🟥 *#بسنت، مروجہ پتنگ بازی کے ناجائز و مردود ہونے کے عقلی و منقولی 15 دلائل قرآن حدیث و تاریخ سے اس تحریر میں پڑھیے۔۔غور سے پڑھیے سمجھیے پھیلائیے، سمجھائیے، شعور پھیلائیے۔۔۔۔!!*
.
✅ *#دلیل1*
القرآن:
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی طرف اعتقاد و عمل کے لیے او کہ جو اللہ نے قران نازل کیا اور جو رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف نازل ہوا اس کی طرف آؤ(یعنی قران و حدیث اسلام کی طرف اؤ) تو کہتے ہیں ہمارے لیے تو وہ کافی ہے جو ہمارے باپ دادا کرتے و کہتے تھے اگرچہ ان کے باپ دادا علم والے نہ ہوں اور ہدایت والے نہ ہوں تب بھی یہ ( بےایمان گمراہ بدمذہب فاسق فاجر کافر مشرک) اپنے باپ دادا کی(ثقافت اقوال نظریات وغیرہ کی) طرف جاتے ہیں
(سورہ مائدہ ایت104)
۔
✅اس ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ اسلام کو پیمانہ بنائے بغیر اپنے بڑوں کی ثقافت و روایت کو لے کے چلنا اور انہی کے اقوال کو معتبر سمجھنا اور انہی کی باتوں کو، انہی کے کردار کو ، کاموں کو، ان کے مشن کو معتبر سمجھنا ، ہر حال میں انہی کو معتبر سمجھنا۔۔۔یہ سراسر غلط ہے۔۔۔۔باپ دادا جو کر گئے، جو کہہ گئے اور جو ثقافت روایت دے گئے یا معلومات و مشن و منصوبہ دے گئے اس کو اسلام یعنی قران و حدیث اور قران و حدیث سے ماخوذ فقہ و تصوف کے ترازو پہ تولنا لازم ہے اگر وہ اسلام کے موافق ہو تو پھر عمل کیا جا سکتا ہے ، اسلام موافق اقوال کو مانا جا سکتا ہے ورنہ اسلام کے موافق نہ ہوں تو وہ اقوال اور ایسی ثقافت، ایسی روایات سب مردود باطل شیطانی چال ڈھال ہیں، من موجی ہیں، نفس پرستی ہیں، قوم پرستی ہیں، انسانیت اور فطرت سے دور ہیں کیونکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو حقیقتا اس عمل و اعتقاد و نظریات کی ہدایت دیتا ہے کہ جو ہماری حقیقی فطرت ہیں
۔
اسلام ان ثقافت و روایات کو دفن کرنے کا کہتا ہے جو جاہلیت والی ہوں جو فطرت یعنی اسلام کے خلاف ہوں مگر یہ حکمران ان پرانی ثقافات و روایات کو تازہ کر رہے ہیں کہ جو گناہوں پر مشتمل ہے ، اسلام موافق نہیں ہے اور تائید کرنے والے شرم سے ڈوب مریں کہ اسلام و فطرت کے جو چیز موافق نہیں بلکہ جاہلیت والی ہیں، اس کی تائید کر رہے ہیں
اس ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ ایسی ثقافت و روایات کو مردود قرار دیا گیا ہے جو اسلام کے موافق نہ ہوں،👈اس میں ہولی دیوالی کرسمس نوروز مہرجان بسنت پتنگ بازی وغیرہ ہر ثقافت جو اسلام موافق نہ ہو وہ مردود و باطل ہے،گناہ و جاہلیت ہے
۔
✅ *#دلیل2*
بسنت گجرات پنجاب وغیرہ میں منایا جاتا ہے گانے باجے ہوتے ہیں مندروں میں اوستو ہوتا ہے، سرشی کی پوجا کرتے ہیں اور مورتی کو کسی تالاب میں ڈال دیتے ہیں
(ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت ص235ملتقطا)
۔
✅ثابت ہوا کہ یہ بسنت پتنگ بازی ہندو سکھ وغیرہ مشرکین کا تہوار ہے، اور اسلام ہمیں غیر اسلامی تہوار و ثقافت سے شد و مد کے ساتھ سختی کے ساتھ روکتا ہے جیسے کہ دلیل نمبر ایک میں ہے۔۔۔۔ اور حدیث پاک میں بھی ہے کہ یہ سب ممنوع ہے اگرچہ ان کا تہوار بظاہر کسی خرابی پر مشتمل نہ ہو تو بھی ممنوع ہے👇
🌹الحدیث:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم " يصوم يوم السبت والأحد أكثر ما يصوم من الأيام، ويقول: إنهما يوماعيد للمشركين فأنا أحب أن أخالفهم
ترجمہ:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے ایام کے مقابلے میں ہفتے اور اتوار کے اکثر ایام میں زورہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ:
یہ مشرکوں(یہود و عیسائیوں) کے عیدوں کے دن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ انکی مخالفت کروں...(سنن کبری نسائی حدیث2789, صحیح ابن خزیمہ2167, مستدرک حاکم1593)
.
✅دیکھا آپ نے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و اسلامی تعلیم و اصول یہ ہے کہ یہود و نصاری، مشرک و ہندو سکھ، ملحدین وغیرہ اسلام مخالف مذاہب و مسالک کی عیدوں ثقافتوں میں انکی مخالفت کرنی چاہیے...انکی موافقت کرتے ہوئے مبارک دینا ، ثقافت منانا اسلامی تعلیمات میں سے نہیں...
.
یہ مخالفت کا حکم مطلق ہے چاہے انکی عید تہوار کسی صحیح نظریے پر ہو یا غلط نظریے پر ہرحال میں انکی عیدوں تہواروں کے دن کی مخالفت کی جائے گی...دیکھیے ہفتے کے دن عیسائیوں کی عید کسی بری بنیاد پر مبنی نہین بلکہ اسکا عیسائیوں کے لیے عید ہونے کا تذکرہ قران مجید میں ہے مگر پھر بھی اس عید کے دن مخالفت کا حکم ہے
کیونکہ
مجموعی طور پر یہود و نصاری ہندو سکھ وغیرہ غیراسلام مذاہبِ مروجہ غلط نظریات و معمولات پر مبنی ہیں
۔
✅ *#دلیل3*
1707 سے 1760 تک پنجاب کا گورنر زکریا خان کے دور میں ایک ہندو کے بیٹے نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی کی تو سزا کے طور پر اس کی گردن اڑا دی گئی یہ 1734 کا واقعہ ہے جس دن اس کو سزائے موت دی گئی اس دن بسنت منانے پتنگ اڑانے کی رسم کو عروج دینے کا اعلان رئیس کالو رام نے کیا
(دیکھیے پنجاب اخری مغل دور حکومت میں ص279)
۔
✅ گستاخ رسول اور گستاخ سیدہ فاطمہ کی یاد میں عروج دیا جانے والا بسنت و پتنگ بازی وغیرہ کیسے مسلمان منا سکتا ہے۔۔۔؟؟ کیونکہ حدیث پاک میں تو مشرکوں گستاخوں وغیرہ سے مخالفت کرنے کا حکم ہے ہاں انہیں سمجھانے کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی ضروری ہے کہ ان کو کہا جائے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اپ ہدایت پر ا جائیں مگر معذرت ہم اپ کے تہوار وغیرہ نظریات وغیرہ میں شامل نہیں ہو سکتے
حدیث پاک میں ہے
خَالِفُوا المشرکین
مشرکوں (گستاخوں ہندو عیسائی سکھ یہودی وغیرہ کی مخالفت کرو)
(بخاری حدیث5892)
۔
✅ *#دلیل4*
لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جو ہم مسلمانوں کے علاوہ کسی غیر مسلم سے مشابہت رکھے گا تو وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہے
ترمذی حدیث2695
.
الحديث سنده حسن.قال المؤلِّف: أخرجه أبو داود، وصحَّحهُ ابن حبان.والحديث فيه ضعف، ولكن له شواهد عند جماعة من أئمة الحديث، عن جماعةٍ من الصحابة، تُخْرِجه عن دائرة الضعف....الحديث يدل على أنَّ من تشبَّه بالفسَّاق كان منهم، أو بالكفَّار، أو المبتدعة، في أي شيء.
كان على طريقتهم
جو جس کے ساتھ مشابہت کرے گا اسی میں شمار ہوگا اس کی سند حسن معتبر ہے... اس کو امام ابو داؤد نے نقل کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے حدیث میں ضعف ہے لیکن اس کے دیگر احادیثی شواہد ہیں کہ جو اس کو ضعیف ہونے سے نکال کر معتبر بنا دیتے ہیں... حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاسقوں کے ساتھ جو مشابہت کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا یا جو کفار مشرکین اور بد مذہبوں کے ساتھ لباس ثقافت وغیرہ کسی بھی معاملے میں مشابہت کرے گا تو وہ انہی کے طریقہ پر کہلائے گا
(توضيح الأحكام من بلوغ المرام7/363)
۔
✅ *#دلیل5*
کہتے ہیں کہ جی پتنگ بازی تو اہل لاہور کی ثقافت ہے۔۔۔ تو میرے بھائیو سوچو اسلام جب لاہور میں داخل نہ ہوا تھا تو اس وقت اور اس وقت سے پہلے لاہور میں کتنی ثقافتیں تھیں۔۔۔ تو کیا اج ان تمام ثقافتوں کو ہندوانہ ثقافت کو، مشرکین کے ثقافت کو ، عیاشی فحاشی کے ثقافت کو ، بت پرستی کے ثقافت کو ، ہر ثقافت کو منانا شروع کر دو گےکیونکہ ہمارے اباؤ اجداد کی ثقافت ہے۔۔۔؟؟جبکہ دلیل1 و دیگر دلائل میں ہم نے واضح کر دیا ہے کہ قران مجید نے واضح فرما دیا ہے کہ ابا و اجداد کی ثقافتوں پر نہیں جانا، رسم و رواج ثقافت ابا و اجداد کی وہی معتبر کہلائے گی جو اسلام کے موافق ہوگی۔۔۔ اور مروجہ پتنگ بازی بسنت اسلام کے موافق ہرگز نہیں ہے اس میں کئی غیر شرعی کام کیے جاتے ہیں یا ان کی سہولت فراہم کی جاتی ہے
.
👈👈آیات اور اس قسم کی احادیث کی بنیاد پے علماء کرام فرماتے ہیں کہ:
رسم کا اعتبار جب تک کسی فساد عقیدہ پر مشتمل نہ ہو اصل رسم کے حکم میں رہتا ہے،اگر رسم محمود ہے محمود ہے، مذموم ہو مذموم ہے،مباح ہو مباح ہے
(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ119)
.
۔
✅ *#دلیل6*
القران:
لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی
اور جاہلیت والی نکلنے کی طرح مت نکلو
سورہ احزاب ایت33
✅جب کہ مروجہ پتنگ بازی میں جاہلیت کی طرح چھتوں پر نکلا جاتا ہے، عورتیں نکلتی ہیں، پردہ نہیں کرتی، مرد عورت ایک دوسرے سے میل ملاپ ہوتا ہے، ہلڑبازی ہوتی ہے
بے پردگی ہوتی ہے
بے حیائی ہوتی ہے
جو کہ بالکل بھی جائز نہیں ہے۔۔جاہلیت ہے، ماڈرن جاہلیت ہے ۔۔۔عیاشی فحاشی ہے اور چوک چوراہوں پہ مرد و عورت کا جمع ہونا یا کسی سمندر کے کنارے یا دریا جھیل تالاب باغ وغیرہ کے کنارے وغیرہ پر جمع ہو کر اس طرح بسنت منانا پتنگ بازی کرنا عشق بازی کرنا انکھیں لڑانا سب کچھ ناجائز قرار دیتا ہے پتنگ بازی کو بسنت کو۔۔۔۔۔!!
۔
الحدیث:
وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا
اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت ناپسند تھا کہ زیب و زینت دکھائی جائے، زیب و زینت والے اعضاء دکھائے جائیں
(نسائی حدیث5088)
۔
✅ *#دلیل7*
الحدیث:
" يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ، لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو اذیت و تکلیف نہ دو انہیں عار مت دلاؤ اور ان کی پردہ کی چیزوں کو مت جھانکو، کہ ایسا کرو گے تو تم بظاہر مسلمان ہو بھی جاؤ گے تو بھی ایمان تمہارے دل میں نہیں کہلائے گا
ترمذی حدیث2032مشرحا
۔
✅مروجہ پتنگ بازی میں بسنت میں انکھ مٹکا ہی تو ہوتا ہے، نین لڑائے جاتے ہیں انکھیں لڑائی جاتی ہیں اور دوسروں کے گھروں میں جھانکا جاتا ہے اور دوسروں کی طرف گھورا جاتا ہے۔۔۔ ڈائریکٹ نہ سہی پتنگ کے ذریعے سے ہی گھورا جاتا ہے اور پتنگوں کے ذریعے سے پیغام بازی کی جاتی ہے یا پھر عشق بازی لڑائی جاتی ہے یا پھر موج مستی لڑائی جاتی ہے اور ایک دوسرے کو تکلیف دی جاتی ہے اور ایک دوسرے کا نقصان کیا جاتا ہے مالی نقصان کیا جاتا ہے جبکہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت یہ تمام چیزیں ناجائز و سخت ناجائز ہیں حتی کہ ایسے شخص کے بارے میں حدیث پاک میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس کے دل میں ایمان ہے ہی نہیں تو شیطانی چال سے بچو اے مسلمان بھائیو اور ایسی پتنگ بازی سے دور رہو، بسنت سے دور رہو
.
✅ *#دلیل8*
الحدیث:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ
بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نامحرم،جن سےخلوت و اختلاط ممنوع ہو ان)عورتوں کے ساتھ خلوت،اختلاط،میل جول سے خود کو بچاؤ
(بخاري حدیث5232)
.
✅جبکہ مروجہ پتنگ بازی میں بسنت میں ہلہ گلہ اور ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ، مرد و عورت مل جاتے ہیں یا دور دور سے بھی نین لڑاتے ہیں، اور تو مردوں کا سب کا جمع ہو کر چوک چوراہوں پہ جمع ہو کر دریا کنارے جمع ہو کر جھیل کنارے جمع ہو کر سمندر کنارے جمع ہو کر کہیں بھی جمع ہوکر اس طرح میل ملاپ خلط ملط ہو کر عیاشی فحاشی ثقافت پتنگ بازی پکنک وغیرہ سب کچھ ناجائز و حرام سخت گناہ ہے
۔
👈👈تفریح کی جائے مگر شریعت کے موافق کی جائے اور شریعت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کی جائے تو برحق و جائز ہے
۔
✅ *#دلیل9*
القرآن:
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ
مردوں کے لئے عورتوں سے خواہشات خوش نما بنا دی گئی ہے....(سورہ آل عمران آیت14)
✅لہذا لازم ہے کہ ایسے سخت قوانین وغیرہ لاگو کیے جائیں کہ مرد عورت ایک دوسرے سے نین مٹکا نہ کر سکیں انکھ لڑا نہ سکیں برائی کا راستہ کھولنا اسان کرنا بھی سخت گناہ ہے کیونکہ برائی کا راستہ اسان ہوگا اور انسان کے فطرت میں برائی کی طرف عورت کی طرف مائل ہونا بھی ہے جس سے بچنا بہت بڑی ایمان کی علامت ہے لیکن لوگوں کو اس کمزوری کے ہوتے ہوئے انہیں اسانی دینا انہیں سہولت دینا انہیں پتنگ بسنت وغیرہ کی اجازت دینا سہولت دینا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے۔۔۔ ایسے حکمران سخت مجرم ہیں اور عوام بھی مجرم ہے کہ وہ ایسے حکمرانوں کی باتوں میں سازشوں میں ا کر گناہ میں لگ جاتی ہے
۔
✅ *#دلیل10*
القرآن،ترجمہ:
مومن مردوں سےکہیےکہ نگاہیں نیچی رکھیں…مومنہ عورتوں سےکہیےکہ نگاہیں نیچی رکھیں(سورہ نور آیت30,31سےماخوذ)
✅جبکہ پتنگ بازی میں تو نین لڑائے جاتے ہیں انکھیں لڑائی جاتی ہیں اور انکھیں ادھر ادھر گھمائی جاتی ہیں جو کہ شریعت کی عین خلاف ورزی ہے
۔
✅ *#دلیل11*
القران ترجمہ:
جو مومنوں میں فحاشی پھیلانا چاہتے انکے لیے دنیا آخرت میں سزا ہے(سورہ نور ایت19)
✅اس ایت مبارکہ میں تو حکمرانوں پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ فحاشی پھیلانے والوں کو سزا دیں اور برائی پھیلانے والوں کو سزا دیں روکیں مگر ہمارے حکمران ہیں کہ عیاشی فحاشی کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں کیونکہ مروجہ پتنگ بازی میں یہ سب کچھ گناہوں کا سہولت کا بازار ہی تو ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ہم فحاشی عریانی بے حیائی بے پردگی گناہ برائی وغیرہ پھیلانے کے سبب نہ بنیں اور جو سبب بنے اسے سزا دلانے کے لیے بھرپور کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ سمجھانے کی بھی بھرپور کوشش کریں
۔
👈👈بےحیائی بغاوت لبرل ازم پھیلانےوالیوں/والوں کو سمجھانا سزا۔و۔لگام لگانا لازم ہے
.
✅ *#دلیل12*
الحدیث:
لا تكن فتانا
تم کسی فتنے کا باعث نا بنو
(ابو داود حدیث791)
✅مروجہ پتنگ بازی فتنہ برائی وغیرہ کا سبب ہی تو ہے اس سے بچنا لازم ہے ہم سب پر لازم ہے اور حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس فتنے کا سدباب کرے
۔
✅ *#دلیل13*
القران:
الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ
اللہ فرماتا ہے فتنہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے
سورہ بقرہ ایت 217
✅حکمرانوں کو اور ہم سب کو اس ایت مبارکہ سے ہدایت لینی چاہیے کہ فتنہ بازی گناہوں کے لیے دروازہ کھولنا گناہوں کے لیے برائیوں کے لیے سہولت فراہم کرنا یہ تو قتل سے بھی بڑا گناہ ہے کیونکہ قتل کرنے سے صرف ایک بندہ قتل ہوتا ہے جبکہ اس فتنہ بازی سے انسان کا ایمان کا قتل ہوتا ہے اور معاشرے کا ایمان اور معاشرے کا سکون اور معاشرے کی وفاداری اور معاشرے کی حیا سب کچھ قتل ہو جاتی ہے
۔
✅ *#دلیل14*
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ : " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً ".
بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص کبوتری کا پیچھا کر رہا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے جو شیطان کا پیچھا کر رہا ہے
ابن ماجہ حدیث3765
✅اس حدیث پاک میں واضح ہے کہ کبوتر بازی پتنگ بازی اس طرح کرنا کہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے گھروں میں جھانکنا لوگوں کو تنگ کرنا وغیرہ ہوتا ہے لہذا یہ شیطانی کام ہے اس سے بچنا لازمی ہے اور حکمرانوں پر لازم ہے کہ ایسے کاموں سے لوگوں کو روکے سہولت فراہم نہ کرے
۔
✅ *#دلیل15*
: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو گھروں کی چھت پر سوئے اور اس کی منڈیر نہ ہو تو خود ذمہ دار و مجرم ہے
اںوداود حدیث5041
✅حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ چھتوں میں اس طرح کی بے احتیاطی کرنا کہ جس سے گرنے کا خطرہ ہو اور پتنگ بازی میں ایسا ہی ہوتا ہے بے توجہی ہوتی ہے لہذا اس وجہ سے بھی پتنگ بازی ممنوع و گناہ ہے
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475