف بن حسيني، أحمد بن السيد شلبي کا حاشیہ و تبصرہ و تحقیق ہے کہ
ضعيف: لإرساله
مذکورہ حدیث ضعیف مرسل ہے(یعنی فقط ضعیف ہےضعیف جدا بھی نہیں کیونکہ محقق اگلی حدیث کو ضعیف جدا لکھتا ہے،مطلب واضح ہے کہ وہ ضعیف اور ضعیف جدا دونوں پر نظر رکھ کر تحقیق کرکے وہی حکم لگاتا ہے جو اسکی تحقیق میں واضح ہوتا ہے،ضعیف جدا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ فضائل میں بھی مقبول نہیں)
حاشیہ الترغيب والترهيب لاسماعیل تحت حدیث1857
۔
🟩 *#سند کی تحقیق.......!!*
*#پہلا راوی*
وأبو القاسم عبد الواحد بن عَلِىّ بن فَهْد العَلَّاف، حدَّث عن أبي الحُسين بن بِشْرَان وأبي الفتح بن أبي الفوارس، وهو صَدُوقٌ صالحٌ
عبدالواحد راوی سچا ہے نیک ہے یہ زیادہ تر ابن بشران اور ابی الفتح سے روایت کرتا ہے
تكملة الإكمال - ابن نقطة4/517
۔
*#دوسرا راوی*
وكان ذا حفظ ومعرفة وأمانة وثقة
ابو الفتح بن ابی الفارس مضبوط حافظے والا بہت علم و معرفت والا امانت دار اور ثقہ معتبر راوی ہے
إتحاف المرتقي بتراجم شيوخ البيهقي ص407
۔
*#تیسرا راوی*
حَدَّثَ عَنْهُ: البُخَارِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَدُوْقٌ وَقَالَ الحَاكِمُ: هُوَ إِمَامُ الحَدِيْثِ فِي عَصْرِهِ بِمَا وَرَاءَ النَّهرِ بِلاَ مُدَافَعَةٍ، وَهُوَ أُسْتَاذُ البُخَارِيِّ.
عبد الله بن محمد بن جعفر ایسا معتبر راوی ہے کہ جس سے امام بخاری نے حدیث و روایت لکھی ہے اور امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ یہ راوی سچا ہے اور امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ ورا النہر کے علماء میں امام الحدیث بغیر کسی ٹکر والے کے تھا اور وہ امام بخاری کا استاد ہے
سير أعلام النبلاء - ط الرسالة10/659
.
*#چوتھا راوی*
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا يُكْنَى أَبِي مُحَمَّدٍ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا، كَانَ مَقْبُولًا، ثِقَةً،
عبداللہ بن محمد بن زکریا جس کو ابو محمد بھی کہتے ہیں وہ عبدالوہاب کے بھائی کا بیٹا ہے اور یہ راوی مقبول ثقہ معتبر ہے
طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها3/373
۔
*#پانچواں راوی*
یوسف بن اسحاق کو خود اسی کتاب میں محدث نے ثقہ معتبر قرار دیا ہے
۔
*#چھٹا راوی*
محمد بن بشیر بغدادی
اس راوی کے متعلق امام خطیب بغدادی نے لکھا کہ یہ دراصل محمد بن بشر بغدادی ہیں
في تاريخ بغداد: محمد بن بشر
رياض النفوس في طبقات2/10
۔
محمد بن بِشْر البغدادي) لم يذكر الخطيب فيه جرحًا أو تعديلًا
محمد بن بشر(جسے محمد بن بشیر بھی کہا جاتا ہے) اس کے متعلق خطیب بغدادی نے کوئی جرح نہیں لکھی اور کوئی تعریفی کلمات بھی نہیں لکھے
زوائد تاريخ بغداد على الكتب الستة1/514
۔
👈لہذا یہ راوی زیادہ سے زیادہ مجہول الحال کہلائے گا لیکن جس پر کوئی جرح نہ ہو تو یقینا حسن ظن کے تحت وہ اچھا راوی ہی ہوگا پھر بھی علماء کرام نے احتیاط کرتے ہوئے ایسے راوی کی روایت کو فقط ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ضعیف روایت پر فضائل کے معاملے میں عمل کیا جا سکتا ہے
