✅ *#بیس 20رکعت تراویح کے چند دلائل...قرآن مجید میں 540رکوع اور 20رکعت تراویح...؟؟ مختصر مدلل تحریر پڑھیے،ہوسکے تو شیئر کیجیے، پھیلائیے*
.
♥️قرآن مجید کھول کر دیکھیے کل 540 رکوع ہیں
فتاوی عالمگیری میں ہے کہ:
جعلوا القرآن على خمسمائة وأربعين ركوعا وأعلموا ذلك في المصاحف حتى يحصل الختم في ليلة السابع والعشرين..وجعلوا ذلك ركوعا ليقرأ في كل ركعة من التراويح
ترجمہ:
قران مجید کے 540 رکوع بنائے اور ان کے نشان قرآن مجید پر لگائے تاکہ ستائیں رمضان میں ختم القرآن مکمل ہو جائے...(وہ اس طرح کہ) تراویح کہ ہر رکعت مین ایک رکوع پڑھا جائے..(فتاوی عالمگیری جلد1 صفحہ118ملتقطا)
🧠👈جی ہاں جب روزانہ بیس رکعت تراویح پڑھی جائے اور ہر ایک رکعت میں ایک رکوع پڑھ کر رکوع کیا جائے تو ستائیس کو ختم القرآن پورا ہو جائے گا..27 کو 20 سے ضرب دیجیے تو جواب 540 رکوع آئے گا..
.
🌹الحدیث:
ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ليلة من جوف الليل فصلى في المسجد وصلى رجال بصلاته، فاصبح الناس فتحدثوا، فاجتمع اكثر منهم فصلى فصلوا معه، فاصبح الناس فتحدثوا، فكثر اهل المسجد من الليلة الثالثة، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى فصلوا بصلاته، فلما كانت الليلة الرابعة، عجز المسجد عن اهله حتى خرج لصلاة الصبح، فلما قضى الفجر، اقبل على الناس فتشهد، ثم قال: اما بعد، فإنه لم يخف علي مكانكم، ولكني خشيت ان تفترض عليكم فتعجزوا عنه
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ (رمضان کی) نصف شب میں مسجد تشریف لے گئے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے (اس رات بھی) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ (لیکن اس رات آپ برآمد ہی نہیں ہوئے) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ
(بخاری حدیث2012باب صلاۃ التراویح)
✅اس حدیث پاک سےثابت ہوا کہ رسول کریم نےصحابہ کرام کو تین رات نماز تراویح پڑھائی پھر اس لیے جماعت کرانا چھوڑ دیا کہ کہیں فرض نہ ہو جائے
.
🧠 *#یہاں دو تحقیق طلب باتیں ہیں*
اول:
رسول کریم نے کتنی رکعات پڑھائیں......؟؟
دوئم:
تین رات کے بعد کیا رسول کریم اور صحابہ انفرادی طور پےتراویح پڑھا کرتے تھے یا تین دن کے بعد پڑھنا چھوڑ دی......؟
.
1️⃣الحدیث:
ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ حجرة، قال: حسبت انه قال: من حصير في رمضان فصلى فيها ليالي فصلى بصلاته ناس من اصحابه، فلما علم بهم جعل يقعد فخرج إليهم، فقال: قد عرفت الذي رايت من صنيعكم فصلوا ايها الناس في بيوتكم
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز (تروایح) پڑھتے رہو..(بخاری حدیث 731)
.
2️⃣الحدیث:
حَدِيثُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً لَيْلَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فَلَمْ يَخْرُجْ إلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ مِنْ الْغَدِ خَشِيت أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ
ترجمہ:
حدیث ہے کہ رسول کریم نے صحابہ کرام کو رمضان میں دو راتیں 20رکعت تراویح پڑھائی پھر تیسری رات پڑھانے نہ آئے اور فرمایا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں تم پر فرض نہ ہوجائے
(التلخیص الحبیر حدیث540)
.
3️⃣الحدیث:
حَدِيثُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيَالِيَ مِنْ رَمَضَانَ وَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَخْرُجْ بَاقِي الشَّهْرَ وَقَالَ "صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ
ترجمہ:
حدیث پاک ہے کہ رسول کریم نے دو راتیں تراویح پڑھائیں اور پھر رمضان کے دنوں تراویح کی جماعت نہ کرائی اور فرمایا کہ تراویح گھروں میں پڑھو
(التلخیص الحبیر حدیث541)
.
