Labels

عینک معتبر دوربین معتبر کیوں نہیں۔۔۔؟ بڑا چاند۔۔۔؟؟ جس نے چاند دیکھا پھر بھی وہ کب عید نہیں کرسکتا

 🟥 *#دوربین سے چاند دیکھنا معتبر نہیں تو عینک لگا کر دیکھنے والے مفتی منیب الرحمن صاحب کے فیصلے کیسے درست تھے۔۔۔؟؟چاند دیکھنے کی مشین الٹی تھی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔۔عوام خواص صحافی میڈیا حکومت سب کے لیے ضروری احتیاط۔۔؟؟ اور اکا دکا چند حضرات کو جو چاند نظر ایا مگر  انکی گواہی معتبر نہ ٹہری تو بحکم حدیث پاک وہ اکثریت کے ساتھ رہیں گے یعنی روزہ رکھیں گے ، عید نہ کریں گے  تفصیل پڑھیے اس مدلل مختصر تحریر میں۔۔۔!!*

👈پس منظر:

ایک دو صحافیوں نے ویڈیو اور ٹویٹ کر کے کہا کہ ہمارے لیے کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ علماء کرام جس مشین سے چاند کو ڈھونڈ رہے ہیں وہ الٹی لگی ہے۔۔۔۔ مدلل جواب ملنے کے بعد انہوں نے معذرت کی اور ویڈیو اور ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی مگر ہمیں اس سے سبق کیا ملا۔۔۔۔؟؟ہمیں کیا احتیاط کرنی چاہیے۔۔۔۔؟؟ حق چار یار کی نسبت سے 4 پوائنٹس پر اکتفاء کرونگا

👈دوسری طرف ایک طبقہ فواد چوہدری کا اعتراض خوب وائرل کر رہا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی معتبر نہیں ،دوربین معتبر نہیں تو پھر عینک سے چاند دیکھنا معتبر کیوں۔۔۔۔؟؟

۔

✅1️⃣الٹی مشین کے معاملے میں مدلل جواب ماہر فلکیات و علماء کرام نے یہ دیا کہ اگرچہ بظاہر انکھوں سے اپ کو مشین الٹا دکھاتی ہے لیکن اس کا فوکس پوائنٹ چاند والے حصے پر ہوتا ہے تو اسمان کا بھی کچھ حصہ نظر اتا ہے اور زمین کا بھی کچھ حصہ نظر اتا ہے تو اگر الٹا بھی ہو تو بھی چاند الٹا نظر ائے گا لیکن نظر تو ائے گا ناں۔۔۔ لیکن ماہرین لینس لگا کر اس الٹے منظر کو سیدھا کر کے دیکھتے ہیں۔۔۔ اور سارا دارومدار اس مشین پر نہیں ہوتا بلکہ مشین صرف مدد کے لیے ہوتی ہے اگر مشین سے چاند نظر ا جائے تو اس کے بعد جس جگہ پر قید نظر ایا اس جگہ پر انکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور چاند نظر ا جاتا ہے اس طرح چاند انکھوں سے دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ ہوتا ہے بس انکھیں جلد ڈھونڈ لیں اس کے لیے مشین کی مدد لی جاتی ہے

✅2️⃣جبکہ فواد چودری و ہمنوا کے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حدیث پاک میں ہے کہ تم چاند دیکھو تو ہی روزہ رکھو اور تم چاند دیکھو تو ہی عید کرو یا 30 دن کی گنتی پوری کرو۔۔۔بخاری حدیث1909۔۔ابوداود حدیث2326)

لہذا معتدل عام طور پر جو انکھ کی بینائی ہوتی ہے اسی سے دیکھنا اس حدیث پاک کی وجہ سے شرط قرار پایا۔۔ عینک کمزور بینائی کو عام بینائی معتدل بینائی تک لاتی ہے اس لیے اسے پہن کر چاند دیکھنا معتبر ہے

جبکہ

 دوربین عام بینائی معتدل بینائی کو ایک طرح سے تیز کر کے یعنی چیز کو معتدل سے بہت زیادہ قریب کرکے، معتدل سے زیادہ صاف کر کے دکھاتی ہے تو لہذا دوربین سے چاند دیکھنا معتبر نہیں ہے۔۔۔ ہاں البتہ دوربین لگا کر چاند کی جگہ دیکھ لی جائے اور پھر معتدل عام انکھوں سے دیکھا جائے اور نظر ا جائے تو اس طرح کی مدد لینا میں کوئی حرج نہیں کیونکہ فیصلہ فقط دوربین کی بنیاد پر نہیں بلکہ دوربین نے ہمیں صرف راہ دکھائی کہ فلاں جگہ عام انکھ سے دیکھو چاند شاید نظر ا جائے اور ہم فلاں جگہ پر عام انکھ سے دیکھتے ہیں اگر چاند نظر ا جاتا ہے تو چاند نظر انے کا اعلان کرتے ہیں اور اگر نظر نہیں اتا تو اعلان چاند نظر نہ انے کا کرتے ہیں