۔
امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں
الإسناد ضعيف فيه منية مجهول الحال
سند مین منیہ راوی مجھول الحال ہے لیھذا اسکی روایت کردہ حدیث و روایت ضعیف ہے
المطالب العالية محققا5/683
۔
امام سیوطی ، امام ابن حجر عسقلانی اور امام احمد رضا کے مطابق بھی مجھول راوی کی وجہ سے روایت و حدیث موضوع من گھڑت نہیں کہلاتی..سیدی امام احمد رضا لکھتے ہیں:
امام الشان علامہ ابن حجر عسقلانی رسالہ قوۃ الحجاج فی عموم المغفرۃ للحجاج پھر خاتم الحفاظ(امام سیوطی نے اپنی کتاب) لآلی میں فرماتے ہیں:لا یستحق الحدیث ان یوصف بالوضع بمجرد ان روایہ لم یسم
صرف راوی کا نام معلوم نہ ہونے(راوی کے مجھول ہونے)کی وجہ سے حدیث موضوع کہنے کی مستحق نہیں ہوجاتی۔ (ت)
( اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ کتاب اللباس مطبعۃ التجاریۃ الکبری مصر ۲/۲۶۴)
(فتاوی رضویہ5/252 بشرح یسیر)
.
امام ملا علی قاری اور امام ابن حجر عسقلانی کے مطابق مجہول راوی کی روایت ضعیف ہے اور ضعیف فضائل میں مقبول ہے
قَوْلُ ابْنِ حَجَرٍ: وَفِيهِ رَاوٍ مَجْهُولٌ، وَلَا يَضُرُّ لِأَنَّهُ مِنْ أَحَادِيثِ الْفَضَائِلِ
امام مولا علی قاری لکھتے ہیں کہ امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں راوی اگرچہ مجہول ہے لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ یہ حدیث فضائل میں سے ہے اور فضائل میں مجھول راویوں والی حدیث بھی مقبول ہے
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,2/569
.
*#ساتواں راوی*
قال: سمعت أحمد بن حنبل قيل له: قران بن تمام؟ قال: ليس به بأس.أخبرنا البرقاني، قال: سألت أبا الحسن الدارقطني، عن قران بن تمام، فقال أبو تمام: كوفي ثقة.
قران بن تمام راوی کے متعلق امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس کی روایت کردہ حدیث و روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، امام دار قطنی فرماتے ہیں کہ یہ کوفی ہیں ثقہ معتبر ہیں
تاريخ بغداد - ت بشار14/493
۔
*#آٹھواں راوی*
یونس نام کے تو یقینا بہت سارے راوی ہیں لیکن امام حسن بصری سے جو روایت کرتے ہیں وہ یونس بن عبید ہیں جو ثقہ معتبر ہیں جیسے کہ امام احمد بن حنبل نے
فرمایا
قال أحمد بن حنبل: يونس بن عبيد، ثقة...: قال أحمد بن حنبل: ما أحد في أصحاب الحسن أثبت من
يونس
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے روایت کرنے والوں میں سب سے زیادہ مضبوط راوی یونس بن عبید ہیں جو ثقہ معتبر ہیں
موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله4/179
.
*#ناوان راوی*
مذکورہ حدیث پاک کا اخری راوی سیدنا حسن بصری تابعی جلیل القدر انتہائی معتبر شخصیت ہیں جس پر کوئی حوالہ دینے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی تبرک کے طور پر ایک حوالہ لکھ دیتا ہوں
الحسن البصرى تكرر فى المختصر، والمهذب. هو الإمام المشهور المجمع على جلالته
امام حسن بصری بہت مشہور امام ہیں جن کے جلیل القدر ہونے پر سب کا اجماع ہے
تهذيب الأسماء واللغات1/161
.
