Labels

نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کو لازم قرار دے کر جگھڑا کرنے والے کو جواب اور برداشت۔۔۔؟؟

 🟩 *#نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کو لازم قرار دے کر جگھڑا کرنے والے کو جواب اور برداشت۔۔۔؟؟ جواب و تفصیل پڑھیے اس مختصر مدلل تحریر میں*

🟥 *#سوال*

علامہ صاحب یہاں جھگڑا ہوگیا ہے، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس لیے نماز جنازہ نہیں ہوئی، جلد از جلد مدلل جواب بھیجیں تاکہ جواب دیا جا سکے

۔

🟩 *#جواب۔و۔تفصیل*

1️⃣۔۔۔نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قران کی کوئی ایت وغیرہ تلاوت لازم نہیں ہے لہذا فاتحہ اور تلاوت کے بغیر نماز جنازہ بالکل درست و برحق ہے لہذا جھگڑا کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے

۔

2️⃣۔۔۔کچھ صحابہ کرام تابعین عظام ائمہ مجتہدین سورہ فاتحہ یا تلاوت کے جنازہ نماز میں ہونے کے قائل تھے اور کچھ صحابہ کرام تابعین عظام ائمہ مجتہدین نماز جنازہ میں فاتحہ و تلاوت نہیں کرتے تھے

👈👈لیھذا ایسے فروعی اختلافی مسائل میں جھگڑا ہرگز نہیں کرنا چاہیے اور ایک دوسرے پر فتوی بازی نہیں کرنی چاہیے،جلدبازی میں کوئی فتوی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے

 بلکہ

علماء کرام سے رابطہ کرنا چاہیے اور دل جگرا بڑا رکھنا چاہیے کہ فروعی اختلافات میں برداشت کرنا لازم ہے، ایسے فروعی اختلافی مسائل میں ایک دوسرے سے نفرت اختلاف بازی نہ کرنا فرض ہے..جیسے کہ کچھ تفصیل قران و حدیث سے تحریر کے اخر میں لکھوں گا

۔

3️⃣۔۔۔یہاں پاکستان میں اسی پر عمل ہے تو یہاں فاتحہ تلاوت وغیرہ پڑھنا لازم ہے کے فتوے دے کر فتنہ فساد جگھڑا پھیلانا بری بات ہے

۔

🟤 *#دلیل1*

*#صحابہ کرام کا فتوی*

عمر بن الخطاب، وعليِّ بن أبي طالب، وعبد الله بن عمر، وعبيد بن فضالة، وأبي هريرة، وجابر بن عبد الله، وواثلة بن الأسقع، والقاسم، وسالم بن عبد الله، وابن المسيب، وربيعة، وعطاء، ويحيى بن سعيد أنهم لم يكونوا يقرؤون في الصلاة على الميت....وذهب عبد الله بن مسعود، وابن عباس، وعبد الله بن عمرو بن العاص، وسهل بن حنيف، إلى قراءة فاتحة الكتاب في صلاة الجنازة، بعد التكبيرة الأولى،

ترجمہ:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عبید بن فضالہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا واثلہ اور سیدنا قاسم اور سیدنا ظالم اور سیدنا ابن مسیب اور سیدنا ربیعہ اور سیدنا عطا اور سیدنا یحیی بن سعید رضی اللہ تعالی عنہھم اجمعین تمام کے تمام مذکورہ حضرات کرام کے مطابق نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قران مجید کی کوئی ایت تلاوت نہیں کی جائے گی 

لیکن

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا سہل رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین کے مطابق سورہ فاتحہ نماز جنازہ میں پڑھیں گے

(مواهب الجليل من أدلة خليل1/344)

۔

🌹 *#الحدیث*

فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا

 نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پر میری سنت لازم ہے اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت لازم ہے، ان سنتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو

(ابوداؤد حدیث4607)

(ابن ماجہ  حدیث43نحوہ)

(ترمذی حدیث2676نحوہ)

✅اور خلفائے راشدین میں سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قران مجید کی کوئی ایت وغیرہ کی تلاوت نہ کرتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفائے راشدین کی پیروی کا حکم دیا ہے لہذا ہم پر اعتراض کرنا اور جھگڑا کرنا انتہائی بری بات ہے، اختلافی فروعی مسائل میں علم و اپنا نظریہ بتایا جاسکتا ہے لیکن سلیقے کے ساتھ، ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ۔۔۔ اور ایک دوسرے پر فورا فتوی بازی جھگڑا وغیرہ اختلافی فروعی مسائل میں نہیں کرنا چاہیے، ہرگز ہرگز نہیں

.