4️⃣امام بخاری کے استاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث پاک روایت کرتے ہیں کہ:
حدثنا يزيد بن هارون، قال: أنا إبراهيم بن عثمان، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعة
ترجمہ:
بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں 20رکعت تراویح پڑھتے تھے
(المصنف لابن ابی شیبہ حدیث7692)
.
5️⃣امام طبرانی حدیث پاک روایت کرتے ہیں
حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني قال: نا علي بن الجعد قال: نا أبو شيبة إبراهيم بن عثمان، عن الحكم بن عتيبة، عن مقسم، عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان «يصلي في رمضان عشرين ركعة
ترجمہ:
بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں 20رکعت تراویح پڑھتے تھے(طبرانی اوسط حدیث798)
.
6️⃣حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْقَصْرِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ ، رَحِمَهُ اللَّهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحنازِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ ، فَصَلَّى النَّاسُّ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ رَكْعَةً وَأَوْتَرَ
بِثَلاثَةٍ
سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت عشاء کے فرض پڑھانے کے علاوہ 20 رکعت تراویح پڑھائی اور تین وتر پڑھائے جماعت کے ساتھ
تاریخ جرجان حدیث436
۔
.
7️⃣حدثنا حدثنا أبو الفضل عبيد الله بن عبد الرحمن الزهري , نا محمد بن هارون بن حميد الرازي , نا إبراهيم بن المختار , عن عبد الرحمن بن عطاء , عن ابن عتيك , عن جابر , أن النبي صلى الله عليه وسلم " خرج ليلة في رمضان فصلى بالناس أربعة وعشرين ركعة " . وحدثنا ابن حيويه , عن ابن المجلد , وزاد : وأوتر بثلاث
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات چار رکعت عشاء کی جماعت کرانے کے بعد 20 رکعت تراویح جماعت سے پڑھائی
التاسع من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي حدیث27
۔
👈👈انفرادی طور پر مذکورہ روایات و حدیث کو ضعیف مان بھی لیا جائے تو بھی تعدد طرق کی وجہ سے حسن و معتبر و قابل دلیل کہلائے گی کیونکہ سنی شیعہ نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ تعدد طرق سے ضعیف روایت حسن و معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے.... اس اصول کے بہت سارے حوالہ جات دیے جا سکتے ہیں مگر ہم درج زیل 16 حوالہ جات پہ اکتفاء کر رہے ہیں
.
1۔۔۔شیعہ کے علاوہ سب کا متفقہ امام علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
فهما ضعيفان، فينجبر أحدهما للآخر فيرتقي الإسناد إلى الحسن لغيره
دو حدیثیں اگرچہ بنیادی طور پر ضعیف ہیں لیکن ایک دوسرے کو تقویت دے کر دونوں مل کر حسن معتبر قابل دلیل حدیث بن جائیں گی
(المطالب العالیہ11/257)
.
2۔۔۔۔موجودہ وہابیوں نجدیوں اہل حدیثوں غیر مقلدوں کا موجودہ دور کا بہت بڑا معتبر ترین عالم محقق مسٹر البانی لکھتا ہے:
إن تعدد الطرق إنما يرفع الحديث إلى مرتبة الحسن لغيره إذا كان الضعف في الرواة من جهة الحفظ والضبط فقط، لا من ناحية تهمة الكذب، فإن كثرة الطرق لا تفيد شيئا إذ ذاك "
حدیث ضعیف کی ایک دو سندیں یا زیادہ سندیں مل جائیں اگرچہ وہ ضعیف ہوں تب بھی وہ حدیث مجموعی طور پر حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے بشرط کہ حدیث کا ضعف کی وجہ کذب یا تہمت کذب نہ ہو
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ1/88)
.
3۔۔۔۔وقد يكثر الطرق الضعيفة فيقوى المتن
تعدد طرق سے ضعف ختم ہو جاتا ہے اور(حدیث و روایت کا) متن قوی(معتبر مقبول صحیح و حسن)ہوجاتا ہے
(شیعہ کتاب نفحات الازھار13/55)
.