۔

✅3️⃣جب 29 ویں کے چاند کا اعلان نہیں کیا جاتا یعنی چاند نظر نہیں اتا تو کبھی کبھار 30 کا چاند بڑا نظر اتا ہے اور کبھی کبھار چھوٹا نظر اتا ہے تو لوگ وسوسے پھیلاتے ہیں انتشار پھیلاتے ہیں کہ جی دیکھو یہ تو کل کا چاند ہے اتنا بڑا چاند ہے جب کہ حدیث پاک میں اس کا رد کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ پہلی تاریخ کا چاند بڑا ہو سکتا ہے

 *#چھوٹا یا بڑا چاند...........؟؟*

ایک سوچ:

چاند نظر آنے کے کافی امکان ہوتے ہیں مگر نظر نہیں آتا پھر اگلے دن پہلی تاریخ کے واضح یا بڑے چند کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہ تو دو دن کا ہے...؟؟

جواب:

 یہ خیال ٹھیک نہیں...پہلی تاریخ کا چاند کبھی بہت باریک اور کم وقت تک نظر آنے والا ہوتا ہے اور کبھ کچھ بڑا ہوتا ہے،دیر تک نظر آتا ہے..

🌹الحدیث:

سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ

إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن الله مده للرؤية، فهو لليلة رأيتموه

ترجمہ:

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس(پہلی تاریخ کے)چاند کو اللہ نے بڑا(یا زیادہ دیر تک نظر آنے والا) کیا ہے دیکھنے کے لیے،

یہ اسی رات کا ہے جس رات دیکھو

👈(مسلم حدیث نمبر1018 باب چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں)

👈اب تو سائنسی لحاظ سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ پہلی تاریخ کا چاند تھوڑا بڑا اور واضح ہوسکتا ہے..

.

✅4️⃣جس علاقے شہر سے چاند دکھنے کی گواہی ملے تو وہاں کے کثیر تعداد نے دیکھا ہو تب گواہی معتبر(فتاوی عالمگیری1/198) پشاور اور دور دراز سے بھی چاند دکھنے کی گواہی ملتی ہے مگر عجیب چاند ہے کہ اکا دکا کو ہی نظر اتا ہے باقیوں کو نظر نہیں اتا۔۔۔۔؟؟ اور جب شریعت کے اصول کے مطابق اکا دکا کی گواہی کو رد کر دیا جاتا ہے تو پھر سوشل میڈیا پر فتنہ فساد پھیلایا جاتا ہے کہ فلاں فلاں لوگ یا فلاں فلاں داڑھی والے مولوی حضرات یا فلاں فلاں علماء نے چاند دیکھا۔۔۔ یاد رکھیے اسلام میں داڑھی ہے لیکن داڑھی میں اسلام ہو ضروری نہیں۔۔۔۔!! لیکن جن کی شہادت رد ہوئی ان کو مردود باطل سمجھنا بھی ٹھیک نہیں کیونکہ ممکن ہے ان کو غلط فہمی ہوئی ہو یا ممکن ہے ان کی نظر تیز ہو ان کو چاند نظر اگیا ہو تھوڑے سے وقت کے لیے لیکن دوسروں کو نظر نہ ایا ہو تو اس لیے ان کی گواہی معتبر قرار نہ پائی کیونکہ جم غفیر بہت سارے لوگوں کو نظر نہیں ایا تو چاند کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور جن اکا دکا کو یا چند کو چاند نظر ایا تو ان پر لازم ہے کہ اگرچہ وہ باطل مردود جھوٹے نہیں نہ ہوں تو بھی وہ عید کے معاملے میں اکثریت جمہوریت کی پیروی کریں یعنی اکثریت عید نہیں کر رہی روزہ رکھ رہی ہے تو وہ بھی روزہ رکھیں ، عید نہ کریں

🌹الحدیث:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ، وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ : إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اس دن رکھو جس دن علاقے ملک کی اکثریت روزہ رکھتی ہے اور عید اس دن کرو جس دن علاقے ملک کی اکثریت عید کرتی ہے، قربانی اس دن کرو جس دن علاقے ملک کی اکثریت قربانی کرتی ہے

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی تفسیر تشریح یہ ہے کہ اکثریت جماعت کے ساتھ روزہ رکھا جائے اور انہی کے ساتھ عید کی جائے( یعنی اکا دکا کو چاند نظر ائے تو بھی وہ اکثریت کے مطابق عمل کرے)

(ترمذی حدیث697)

۔

🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦

🚨✅سبق و احتیاط۔۔۔۔۔؟؟

1️⃣۔۔۔۔القران:

لَوۡ رَدُّوۡہُ  اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ

اگر معاملات و مسائل کو لوٹا دیتے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف اور اولی الامر کی طرف تو اہل استنباط(اہلِ تحقیق،باشعور،باریک دان،سمجھدار علماء صوفیاء محققین)ضرور جان لیتے

(سورہ نساء آیت83)

 آیت مبارکہ میں واضح حکم دیا جارہا ہے کہ اہل استنباط کی طرف معاملات کو لوٹایا جائے اور انکی مدلل مستنبط رائے و سوچ و حکم کی تقلید و پیروی کی جائے.....!!

مگر

دونوں صحافیوں نے مسئلے کو رویت ہلال کے محققین کی طرف لوٹانے کے بجائے انتشار پھیلایا، ان پر لازم تھا کہ وہ رویت ہلال کے علمائے کرام سے مفتیان کرام سے اور ان کی مدد کرنے والے ماہر انجینیئر سائنس دان وغیرہ ماہر فلکیات وغیرہ سے پوچھتے کہ مشین میں الٹا کیوں نظر ارہا ہے کہیں کوئی غلطی تو نہیں۔۔۔۔؟؟ یہ ہوتا ہے اصل انسانیت و عقلمندی والا کام۔۔۔۔۔ نفس ،شرارت ،شیطانی ، نفرت ، بغض جہالت کا علاج کرتے نہیں اور پکڑے جاتے ہیں تو سوری سوری معذرت معذرت۔۔۔۔۔۔جناب اپنا علاج کرائیے، علم اور شعور والا اپنے اپ کو بنائیے اور پروپیگنڈا پھیلانے شرارت پھیلانے نفرت  بغض جہالت کا اظہار کرنے سے بچنے کا علاج کیجیے، خاص کر اچھے سچے باعمل مولویوں کے متعلق اپنا دل دماغ سوچ کردار الفاظ درست کیجیے۔۔۔ صرف سوری معذرت کافی نہیں بلکہ اپنا ضمیر ٹھیک کیجیے

اور

ہم سب عوام و خواص سب پر لازم ہے کہ بغیر تحقیق کے ، بغیر تصدیق کے، بغیر سوچے سمجھے، بغیر پوچھے اندھا دھند ہر چیز نہ پھیلائیں۔۔۔۔۔تحقیق تصدیق سوال جواب تفکر وسعت قلبی اخلاقیات سب پر عمل کریں

۔

2️⃣۔۔۔الحدیث:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الأناة من الله والعجلة من الشيطان

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

انائت(جلد بازی نہ کرنا،مناسب وقت موقعہ الفاظ انداز کا لحاظ رکھنا ، ثابت قدمی، سنجیدگی، وقار، وسعتِ ظرفی،صبر) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے..(ترمذی حدیث2012)

زندگی کا بہت ہی اہم اصول کہ جلدبازی نہیں کرنی چاہیے... چاہے دینی معاملہ ہو یا دنیاوی،

سیاسی معاملہ ہو یا ذاتی معاملہ....

باہر کا معاملہ ہو یا گھریلو معاملہ....

دوستی کا معاملہ ہو یا دشمنی کا....

محبت کا معاملہ ہو یا نفرت کا....

رشتہ توڑنے کا معاملہ ہو یا کسی سے رشتہ جوڑنے کا...

کسی پر اعتماد کا معاملہ ہو یا بے اعتمادی کا...

کسی کو سمجھنےسمجھانے کا معاملہ ہو یا تنقید کا.....

کسی کی تائید و تعریف کا معاملہ ہو یا تردید و مذمت کا...

الغرض

ہر معاملے میں جلد بازی ٹھیک نہیں، اہل علم سے، اہلِ شعور سے حتی کہ چھوٹوں سے بھی مشاورت کر لینی چاہیے مگر جلد بازی نہیں کرنی چاہیے...مناسب انداز و لحاظ رکھنا چاہیے، غصہ ہی غصہ تکبر جلدبازی میں نقصان و تباہی ہے.....اختلافات جگھڑے فسادات کی ایک بڑی وجہ عدمِ برداشت اور جلد بازی ہے

.

👈صحافیوں پر لازم تھا کہ وہ جلد بازی نہ کرتے، ماہر فلکیات سے اور علماء کرام سے پوچھتے کہ یہ مشین سے منظر الٹا کیوں نظر ارہا ہے۔۔۔۔؟؟ مگر افسوس۔۔۔۔۔!!

۔

👈اور افسوس ان لوگوں پر بھی کہ جو جلد بازی میں جو چیز نظر اتی ہے وائرل کر دیتے ہیں ویڈیو وائرل کر دیتے ہیں پوسٹ وائرل کر دیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ مستند ہے یا نہیں۔۔۔۔؟؟ تحقیق تصدیق نہیں کراتے۔۔۔؟؟ 📣یاد رکھیے یہ جلد بازی کچھ لائک کمنٹ شہرت تو اپ کو دے سکتی ہے لیکن اللہ کی بارگاہ میں مردود قرار دے دیتی ہے اور انسانیت اور اخلاقیات کا بھی یہی درس ہے کہ جلد بازی نہیں کرنی چاہیے

۔

🚨اور نیوز چینل والوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ پہلے پہل ملنے والی چاند کی گواہی کو خبروں کا حصہ ہی نہ بنائیں کیونکہ وہ گواہی معتبر ہے یا نہیں، اور معتبر ہے تو کیوں اور معتبر نہیں ہے تو کیوں کا جب فیصلہ ہو جاتا تب جا کر علماء کرام کی اجازت سے اور ان کے دیے ہوئے محتاط لکھے الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے کہ فلاں شہادت کو رد کیوں کیا گیا پھر جا کر نشر کرتے لیکن افسوس کہ شہادت معتبر ہے یا نہیں اس سے پہلے ہی خبر نشر کر دیتے ہیں اور لوگوں کو انتشار اور ڈگمگاہٹ میں ڈال دیتے ہیں، حکومت وقت فورا نوٹس لے اور ایسے اقدامات پر فوری پابندی لگائیں اور جو خلاف ورزی کرے اس پر سخت سزا نافذ کریں

۔

3️⃣۔۔۔الحدیث:

وإياك والطمع فإنه الفقر الحاضر، وصل صلاتك وأنت مودع، وإياك وما تعتذر منه

خبردار لالچ سے بچو کہ بے شک وہ حاضر غربت.و.محتاجی ہے، اور ہر نماز ایسے پڑھ جیسے تیری آخری نماز ہے، اور خود کو ہر اس چیز(بات.کام.انداز.الفاظ)سے بچاؤ جس پر تمھیں معذرت کرنی پڑے..

(المستدرک حدیث7928)

✅معذرت معافی رجوع سوری یہ سب برحق ہیں مگر اصل مقصد معذرت کرنا نہیں بلکہ اصل مقصد ان چیزوں سے بچنا ہے کہ جس کی وجہ سے معذرت کرنی پڑے۔۔۔۔!!

۔

4️⃣✅ *#چاند یا سعودی عرب،مسلہ پشاور کا حل....؟؟*

1....الحدیث..

صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته

ترجمہ:

چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ختم کرو(یعنی چاند دیکھ کر ہی عید کرو)

(بخاری حدیث1909)

.

2....الحدیث..ترجمہ:

جب(رمضان کا)چاند دیکھ لو یا شعبان کی 30دن کی گنتی پوری ہو تو روزے رکھو..(ابوداود حدیث2326)

.

3....حدثنا يحيى بن يحيى ، ويحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قال يحيى بن يحيى: اخبرنا، وقال الآخرون: حدثنا إسماعيل وهو ابن جعفر ، عن محمد وهو ابن ابي حرملة ، عن كريب ، ان ام الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية  بالشام، قال: فقدمت الشام فقضيت حاجتها، واستهل علي رمضان وانا بالشام، فرايت الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسالني عبد الله بن عباس رضي الله عنهما، ثم ذكر الهلال، فقال: " متى رايتم الهلال؟ "، فقلت: " رايناه ليلة الجمعة "، فقال: " انت رايته؟ "، فقلت: " نعم ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية "، فقال: " لكنا رايناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين او نراه "، فقلت: " او لا تكتفي برؤية معاوية وصيامه "، فقال: " لا هكذا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم "، وشك يحيى بن يحيى في نكتفي او  تكتفي.

ترجمہ:

 کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں ملک شام گیا اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا ملک شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو ہی عید کریں گے...میں نے کہا: کیا آپ کافی نہیں جانتے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے چاند دیکھا روزہ رکھا....؟؟  آپ نے فرمایا نہیں(شام دور ہے اسکا مطلع الگ ہے اسکا چاند ہم پر لاگو نہ ہوگا)... ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «‏‏‏‏نَكْتَفِى» ‏‏‏‏ کہا یا «‏‏‏‏تَكْتَفِى» ۔

(مسلم حدیث2528)

.

وَالْأَشْبَهُ أَنْ يُعْتَبَرَ لِأَنَّ كُلَّ قَوْمٍ مُخَاطَبُونَ بِمَا عِنْدَهُمْ...وَالدَّلِيلُ عَلَى اعْتِبَارِ الْمَطَالِعِ مَا رُوِيَ عَنْ كُرَيْبٌ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بَعَثَتْهُ إلَى مُعَاوِيَةَ

ترجمہ:

زیادہ(حق و درستگی کے) مشابہ یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر ہے کیونکہ ہر قوم کو خطاب کیا گیا ہے جو ان کے پاس ہو، اس کی دلیل وہ ہے کہ جو کریب سے مروی ہے( اس حدیث پاک کو ہم ابھی ابھی اوپر بیان کر رہے آئے ہیں)

[تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي ,1/321]


وَقِيلَ: يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْمَطَالِعِ)وَفِي التَّبْيِينِ، وَالْأَشْبَهُ أَنْ يُعْتَبَرَ هَذَا الْقَوْلُ؛ لِأَنَّ كُلَّ قَوْمٍ يُخَاطَبُونَ بِمَا عِنْدَهُمْ

ترجمہ:

ایک فتوی یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر ہے،تبیین میں ہے کہ یہی قول زیادہ مشابہ ہے حق و درستگی کے۔۔۔کیونکہ ہر قوم کو مخاطب کیا گیا ہے جو ان کے پاس ہو 

[مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ,1/239]

.

فَأَمَّا إذَا كَانَتْ بَعِيدَةً فَلَا يَلْزَمُ أَحَدَ الْبَلَدَيْنِ حُكْمُ الْآخَرِ لِأَنَّ مَطَالِعَ الْبِلَادِ عِنْدَ الْمَسَافَةِ الْفَاحِشَةِ تَخْتَلِفُ فَيُعْتَبَرُ فِي أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ مَطَالِعُ بَلَدِهِمْ دُونَ الْبَلَدِ الْآخَرِ.

ترجمہ:

جب دو علاقوں ممالک میں مسافت بہت زیادہ ہو فاصلہ بہت زیادہ ہو تو ایک کی رؤیت دوسرے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ مختلف مطلع والے  علاقے ممالک اپنے علاقے ممالک میں چاند دیکھیں گے(اور اسی کے مطابق عمل کریں گے) 

[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,2/83]

.

وقيل: يعتبر فلا يلزمهم قال الشارح: وهو الأشبه

ترجمہ:

ایک فتویٰ یہ ہے کہ ایک علاقے(شہر، ملک)میں چاند ثابت ہو جائے تو دوسرے علاقے والوں پر لازم نہیں ہو جاتا شارح نے فرمایا ہے کہ یہی قول زیادہ مشابہ ہے حق کے 

[النهر الفائق شرح كنز الدقائق ,2/14]

.

ولا يلزم أحد المصرين برؤية الآخر) أي لا يلزم الصوم ولا الإفطار أحد المصرين برؤية أهل المصر الآخر، لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم، إلا إذا اتحدت المطالع

ترجمہ:

ایک علاقے کی رویت سے دوسرے علاقے کی رویت ثابت نہیں ہوگی یعنی ایک علاقے(شہر، ملک) کی رویت سے دوسرےعلاقے کے لئے عید اور روزہ لازم نہیں ہوگا کیونکہ ہر قوم مخاطب ہے جو اس کے پاس ہے ہاں اگر مطلع ایک ہی ہو تو مختلف شہروں کے لئے ایک ہی چاند کافی ہے 

[منحة السلوك في شرح تحفة الملوك ,page 258]

.

1️⃣روزہ اور عید کا تعلق چاند دیکھنے سے ہے... سعودی ایران لندن وغیرہ ملکوں کی پیروی کا حکم نہیں.۔۔۔ لہذا پاکستان بنگلہ دیش انڈیا سعودی عرب مصر شام وغیرہ کے چاند نظر انے میں دو تین دن کا فرق ہو سکتا ہے، ہر ملک اختلاف مطالع کے مطابق چاند دیکھ کر عید کرے روزے رکھے

.

2️⃣خبروں میں آتا ہے کہ دنیا کے فلاں فلاں ممالک میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا اس لیے ان ممالک میں روزہ ہوگا یا شوال کا چاند نظر آیا ہے کل کو عید ہوگی اور فلاں میں چاند نظر نا آیا اس لیے وہاں روزہ یا عید نہیں...لیکن امریکہ برطانیہ کے متعلق یہ پڑھ کر حیرانگی ہو رہی ہے کہ ان میں روزہ و عید فقط اس لیے ہوگی کیونکہ سعودی عرب میں روزہ و عید ہے...حیرت کی بات ہے.......!!


3️⃣پشاوری چاند تنازعے کا بہترین حل حکومت اور میڈیا ہے... ان علاقوں کے مساجد کو لائیو کوریج دی جائے... جہاں چاند کی اطلاع ملے وہاں کی عوام کو لائیو کوریج دی جائے..مدارس  مساجد کے امام اور حکومتی ادارے اور فوج اور پولیس اور دیگر سرکاری ذمہ داروں سے رابطہ رہے... اس طرح دو تین سال مسلسل کیا جائے تو سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے........!!

.

🛑 *#سائنسی قمری کلینڈر کی شرعی حیثیت......؟؟*

سائنس و ٹیکنالوجی کا قمری کلینڈر سہولت کے طور پر تو جائز ہے مگر روزہ عید چاند کی تاریخ کے تعین میں معتبر نہیں....چاند آنکھوں سے دیکھ کر ہی روزے رکھے جائیں گےاور چاند دیکھ کر ہی عید کی جائے گی یا تیس دن کی گنتی پوری کی جائے گی......سعودی ایران ترکی انڈونیشیا برطانیہ امریکہ وغیرہ کی ملک کی پیروی کا حکم نہیں بلکہ ہر ملک و خطہ خود اپنے ملک خطے میں چاند دیکھ کر روزے اور عید کرے گا....سعودی عرب کےساتھ یا شفاف تحقیق و تفتیش مشاورت لحاظ شرعت و احتیاط کے بغیر روزہ و عید کا اعلان کرنے والا پوپلزئی اور سائنس و ٹیکنالوجی کےتحت چاند کا اعلان کرنے والا فواد چوہدری دونوں غیر معتبر اور باعثِ انتشار و فتنہ ہیں...انکو سمجھانا، ان کے شبہات کا جواب دینا لازم پھر بھی ضد پے رہیں تو لگام لگانا لازم...............!!

.

تلخیصِ حدیث:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ترجمہ:

ہم روزہ،عید،چاند کےمتعلق نجومیوں والا حساب کتاب نہیں رکھتے(ہم تو چاند دیکھ کر ہی روزہ و عید کریں گے)

(بخاری حدیث1913ملخصا)

.

وَأَشَارَ الْمُصَنِّفُ إلَى أَنَّهُ لَا عِبْرَةَ بِقَوْلِ الْمُنَجِّمِينَ قَالَ فِي غَايَةِ الْبَيَانِ: وَمَنْ قَالَ: يَرْجِعُ فِيهِ إلَى قَوْلِهِمْ فَقَدْ خَالَفَ الشَّرْعَ

یعنی

روزہ،عید،چاند کےمعاملےمیں نجومیوں(چاند و ستارے سیارے فلکیات وغیرہ کا حساب کتاب رکھنے والوں)کا قول معتبر نہیں، جس نے انکا قول معتبر سمجھا بےشک اس نے شریعت کی خلاف ورزی کی..(البحر الرائق2/284ملخصا)

.

لأَِنَّ الْمَعْرُوفَ عَنْهُ مَا عَلَيْهِ الْجُمْهُورُ

جمھور و اکثر(فقھاء علماء محدثین محققین)کے مطابق چاند دیکھنے کے معاملے میں علم حساب و نجوم و فلکیات کا اعتبار نہیں

(موسوعہ فقہیۃ کوئیتیۃ22/32)

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.