*#پانچویں بات* 5️⃣
✅👈👈مذکورہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری تابعی ہیں اور انہوں نے کسی صحابی کا نام نہیں لیا ڈائریکٹ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کی اور اس انداز میں بیان کردہ حدیث کو مرسل حدیث کہتے ہیں اور مرسل حدیث و روایت کے متعلق بعض علماء کا فتوی ہے کہ اس سے فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے اور کوئی حکم شرعی بھی ثابت ہو سکتا ہے اور بعض علماء کے مطابق اس سے شرعی حکم تو ثابت نہیں ہوگا لیکن فضیلت کے معاملے میں مرسل ضعیف قابل قبول ہے،5 معتبر حوالے پڑھیے
۔
1....امام مولا علی قاری اور امام ابن حجر عسقلانی کے مطابق مرسل حدیث اس حدیث کو کہتے ہیں کہ:
المرسَل وَصورته أَن يَقُول التَّابِعِيّ، سَوَاء كَانَ كَبِيرا أم صَغِير اقَالَ رَسُول الله [صلى الله عَلَيْهِ وَسلم] كَذَا، أَو فعل كَذَا، أَو فُعِل) بِصِيغَة الْمَجْهُول (بِحَضْرَتِهِ كَذَا، أَو نَحْو ذَلِك) أَي مِمَّا يُضَاف إِلَيْهِ صلى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَسلم من الرِّوَايَة، والسماعِ، والحُكْمِ، والجوابِ، والإجابِة، وَالْأَمر، وَالنَّهْي، وغيرِ ذَلِك مِمَّا يَشْمَل الحِلية وَنَحْوهَا. وَهَذَا هُوَ الْمُعْتَمد
مرسل حدیث اس طرح ہوتی ہے کہ تابعی جو کم عمر ہو یا بڑی عمر کا ہو وہ کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یا کہے کہ فلاں کام کیا یا پھر کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فلاں کام کیا گیا وغیرہ کچھ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرے روایت منسوب کرے یا سننا یا حکم لگانا یا جواب دینا یا منع کرنا وغیرہ کچھ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرے تو وہ روایت و احادیث مرسل کہلاتی ہے( کیونکہ تابعین نے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پایا ہی نہیں ہوتا لہذا عین ممکن ہے اس نے کسی اور تابعی سے سنا ہو اور اس تابعی نے کسی صحابی سے سنا ہو یا عین ممکن ہے کہ خود اس نے ہی کسی صحابی سے سنا ہو)
شرح نخبۃ الفکر للقاری ص400
2....امام ابن حجر عسقلانی اور امام مولا علی قاری کے مطابق مرسل حدیث کا حکم یہ ہے کہ:
وَاعْلَم أَن كَون الْمُرْسل حَدِيثا ضَعِيفا لَا يحْتَج بِهِ، إِنَّمَا هُوَ اخْتِيَار جمَاعَة من الْمُحدثين، وَهُوَ قَول الشَّافِعِي رَضِي الله عَنهُ، وَطَائِفَة من الْفُقَهَاء،وَأَصْحَاب الْأُصُول. وَقَالَ مَالك فِي الْمَشْهُور عَنهُ، وَأَبُو حنيفَة، وَأَصْحَابه، وَغَيرهم من أَئِمَّة / الْعلمَاء كأحمد فِي الْمَشْهُور عَنهُ: أَنه صَحِيح يحْتَج بِهِ۔۔۔إِذا عرف من حَاله [أَنه] غير مُلْتَزم بِأَن يُرْسِلهُ عَن ثِقَة، فَلَا يقبل مرسله
مرسل حدیث کے متعلق علماء کرام کے دو مشہور گروہ ہیں ایک گروہ فرماتا ہے کہ فضیلت کے معاملے میں اور شرعی حکم ثابت کرنے یا منع کرنے وغیرہ پر بھی وہ حدیث معتبر کہلائے گی بشرط کہ وہ ثقہ سے وہ مرسل کرتا ہو ورنہ ضعیف کہلائے گی جو کہ فضائل میں معتبر کہلائے گی، یہ قول امام مالک کا ہے امام ابو حنیفہ اور دیگر حنفیوں اور دیگر ائمہ محدثین کا بھی ہے لیکن دوسرا گروہ جس میں امام شافعی اور دیگر فقہاء اور کچھ دیگر محدثین شامل ہیں ان کا فرمان ہے کہ مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے جس سے شرعی حکم ثابت نہیں کیا جا سکتا لیکن فضائل میں قبول و قابل عمل ہے
شرح نخبۃ الفکر للقاری ص405ومابعدہ ماخوذا
.
