🟥 *#کہتے ہیں کہ سیدنامعاویہ کے متعلق سکوت کرو،انکی شان بیان نہ کرو کیونکہ اس گھرانےنے اہلبیت کو اذیتیں دیں جنگیں لڑیں۔۔اسکا مدلل و معقول جواب پڑھیے اور اہلبیت و سیدنا معاویہ کا باہم ادب پڑھیے اور سیدنا معاویہ وغیرہ کی جناب میں معافی مانگیے تاکہ شب براءت ہماری مغفرت ہو کیونکہ اس رات اسکی مغفرت نہیں ہوتی جو نفرت و بغض رکھے۔۔تفصیل و دلائل اس تحریر میں پڑھیے*
۔
🟩توجہ کے عنوان میں گذارش کے بعد تحریر کا نیچے خلاصہ لکھا ہے پھر اسکی تفصیل 10 باتوں میں سمیٹ دی ہے
۔
📌 *#توجہ*
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کے متعلق کوئی بھی اعتراض یا اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے ہمیں 03062524574 پر واٹسپ میسج کیجیے۔۔یہی نمبر وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنا دیجئے تاکہ میں پہلے سے بھی بڑھ کر دین کی خدمت کر سکوں ، علمی اصلاحی تحقیقی تحریرات زیادہ سے زیادہ پھیلا سکوں
۔
علمی تحقیقی اصلاحی سیاسی تحریرات تحقیقات کے لیے اس فیسبک پیج کو فالوو کیجیے،پیج میں سرچ کیجیے،ان شاء اللہ بہت مواد ملے گا...اور اس بلاگ پے بھی کافی مواد اپلوڈ کردیا ہے...لنک یہ ہے:
https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1
https://www.facebook.com/share/1DbgDVUc58/
✅ *#جواب.و۔تحقیق*
👈👈 *#خلاصہ*
سیدنا معاویہ رضی اللہ کے گھرانے و دیگر اسلام لانے والوں کو اسلام نے معاف کر دیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کیا بلکہ حکم دیا کہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام کی مطلق تعریف کی جائے تو دونوں عظیم الشان گروہوں کی تعریف کرنا ہوگی،دونوں سے محبت رکھنا ہوگا نفرت و مذمت نہ کرنی ہوگی، سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہ اپس میں اختلافات ہوئے مگر ان اجتہادی اختلافات کی وجہ سے دونوں نے ایک دوسرے سے نفرت نہ کی ، بے ادبی نہ کی بلکہ ایک دوسرے کا لحاظ و ادب رکھنے کا فرمایا لیھذا ہمیں حق نہیں کہ کسی فریق سے نفرت و عداوت رکھیں۔۔👈👈البتہ مستند اسلاف کی تحقیق کے مطابق جن معاملات میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجتہادی خطاء کی ان معاملات میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حق پےکہہ کر فضیلت کےطور پر بیان کرنا ٹھیک بلکہ ان معاملات میں اجتہادی خطاء کہیں گے اور اجتہادی خطاء کے متعلق حدیث و سنت ہے کہ مذمت و نفرت نہ کریں گے اور دیگر معاملات میں سچی تعریف کریں گے اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ پر خوارج کے لگے اعتراضات اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر رافضی نیم رافضی کے لگے اعتراضات سب جھوٹے ہیں، انکا جھوٹا ہونا واضح کریں گے،دونوں گروہوں کا دفاع کریں گے،اور کم علمی بےتوجہی یا کسی بھی وجہ سے سیدنا رضی اللہ تعالی عنہ سے نعوذ باللہ نفرت رکھی تھی تو دل سے توبہ کر کے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جناب میں معافی مانگیں تاکہ شب براءت میں اس شخص کی بخشش و مغفرت ہو،کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ اس رات اس شخص کی بخشش مغفرت نہیں ہوتی جو کینہ و نفرت رکھے
۔
🟩 *#تفصیل۔و۔تحقیق*
🟥 *#پہلی بات* 1️⃣
شیعہ مکر و فریب دیتے ہوئے ایک بات یہ بھی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ تو طلقاء میں سے ہیں ، فتح مکہ کے دن تلوار کے زور پر ایمان لائے وہ تو ایمان والے ہی نہیں نعوذ باللہ تعالی۔۔۔اس کا جواب یہ ہے کہ
۔
1۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن تمام لوگوں کو ازاد کر دیا تھا، خود مختار کر دیا تھا کہ جو چاہو کرو ،جو کرنا ہے کرو، اچھائی بھلائی برائی تمہارے ہاتھ میں ہے، اسی لیے ان کو طلقاء کہتے ہیں، یعنی طلقاء مذمت کے لیے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاق کریمانہ کو ظاہر کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مختار کر دیا تھا، ازاد کر دیا تھا۔۔ تو اس وقت جس نے بھی اسلام قبول کیا رسول کریم کے اخلاق کریمانہ کو دیکھ کر مرضی سےاسلام قبول کیا۔۔۔تلوار کے زور پر اسلام قبول نہیں کرایا گیا،لہذا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ اپنی مرضی سے اسلام لائے اور رسول کریم نے ان کا اسلام قبول کیا
۔
2۔۔۔کیا اپ نہیں دیکھتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ابو سفیان بن حرث جو فتح مکہ سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں کرتا تھا، گستاخی میں توہین میں دن رات شعر و شاعری کرتا تھا۔۔اس کے بارے میں پڑھیے ذرا۔۔۔ وہ بھی فتح مکہ کے دن اسلام لائے تو تم شیعوں نے ان کے اسلام کو قبول کر لیا، وہاں یہ نہیں کہا کہ تلوار کے زور پر اسلام قبول کیا ہے جبکہ منافقت و مکاری کرتے ہوئے اسلام کی نافرمانی کرتے ہوئے اہل بیت کی نافرمانی کرتے ہوئے رسول کریم کی نافرمانی کرتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ اور ان جیسے دیگر کئی صحابہ کرام کے متعلق کہتے ہو کہ وہ تو طلقاء تلوار کے زور پر ایمان لائے ان کا ایمان قبول نہیں، افسوس ہے تمہاری دوغلا پالیسی اور جھوٹ و منافقت پر۔۔۔۔!!
۔
( أبو سفيان بن الحرث بن عبد المطلب )
هو ابن عم رسول الله وأخوه من الرضاعة أرضعتهما حليمة السعدية أياما... وكان ترب رسول الله قبل النبوة يألفه ألفا شديدا فلما بعث رسول الله عاداه وهجاه وهجا أصحابه۔۔۔۔اہ
👈شیعہ کتابوں میں ہے کہ ابو سفیان بن حرث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا بیٹا ہے (جیسے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ رسول کریم کے چچا کے بیٹے ہیں) اور ابو سفیان بن حرث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضائی بھائی بھی ہیں، اعلان نبوت سے پہلے ان کی رسول کریم سے بڑی محبت تھی لیکن جب رسول کریم نے نبوت کا اعلان کر دیا تو یہ انکاری ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام کے متعلق گستاخانہ شعر و شاعری کرتا رہا، فتح مکہ کے دن یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تاکہ کلمہ پڑھیں تو رسول کریم نے ان سے منہ موڑ لیا۔۔۔سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے کہا کہ تم وہ بات کہو کہ جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سیدنا یوسف علیہ السلام سے کہی تھی کہ
اللہ تعالی نے اپ کو ہم پر فضیلت دی ہے شرف دیا ہے چن لیا ہے اور ہم خطاکار ہیں ہمیں معاف کر دیجئے،تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کریم روف و رحیم ارحم الراحمین ہے جاؤ تم ازاد ہو، تم پر اب کوئی ملامت نہیں، انہوں نے ایمان لے ایا اور رسول کریم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے گا
شیعہ کتاب الدرجات الرفيعة في طبقات الشيعة، السيد علي خان الشيرازي، ص165ملخصا
الكنى والألقاب، الشيخ عباس القمي1/87ملخصا
(اہلسنت کتاب سبل الھدی11/135نحوہ)
۔🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#دوسری بات* 2️⃣
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن بے شک یہ فرمایا کہ تم طلقاء ہو۔۔۔۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ تم طلاق یافتہ کی طرح ناپسند بے تعلق ہو مجھے۔۔ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ سے یہی جھلکتا ہے کہ گویا اپ فرما رہے ہوں اہل مکہ آپ لوگوں نے مجھے تکالیف دیں لیکن کیا یاد رکھو گے ،جاؤ اپ لوگ ازاد ہو، ہشاش بشاش خندہ پیشانی والے بن کے جاؤ ازاد ہو،جاؤ تمہیں معاف کیا لیکن تم میں سے معافی کے بعد جو ایمان لے ایا اسے میں نے سینے سے لگا لیا اسے جنت کی بشارت ہے
.
🌹الحدیث:
وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمِنَ الطُّلَقَاءِ
جہاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد تھی 10 ہزار کے قریب تھے جس میں طلقاء صحابہ کرام بھی تھے
( بخاری حدیث4337)
✅ہدایت پکڑیے کہ طلقاء صحابہ کرام کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لیا ۔۔۔قبول فرما لیا۔۔۔گویا ایک طرح سے سینے سے لگا لیا۔۔۔ان پر اعتماد فرمایا۔۔۔انہیں جہاد میں ساتھ لے گئے
۔
🌹من الطلقاء استعمله النبي صلى الله عليه وسلم على صدقات بني المصطلق
ایک صحابی جو طلقاء میں سے تھے ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق کے صدقات جمع کرنے کا عہدہ عطا فرمایا
(الکاشف للذھبی2/353)
✅دیکھیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلقاء صحابی پر اعتماد فرما رہے ہیں۔۔۔انہیں عہدہ دے رہے ہیں ۔۔۔انہیں ایک طرح سے سینے سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔ اپنا بنا رہے ہیں۔۔۔۔ایک طرح سے اس معاملے میں اپنا نائب قرار رہے ہیں اور اج کچھ لوگوں کو نفرت ہے۔۔۔؟؟ افسوس
.
🌹مُعَاوِيَةَ "، وَكَانَ كَاتِبَهُ
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کاتب رہے
(مسند احمد تحت حدیث2651)
✅رافضی نیم رافضی دیکھیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا اعتماد فرمایا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر۔۔۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو علم غیب ہے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنا کاتب خاص عہدے و ذمہ داری والا رکھیں گے جنہیں اج کا امتی ظالم کہتا ہے اس کا نام لینا، تذکرہ کرنا گوارا نہیں کرتا۔۔۔؟
۔🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#تیسری بات* 3️⃣
*#سیدنا معاویہ صحابی ہیں،اور صحابہ کرام کی تعریف کی جائے گی...!!*
1...دَعَوْنَا مِنْ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں سیدنا معاویہ کے متعلق نازیبا بات نہ کرو وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں
(المعجم الكبير للطبراني11/124)
(الشريعة للآجري5/2459نحوه)
(مشكاة المصابيح1/399نحوہ)
۔
2....الحدیث:
لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے کسی بھی ایک بھی صحابی کو برا نہ کہو ان کی تو اتنی شان ہے کہ وہ ایک مد خرچ کریں اور تم احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرو تو بھی ان کو نہیں پہنچ سکتے
(صحیح مسلم حدیث2541)
.
3....قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ: مُعَاوِيَةُ أَوْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ؟ فَقَالَ: «مُعَاوِيَةُ أَفْضَلُ، لَسْنَا نَقِيسُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا» . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيَ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ
امام احمد بن حنبل سے سوال کیا گیا کہ سیدنا معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیز، امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ سیدنا معاویہ افضل ہیں... ہم کسی غیر صحابی(حتی کہ عظیم الشان تابعی وغیرہ جیسے عمر بن عبدالعزیز)کو(سیدنا معاویہ وغیرہ)کسی صحابی کے برابر نہیں کرسکتے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل ترین وہ لوگ(صحابہ) ہیں کہ جن میں میں ظاہری حیات رہا
(السنة لأبي بكر بن الخلال2/434)
✅ثابت ہوا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضیلت والے صحابی ہیں، غیر صحابی بڑے بڑے متقی پرہیزگار صوفیاء اولیاء علماء سیدنا معاویہ کے برابر نہیں ہوسکتے
.
4....معاوية بن أبى سفيان الصحابى ابن الصحابى
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنھما صحابی ہیں اور آپ کے والد بھی صحابی ہیں
(تهذيب الأسماء واللغات2/101)
.
5....مُعَاوِيَةَ وَيَقُولُ: كَانَ مِنَ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا معاویہ اصحاب محمد کے علماء صحابیوں میں سے ہیں
(السنة لأبي بكر بن الخلال2/438)
.
🌹القرآن:
لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی
تم میں سے جس نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان لوگوں سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سارے صحابہ سے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے
(سورہ الحدید آیت10)
.
👈آیت کی تفسیر ملاحظہ کیجیے کہ سیدنا ابوبکر و عمر سیدنا علی و سیدنا معاویہ مہاجرین انصار اور ان کے بعد کے سارے صحابہ کرام جنتی ہیں...ہر صحابی نبی جنتی جنتی
۔
۔۔۔۔ {وكلا} كلا لفريقين من أنْفق وَقَاتل من قبل الْفَتْح وَبعد الْفَتْح {وَعَدَ الله الْحسنى} الْجنَّة
یعنی
👈سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ کرام نے خرچ کیا جہاد کیا اور فتح مکہ کے بعد والے صحابہ کرام ان کے درجات میں اگرچہ تفاوت ہے لیکن سب صحابہ کرام سے اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ کیا ہے
(تنوير المقباس من تفسير ابن عباس ص457)
.
👈وقال محمد بن كعب القرظي: أوجب الله لجميع الصحابة الجنة والرضوان
ترجمہ
محمد بن كعب القرظي علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام صحابہ کے لیے جنت اور رضامندی کو واجب کردیا ہے
(أنموذج اللبيب في خصائص الحبيب1/236)
.
✅لہذا ثابت ہوا کہ فتح مکہ کے دن کے بعد جو اپنی مرضی سے سارے اسلام لے ائے وہ سارے کے سارے صحابہ کرام سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ سارے صحابہ کرام پر کوئی ملامت نہیں، کوئی زور زبردستی نہیں تھی، انہیں طلقاء صرف اس لیے کہتے ہیں کہ طلقاء کا مطلب ہے ازاد کردہ خود مختار۔۔۔لہذا طلقاء طلقاء کی رٹ لگا کر بےایمان ثابت کرنے والے اپنے ایمان کی فکر کریں
.🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#چوتھی بات* 4️⃣
*#اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو طلقاء مان بھی لیا جائے تو طلقاء کہنے سے صحابیت کی نفی نہیں ہوتی جیسے مہاجر و انصار کہنے سے صحابیت کی نفی نہیں ہوتی......!!*
.
ذكره ابن سعد، والطّبريّ: وابن شاهين في الصحابة، وكان من الطلقاء
امام ابن سعد اور امام طبری اور امام ابن شاہین نے انہیں صحابہ میں شمار کیا اور وہ طلقاء میں سے تھے
(الإصابة في تمييز الصحابة4/301)
.
سیدنا ابو سفیان سیدنا معاویہ سیدنا حکیم سیدنا حارث سیدنا صفوان سیدنا سہیل سیدنا حویطب سیدنا علاء سیدنا عیینہ سیدنا اقرع سیدنا مالک بن عوف سیدنا عباس بن مرداس سیدنا قیس سیدنا جبیر
یہ سب پہلے پہل مولفۃ القلوب میں سے تھے پھر اسلام لانا انکا اچھا ہوگیا، اسلام پر اچھائی پابندی کے ساتھ رہے
(كتاب المعارف1/342)
.
ابْنُ عَمِّ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الطُّلَقَاءِ الَّذِيْنَ حَسُنَ إِسْلاَمُهُم..
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے طلقاء میں سے تھے پھر ان کا اسلام اچھا ہوگیا،اسلام پر اچھائی پابندی کے ساتھ رہے
(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة3/95)
.
العلماء متفقون على حسن إسلامه
علماء متفق ہیں کہ سیدنا معاویہ کا اسلام لانا اچھا ہوگیا تھا،اسلام پر اچھائی سے رہے
(الإصابة في الذب عن الصحابة ص220)
.🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#پانچویں بات* 5️⃣
*#طلقاء کا شیعہ روافض نیم روافض نے غلط معنی بیان کیا کہ طلقاء زبردستی مسلمان ہوتے ہیں اور صحابی نہیں ہوتے...طلقاء سے مراد کیا ہے، چند عبارات پیش ہیں،انصاف سے پڑہیے......!!*
.
(الطلقاء) أهل مكة؛ لأنه -صلى الله عليه وسلم- منَّ عليهم، وأطلقهم يوم فتح مكة
طلقاء وہ اہل مکہ ہیں کہ جن پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کرتے ہوئے انہیں فتح مکہ کے دن آزاد کر دیا تھا(کہ چاہو تو ایمان لاؤ ، چاہو تو دنیا و آخرت کی بربادی پے ڈٹے رہو، کہ ہمارا کام سمجھانا ہے، زبردستی مسلمان کرنا نہیں)
(المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم3/684)
.
الطلقاء، يعني: الذين خلى عنهم يوم فتح مكة وأطلقهم
طلقاء انکو کہتے ہیں کہ جن کو فتح مکہ کے دن رسول کریم نے آزاد کر دیا تھا اور ان کا راستہ چھوڑ دیا تھا(کہ چاہیں تو ایمان لائیں ، چاہیں تو دنیا و آخرت کی بربادی پے ڈٹے رہیں کہ ہمارا کام سمجھانا ہے زبردستی مسلمان کرنا نہیں)
(شرح الزرقاني على المواهب اللدنية3/498)
.
الطُّلَقَاءُ)۔۔۔۔۔قِيلَ لِمُسْلِمِي الْفَتْحِ الطُّلَقَاءُ لِمَنِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
طلقاء وہ کہ جو فتح مکہ کے دن ایمان لے آئے ، ان کو اس لئے طلقاء کہا جاتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر خصوصی احسان فرمایا
(شرح النووي على مسلم7/153)
.🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#چھٹی بات* 6️⃣
اب ہم چند دلائل لکھ رہے ہیں کہ معافی مانگنی چاہیے کہ اے صحابہ کرام ۔۔۔اے سیدنا معاویہ۔۔۔ اے سیدنا ابو سفیان ۔۔۔اے سیدہ ہندہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اپ سب سے معافی مانگتے ہیں کہ ہم نیم رافضی رافضی اپ لوگوں کے متعلق نازیبہ نظریہ رکھتے تھے، نازیبہ کہتے تھے۔۔نیم رافضی و رافضی کی دنیا و اخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ اپ لوگ صحابہ کرام سے معافی مانگ لیں، اپ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے معافی مانگ لیں، اپ لوگ سیدنا ابو سفیان سے معافی مانگ لیں، اپ لوگ سیدہ ہندہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے معافی مانگ لیں اور تمام صحابہ کرام سے معافی مانگ لیں۔۔۔ اب بھی وقت ہے
کیونکہ
✅👈 اگر کلیجہ چبایا گیا اور بدتمیزیاں جنگیں کی گئیں تو اس وقت وہ صحابہ کہلاتے بھی نہیں تھے وہ تو مسلمان ہی نہیں تھے۔۔۔جب وہ صحابی بنے تو کوئی بدتمیزی نہیں کی اور نہ ہی پھر کبھی کلیجہ چبایا۔۔۔۔👈جب اسلام لائے تو اس کے بعد کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہلبیت و صحابہ کرام کو اذیت نہ پہنچائی بلکہ 📌کچھ فروعی اختلاف و جنگ کے باوجود ادب میں رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو اسلام قبول کر لے تو اسلام لانے سے پہلے جو اس نے جرم کیے تھے کرتوت کیے تھے سب معاف ہو گئے انہیں یاد کر کے انہیں عار دلانا جرم ہے۔۔۔۔جو جرم تھے وہ سب کلعدم ہو گئے
۔
🌹الحدیث:
أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اسلام لانے سےپہلے جو گناہ و مظالم کرتوت وغیرہ اس نے کیے اسلام لانے کے بعد اسلام ان گناہ و مظالم مذمتوں لعنتوں وغیرہ سب کچھ کو اسلام مٹا دیتا ہے
(اہلسنت کتاب مسلم حدیث192,321)
(شیعہ کتاب میزان الحکمۃ2/134)
✅سیدنا معاویہ ،سیدنا ابوسفیان سیدہ ہندہ کے سب کرتوت اسلام نے ، نبی پاک نے معاف فرما دییے تو تمھیں کیوں چڑ ہے۔۔۔؟؟
.
بخاری میں ہے:
(،ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایضا یعنی ”بھی"
(بخاری حدیث3825)
.
وَأَنا أَيْضا بِالنِّسْبَةِ إِلَيْك مثل ذَلِك، وَقيل: مَعْنَاهُ وَأَيْضًا ستزيدين فِي ذَلِك
بھی کا معنی ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تم سے راضی ہوں محبت کرتا ہوں، ایک معنی یہ بنتا ہے کہ اور بھی ترقی و محبت پاؤ گی
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري ,16/284)
۔
وبايعتْ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -، فلما عرفَها، قالت: أنا هند، فاعفُ عما سلف، فعف
ہندہ نے رسول کریم کی بیعت کی اور معافی طلب کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ کی والدہ کو معاف کردیا
(التاريخ المعتبر في أنباء من غبر1/159)
.
🟥👈 *#رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض رشتہ داروں نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و دشمنیان کیئں۔۔کیا کہو گے۔۔۔۔۔؟؟*
😭جی تو نہیں چاہتا کہ میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں میں سے ان رشتہ داروں کو ڈھونڈو ، کتابوں میں ان کے نام ڈھونڈو کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھتے تھے اور ان کی مزمت کرتے تھے پھر اسلام لے ائے اور رسول کریم نے انہیں معاف فرما دیا
لیکن
عام عوام کو سمجھانے کے لیے اور شاید کے سادات کرام کے دل میں بات بیٹھ جائے کہ اسلام لانے سے سب کچھ معاف ہو جاتا ہے اس مقصد سے ان کے نام لکھ رہا ہوں۔۔۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض رشتہ داروں کے متعلق بھی یہی کہو گے کہ وہ انہوں نے دشمنی کی تھی انہوں نے رسول کریم کی ھجو مذمت اور توہین کی تھی مگر پھر اسلام لے ائے تو پھر بھی ہمیں شیعہ نیم شیعہ کی طرح ان کا اسلام لانا قبول نہیں، ہم ہر حال میں نفرت کرتے پھریں۔۔۔؟؟
۔
👈جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض رشتہ دار کہ جن کی فضیلت قران و احادیث میں ائی ہے ان میں سے بعض رشتہ دار اگر دشمنی پہ اتر ائے تھے اور توہین رسالت بھی کی تھی، ایسے ویسے کرتوت کیے👈مگر جب اسلام لے ائے رسول کریم نے ان کو معاف کر دیا تو کیا اب ہم ان کے بارے میں دل میں کچھ میل کچیل رکھیں۔۔۔۔؟؟
👈ہرگز میل کچیل نہیں رکھیں گے، ان کے متعلق دل کو صاف رکھیں گے، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہیں بظاہر کچھ وقت کے لیے دشمن بن گئے گستاخ بن گئے مگر اسلام لے ائے تو رسول کریم نے انہیں معاف کر دیا تو اب ہم ان کی عزت کریں گے اسی طرح سیدنا ابو سفیان سیدنا معاویہ سیدہ ہندہ وغیرہ اسلام لانے سے پہلے کرتوت کر گئے تھے مگر جب اسلام لے ائے رسول کریم نے انہیں معاف کر دیا تو اب ان کی عزت و تعریف کرنا لازم ہے
۔
👈جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض رشتہ داروں کے کرتوت بھلا دینا لازم ہیں اسی طرح سیدنا ابو سفیان سیدنا معاویہ سیدہ ہندہ کے کرتوت بھلا دینا لازم ہے
۔
😭نم انکھوں سے صرف دو مثالیں لکھ رہا ہوں اور جب دو مثالیں میری نظروں سے گزری تو پھر میں نے باقی تلاش کرنا چھوڑ دیا۔۔۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان رشتہ داروں کو تلاش کروں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بن گئے تھے پھر اسلام لے ائے۔۔کیوں تلاش کروں۔۔۔۔؟؟جب اسلام لے ائے رسول کریم نے معاف کر دیا تو میں کیوں تلاش کروں۔۔۔۔؟؟
۔
1.....عبداللہ بن ابی امیہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیرے بھائی تھے مگر گستاخ تھے۔۔۔پھر۔۔۔؟؟
فأما عبد الله فأسلم، وكان قبل إسلامه شديد العداوة للنبي صلى الله عليه وسلم
سیدنا عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیرے بھائی رشتہ دار تھے اسلام لانے سے پہلے وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سخت عداوت و دشمنی رکھتے تھے(پھر جب اسلام قبول کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کا اسلام لانا قبول کر لیا اور انہیں معاف کر دیا)
(سبل الھدی11/85)
۔
2...أبو سفيان بن الحارث ابن عم النبي- صلى الله عليه وسلّم- وأخوه من الرضاعة ....فلما بعث رسول الله- صلى الله عليه وسلّم- عاداه وهجاه....أسلم عام الفتح وحسن إسلامه
سیدنا ابو سفیان بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ہیں اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے رضائی بھائی ہیں ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے دشمنی کی اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ھجو اور مذمت کی، پھر فتح مکہ کے دن اسلام لے ائے اور ان کا اسلام لانا اچھا ہو گیا
(سبل الھدی11/135)
۔
✅اسلام قبول کرنے سے پہلے اگر کسی نے کوئی گناہ کا کام کیا گستاخی کی بدتمیزی کی لیکن پھر توبہ تائب ہو کر عاشق رسول بن گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی معاف فرما دیا تو اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق وہ ایسا ہے جیسے اس نے کچھ برا کیا ہی نہیں
🌹الحدیث:
.قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو گناہوں سے توبہ کر لے وہ ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں
(ابن ماجہ حدیث 4250)
✅سیدنا ابو سفیان سیدنا معاویہ سیدہ ہندہ و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہما اجمعین اور دیگر تمام اہل بیت عظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین میں سے جس نے بھی گستاخی کی تھی توہین رسول کی تھی مگر پھر اسلام لے ائے تو ان کی گستاخی ان کے کرتوت سب کچھ کلعدم ہو گئے، اب انہیں یہ یہ کہہ کر عار نہیں دلائی جا سکتی کہ فلاں فلاں کرتوت کرتے تھے۔۔۔۔ہرگز ہرگز نہیں 👈اور نہ ہی ان کے متعلق کوئی دل میں کھوٹ رکھیں گے کہ جی یہ تو دشمن تھے نعوذ باللہ کہ جی یہ دو توہین رسالت کرنے والے تھے انہیں میرا دل قبول نہیں کرتا اگرچہ اسلام قبول کر لیا انہوں نے،استغفر اللہ ایسے الفاظ و انداز اختیار کرنا صحابہ کرام کی توہین ہے اہل بیت کی توہین ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کی توہین ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین ہے
۔🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے ہم پر حقوق ہیں ، ہم تمام امتیوں پر حقوق ہیں، چاہے وہ بعد کے اہل بیت سادات کرام ہوں یا عام امتی سب پر صحابہ و اہلبیت کے حقوق ہیں کہ 👈ان سے محبت رکھیں اچھا عقیدہ رکھیں،تذکرہ خیر کریں،👈لیھذا اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق میل کچیل نفرت رکھی تھی تو اسلام کی حق تلفی کی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حق تلفی کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حق تلفی کی لہذا توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جناب میں بھی معافی مانگنی چاہیے
۔
🌹 *#پہلی دلیل و سامانِ ہدایت*
الحدیث:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ
اللہ اللہ میرے اصحاب(صحابہ و اہلبیت) کے متعلق اللہ سے ڈرو انہیں تنقید طعن توہین تنقیص کا ہدف نہ بناؤ... جو ان سے محبت کرے گا تو یہ مجھ سے محبت ہے میں اس سے محبت کروں گا اور جو ان سے بغض رکھے گا تو یہ مجھ سے بغض ہے میں اس سے بغض رکھو گا... جس نے انہیں اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی
(ترمذی حدیث3862)
✅کیا ان کے کرتوت یاد کرنا ان کی گستاخیاں یاد کرنا اور لوگوں کو سنانا کیا یہ محبت کا انداز ہے۔۔؟؟
.
🌹 *#دوسری دلیل و سامانِ ہدایت*
الحدیث:
وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کرام اہلبیت عظام تمام امت کے لیے امان ہیں، ڈھال ہیں، بچاو ہیں
(مسلم حدیث2531)
✅ کیا اپ اور ہم امت میں داخل نہیں۔۔۔۔۔؟؟ کیا اپ اور دیگر سادات کرام امت میں داخل نہیں۔۔۔۔؟؟ یقینا مسلمان سادات کرام امتی ہیں تو سادات کرام و دیگر تمام امت کے لیے بچاؤ کا ذریعہ صحابہ کرام ہیں، صحابہ کرام ہمارے لیے محافظ ہیں، صحابہ کرام ہمارے لیے امان ہیں، وہ تو ہمارے محسن ہیں
۔
🌹 *#تیسری دلیل و سامانِ ہدایت*
الحدیث:
مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نجات و حق والا جنتی فرقہ گروہ وہ ہے جو میرا اور میرے صحابہ کرام و اہل یت عظام کا پیروکار ہو
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/26 حديث2641)
(نحوہ فی المستدرك للحاکم,1/218حدیث444)
(نحوہ فی الشريعة للآجري ,1/307حدیث23)
(المعجم الكبير للطبراني ,14/52حدیث14646)
)نحوہ فی الترغيب والترهيب ,1/529)
✅سادات کرام پر اور ہم سب پر لازم ہے کہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام دونوں کی پیروی کریں اور دونوں گروہوں سے عقیدت و ادب کو اپنے لیے باعث نجات سمجھیں ۔۔۔
۔
🌹 *#چوتھی دلیل و سامانِ ہدایت*
الحدیث:
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ؛ فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اصحاب کی توہین نہ کرو۔۔۔میرے صحابہ کرام اہلبیت عظام کی اتنی شان ہے کہ تم احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرو تو ان کے مد جتنے یا ادھے مد جتنے چھوٹے سے پیمانے کے صدقے کو بھی نہیں پہنچ سکتے
(بخاری حدیث 3673)
✅کیا سادات کرام کو یہ حکم نہیں ہے۔۔۔۔؟؟یقینا سادات کرام سمیت تمام امت کو یہ حکم ہے کہ ہم سب پر صحابہ کرام اہلبیت عظام کے حقوق ہیں کہ ہم ان کے متعلق کوئی برا نظریہ نہ رکھیں کوئی گستاخی نہ کرے کوئی توہین کا انداز اور الفاظ ادا نہ کریں ان سے محبت کریں ان کی تعظیم کریں
۔
🌹 *#پانچویں دلیل و سامانِ ہدایت*
النبي صلى الله عليه وسلم انه قال لمعاوية: " اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے
(ترمذی حدیث3842)
.
🌹امام بخاری سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت و شان بیان کرتے ہیں
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِهِ وَاهْدِ بِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ کے متعلق فرمایا یا اللہ اسے ہادی بنا مہدی بنا، اسے ہدایت دے اور اس کے ذریعے ہدایت دے
(التاریخ الکبیر امام بخاری7/321)
۔
✅رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے خصوصی دعا فرما رہے ہیں کہ اللہ انہیں ہدایت دینے والا بنائے اس کے ذریعے ہدایت دے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا بھی رد نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔ کیا اپ سمجھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا رد کر دی گئی یا پوری کی گئی۔۔۔۔؟؟ یقینا یہی فرمائیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا پوری ہوئی👈تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مجموعی طور پر تو ہمارے لیے باعث ہدایت ہیں۔۔۔ ہمارے لیے ہدایت کا راستہ ہیں۔۔۔ ہم ان کی سیرت اور صحابہ کرام اور اہل بیت عظام سب کی سیرت سے ہدایت پاتے ہیں،👈اجتہادی مسائل میں ہم دیگر اکثریت کے اجتہاد و زیادہ مضبوط و احتیاط والے اجتہاد پر عمل کرتے ہیں تو یہ اس بات کی نفی نہیں ہے کہ سیدنا معاویہ مطلقا ہدایت و دینے والے نہیں بلکہ مجموعی طور پر وہ ہمارے لیے ہدایت کا سامان ہے
.
🌹 *#چھٹی دلیل و سامانِ ہدایت*
احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے حقوق ادا کرنا چاہتے ہو مجھ سے محبت کرنا چاہتے ہو میری عزت و اکرام کرنا چاہتے ہو تو میرے اصحاب یعنی صحابہ کرام و اہلبیت عظام کی عزت کرو ان سے محبت کرو
(ابن ماجہ حدیث 2363)
.
👈أي احفظوا حرمتي وحقي عليكم في احترامه وإكرامه وكف الأذى عنه
👈♥️رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ فرمان کا یہ مطلب ہے کہ میری عزت و حرمت پر پہرا دینا چاہتے ہو خیال رکھنا چاہتے ہو اور میرے جو تم پر حق ہے انہیں ادا کرنا چاہتے ہو میرا احترام اور اکرام کرنا چاہتے ہو تو پھر صحابہ کرام اہلبیت عظام کے ساتھ بھی ایسا ہی ادب و سلوک کرو جیسا میرے ساتھ سلوک کرنا چاہتے ہو
(فیض القدیر 1/197)
✅دل اور دماغ کی انکھیں کھول کر اس حدیث پاک کو سمجھیے کہ تمام صحابہ کرام و اہلبیت عظام کی ہم نے تعریف کرنی ہے یا۔۔۔۔؟؟
۔
🌹 *#ساتویں دلیل و سامانِ ہدایت*
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کی رام کی تعظیم و عزت کرو
(مشکواۃ حدیث6012
نسائی سنن کبری حدیث9178
طبرانی صغیر حدیث245
شرح السنۃ لبغوی حدیث2253)
اور صحابہ کرام و اہلبیت عظام کی عزت کیسے کرنی ہے ایک جھلک ذرا نیچے والے دلائل میں غور کریں👇
۔
🌹 *#اٹھویں دلیل و سامانِ ہدایت*
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنا تعظیم و توقیر کرنا قران و حدیث سے ثابت ہے جس کا کوئی منکر ہو ہی نہیں سکتا
♥️اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و عزت میں سے یہ بھی ہے کہ تمام صحابہ کرام کی تعظیم و توقیر کی جائے اور تمام اہل بیت عظام کی تعظیم و توقیر کی جائے
وَمِنْ تَوْقِيرِهِ وَبِرِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوْقِيرُ أَصْحَابِهِ وَبِرُّهُمْ، وَمَعْرِفَةُ حَقِّهِمْ، وَالِاقْتِدَاءُ بِهِمْ، وَحُسْنُ الثَّنَاءِ عَلَيْهِمْ،
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم و توقیر میں سے یہ بھی ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب(صحابہ کرام و اہلبیت عظام)کی تعظیم و توقیر کریں، انکے حقوق کی پاسداری کریں،ان کی پیروی کریں اور ان کی تعریف و ثنا کریں
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى2/116
شرح الشفا ملا علی قاری2/290نحوہ)
.
🌹 *#ناویں دلیل و سامانِ ہدایت*
الحدیث
وَإِنَّ الْأَنْسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَنْقَطِعُ غَيْرَ نَسَبِي، وَسَبَبِي، وَصِهْرِي
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام نسب منقطع ہو جائیں گے لیکن میرا نسب اور میرا سبب اور میری ازواج کی وجہ سے جن سے رشتہ بنا ان سب سے میرا رشتہ قیامت کے روز نہ ٹوٹے گا
(مسند احمد بن حنبل حدیث18907
مستدرک امام حاکم حدیث 4747
جامع صغیر و زیاداتہ حدیث4189)
۔
✅رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری سیدنا معاویہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ہے۔۔یہ رشتہ داری سسرالی رشتہ داری ہے۔۔۔یہ رشتہ داری رسول کریم کی زوجہ کی وجہ سے ہے۔۔۔اور اپ اوپر حدیث پاک میں پڑھ چکے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کی وجہ سے جو رشتہ داری بنے وہ کل قیامت کے دن برقرار رہے گی۔۔۔یہ حدیث پاک بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سیدنا ابو سفیان کی شان مقام و مرتبہ ثابت کرتی ہے۔۔۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ داروں سے ہر قسم کے رشتہ داروں سے محبت اور ان کی تعظیم کرنی ہے یہ رسول اللہ کی تعظیم ہے ہی
۔
👈قَالَ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: أَلَيْسَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صِهْرٍ وَنَسَبٍ يَنْقَطِعُ إِلَّا صْهِرِي وَنَسَبِي» ؟ قَالَ: " بَلَى، قُلْتُ: وَهَذِهِ لِمُعَاوِيَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَهُ صِهْرٌ وَنَسَبٌ. قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: «مَا لَهُمْ وَلِمُعَاوِيَةَ، نَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ»
✅ راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہر نسب اور ہر رشتے داری منقطع ہو جائے گی سوائے میری رشتہ داری اور میرے نسب کے...؟؟ تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ جی ہاں یہ حدیث پاک ہے... راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سوال کیا کہ کیا یہ فضیلت سیدنا معاویہ کو بھی حاصل ہے....؟؟ 👈امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ بے شک یہ فضیلت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے کہ ان کا نسب اور ان کی رشتہ داری نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے... امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ سیدنا معاویہ کے بارے میں نامناسب باتیں کرتے ہیں، (نامناسب باتوں اور ایسے لوگوں سے)اللہ عافیت میں رکھے
(أبو بكر الخلال ,السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/432)
۔🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#ساتویں بات* 7️⃣
*#سکوت تعریف میں نہیں کرنا بلکہ تعریف کرنی ہے،سکوت تو اختلافات و مشاجرات مذمت میں کرنا ہے*
👈کچھ دلائل تو اوپر پڑھ چکے مزید کچھ پڑھیے
الحدیث:
لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ»
👈حضرت معاویہ کا تذکرہ خیر کےساتھ ہی کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی وعلیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! اسے(ہدایت یافتہ بنا کر اسے)ذریعہ ہدایت بنا۔
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/687حدیث3843)
۔
وقد قال - صلى الله عليه وسلم: " «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا» " أي: عن الطعن فيهم، فلا ينبغي لهم أن يذكروهم إلا بالثناء الجميل والدعاء الجزيل۔۔۔۔۔الخ
👈اور بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ میرے صحابہ کا ذکر ہو تو رک جاؤ، یعنی لعن طعن سے رک جاؤ...تو ضروری ہے کہ انکا ذکر ایسے ہو کہ انکی مدح سرائی کی جائے اور دعاء جزیل دی جائے، لیکن اسکا یہ مطلب نہین کہ حضرت علی سے جنگ کرنے والوں کو یا سیدنا معاویہ اور انکے گروہ کو باغی نا کہا جائے(بلکہ مجتہد باغی کہا جائے گا یہ فضائل بیان کرنے کے منافی نہین کہ مجتہد باغی گناہ نہیں) کیونکہ حدیث عمار کہ اے عمار رضی اللہ عنہ تجھے باغی گروہ قتل کرے گا....کیونکہ (اجتہادی باغی خاطی کہنا مذمت کے لیے نہین بلکہ)اس لیے ہے کہ وہ حکم واضح کر دیا جائے جو حق و باطل میں تمییز کرے اور مجتہد مصیب اور مجتہد خطاء کار مین فیصلہ کرے، اس کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی(فقط زبانی منافقانہ نہیں بلکہ) دلی تعظیم و توقیر ہو، اللہ کی رضا کی خاطر
(مرقاۃ تحت الحدیث3397ملتقط)
✅🚨ان لوگوں کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ کے متعلق سکوت اختیار کرو۔۔۔۔ارے جناب یہ حدیث کا غلط معنی نکال کر حدیث میں تحریف کی ہے جو کہ کفر تک لے جا سکتی ہے۔۔۔حدیث پاک کا واضح معنی ہے کہ صحابہ کرام کا تذکرہ کیا جائے تو زبان کو سنبھال کر تذکرہ کرو تذکرہ خیر کرو اور تمام علماء نے یہی معنی مراد لی ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی صحابہ کرام کی شان بیان کی ہے تو کیا نعوذ باللہ سیدنا معاویہ کے متعلق سکوت کا حکم اس حدیث سے ثابت کرنے والے یہ بھی کہیں گے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی صحابی ہیں ان کے متعلق بھی سکوت کرو ان کے فضائل بیان نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔؟؟
.
👈👈پیران پیر دستگیر محبوب سبحانی سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
واتفق أهل السنة على وجوب الكف عما شجر بينهم، والإمساك عن مساوئهم، وإظهار فضائلهم ومحاسنهم،
🌹اہلسنت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام میں جو اختلافات جنگیں و مشاجرات ہوئے، جو کچھ سیدنا علی و طلحہ و زبیر وعائشہ و معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین میں جو کچھ جاری ہوا اس میں ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنی ربان کو لگام دیں اور ان کی مذمت و برائی سے رک جائیں،♥️ اور ان کے فضائل و اچھائیاں بیان کریں
(غنیۃ الطالبین جلد1 ص161,163ملتقطا مع حذف یسیر)
۔
🚨قادری کہلاتا ہےمگر سیدنا شیخ عبدالقادر کی مانتا نہیں۔۔؟؟لوٹ آ ورنہ قادری کہلا کر منافقت نہ کر، قادری کہلا کر چندہ عزت دولت شہرت کما کر کمینگی نہ کر۔۔ورنہ اصلی قادری نہیں تم۔۔۔۔!!
۔
قال حجة الإسلام الغزالي رحمه الله يحرم على الواعظ وغيره......وما جرى بين الصحابة من التشاجر والتخاصم فانه يهيج بغض الصحابة والطعن فيهم وهم اعلام الدين وما وقع بينهم من المنازعات فيحمل على محامل صحيحة فلعل ذالك لخطأ في الاجتهاد لا لطلب الرياسة او الدنيا كما لا يخفى وقال في شرح الترغيب والترهيب المسمى بفتح القريب والحذر ثم الحذر من التعرض لما شجر بين الصحابة فانهم كلهم عدول خير القرون مجتهدون مصيبهم له أجران ومخطئهم له أجر واحد
👈یعنی
حجة الاسلام امام غزالی نے فرمایا کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئےان کو بیان کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ صحابہ کرام کے متعلق بغض بغض اور طعن پیدا ہو۔ ۔۔۔۔۔صحابہ کرام میں جو مشاجرات ہوئے ان کی اچھی تاویل کی جائے گی کہا جائے گا کہ ان سے اجتہادی خطا ہوئی انہیں حکومت و دنیا کی طلب نہ تھی
ترغیب وترہیب کی شرح میں ہے کہ
مشاجرات صحابہ میں پڑنے سے بچو بے شک تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)تمام صحابہ کرام خیرالقرون ہیں مجتہد ہیں مجتہد میں سے جو درستگی کو پہنچا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر
[روح البيان، ٤٣٧/٩]
.
أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنِّي أُبْغِضُ مُعَاوِيَةَ. فَقَالَ لَهُ: وَلِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ قَاتَلَ عَلِيًّا. فَقَالَ لَهُ أَبُو زُرْعَةَ: وَيْحَكَ! إِنَّ رَبَّ مُعَاوِيَةَ رَبٌّ رَحِيمٌ، وَخَصْمُ مُعَاوِيَةَ خَصْمٌ كَرِيمٌ، فَأَيْشِ دُخُولُكَ أَنْتَ بَيْنَهُمَا؟ !
👈امام ابو زرعہ رازی کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ میں معاویہ سے بغض رکھتا ہوں، امام ابوزرعہ نے کہا کیوں؟ تو اس شخص نے کہا: اس لئے کہ معاویہ نے علی سے جنگ کی۔ تو امام ابو زرعہ نے اسے کہا کہ معاویہ کا ربّ، ربِّ رحیم ہے۔ اور معاویہ کا مدِ مقابل سیدنا علی کریم ہے۔ تُو ان دونوں کے درمیان کیوں گھستا ہے۔۔۔؟
(البداية والنهاية ت التركي11/427)
۔
👈وَضَرَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَنْ سَبَّ مُعَاوِيَةَ أَسْوَاطًا
سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے اس شخص کو کوڑے مارے جس نے سیدنا معاویہ کی گستاخی کی
(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ7/1337)
۔🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#اٹھویں بات* 8️⃣
👈یزید پلید کے کرتوتوں کی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان سے نفرت نہیں رکھ سکتے کیونکہ
یزید کے والدین نے بری تربیت کی ہو ایسا کچھ بھی صحیح سند کے ساتھ یا معتبر کتاب کے حوالے سے نہیں آیا بلکہ کتب میں آیا ہے کہ یزید کے والدین اچھے تھے حتی کہ اقتدار ملنے سے پہلے پہلے یزید بھی اچھا تھا پھر اقتدار کے نشے میں یا نفسانی خواہشات میں یزید برا پلید بن گیا،بیٹے کے کرتوت کی وجہ سے اچھے والد کی مذمت نہیں کرسکتے
ا🌹لحديث:
أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ ". وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : { وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى }
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس بیٹے کے کرتوت(گناہ کفر شرک برائی)کا بوجھ تم پر نہیں ہوگا اور تمھارے کرتوت(گناہ کفر شرک برائی)کا بوجھ تمھارے بیٹے پر نہیں ہوگا
(ابوداود حدیث4495)
.
وَإِنَّمَا خُصَّ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ لِأَنَّهُمَا أَقْرَبُ الْأَقَارِبِ، فَإِذَا لَمْ يُؤَاخَذْ بِفِعْلِهِ فَغَيْرُهُمَا أَوْلَى
👈 جب سب سے قریبی شخص والد و بیٹے کے کرتوتوں(گناہ کفر شرک برائی)کا مواخذہ ایک دوسرے سے نہیں ہوگا تو دیگر لوگوں سے بھی بدرجہ اولیٰ نہیں ہوگا(سوائے اس کے کہ باپ بیٹا یا کوئی اور ملوث ہو تو وہ بھی گناہ کرتوت میں شامل کہلائے گا)
(مرقاۃ شرح مشکاۃ5/1843)
.
✅ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بیٹے کے گناہ کرتوت کی وجہ سے اس کے والدین پر کوئی حرف.و.اعتراض.و.مذمت نہیں آئے گا اور والدین کے کرتوت کی وجہ سے بیٹے پر کوئی حرف.و.اعتراض.و.مذمت نہیں آئے گا بشرطیکہ وہ ایک دوسرے کے کاموں میں ملوث نہ ہوں.... اسی طرح دوست احباب رشتہ دار وغیرہ دوسرے لوگوں پر بھی کوئی حرف و اعتراض نہ ائے گا بشرطیکہ کہ وہ ملوث نہ ہوں
لیھذا
👈یزید کے برے کاموں کی وجہ سے اس کے والدین پر کوئی حرف و اعتراض و مذمت نہیں آئے گا بشرطیکہ وہ ملوث نہ ہوں
👈اور اصل قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی ملوث نہ کہلائے گا، ملوث ہونے کی نفی کی جائے گی سوائے اس کے کہ ملوث ہونا معتبر دلائل و حوالہ جات سے ثابت ہو
✅قاعدہ:
الاصل ھو النفی حتی یتحقق الثبوت
ترجمہ: اصل کسی چیز کی نفی ہے جب تک کہ ثبوت متحقق نا ہو جاے(المسلک المتقسط صفحہ 110.. فتاوی رضویہ جلد6 صفحہ198)
اور
👈یزید کی برائیوں کرتوتوں میں اس کے والد و والدہ کا ملوث ہونا کسی معتبر دلیل و کتاب سے ثابت نہیں تو لیھذا یزید کی والدین پر اعتراض کرنے والے یا تو معتبر دلیل و حوالہ جات پیش کریں ورنہ اپنے بغض و بہتان و جھوٹ سے علی الاعلان توبہ رجوع کریں۔۔۔۔👈👈اب ہم یزید کے والد سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق کچھ حوالہ جات پیش کر رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ برے نہ تھے انہوں نے یزید کی اچھی تربیت کی تھی
۔
✅ *#سیدنا معاویہ نے کیا تربیت دی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے*
لَعَلَّكَ تَظُنُّ أَنَّ أُمَّكَ مِثْلُ أُمِّهِ، أَوْ جَدَّكَ كَجَدِّهِ، فَأَمَّا أَبُوْكَ وَأَبُوْهُ فَقَدْ تَحَاكَمَا إِلَى اللهِ، فَحَكَمَ لأَبِيْكَ عَلَى أَبِيْهِ
سیدنا معاویہ نے فرمایا خبردار اے میرے بیٹے یزید........!!
تو شاید یہ گمان کرے کہ تمہاری ماں حسین کی ماں کی طرح ہے یا تمہارا دادا اس کے دادا کی طرح ہے یا تمہارا باپ اس کے باپ کی طرح ہے یہ گمان ہرگز نہ کرنا..... سیدنا حسین کا بابا تمہارے بابا سے زیادہ افضل ہے
( سير أعلام النبلاء - ط الرسالة3/260)
.
👈حتی کہ شیعہ مصنف نے بھی لکھا کہ:
فاحفظ قرابته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ، واعلم يابني ان اباه خير من ابيك وجده خير من جدك وامه خير من امك
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یزید کو تنبیہ فرمائی کہ امام حسین کا خیال رکھنا وہ رسول اللہ کے رشتہ دار ہیں... اے میرے بیٹے جان لو کہ سیدنا حسین کے بابا جان تمہارے بابا جان سے زیادہ بہترین اور افضل ہیں اور ان کے دادا تمہارے دادا سے زیادہ بہترین افضل ہے اور ان کی والدہ تمہاری والدہ سے زیادہ بہترین و افضل ہے
(شیعہ کتاب مقتل الحسین ص13)
✅انصاف کی نگاہ سے دیکھیے اہلبیت کے متعلق سیدنا معاویہ یزید کی کیسی تربیت فرما رہے ہیں......؟؟
.🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#ناویں بات*
✅👈 *#سیدنا معاویہ اور علی و سیدنا حسن حسین و سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھم اجمعین کی باہم ادب و احترام و محبت کی جھلک پڑھیے*
1.....وأما شرفك في الإسلام، وقرابتك من رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وموضعك من قريش فلست أدفعه
ترجمہ:
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف خط لکھا کہ جس میں یہ بھی تھا کہ اے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اسلام میں جو اپ کا مقام و مرتبہ ہے میں اسکا انکار و اختلاف نہیں کرتا، رسول اللہ ﷺ سے آپ کی جو قرابت ہے اور قریش میں تمہارا جو بلند مقام ہے میں اس کا بھی ہرگز انکار و اختلاف نہیں کرتا
الكامل في اللغة والأدب1/258
تو پھر اختلاف کس پر تھا سیدنا معاویہ کا۔۔۔۔۔؟؟ جواب پڑھیے اور باہم ادب بھی دیکھیے👇
2.....أَنْتَ تُنَازِعُ عَلِيّاً، أَمْ أَنْتَ مِثْلُهُ؟فَقَالَ: لاَ وَاللهِ، إِنِّيْ لأَعْلَمُ أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنِّي، وَأَحَقُّ بِالأَمْرِ مِنِّي، وَلَكِنْ أَلَسْتُم تَعْلَمُوْنَ أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ مَظْلُوْماً، وَأَنَا ابْنُ عَمِّهِ، وَالطَّالِبُ بِدَمِهِ
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا گیا کہ آپ سیدنا علی سے جھگڑا کر رہے ہیں اختلاف کر رہے ہیں کیا آپ ان کی مثل ہیں تو سیدنا معاویہ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم میں ان جیسا نہیں ہوں، میں انکے برابر نہیں ہوں، میں جانتا ہوں کہ سیدنا علی مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے معاملے میں وہ مجھ سے زیادہ حقدار ہیں لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ سیدنا عثمان ظلماً شہید کئے گئے اور میں اس کے چچا کا بیٹا ہو اور اس کے قصاص کا طلب گار ہوں
(سير أعلام النبلاء ابن جوزی ط الرسالة3/140)
(البداية والنهاية امام ابن کثیر ت التركي11/425)
.
✅اس روایت سے بھی واضح ہو گیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ برحق سمجھتے تھے افضل سمجھتے کہتے تھےتعریف کرتے تھے لیکن
مطالبہ کرتے تھے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا قصاص لیا جائے فورا لیا جائے بس یہی اختلاف تھا
.
3....سیدنا معاویہ بی بی عائشہ کو تحفے تحائف تک بھیجا کرتے تھے جس سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رسول کریم کی ازواج مطہرات کا خیال رکھا کرتے تھے
أَهْدَى مُعَاوِيَةُ لِعَائِشَةَ ثِيَابًا وَوَرِقًا وَأَشْيَاءَ
ترجمہ:
حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو کپڑے اور چاندی کے سکے(نقدی) اور دیگر چیزیں تحفے میں بھیجیں
(حلية الأولياء 2/48)
.
4....يَا أمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ أَنَا فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ حَاجَاتِكَ وَأَمْرِكَ؟ قَالَتْ: صَالِحٌ...فَلَمْ يَزَلْ۔۔۔
سیدنا معاویہ نے عرض کی اے ام المومنین سیدہ عائشہ دیگر معالات میں کیسا ہوں تو سیدہ عائشہ نے فرمایا اچھے ہیں..سیدنا حجر کے قتل کے معاملے میں سیدنا معاویہ نے عذر پیش کیا یہاں تک کہ سیدہ عائشہ نے عذر قبول کر لیا
(البداية والنهاية ت شيري8/60ملخصا)
۔
5.... سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہما کو سیدنا معاویہ تحائف دیتے تھے اور وہ قبول فرماتے تھے۔۔صرف تحفے لینے دینے کا معاملہ نہ تھا بلکہ سیدنا معاویہ تعریف بھی کیا کرتے تھے
فَلَمَّا اسْتَقَرَّتِ الْخِلَافَةُ لِمُعَاوِيَةَ كَانَ الْحُسَيْنُ يَتَرَدَّدُ إِلَيْهِ مَعَ أَخِيهِ الْحَسَنِ، فَكَانَ مُعَاوِيَةُ يُكْرِمُهُمَا إِكْرَامًا زَائِدًا، وَيَقُولُ لَهُمَا: مَرْحَبًا وَأَهْلًا. وَيُعْطِيهِمَا عَطَاءً جَزِيلًا
جب سیدنا معاویہ کی خلافت (سیدنا حسن و حسین وغیرھما کی صلح کے بعد) قائم ہوگئ تو سیدنا حسن اور حسین سیدنا معاویہ کے پاس آیا کرتے تھے اور سیدنا معاویہ تحائف دیتے اور ان کا بے حد احترام عزت و اکرام کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ مرحبا اپنے گھر میں ہی آئے ہو اور انہیں بہت بڑے بڑے تحفے دیتے تھے
(البداية والنهاية ت التركي11/476)
۔
6......قَالَ مُعَاوِيَةُ لِضَرَارٍ الصَّدَائِيِّ : يَا ضَرَّارُ، صِفْ لِي عَلِيًّا....اہ
سیدنا معاویہ نے سیدنا ضرار سے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان بیان کرو میں سننا چاہتا ہوں... سیدنا ضرار نے طویل شان بیان کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ روتے ہوئے فرمانے لگے اللہ کی قسم سیدنا علی ایسے ہی تھے... سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالئ عنہ مسائل میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف لکھ کر پوچھا کرتے تھے جب سیدنا معاویہ کو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کی خبر ملی تو فرمایا کہ آج فقہ اور علم چلا گیا
(الاستيعاب في معرفة الأصحاب ,3/1108ملتقط)
✅سیدنا معاویہ و سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین کا اختلاف تھا مگر آپس میں نفرت و دشمنی نہ رکھتے تھے
✅♥️ *#اہلبیت کے مطابق بھی سیدنا معاویہ اچھے تھے، انکی پیروی کی جائے، تعریف کی جائے......!!*
1....شیعوں کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغۃ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم موجود ہے کہ:
ومن كلام له عليه السلام وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين إني أكره لكم أن تكونوا سبابين، ولكنكم لو وصفتم أعمالهم وذكرتم حالهم كان أصوب في القول
جنگ صفین کے موقعے پر اصحابِ علی میں سے ایک قوم اہل الشام (سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرھما رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کو برا کہہ رہے تھے، لعن طعن کر رہے تھے
تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
تمہارا (اہل شام، معاویہ ، عائشہ صحابہ وغیرہ کو) برا کہنا لعن طعن کرنا مجھے سخت ناپسند ہے ، درست یہ ہے تم ان کے اعمال کی صفت بیان کرو...
(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص437)
.
✅♥️ثابت ہوا کہ سیدنا علی سمیت اہلبیت کرام علی نبینا وعلی اہل بیتہ السلام کے مطابق سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ صحابہ کرام کی تعریف و توصیف کی جائے، شان بیان کی جائے....یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند ہے....ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہھما صحابہ کرام پر لعن طعن گالی و مذمت کرنے والے شیعہ ذاکرین ماکرین رافضی نیم راضی محبانِ اہلِ بیت نہیں بلکہ نافرمان و مردود ہیں،انکےکردار کرتوت حضرت علی کو ناپسند ہیں..سخت ناپسند
.
2....فنعى الوليد إليه معاوية فاسترجع الحسين...سیدنا حسین کو جب سیدنا معاویہ کی وفات کی خبر دی گئ تو آپ نےاِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا…(شیعہ کتاب اعلام الوری طبرسی1/434) مسلمان کو کوئی مصیبت،دکھ ملےتو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(سورہ بقرہ156)ثابت ہوا سیدنا معاویہ امام حسین کے مطابق کافر ظالم منافق دشمن برے ہرگز نہ تھے جوکہ مکار فسادی نافرمان دشمنان اسلام گستاخانِ معاویہ کے لیے سامان ہدایت ہے
.
3....سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان
یہ بات بالکل واضح ہے ظاہر ہے کہ ان(سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ)کا اور ہمارا رب ایک ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہے، انکی اور ہماری اسلامی دعوت و تبلیغ ایک ہے، ہم ان کو اللہ پر ایمان رسول کریم کی تصدیق کے معاملے میں زیادہ نہیں کرتے اور وہ ہمیں زیادہ نہیں کرتے...ہمارا سب کچھ ایک ہی تو ہے بس صرف سیدنا عثمان کے قصاص کے معاملے میں اختلاف ہے
(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ3/114)
✅ثابت ہوا کہ سیدنا علی کا ایمان سیدنا معاویہ کا ایمان سیدنا معاویہ کا اسلام سیدنا علی کا اسلام اہل بیت کا اسلام صحابہ کرام کا اسلام قرآن و حدیث سب کے سب معاملات میں متفق ہی تھے،سیدنا علی و سیدنا معاویہ وغیرہ سب کے مطابق قرآن و حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ تھی📌لیھذا سیدنا معاویہ سمیت تمام صحابہ کرام اور اہل بیت عظام سب کی تعریف کرنا مدح سرائی کرنا لازم ہے، فروعی اختلاف کی بنیاد پر جنگ وغیرہ کو صحابہ کرام نے اہل بیت عظام نے نفرت کا سبب نہ بنایا ، ہرگز نہ بنایا....لیکن کالے مکار بے وفا ایجنٹ غالی جھوٹے شیعوں نے الگ سے حدیثیں بنا لیں، قصے بنا لیے،الگ سے فقہ بنالی، کفریہ شرکیہ گمراہیہ نظریات و عمل پھیلائے، سیدنا علی و معاویہ وغیرہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے اختلاف کو دشمنی منافقت کفر کا رنگ دے دیا...انا للہ و انا الیہ راجعون
.
4.....هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين
(شیعوں کے مطابق)امام حسن نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے
(شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)
۔
✅سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اوس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق امام علی گذرے تھے لیکن سیدنا حسن "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جسکا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسن کا وہی نظریہ تھا جو سچے اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسن نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے امام حسن....اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ صرف خلفاء نہیں بلکہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفائے صالحین قرار دیا سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو۔۔👈👈لیھذا سیدنا علی اور سیدنا حسن اور اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہم رشد و ہدایت والے تھے نیک متقی پرہیزگار تھے انہوں نے کوئی ظلم نہیں کیا،
کوئی خلافت نہیں چھینی
کوئی باغ فدک نہیں چھینا
کوئی بے حرمتی گھر کی نہیں کی
۔
2۔۔۔۔👈اور ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ کی حکومت سنت رسول و سیرت خلفاء پر اچھی تھی ورنہ ظالمانہ ہوتی تو سیدنا حسن حسین ضرور باءیکاٹ فرماتے ، صلح نہ فرماتے یا صلح کے بعد بائیکاٹ فرماتے چاہے اس لیے جان ہی کیوں نہ چلی جاتی جیسے کہ یزید سے بائیکاٹ کیا
۔
3۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے ، انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی کیونکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفاء راشدین یعنی رشد و ہدایت والے خلیفہ قرار دے رہے ہیں
.
5..... 🌹♥️ *#امام حسن رضی اللہ عنہ نےفرمایا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کرو، اطاعت کرو*
وإنكم قد بايعتموني أن تسالموا من سالمت وتحاربوا من حاربت، وإني قد بايعت معاوية فاسمعوا له وأطيعوا
ترجمہ:
(سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدائن کے ایک محل میں عراق وغیرہ کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور) فرمایا کہ تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی اس بات پر کہ تم صلح کر لو گے اس سے جس سے میں صلح کروں اور تم جنگ کرو گے اس سے جس سے میں جنگ کروں تو بے شک میں نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کر لی ہے تو تم بھی سیدنا معاویہ کی بات سنو مانو اور اطاعت کرو
(الإصابة في تمييز الصحابة ,2/65...شیعہ کتاب جواهر التاريخ - الشيخ علي الكوراني العاملي3/81)
✅ثابت ہوا کہ اختلافات کے باوجود سیدنا معاویہ کی پیروی و ادب کا حکم دیا اہلبیت عظام نے۔۔۔۔!!
۔🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪🟪
🟥 *#دسویں بات* 1️⃣0️⃣
*#وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ تربیت اچھی تھی تو ایک دم سے کوئی شخص کیسے بدل جاتا ہے..ضرور تربیت میں گڑ بڑ ہوگی....؟؟*
تو لیجیے حدیث پاک پڑھیے:
کوئی بندہ جہنم والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور کوئی بندہ جنت والے کام کرتا ہے وہ جہنمی ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اعمال کا دار و مدار خاتمہ پر ہے(اگر موت سے پہلے پہلے اچھے کام کرے گا تو جنتی، برے کام کرے گا تو جہنمی)
(بخاری حدیث6607)
✅ اس حدیث پاک سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ کوئی شخص شروع شروع میں اچھا ہوتا ہے اس کی تربیت اچھی ہوتی ہے لیکن پھر وہ اپنے نفسانی خواہشات پر عمل کرکے یا کسی شیطانی وسوسوں پے عمل کرکے یا کسی بھی وجہ سے برے کام کرتا ہے اور جہنمی بن جاتا ہے
.
👈 *#بیعت کےوقت یزید پلید نااہل و برا نہ تھا لیھذا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کہ برے و نا اہل کو ولی عہد کیا جھوٹ ہے لیھذا یہ اعتراض کہ یزید کے والدین نے تربیت بری کی،جھوٹ ہے..........!!*
جب یزید کی لئے بیعت لی گئ، بیعت کی گئی تو اس وقت یزید برا نہ تھا ، نا اہل نہ تھا ، بعد میں پلید ظالم برا فاسق و فاجر بنا یا ظاہر ہوا....بیعت کے وقت نااہل و برا نہ تھا اس پر ہم مختصراً حق چار یار کی نسبت سے چار دلائل پیش کر رہے ہیں
*دلیل نمبر 1*
بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ بُويِعَ لَهُ فَقَالَ: «إِنْ كَانَ خَيْرًا رَضِينَا , وَإِنْ كَانَ شَرًّا صَبَرْنَا
جب صحابی سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ یزید بن معاویہ کی بیعت کی گئی ہے تو آپ نے فرمایا کہ اگر اچھا نکلا تو ہم راضی ہو جائیں گے اور اگر برا نکلا تو ہم صبر کر لیں گے
(استادِ بخاری مصنف ابن أبي شيبةروایت30575)
صحابی سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ کہنا کے اگر برا نکلا واضح دلیل ہے کہ اس وقت یزید برا نہیں تھا
.
*دلیل نمبر 2*
بايعه ستون من أصحاب رسول الله
ساٹھ صحابہ کرام نے یزید کی بیعت کی
(عمدة الأحكام الكبرى1/42)
(ذيل طبقات الحنابلة3/55)
بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنے صحابہ کرام کسی شرابی زانی بے نمازی فاسق و فاجر نااہل کی بیعت کریں۔۔۔۔؟؟
.
*دلیل نمبر3*
اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي وَلَّيْتُهُ۔۔۔اہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جب یزید کے لیے بیعت لے لی تو آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو اس لیے ولی عہد کیا ہے کہ وہ اس کا اہل ہے تو اس کو ولی عہدی عطا فرما
(البداية والنهاية ط هجر11/308)
صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ نے بیٹے کو اہل اچھا سمجھتے تھے تب بھی تو ان کے لئے بیعت لی اور آگے کے لئے دعا فرمائی
.
*دلیل نمبر4*
تمام معتبر کتب میں لکھا ہے کہ دو تین صحابہ کرام نے یزید کی بیعت نہ کی تو انہوں نے بیعت نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ یہ طریقہ ولی عہدی مروجہ ماثورہ نہیں ہے بلکہ سیدنا معاویہ کا(اجتہاد کردہ)نیا طریقہ ہے۔۔۔اگر یزید نااہل ہوتا زانی شرابی فاسق و فاجر ہوتا تو صحابہ کرام ضرور اعتراض میں اس چیز کا تذکرہ کرتے... صحابہ کرام کو کوئی عذر معلوم نہ ہوا سوائے اس کے کہ ولی عہدی اسلام میں ایک نیا طریقہ ہے
: فهل عندك غير هَذَا؟ قَالَ: لَا،
انظر: البداية "8/ 56-58"، تاريخ الطبري "5/ 270-276"، الكامل "3/ 490"
(تاريخ الإسلام ط التوفيقية4/77,78)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
https://wa.me/923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475