4۔۔۔۔۔علامہ ابو المحاسن علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
أن تعدد الطرق، ولو ضعفت، ترقي الحديث إلى الحسن
بےشک تعدد طرق سے ضعیف روایت و حدیث حسن و معتبر بن جاتی ہے(اللؤلؤ المرصوع ص42)
.
5۔۔۔۔۔امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
لِأَنَّ كَثْرَةَ الطُّرُقِ تُقَوِّي
کثرت طرق(تعدد طرق)سے روایت و حدیث کو تقویت ملتی ہے(اور ضعف ختم ہوجاتا ہے)
(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي ,1/179)
.
6۔۔۔۔۔امام ملا علی قاری فرماتے ہیں
فَهَذِهِ عِدَّةُ طُرُقٍ وَإِنْ لَمْ يُحْتَجَّ بِوَاحِدٍ مِنْهَا فَالْمَجْمُوعُ يُحْتَجُّ بِهِ لِتَعَدُّدِ الطُّرُقِ
چند طرق اگرچہ انفرادی طور پر ان سے دلیل نہیں پکڑ سکتے کیونکہ ضعیف ہیں مگر ان سب کو ملا کر مجموعی طور پر یہ قابل دلیل بن جاتے ہیں
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح4/1395)
.
7....امام بیھقی سے ثبوت
فَإِذَا ضَمَمْنَا هَذِهِ الْأَسَانِيدَ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، أَخَذَتْ قُوَّةً
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں لیکن یہ اپس میں مل جائیں تو تقویت و قوت پکڑ لیتی ہیں اور دلیل بن سکتی ہیں
(معرفۃ السنن والاثار2/65)
۔
هَذِهِ الْأَسَانِيدُ وَإِنْ كَانَتْ ضَعِيفَةً فَهِيَ إِذَا ضُمَّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ أَخَذَتْ قُوَّةً
حدیث کی یہ سندیں انفرادی طور پر اگرچہ ضعیف ہیں مگر یہ سب مل کر قوت و تقویت حاصل کر لیتی ہیں اور قابل دلیل بن جاتی ہیں
(شعب الایمان5/333)
.
8....امام ذہبی سے ثبوت
ويكون المتنُ مع ذلك عُرِف مِثلُه أو نحوُه مِن وجهٍ آخر اعتَضد به
ضعیف حدیث کی تقویت دوسری ضعیف حدیث سے ہوتی ہے اور وہ قابل دلیل بن جاتی ہے
(الموقظة للذهبي ص28)
۔
.
9تا16..... *#امام احمد بن حنبل امام بخاری امام علی بن مدینی امام منذری امام عراقی امام ابن کثیر امام ذہبی امام ابن حجر عسقلانی امام زیلعی وغیرہ کئی ائمہ محدثین سے اس کا ثبوت۔۔۔۔۔۔۔ !!*
تحسينَ الحديث الضعيف ضعفاً خفيفاً بتعدُّد طرقه، أو وجود شواهد له، مذهبٌ دَرَجَ عليه حفاظ الحديث ونقاده من الأئمة المتقدمين، أمثال الإمام أحمد بن حنبل، وعلي بن المديني، ومحمد بن إسماعيل البخاري وغيرهم، وارتضاه المتأخرون من أهل العلم، وأخذوا به، ومَشَوْا عليه إلى يومنا هذا، وفيما دوَّنَه الحفاظ:المنذريُّ والعراقي وابن كثير والذهبي وابن حجر والزَّيْلعي وغيرهم
مسند امام احمد بن حنبل کے حاشیہ میں ہے کہ وہ حدیث کہ جو زیادہ سخت ضعیف نہ ہو وہ درج ذیل ائمہ امام احمد بن حنبل امام بخاری امام علی بن مدینی امام منذری امام عراقی امام ابن کثیر امام ذہبی امام ابن حجر عسقلانی امام زیلعی وغیرہ کئی ائمہ محدثین کے مطابق دیگر ضعیف احادیث یا دیگر ضعیف سندوں سے مل کر حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے
(مقدمة مسند احمد1/78)
۔
*#الحاصل*
اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ درج ذیل تقریبا 16 ائمہ محدثین محققین سے ثابت ہے کہ وہ اگرچہ کسی حدیث کو صرف اس حدیث کی انفرادیت کی طرف نظر کرتے ہوئے ضعیف کہہ دیتے ہیں مگر اس جیسی دوسری حدیث ضعیف موجود ہو تو ان تمام محققین محدثین کے مطابق دو تین ضعیف حدیث مل کر حسن معتبر قابل دلیل قوی حدیث بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ 16 نام تو ہم نے حوالہ جات دیکھ کر ثابت کیے ورنہ ہزاروں ائمہ محدثین کا یہی نظریہ ہے
.