3....امام سیوطی اور امام نووی کے مطابق مرسل حدیث کا حکم یہ ہے کہ:
ثُمَّ الْمُرْسَلُ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ عِنْدَ جَمَاهِيرِ الْمُحَدِّثِينَ وَالشَّافِعِيِّ وَكَثِيرٍ مِنَ الْفُقَهَاءِ وَأَصْحَابِ الْأُصُولِ. وَقَالَ مَالِكٌ، وَأَبُو حَنِيفَةَ فِي طَائِفَةٍ: صَحِيحٌ
مرسل حدیث جمہور محدثین اور امام شافعی اور بہت سارے فقہاء اصحاب اصول کے نزدیک ضعیف ہے اور امام مالک اور امام ابو حنیفہ نے فرمایا ہے کہ مخصوص تابعین کی مرسل صحیح ہے جس سے حکم شرعی اور فضیلت دونوں ثابت کیے جا سکتے ہیں,مخصوص تابعین کے علاوہ دیگر تابعی کی مرسل روایت و حدیث ضعیف ہے جس پر فضیلت کے معاملے میں عمل کیا جا سکتا ہے
تدریب الراوی1/222مشرحا
.
4...امام ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں
أن المرسل يعمل به في الفضائل، وإن لم يعتضد
فضائل کے معاملے میں مرسل حدیث و روایت پر عمل کر سکتے ہیں اگرچہ اس کی تائید کسی اور روایت سے نہ ہوتی ہو
إتحاف ذوي المروة والإنافة بما1/66
.
5...تمام علماء کا متفقہ فیصلہ:
قال النووي وقد اتفق العلماء على أن الحديث المرسل، والضعيف، والموقوف يتسامح به في فضائل
الأعمال
امام نووی فرماتے ہیں کہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ حدیث مرسل اور ضعیف حدیث اور موقوف حدیث فضائل کے معاملے میں اس پر عمل کیا جا سکتا ہے ، اس میں سختی نہیں کی جائے گی
موسوعة أحكام الطهارة - الدبيان7/52
۔
*#چھٹی بات* 6️⃣
🟩✅👈مذکورہ بالا بحث سے ثابت ہوا کہ حدیث پاک کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے یہ حدیث پاک کچھ سندوں کے ساتھ ائی ہے ان میں سے کچھ سندوں میں جھوٹے راوی ہیں جس کی وجہ سے علماء نے اس سند کے اعتبار سے اس حدیث پاک کو موضوع من گھڑت کہا لیکن اس کی دوسری سند بھی ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ ضعیف مرسل ہے اور تمام علماء کے مطابق فضیلت کے معاملے میں مرسل ضعیف حدیث معتبر قابل قبول ہے
۔
🟩👈یہ بات فقط ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ حوالہ جات کے ساتھ ثابت کی بلکہ کچھ علماء کرام نے واضح طور پر فرمایا کہ مذکورہ بالا حدیث مرسل ضعیف ہے جو فضائل میں قابل قبول ہے
۔
1۔۔۔۔امام ملا علی قاری اور امام سیوطی کے مطابق مرسل ہے جو کہ ضعیف کی قسم ہے اور اوپر حوالہ جات معتبر حوالہ جات کے ساتھ قانون لکھا کہ فضیلت کے معاملے میں ضعیف و مرسل حدیث بھی قابل قبول ہے لہذا یہ حدیث فضیلت کے معاملے میں قابل قبول ہے
(رَجَبُ شَهْرُ اللَّهِ وَشَعْبَانُ شَهْرِي وَرَمَضَانُ شَهْرُ أُمَّتِي فقد ذكره أَبُو الْفَتْح ابْن أَبِي الْفَوَارِسِ فِي أَمَالِيهِ عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا كَمَا ذَكَرَهُ السُّيُوطِيُّ
امام مولا علی قاری فرماتے ہیں کہ وہ جو حدیث ہے کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے اس کو ابو الفتح نے امام حسن بصری سے مرسل روایت کیا ہے جیسے کہ امام سیوطی نے بھی فرمایا ہے(اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے اور فضیلت کے معاملے میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ضعیف حدیث سے فضیلت و شان بیان کی جا سکتی ہے)
(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص460)
.
