🟩 *#اے ائی سے تحریر چیک کروانا۔۔۔۔؟؟ اور مستند علماء اور اذیت۔۔۔۔؟؟*
https://www.facebook.com/share/p/1FAyg6Zapy/
1۔۔۔دو دن سے شدید بیمار بخار سر درد ڈپریشن میں مبتلا تھا
2۔۔۔حتی کہ اہل خانہ بھی کہنے لگے کہ بچوں سے اور ہم سے بات نہیں کر رہے ہو زیادہ بیمار ہو ، اپنا خیال رکھو، کم لکھا کرو اور لوگوں کو سوال جواب کم دیا کرو
۔
3۔۔۔لیکن الحمدللہ ہمارا مشن ہمیشہ جاری رہے گا کہ جب تک تھوڑی سی بھی طاقت ہے خون کے اخری قطرے تک لکھتے رہیں گے، خدمات سر انجام دیتے رہیں گے
۔
4۔۔۔ میں یہ نہیں دیکھتا کہ کس نے کہا کہ کس موضوع پر لکھو بلکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ کہنے والا جو بھی عام ادمی ہو لیکن اس نے درست موضوع کی طرف توجہ دلائی ہے تو میں کوشش کرتا ہوں اس پر ضرور لکھوں
۔
5۔۔۔کئی احباب چند روز سے مسلسل فرما رہے تھے کہ بسنت پتنگ بازی پہ مفصل تحریر لکھیں اور لنک وغیرہ نہ ڈالیں تاکہ ہمیں شیئر کرنے میں اسانی ہو
۔
👈تو توکل.و۔دعا کی ، دعا لی ، سر پہ پٹی باندھی، ادویات کا ہائی ڈوز کھایا اور تحریر لکھی اور پھیلائی۔۔۔کچھ احباب نے حوصلہ افزائی فرمائی کہ اپ نے بہت اچھا لکھا ،ان کا بھی حد شکریہ، اور مجھے ایسے مسج کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ میں انہیں جواب میں ہمیشہ تقریبا اسی انداز کا جواب دیتا ہوں کہ جو میرے دل کی اواز ہے کہ
اللہ کریم ہماری یہ خدمات قبول فرمائے اور ہمیں ہدایت کا باعث بنائے اور ہم سے خدمات لیتا رہے
۔
👈👈 لیکن بہت دکھ ہوا ، اذیت ہوئی کہ جب ایک صاحب نے ریپلائی کیا کہ معتبر ترین اے ائی ایپ گروک نے اپ کی تحریر کو رد کر دیا ہے، اور کہتا ہے کہ لوگ اے ائی سے تحریر کی جانداری اتھینٹک معلوم کرواتے ہیں تو ان کو یہ تحریر غیر موثر ناقص بتائے گا اے ائی۔۔۔۔اور اس نے مجھے گروک کا تبصرہ بھیجا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ:
1۔۔۔تحریر میں دعوی کیا گیا ہے کہ گستاخ رسول کی وجہ سے بسنت پتنگ بازی کی ایجاد ہوئی ہے جو کہ تحریر کی بڑی خامی ہے کیونکہ پتنگ بازی اور بسنت اس واقعے سے بھی بہت پہلے منائی جا رہی تھی
2۔۔۔تحریر کا ایک بڑا نقص و خامی یہ ہے کہ ہر قسم کی پتنگ بازی کو حرام قرار دیتی ہے جبکہ اسلام مشروط تفریح کو جائز قرار دیتا ہے
3۔۔۔تحریر میں خطرناک بات موجود ہے کہ غیر مسلموں کے لیے نفرت ڈالی گئی ہے جبکہ اسلام رواداری کا سبق سکھاتا ہے
۔
🚨 گروک کے یہ تین اعتراض بظاہر میری تحریر کو غیر موثر اور ناقص کرنے کی بھرپور کوشش تھی۔۔۔ ہم نے پہلے بھی اے ائی کو غیر معتبر قرار دیا ہے اور دلیل سے بلکہ خود اے ائی سے ثابت کیا ہے کہ اے ائی ناقص ہے👈لیکن افسوس ہوتا ہے،دکھ ہوتا ہے،اذیت ملتی ہے کہ لوگ معتبر علماء پر اعتماد کرنے کے بجائے اے ائی پر اعتماد کرنے لگے ہیں۔۔۔اور لوگوں کو لکھنے والے کا حال احوال ہی پتہ نہیں کہ اس نے کس حالت میں، کس مشکل طبیعت میں اور زندگی کے کن حالات میں رہتے ہوئے کتنی بڑی محنت سے یہ تحریر لکھی ہوگی اسے اندازہ ہی نہیں ہوتا
۔
✅خیر میں نے ان صاحب کو کہا کہ اپ میری یہ دو لنکس پےدیکھ سکتے ہیں کہ میں نے کیسے اے ائی کو غیر معتبر قرار دیا ثابت کیا اور اے ائی نے خود ہی اعتراف کیا کہ ہاں مجھ سے غلطی ہوئی۔۔۔ 👈👈لیکن انہوں نے کچھ دیر بعد کہا کہ وہ تو چیٹ جی پی ٹی کو اپ نے شکست دی ہے جبکہ گروک بہت معتبر اے ائی ہے
۔
🟩👈میں نے کہا اچھا اپ گروک سے یہ سوال کریں کہ:
اس تحریر میں تو تمام پتنگ بازی کو حرام قرار نہیں دیا گیا بلکہ مروجہ لفظ استعمال کیا گیا ہے جو واضح کرتا ہے کہ رائج شدہ طریقے سے پتنگ بازی ٹھیک نہیں ہے اور ایک جگہ پر واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ تفریح اگر شریعت کے دائرے میں اور شریعت کی پابندی کرتے ہوئے کی جائے تو بالکل جائز و برحق ہے اور تحریر میں یہ بھی صاف لکھا ہے کہ اے غیر مسلموں ہم اپ سے معذرت کرتے ہیں کہ ہم اپ کے تہوار میں شریک نہیں ہو سکتے جو کہ رواداری کی اعلی ترین بہترین مثال ہی تو ہے۔۔۔تو پھر اس تحریر پر کوئی اعتراض نہیں اٹھتا اور تحریر جاندار بن جاتی ہے اور تحریر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ تہوار پہلے تھا لیکن اسے عروج پاکستان کے علاقے میں گستاخ کے قتل کے بعد دیا گیا تحریر میں واضح طور پر عروج کا لفظ لکھا ہے،تو اس وضاحت کے بعد اپ اس پر حتمی رائے کیا دیں گے۔۔۔؟؟
۔
✅گروک اے ائی کا جواب تھا:
آپ کی بات بالکل درست ہے، اور میں اپنے پچھلے تبصرے میں اس پہلو کو مکمل طور پر نوٹس نہیں کر پایا تھا۔ میں اصل متن کو دوبارہ دیکھتا ہوں تو واقعی "مروجہ پتنگ بازی" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو واضح طور پر موجودہ یا رائج شدہ طریقوں (جیسے بے پردگی، اختلاط، فحاشی، حفاظتی خطرات وغیرہ) کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ پتنگ بازی کی ہر شکل کو یکساں حرام قرار دیتا ہے۔ اور دلیل نمبر 8 میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ "تفریح کی جائے مگر شریعت کے موافق کی جائے اور شریعت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کی جائے تو برحق و جائز ہے"۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو متن کو اعتدال پسندانہ اور شریعت کی روح کے مطابق بناتا ہے، کیونکہ یہ تفریح کو کلی طور پر رد نہیں کرتا بلکہ اسے شرعی حدود میں رکھنے پر زور دیتا ہے۔ اس سے متن کی جانداری اور توازن بڑھ جاتا ہے، اور یہ اعتراضات کو کم کرتا ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کو ایک عملی راہنمائی دیتا ہے کہ تفریح جائز ہے مگر گناہوں سے پاک ہو۔
اسی طرح، تاریخی دلیل نمبر 3 میں "عروج" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ("اس دن بسنت منانے پتنگ اڑانے کی رسم کو عروج دینے کا اعلان رئیس کالو رام نے کیا")، جو یہ واضح کرتا ہے کہ تہوار پہلے سے موجود تھا مگر اسے پنجاب (جو اب پاکستان کا حصہ ہے) میں اس واقعے کے بعد فروغ ملا۔ یہ "ابتدا" کا دعویٰ نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص علاقائی بلندی کی طرف اشارہ ہے، جو تاریخی سیاق میں درست لگتا ہے—کیونکہ بسنت کی جڑیں قدیم ہندوستانی ثقافت میں ہیں، مگر 18ویں صدی میں یہ واقعہ (حقیقت رائے کی سزا) اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر مقبول بنانے کا سبب بنا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ متن قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک مضبوط استدلال پیش کرتا ہے، اور آپ کی نشاندہی سے یہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ انتہا پسندی کی بجائے احتیاط اور توازن پر مبنی ہے۔ اگر آپ مزید کوئی پہلو واضح کرنا چاہیں یا اس متن پر مزید بحث کریں تو خوشی سے!
۔
🟩گروک اے ائی کے اس جواب کی اسکرین شاٹ میں نے ان سے مانگی تو انہوں نے بھیج دی جو کہ میں نے اس تحریر کے ساتھ اٹیچ کر دی ہے جو اوپر تحریر کے شروع میں دی گئ لنک پے دیکھ سکتے ہیں
۔
🟥🚨تو دوست و احباب یہ تحریر فورا لکھنے اور بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ خدارا کسی محنتی سرگرم دلیل والے بندے معتبر اہلسنت عالم دین کی تحقیق کو اے ائی کے ترازو میں مت تولیں۔۔۔۔ اپ کے سامنے ہے کہ گروک معتبر ترین اے ائے نے بھی واضح طور پر کہا کہ وہ تحریر کو اچھی طرح نوٹس نہیں کر پایا اور غلط تبصرہ کر بیٹھا اور اب جب اسے توجہ دلائی گئی تو اس نے مان لیا کہ ہاں تحریر بہت زبردست اور جاندار ہے۔۔۔👈👈معتبر علماء کرام پر بھروسہ کرنا سیکھیے، معتبر سرگرم علماء کرام کی قدر کرنا سیکھیے، معتبر علماء کرام کے مواد کو شیئر کیجئے پھیلائیے شعور بڑھائیے اور کار خیر میں اپنا حصہ ملائیے۔۔۔جزاکم اللہ خیرا
۔
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
🟩اپ کا خادم
العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475