🟤 *#دلیل2*

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا، لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُكَ. أَتَّبِعُهَا مِنْ أَهْلِهَا. فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ. وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ». ثُمَّ أَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا، فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ. وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا، فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ نماز جنازہ کیسے پڑھیں تو انہوں نے فرمایا کہ نماز جنازہ میں تکبیرات ہوتی ہیں اور ثناء ہوتی ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے اور میت کے لیے دعا پڑھی جاتی ہے اور پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا(کوئی دعا مخصوص و مقرر نہیں کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے )میں یہ دعا پڑھتا ہوں

اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا، فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ. وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا، فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَ

(موطا امام مالک روایت17)

۔

✅وصححه الألباني في التعليق على فضل الصلاة على النبي -صلى الله عليه وسلم- (ص ٨٠)مثله لا يقال من قبيل الرأي فله حكم الرفع والله الموفق سبحانه

👈مطالب عالیہ کے محققین فرماتے ہیں کہ(اہل حدیث غیر مقلد وغیرہ کے)موجودہ دور کے 👈امام البانی نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے اور 👈👈محققین نے فرمایا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں کہہ سکتےلہذا انہوں نے ضرور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہوگا

(المطالب العالية محققا5/404)

۔

🟤 *#دلیل3*

 عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، كَانَ لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنَ التَّكْبِيرَاتِ

سیدنا ابن سیرین رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کی کسی بھی تکبیر کے بعد قران مجید کی کسی بھی ایت اور سورہ فاتحہ وغیرہ کی تلاوت نہیں کی جائے گی

(مصنف عبدالرزاق روایت6432)

.

🟤 *#دلیل4*

 عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «التَّكْبِيرَةُ الْأُولَى عَلَى الْمَيِّتِ ثَنَاءٌ عَلَى اللَّهِ، وَالثَّانِيَةُ صَلَاةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالثَّالِثَةُ دُعَاءٌ لِلْمَيِّتِ،

وَالرَّابِعَةُ تَسْلِيمٌ

امام شعبی فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد ثنا پڑھیں گے اور دوسری تکبیر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں گے اور تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے کوئی بھی دعا پڑھیں گے اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیر دیں گے

(مصنف عبدالرزاق روایت6434)

.

.

🟤 *#دلیل5*

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ «لَا يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ»

صحابی سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قران مجید کی کوئی بھی ایت کی تلاوت نہیں کی جائے گی

(موطا امام مالک روایت19)

.

🟤 *#دلیل6*

 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَارَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَالِمًا، فَقُلْتُ: الْقِرَاءَةُ عَلَى الْجِنَازَةِ فَقَالَ: «لَا قِرَاءَةَ عَلَى الْجِنَازَةِ

سیدنا سالم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں قران مجید سورہ فاتحہ وغیرہ کی تلاوت نہیں ہے

(امام بخاری کے استاد کی کتاب المصنف روایت11414)

.

🟤 *#دلیل7*

 حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: هَلْ يُقْرَأُ عَلَى الْمَيِّتِ شَيْءٌ؟ قَالَ: «لَا»

صحابي سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ یا قران مجید کی کسی ایت کی تلاوت کی جائے گی یا نہیں تو اپ نے فرمایا نہیں

(امام بخاری کے استاد کی کتاب المصنف روایت11407)

.

🟤 *#دلیل8*

 حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَقْرَأُ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ؟ قَالَ: «لَا تَقْرَأْ»

سیدنا ابو بردہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھوں۔۔۔؟؟ تو اپ نے فرمایا نہیں

(امام بخاری کے استاد کی کتاب المصنف روایت11408)

.

🟤 *#دلیل9*

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَا: «لَيْسَ فِي الْجِنَازَةِ قِرَاءَةٌ»

امام شعبی فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں کوئی قرات نہیں ہے

(امام بخاری کے استاد کی کتاب المصنف روایت11410)

.

🟤 *#دلیل10*

 حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَطَاءٍ أَنَّهُمَا كَانَا «يُنْكِرَانِ الْقِرَاءَةَ عَلَى الْجِنَازَةِ

سیدنا طاؤس اور سیدنا عطا فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں قران مجید کی کوئی قرات نہیں ہے

(امام بخاری کے استاد کی کتاب المصنف روایت11411)

۔

تلک عشرۃ کاملۃ

.

🌹 *#الحدیث*

 قال النبي صلى الله عليه وسلم لنا لما رجع من الأحزاب: «لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة» فأدرك بعضهم العصر في الطريق، فقال بعضهم: لا نصلي حتى نأتيها، وقال بعضهم: بل نصلي، لم يرد منا ذلك، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم، فلم يعنف واحدا منهم

ترجمہ:

غزوہ احزاب سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم(یعنی صحابہ کرام) سے فرمایا کہ:

تم میں سے ہر ایک بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھے" (صحابہ کرام نے جلد پہنچنے کی بھر پور کوشش کی مگر)راستے میں عصر کا وقت ختم ہونے کو آیا تو کچھ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہم عصر نماز بنی قریظہ پہنچ کر ہی پڑہیں گے اور کچھ صحابہ کرام نے فرمایا کہ نبی پاک کا یہ ارادہ نا تھا(کہ نماز قضا ہو اس لیے) ہم عصر پڑھ لیں گے

(طبرانی ابن حبان وغیرہ کتب میں روایت ہے جس میں ہے کہ کچھ صحابہ نے راستے میں ہی عصر نماز پڑھ لی اور کچھ نے فرمایا کہ ہم رسول کریم کی تابعداری اور انکے مقصد میں ہی ہیں لیھذا قضا کرنے کا گناہ نہین ہوگا اس لیے انہوں نے بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر نماز پڑھی)

پس یہ معاملہ رسول کریم کے پاس پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک پر بھی ملامت نا فرمائی

(بخاری حدیث946)

.

👈دیکھا آپ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان کا قیاس و استدلال اور اس میں اختلاف... صحابہ کرام نے اس برحق اختلاف پر ایک دوسرے کو کافر منافق فاسق گمراہ گستاخ نہیں کہا اور 🌹👈👈نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس فروعی اختلاف پے ل کسی فریق کی ملامت نا فرمائی...ایسا اختلاف قابل برداشت ہے بلکہ روایتوں میں ایسے فروعی برحق پردلیل باادب اختلاف کو رحمت فرمایا گیا ہے

.

اختلاف ایک فطرتی چیز ہے.... حل کرنے کی بھر پور کوشش اور مقدور بھر علم و توجہ اور اہلِ علم سے بحث و دلائل کے بعد اسلامی حدود و آداب میں رہتے ہوئے پردلیل اختلاف رحمت ہے

مگر

آپسی تنازع جھگڑا ضد انانیت تکبر لالچ ایجنٹی منافقت والا اختلاف رحمت نہیں، ہرگز نہیں...اختلاف بالکل ختم نہیں ہو پاتا مگر کم سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے،اس لیے اختلاف میں ضد ،انانیت، توہین و مذمت نہیں ہونی چاہیے بلکہ صبر اور وسعتِ ظرفی ہونی چاہیے... اور یہ عزم و ارادہ بھی ہونا چاہیے کہ اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی، ختم نہیں ہو پایا تو اختلاف کو کم سے کم ضرور کیا جائے گا..اختلاف کو جھگڑے سے بچایا جائے گا..

.

اختلاف کی بنیاد حسد و ضد ہر گز نہیں ہونی چاہیے...

اختلاف اپنی انا کی خاطر نہ ہو

اختلاف لسانیت قومیت کی خاطر نہ ہو

اختلاف ذاتی مفاد لالچ کی خاطر نہ ہو

اختلاف شہرت واہ واہ کی خاطر نہ ہو

اختلاف فرقہ پارٹی کی خاطر کی نہ ہو

اختلاف کسی کی ایجنٹی کی خاطر نہ ہو

اختلاف منافقت، دھوکے بازی کی خاطر نہ ہو

اختلاف ہو تو دلیل و بھلائی کی بنیاد پر ہو، بہتر سے بہترین کی طرف ہو، علم و حکمت سے مزین ہو،

.

👈ہر شخص کو تمام علم ہو،ہر طرف توجہ ہو، ہر میدان میں ماہر ہو یہ عادتا ممکن نہیں، شاید اسی لیے مختلف میدانوں کے ماہر حضرات کی شوری ہونا بہت ضروری ہے، اسی لیے اپنے آپ کو عقل کل نہیں سمجھنا چاہیے....بس میں ہی ہوں نہیں سوچنا چاہیے...ترقی در ترقی کرنے کی سوچ ہو، ایک دوسرے کو علم، شعور، ترقی دینے کی سوچ ہو....!!

.


👈کسی کا اختلاف حد درجے کا ہو، ادب و آداب کے ساتھ ہو، دلائل و شواہد پر مبنی ہو تو اس سے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے...ایسے اختلاف والے کی تنقیص و مذمت نہیں کرنی چاہیے،ایسے اختلاف پے خطاء والے کو بھی اجر ملتا ہے

🌹الحدیث:

فاجتهد، ثم اصاب فله اجران، وإذا حكم فاجتهد، ثم اخطا فله اجر

مجتہد نے اجتہاد کیا اور درستگی کو پایا تو اسے دو اجر اور جب مجتہد نے اجتہاد کیا خطاء پے ہوا اسے ایک اجر ملے گا

(بخاری حدیث7352)

توجیہ تنبیہ جواب تاویل ترجیح کی کوشش کرنی چاہیے جب یہ ممکن نا ہو تو خطاء اجتہادی پر محمول کرنا چاہیے.....ہاں تکبر عصبیت مفاد ضد انانیت ایجنٹی منافقت وغیرہ کے دلائل و شواہد ملیں تو ایسے اختلاف والے کی تردید و مذمت بھی برحق و لازم ہے

.


✅👈👈اسی طرح ہر ایک کو اختلاف کی بھی اجازت نہیں... اختلاف کے لیے اہل استنباط میں سے ہونا ضروری ہے... کافی علم ہونا ضروری ہے... وسعت ظرفی اور تطبیق و توفیق توجیہ تاویل ترجیح وغیرہ کی عادت ضروری ہے، جب ہر ایرے غیرے کم علم کو اختلاف کی اجازت نا ہوگی تو اختلاف فتنہ فسادات خود بخود ختم ہوتے جاءیں گے

🌹القرآن:

لَوۡ رَدُّوۡہُ  اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ

اگر معاملات و مسائل کو لوٹا دیتے رسول کی طرف اور اولی الامر کی طرف تو اہل استنباط(اہلِ تحقیق،باشعور،باریک دان،سمجھدار علماء صوفیاء)ضرور جان لیتے

(سورہ نساء آیت83)

 آیت مبارکہ میں واضح حکم دیا جارہا ہے کہ اہل استنباط کی طرف معاملات کو لوٹایا جائے اور انکی مدلل مستنبط رائے و سوچ و حکم و فتوی کی تقلید و پیروی کی جائے...اور واضح ہوتا ہے کہ ہر ایرے غیرے کو اختلاف وغیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ تحقیق اختلاف ادب کے ساتھ احترام کے ساتھ اہل استنباط علماء ہی کر سکتے ہیں

۔

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.