👈👈وہ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور رمضان کے علاوہ اٹھ رکعت ہی پڑھا کرتے تھے تو یہ روایت 20 رکعت تراویح کے مخالف نہیں کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عام روٹین اور اکثری احوال بیان فرمایا ہے جسے ہم بھی مانتے ہیں کہ عام طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 20 رکعت تراویح جماعت سے نہیں پڑھی بلکہ ایک دو دن 20 رکعت تراویح کی جماعت کرائی، یا سیدہ عائشہ کا فرمان تہجد کے بارے میں ہے کہ تہجد کی اٹھ رکعت ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے باقی تراویح کا معاملہ الگ ہے جیسے کہ اوپر روایات سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین دن 20 رکعت تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور اس کے بعد گھروں میں تراویح پڑھنے کی ترغیب دی تاکہ فرض نہ ہو جائے لیکن پھر خلفائے راشدین نے 20 رکعت تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلفائے راشدین کی پیروی کرو لہذا تراویح فرض تو نہیں لیکن ضروری ضرور ہے جو بغیر عذر کے چھوڑے گا گنہگار ہوگا
۔
👈👈ان احادیث مبارکہ سے واضح ہوتاہےکہ رسول کریم نے دو یا تین راتیں جو ترویح پڑھائیں وہ 20رکعت تھیں
اور پھر رسول کریم نے انفرادی طور پر گھروں میں تراویح پڑھنے کی ترغیب دی لیھذا ثابت ہوا کہ رسول کریم اور صحابہ انفرادی طور پر 20رکعت تراویح پڑھتے تھے
👈مذکورہ احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم نے محض دو چار دن تراویح پڑھ کر چھوڑ نہ دی بلکہ آپ کی عادت مبارکہ رہی کہ اپ رمضان میں انفرادی طور پر گھر یا مسجد میں 20رکعت تراویح پڑھتے رہے.....اور صحابہ کرام کو بھی حکم دیا کہ اب جماعت نہ ہوگی انفرادی طور پے پڑھو تو لیھذا صحابہ کرام بھی مسجد یا گھر میں انفرادی طور پر 20رکعت تراویح پڑھتے رہے....معاملہ یونہی چلتا رہا حضرت عمر کے دور میں بھی معاملہ اسی طرح تھاکہ بعض صحابہ گھروں میں تروایح پڑھتے اور بعض مسجد میں انفرادی طور پر پڑھتے تھے 👈تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا ہوگا کہ اب اگر تراویح جماعت سے پڑھی جائے تو فرض ہو جانے کاخوف نہیں.... فرض تو تب ہوتی جب رسول کریم پابندی سے تراویح کی جماعت کراتے
لھذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ پیش کیا کہ کیوں ناں تراویح ایک امام و حافظ قرآن کے پیچھے پڑھی جائے تو یہ کیا ہی نئ عمدہ چیز ہوگی،♥️اکثر صحابہ کرام کو مشورہ پسند آیا اور اس طرح بیس رکعت تراویح پابندی کےساتھ حافظ قرآن کےپیچھے پڑھنا اکثر صحابہ کرام تابعین عظام آئمہ علماء اولیاء اسلاف کا معمول بن گیا
1....وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي خِلَافَتِهِ اسْتَشَارَ الصَّحَابَةَ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ فَلَمْ يُخَالِفُوهُ
ترجمہ:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ کیوں ناں ایک قاری حافِظ کے پیچھے سب جماعت کے ساتھ تراویح پٍڑہیں تو اس مشورے کی اکثر صحابہ کرام نے مخالفت نہ کی(گویا اجماع صحابہ ہوگیا)
(بدائع صنائع1/298)
.