2۔۔۔۔نجدیوں وہابیوں غیر مقلدوں اہلحدیثوں کا امام و محدث ناصر الدین البانی نے مذکورہ حدیث کو ضعیف مرسل لکھا ہے اور اوپر ہم نے حوالہ جات کے ساتھ قائدہ لکھا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے نزدیک فضیلت کے معاملے میں ضعیف و مرسل حدیث قابل قبول ہوتی ہے۔۔ البانی لکھتا ہے
ضعيف أخرجه الأصبهاني في "الترغيب" (٢٢٦/ ١) ، عن قران بن تمام، عن يونس، عن الحسن...قلت: وهذا إسناد ضعيف
لإرساله
البانی لکھتا ہے کہ مذکورہ حدیث امام حسن بصری سے روایت کردہ ہے اور یہ مرسل ضعیف حدیث ہے(اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے اور فضیلت کے معاملے میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ضعیف حدیث سے فضیلت و شان بیان کی جا سکتی ہے)
(سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة9/390)
.
3۔۔۔۔محمد بن محمد درويش، أبو عبد الرحمن الحوت الشافعي لکھتے ہیں:
رَجَب شهر الله وَشَعْبَان شَهْري ورمضان شهر أمتِي ". ضَعِيف
رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے یہ حدیث ضعیف ہے(اور فضیلت کے معاملے میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ضعیف حدیث سے فضیلت و شان بیان کی جا سکتی ہے)
(أسنى المطالب في أحاديث مختلفة المراتب151)
۔
4۔۔۔۔علامہ صنعانی لکھتے ہیں
رجب شهر الله، وشعبان شهري، ورمضان شهر أمتي". أبو الفتح بن أبي الفوارس في أماليه عن الحسن مرسلاً
رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے یہ حدیث پاک امام حسن بصری سے مرسل روایت کردہ ہے(اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے اور فضیلت کے معاملے میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ضعیف حدیث سے فضیلت و شان بیان کی جا سکتی ہے)
التنوير شرح الجامع الصغير6/229
۔
5۔۔۔۔علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
رجبٌ شَهْرُ اللَّه، وشَعْبانُ شَهْرى، ورمضَانُ شَهْرُ أُمَّتى".
أبو الفتح بن أَبى الفوارس في أَماليه عن الحسن مرسلًا
رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے یہ حدیث پاک امام حسن بصری سے مرسل روایت کردہ ہے(اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے اور فضیلت کے معاملے میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ضعیف حدیث سے فضیلت و شان بیان کی جا سکتی ہے)
جمع الجوامع المعروف5/133
الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير2/125
.
6...نجدیوں وہابیوں غیر مقلدوں اہلحدیثوں کا امام شوکانی نے مذکورہ حدیث کو ضعیف مرسل لکھا ہے اور اوپر ہم نے حوالہ جات کے ساتھ قائدہ لکھا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے نزدیک فضیلت کے معاملے میں ضعیف مرسل حدیث قابل قبول ہوتی ہے۔۔ شوکانی لکھتا ہے
وأخرج أبو الفتح بن أبي الفوراس في "أماليه" عن الحسن مرسلًا أنه قال ﷺ: "رجب شهر الله، وشعبان شهري، ورمضان شهر أمتي
رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے یہ حدیث پاک امام حسن بصری سے مرسل روایت کردہ ہے( اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے اور فضیلت کے معاملے میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے اور ضعیف حدیث سے فضیلت و شان بیان کی جا سکتی ہے)
نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار8/416
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
https://wa.me/923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475
مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا