🟩 *#انڈین فلمی ہیرو اور علماء کرام۔۔؟مشن منصوبے۔۔؟ انسانیت۔؟ انتہائی اہم تحریر ہے،سیوو کیجیے،شئیر کیجیے، وقت نکال کر یکدم یا وقفےوقفےسےایک دفعہ تو ضرور پڑھیے،سمجھیے، سمجھائیے، پھیلائیے*
.
🟥المختصر۔۔۔۔پڑھا ہےکہ مشھور انڈین کامیڈی ہیرو راجپال یادو غربت قرض کیوجہ مسلسل تکلیف سے گزرنے کے بعد اب جیل میں ہے،🚨سوچیے کہیں ہمارا حال بھی تو ایسا نہیں کہ ہم سرگرم سچےاہلسنت علماء لکھاری ورکرز مدارس امام مسجد کی تحریر تقریر مدرسہ کتاب وقت خدمات سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں مگر دوستانہ مالی مددگار اور پرسان حال والےمددگار بہت کم ہوتےہیں👈ایمان و انسانیت کا تقاضہ ہے کہ رشتےدار دوست احباب غرباء کے ساتھ تعاون کرنے،حال پوچھنے، خیال رکھنے مشورے دینےکے ساتھ ساتھ
👈👈سچےسرگرم اہلسنت علماء ورکرز لکھاری مدارس امام مسجد کا بھی خصوصی خیال رکھیں،انکے درد تکالیف اور مالی ضروریات وغیرہ میں دوست و اپنوں کی طرح کام ائیں📌ضروری نہیں کہ ہر مشھور یا ماہر پیسےوالا ہو،خیال رکھنے والےدوست و احباب والا بھی ہو۔۔۔۔!!
۔
👈کیا اپ نے کبھی فوجی سے کہا ہے کہ سرحد کی نگہبانی تو دینی کام ہے ، حب الوطنی ہے۔۔۔اس کے پیسے کیوں لیتے ہو۔۔۔۔؟؟ کیا اپ نے عدلیہ ججز پارلیمنٹ وزیراعظم وزیراعلی وزراء وغیرہ سے پوچھا ہے کہ اپ لوگ تو عوام کی خدمت کر رہے ہیں ، اپنی اخرت سنوار رہے ہیں تو پھر تنخواہ مراعات کیوں لیتے ہیں۔۔۔۔؟؟ 👈تو پھر علماء مدارس لکھاری امام مسجد لکھاری وغیرہ سرگرم اہلسنت سے کیوں کہتے ہیں کہ کماو، چندہ تعاون کیوں مانگتے ہو۔۔۔۔؟؟📌یہ کیوں نہیں کہتے کہ ججز عدلیہ فوجی سیاست دان وزراء سائنس دان لیکچرار ٹیچرز سب مفت میں خدمات سر انجام دیں اور اپنی ضروریات کے لیے تجارت بھی کریں۔۔۔۔؟؟
👈ایمان انسانیت انصاف و عقل کا تقاضہ ہے
کہ
دینی دنیاوی معاملات علماء جج وکیل ڈاکٹر نرس فوجی سیاستدان سائنسدان تاجر عبادت و خدمات وغیرہ ہر فیلڈ و شعبہ جو اسلام کی سربلندی، دین و دنیا کی بھلائی ترقی کے لیےہو تو وہ لازم ہے اور ایک دوسرے کی مدد تنخواہ تعاون لازم ہے
.
🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟪👈چار جوابات اور اخر میں اہم تفصیلی نوٹ کے تحت بہت کچھ لکھا ہے وہ بھی ایک دفعہ تو لازمی پڑھیے
👈سوال
*#مولوی جب دیکھو چندہ تعاون مانگتے ہو، کماتے کیوں نہیں....؟؟*
✅ *#جواب و تفصیل........!!*
چار جوابات اور اخر میں اہم نوٹ لکھا ہے ، بھرپور کوشش کرکے وقت نکال کر، تھوڑا تھوڑا کرکے یا یکدم پڑھیے مگر ایک دفعہ تو ضرور پڑھیے سمجھیے سمجھائیے پھیلائیے، عمل کیجیے، عمل کرائیے
۔
*#پہلا جواب* 1️⃣
کیا اپ نے کبھی فوجی سے کہا ہے کہ سرحد کی نگہبانی تو دینی کام ہے ، حب الوطنی ہے۔۔۔اس کے پیسے کیوں لیتے ہو۔۔۔۔؟؟ کیا اپ نے عدلیہ ججز پارلیمنٹ وزیراعظم وزیراعلی وزراء وغیرہ سے پوچھا ہے کہ اپ لوگ تو عوام کی خدمت کر رہے ہیں ، اپنی اخرت سنوار رہے ہیں تو پھر تنخواہ مراعات کیوں لیتے ہیں۔۔۔۔؟؟👈تو پھر علماء مدارس لکھاری امام مسجد لکھاری وغیرہ سرگرم اہلسنت سے کیوں کہتے ہیں کہ کماو، چندہ تعاون کیوں مانگتے ہو۔۔۔۔؟؟📌یہ کیوں نہیں کہتے کہ ججز عدلیہ فوجی سیاست دان وزراء سائنس دان لیکچرار ٹیچرز سب مفت میں خدمات سر انجام دیں اور اپنی ضروریات کے لیے تجارت بھی کریں۔۔۔۔؟؟
۔
✅یہ اعتراض وسوسہ بہت پرانہ ہے جسکا جواب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا تھا....اسلام نے اسکا جواب دے دیا تھا
🌹الحدیث:
كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے ایک کماتا تھا اور دوسرا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم کے لیے حاضر ہوتا تھا، کمانے والے بھائی نے شکایت لگائی رسول کریم سے تو رسول کریم نے فرمایا کہ اے کمانے والے شاید کہ تجھے رزق بھی اس علم کی وجہ سے دیا جاتا ہو
(ترمذی حدیث167)
✅ اس حدیث پاک میں واضح اشارہ ہے کہ طعنے نہیں مارنے چاہیے کہ تم کماؤ.... علم کے پیچھے پڑے ہو، کماؤ کماؤ.....ایسے طعنے نہیں مارنے چاہیے بلکہ بعض احباب ضروری علم کے ساتھ ساتھ زیادہ توجہ دولت تجارت میں دیں خوب کمائیں اور ♥️بعض احباب خصوصی طور پر علم و شعور کے لیے مختص ہوں
♥️ پیسے کمانے والے کو علم والا اس طرح مدد کرے کہ اس کو علم دے اور علم والے کو پیسے والا اس طرح مدد کرے کہ اس کو پیسہ دے.... اس طرح ایک دوسرے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے ایک دوسرے کو طعنے نہیں مارنے چاہیے
۔
👈👈اسی طرح کچھ خصوصی طور پر علم کے لیے مختص ہوں تو کچھ ضروری علم حاصل کرنے کے بعد تجارت میں جائیں سائنس میں جائیں سیاست میں جائیں ٹیچر پروفیسر بنیں سائنسدان بنیں ، جج وکیل اچھے زمیندار اچھے وڈیرے بنیں، الغرض ہر جائز شعبے میں ہمارے علم والے احباب جاءیں چھا جائیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کو کمتر و حقیر نہ سمجھیں.....اور اپنے شعبے میں سستی نہ کریں..... مدرسہ علم شعور کا بہانہ بنا کر اسکی اڑ میں پیسہ کمانا بدترین عمل ہے ، اس لیے سوچ سمجھ کر سچے سرگرم محنتی اہل علم میں مستحق مدارس میں خرچ کیجیے...جس میں جتنی ضرورت ہو اسکی اتنی مدد کیجیے اور علمی شعوری پڑھائی کی جدت و ترقی کے لیے مشورے ادب کے ساتھ دیجیے......!!
.
🌹الحدیث:
زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا
اللہ تجھے نیکیوں کا مزید حرص عطاء فرمائے
(بخاری حدیث783)
✅آخرت کےفائدے کے لیے نیکیوں اور مختلف نیکیوں کی حرص کیجیے...علمی تحریر تقریر عبادات ذکر اذکار کے لیے وقت پیسہ خرچ کرنے،تعاون کرنے میں حرص کرکے زیادہ خرچ کیجیے....مناسب حسب ضرورت تو ضرور خرچ کیجیے، کم از کم وقتا فوقتا حسب طاقت تو ضرور خرچ کیجیے
📌 اور حوصلہ و مشورہ باادب دیجیے کہ اے علم کے لیے مختص احباب و لکھار اور مدرسے کے احباب و علماء کرام خطیب حضرات امام مسجد وغیرہ آپ لوگ علم شعور مدارس کے معاملے میں محنت کر رہے ہو بہت پڑھا رہے ہو، اچھا پڑھاؤ، اچھی تربیت کر رہے ہو 👈مگر باادب عرض کرو کہ فلاں معاملے میں بظاہر علمی تدریسی تربیتی کمزوری لگ رہی ہے دور کیجیے، توجہ کیجیے.....!!
.
🟩 *#اللہ کی راہ یعنی علم شعور پھیلانے میں ایک خرچ کرنے کے بدلے سات سو نیکیاں ملتی ہیں...تو پھر اس کوئی معتبر سچا اچھا سرگرم مولوی آپ کو بتائیے کہ علم درس تدریس شعور پھیلانے میں ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے تو آپ کے دل و زبان پے عجیب تاثر کے بجائے خوشی کی لہر دوڑ جانی چاہیے کہ اچھا موقعہ ملا ہے،جتنا ہوسکے گا خرچ کرونگا لیکن افسوس ہمیں تو کچھ اور ہی کے حرص لگے ہوئے ہیں...اللہ پناہ اور اوپر سے طعنے الگ....افسوس*
.
🌹القرآن:ترجمہ:
ان کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اگائیاں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے
(سورہ بقرہ آیت261)
اللہ کی راہ خرچ کرنے کی اتنی فضیلت و ثواب ہے کہ ایک کے بدلے سات سو بلکہ اس سے بھی زیادہ.....اور اہلسنت مدارس و طلباء علماء لکھاری اہل علم پر خرچ کرنا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے👇
فمن أنفق ماله فى طلبة العلم صدق انه أنفق فى
سبيل الله
پس جس نے طالب علموں(مدارس علماء لکھاری طلباء) پر صدقہ(زکوٰۃ فطرہ کفارہ نفلی صدقہ مال)خرچ کیا بےشک اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا
(التفسير المظهري ,4/239)
👈👈تو سرگرم اہلسنت مدارس طلباء علماء لکھاری اہل علم پر خرچ کیجیے اور ایک کے بدلے سات سو سے بھی زیادہ ثواب کمائیے....🌀✅صدقے کے اور برکات بھی ہیں مثلا بلائیں دور ہوتی ہیں، رزق میں برکت ہوتی ہے،راحت و سکون ملتا ہے،کنجوسی وغیرہ باطنی امراض سے نجات ملتی ہے اور بھی بے شمار برکات ہیں
تو
پھر دیر کس بات کی...جلد از جلد ہر ماہ یاد کرکے اہلسنت مدارس و علماء و طلباء پر خرچ کیجیے،فصل کی کٹائی کے وقت عشر اور نفلی صدقات تعاون میں ضرور کیجیے....!!
.
🌹القرآن:
فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ
ترجمہ
تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی فقہ و سمجھ حاصل کریں اور اپنی قوم کو ڈر سنائیں(باعمل ہوکر علم شعور معاشرےمیں پھیلائیں)
(سورہ توبہ آیت122)
اس آیت مبارکہ میں بھی اشارہ ہے کہ بعض لوگ علم و شعور تحریر تقریر تحقیق و اصلاح کے لیے مخصوص ہوں...مدارس کے لیے مخصوص ہوں......اگر یہ لوگ کمانے میں لگیں گے تو بظاہر علم شعور مدارس کا سلسلہ کمزور سے کمزور بلکہ ختم ہی ہوتا جائے گا....اللہ نہ کرے ایسا ہو........!!
.
✅ *#دینی خدمات علم شعور مدارس میں منہمک سرگرم کو کمانا نہ چاہیے بلکہ سرکاری خزانے سے دیا جائے یا عوام دے...اج کل بن کہے کوئی دیتا نہیں تو اس لیے توجہ دلاتے ہیں، چندہ تعاون کی اپیل کرتے ہیں*
.
👈جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اگلے دن صبح صبح کندھے پے چادریں کپڑے اٹھائے بازار کی طرف چل دیے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کہنے لگے یا امیرالمومنین آپ یہ کیا کر رہے ہیں...؟ آپ کو تو لوگوں کی دیکھ بھال کی زمہ داری سونپی گئ ہے،فرمایا تجارت نہ کروں گا تو میں اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلاؤں گا...؟ حضرت عمر نے فرمایا چلیے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلتے ہیں(انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین الامۃ کا لقب عطا فرمایا ہے)ان سے رائے لیتے ہیں،سیدنا ابو عبیدہ نے فرمایا:
أفرض لك قوت رجل من المهاجرين، ليس بأفضلهم ولا أوكسهم
ترجمہ:
میں آپ کی تنخواہ ایک اوسط درجے کے مہاجر مزدور جتنی مقرر کرتا ہوں، پھر صحابہ کرام نے مل کر آپ کی تنخواہ پچیس سو درھم سالانہ(تقریبا سات درھم روزانہ)مقرر فرمائی
(دیکھیے تاریخ الخلفاء ص64,65)
.@@@@@@@@@@@@
*#دوسرا جواب.....!!* 2️⃣
ہم حقیقتا مانگ نہیں رہے بلکہ بتا رہے ہیں توجہ دلا رہے ہیں کہ اس جگہ خرچ کرو، ہم بھی ذاتی پیسے اس میں خرچ کر رہے ہیں مگر ہمارے پاس ذاتی پیسے کم ہیں، ناکافی ہیں، اس لیے آپ کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ اس طرف توجہ کیجیے خرچ کیجیے....مجبورا مانگیں تو بھی حرج نہیں
.
(امداد مدد قرض تعاون وغیرہ)ہرگز نا مانگ،مجبوری یاضرورت ہو تو اچھوں سے مانگ..(ابوداؤد حدیث1646)
.
@@@@@@@@@@@@
*#تیسرا جواب* 3️⃣
*#سرگرم سچے اچھے مولوی علماء لکھاری اگر چندے پے پلیں یا چندہ تعاون لے کر کھائیں تو بھی وہ چندہ خور نہیں بلکہ نوکری تجارت وزیر صدر جرنل کرنل کی تنخواہ سے افضل و بہتر ہیں شریعت کے لحاظ سے بھی اور عقل کے لحاظ سے بھی،ائیے سمجھتے ہیں۔۔۔!!*
.
🟩🧠دیکھیں سوچیں سمجھیں کہ
1۔۔۔۔صدر وزیراعظم اور دیگر وزراء عوام کے ٹیکس یا ملکی یا بین الاقوامی سرمایہ داروں کے تعاون ڈونیشن رشوت پے پلتے ہیں۔۔۔۔ انہیں یہ نہیں کہا جاتا کہ اپ تو فلاحی کام کر رہے ہیں، خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اسلام کے لیے کام کر رہے ہیں لہذا تم لوگ تعاون تنخواہ ڈونیشن استعمال نہ کرو نہ مانگو بلکہ خود محنت کرو اور کماؤ کھاؤ
۔
2۔۔۔۔سیاست دان اپنی پارٹی میں چندہ لفظ استعمال کرنے کے بجائے ڈونیشن لفظ استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور ڈونیشن لوکل و بین الاقوامی سطح پر لیتے ہیں۔۔۔ یہ ڈونیشن کھا کر امیر کہلاتے ہیں ۔۔۔ حکمرانی کرتے ہیں۔۔۔ سیاست کرتے ہیں ۔۔۔ عزت کماتے ہیں۔۔۔ یہ ڈونیشن چندہ ہی تو ہے بلکہ دیکھا جائے تو مولوی کا چندہ عزت والا ہے اور یہ ڈونیشن کبھی بلکہ اکثر برا ہوتا ہے ایجنٹی پر ہوتا ہے عیاشی فحاشی عریانی گانے باجے رشوت سود کرپشن وغیرہ برے کرتوت کرنے کرانے کی وجہ سے ان کو ڈونیشن کے نام پے ملتا ہے
۔
3۔۔۔۔ڈاکٹر پر مریضوں کا احسان ہے کہ مریضوں کے دیے ہوئے پیسوں فیس پہ ان کا گزارا ہوتا ہے۔۔۔جن کے پاس مریض نہیں اتے وہ ڈاکٹر سڑکوں پہ رل رہے ہوتے ہیں
۔
4۔۔۔۔۔جج وکیل یہ سب بھی عوام کے چندے پر پلتے ہیں اور عوام سے فیس لے کر پلتے ہیں ورنہ دھکے کھاتے پھریں
۔
5۔۔۔۔تاجر حضرات بھی گاہک کے محتاج کہ اگر گراک نہیں ائیں گے تو ان کا گزارا نہیں چلے گا ۔۔۔روڈ پہ ا جائیں گے
۔
6۔۔۔۔اسکول ٹیچر لیکچرار بھی تو سرکاری خزانے سے پلتا ہے جو عوام کے ٹیکس سے بنتا ہے یا باہر کے ممالک سے ڈونیشن ملتا ہے یا نجی اسکول ٹیچر حضرات طلباء کے سرپرستوں سے پیسے لے کر پلتے ہیں۔۔۔
۔
7۔۔۔۔کسان حضرات بھی خوش نہ ہوں کہ وہ کسی کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ ان کی سبزیاں ان کے اناج وغیرہ دوسرے لوگ نہ خریدیں تو ان کا کاروبار بھی ٹھپ ہو جائے
۔
8۔۔۔۔سائنسدان مہنگی مہنگی ادویات ایجادات گیجٹس وغیرہ دریافت کرتے ہیں، مہنگا بیچتے ہیں ، نیز حکومت کے فنڈ پہ پلتے ہیں اور حکومت کے فنڈ عوام کے ٹیکس سے جمع ہوتے ہیں اور سائنس دان اپنی ایجائیداد ادویات بیچنے کے لیے پیش کرتے ہیں جو اول وقت میں تو بہت ہی مہنگی مارکیٹ میں ملتی ہیں اگر مارکیٹ والے بائیکاٹ کر دیں نہ خریدیں تو سائنس دانوں کی امدنی کہاں سے ائے گی۔۔۔گویا سائنس دانوں بڑے بڑے ڈاکٹروں پر بھی احسان عوام کا ہے، فنڈ کا ہے، ٹیکس کا ہے، یہ سب ایک قسم کے چندے ہی تو ہیں
۔
9۔۔۔اسی طرح درزی نائی تاجر استاد لیکچرار جرنک کرنل فوجی پولیس سیاستدان سائنسدان ڈاکٹر کسان سارے لوگ ہم سب کسی نہ کسی طرح عوام کے پیسوں سے پلتے ہیں، ایک دوسرے کے پیسوں پہ پلتے ہیں۔۔۔ہم ایک دوسرے کے احسانات پے پلتے ہیں۔۔۔مذکورہ بالا افراد برے ہوں ضروری نہیں، ان میں سے جو خدمات کرتے ہیں ، مناسب فیس وغیرہ لیتے ہیں ، فوائد دیتے ہیں اور فوائد کے بدلے اپنی زندگی گزارنے کے لیے فوائد پیسہ فیس لیتے ہیں لیکن ان کا اصل مقصود لوگوں کی بھلائی، لوگوں کی خدمت ہوتا ہے تو ایسے لوگ افراد ، ایسے بظاہر دنیاوی افراد بھی تعریف اور عزت کے مستحق ہیں
۔
🟩 *#الغرض*
ہم سب ایک دوسرے کے ایک طرح سے محتاج و محسن ہیں۔۔۔کوئی کتنا ہی طاقتور ہو وہ یقینا کسی نہ کسی کا محتاج ضرور ہے،کسی نہ کسی طریقے سے۔۔۔بس معاشرے میں بدنام ہے تو بیچارہ مولوی کہ دین کی خوب خدمت کرتا ہے، بچوں کو پڑھاتا ہے، ان کی تربیت کرتا ہے، لوگوں کی تربیت کرتا ہے ، امامت کراتا ہے، سب کو دین سکھاتا ہے، ان کی اخرت سنوارتا ہے، معاشرہ اچھا بنانے کی کوشش کرتا ہے
اور
اس احسان کے بدلے میں اسے چندہ دیا جائے یا وہ چندہ تعاون لے تو یہ اس کا حق ہے۔۔۔ اخر وہ یہ دینی کام خدمات میں اپنا وقت لگا رہا ہے تو اپنا گھر چلانے کے لیے پیسے کہاں سے لائے گا۔۔۔۔۔۔؟؟
۔
لہذا چندہ خور چندہ خور کی رٹ لگا کر مولویوں کو بدنام مت کرو۔۔۔یہ اسلام دشمنوں کی سازش ہو سکتی ہے کہ چندہ خور چندہ خور کہہ کر عزت کم کرو تاکہ لوگ مولوی علماء طلباء کم بنیں۔۔۔دین کی خدمات کم سے کم ہوتی جائیں۔۔۔دینداروں کی وقعت نہ ہو ، عزت نہ ہو۔۔۔یہ اسلام دشمنوں کا پروپیگنڈا ہو سکتا ہے یا پھر جاہل حضرات کا پھیلایا ہوا جہالت پن ہے۔۔۔۔!!!
۔
👈👈لہذا فرض تو یہ بنتا ہے کہ اپ او ہم دل سے اپنی جیب سے طاقت مطابق بہت سارا چند تعاون راشن لے کر جائیں اور مدرسے میں دے کر, علماء کو دے کر، لکھاریوں، سوشلی ورکروں کو دے کر ان کا شکریہ ادا کریں کہ ہمیں اپ کی خدمت کا موقعہ ملا اور ان سے عرض کریں کہ قبلہ ہم خدمت کرتے رہیں گے ، اپ دین کی خدمت کرتے رہیں، معاشرے کی بھلائی کرتے رہیں۔۔۔ اپ کی بڑی عزت ہے۔۔۔اپ خود دار ہیں کہ بھیک مانگ کر نہیں کھا رہے، بلاعوض ناحق نہیں کھا رہے بلکہ بہت ساری خدمات سر انجام دے کر تعاون کے مستحق بن رہے ہیں، تنخواہ کے مستق بن رہے ہیں ، زکوۃ فطرے کے مستحق بن رہے ہیں۔۔
۔
♥️لہذا اگر کوئی مولوی جسے اپ جانتے ہوں کہ واقعی یہ فلاں جگہ کا فلاں مدرسے کا فلاں مسجد کا سرگرم بندہ ہے سوشل میڈیا کا سرگرم بندہ ہے تو اپ اسے جی جان سے اس کے ہاتھ چوم کر تعاون اور چندہ حاضر کیجیے اور ان کو باعزت بڑا وقعت والا مشھور بھی کیجیے
۔
🙏علماء کرام لکھاری مفتیان کرام امام مسجد مدرسین اور چندہ لینے والے احباب پر بھی لازم ہے کہ عوام کو اور چندہ دینے والوں کو کبھی کمتر نہ سمجھیں، تکبر نوابی نہ کریں، اپنے آپ کو بڑی توپ نہ سمجھیں۔۔۔عوام مریدین محبین کو عزت دیں کہ اپ احسان کے بدلے میں، نیکی کے بدلے میں، بھلائی کے بدلے میں بھلائی کر رہے ہیں، احسان کر رہے ہیں، چندہ تعاون دے رہے ہیں، عزت وقعت دے رہے ہیں۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے کی عزت کریں۔۔یوں نہ کہیں، یوں نہ سمجھیں کہ یہ عوام گنہگار بدمعاش بدعمل وغیرہ ان کی کیا اوقات۔۔ایسا ہرگز نہ کہیں، ایسا نہ سمجھیں بلکہ انہیں پیار محبت کے ساتھ اچھے الفاظ اور انداز کے ساتھ نیکی اور بھلائی کی طرف بلائیں اور جہاں سختی کرنی ہو وہاں معتدل معتبر باشعور باریک بین علماء کے فتوے کے مطابق سختی تھوڑی سی کی جا سکتی ہے وہ بھی سختی کرنے کی حکمت و راز و فوائد بتا کر۔۔۔۔۔!!
۔
👈👈اپنے بچوں کو، بھائیوں کو ، ماتحتوں کو، دوستوں کو، چھوٹوں کو، بڑوں کو سب کو سمجھائیں کہ چندے پے پلنا،چندہ کی اپیل کرنا کوئی بری بات نہیں بشرطیکہ اسلام کی سربلندی کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہوں۔۔۔یہ چندا یہ تعاون تو ان کا حق ہے اور اپنے حق کو لیں تو اس میں کیا شرم کی بات۔۔۔۔؟؟؟
۔
القرآن،ترجمہ:
احسان.و.بھلائی کا بدلہ احسان.و.بھلائی ہے(سورہ الرحمٰن آیت60) دینی خدمات میں سرگرم سچے بھلے لوگ و ادارے مستحق ہیں کہ ہم ان کے ساتھ بھلائی کریں،جانی مالی وقتی حوصلاتی تعاون کریں…معتبر اہلسنت سرگرم مدارس، علماء، خطباء، امام مسجد،لکھاری ریڑھ کی ہڈی کےمہرے کی طرح ہیں انہیں مالی تعاون کریں کرائیں مضبوط بنائیں،مدارس میں بچے داخل کرائیں
.
الحدیث:
فقالوا: يا رسول الله، أخذ على كتاب الله أجرا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله
عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں نے کتاب اللہ(کے ذریعے دم کرنے)پر اجرت لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کتاب اللہ(قرآن سے دم اور اسی طرح قرآن کی تعلیم، قرآن و اسلامی علوم کی تعلیم دینا و پھیلانا)زیادہ حق دار ہے کہ تم اس پر اجرت(تنخواہ چندہ) لو...(بخاری حدیث5737)
👈دینی علم پڑھا کر پھیلا کر اسکی کمائی تنخواہ فیس امداد چندہ جائز و پاکیزہ کمائی ہے جیسا کہ حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے ❌مگر دین کے لبادے میں دھوکہ دے کر کمانا یا دین کے مخالف نظریات اور دین کے مخالف فتوے دے کر دنیا دولت کمانا انتھائی گھنوئنا جرم و گناہ و منافقت ہے بلکہ بات کفر تک جاسکتی ہے... اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے... 🧠آج کچھ لوگ نوے فیصد اسلام کی درست تعلیمات نظریات پھیلاتے ہیں مگر کچھ فیصد یا دو تین فیصد غلط نظریات پھیلا کر اسے جدت و محبت کا نام دے کر غیرمسلم ممالک گمراہ فرقوں سے عزت دولت کماتے ہیں وہ منافق و مجرم ہیں انکی نوے فیصد دینی خدمات کو مت دیکھیے بلکہ دو فیصد یا ایک فیصد ہی سہی مگر ان کے غلط نظریات کو دیکھیے جو اسے مردود قرار دے دیتے ہیں...شیطان نناوے فیصد نیک عبادت گذار خدمت گذار بہت علم والا تھا مگر ایک بہت بڑا سنگین جرم کرکے مردود قرار پایا..نناوے فیصد دودھ میں ایک فیصد پیشاب زہر ڈالا جائے تو ایسا دودھ مردود قرار پاتا ہے..
۔
🟩 *#چندے والے عقلی لحاظ سے افضل۔۔۔۔۔۔؟؟*
فنڈ اور ٹیکس اور مہنگی مہنگی فیسیں اور اپنی ایجادات کو مہنگا مہنگا بیچنا اور ملکی یا بین الاقوامی فنڈ رشوت ایجنٹی وغیرہ سب کچھ دیکھا جائے تو اس میں عوام سے زبردستی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ان کا دل چاہے نہ چاہے ایجادات گیجٹس ادویات مہنگی بیچی جاتی ہیں اور عوام کا دل چاہے نہ چاہے مہنگی مہنگی فیسیں لی جاتی ہیں تو ان تمام سرمایہ کاری میں پیسہ کھانے میں ایک قسم کی زبردستی ہے کہ کوئی عوام چاہے نہ چاہے ہر حال میں پیسہ دینا ہی ہوگا۔۔۔۔جبکہ چندہ لوگ اپنے دل سے دیتے ہیں لہذا چندہ پاک پاکیزہ حلال طیب اور دل سے دی ہوئی رقم تعاون مدد ہی ہوتا ہے اکثر و بظاہر۔۔۔۔باقی دلوں کے احوال اللہ جانتا ہے۔۔۔لہذا چندہ لینے والے اور چندے پہ پلنے والے تعاون پہ پلنے والے سرگرم سچے محنتی علماء مولوی لکھاری سوشلی عقلی لحاظ سے بھی افضل ہیں کہ معاشرے کی بھلائی میں سرگرم ہوتے ہیں اور اخرت کی بھلائی کے لیے سرگرم ہوتے ہیں اور چندہ بھی لوگوں سے ان کی مرضی سے لیتے ہیں جبکہ ٹیکس فنڈ وغیرہ عوام سے زبردستی لیا جاتا ہے اور فنڈ ٹیکس مہنگی مہنگی فیسیں کھانے والے بظاہر تو بڑے عزت والے ہیں بڑی طاقت والے ہیں مگر حقیقت میں وہ دل سے اترے ہوئے ہونے چاہیے مگر افسوس معاشرے میں دشمنان اسلام نے یا کم علمی میں ہم سب نے یہ مشہور کر دیا کہ زبردستی ٹیکس فنڈ مہنگی فیسوں والے بڑے ہی باعزت ہیں اور پاکیزہ حلال طیب کمائی پہ پلنے والے کو چندہ خور چندہ خور کہہ کر ان کی عزت پر حملہ کیا جاتا ہے مگر سلام ہے چندے پر پلنے والوں کو کہ بظاہر اپنی عزت داؤ پر لگا دیتے ہیں مگر اسلام کے سربلندی کے لیے، لوگوں کی معاشرتی اور اخرت کی بھلائی کے لیے دن رات ایک کر کے محنت کرتے ہیں اپنا دماغ ، اپنا وقت خرچ کرتے ہیں
.
@@@@@@@@
*#چوتھا جواب* 4️⃣
*#ایت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ باہم تعاون کرو مدد کرو ورنہ فتنہ فساد تباہی ہوگی، ائیے سوچتے ہیں کیسے۔۔۔۔؟؟ اور مدد ضرور ضرور کریں مگر کن کی۔۔اور کیوں۔۔اور کیسے۔۔۔ اور کتنی۔۔۔ اور کب۔۔۔اور کن کی مدد نہ کریں۔۔۔اور مولوی کیوں نہیں کماتے۔۔۔۔۔۔؟؟*
🌹القرآن:
اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ
اگر تم مسلمان یہ(یعنی ایک دوسرے سے علمی،جانی ،مالی، اتحاد،جائز جدت و عسکری قوت وغیرہ ہر مناسب ترقی و تعاون)نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ تباہی و بڑا فساد برپا ہو گا(سورہ انفال ایت73 +تفاسیر)
1️⃣ہم اگر علماء مدارس لکھاری امام مسجد وغیرہ دینی کام و اصلاح میں مگن لوگوں کی جانی مالی تحفظاتی حوصلاتی مدد نہ کریں گے۔۔۔2️⃣اگر ہم حکمرانوں کی مدد نہ کریں گے، سمجھا کر یا وقتِ ضرورت ان پر پریشر ڈال کر دین کے کام نہ کروائیں گے۔۔۔۔3️⃣دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم عسکری علوم جدت ٹیکنالوجی میں نہ چھاتے جائیں گے۔۔4️⃣ہر قسم کے سرکاری و نجی اداروں کے نصاب و نظام کو اسلام موافق نہ کرتے جائیں گے۔۔۔۔5️⃣سیاست تجارت حکومت میں اچھوں کو نہ لاتے جائیں گے۔۔۔6️⃣اتحاد نہ کریں گے۔۔7️⃣منافقوں ایجنٹوں بروں میں سے نہ سمجھنے والے ضدی فسادی سے بائیکاٹ نہ کریں گے۔۔۔8️⃣بیرونی دباؤ ہو نہ ہو ہر حال میں جراءت و دلائل کا اظہار نہ کریں گے
تو
اسی طرح غزہ کشمیر جیسے مظالم اور زمین میں فتنہ و فساد اور مسلم ممالک میں اسلام مخالف قوانین و برائی پر انسو بہانے افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر پائیں گے۔۔۔
اب بھی وقت ہے ایت و اسلام پے عمل کریں، ہر قسم کی جائز مدد ایک دوسرے کی ضرور ضرور کریں اور ہر جائز شعبے میں چھاتے جائیں تو فتنہ فساد ختم ہوتا جائے گا ، انسانیت کا مفید نظام یعنی نظامِ اسلام نافذ ہوتا جائے گا
۔
🟩کمزور حالات میں پیسہ بہت پیارا ہوتا ہے اور پیاری چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔۔۔تو حالات کیسے بھی ہوں جتنا ہو سکے اپنے طاقت کے مطابق خرچ ضرور کیجئے اگرچہ 500 یا ہزار ہی سہی مگر خرچ ضرور کیجئے، ہو سکے تو بہت بڑا تعاون کیجیے لیکن بظاہر چھوٹے تعاون کو بھی نظر انداز مت کیجئے بظاہر چھوٹا تعاون بھی بہت بڑا تعاون ہے🚨لیکن جس کو اللہ تعالی نے بہت نوازا ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ وہ اللہ کے پیارے مستحق بندوں (علماء طلباء لکھاری مدارس خطیب امام مسجد غرباء وغیرہ مستحقین) پر بہت خرچ کرے۔۔بالخصوص معتبر سرگرم مدارس علماء طلباء لکھاری خطیب محقق مدرس امام مسجد دینی ورکرز وغیرہ پر تو ضرور بہت خرچ کیا کرے کہ ان کی کوئی سرکاری تنخواہ نہیں ہوتی اور ان کی نجی تنخواہ بھی بہت کم ہی ہوتی ہے
.
🌹القران:
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا
کَثِیۡرَۃً
کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے (یعنی اللہ کی راہ میں، مدارس علماء ورکرز غرباء مستحقین میں صدقہ دے خرچ کرے) تو اللہ اس کے لیے بہت زیادہ بڑھا کر دے گا
(سورہ بقرہ ایت245)
ایت مبارکہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو برکتوں سے محروم ہوتے ہیں یا ان کے پاس پیسہ بہت نہیں ہوتا تو ان کے لیے ایک راستہ بتایا گیا کہ اللہ سے ایک طرح کی تجارت کر لو، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو وقت خرچ کرو، عبادت کرو تعاون کرو اللہ تمہیں بہت برکت دے گا اگرچہ بظاہر دنیا میں برکت تمہیں نظر نہ ائے مگر حقیقت میں بہت برکتیں ملیں گی بلکہ ہو سکتا ہے اللہ تمہارا امتحان لے کہ اپ خرچ کریں اور الٹا اپ کو نقصان پہنچے تو اللہ اپنے پیاروں کا امتحان لیتا ہے کہ میرے بندے نے خرچ کیا اخلاص کے ساتھ یا کسی لالچ کے ساتھ۔۔۔؟؟ اسے دنیاوی مفادات چاہیے یا اخرت کی بھلائیاں چاہیے اور اللہ کی مرضی کی برکتیں چاہیے۔۔۔۔؟؟
۔
🌹القرآن:
لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ
تم نیکی اور بھلائی کو اس وقت پہنچ سکتے ہو جب تم اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ کرو جو تمہیں محبوب و پسند ہو
(سورہ آل عمران ایت92)
اپ بہت مصروف رہتے ہیں وقت اپ کے لیے بہت پیاری چیز ہے اور پیسہ پانی کی طرح بہانہ اپ کے لیے کوئی مشکل نہیں تو یقین کیجئے اس صورت میں بے شک پیسہ نیک جگہ پر اچھی جگہ پر خرچ کرنے کی برکتیں ضرور ملیں گی مگر اصل لطف اور مزہ اپ کو اس وقت ائے گا جب اپ اپنی پیاری چیز یعنی وقت قربان کریں وقت خرچ کریں اللہ کی راہ میں وقت دیں اللہ کی راہ میں وقت دے کر نماز پڑھیں عبادات کریں نیکیاں کریں،وقت نکال کر وعظ و نصیحت سنیں پڑھیں عمل کریں
اور
اگر اپ کے پاس وقت ہی وقت ہے مگر پیسہ بہت کم ہے تو یقین جانیے وقت بہت ہے عبادتیں ریاضتیں بہت کریں گے تو اپ کو بہت فوائد ملیں گے مگر اصل لطف اور مزہ اس وقت ائے گا جب اپ اپنی پیاری چیز یعنی پیسہ خرچ کریں گے
لیکن
پیاری چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو شرعا خرچ کرنا جائز بھی ہو۔۔۔اپ کو شراب فحاشی بہت پیاری لگتی ہے تو ایت کا یہ مطلب نہیں کہ اپ لوگوں میں شراب و فحاشی خرچ کرتے پھریں
۔
🟥خرچ کرنے کی فضیلت تو پڑھ لی۔۔۔ اب خرچ نہ کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے یہ بھی تھوڑا پڑھ لیں
القرآن:
وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ
ترجمہ:
اور(اللہ کی راہ میں، مستحق مدارس علماء لکھاری ورکرز غرباء میں) خرچ کرو اس میں سے جو رزق ہم نے تم کو عطا کیا ہے قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے پھر وہ کہنے لگے اے میرے ربّ تُو نے مجھے تھوڑی مدت تک کی مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں صدقہ و خیرات کر لیتا اور صالحین میں سے ہو جاتا۔۔۔(سورہ المنافقون آیت 10)
🤲آخرت کی حسرت سے بچیے، بخل کنجوسی من موجی سے بچیے، اللہ کی راہ میں، غرباء مدارس علماء لکھاری ورکرز۔۔۔۔علم شعور فلاح اور اسلام کی ترقی میں خرچ کیجیے، خوب خرچ کیجئے
۔
🟥من موجی، من پرستی، مطلب پرستی مفاد پرستی لالچ کی بھی مذمت ہے اور اپنے حالات تنگ ہوں تو بھی دوسروں پر خرچ کرتے رہنا چاہیے
القرآن:
وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
جو اپنی ضرورت و تنگی کےباوجود دوسروں کو(تعاون امداد کرنے میں اور دیگر اچھے معاملات میں دوسروں کو) ترجیح دیتےہیں،جو لالچ سے بچائےگئےوہی کامیاب ہیں
(سورہ حشر ایت9)
ان لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو اپنے حالات تنگ ہونے کے باوجود دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، دوسرے مستحقین اور دوسری اہم ترین جگہوں میں خرچ کرتے ہیں 📌📌اور ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ کوئی لالچی نہ بنے،ایسا نہ ہو کہ تعاون ملے تو ہی اپ کام کریں، نہیں ہرگز لالچی مطلبی مفادی نہیں ہونا چاہیے۔۔۔!!
.
🌹الحدیث:
لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی بھی شخص نیکی بھلائی کے کسی بھی کام کو ہرگز حقیر و کمتر نہ سمجھے
(ترمذی حدیث 1833)
اگر اپ 5 ہزار۔۔۔ 10 ہزار۔۔۔ 20 ہزار... 50 ہزار ...لاکھ، لاکھوں، کروڑوں روپے خرچ نہیں کر سکتے تو شرمانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔ اپ اللہ کی راہ میں خلوص دل کے ساتھ پانچ سو یا ہزار خرچ کر سکتے ہیں تو بھی ضرور کیجئے۔۔۔ 100 روپے خرچ کر سکتے ہیں تو بھی ضرور کیجئے،10 روپے خرچ کر سکتے ہیں تو بھی ضرور کیجئے لیکن مستحقین پر۔۔۔۔اور خرچ کرنے والے پر بھی لازم ہے اور جس پر خرچ کیا جا رہا ہے اس پر بھی لازم ہے کہ کسی بھی صدقے کو حقیر اور کمتر نہ سمجھے۔۔۔🚨ہاں کسی کو توجہ دلائی جا سکتی ہے کہ اپ کو اللہ تعالی نے بہت دیا ہے اور یہ تھوڑا سا تعاون اپ کے شایان شان کیسے ہو سکتا ہے تو اپ کو اللہ نے بہت دیا ہے تو زیادہ خرچ کیا کیجئے مستحقین پر۔۔۔یہ انداز بھی ٹھیک ہے۔۔۔!!
۔
🌹الحدیث:
سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ اللہ کی بارگاہ میں محبوب عمل پسندیدہ عمل کون سا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مستقل کیا جائے اگرچہ (طاقت نہ ہونے وغیرہ جائز وجوہات کی وجہ سے) کم مقدار میں کر سکو مگر مستقل کرو
(بخاری حدیث6465)
مستقل تعاون کرنے کی کئی صورتیں ہیں مثلا ہر ماہ ہر ہفتے تعاون کیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر تین ماہ میں تین ماہ کا جمع کردہ چندہ اکٹھا کر کے دے دیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر سال بہت سارا تعاون دے دیا جائے یا اہم اہم مواقع پہ بہت سارا تعاون دے دیا جائے لیکن زیادہ تر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ماہانہ تعاون دینا چاہیے کیونکہ انسان سے سستی ہو جاتی ہے یا اپنے خرچے میں زیادہ خرچ ہو جاتا ہے تو سہ ماہی شش ماہی سالانہ تعاون شاید زیادہ نہیں کر پائے گا۔۔۔اس لیے ماہانہ تعاون ہی زیادہ بہتر لگتا ہے اور کوشش کرے کہ اہم اہم مواقع پہ ماہانہ تعاون سے زیادہ بڑھ کر تعاون کرے یا اہم اہم مہینوں میں دنوں میں مبارک دنوں میں بہت زیادہ تعاون کرے۔۔۔لیکن ماہانہ تعاون ضرور جاری رکھے تاکہ زندگی کے ضروریات کی گاڑی تسلسل سے چلتی رہے
۔
🟥بروں باطلوں مکاروں گمراہوں مرتدوں ایجنٹوں منافقوں سے ہر طرح کا تعاون نہ کرنا،انکی تحریروں کو لائک نہ کرنا، انہیں نہ سننا، نہ پڑھنا، انہیں اپنے پروگراموں میں نہ بلانا، وقعت نہ دینا، جانی وقتی مالی تعاون نہ کرنا، مذمت کرنا، مدلل کرنا، بھی اہل حق و سچوں کے ساتھ بہت بڑا تعاون ہے
الحدیث:
مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ ؛ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ
جو اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے محبت کرے اور(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے(مستحق برے ضدی فسادی سے)بغض و نفرت رکھے اور (مستحق و اچھوں) کی امداد و مدد کرے اور (نااہل و بروں) کی امداد و تعاون نہ کرے تو یہ تکمیل ایمان میں سے ہے
(ابوداود حدیث4681)
.
🛑❌اب یہ مت کہیے گا کہ مولویوں کو خود کمانا چاہیے،امام مسجد کو خود کمانا چاہیے،مدرسے کے معلم کو خود کمانا چاہیے،اسی طرح علماء مدرسین منتظمین لکھاری ورکرز جو جو اسلام کی سربلندی کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں ان میں سے اکثر کو ہرگز کمانے کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اسلام نے ہمیں ایک حسین امتزاج سکھایا ہے کہ کچھ لوگ پیسہ کمانے جائز طریقے سے پیسہ کمانے میں مگن ہو جائیں چھا جائیں اور خوب پیسہ کما کر خوب خرچ کریں اچھی جگہوں پر۔۔۔اور بعض لوگ علم شعور پھیلانے میں دن رات ایک کر دیں اور ان پر ضروریات زندگی کے لیے خرچ وہ لوگ کریں کہ جو پیسہ رکھتے ہیں
۔
🛑🛑کیا اپ نے کبھی فوجی سے کہا ہے کہ سرحد کی نگہبانی تو دینی کام ہے ، حب الوطنی ہے۔۔۔اس کے پیسے کیوں لیتے ہو۔۔۔۔؟؟ کیا اپ نے عدلیہ ججز پارلیمنٹ وزیراعظم وزیراعلی وزراء وغیرہ سے پوچھا ہے کہ اپ لوگ تو عوام کی خدمت کر رہے ہیں ، اپنی اخرت سنوار رہے ہیں تو پھر تنخواہ مراعات کیوں لیتے ہیں۔۔۔۔؟؟
۔
✅یقینا ہر ذی شعور کہے گا کہ علماء لکھاری ورکرز فوجی عدلیہ وزراء وغیرہ دین کے لیے اگر سرگرم ہوں اور دین کے لیے یعنی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہوں اور دن رات حسب طاقت انہی کے لیے وقت علم دماغ خرچ کرتے ہوں تو ہم پر بھی حق بنتا ہے کہ ہم ان پر خرچ کریں، انہیں تنخواہ دیں،انہیں صدقہ تعاون دیں لیکن مستحقین کو۔۔۔۔۔!!
مگر
افسوس کہ فوجی عدلیہ وزراء وغیرہ کو بڑی موٹی موٹی تنخواہیں دی جاتی ہیں مگر سچے سرگرم باعمل عالم دین کو چندہ بھی دیا جائے تو دشمنان اسلام کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں جل بھن جاتے ہیں۔۔۔حالانکہ مدارس علماء واعظین مدرسین امام مسجد لکھاری ورکرز وغیرہ کو بھی سرکاری طور پر تنخواہ دی جاتی لیکن افسوس کہ یہ کہا جاتا ہے کہ مولوی کو تنخواہ بھی نہ دو اور چندہ بھی نہ دو اور مولوی کمائی بھی سہی اور تحقیق بھی کرے تدریس بھی کرے مدرسہ بھی پڑھائے بچوں کو بغیر فیس کے پڑھائے نماز بھی بغیر تنخواہ کے پڑھائے، وعظ تحقیق تحریر فتوی وغیرہ کام و خدمات بھی خوب کرے، اخلاقیات بھی لوگوں کو خوب سمجھائے بغیر تنخواہ کے اور بغیر چندے کے
۔
👈👈یہ کیوں نہیں کہتے کہ ججز عدلیہ فوجی سیاست دان وزراء سائنس دان لیکچرار ٹیچرز سب مفت میں خدمات سر انجام دیں اور اپنی ضروریات کے لیے تجارت بھی کریں۔۔۔۔؟؟
۔
🌹الحدیث:
:«إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کتاب اللہ(قرآن و حدیث و فقہ دینی تعلیم دینے کی کمائی، قرآن و اسلامی علوم کی تعلیم دینے پھیلانے کی کمائی، قران مجید و احادیث مبارکہ وغیرہ کی دعاؤں سے دم کرنے کی کمائی) زیادہ حق دار ہے کہ تم اس پر اجرت لو...
(بخاری حدیث5737)
۔
🌹جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اگلے دن صبح صبح کندھے پے چادریں کپڑے اٹھائے بازار کی طرف چل دیے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کہنے لگے یا امیرالمومنین آپ یہ کیا کر رہے ہیں...؟ آپ کو تو لوگوں کی دیکھ بھال کی زمہ داری سونپی گئ ہے،فرمایا تجارت نہ کروں گا تو میں اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلاؤں گا...؟ حضرت عمر نے فرمایا چلیے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلتے ہیں(انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین الامۃ کا لقب عطا فرمایا ہے)ان سے رائے لیتے ہیں،سیدنا ابو عبیدہ نے فرمایا:
أفرض لك قوت رجل من المهاجرين، ليس بأفضلهم ولا أوكسهم
میں آپ کی تنخواہ ایک اوسط درجے کے مہاجر مزدور جتنی مقرر کرتا ہوں، پھر صحابہ کرام نے مل کر آپ کی تنخواہ پچیس سو درھم سالانہ(تقریبا سات درھم روزانہ)مقرر فرمائی
(دیکھیے تاریخ الخلفاء ص64,65)
✅واضح ہو جاتا ہے کہ جو شخص دینی معاملات میں اکثر مصروف رہتا ہو تو اسے اتنی مقدار میں تنخواہ دی جائے گی ، مدد دی جائے گی اور مستقل دی جائے کہ اس کا گزر بسر مناسب ہوتا رہے۔۔۔۔!!
اب اگر مولوی کمانے لگ جائیں تو یہ دینی محاذ کون سنبھالے گا۔۔۔۔؟؟ اسلام کے بنیادی عقائد کے دلائل کون بیان کرے گا۔۔۔؟؟ اگر مولوی کمانے لگ جائیں تو وہ تحقیق تدریس وعظ کو کس طرح ٹائم دے سکے گا۔۔۔؟؟ بد مذہبوں بروں باطلوں عیاشی فحاشی گناہ جرائم معاشرے کی تباہی کے اسباب و گناہ وغیرہ سے کون روکے گا اور لوگوں کو اخلاقیات کون سمجھائے گا۔۔۔۔؟؟
🧠🧠 ٹھیک ہے مولوی کو تم اپنا دنیاوی منصب دے دو اور مولوی سے یہ علم و شعور والا منصب لے لو اور پھر یہ ذمہ داری دینی ذمہ داری بھی اچھے طریقے سے سچے طریقے سے تحقیق اور دلائل کے ساتھ پوری کرو اور کما کر بھی دکھاؤ۔۔۔۔؟؟
۔
🌹القرآن:
اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ
ہر مورچے پے(اسی طرح ہر جائز شعبے میں) ان سے مقابلے کے لیے تیار بیٹھو...(سورہ توبہ آیت5)
اور مولوی حضرات اسلام کے ایک بہت بڑے محاذ دینی محاذ کو الحمدللہ سنبھالے ہوئے ہیں اور دن رات سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں تو پھر دیگر شعبوں کی طرح ان دینی شعبوں کی بھی تنخواہ مقرر ہونی چاہیے نا۔۔۔۔؟؟
.
🌹القرآن:
اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ
جو قوت،طاقت ہوسکے تیار رکھو..(سورہ انفال آیت60)
آیت مبارکہ مین غور کیا جائے تو ایک بہت عظیم اصول بتایا گیا ہے... جس میں معاشی طاقت... افرادی طاقت... جدید ہتھیار کی طاقت...دینی علوم و مدارس کی طاقت, جدید تعلیم و ترقی کی طاقت.... علم.و.شعور کی طاقت... میڈیکل اور سائنسی علوم کی طاقت...دینی دنیاوی علوم فنون کی طاقت... اقتدار میں اچھے لوگوں کو لانے کی طاقت.. احتیاطی تدابیر مشقیں جدت ترقی اور دیگر طاقت و قوت کا انتظام و اہتمام کرنا چاہیے،یہ سب طاقتیں قوتیں حاصل کرنی چاہیے، مدارس و اسکول میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم و فنون سکھانے کا اہتمام ہونا چاہیے بشرطیکہ ان علوم و فنون کا مقصد جائز ہو، مقصود اسلام کی سربلندی ہو....!!
.
۔
🌹القرآن:
فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ
تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی فقہ و سمجھ حاصل کریں اور اپنی قوم کو ڈر سنائیں(باعمل ہوکر علم شعور معاشرےمیں پھیلائیں)
(سورہ توبہ آیت122)
ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ ہر علاقے میں سے گروہ ہونا چاہیے جو خالص اسلام کے لیے دینی تعلیمات قران و حدیث کی تشریحات کے لیے وقف ہو اور ان کی ہم جانی مالی ہر طرح کی مدد و تعاون کریں
۔
♥️ایک صحابی حاضر ہوتے ہیں مدد تعاون حاصل کرنے کے لیے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدد اور تعاون اس طرح فرماتے ہیں کہ انہیں روزگار کھول کر دلواتے ہیں۔۔دیکھیے ابو داؤد حدیث 1641
مگر
♥️اصحاب صفہ کو روزگار کھولنے کے لیے کبھی فورس نہیں کیا بلکہ انہیں قران و حدیث یاد رکھنے اور پھیلانے کے لیے وقف رکھا اگرچہ دیگر صحابہ کرام کو بھی قران و حدیث یاد رکھنے کی ذمہ داری تھی مگر وہ خود کفیل بھی تھے مگر بعض صحابہ کرام قران و حدیث کے لیے وقف تھے ان پر دیگر صحابہ کرام خرچ کرتے تھے یا کوئی مالدار کسی کی کفالت اٹھا لیتا تھا، اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں اور خلفاء کے دور مبارک میں قران و حدیث کے لیے مخصوص افراد تھے اور ان پر مسلمان خرچ کرتے تھے گویا صفہ زمانہ نبوی میں ہی اسلام کا پہلا مدرسہ بنا تھا اور اسے صدقے تعاون سے چلایا جاتا تھا
۔
وكان أهل الصفة يقومون بفروض عظيمة، منها تلقى القرآن والسنة، فكانت الصفة مدرسة للإسلام، فكانت نفقتهم على سائر المسلمين...
اصحاب صفہ( نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں اور بعد کے دور میں) عظیم فرائض میں مشغول تھے یعنی قران و سنت میں مصروف تھے تو گویا صفہ اسلام کا (پہلا) مدرسہ تھا اور اس کا خرچہ مسلمانوں پر تھا
(الأنوار الكاشفة لما في كتاب «أضواء على السنة»ص145)
.
🌹الحدیث
نِعْمًا بِالْمَالِ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ
کیا ہی اچھا ہے وہ "اچھا مال" (وہ پاکیزہ، حلال مال.و.دولت) جو اچھے شخص کے پاس ہو..(مسند احمد حدیث7309)
اچھے لوگوں کے پاس بہت ساری اور اچھی دولت ہوگی اور وہ اچھا شخص ہوگا تو اچھائی میں خرچ کرے گا ، ترقی میں خرچ کرے گا ، دین و مدارس علماء مدرسین واعظین لکھاری ورکرز میں خوب خرچ کرے گا تو کتنی فضیلت کی بات ہے کیونکہ اگر یہی دولت طاقت بروں کے پاس رہے تو برائی پھیلتی جائے گی ، نفسا نفسی، فحاشی تکبر بے حیائی پھیلتی جائے گی اور اگر یہی دولت طاقت اقتدار اچھوں کے پاس ہوگا اور دولت طاقت اقتدار والے اچھے ہوں گے تو اچھائی ایثار باہم اچھی محبت و احساس وغیرہ اچھائیاں پھیلتی جائے گی ان۔شاء اللہ عزوجل۔۔۔دینی فائدہ تو ہے لیکن دنیاوی فائدہ بھی اسی میں ہے کہ دنیا دولت طاقت اقتدار اچھے لوگوں کے پاس ہو، وہ دنیاوی ترقی میں بھی خرچ کرے گا ، جدت ٹیکنالوجی میں بھی خرچ کرے گا تو مدارس میں بھی خرچ کرے گا مساجد میں بھی خرچ کرے گا ہر مفید جگہ میں خرچ کرے گا۔۔۔
۔
🌹الحدیث،ترجمہ
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،وہ نا اس پر ظلم کرے اور نا ظلم کرنے دے،نہ بےیار و مددگار چھوڑے اورجو اپنے(مسلمان بھائی) کی حاجت روائی میں ہو اللہ اسکی حاجت روائی فرمائے گا، اور جو کسی مسلمان سے مصائب.و.مشقت تکالیف دور کرے اللہ قیامت کے دن اس سے تکالیف.و.مشقت دور فرمائے گا...(بخاری حدیث2442)
.
✅زلزلہ زدگان،سیلاب زدگان، بارش متاثرین و یتیم و غرباء مستحقین کو بےیار و مددگار مت چھوڑیے انکی مدد انکی حاجت و ضرورت کے مطابق وقتا فوقتا کرتے رہا کیجیے، بعض کی اشد ضرورت پکا ہوا کھانا ہے انہیں پکا پکایا کھانا و صاف پانی دیجیے، بعض کی حاجت خشک راشن ہے انہیں راشن دیجیے،بعض کی اہم ضرورت یہ ہے کہ گھروں محلوں سے فورا پانی نکالا جائے تو ان کے لیے نکاسی آب کےلیے مدد کیجیے،کسی کو ضرورت ادویات و علاج خیموں ترپالوں پلاسٹک و لکڑیوں گیس سیلنڈروں کی ہے تو اس حساب سے مدد کیجیے،کسی کی حاجت مکانوں کی تعمیر ہے تو تعمیرات میں مدد کیجیے…حسب حاجت مدد کرنا زیادہ بہتر ہے و نافع ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معتبر مستحق کو پیسے دییے جاءیں جو وہ اپنی حاجت میں استعمال کرے
اور
👈👈مدارس معتبر مدارس سرگرم مدارس معتبر اور سرگرم علماء لکھاری ورکرز کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے انہیں بے یار و مددگار مت چھوڑیے،اج کل مدارس علماء لکھاری جیسے مستحقین میں خرچ کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے
.
الْأَفْضَلِيَّةُ مِنَ الْأُمُورِ النِّسْبِيَّةِ، وَكَانَ هُنَاكَ أَفْضَلَ لِشِدَّةِ الْحَرِّ وَالْحَاجَةِ وَقِلَّةِ الْمَاءِ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف امور کو افضل صدقہ قرار دیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی صدقہ کس نسبت سے افضل ہوتا ہے اور کوئی صدقہ کس نسبت سے افضل ہوتا ہے اور اس حدیث پاک میں افضل صدقہ پانی اس لیے ہے کہ اس کی حاجت زیادہ تھی
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,4/1342)
.
👈تو وقت و حالات کے مطابق ضرورت و نفع کو دیکھ کر اس میں خرچ کرنے کو ترجیح دینی چاہیے، اور اس وقت مدارس علماء محققین سوشلی لکھاری ورکرز اچھے سیاست دان اچھے سائنس دان، اچھے جج فوجی تمام ہی ضروری ہیں۔۔۔ ہر طرف توجہ کرنے کی کوشش کیجئے۔۔۔باقی سب کو تو بہت تعاون دیا جاتا ہے ٹیکس دیا جاتا ہے تنخواہیں مقرر کی جاتی ہیں 📌مگر اس وقت غربت و تنگدستی کا عالم مدارس علماء لکھاری ورکرز میں ہے انکی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے
اور
اس کے ساتھ ساتھ ہر نیکی میں بھی توجہ دیں، وقتا فوقتا صدقہ کریں، وقتا فوقتا قران پڑہیں حدیث پڑہیں معتبر کتب سے قران و حدیث کو سمجھیں سمجھائیں پھیلاءیں عمل کریں نوافل درود پڑہیں نیکیاں کریں گناہوں سے بچیں، حسن اخلاق اپنائیں، علم و شعور اگاہی پھیلائیں، مدد کریں، فلاحی کام کریں. غرباء کو جس کی حاجت زیادہ ہو وہ دیں...جس کا نفع عام و زیادہ ہو وہ کریں، مدارس میں دیں.. علماء لکھاری مبلغین کی مدد کریں.......کسی بھی نیکی کو کمتر نہ سمجھیں کہ نہ جانے کونسی نیکی کونسی ادا اللہ کے ہاں محبوب و مقبول ہوجائے...الحدیث:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، کسی بھی نیکی کو کمتر نہ سمجھو
(مسلم حدیث2626. 6690)
۔
🟩 *#کبھی امداد پیسے راشن دینے کے بجائے ترقی دینا لازم ہوتا ہے۔۔اور کبھی کچھ وقت کے لیے امداد دینا لازم ہوتا ہے اور کاروبار جاب دلانا خودمختار بنانا اصل مشن ہے، مگر ایک مشن یہ ہے کہ کچھ اہم افراد کو ہمیشہ امداد تعاون راشن پیسہ دینا لازم ہوتا ہے۔۔۔تفصیل کچھ یوں ہے کہ۔۔۔۔!!*
۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت مبارکہ یہ بھی ہے کہ:
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مواقع پہ امداد راشن تعاون کھانے پینے کی چیز سامان ساز و سامان دیا۔۔۔ بہت سارے واقعات ہیں مثلا دیکھیے مسلم حدیث1017.. 2351
.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری سنت مبارکہ یہ بھی ہے کہ:
ایک صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعاون کی اپیل کی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں جو کچھ ہے وہ لے اؤ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس میں سے مہنگے داموں بکوا کر فرمایا کہ کچھ پیسے راشن میں استعمال کر اور بقیہ پیسوں کی کلہاڑی خرید لکڑیاں کاٹ اور انہیں خرید و فروخت کر اور اس طرح اپنا کاروبار چلا
دیکھیے ابو داؤد حدیث 1641
۔
❌❌کسی کو راشن پہ چلانا کبھی کبھار جرم ہوتا ہے،جی ہاں تعاون یہ نہیں کہ اپ کسی کو اپنا محتاج بنا دیں، اصل تعاون کی جڑ یہ ہے کہ سامنے والا اگر ترقی کر سکتا ہے ، اس میں ہمت طاقت ہے اور ترقی کرنا ہی اس کے لیے مفید ہے، اسلام کے لیے مفید ہے تو اسے عارضی طور پر کچھ راشن دے دیجئے اور اصل مدد یہ ہے کہ اپ اکیلے یا چند احباب مل کر یا وفاق یا صوبائی حکومت کوئی بھی اسے کوئی کاروبار سکھائے اور کاروبار کھول کے دے اور کاروبار کامیاب بھی کرانے میں مدد کرے، یہ ہے اصل ترقی کہ کسی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیجیے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ راشن دینا بند کر دیں۔۔ممکن ہے اس کا کاروبار نہ چل سکے یا کاروبار سے گھر نہ چل سکے تو کچھ نہ کچھ مدد کرتے رہنا ضروری ہوگا تاکہ وہ کاروبار کو مزید بڑھا سکے
۔
👈اسی طرح بعض اوقات کسی کو کاروبار نہ کھول کے دینا ہی ضروری ہوتا ہے۔۔۔ بلکہ لازم ہوتا ہے کہ ان کی راشن پیسوں وغیرہ سے امداد کی جائے تاکہ وہ کاروبار کی طرف توجہ نہ کریں بلکہ اسلام کے دیگر محاذ پر مکمل توجہ سے کام کریں۔۔۔ مثلا سائنسدان اور مدارس چلانے والے علمائے کرام اور سچے اچھے مبلغ حضرات ، علم و شعور پھیلانے والے معتبر لکھاری محققین مصنفین امام مسجد وغیرہ میں سے بعض کو بے شک چھوٹی یا بڑی تجارت کی طرف لگانا چاہیے تاکہ وہ کچھ کام دین کا بھی کام کریں اور ساتھ میں کچھ کاروبار بھی کریں
مگر
کئی ایسے افراد و ٹیم پالنا بنانا ضروری ہیں کہ ان کی مالی مدد کی جائے راشن دیا جائے دیگر تعاون کیے جائیں اور انہیں کاروبار سے بے نیاز کر دیا جائے تاکہ وہ مکمل وقت دے کر بہت زبردست قسم کی تعلیمی سائنسی ٹیکنالوجی دینی تدریسی تحقیقی وغیرہ مختلف خدمات اسلام کی سربلندی کے لیے ، مسلمانوں کی بھلائی کے لیے سرانجام دے سکیں،
۔
👈سائنسدان سائنس کو سمجھ کر اس میں سے غلط کو الگ کر کے ، غلط کا رد کر کے اور جو درست ہے اس کو اسلام موافق کر کے طلباء کو اچھا سائنس دان کرکے اور سائنسی عسکری فوجی جہادی ہتھیار وغیرہ بنا کر جدید ٹیکنالوجی وغیرہ بنا کر اس میں چھا کر اسلام کی سربلندی کے لیے یہ سب کریں
۔
👈اور علماء مدارس میں دیگر اداروں میں عقائد اور نظریات اخلاقیات وغیرہ درست بنانے میں مگن رہیں اور علماء سائنس دانوں سیاست دانوں کی مدد کریں، انہیں سمجھائیں کہ اسلام کے اصل اصول کیا ہیں اور اخلاقیات کیا ہیں،سیاست کیسے اسلام کے مطابق کرنی ہے، اور علماء دینی تدریسی کام بھی مدارس میں جاری رکھیں کہ وہیں سے علم و شعور کی شمع نکلے گی تو گھرانے روشن ہوں گے ان۔شاءاللہ عزوجل
۔
✅اگر ہم ان(علماء لکھاری محققین امام مسجد فوجی سیاست دان سائنس دان وغیرہ اسلام و مسلمانوں کے وقف احباب) کو بھی تجارت پہ لگا دیں گے تو یہ مکمل توجہ کے ساتھ کام نہ کر پائیں گے اس لیے ایسوں میں کئ افراد و ٹیم کو راشن تعاون لازم دینا چاہیے اور مستقبل سے بے فکر کر دینا چاہیے اور اس کے بچوں کے مستقبل کی ذمہ داری لینی چاہیے اور انہیں بے نیاز کر کے دین کے لیے خدمات سرانجام دینے کے لیے وقف کر دینا چاہیے
.
🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥
اہم نوٹ
.
🟩 *#والدین سرپرست و علماء مشائخ تنظمیوں کے بڑوں سے عرض اور ہمارے کام و منصوبے... ہمارے مقاصد ، ہماری منزلیں......؟؟*
القرآن:
اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ
جو قوت،طاقت ہوسکے تیار رکھو..(انفال60ملخصا)
.
القرآن:
اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ
ہر مورچے پے(اسی طرح ہر جائز شعبے میں) ان سے مقابلے کے لیے تیار بیٹھو...(سورہ توبہ آیت5)
.
فتاوی رضویہ شریف میں ہے
*جدت* ممنوع نہیں بشرطیکہ کسی ممنوع شرعی میں شامل نہ ہو...(فتاوی رضویہ22/191)
.
تحریر کے شروع میں جو ایت لکھی ہے اس سے اور ان آیات سے و دیگر آیات و احادیث مبارکہ سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ:
✅①بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام شرعی علوم فقہ تفسیر احادیث تصوف عربی گرائمر فصاحت بلاغت وغیرہ دینی علوم اور ان علوم کی تحقیقات و تخصص پے توجہ دیں اور اس کے لیے بعض مدارس مختص ہوں اور اصلاحِ معاشرہ و عبادات وغیرہ پے زیادہ توجہ دیں ، زیادہ توجہ دلوائیں اور جدید علوم بھی مناسب مقدار میں حاصل کریں تاکہ سمجھانے میں روایات کے ساتھ ساتھ جدید دلائل بھی ہونگے تو تحریر تقریر تصنیف تحقیق وعظ وغیرہ امید ہے زیادہ پُر اثر ہوں گے
.
✅②بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام ایسے ادارے بناءیں جن میں اسکول کی تعلیم انگریزی عربی لینگوئج کی تعلیم اور سائنس فزکس بیالوجی جرنل نالج وغیرہ کی بنیادی معلومات و جرنل نالج وغیرہ دیں اور ساتھ ساتھ بنیادی دینی تعلیم بھی دیں.....ایسے ادارے بنائیں اگر مناسب لگے تو مدرسہ کا نام دینے کے بجائے کوئی اور نام دیں تاکہ لوگ متوجہ ہوں انکو اشارہ ملے کہ یہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں....ان اداروں میں مناسب مقدار میں اسلام کی حقانیت و بہتری اسلامی عبادات و معاملات کی حقانیت و بہتری کے جدید دلائل و معلومات بھی دیتے جائیں، دلچسپ جدید معلومات دے کر ان سے اسلام و عبادات وغیرہ کی حقانیت و بہتری سمجھاتے جائیں
.
✅③بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام چند ایسے جدید ادارے بنائیں کہ اس میں طلباء جدید ساءنسی علوم و معلومات سے اسلام و عبادات معاملات کی حقانیت و بہتری ثابت کریں اللہ کی وحدانیت کے دلائل و اشارات نکالیں اور جلد از محنت کرکے اس طرز پر کچھ کتب فورا تصنیف کرکے عام کریں، اردو میں اسکے ترجمہ کرکے عام کریں... عربی انگلش چینی ہندی روسی وغیرہ مختلف زبانوں میں اسکے ترجمے کرائیں....پھر مزید تحقیقات جاری رکھیں نئ نئ معلومات و دلائل فراہم کریں جس سے علم و معلومات و جرنل نالج میں بھی اضافہ ہو اور اس سے کس آیت مبارکہ کس حدیث مبارکہ اور کن اسلامی معاملات و نظریات و عبادات کی بہتری و حقانیت ثابت ہوتی ہے وہ بھی بتائیں....اور ان اداروں میں اگر دنیاوی علوم والے داخلہ لیں تو ان کے لیے مناسب و ضروری دینی علوم بھی شاملِ نصاب کریں
.
✅④بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام چند ایسے ادارے بنائیں کہ اسلام و عبادات عقائد کی حقانیت و بہتری ثابت کرنے کی لکھی ہوئی جدید سائنسی جرنل نالج کی کتب اور دینی کتب پڑھانے کے بعد اس پر مزید تحقیق اور ان علوم سے ایجادات پر کام ہو....یہاں کمپوٹر موبائل روبوٹ بنانا سکھایا جاءے بلکہ بناءے بھی جائیں بلکہ نت نئے عام استعمال کے ٹولز و ایجادات اور جنگی استعمال کے ہتھیار و ٹولز وغیرہ ایجادات و چیزیں بنائی جائیں اور کیا ہی مزے کی بات ہو کہ ایسے داروں کے مالک علماء و دینی اشخاص ہوں
.
✅⑤علماء کرام مفتیان عظام اپنے اداروں میں دینی لوگوں کی کھیپ تیار کرکے ان کو مناسب جگہ پے بھیجیں...جو جس جگہ کے لیے مفید لگے اسے اس جگہ بھیجنے کے لیے تیار کریں...بعض فاضل علماء کو ڈاکٹر طبیب حکیم بنانے کے لیے بھیجیں، بعض فاضل علماء کو وکیل و سیاستدان بننے کے لیے بھیجیں... بعض فاضل علماء کو تجارت معیشت جدید تجارت کے لیے بھیجیں....بعض فاضل علماء کو پولیس فوج میں بھیجیں... بعض فاضل علماء کو صدر وزیر اعظم وزراء چیف جسٹس چیف آف آرمی جرنل کرنل ڈی جی اءی جی وغیرہ بڑے عہدوں کے لیے تیار کریں... بعض فاضل علماء کو سائنسدان بنانے کے لیے بھیجیں...بعض فاضل علماء کو وعظ و نصیحت کے لیے خطیب بنائیں امام مسجد و قاری حافظ مدرسِ قرآن و معلم تجوید بناءیں...بعض فاضل علماء کو عام معلم مدرس و بعض کو محقق محدث و مفتی بنائیں...بعض فاضل علماء کو جج قاضی بنانے کے لیے تیار کریں...بعض فاضل علماء کو جاسوس اینٹیلی جنس کی فیلڈ دیں اس میں ماہر بناءیں.. بعض فاضل علماء کو ایجادات ٹولز بنانے کی فیلڈ میں بھیجیں... بعض فاضل علماء کو سوشلی لکھاری واعظ بنائیں... بعض فاضل علماء کو ٹیکنیشن مستری بنانے کی شعبے میں بھیجیں، بعض فاضل علماء کو سیاست کے میدان میں بھیجیں
🟩الغرض:
ہر جائز شعبے ہر اچھے میدان میں اہل علم حضرات ہوں،علماء حضرات ہوں تو کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے...ہمارے سامنے اتنے سارے اہم کام ہیں اور ہم چھوٹی چھوٹی عام سے کام میں مصروف بلکہ الجھتے جگھڑا کرتے نظر آ رہے ہیں...بڑی سوچ رکھیں، محنت کریں محنت کرواءیں... علم و عبادات میں چھا جائیں تو تعریف کرانے کی کیا حاجت ہے....؟؟ آپ بس محنت کریں دینی خدمات کریں، لوگ آپ کی تعریف خود کریں تب مزا ہے مگر آپ اور ہم تعریف دولت طاقت شہرت کی لالچ نہ رکھیں، عاجزی کریں اور اسلام کے لیے اچھا نوابانہ لباس وغیرہ پہن سکتے ہیں بشرطیکہ عمل و زبان سے وقتا فوقتا جھلکے کہ آپ دوسرں کی عزت کرتے ہیں، عوام و ماتحت لوگوں مریدوں عقیدت مندوں کو کیڑے مکوڑے غلام نہیں سمجھتے ...لوگوں کو عقیدت مندوں کو چمچے چاپلوس غلام مت بناءیں.... اسلام و اسلاف کا محب و عاشق بناءیں، اپنی بات میں وزن و اثر پیدا کرنا ہو تو خلوص عبادت و خدمات کی کثرت کریں اور دلائل و جدید دلائل شامل کریں آپ کی بات میں اثر ہوگا، آپ کی حکم پے مر مٹیں گے لوگ.....!! اگر ایسا نہ بن پائیں تو کسی برے طریقے سے لیڈر و پُر اثر بننے کی کوشش نہ کریں بس گمنام خادم اسلام بن کر عبادت والا بن کر زندگی گذار دیں.....اللہ کی رضا ہی تو اصل مقصود ہے ناں تو پھر شہرت طاقت وغیرہ دیگر چکروں میں نہ پڑنا لازم ہے.....!!