2....الحدیث:
وعن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، انه قال:" خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه ليلة في رمضان إلى المسجد، فإذا الناس اوزاع متفرقون، يصلي الرجل لنفسه، ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط، فقال عمر:إني ارى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان امثل، ثم عزم فجمعهم على ابي بن كعب، ثم خرجت معه ليلة اخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم، قال عمر: نعم البدعة هذه
ترجمہ:
اور ابن شہاب سے (امام مالک رحمہ اللہ) کی روایت ہے، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت کی کہ انہوں نے بیان کیا میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے، کوئی اکیلا نماز تراویح پڑھ رہا تھا، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری(حافظ قران) کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز تراویح پڑھ رہے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ(مستقلا جماعت سےتراویح پڑھنا) نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے،اچھی بدعت ہے
(بخاری حدیث2010تراویح کا بیان)
.
3....فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة (إِسْنَاده حسن)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے پر صحابی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام و تابعین وغیرہ سب کو رمضان المبارک میں رات کے وقت 20 رکعت تراویح پڑھاتے تھے( اور صحابہ کرام اور تابعین نے اس کی مخالفت نہیں کی گویا اجماع ہو گیا 20 رکعت تراویح پر) اور اس روایت کی سند حسن معتبر قابل دلیل ہے
الاحادیث المختارہ3/367ملخصا
.
🟪اب ہم مزید چند حوالا جات لکھ رہے ہیں کہ خلفاء راشدین اور اکثر صحابہ کرام جماعت کے ساتھ 20رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے
1️⃣كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب في رمضان بثلاث وعشرين ركعة
ترجمہ:
حضرت سیدنا عمر کے زمانے میں لوگ(صحابہ کرام تابعین عظام و دیگر اہل اسلام)رمضان میں 20رکعت تراویح اور تین رکعت وتر جماعت سے پڑھتے تھے
(موطا امام مالک روایت252)
.
2️⃣امام بخاری کے استاد روایت لکھتے ہیں کہ:
حدثنا وكيع، عن حسن بن صالح، عن عمرو بن قيس، عن ابن أبي الحسناء، «أن عليا أمر رجلا يصلي بهم في رمضان عشرين ركعة
ترجمہ:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں 20رکعت تراویح پڑھائیں
(المصنف استاد بخاری روایت7681)
.
3️⃣امام بخاری کے استاد روایت لکھتے ہیں کہ:
حدثنا وكيع، عن نافع بن عمر، قال: " كان ابن أبي مليكة يصلي بنا في رمضان عشرين ركعة
ترجمہ:
صحابی سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ ہمیں رمضان میں 20رکعت تروایح پڑھاتے تھے
(المصنف استاد بخاری روایت7683)
.
4️⃣امام بخاری کے استاد روایت لکھتے ہیں کہ:
حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن حسن، عن عبد العزيز بن رفيع قال: «كان أبي بن كعب يصلي بالناس في رمضان بالمدينة عشرين ركعة
ترجمہ:
صحابی سیدنا ابی بن کعب رمضان میں مدینہ شریف میں 20رکعت تراویح پڑھاتے تھے
(المصنف استاد بخاری روایت7684)
.
5️⃣امام ترمذی فرماتے ہیں:
وأكثر أهل العلم على ما روي عن عمر، وعلي، وغيرهما من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عشرين ركعة، وهو قول الثوري، وابن المبارك، والشافعي " وقال الشافعي: «وهكذا أدركت ببلدنا بمكة يصلون عشرين ركعة
ترجمہ:
سیدنا عمر ،سیدنا علی رضی اللہ عنھما و دیگر صحابہ کرام علیھم الرضوان سے روایات ہیں کہ تراویح 20رکعت ہے،یہی اکثر اہل علم کا قول ہے...یہی امام ثوری امام ابن مبارک امام شافعی کا قول ہے...امام شافعی فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میںنے(نجدیوں اہلحدیثوں کے قبضے سےپہلے)مکہ میں لوگوں کو اسی طرح 20رکعت تروایح پڑھتےپایا ہے
(ترمذی بعد الحدیث806)
.
✅مذکورہ دلائل و حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت 20رکعت تراویح ہے اور اسی طرح اکثر صحابہ خلفاء راشدین کی سنت بھی 20رکعت تراویح ہے
اور
🚨🚨👈👈👈رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرماتے ہوا حکم دیا کہ:
فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين
ترجمہ:
تم پر میری سنتیں اور میرے خلفاء راشدین مھدیین کی سنتیں لازم ہیں..(ابوداود حدیث4608)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475
👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے