Labels

ایک کے بدلے50ہزار۔۔۔؟؟ غریب اور فطرانہ۔۔؟؟ مولوی مانگتے کیوں ہو۔۔۔؟؟

 ♥️ *#سرگرم سچےاہلسنت مدارس میں زکواۃ تعاون راشن رقم دےکےایک کےبدلے 50ہزار کمانےکا موقعہ..؟؟*

*#مہنگا فطرانہ...........؟؟*

*#کیا غریب بھی فطرانہ دے......؟؟*

*#سادات کرام سے مالی تعاون.....؟؟*

*#زکواۃ کےحساب کا آسان طریقہ..؟؟*

*#زکوۃ فطرانہ نا دینےکی مذمت۔۔۔؟؟*

*#روزےنا رکھےہوں تو فطرانہ دےیا..؟؟*

*#فطرانہ کتنا؟کس کو۔؟کب دینا بہتر..؟؟*

*#مولوی کماتےکیوں نہیں کا عقلی جواب*

👈👈 تفصیل و جواب پڑھیے اس تحریر میں اور ہوسکے تو خوب پھیلائیے، شئیر کیجیے


.

🟢♥️ *#ترجیحات....؟؟ طلباء.و.مدارس میں زکواۃ راشن مالی تعاون صدقے کا ثواب ایک کے بدلے700 بلکہ 50ہزار یا اس سے بھی بڑھ کر اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی مانند کون.........؟؟*

احسان.و.بھلائی کا بدلہ احسان.و.بھلائی ہے(سورہ الرحمٰن آیت60) دینی خدمات میں سرگرم سچے بھلے لوگ و ادارے مستحق ہیں کہ ہم ان کے ساتھ بھلائی کریں،جانی مالی وقتی حوصلاتی تعاون کریں…معتبر اہلسنت سرگرم مدارس، علماء، خطباء، امام مسجد،لکھاری وغیرہ میں سے ہر ایک ریڑھ کی ہڈی کے مہرے کی طرح ہیں انہیں مالی تعاون کریں کرائیں مضبوط بنائیں،مدارس میں بچے داخل کرائیں

.

👈زکاۃ فطرانہ صدقات تحائف و تعاون عام طور پر مستحق غریب رشتے دار اور دیگر غرباء اور مدارس میں دے سکتے ہیں

👈مگر بہتر ہے کہ اچھےغیور خود'دار غرباء اور

 👈👈سرگرم اہلسنت مدارس و طلباء و علماء مبلغین  امام مسجد وغیرہ کو تو دھونڈ دھونڈ کر دیں اور خوب اجر پائیں…ایک کے بدلے700 بلکہ 50000(پچاس ہزار) اور اس سے بھی زیادہ اجر پائیں...بلکہ مختلف جگہوں میں کچھ کچھ حصہ زکواۃ فطرانہ نفلی تعاون میں سے دیں

🧠مسئلہ:

لنگر،نیاز،عرس،فاتحہ وغیرہ پر خرچ کرنےپے1کےبدلے10نیکیاں ہیں(دلیل سورہ انعام160)اور طالب علم دین(و برحق سرگرم مدارس علماء لکھاری علم و شعور جہاد)پر خرچ کرنےمیں1کے بدلے700 یا اس سےبھی زیادہ نیکیاں ملیں گی(دلیل سورہ بقرہ261)(فتاوی رضویہ246 ،10/305ملخصا) لنگر،نیاز،عرس،فاتحہ پے زکواۃ فطرہ خرچ نہیں کرسکتے البتہ ان پے نفلی صدقہ نیاز خرچ کرسکتے ہیں…زیادہ بہتر ، زیادہ مفید پر زیادہ خرچ کیجیے، معتبر سرگرم سادات و علماء و مدارس و مبلغین و امام مسجد و علمی اصلاحی جگہوں کتابوں علم و شعور پڑھنے پڑھانے پھیلانے پے زیادہ خرچ کیجیے، اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر غرباء پے زکواۃ فطرہ نفلی صدقہ بھی ضرور خرچ کیجیے اور فلاحی ترقیاتی کاموں محلفوں عرس فاتحہ لنگر پے نفلی صدقہ کم خرچ کیجیے کہ حاجت زیادہ نہیں الا یہ کہ کسی علمی اصلاحی و اسلام کہ سربلندی کی محفل کا فائدہ زیادہ ہوتو اس پے زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے...بظاہر کم مفید پے بھی کم خرچِ صحیح کیجیے کہ نا جانے کونسی ادا اور نیکی مقبول و محبوب ہو جائے…اچھی سیاست پے جب حاجت ہو تو ضرور نفلی صدقہ تعاون خرچ کیجیے

الْأَفْضَلِيَّةُ مِنَ الْأُمُورِ النِّسْبِيَّةِ، وَكَانَ هُنَاكَ أَفْضَلَ لِشِدَّةِ الْحَرِّ وَالْحَاجَةِ وَقِلَّةِ الْمَاءِ

 نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف امور کو افضل صدقہ قرار دیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی صدقہ کس نسبت سے افضل ہوتا ہے اور کوئی صدقہ کس نسبت سے افضل ہوتا ہے اور اس حدیث پاک میں افضل صدقہ پانی اس لیے ہے کہ اس کی حاجت زیادہ تھی

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,4/1342)

تو

وقت و حالات کے مطابق ضرورت و نفع کو دیکھ کر اس میں زیادہ خرچ کرنے کو ترجیح دینی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ

 تھوڑا تھوڑا کرکے ہر نیکی میں دیں، وقتا فوقتا صدقہ کریں، وقتا فوقتا قران پڑہیں حدیث پڑہیں معتبر کتب سے قران و حدیث کو سمجھیں سمجھائیں پھیلاءیں عمل کریں نوافل درود پڑہیں نیکیان کریں گناہوں سے بچیں، حسن اخلاق اپنائیں، علم و شعور اگاہی پھیلائیں، مدد کریں، فلاحی کام کریں. غرباء کو جس کی حاجت زیادہ ہو وہ دیں...جس کا نفع عام و زیادہ ہو وہ کریں، مدارس میں دیں.. علماء لکھاری مبلغین کی مدد کریں.......کسی بھی نیکی کو کمتر نہ سمجھیں کہ نہ جانے کونسی نیکی کونسی ادا اللہ کے ہاں محبوب و مقبول ہوجائے...

الحدیث:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا،

کسی بھی نیکی کو کمتر نہ سمجھو

(مسلم حدیث2626. .6690)

.

🟩♥️ *#ایک کے بدلے تقریبا 50ہزار۔۔۔۔۔۔۔؟؟*

معتبر اچھے سرگرم سنی مدارس و علماء طلباء علمی معاملات میں خرچ کرنا زکوۃ دینا فطرانہ دینا صدقہ دینا نفلی صدقہ دینا ایک کے بدلے میں 700 ثواب اوپر ایت سے ثابت ہوا

اب یہ حدیث پاک پڑہیے

🌹الحدیث:

من تقرب فيه بخصلة من الخير، كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه

ترجمہ:

جس نے رمضان میں کوئی بھلائی،نیکی کی تو اسکا ثواب اتنا ہےجیسے رمضان کےعلاوہ میں فرض ادا کیا ہو اور جس نےرمضان مین فرض ادا کیا تو اسکا ثواب اتنا ہےکہ جیسے رمضان کےعلاوہ میں 70 فرائض ادا کیےہوں(صحیح ابن خزیمہ حدیث1887)

.تو


700×70=49000

👈🧠یعنی رمضان المبارک کی گھڑیوں میں جلد از جلد زکوۃ فطرانہ مدارس دینی علم کے مراکز و علماء و دینی طلباء کے لیے ادا کیجئے نفلی صدقہ ادا کیجئے علمی معاملات میں زیادہ خرچ کیجئے مدارس علماء طلباء پے زیادہ خرچ کیجئے 

اور ایک کے بدلے میں 49 ہزار یعنی تقریبا 50 ہزار ثواب کمائیے ۔۔۔🚨قیامت کے روز بندہ ایک ایک ثواب ، ایک ایک نیکی کے لیے ترس سکتا ہے۔۔۔🫶بے شک تھوڑا بہت دیگر معاملات اہم معاملات میں بھی زکوۃ فطرانہ نفلی صدقہ خرچ کیجئے 👈👈مگر جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں فوقیت اور ترجیح دیجئے اور اج کے دور میں اور اج کے مہنگائی کے دور میں جہاں سفید پوش طبقہ پریشان حال ہے تو مدارس کی حالت انتہائی نازک ہے علماء کرام کا خیال رکھیے طلباء کا خیال رکھیے

۔

 📣🚨غرباء و مدارس و علماء لکھاری مبلغین امام مسجد وغیرہ کو بےیار و مددگار مت چھوڑیے...مظلوموں مسکینوں زلزلوں شدید بارشون سیلابوں غربت وغیرہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کو بے یار و مددگار ہرگز مت چھوڑیے، عسکری جانی مالی حوصلاتی مدد کیجیے،ظلم و مہنگائی مت کیجیے اور بالخصوصو مدارس و دین کی ترقی و ترویج کے جگہوں میں تو خوب خرچ کیجئے

اور

👈👈خاص کر ان علاقہ جات میں زکواۃ،بہت نفلی تعاون راشن پیسہ عشر وغیرہ خوب یاد کرکےدیجیےجہاں سچے اہلسنت کےلیےکام کرنا انتہائی کٹھن ہے👈جیسے بلوچستان سرحد اندرونی سندھ کے علاقے،👈بالخصوص بلوچستان کے ان علماء مدارس کو خوب تعاون طاقت دیجئے کہ جو بظاہر بہت مشہور ہوں یا مشھور نہ ہوں لیکن اتنے سرگرم ہوں کہ انہیں پیسہ راشن وغیرہ کی شدید ضرورت ہو،ایسا نیٹ ورک رکھتے ہوں کہ بہت سرگرم ہوں طاقت کے مطابق اور ایسے ایسے علاقوں میں اپنے بندے  علماء مدارس بھیجتے ہوں کہ جن علاقوں میں اہلسنت کا نام لینا بھی انگاروں پہ چلنے جیسا ہے

۔

🟢 *#زکواۃ فطرانہ کس پر لازم ہے.......؟؟*

أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے مسلمانوں پر صدقہ(زکواۃ فطرانہ) لازم کیا ہے کہ جو امیروں سے لیا جائے گا اور غریبوں کو دیا جائے گا

(بخاری حدیث1395)

.

🟢 *#زکواۃ کتنی دیں..زکواۃ کا آسان حساب...؟؟*

کچھ لوگ زکواۃ کا حساب لگانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں... انتھائی آسان طریقہ حدیث مبارکہ سے پیش ہے..

الحدیث،ترجمہ:

اپنے مال کا چالیسواں حصہ زکواۃ ادا کرو..(ابو داود حدیث نمبر 1572)کل رقم کو چالیس پر تقسیم کریں جو جواب آئے وہ زکواۃ ہے.......!!

.

🟢 *#کم سے کم فطرانہ کتنا ہے.....؟؟*

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الصدقة صاعا من تمر، أو شعير، أو نصف صاع من قمح

ترجمہ:

فطرانہ رسول کریم.صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے ایک صاع کجھور یا جؤ یا آدھا صاع گندم

(ابو داود حدیث نمبر1622)

.

صاع ایک پیمانہ ہے.. آج کل کے وزن کے حساب سے ایک صاع میں تقریبا 4کلو 100گرام پڑتے ہیں.. اور آدھے صاع میں 2 کلو50 گرام پڑتے ہیں..(از فتاوی فیض الرسول 1/510)

.

👈اس طرح فطرانہ کی مقدار یہ بنتی ہے کہ

چار کلو سو گرام کجھور یا جؤ... یا دوکلو پچاس گرام گندم یا گندم کا آٹا

یا

مذکورہ چیزوں میں سے کسی کی قیمت ادا کرنا صدقہ فطر،فطرانہ کہلاتا ہے

.

🚨مختلف ممالک علاقوں شہر صوبے میں ان چیزوں کے ریٹ مین کچھ کمی بیشی ہوتی ہے تو اس لیے فطرانہ کی رقم میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے....اپنے علاقے میں مذکورہ اشیاء کی مذکورہ مقدار کا ریٹ پوچھیے اور احتیاطاً اس سے تھوڑا زیادہ رقم مکس کرکے فطرانہ ادا کیجیے

.

🟢 *#مہنگا فطرانہ دینا بہتر......!!*

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

قدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ

ترجمہ:

بےشک اللہ نے تمہیں بہت کچھ دیا ہے تو فطرانہ(کم سے کم آدھا صاع کے بجائے مہنگا)ایک صاع ادا کرو...(ابوداؤد روایت1622)

بہتر ہے کہ اہل ثروت، وسعت زر والے، اچھے حالات والے کم سے کم کے بجائے مہنگا فطرانہ ادا کریں...اجر و دعائیں پائیں

.

🟢 *#غریب، تبگ حال بھی زکواۃ فطرانہ نفلی صدوہ دیں،ایثار کریں تو بہتر ہے، بہت ثواب ہے......!!*

القرآن:

وَ یُؤۡثِرُوۡنَ  عَلٰۤی  اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ  ؕ ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ  فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡمُفۡلِحُوۡنَ

جو اپنی ضرورت و تنگی کےباوجود دوسروں کو ترجیح دیتےہیں،جو لالچ سے بچائےگئےوہی کامیاب ہیں(سورہ حشر9)خود کو،اپنےبچوں کو،ماتحتوں کو،دوستوں کو مفادی مطلبی لالچی مت بنائیے…ایثار کرنے والا،جائز دینےوالا،جائز کام آنےوالا،احترام کرنےوالا باوفا،حلال کماؤ،ہنرمند،سچا،نیک سخی بنائیے،سکھائیے،ایسی تربیت پھیلائیے،عمل کیجیے،عمل کرائیے…اچھا معاشرہ ماحول بنائیے،بنائےرکھیے

.

👈غریب پر فطرانہ زکواۃ واجب نہیں مگر بہتر ہے کہ کم سے کم

کم مقدار والا فطرانہ تو ادا کریں

الحدیث،ترجمہ:

اگر غریب یہ صدقہ(فطرانہ) ادا کرے تو  بے شک اللہ تعالیٰ اسے اس سے کہیں زیادہ نوازے گا..(ابوداؤ حدیث1619)

.

🟢 *#زکواۃ فطرانہ جلد از جلد ادا کرنا چاہیے.....!!*

آج کےدور میں بہتر ہےکہ زکاۃ،فطرانہ عید سےکچھ یا کئ دن پہلے بلکہ شروع رمضان میں ہی ادا کر دینا چاہیےتاکہ غرباءبھی اچھی سحری افطاری کرسکیں اور خوشیاں بھری اچھی طرح عید منا سکیں

(دلیل ابوداؤد روایت1610 ،1609)

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:

عید کا چاند ڈھونڈنے سے پہلے اپنے محلے شہر میں وہ گھر وہ مدارس ڈھونڈیں جہاں شاید آپ کی مدد کے بغیر عید کی خوشیاں داخل نہ ہوسکتی ہوں...

.

🟢 *#زکواۃ فطرانہ کس کو دیں.......؟؟*

القرآن:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ

ترجمہ:

صدقات(زکواۃ فطرانہ کفارہ وغیرہ فرض واجب صدقات) فقراء کے لیے ہیں، مساکین کے لیے ہیں ، عاملین(جو زکواۃ کی وصولی کےلیے مقرر ہوں) اور مولفۃ القلوب کے لیے ہیں اور غلام و لونڈیان آزاد کرانے کے لیے ہیں اور مقروض کے لیے ہیں اور اللہ کی راہ والوں کے لیے ہیں اور مسافر کے لیے ہیں

(سورہ توبہ آیت60)

.

غرباء فقراء مساکین......(مدارس کے غریب طلباء علماء مدرسین مبلغین لکھاری واعظین، محلے کے غریب پڑوسی، غریب رشتے دار...وغیرہ وغیرہ غرباء کو زکواۃ فطرانہ نفلی صدقہ دیجیے)

.

اللہ کی راہ میں خرچ کیجیے

فالاولى ان لا يخص فى سبيل الله بالحج ولا بالغزو بل يترك أعم منهما ومن ساير أبواب الخير فمن أنفق ماله فى طلبة العلم صدق انه أنفق فى سبيل الله

 آیت میں جو ہے کہ صدقہ(زکوٰۃ فطرہ وغیرہ) اللہ کی راہ والوں کو دیا جا سکتا ہے تو اس سے مراد صرف حج اور غزوہ و جہاد نہیں بلکہ یہ عام ہے تمام ابواب خیر سے، پس جس نے طالب علموں(مدارس طلباء علماء لکھاری واعظین) پر صدقہ(زکوٰۃ فطرہ کفارہ نفلی صدقہ مال)خرچ کیا بےشک اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا

(التفسير المظهري ,4/239)


.


🟢 *#سادات کرام کی خدمت.........!!*

وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ

 نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک ہمارے لیے(سادات کرام کے لیے) صدقہ(زکواۃ فطرہ وغیرہ) حلال نہیں ہے

(ابوداود حدیث1650)

.

نفلی صدقہ یعنی ہدیہ تحفہ سادات کرام کو دیا جاسکتا ہے بلکہ مستحق سید کو لازمی دینا چاہیے…حتی کہ زکواۃ فطرہ اگر کسی غریب کو دیا جائے اور وہ غریب تحفے ہدیے کے طور پر سادات کرام کو دے دے تو بھی یہ حیلہ طریقہ جائز ہے سنت سے ثابت ہے

أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ

بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کو صدقے کا گوشت ملا(اور آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے نبی پاک کو تحفے ہدیے کے طور پر پیش کیا تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا)اور فرمایا کہ یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے

(بخاری حدیث1495)

 لہذا سادات کرام کا خصوصی خیال رکھیے اور نفلی صدقہ دیتے رہیے، تحفے ہدیے کے طور پر خدمت کیا کیجیے اور اگر زکوۃ فطرہ سادات کو دینا ہو تو کسی معتبر عالم فاضل یا معتبر تنظیم ٹرسٹ سے کہیے کہ میرے پاس زکواۃ فطرہ کے پیسے ہیں اور میں فلاں سید کو دینا چاہتا ہوں تو آپ حیلہ شرعی کر دیجیے یا کرا دیجیے اور فلاں سید گھرانے کو ہدیہ پیش کیجیے........!!

.

.

🟢🚨 *#زکواۃ فطرانہ نفلی صدقہ تعاون کس سے کریں...؟؟ اور کس سے نہیں....؟؟*

زکواۃ فطرانہ نفلی صدقہ غرباء و مدارس و علماء و طلباء و مبلغین امام مسجد لکھاری سوشلی مجاہدین واعظ وغیرہ مستحقین کو دیجیے....اہلسنت کے ساتھ ووٹ و حمایت و شرکت جانی مالی حوصلاتی وغیرہ ہر جائز تعاون کیجیے مگر گستاخ گمراہ بدعقیدہ مکار نااہل کو نہ زکواۃ فطرہ تعاون نہ دیجیے،انکی مالی جانی حوصلاتی حمایتی مدد نہ کیجیے، ایسوں کو ووٹ نہ دیجیے، ایسوں کی تشہیر نہ کیجیے، ایسوں کے جلسے جلوس میں شرکت نہ کیجیے

🌹القرآن:

 وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ

تقوی پرہیزگاری اور نیکی بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور سرکشی اور گناہ(ظلم زیادتی برائی گمراہی)میں ایک دوسرے کی مدد نا کرو...(سورہ مائدہ آیت2)

.

🌹الحدیث:

السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ

پسند ہو نہ ہو، دل چاہے نہ چاہے ہر حال میں اہل حق مستحقین کی سنو اور مانو(اطاعت کرو جانی مالی وقتی ہر جائز تعاون کرو)بشرطیکہ معاملہ گناہ و گمراہی کا نہ ہو، گناہ و گمراہی پے نہ سنو نہ مانو(گمراہوں کو جلسوں میں بلاؤ نہ انکی بتائی ہوئی معلومات پے بھروسہ کرو نہ عمل کرو، ہرقسم کا ان سے نہ تعاون کرو)

(بخاری حدیث7144)

.

🚨بخل،کنجوسی سےبڑھ کر کوئی بیماری نہیں(بخاری روایت4383)جو سادات اور اہلسنت علماء مشائخ مبلغین لکھاری سوشلی و غیرسوشلی ورکرز علمی و اصلاحی و سیاسی خدمات سرانجام دینے میں کوئی کنجوسی سستی نہیں کرتے لالچ نہیں رکھتے،آپ بھی انکی اور غرباء کی جانی مالی حوصلاتی مدد کرنے میں سخاوت کیجیے…حسد تکبر بےوفائی مفاد پرستی بخل کنجوسی سےبچیے…عبادت خدمات سخاوت و صدقہ کیجیےاور ڈھیروں اجر، سکون، خوشیاں، عزت، دعائیں، دوست پائیے

.

🚨یہودیون عیسائیوں ملحدوں بےدینوں نیچریوں مشرکوں بروں باطلوں مکاروں گمراہوں بدمذہبوں تفضیلیوں رافضیوں ناصبیوں ایجنٹوں قادیانیوں نیچریوں سرسیدیوں جہلمیوں غامدیوں قادیانیوں ذکریوں بوہریوں غیرمقلدوں نام نہاد اہلحدیثوں وغیرہ سب باطلوں سے ہر طرح کا تعاون نہ کرنا،انکی تحریروں کو لائک نہ کرنا، انہیں نہ سننا،  نہ پڑھنا، انہیں اپنے پروگراموں میں نہ بلانا، وقعت نہ دینا، جانی وقتی مالی تعاون نہ کرنا،سمجھانے کی مسلسل بھرپور کوشش کرتے رہنے کے باوجود ضدی فسادی کی مذمت کرنا مدلل کرنا تعان نہ کرنا اور برحق سچے اچھے سرگرم مستحقین کو مدد زکواۃ فطرانہ دینا ایمان کے تقاضوں میں سے ہے

🌹الحدیث:

مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ ؛ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ

جو اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے محبت کرے اور(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے(مستحق برے ضدی فسادی سے)بغض و نفرت رکھے اور (مستحق و اچھوں) کی امداد کرے اور (نااہل و بروں) کی امداد نہ کرے تو یہ تکمیل ایمان میں سے ہے(ابوداود حدیث4681)

الا یہ کہ مدارت الناس کے تحت نفلی تعاون کیجیے تاکہ حسن اخلاق اور معاشرتی بھلائی یعنی خرچ و سخاوت کو دیکھ کر اسلام کے قریب ہوں...بائیکاٹ و مزمت بھی لازم مگر احتیاط کے ساتھ تائید کییے بغیر قربت حسن اخلاق سے پیش آئیے نفلی صدقہ تحفہ دیجیےتاکہ آپ اسلام کی صحیح تعلیم انکو دے سکیں اچھا بنا سکیں، اسلام کی طرف راغب کر سکیں، اسلام پے استقامت کا باعث بنیں تاکہ گستاخ گمراہ آپ حسن اخلاق کو دیکھ کر آپ کی معاشرتی بھلائی یعنی خرچ و سخاوت سے متاثر ہوکر اسلام کی سچی تعلیمات کے قریب ہوں.......!!

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأْسُ الْعَقْلِ الْمُدَارَاةُ

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عقلمندی کا سرچشمہ یہ ہے کہ مدارت الناس(نرمی حسن اخلاق ، قریب کرنے کی حکمت)کی جائے

[البيهقي، أبو بكر ,شعب الإيمان ,11/23]

[السيوطي ,الجامع الصغير وزيادته , 6814]

.

المداراة والإيناس ليدوموا على الإسلام

 مداراۃ الناس اور ان کے ساتھ انسیت رکھنا اس لیے ہے کہ تاکہ لوگ اسلام پر قائم و دائم رہیں اسلام و اچھائی کی طرف راغب ہوں

[ابن الأثير، أبو السعادات ,جامع الأصول ,8/384]

.

🚨 *#زکواۃ فطرانہ دے کر احسان مت جتائیے،غلام چاپلوس مت بنیے بنائیے، محب و معاون و دوست بنیے بنائیے.....!!*

القرآن،ترجمہ:

احسان جتا کر،تکلیف پہنچا کر اپنےصدقات باطل نہ کرو(سورہ بقرہ آیت264) زکواۃ،فطرانہ وغیرہ لینے والے مولوی،غرباء پر احسان نہ جتاؤ،ان پر رعب.و.نوابی نہ کرو،انکو کمتر نہ سمجھو…محسن سمجھو کہ انکےذریعے سے آپ کا مال و روزے پاکیزہ ہوئے،برکات و رحمتِ الہی کا وہ ذریعہ بنے

۔

🚨 *#ریا کاری دکھاوے واہ واہ کے لیے خرچ کرنا، چمچہ گیری مفاد پرستی میں خرچ کرنا، اپنا غلام بنانے کے خرچ کرنا اسلام و انسانیت کے خلاف ہے...اسلام و مفید انسانیت کے لیے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیجیے*

الحديث:

قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمِّي هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ أَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَحَمْدِهَا وَذِكْرِهَا،

(مجمع الزوائد حدیث465)

فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ. قَالَ: فَهَلْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: " لَا " قَالَ: " فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُذْكَرَ فَذُكِرَ..(مجمع الزوائد حدیث468)

دونوں احادیث مبارکہ کا خلاصہ ہے کہ:اسےسخاوت،لوگوں کی امداد،صلہ رحمی خدمات وغیرہ کچھ فائدہ نہ دیں گےکیونکہ وہ یہ سب واہ واہ،دنیاوی مفاد و مطلبیت اور لوگوں کو اپنا خوشامدی چاپلوس بنانےکےلیےکرتا تھا(مجمع زوائد حدیث465..468ملخصا)دینی دنیاوی خدمات وغیرہ اس لیےکرنا کہ لوگ غلام خوشامدی،واہ واہ کرنےوالےچاپلوس بنیں یا طاقت شہرت مفاد مطلبیت مقصد ہوتو سب خدمات مردود و مذموم ہیں…خوشامدی چاپلوس چمچے مردہ باد…مخلص حق گو معاون زندہ باد

.

🟩🟩 *#زکواۃ فطرانہ نفلی تعاون مدد راش دینے کی فضیلت اور نہ دینے کا وبال......؟؟*

القرآن:1️⃣

وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ  بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ..یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-

جو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں  وعید و ڈر سنا دو درد ناک عذاب کی کہ جس دن وہ(مال جسکی زکواۃ ادا نہ کی گئ اسے) تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغیں گے

(سورہ توبہ آیت34.35)

.

الحديث:2️⃣

مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَيْهِ " يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ " ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ.

جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیاں ہوں گی (یعنی دو نشان ہوں گے )، وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ۔پھر اس (یعنی زکوٰۃ نہ دینے والے )کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا : ’’میں تیرا مال ہوں ،میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘

(بخاری حدیث1403)

.

القرآن:3️⃣

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ ہُمۡ لَا  یَسۡمَعُوۡنَ

انکی طرح مت ہونا جو سن کر "ان سنی" کرتےہیں(سورہ انفال آیت21)حق و پکار سن کر ا‌َن سنی کرنےوالے بےرخی،من موجی،بےرحمی کرنےوالےاسلام و انسانیت کےمجرم ہیں…کلیجہ منہ کو آتا ہے جب کوئی دینی یا دنیاوی شخص لیڈر امیر دوست رشتےدار کوئی بھی سن کر بھی نہ سنے،بےتوجہی،بےرحمی کرے

.

الحدیث4️⃣

إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا 

ترجمہ:

(سچے کامل)مسلمان آپس میں ایک عمارت(کی اینٹوں)کی طرح ہیں کہ ایک دوسرے کو تقویت(مدد و سہارا)دیتے ہیں..(بخاری حدیث481)

.

الحدیث5️⃣

الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يُسْلِمُهُ 

ترجمہ:

مسلمان مسلمان کا بھائی ہےوہ اپنےبھائی پےنہ ظلم کرے،نہ ظلم ہونےدے،نہ مسلمان بھائی کو بےیار.و.مددگار چھوڑے(بخاری حدیث2442)غرباء و مدارس و علماء لکھاری مبلغین امام مسجد وغیرہ کو بےیار و مددگار مت چھوڑیے...مظلوموں مسکینوں زلزلوں شدید بارشون سیلابوں غربت وغیرہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کو بے یار و مددگار ہرگز مت چھوڑیے، عسکری جانی مالی حوصلاتی مدد کیجیے،ظلم و مہنگائی مت کیجیے اور بالخصوصو مدارس و دین کی ترقی و ترویج کے جگہوں میں تو خوب خرچ کیجئے

اور

👈👈خاص کر ان علاقہ جات میں زکواۃ،بہت نفلی تعاون راشن پیسہ عشر وغیرہ خوب یاد کرکےدیجیےجہاں سچے اہلسنت کےلیےکام کرنا انتہائی کٹھن ہے👈جیسے بلوچستان سرحد اندرونی سندھ کے علاقے،👈بالخصوص بلوچستان کے ان علماء مدارس کو خوب تعاون طاقت دیجئے کہ جو بظاہر بہت مشہور ہوں یا مشھور نہ ہوں لیکن اتنے سرگرم ہوں کہ انہیں پیسہ راشن وغیرہ کی شدید ضرورت ہو،ایسا نیٹ ورک رکھتے ہوں کہ بہت سرگرم ہوں طاقت کے مطابق اور ایسے ایسے علاقوں میں اپنے بندے  علماء مدارس بھیجتے ہوں کہ جن علاقوں میں اہلسنت کا نام لینا بھی انگاروں پہ چلنے جیسا ہے

.


6️⃣أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ

نبی پاکﷺسب سےزیادہ سخی تھے(طعام راشن امداد علم شعور اچھی تربیت وغیرہ دیتے تھے)رمضان میں تو بہت سخاوت کرتےتھے(بخاری1902) رمضان المبارک میں خوب خوب سخاوت کیجئے عبادات کیجئے دعائیں کیجیے دعائیں لیجئے ائی

.

7️⃣لوگوں میں بہترین وہ ہیں جو(علمی مالی وغیرہ جائز)نفع زیادہ پہنچاتےہوں(جامع صغیر حدیث5600)سچوں کے تعاون کیجیے انکی کتب تحریرات بیانات پھیلائیے عمل کیجیے،جانی مالی حوصلاتی وقتی ہر طرح کے جائز تعاون کیجیے…ضرور کیجیے

.

8️⃣رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

یا ابن آدم انفق انفق علیک

ترجمہ:

اے ابن آدم تم(مال دولت علم وقت طاقت محنت وغیرہ میری خاطر) خرچ كر ، ميں تجھ پر (اپنی رحمت نعمت برکت)خرچ كرونگا...(مسلم حدیث993)

بخل(کنجوسی)سےبڑھ کر کوئی بیماری نہیں(بخاری روایت4383) *کنجوسی شرعا اخلاقا عقلا بہت بری بیماری ہے، صدقہ و سخاوت کیجیے دعائیں اجر سکون محبتیں رحمتیں برکتیں پائیے*

.

🟢 *#سوال*

فطرانہ تو روزے کو پاک کرنے کے لیے ہوتا ہے تو جس نے روزے نا رکھے ہوں کیا وہ فطرانہ دے.. اور کیوں..؟ فطرانہ کا مقصد کیا ہے...؟؟

.

*#جواب*

فطرانہ فقط روزے کو پاک کرنےکے لیے نہیں بلکہ احادیث مبارکہ کے مطابق فطرانے کے دو بنیادی مقاصد و فوائد ہیں

1:غریبوں کی امداد، تعاون

2:روزوں کی پاکیزگی

.

🌹 الحدیث:

فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث، وطعمة للمساكين

ترجمہ:

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ لازم کیا تاکہ روزے دار کے روزے لغو.و.رفث سے پاک ہوجائیں اور تاکہ مسکینوں غریبوں کے کھانے پینے (اخراجات,امداد،تعاون) کا انتظام ہو جائے..(ابو داؤد حدیث نمبر1609)

.

لیھذا روزے رکھے ہوں یا نا رکھے ہوں لیکن پھر بھی فطرانہ ادا کیجیے کہ غرباء کی امداد ہے... اسی طرح کچھ لوگ روزہ نہیں رکھ سکتے مگر تراویح ادا کرسکتے ہیں تو وہ تراویح ضرور ادا کریں..

روزہ تراویح زکاۃ فطرانہ یہ سب الگ الگ لازم ہیں.. تمام کی ادائیگی ضروری ہے.. بالفرض کسی ایک یا دو کی ادائیگی نا ہوسکے تو اسکی وجہ سے دیگر کی ادائیگی معاف نہیں..!!

.


🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩

🟩 *#حکمرانوں والدین سرپرست و علماء مشائخ تنظمیوں کے بڑوں سے عرض اور ہمارے کام و منصوبے... ہمارے مقاصد ، ہماری منزلیں......؟؟*

القرآن:

اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ

جو قوت،طاقت ہوسکے تیار رکھو..(انفال60ملخصا)

.

القرآن:

اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ

ہر مورچے پے(اسی طرح ہر جائز شعبے میں) ان سے مقابلے کے لیے تیار بیٹھو...(سورہ توبہ آیت5)

.

فتاوی رضویہ شریف میں ہے

*جدت* ممنوع نہیں بشرطیکہ کسی ممنوع شرعی میں شامل نہ ہو...(فتاوی رضویہ22/191)

.

تحریر کے شروع میں جو ایت لکھی ہے اس سے اور ان آیات سے و دیگر آیات و احادیث مبارکہ سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ:

✅①بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام و  شرعی علوم فقہ تفسیر احادیث تصوف عربی گرائمر فصاحت بلاغت وغیرہ دینی علوم اور ان علوم کی تحقیقات و تخصص پے توجہ دیں اور اس کے لیے بعض مدارس مختص ہوں اور اصلاحِ معاشرہ و عبادات وغیرہ پے زیادہ توجہ دیں ، زیادہ توجہ دلوائیں اور جدید علوم بھی مناسب مقدار میں حاصل کریں تاکہ سمجھانے میں روایات کے ساتھ ساتھ جدید دلائل بھی ہونگے تو تحریر تقریر تصنیف تحقیق وعظ وغیرہ امید ہے زیادہ پُر اثر ہوں گے

.

✅②بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام و حکمران

 ایسے ادارے بناءیں چلائیں جن میں اسکول کی تعلیم انگریزی عربی لینگوئج کی تعلیم اور سائنس فزکس بیالوجی جرنل نالج وغیرہ کی بنیادی معلومات و جرنل نالج وغیرہ دیں اور ساتھ ساتھ بنیادی دینی تعلیم بھی دیں.....ایسے ادارے بنائیں اگر مناسب لگے تو مدرسہ کا نام دینے کے بجائے کوئی اور نام دیں تاکہ لوگ متوجہ ہوں انکو اشارہ ملے کہ یہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں....ان اداروں میں مناسب مقدار میں اسلام کی حقانیت و بہتری اسلامی عبادات و معاملات کی حقانیت و بہتری کے جدید دلائل و معلومات بھی دیتے جائیں، دلچسپ جدید معلومات دے کر ان سے اسلام و عبادات وغیرہ کی حقانیت و بہتری سمجھاتے جائیں

.

✅③بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام و حکمران

 چند ایسے جدید ادارے بنائیں کہ اس میں طلباء جدید ساءنسی علوم و معلومات سے اسلام و عبادات معاملات کی حقانیت و بہتری ثابت کریں اللہ کی وحدانیت کے دلائل و اشارات نکالیں اور جلد از محنت کرکے اس طرز پر کچھ کتب فورا تصنیف کرکے عام کریں، اردو میں اسکے ترجمہ کرکے عام کریں... عربی انگلش چینی ہندی روسی وغیرہ مختلف زبانوں میں اسکے ترجمے کرائیں....پھر مزید تحقیقات جاری رکھیں نئ نئ معلومات و دلائل فراہم کریں جس سے علم و معلومات و جرنل نالج میں بھی اضافہ ہو اور اس سے کس آیت مبارکہ کس حدیث مبارکہ اور کن اسلامی معاملات و نظریات و عبادات کی بہتری و حقانیت ثابت ہوتی ہے وہ بھی بتائیں....اور ان اداروں میں اگر دنیاوی علوم والے داخلہ لیں تو ان کے لیے مناسب و ضروری دینی علوم بھی شاملِ نصاب کریں

.

✅④بعض گروہ بعض تنظیمیں بعض علماء مفتیان کرام و حکمران

 چند ایسے ادارے بنائیں کہ اسلام و عبادات عقائد کی حقانیت و بہتری ثابت کرنے کی لکھی ہوئی جدید سائنسی جرنل نالج کی کتب اور دینی کتب پڑھانے کے بعد اس پر مزید تحقیق اور ان علوم سے ایجادات پر کام ہو....یہاں کمپوٹر موبائل روبوٹ بنانا سکھایا جاءے بلکہ بناءے بھی جائیں بلکہ نت نئے عام استعمال کے ٹولز و ایجادات اور جنگی استعمال کے ہتھیار و ٹولز وغیرہ ایجادات و چیزیں بنائی جائیں اور کیا ہی مزے کی بات ہو کہ ایسے داروں کے مالک علماء و دینی اشخاص ہوں

.

✅⑤علماء کرام مفتیان عظام اپنے اداروں میں دینی لوگوں کی کھیپ تیار کرکے ان کو مناسب جگہ پے بھیجیں...جو جس جگہ کے لیے مفید لگے اسے اس جگہ بھیجنے کے لیے تیار کریں...بعض فاضل علماء کو ڈاکٹر طبیب حکیم بنانے کے لیے بھیجیں، بعض فاضل علماء کو وکیل و سیاستدان بننے کے لیے بھیجیں... بعض فاضل علماء کو تجارت معیشت جدید تجارت کے لیے بھیجیں....بعض فاضل علماء کو پولیس فوج میں بھیجیں... بعض فاضل علماء کو صدر وزیر اعظم وزراء  چیف جسٹس چیف آف آرمی جرنل کرنل ڈی جی اءی جی وغیرہ بڑے عہدوں کے لیے تیار کریں... بعض فاضل علماء کو سائنسدان بنانے کے لیے بھیجیں...بعض فاضل علماء کو وعظ و نصیحت کے لیے خطیب بنائیں امام مسجد و قاری حافظ مدرسِ قرآن و معلم تجوید بناءیں...بعض فاضل علماء کو عام معلم مدرس و بعض کو محقق محدث و مفتی بنائیں...بعض فاضل علماء کو جج قاضی بنانے کے لیے تیار کریں...بعض فاضل علماء کو جاسوس اینٹیلی جنس کی فیلڈ دیں اس میں ماہر بناءیں..  بعض فاضل علماء کو ایجادات ٹولز بنانے کی فیلڈ میں بھیجیں... بعض فاضل علماء کو سوشلی لکھاری واعظ بنائیں... بعض فاضل علماء کو ٹیکنیشن مستری بنانے کی شعبے میں بھیجیں، بعض فاضل علماء کو سیاست کے میدان میں بھیجیں

🟩الغرض:

ہر جائز شعبے ہر اچھے میدان میں اہل علم حضرات ہوں،علماء حضرات ہوں تو کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے...ہمارے سامنے اتنے سارے اہم کام ہیں اور ہم چھوٹی چھوٹی عام سے کام میں مصروف بلکہ الجھتے جگھڑا کرتے نظر آ رہے ہیں...بڑی سوچ رکھیں، محنت کریں محنت کرواءیں... علم و عبادات میں چھا جائیں تو تعریف کرانے کی کیا حاجت ہے....؟؟ آپ بس محنت کریں دینی خدمات کریں، لوگ آپ کی تعریف خود کریں تب مزا ہے مگر آپ اور ہم تعریف دولت طاقت شہرت کی لالچ نہ رکھیں، عاجزی کریں اور اسلام کے لیے اچھا نوابانہ لباس وغیرہ پہن سکتے ہیں بشرطیکہ عمل و زبان  سے وقتا فوقتا جھلکے کہ آپ دوسرں کی عزت کرتے ہیں،  عوام و ماتحت لوگوں مریدوں عقیدت مندوں کو کیڑے مکوڑے غلام نہیں سمجھتے ...لوگوں کو عقیدت مندوں کو چمچے چاپلوس غلام مت بناءیں.... اسلام و اسلاف کا محب و عاشق بناءیں، اپنی بات میں وزن و اثر پیدا کرنا ہو تو خلوص عبادت و خدمات کی کثرت کریں اور دلائل و جدید دلائل شامل کریں آپ کی بات میں اثر ہوگا، آپ کی حکم پے مر مٹیں گے لوگ.....!! اگر ایسا نہ بن پائیں تو کسی برے طریقے سے لیڈر و پُر اثر بننے کی کوشش نہ کریں بس گمنام خادم اسلام بن کر عبادت والا بن کر زندگی گذار دیں.....اللہ کی رضا ہی تو اصل مقصود ہے ناں تو پھر شہرت طاقت وغیرہ دیگر چکروں میں نہ پڑنا لازم ہے.....!!

.

*#اہم_نوٹ①......!!*

ہر شعبے والا دوسرے شعبے والے کو بلکہ کسی عام سے آدمی کو بھی حقیر و کمتر نہ سمجھے.. ہر شعبے والا دوسرے کو بھی اہم سمجھے... وقعت عزت دے ... ہوسکے تو دوٹوک دوسرے شعبے والوں کی تائید و اعلان کرے اور مدد کرے حمایت کرے....اگر دوٹوک ھمایت و مدد نہ کر سکے مجبور ہو تو اشارتاً تائید و حمایت کرے ورنہ کم سے کم تردید و مذمت تو نہ کرے... کم از کم مطلقا عام الفاظ میں حمایت و تعریف کرے.....مگر کوئی سچا اچھا مجبورا کسی اور سچے اچھے کی مذمت و تردید کرے تو عوام و خواص اس مذمت و تردید کے جگھڑے میں نہ کود پڑے بلکہ حسنِ ظن اچھا گمان رکھے کہ دونوں مخلص سچے اچھے ہیں تو بظاہر مذمت و تردید و اختلاف و جگھڑا کر رہے ہیں تو شاید ملکی یا عالمی دباؤ میں مجبور ہونگے

.

*#اہم_نوٹ②.....!!*

فروعی اختلاف ہو.... کوئی کہے کہ یہ طریقہ بہتر و مفید ہے اس پے چلو اور کوئی دوسرا اختلاف کرکے کہے کہ یہ طریقہ بہتر و مفید ہے اس پے چلو تو ایسے باادب باسلیقہ مدلل پرُلاجک اختلاف پے ایک دوسرے کی مذمت نہ کریں...ایسے اختلاف سے دل چھوٹا نہ کریں ہاں وسیع اتحاد اہلسنت کے لیے کاوشیں کریں دعاءیں کریں التجاءیں کریں، آپ خدمات کریں علم و عبادات میں مگن رہیں تو اتحاد کے لیے آپ کی بات و مشورہ پرُ اثر ہوگی ورنہ اتحاد نہیں کر رہے کہہ کر سستی کاہلی بے ہمتی مت پھیلائیں.....بس کام کریں کام اور عمل کریں عمل...اور صبر و برداشت کی تلقین کریں اور یہ بھی تلقین التجاء کریں کہ بے شک اختلاف پے صبر و برادشت ہے مذمت نہیں کرتے دل چھوٹا نہیں کرتے بےہمتی سستی کاہلی نہیں پھیلاتے مگر خواہش ہے کہ عظیم اتحاد اہلسنت ہو تو کیا ہی عمدہ و مفید ترین بات ہے...لیکن فقط خود کو ہی یا اپنے شعبے تنظیم ہی کو بہت بڑا نہ سمجھیں،اپنے آپ کو کوئی عقل کل بہت بڑی توپ نہ سمجھے...ہم سپ پر رجوع توبہ کا دل جگرہ رکھنا لازم ہے،یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا رد نہ کیا جائے...سیدی اعلیٰ حضرت اسلاف کے حوالے دیکر فرماتے ہیں:

اہل حق کا یہ معمول رہا ہےکہ کلام اللہ و کلام رسول کے سوا ہر ایک کا قول لیا جا سکتا ہے اور اس پر رد بھی کیا جا سکتا ہے دلائل کے ساتھ(فتاوی رضویہ15/469ملخصا)

.

*#اہم_نوٹ③.......!!*

عام ادمی یا کسی کو بھی کسی شخصیت کی خدمات علم  عبادات وغیرہ خوب پسند آئیں یا کوئی مشھور ہو جائے تو بس فقط اسی کی اہمیت دل میں نہ رکھیں بلکہ اسکی بھی اہمیت رکھیں تعریف کریں اور ساتھ دیگر شعبے والوں کو بھی اہم سمجھیں بظاہر کوئی انہیں اہم نہ سمجھے تب بھی آپ ایک ایک شعبے ایک ایک سنی شخص کو اہم سمجھیں اہمیت وقعت دیں...بے شک مشورے دیں تو یہ نہ سمجھیں کہ اگلے کو معلوم نہیں،  ممکن ہے اسے آپ سے زیادہ علم ہو مگر وہ کسی اور جگہ مصروف ہو، بحر حال ایک دوسرے و وقعت دیں عزت دیں ایک دوسرے کی مدد کریں... ایک دوسرے کو مشورے دیں اصلاح کریں نصیحت کریں جانی مالی ہرطرح کے تعاون کریں... شہرت طاقت قومیت پرستی میں نہ آئیں، چمچہ گیری چاپلوسی قومیت پرستی غنڈہ گردی چوری ایجنٹی  وغیرہ کے ذریعے دولت طاقت شہرت کمانے جھانسے میں نہ آئیں

.

*#اہم نوٹ④.......!!*

مذکورہ اداروں مدارس کے لیے علماء طلباء لکھاری واعظ امام مسجد مدرس و جدید علوم و فنون پے حکومت فنڈ مہیا کرے اگر اگر ھکومت مہیا نہ کرے یا کم مہیا کرے تو سرمایہ دار دولت مند و عوام بھرپور تعاون کریں حمایت کریں جانی مالی وقتی حوصلاتی وغیرہ ہر طرح کے مدد کریں... چندہ زکواۃ فطرہ دیں اور ساتھ ساتھ غرباء پے بھی خرچ کریں

.


🟥عالم کورس اچھی طرح مکمل کریں گے یا 👈کافی علم حاصل کرلیں گے تو آپ ایک قابل باشعور بندہ بن کے نکلیں گے......اب آگے کیا کرنا ہے آپ کے پاس بہت راستے ہیں

مثلا

①قابل مدرس بن جائیے افتاء کیجیے پھر ترقی کرتے کرتے شیخ الحدیث و التفسیر بن جاءیے واعظ و مصنف بن جاءیے....مناسب لگے تو بڑوں کی اجازت و دعاؤں سے آپ اپنا الگ مدرسہ کھول لیجیے

②قابل مدرس و واعظ بن کر ساری زندگی گذار دیجیے

③تدریس کے ساتھ ساتھ امامت خطابت کیجیے

④تدریس کے ساتھ ساتھ نظامت کیجیے

⑤تدریس کے ساتھ ساتھ افتاء کیجیے

⑥فرسٹ ٹائم تدریس کیجیے اور سیکنڈ ٹائم اپنا کاروبار خرید و فروخت کوءی پیشہ ہنر سیکھیے مثلا درزی الیکٹریشن، دودھ بیچنا، موبائل کی دوکان، جوتے، کپڑے ،فوڈ،  فروٹ کی دوکان.....کوئی اور کاروبار کی دوکان

⑦عالم کورس مکمل کرنے کےبعد پولیس فوج ریجنر اسکول کالج یونیورستی سیاست میں چلے جانا بھی عمدہ آپشن ہے مگر کوشش کیجیے کہ کسی طرح علم و شعور لینے پھیلانے سے ناطہ نہ ٹوٹے...خطابت تدریس سوشل میڈیا پے لکھنا کوئی بھی طریقہ علم سے جڑے رہنے کا نکال لیجیے

⑧فرسٹ ٹائم تدریس کیجیے سیکنڈ ٹائم ٹیوشن پڑھائیے

⑨فرسٹ ٹائم تدریس کیجیے سیکنڈ ٹائم انگلش لینگوئیج سینٹر جاءیے پھر اپنا لیگوئج سینٹر کھول لیجیے

10:عالم کورس مکمل کرنے کے بعد

اسلامی و دنیاوی مکس نصاب والا نجی پرائمری اسکول کھول لیجیے اور خطابت بھی کیجیے تاکہ اعلی تعلیم  سے وابستگی بھی رہے اور علم و شعور پھیلانا بھی جارے رہے

11:ثالثہ رابعہ تک کا اپنا مدرسہ کھول لیجیے ، رابعہ کے بعد طلباء کو کسی بڑے مدرسے بھیجیے...خطابت بھی کیجیے ہوسکے تو امامت بھی کیجیے

.12:درس نظامی کےساتھ ساتھ اسکول کالج سے پرائیوٹ ایف اے بے اے بھی کیجیے پھر درس نظامی مکمل کرکے یا کافی علم حاصل کرنے کے بعد طب میڈیکل انجنیرائنگ سائنس جدید علوم و فنون میں داخلہ لیجیے ، ایم فل ، پی ایچ ڈی کیجیے، انجنیر سائنسدان لیکچرار ٹیچر سیاستدان تاجر وغیرہ بنیے

.

🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩

🛑سوال

*#مولوی جب دیکھو چندہ تعاون مانگتے ہو، کماتے کیوں نہیں....؟؟*

✅ *#جواب و تفصیل........!!* 

کیا اپ نے کبھی فوجی سے کہا ہے کہ سرحد کی نگہبانی تو دینی کام ہے ، حب الوطنی ہے۔۔۔اس کے پیسے کیوں لیتے ہو۔۔۔۔؟؟ کیا اپ نے عدلیہ ججز پارلیمنٹ وزیراعظم وزیراعلی وزراء وغیرہ سے پوچھا ہے کہ اپ لوگ تو عوام کی خدمت کر رہے ہیں ، اپنی اخرت سنوار رہے ہیں تو پھر تنخواہ مراعات کیوں لیتے ہیں۔۔۔۔؟؟👈تو پھر علماء مدارس لکھاری امام مسجد لکھاری وغیرہ سرگرم اہلسنت سے کیوں کہتے ہیں کہ کماو، چندہ تعاون کیوں مانگتے ہو۔۔۔۔؟؟📌یہ کیوں نہیں کہتے کہ ججز عدلیہ فوجی سیاست دان وزراء سائنس دان لیکچرار ٹیچرز سب مفت میں خدمات سر انجام دیں اور اپنی ضروریات کے لیے تجارت بھی کریں۔۔۔۔؟؟

👈ایمان انسانیت انصاف و عقل کا تقاضہ ہے کہ رشتےدار دوست احباب غرباء کے ساتھ تعاون کرنے، حال پوچھنے، خیال رکھنے مشورے دینے کے ساتھ ساتھ👈سچےسرگرم اہلسنت علماء ورکرز لکھاری مدارس امام مسجد کا بھی خصوصی خیال رکھیں،انکے درد تکالیف اور مالی ضروریات وغیرہ میں دوست و اپنوں کی طرح کام ائیں📌ضروری نہیں کہ ہر مشھور یا ماہر پیسےوالا ہو،خیال رکھنے والےدوست و احباب والا بھی ہو۔۔👈ایمان انسانیت انصاف و عقل کا تقاضہ ہےکہ:

🧠دینی دنیاوی معاملات علماء مدارس جج وکیل ڈاکٹر نرس فوجی سیاستدان سائنسدان تاجر عبادت و خدمات وغیرہ ہر فیلڈ و شعبہ جو اسلام کی سربلندی، دین و دنیا کی بھلائی ترقی کے لیےہو تو وہ لازم ہے اور ایک دوسرے کی مدد تنخواہ تعاون لازم ہے

.

🧠دیکھیں سوچیں سمجھیں کہ

1۔۔۔۔صدر وزیراعظم اور دیگر وزراء عوام کے ٹیکس یا ملکی یا بین الاقوامی سرمایہ داروں کے تعاون ڈونیشن رشوت پے پلتے ہیں۔۔۔۔ انہیں یہ نہیں کہا جاتا کہ اپ تو فلاحی کام کر رہے ہیں، خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اسلام کے لیے کام کر رہے ہیں لہذا تم لوگ تعاون تنخواہ ڈونیشن استعمال نہ کرو نہ مانگو بلکہ خود محنت کرو اور کماؤ کھاؤ

۔

2۔۔۔۔سیاست دان اپنی پارٹی میں چندہ لفظ استعمال کرنے کے بجائے ڈونیشن لفظ استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور ڈونیشن لوکل و بین الاقوامی سطح پر لیتے ہیں۔۔۔ یہ ڈونیشن کھا کر امیر کہلاتے ہیں ۔۔۔ حکمرانی کرتے ہیں۔۔۔ سیاست کرتے ہیں ۔۔۔ عزت کماتے ہیں۔۔۔ یہ ڈونیشن چندہ ہی تو ہے بلکہ  دیکھا جائے تو مولوی کا چندہ عزت والا ہے اور یہ ڈونیشن کبھی بلکہ اکثر برا ہوتا ہے ایجنٹی پر ہوتا ہے عیاشی فحاشی عریانی گانے باجے رشوت سود کرپشن وغیرہ برے کرتوت کرنے کرانے کی وجہ سے ان کو ڈونیشن کے نام پے ملتا ہے 

۔

3۔۔۔۔ڈاکٹر پر مریضوں کا احسان ہے کہ مریضوں کے دیے ہوئے پیسوں  فیس پہ ان کا گزارا ہوتا ہے۔۔۔جن کے پاس مریض نہیں اتے وہ ڈاکٹر سڑکوں پہ رل رہے ہوتے ہیں 

۔

4۔۔۔۔۔جج وکیل یہ سب بھی عوام کے چندے پر پلتے ہیں اور عوام سے فیس لے کر پلتے ہیں ورنہ دھکے کھاتے پھریں

۔

5۔۔۔۔تاجر حضرات بھی گاہک کے محتاج کہ اگر گراک نہیں ائیں گے تو ان کا گزارا نہیں چلے گا ۔۔۔روڈ پہ ا جائیں گے 

۔

6۔۔۔۔اسکول ٹیچر لیکچرار بھی تو سرکاری خزانے سے پلتا ہے جو عوام کے ٹیکس سے بنتا ہے یا باہر کے ممالک سے ڈونیشن ملتا ہے یا نجی اسکول ٹیچر حضرات طلباء کے سرپرستوں سے پیسے لے کر پلتے ہیں۔۔۔

۔

7۔۔۔۔کسان حضرات بھی خوش نہ ہوں کہ وہ کسی کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ ان کی سبزیاں ان کے اناج وغیرہ دوسرے لوگ نہ خریدیں تو ان کا کاروبار بھی ٹھپ ہو جائے 

۔

8۔۔۔۔سائنسدان مہنگی مہنگی ادویات ایجادات گیجٹس وغیرہ دریافت کرتے ہیں، مہنگا بیچتے ہیں ، نیز حکومت کے فنڈ پہ پلتے ہیں اور حکومت کے فنڈ عوام کے ٹیکس سے جمع ہوتے ہیں اور سائنس دان اپنی ایجائیداد ادویات  بیچنے کے لیے پیش کرتے ہیں جو اول وقت میں تو بہت ہی مہنگی مارکیٹ میں ملتی ہیں اگر مارکیٹ والے بائیکاٹ کر دیں نہ خریدیں تو سائنس دانوں کی امدنی کہاں سے ائے گی۔۔۔گویا سائنس دانوں بڑے بڑے ڈاکٹروں پر بھی احسان عوام کا ہے، فنڈ کا ہے، ٹیکس کا ہے، یہ سب ایک قسم کے چندے ہی تو ہیں 

۔

9۔۔۔اسی طرح درزی نائی تاجر استاد لیکچرار جرنک کرنل فوجی پولیس سیاستدان سائنسدان ڈاکٹر کسان سارے لوگ ہم سب کسی نہ کسی طرح عوام کے پیسوں سے پلتے ہیں، ایک دوسرے کے پیسوں پہ پلتے ہیں۔۔۔ہم ایک دوسرے کے احسانات پے پلتے ہیں۔۔۔مذکورہ بالا افراد برے ہوں ضروری نہیں، ان میں سے جو خدمات کرتے ہیں ، مناسب فیس وغیرہ لیتے ہیں ، فوائد دیتے ہیں اور فوائد کے بدلے اپنی زندگی گزارنے کے لیے فوائد پیسہ فیس لیتے ہیں لیکن ان کا اصل مقصود لوگوں کی بھلائی، لوگوں کی خدمت ہوتا ہے تو ایسے لوگ افراد ، ایسے بظاہر دنیاوی افراد بھی تعریف اور عزت کے مستحق ہیں

۔

🌀 *#الغرض*

ہم سب ایک دوسرے کے ایک طرح سے محتاج و محسن ہیں۔۔۔کوئی کتنا ہی طاقتور ہو وہ یقینا کسی نہ کسی کا محتاج ضرور ہے،کسی نہ کسی طریقے سے۔۔۔بس معاشرے میں بدنام ہے تو بیچارہ مولوی کہ دین کی خوب خدمت کرتا ہے، بچوں کو پڑھاتا ہے، ان کی تربیت کرتا ہے، لوگوں کی تربیت کرتا ہے ، امامت کراتا ہے، سب کو دین سکھاتا ہے،  ان کی اخرت سنوارتا ہے، معاشرہ اچھا بنانے کی کوشش کرتا ہے

 اور

 اس احسان کے بدلے میں اسے چندہ دیا جائے یا وہ  چندہ تعاون لے تو یہ اس کا حق ہے۔۔۔ اخر وہ یہ دینی کام خدمات میں اپنا وقت  لگا رہا ہے تو اپنا گھر چلانے کے لیے پیسے کہاں سے لائے گا۔۔۔۔۔۔؟؟

۔

لہذا چندہ خور چندہ خور کی رٹ لگا کر مولویوں کو بدنام مت کرو۔۔۔یہ اسلام دشمنوں کی سازش ہو سکتی ہے کہ چندہ خور چندہ خور کہہ کر عزت کم کرو تاکہ لوگ مولوی علماء طلباء کم بنیں۔۔۔دین کی خدمات کم  سے کم ہوتی جائیں۔۔۔دینداروں کی وقعت نہ ہو ، عزت نہ ہو۔۔۔یہ اسلام دشمنوں کا پروپیگنڈا ہو سکتا ہے یا پھر جاہل حضرات کا پھیلایا ہوا جہالت پن ہے۔۔۔۔!!!

۔

👈👈لہذا فرض تو یہ بنتا ہے کہ اپ او ہم دل سے اپنی جیب سے طاقت مطابق بہت سارا چند تعاون راشن لے کر جائیں اور مدرسے میں دے کر,  علماء کو دے کر،  لکھاریوں، سوشلی ورکروں کو دے کر ان کا شکریہ ادا کریں کہ ہمیں اپ کی خدمت کا موقعہ ملا اور ان سے عرض کریں کہ قبلہ ہم خدمت کرتے رہیں گے ، اپ دین کی خدمت کرتے رہیں، معاشرے کی بھلائی کرتے رہیں۔۔۔ اپ کی بڑی عزت ہے۔۔۔اپ خود دار ہیں کہ بھیک مانگ کر نہیں کھا رہے، بلاعوض ناحق نہیں کھا رہے بلکہ بہت ساری خدمات سر انجام دے کر تعاون کے مستحق بن رہے ہیں، تنخواہ کے مستق بن رہے ہیں ، زکوۃ فطرے کے مستحق بن رہے ہیں۔۔

۔

♥️لہذا اگر کوئی مولوی جسے اپ جانتے ہوں کہ واقعی یہ فلاں جگہ کا فلاں مدرسے کا فلاں مسجد کا سرگرم بندہ ہے سوشل میڈیا کا سرگرم بندہ ہے تو اپ اسے جی جان سے اس کے ہاتھ چوم کر تعاون اور چندہ حاضر کیجیے اور ان کو باعزت بڑا وقعت والا مشھور  بھی کیجیے

۔

🙏علماء کرام لکھاری مفتیان کرام امام مسجد مدرسین اور چندہ لینے والے احباب پر بھی لازم ہے کہ عوام کو اور چندہ دینے والوں کو کبھی کمتر نہ سمجھیں، تکبر نوابی نہ کریں، اپنے آپ کو بڑی توپ نہ سمجھیں۔۔۔عوام مریدین محبین کو عزت دیں کہ اپ احسان کے بدلے میں، نیکی کے بدلے میں، بھلائی کے بدلے میں بھلائی کر رہے ہیں، احسان کر رہے ہیں، چندہ تعاون دے رہے ہیں، عزت وقعت دے رہے ہیں۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے کی عزت کریں۔۔یوں نہ کہیں،  یوں نہ سمجھیں کہ یہ عوام گنہگار بدمعاش بدعمل وغیرہ ان کی کیا اوقات۔۔ایسا ہرگز نہ کہیں، ایسا نہ سمجھیں بلکہ انہیں پیار محبت کے ساتھ اچھے الفاظ اور انداز کے ساتھ نیکی اور بھلائی کی طرف بلائیں اور جہاں سختی کرنی ہو وہاں معتدل معتبر باشعور باریک بین علماء کے فتوے کے مطابق سختی تھوڑی سی کی جا سکتی ہے وہ بھی سختی کرنے کی حکمت و راز و فوائد بتا کر۔۔۔۔۔!!

۔

👈👈اپنے بچوں کو، بھائیوں کو ، ماتحتوں کو، دوستوں کو، چھوٹوں کو، بڑوں کو سب کو سمجھائیں کہ چندے پے پلنا،چندہ کی اپیل کرنا کوئی بری بات نہیں بشرطیکہ اسلام کی سربلندی کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہوں۔۔۔یہ چندا یہ تعاون تو ان کا حق ہے اور ہم پر لازم ہے کہ انکی عزت کریں اور چندا تعاون خوب دیں اور اسکو اپنا احسان نہ سمجھیں بلکہ سعادت سمجھیں کہ اچھی جگہ تعاون دیا۔۔ اور چندا تعاون لینے والے سرگرم علماء مولوی حضرات سعادت سمجھیں کہ وہ پاکیزہ راشن و تعاون دین کی سربلندی کے لیے اپیل کرکے لے رہے ہیں کہ اللہ کریم ان سے دین کی ترقی کا کام لے رہا ہے۔۔۔۔ اللہ کریم زکوۃ چندہ تعاون صدقہ دینے والوں اور لینے والوں اور استعمال کرنے والوں سب کو برکتیں عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ سب کچھ تعاون و خدمات سب کچھ قبول فرمائے اور خدمات و تعاون کی توفیق عطا فرماتا رہے۔۔۔۔!!

۔

۔

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.