.
*#اہم_نوٹ①......!!*
ہر شعبے والا دوسرے شعبے والے کو بلکہ کسی عام سے آدمی کو بھی حقیر و کمتر نہ سمجھے.. ہر شعبے والا دوسرے کو بھی اہم سمجھے... وقعت عزت دے ... ہوسکے تو دوٹوک دوسرے شعبے والوں کی تائید و اعلان کرے اور مدد کرے حمایت کرے....اگر دوٹوک ھمایت و مدد نہ کر سکے مجبور ہو تو اشارتاً تائید و حمایت کرے ورنہ کم سے کم تردید و مذمت تو نہ کرے... کم از کم مطلقا عام الفاظ میں حمایت و تعریف کرے.....مگر کوئی سچا اچھا مجبورا کسی اور سچے اچھے کی مذمت و تردید کرے تو عوام و خواص اس مذمت و تردید کے جگھڑے میں نہ کود پڑے بلکہ حسنِ ظن اچھا گمان رکھے کہ دونوں مخلص سچے اچھے ہیں تو بظاہر مذمت و تردید و اختلاف و جگھڑا کر رہے ہیں تو شاید ملکی یا عالمی دباؤ میں مجبور ہونگے
.
*#اہم_نوٹ②.....!!*
فروعی اختلاف ہو.... کوئی کہے کہ یہ طریقہ بہتر و مفید ہے اس پے چلو اور کوئی دوسرا اختلاف کرکے کہے کہ یہ طریقہ بہتر و مفید ہے اس پے چلو تو ایسے باادب باسلیقہ مدلل پرُلاجک اختلاف پے ایک دوسرے کی مذمت نہ کریں...ایسے اختلاف سے دل چھوٹا نہ کریں ہاں وسیع اتحاد اہلسنت کے لیے کاوشیں کریں دعاءیں کریں التجاءیں کریں، آپ خدمات کریں علم و عبادات میں مگن رہیں تو اتحاد کے لیے آپ کی بات و مشورہ پرُ اثر ہوگی ورنہ اتحاد نہیں کر رہے کہہ کر سستی کاہلی بے ہمتی مت پھیلائیں.....بس کام کریں کام اور عمل کریں عمل...اور صبر و برداشت کی تلقین کریں اور یہ بھی تلقین التجاء کریں کہ بے شک اختلاف پے صبر و برادشت ہے مذمت نہیں کرتے دل چھوٹا نہیں کرتے بےہمتی سستی کاہلی نہیں پھیلاتے مگر خواہش ہے کہ عظیم اتحاد اہلسنت ہو تو کیا ہی عمدہ و مفید ترین بات ہے...لیکن فقط خود کو ہی یا اپنے شعبے تنظیم ہی کو بہت بڑا نہ سمجھیں،اپنے آپ کو کوئی عقل کل بہت بڑی توپ نہ سمجھے...ہم سپ پر رجوع توبہ کا دل جگرہ رکھنا لازم ہے،یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا رد نہ کیا جائے...سیدی اعلیٰ حضرت اسلاف کے حوالے دیکر فرماتے ہیں:
اہل حق کا یہ معمول رہا ہےکہ کلام اللہ و کلام رسول کے سوا ہر ایک کا قول لیا جا سکتا ہے اور اس پر رد بھی کیا جا سکتا ہے دلائل کے ساتھ(فتاوی رضویہ15/469ملخصا)
.
*#اہم_نوٹ③.......!!*
عام ادمی یا کسی کو بھی کسی شخصیت کی خدمات علم عبادات وغیرہ خوب پسند آئیں یا کوئی مشھور ہو جائے تو بس فقط اسی کی اہمیت دل میں نہ رکھیں بلکہ اسکی بھی اہمیت رکھیں تعریف کریں اور ساتھ دیگر شعبے والوں کو بھی اہم سمجھیں بظاہر کوئی انہیں اہم نہ سمجھے تب بھی آپ ایک ایک شعبے ایک ایک سنی شخص کو اہم سمجھیں اہمیت وقعت دیں...بے شک مشورے دیں تو یہ نہ سمجھیں کہ اگلے کو معلوم نہیں، ممکن ہے اسے آپ سے زیادہ علم ہو مگر وہ کسی اور جگہ مصروف ہو، بحر حال ایک دوسرے و وقعت دیں عزت دیں ایک دوسرے کی مدد کریں... ایک دوسرے کو مشورے دیں اصلاح کریں نصیحت کریں جانی مالی ہرطرح کے تعاون کریں... شہرت طاقت قومیت پرستی میں نہ آئیں، چمچہ گیری چاپلوسی قومیت پرستی غنڈہ گردی چوری ایجنٹی وغیرہ کے ذریعے دولت طاقت شہرت کمانے جھانسے میں نہ آئیں
.
*#اہم نوٹ④.......!!*
مذکورہ اداروں مدارس کے لیے علماء طلباء لکھاری واعظ امام مسجد مدرس و جدید علوم و فنون پے حکومت فنڈ مہیا کرے اگر اگر ھکومت مہیا نہ کرے یا کم مہیا کرے تو سرمایہ دار دولت مند و عوام بھرپور تعاون کریں حمایت کریں جانی مالی وقتی حوصلاتی وغیرہ ہر طرح کے مدد کریں... چندہ زکواۃ فطرہ دیں اور ساتھ ساتھ غرباء پے بھی خرچ کریں
.
🟥عالم کورس اچھی طرح مکمل کریں گے یا 👈کافی علم حاصل کرلیں گے تو آپ ایک قابل باشعور بندہ بن کے نکلیں گے......اب آگے کیا کرنا ہے آپ کے پاس بہت راستے ہیں
مثلا
①قابل مدرس بن جائیے افتاء کیجیے پھر ترقی کرتے کرتے شیخ الحدیث و التفسیر بن جاءیے واعظ و مصنف بن جاءیے....مناسب لگے تو بڑوں کی اجازت و دعاؤں سے آپ اپنا الگ مدرسہ کھول لیجیے
②قابل مدرس و واعظ بن کر ساری زندگی گذار دیجیے
③تدریس کے ساتھ ساتھ امامت خطابت کیجیے
④تدریس کے ساتھ ساتھ نظامت کیجیے
⑤تدریس کے ساتھ ساتھ افتاء کیجیے
⑥فرسٹ ٹائم تدریس کیجیے اور سیکنڈ ٹائم اپنا کاروبار خرید و فروخت کوءی پیشہ ہنر سیکھیے مثلا درزی الیکٹریشن، دودھ بیچنا، موبائل کی دوکان، جوتے، کپڑے ،فوڈ، فروٹ کی دوکان.....کوئی اور کاروبار کی دوکان
⑦عالم کورس مکمل کرنے کےبعد پولیس فوج ریجنر اسکول کالج یونیورستی سیاست میں چلے جانا بھی عمدہ آپشن ہے مگر کوشش کیجیے کہ کسی طرح علم و شعور لینے پھیلانے سے ناطہ نہ ٹوٹے...خطابت تدریس سوشل میڈیا پے لکھنا کوئی بھی طریقہ علم سے جڑے رہنے کا نکال لیجیے
⑧فرسٹ ٹائم تدریس کیجیے سیکنڈ ٹائم ٹیوشن پڑھائیے
⑨فرسٹ ٹائم تدریس کیجیے سیکنڈ ٹائم انگلش لینگوئیج سینٹر جاءیے پھر اپنا لیگوئج سینٹر کھول لیجیے
10:عالم کورس مکمل کرنے کے بعد
اسلامی و دنیاوی مکس نصاب والا نجی پرائمری اسکول کھول لیجیے اور خطابت بھی کیجیے تاکہ اعلی تعلیم سے وابستگی بھی رہے اور علم و شعور پھیلانا بھی جارے رہے
11:ثالثہ رابعہ تک کا اپنا مدرسہ کھول لیجیے ، رابعہ کے بعد طلباء کو کسی بڑے مدرسے بھیجیے...خطابت بھی کیجیے ہوسکے تو امامت بھی کیجیے
.12:درس نظامی کےساتھ ساتھ اسکول کالج سے پرائیوٹ ایف اے بے اے بھی کیجیے پھر درس نظامی مکمل کرکے یا کافی علم حاصل کرنے کے بعد طب میڈیکل انجنیرائنگ سائنس جدید علوم و فنون میں داخلہ لیجیے ، ایم فل ، پی ایچ ڈی کیجیے، انجنیر سائنسدان لیکچرار ٹیچر سیاستدان تاجر وغیرہ بنیے
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475
👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے