Labels

جو خود کو ٹھیک نہیں کر رہا اس سے دعا تبرک لیتے ہو عقل کے اندھوں۔۔۔؟؟اس اعتراض کا عقلی و قران و حدیث سے جواب، شہزادہ عطار پر اعتراض کا جواب

 




🟫 *#شہزادہ سیدی عطار خود بیمار ہیں خود کو ٹھیک نہیں کر سکتے مگر لوگ خود کو ٹھیک کرنے شفاء لینے کےلیے ان کے پاس اتے ہیں،اس اعتراض کا عقلی تحقیقی جواب اور👈👈یہ دفاع کسی ذات کا نہیں بلکہ پوری سنیت پر اعتراض کا جواب ہے جو اسلام کی سچی ترجمان جماعت ہے اور کبھی دعائیں مرادیں پوری کیوں نہیں ہوتیں، مسلمان اور مشرک کی مدد طلب کرنے کا فرق۔۔؟؟پڑھیے اس تحریر میں*

۔

📣تفسیر، حدیث، عقائد، فقہ، تصوف، سیاست، اصلاح اور اہلسنت پر اعتراض کے جوابات و دفاع پر علمی تحقیقی تحریرات کے لیے اس فیسبک پیج کو فالوو کیجیے،پیج میں سرچ کیجیے،ان.شاءاللہ بہت مواد ملےگا۔اور بلاگ پےبھی کافی مواد اپلوڈ کردیا ہے،لنک یہ ہے:

https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1

https://www.facebook.com/share/1DbgDVUc58/

👈ہوسکے تو میرے واٹسپ چینل کو بھی ضرور فالوو کریں۔۔لنک یہ ہے

https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jkhv3bbV8xUTNZI1E

 👈اور واٹسپ چینل پہ فیس بک پیج پہ بلاگ پیج پہ وقتا فوقتا ضرور ایا کریں،  جزاکم اللہ خیرا

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟥 *#سوال*

علامہ صاحب اپ کو ایک اسکرین شاٹ بھیجا ہے جس کا مدلل جواب لکھیں کیونکہ یہ اعتراض فقط عطاریوں پر نہیں بلکہ پوری اہل سنت پر ہے

🫵اعتراض:

ایک صاحب نے دی گئ فوٹو اپلوڈ کی اور لکھا کہ:

یہ لوگ راشن کی لائن میں نہیں لگے۔ بلکے اس نمونے سے صحت یابی لینے آئے ہوئے ہیں جو خود ہڈیوں اور جگر کے سنگین مسائل کا شکار ہے۔

۔

✅ *#جواب و تحقیق۔۔۔۔۔!!*

👈👈ہم پہلے عقلی دلیل لکھیں گے پھر 8 دلائل قران و احادیث سے لکھیں گے اور ضمنا 14دلائل تبرک کے لکھیں گے اور پھر اخر میں 6 اہم ترین نوٹ لکھیں گے

۔

🟩 *#عقلی جواب و دلیل*

ایک صحیح سلامت انسان بڑی محنت کر کے ڈاکٹر بنتا ہے گیسٹرو کا ڈاکٹر بنتا ہے اور نیورو کا ماہر ڈاکٹر بنتا ہے اور ہڈی و جوڑ کا ماہر ڈاکٹر بنتا ہے۔۔۔ اتفاق سے اسے موروثی طور پر شوگر کا مرض شدید لاحق ہو جاتا ہے اور اس کی ٹانگ میں زخم ہو جاتا ہے جو لاکھ کوشش کے باوجود نہیں بھرتا تو ٹانگ کاٹنی پڑ گئی۔۔۔۔ اب وہ ڈاکٹر اپنے لیے اسپیشل کرسی بنواتا ہے اور اس کرسی پر اگے پیچھے ہو کر ، گھوم کر ہسپتال میں لوگوں کے مسائل حل کرتا ہے علاج کرتا ہے ہڈی جوڑ کے علاج کرتا ہے دماغ کے علاج کرتا ہے اور معدے گردے وغیرہ کے علاج کرتا ہے

😆اب کوئی شخص یہ سوچے کہ یہ ڈاکٹر تو اپنے گھٹنے کا، اپنی ٹانگ کا علاج نہ کر سکا اور نہ ہی کرا سکا لیکن عجیب بات ہے کہ یہ لوگوں کی ٹانگوں کا علاج کر رہا ہے ،ہڈی جوڑ کا علاج کر رہا ہے۔۔ یہ تو پاگل پن ہے ،یہ تو بے وقوفی ہے، اور جو لوگ علاج کرانے ا رہے ہیں وہ بھی سارے پاگل اور بے وقوف ہیں۔۔۔۔😆

😍جبکہ دوسری طرف تحقیقی نظر سے سوچا جائے تو 

1۔۔۔ڈاکٹر اپنا علاج نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اگر وہ سرجری کر کے ٹانگ نقلی لگوا لے گا تو انفیکشن زخم نہیں بھرے گا شوگر کی وجہ سے۔۔ لہذا وہ اپنا علاج تو نہیں کر سکتا یا نہیں کرنا چاہ رہا لیکن دوسروں کا علاج تو بالکل کر سکتا ہے کہ ہر ایک کو شوگر ہو ضروری تو نہیں لیھذا وہ دوسروں کی سرجری کر کے ان کی نقلی ٹانگ لگواتا ہے اور ان کی ہڈی جوڑ کا علاج کرتا ہے

2۔۔۔یا پھر اس کا علاج تو ہو سکتا ہے لیکن وہ نقلی ٹانگ کے ساتھ کمفرٹ نہیں ہے وہ کرسی پر زیادہ اپنے اپ کو کمفرٹ محسوس کرتا ہے تو وہ اپنی من مرضی سے علاج نہیں کرا رہا لیکن لوگوں کا علاج کر رہا ہے کیونکہ لوگ ٹانگ کٹنے وغیرہ کی سرجری کرا کر کمفرٹ محسوس کر رہے ہیں تو ان کے لیے صحیح ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کے لیے مناسب نہیں کیونکہ وہ کمفرٹ محسوس نہیں کرتے

۔

3۔۔۔ یا ڈاکٹر اپنی مرضی سے ٹانگ کا علاج نہیں کر رہا کیونکہ اس کو بہتر یہی لگتا ہے کہ وہ عاجزی میں رہ کر کمزوری میں رہ کر تکبر سے بچے، اللہ تعالی کی رضامندی سمجھ کر خوش رہے۔۔۔۔ لیکن سب کا اتنا بڑا دل جگرا صبر ہوتا نہیں تو اس لیے دوسروں کا علاج کر دیتا ہے

۔

🧠اب اپ سوچیں کہ جو شخص یہ سوچ رہا تھا کہ یہ ڈاکٹر اپنا علاج نہیں کر سکا لیکن پاگل ہے کہ دوسروں کا علاج کر رہا ہے اور علاج کرانے والے پاگل ہیں کہ اس کے پاس علاج کے لیے ا رہے ہیں 👈👈تو اپ ایسے شخص کو یعنی ایسے اعتراض کرنے والے شخص کو کیا کہیں گے۔۔۔۔۔؟؟ پاگل۔۔۔؟؟ جاہل۔۔۔۔؟؟ کم علم۔۔۔۔؟؟ حاسد۔۔۔۔؟؟

🚨اور اگر اس شخص کو پوری بات سمجھائی جائے لیکن پھر بھی یہ لوگوں کو ورغلانا شروع کر دے تو پھر ایسے شخص کی حکومت و عوام دھلائی کرے یا نہیں۔۔۔؟؟

۔

✅🧠 *#اس مثال سے شہزادہ عطار کے معاملے کا جواب سمجھیے*

1۔۔۔کیا پتہ شہزادہ عطار خود اپنا علاج نہ کرا رہے ہوں کیونکہ وہ اپنے اپ کو اس حالت پر کمفرٹ محسوس کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس بیمار کی وجہ سے دوسرے بیماروں کو شفا نہیں مل سکتی۔۔۔۔؟؟

۔

2۔۔۔ کیا پتہ اللہ کے قدرتی نظام کے تحت ان کا اتنا بیمار ہونا ہی اچھا ہے کہ ان کے مسئلے مرض کو زیادہ چھیڑا گیا تو بیماری بڑھ سکتی ہے، اس لیے وہ اپنا علاج نہیں کرا رہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ یہ دوسروں کا علاج نہیں کر سکتا اور دوسرے سے شفا نہیں لے سکتے۔۔۔۔؟؟

۔

3۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی مرضی سے علاج نہ کرا رہے ہوں اور اپنی مرضی سے خود کو نفع نہ پہنچا رہی ہوں کیونکہ وہ صبر کر رہے ہوں، بہت بڑا صبر کر رہے ہوں، لیکن سب لوگ اتنا بڑا صبر کریں ضروری نہیں ہے تو اس لیے ان کو فائدہ دینے کے لیے دعا کر سکتے ہیں، شفا اللہ کی عطا سے دے سکتے ہیں

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟩 *#تحقیقی جواب اور یہ صرف شہزادہ عطار پر اعتراض نہیں بلکہ اسلام پر اعتراض ہے۔۔۔کیسے۔۔۔؟؟*

1۔۔۔ اللہ تعالی کے فرمودات اور انبیاء کرام علیہم السلام ارشادات سے واضح ہے کہ کوئی بندہ بے شک خود کو نفع نہ پہنچا سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو بھی نفع نہ پہنچائے بلکہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے اور دوسرے اس سے نفع حاصل حاصل کرنے مدد طلب کرنے کی ان کو اجازت ہے تو کیا نعوذ باللہ اللہ تعالی نے اور انبیاء کرام نے پاگل پن کا حکم دیا بے۔۔۔۔۔؟؟ وقوفی کا حکم دیا۔۔۔؟؟

۔

2۔۔۔علماء کرام اولیاء کرام اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں جسے وہ سلجھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں لیکن ابھی تک سلجھ نہیں رہے ہوتے لیکن لوگ اپنے مسائل امراض سلجھانے کے لیے لوگ ان کے پاس اتے ہیں اور یہ دم تعویز دعا وغیرہ دیتے ہیں۔۔۔۔اب کیا یہ پاگل پن ہے۔۔؟؟ شریعت نے پاگل پن بے وقوفی کا حکم دیا کیا۔۔۔۔؟؟

۔

3۔۔۔مجذوب اولیاء کرام بظاہر اپنے امراض عقل وغیرہ کو بظاہر ٹھیک نہیں کر رہے ہوتے لیکن لوگ ان سے عقلمندی شفایابی کامیابی وغیرہ کے لیے برکت لیتے ہیں دعا لیتے ہیں تو کیا یہ پاگل پن ہے۔۔۔؟؟ بے وقوفی ہے جہالت ہے۔۔۔؟؟

۔

دلیل1️⃣

القرآن

قُلۡ لَّاۤ  اَمۡلِکُ  لِنَفۡسِیۡ  نَفۡعًا وَّ لَا  ضَرًّا  اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ

 اے محبوب فرما دیجئے کہ میں تو اپنے لئے نفع نقصان کا مالک نہیں(تو تمھیں کیسے نفع نقصان پہنچا سکتا ہوں) مگر یہ کہ نفع و نقصان وہ تمہیں دے سکتا ہوں جو اللہ چاہے

(سورہ الاعراف آیت188)

✅ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ

1۔۔۔بظاہر کوئی شخص اپنے لیے نفع نقصان کا مالک نہ ہو ، اپنے اپ کو نفع نقصان نہ دے سکتا ہو، نفع نقصان نہ پہنچا سکتا ہو لیکن وہ دوسروں کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے اللہ کی مدد سے، اللہ کی عطا سے، دعا کرکے معجزہ کرکے، کرامت کرکے، کسی بھی جائز طریقے سے۔۔۔تو یہ پاگل پن جہالت نہیں بلکہ حق و حقیقت ہے،اللہ کریم کے بنائے ہوئے نظاموں میں سے ایک نظام ہے

۔

2۔۔۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کے پیارے محبوب بندے معجزہ کرامت کے ذریعے مدد کرتے ہیں، عطائی طاقت سے مدد فرماتے ہیں، تو ان سے مدد طلب کرنا بھی جائز ہے چاہے وہ بظاہر مافوق الاسباب ہو یا ماتحت الاسباب

۔

دلیل2️⃣

القرآن:

قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمۡ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرۡشِہَا

سلیمان علیہ السلام نے فرمایا، اے درباریو تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے

سورہ نمل ایت38

۔

قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ  عِلۡمٌ  مِّنَ  الۡکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ  اَنۡ یَّرۡتَدَّ اِلَیۡکَ طَرۡفُکَ فَلَمَّا رَاٰہُ  مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَہٗ  قَالَ ہٰذَا مِنۡ 

فَضۡلِ رَبِّیۡ

جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اس تخت کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا، سو جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے

سورہ نمل ایت40

۔

✅ *#ثابت ہوا کہ*

1۔۔۔۔وہ غیر اللہ کہ جو اللہ کے محبوب ہوں پیارے بندے ہوں چاہے وہ انبیاء ہوں یا اولیاء ہوں ان سے ماتحت الاسباب اور مافوق الاسباب مدد طلب کی جا سکتی ہے کہ وہ معجزہ دکھا کر یا کرامت دکھا کر اللہ کے فضل سے مدد کر دیں گے،کیونکہ اس ایت میں صرف اللہ کے کسی نبی سے مدد طلب نہیں کی گئی بلکہ مطلقا سب درباریوں سے کہا گیا کہ کون مدد کرے گا۔۔اور اللہ کے ایک ولی نے کرامت دکھاتے ہوئے اللہ کے فضل و کرم سے، اللہ کی عطا سے کرامت دکھاتے ہوئے تخت کو لا کر پیش کیا

۔

2۔۔۔۔ اس ایت مبارکہ میں اللہ کے ایک نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام خود مدد نہیں کر رہے، اب سوچنے والا سوچے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام بظاہر خود تخت نہیں لا سکتے تو دوسروں کو جو ان سے کم تر ہیں وہ کیسے لا سکتے ہیں۔۔۔؟؟ لہذا کوئی بکواس کرے کہ دوسروں کمتر کو کہنا کہ تم لے اؤ بے وقوفی ہے، پاگل پن ہے۔۔۔؟؟

👈👈نہیں جناب بظاہر کوئی شخص اپنے نفع کے لیے کچھ کام نہیں کر سکتا ہوتا یا خود کو نفع دو دے سکتا ہے لیکن نہیں دیتا لیکن وہ دوسروں کے کام ا سکتا ہے اور دوسروں کو نفع پہنچا سکتا ہے اللہ کی مدد سے ، کرامت سے،  دعا سے،  عطائی طاقت سے۔۔۔۔ اس ایت مبارکہ میں کرامت کا ثبوت ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ ولی جو تخت لایا تھا وہ کوئی باضابطہ طور پر ایسی کرامات دکھانے کے لیے معین نہیں تھا بلکہ بظاہر تو وہ ایسے کام کر بھی نہیں سکتا تھا، بظاہر وہ ایسے نفع کسی کو نہیں پہنچا سکتا تھا، لیکن اللہ کی کرم سے کرامت دکھا کر، اللہ سے دعا کر کے، اللہ کی عطا کردہ طاقت سے دوسروں کو نفع پہنچا سکتا ہے اگرچہ بظاہر اپنے اپ کو نفع پہنچائے یا نہ پہنچائے

✅لیھذا علماء کرام اولیاء عظام بظاہر اپنے اپ کو نفع نہ پہنچا سکتے ہوں یا اپنے اپ کو نفع نہ پہنچاتے ہوں لیکن وہ اللہ کی عطا کردہ طاقت سے اور اللہ کی مدد سے اور اللہ کی مدد سے کرامت دکھا کر کسی بھی شرعی طریقے سے دوسروں کے نفع میں کام ا سکتا ہے اگرچہ بظاہر خود کو نفع نہ پہنچا سکتا ہو یا خود کو نفع نہ پہنچاتا ہو۔۔۔تو یہ پاگل پن و جہالت نہیں بلکہ حق و حقیقت ہے،اللہ کریم کے بنائے ہوئے نظاموں میں سے ایک نظام ہے

۔

۔

دلیل3️⃣

یہ دلیل ضمنا فقط ڈائریکٹ غیراللہ سے مدد طلب کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں، کیونکہ باقی دلائل سے بھی ڈائریکٹ اللہ کے محبوب غیر اللہ سے مدد طلب کرنا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے مگر اس ایت میں تو انتہائی واضح الفاظ میں ثابت ہوتا ہے اس لیے دلیل بھی پڑھتے جائیے سمجھتے جائیے

القرآن

وَ  اَوۡحَیۡنَاۤ  اِلٰی مُوۡسٰۤی  اِذِ  اسۡتَسۡقٰىہُ قَوۡمُہٗۤ  اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ۚ فَانۡۢبَجَسَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ  کَانُوۡۤا  اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ

جب موسی کی قوم نے ان سے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ہر گروہ نے اپنے پانی پینے کی جگہ جان لی، اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کردیا اور ہم نے ان پر من وسلوی نازل کیا، ان پاک چیزوں کو کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں، اور انہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

(سورہ اعراف ایت160)

۔

✅ *#ثابت ہوا کہ*

بنی اسرائیل نے غیراللہ یعنی وہ غیراللہ جو اللہ کو پیارا ہے ان سے ما تحت الاسباب اور مافوق الاسباب کی مدد طلب کی حالت ایمان میں۔۔۔۔ اور اللہ نے انہیں مشرک قرار نہیں دیا بلکہ ان پر مزید نعمتیں نازل کی پھر بعد میں وہ نافرمانی اور کفر پر اتر ائے۔۔۔پوری قوم حالت ایمان میں ہے اور حالت ایمان میں ہو کر سیدنا موسی علیہ السلام سے پانی مانگ رہی ہے،ساری قوم کے لیے پانی مہیا کرنا اسباب سے باہر ہے یعنی ما فوق الاسباب ہے اور یہ ما فوق الاسباب مدد

 بنی اسرائیل کے مومنوں نے طلب کی اور اللہ نے ان پر مزید انعامات کی بارش کی اگر شرک ہوتا تو اللہ تعالی انعامات کی بارش نہ فرماتا

۔

📌مومنوں نے یہاں ڈائریکٹ  سیدنا موسی علیہ السلام  سے مافوق الاسباب پانی طلب کیا،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے پیاروں سے ما فوق الاسباب کی بھی مدد طلب کی جا سکتی ہے اس نظریے کے تحت کہ وہ اللہ کی عطا اور مدد سے معجزہ یا کرامت دعا سفارش وغیرہ کے ذریعے سے مدد کریں گے جو حقیقت میں اللہ ہی کی مدد ہمیں ہوگی

۔

اس بات کی دلیل خود قران مجید کی ایت ہے کہ ایت میں ہے کہ اس مدد طلب کرنے کے بعد اللہ تعالی نے انہیں نعمتوں سے نوازا تو بھلا سوچیے شرک کرنے پر نعمتیں ملتی ہیں کیا۔۔۔؟؟ یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے بھی وہی لکھا جو ہم نے عرض کیا


فأخبرهم الله جل ثناؤه أنه يبدلهم بالعز ذلا وبالنعمة بؤسا، وبالرضا عنهم غضبا، جزاء منه لهم على كفرهم بآياته

اللہ تبارک و تعالی نے بنی اسرائیل کو خبر دے دی کہ تم عزت والے تھے ، سوال کرتے گئے میں تمہیں نعمتیں دیتا گیا لیکن تم نے اس کے بعد میری ایات کا انکار کیا کفر کیا تو اب عزت کے بدلے ذلت اور نعمتوں کے بدلے سختیاں اور میری رضامندی کے بدلے میرا غضب تمہارے لیے سزا ہے

تفسیر طبری2/137


۔

فَبَيَّنَ أَنَّهُ إِنَّمَا ضَرَبَ الذِّلَّةَ وَالْمَسْكَنَةَ عَلَيْهِمْ وَجَعَلَهُمْ مَحَلَّ الْغَضَبِ وَالْعِقَابِ مِنْ حَيْثُ كَانُوا يَكْفُرُونَ لَا لِأَنَّهُمْ

سَأَلُوا ذَلِكَ

بنی اسرائیل پر جو ذلت اور دربدری اور غضب اور عذاب نازل ہوا وہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے کفر کیا اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے مدد طلب کی تھی نعمتوں کا سوال کیا تھا

تفسیر کبیر رازی3/532

۔

دلیل4️⃣

الحدیث:

هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ظاہری کمزوروں کے وسیلے سے

بخاری حدیث2896

۔

الحدیث:

 فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ظاہری کمزوروں کے وسیلے ہی سے تو تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور مدد کی جاتی ہے

نسائی حدیث3179

۔

✅🧠احادیث مبارکہ میں بالکل واضح ہے کہ کوئی شخص بظاہر کمزور ہوتا ہے تو ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ وہ اپنی کمزوری ختم نہیں کر سکتا تو ہمارے کام کیا ائے گا۔۔۔۔۔؟؟ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بظاہر کمزوروں کو کمزور مت سمجھو، ان کمزوروں سے دعا کراؤ اور ان کا وسیلہ دو اور ان سے تبرک حاصل کرو تو ان طریقوں سے تمہیں اکثر طور پر رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری اکثر مدد کی جاتی ہے

۔

دلیل5️⃣

الحدیث:

اطْلُبُوا الْخَيْرَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ۔۔۔قَالَ السُّيُوطِيّ وَهَذَا الحَدِيث فِي نقدي حسن صَحِيح

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر قسم کی بھلائی خوش رویوں نیک صالحین سے مانگو۔۔۔اس حدیث کو امام سیوطی نے حسن صحیح معتبر قرار دیا ہے

تنزیہ الشریعۃ2/133

مجدد دین و ملت امام اہل سنت امام احمد رضا نے اس حدیث پاک کی کم و بیش 30 سندیں لکھیں دیکھیے فتاوی رضویہ شریف

✅رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت مطہرہ نے مطلقا حکم دیا ہے کہ نیک اور صالحین سے مدد طلب کرو اور یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ صالحین وہ ہوتے ہیں جو اپنی مدد بھی کرتے ہیں۔۔۔؟؟ بلکہ نیک صالحین کبھی اپنی مدد کرتے ہیں ،کبھی اپنی مدد نہیں کرتے۔۔۔۔ لیکن ہمیں حکم ہے کہ ہم ان سے مدد طلب کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کرامت کے ذریعے سے ، اللہ کی مدد سے مدد کر سکتے ہیں، لہذا علماء اولیاء بظاہر خستہ حال بیمار وغیرہ ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی ان سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے اور ان سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ خستہ حالی و بیماری کو خود ہی ٹھیک نہ کرانا چاہ رہے ہوں، یا ہو سکتا ہے اللہ تعالی نے ان کو اس کی اجازت نہ دی ہو لیکن اللہ تعالی نے ان کو دوسروں کو نفع پہنچانے کی اجازت دی ہو لہذا وہ مدد فرما سکتے ہیں

۔

دلیل6️⃣

الحدیث:

شَكَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، قَالَ : فَدَعَا بِعُسٍّ ، فَصُبَّ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَقَالَ : " اسْقُوا ". فَاسْتَقَى النَّاسُ، قَالَ : فَكُنْتُ أَرَى الْعُيُونَ تَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صحابہ کرام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا و فریاد کی کہ یا رسول اللہ پیاس بہت ہے اور پانی نہیں ہے کرم فرمائیے مدد فرمائیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک برتن منگوایا اور اس میں تھوڑا پانی ڈالا اور اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھ دیا اور فرمایا پانی پیو تو سب لوگوں نے پانی پیا اور صحابی فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی انگلیوں مبارک سے چشمے بہہ رہے تھے

مسند احمد14697

۔

✅ *#ثابت ہوا کہ*

1۔۔۔۔اللہ کے پیاروں سے ما فوق الاسباب معاملے میں بھی مدد طلب کر سکتے ہیں فریاد کر سکتے ہیں اور وہ معجزے کے ذریعے سے کرامت کے ذریعے سے ، اللہ سے دعا و سفارش کرکے کسی بھی طریقے سے ہماری مدد فرمائیں گے

۔

2۔۔۔۔ایسے مواقع اور دیگر مواقع پے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا بظاہر اپنے لیے نفع حاصل نہ کیا، بظاہر فورا خود کی مدد نہ کی تو صحابہ کرام نے یہ نہیں سوچا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے لیے نفع حاصل نہیں کر رہے اور اپنی مدد بھی نہیں کر رہے تو ہماری مدد کیسے کریں گے، نعوذ باللہ۔۔۔۔۔؟؟

 لیکن صحابہ کرام کا عقیدہ تھا جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک بدعت وغیرہ قرار نہ دیا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو اپنی بھی مدد فرما سکتے ہیں اور چاہیں تو ہماری بھی مدد فرما سکتے ہیں معجزہ  کے ذریعے سے، اللہ تعالی کی عطائی طاقت کے ذریعے سے۔۔۔۔ لہذا بظاہر کوئی ولی اپنے اپ کو نفع نہ پہنچا سکتا ہو یا اپنے اپ کو نفع نہ پہنچاتا ہو تو بھی اس سے نفع حاصل کرنے کے لیے مدد طلب کر سکتے ہیں، تبرک حاصل کر سکتے ہیں اور ہمیں مدد مل سکتی ہے یہ شریعت ہے جہالت نہیں،

۔

⚠️نوٹ: یہاں ہم نے بظاہر لفظ لکھا ہے جس کا مطلب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بظاہر اپنی مدد نہ فرمائیں تو ان کی مرضی ہے لیکن اللہ تعالی نے ان کو اپنی مدد کرنے کے لیے اور دوسروں کی مدد کرنے کے لیے بےشمار  عطا فرمایا ہے تو یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کمزور ثابت کرنا نہیں ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے معجزہ طلب کرنے سے پہلے ہی اللہ کی عطا سے بھوک پیاس سے پاک ہوں لیکن اللہ تعالی کے حکم کے تحت اور اللہ تعالی کی حکمت کے تحت وہ بظاہر بھوک پیاس کا اظہار فرمائیں تو یہ ہوسکتا ہے۔۔۔ اس میں حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ لوگ واضح طور پر اللہ اور اللہ کے محبوب بندوں کا فرق سمجھیں کہ اللہ بظاہر بھی کمزور نہیں ہے جبکہ اللہ کے محبوب بندے بظاہر کمزور ہو سکتے ہیں، کبھی بظاہر کمزور ہوتے بھی ہیں جیسے بعض مجذوب، بعض اولیاء، بعض علماء

۔

دلیل7️⃣

الحدیث:

رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره

کچھ ایسے بکھرے بالوں والے گرد و غبار لگے ہوئے بھی ہوتے ہیں جنہیں دروازوں سے دھتکارا جاتا ہے مگر اللہ کی قسم اٹھا کر اگر وہ کچھ کہہ دیں تو اللہ انکی وہ بات ضرور پوری فرماتا ہے 

(مسلم حديث6682)

✅کتنی واضح حدیث پاک ہے کہ کوئی اللہ کا محبوب ہوتا ہے اور بظاہر اپنے لیے کوئی نفع حاصل نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے دروں پر بھٹکتا پھرتا ہے اور لوگ اس سے مدد طلب کریں اور اس سے دعا کروائیں اور اس سے تبرک حاصل کریں تو اللہ تعالی ایسے ولی کی دعا قبول فرما لیتا ہے اور مدد فرما دیتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ولی اللہ کبھی خود بیمار محتاج خستہ حالی میں ہوتا ہے لیکن دوسروں کو نفع خوب پہنچا سکتا ہے لہذا ہمیں اولیاء کرام علمائ کرام کے ظاہری امراض و احوال خستہ خالی وغیرہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے، وہ جیسے بھی ہوں ان سے مدد طلب کرنی چاہیے، ان کا وسیلہ کرنا چاہیے، ان سے دعا کرانی چاہیے اور ان سے تبرک حاصل کرنا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالی اس ذریعے سے ہم پر کرم فرما سکتا ہے

وہ جو علماء کرام اولیاء عظام مدد کرتے ہیں مگر خود بظاہر محتاج خست حالی بیماری میں ہوتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ خود اس سے نہ نکلنا چاہتے ہوں یا پھر اللہ نے اس معاملے میں ان پر حکم فرما دیا ہو کہ یہ ازمائش اپ سے ختم نہیں ہوگی لیکن تم دوسروں کے کام ا سکتے ہو

۔

دلیل8️⃣

یہ دلیل 14دلائل کا خلاصہ ہے کہ تبرک حاصل کرنا، ہاتھ تبرک کے لیے چومنا، تبرک کے دیگر جائز طریقے برحق ہیں،ان سے فائدہ شفاء نفع حاصل ہوسکتا ہے


۔

🟤دلیل1۔۔۔القرآن:

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحۡمَۃٌ

اور ہم قرآن کی(سورتیں ایات) نازل کرتے ہیں جو شفاء ہیں، رحمت ہیں

(سورہ بنی اسرائیل آیت82)

.

وأما كونه شفاء من الأمراض الجسمانية، فلأن التبرك بقراءته يدفع كثيرا من الأمراض

قرآن پاک(بے شک کفر شرک گمراہی جہالت وغیرہ باطنی امراض سے شفاء ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ)جسمانی امراض سے اس طرح شفاء دیتا ہے کہ قرآن پڑھ کر تبرک حاصل کرکے بہت سارے جسمانی امراض کو دفع کیا جاتا ہے

(تفسير الخازن لباب التأويل في معاني التنزيل ,3/144)

.


وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ في معنى كونه شفاء على القولين الْأَوَّلُ: أَنَّهُ شِفَاءٌ لِلْقُلُوبِ بِزَوَالِ الْجَهْلِ عَنْهَا وَذَهَابِ الرَّيْبِ وَكَشْفِ الْغِطَاءِ عَنِ الْأُمُورِ الدَّالَّةِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ. الْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّهُ شِفَاءٌ مِنَ الْأَمْرَاضِ الظَّاهِرَةِ بِالرُّقَى وَالتَّعَوُّذِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَلَا مَانِعَ مِنْ حَمْلِ الشِّفَاءِ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ

قرآن پاک شفاء ہے مگر کس چیز سے شفاء ہے؟ اہل علم کا اختلاف ہے…بعض فرماتے ہیں کہ باطنی ذہنی دلی امراض سے شفاء ہے اس طرح کہ قرآن جہالت سے شفاء دیتا ہے، قرآن شکوک شبہات ختم کرکے شفاء دیتا ہے، قرآن اللہ کے وجود و توحید کے دلائل سے پردہ ہٹا کر شفاء دیتا ہے...بعض علماء فرماتے ہیں کہ قرآن جسمانی امراض سے شفاء ہے کہ قرآن سے تعویذ دم جھاڑ پھونک وغیرہ کرکے جسمانی امراض سے شفاء حاص کی جاتی ہے(غیر مقلدوں نجدیوں کا امام شوکانی کہتا ہے کہ)دونوں ہی معنی مراد لینے میں کوئی روکاوٹ نہیں 

(غیر مقلدوں نجدیوں کا معتبر عالم شوکانی کی تفسیر فتح القدير ,3/300)

.

🟤دلیل2۔۔۔۔الحدیث ملخصا:

بےشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات میں جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنے ہاتھ جمع کرکے ان میں پھونکتے جن میں"قل ھو ﷲ احد"اور"قل اعوذ برب الفلق"اور"اعوذ برب الناس"پڑھتے پھر جسم کے جس حصہ تک ہوسکتا وہ ہاتھ پھیرتے اپنے سر مبارک اور چہرے پاک کے سامنے والے حصے سے شروع فرماتے یہ تین بار کرتے تھے

(بخاری حدیث5012 ترمذی حدیث3402)

غور کیجیے تبرک کے لیے جسم پر ہاتھ پھیرنا برحق ہے

۔ 

🟤دلیل3۔۔۔۔كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الغداة، جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء، فما يؤتى بإناء إلا غمس  يده فيها

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تو مدینے کے(مختلف گھر و مقامات سے) خادم اپنے برتنوں میں پانی لے کر آتے،جو برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنا ہاتھ(تبرک و شفاء کے لیے)اس میں ڈبو دیتے

(مسلم حدیث6042 بَابُ قُرْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ ، وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ وَتوَاضُعِهِ لَهُمْ......باب:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے قریب ہونا اور لوگوں(صحابہ)کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تبرک حاصل کرنا اور آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی عاجزی و تواضع)

.

🟤دلیل4۔۔۔۔۔نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کے جبہ مبارک سے تبرک حاصل کرنا، اس کے وسیلے سے شفاء حاصل کرنا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم سے ثابت ہے...سیدہ بی بی اسماء  سیدِ عالم کے جبہ مبارک کے بارے میں  فرماتی ہیں

فنحن نغسلها للمرضى يستشفى بها

ہم اس جبے مبارک کا دھون مریضوں کے لیے بناتے ہیں تاکہ اس سے (یعنی دھون کو پی کر یا جسم پر لگا کر) شفاء حاصل کی جائے.. (مسلم تحت حدیث2069)

۔ 

🟤دلیل5۔۔۔۔۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک سے تبرک حاصل کیا صحابہ کرام نے دیکھیے مسلم حدیث 1305 وغیرہ

۔ 

🟤دلیل6۔۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ نماز ادا فرمائی اس جگہ کو بابرکت سمجھ کر تبرک حاصل کیا صحابہ کرام نے.... دیکھیے بخاری حدیث 1186 وغیرہ

۔ 

🟤دلیل7۔۔۔۔ حجر اسود کو تبرک کے طور پر چومنا صحابہ کرام سے ثابت ہے.... دیکھیے بخاری حدیث1611 وغیرہ

۔ 

🟤دلیل8۔۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبرک کے لیے اپنی قمیض مبارک عطا فرمائی۔ ۔ ۔ اور صحابہ کرام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض مبارک تبرک کے طور پر شفایابی کے لیے استعمال کی۔ ۔۔۔۔ دیکھیے بخاری نسائی و مسلم2069 وغیرہ

۔ 

🟤دلیل9۔۔۔۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسواک مبارک سے تبرک لیا گیا.... دیکھیے ابو داؤد حدیث52وغیرہ

۔ 

🟤دلیل10۔۔۔11۔۔۔12۔۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ممبر مبارک سے اور اپ کی انگوٹھی مبارک سے اور اپ کی چادر مبارک سے تبرک لیتے رہے صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ ۔۔ دیکھیے تاریخ الخلفاء للسیوطی ص20وغیرہ

۔ 

🟤دلیل13۔۔۔۔۔۔ بعض صحابہ کرام نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارک سے تبرک حاصل کیا۔۔۔ دیکھیے بخاری حدیث6281 وغیرہ

۔ 

🟤دلیل14۔۔۔۔۔ بعض صحابہ کرام نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن مبارک کو بطور تبرک قبر میں ان کے سینے پر انکھوں پر رکھنے کے لیے کہا.... دیکھیےأسد الغابة ,5/201 وغیرہ

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

اہم_نوٹ1️⃣

اللہ سے مدد مانگنے ، اللہ کے پیاروں سے مدد مانگنے کے باوجود مسجد مزارات گھر فصلوں کو بظاہر نقصان کیوں ہو رہا ہے۔۔؟؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔۔۔؟؟

جواب:

1۔۔۔۔اللہ کی مرضی ہے کہ مدد کرے یا نہ کرے اور اپنے پیاروں کو مدد کرنے سے روکے یا مدد کرنے کی اجازت دے اس کے ہر کام میں بےشمار حکمتیں و راز ہیں

الحدیث:

مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ

جو اللہ چاہے وہ ہوتا ہے، جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا

ابوداود حدیث5075

۔

2۔۔۔امتحان کے لیے کہ کون مومن رہتا ہے اور کون منکر کافر بن جاتا ہے

القران:

ونبلوكم بالشر والخير  فِتۡنَۃً ؕ وَ اِلَیۡنَا  تُرۡجَعُوۡنَ

تشریحی ترجمہ:

اور ہم تمھارا امتحان لیں گے خیر(خوشحالی وغیرہ پسندیدہ اچھی چیزوں)کے ذریعے اور شر(تکلیف آفات زلزے سیلاب نقصادن دہ بارشیں بیماریاں مصیبتیں خواہشات پوری نہ ہونا وغیرہ ناپسندیدہ چیزوں) کے ذریعے۔۔۔اور یاد رکھو تمھیں ہماری طرف( اللہ کی طرف) ہی آنا ہے(اور وہ اس دن تمھارا حساب لے گا کہ تم نے کفر و گستاخی کی یا صبر و عمل۔۔۔؟؟)

(سورہ انبیاء آیت35)

۔

خانہ کعبہ مساجد جو اللہ کے محبوب ترین مقامات میں سے ہیں ، دشمنوں نے انہیں نقصان بھی پہنچایا اور کئی مساجد سیلاب بارش وغیرہ کی زد میں ا کر شہید بھی ہو گئیں جو ہمیں یقینا پسند نہیں کہ ہماری تو خواہش یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی حفاظت فرماتا ، اسی طرح اللہ تعالی کے پیارے اولیاء کرام کے مزارات بھی سیلاب بارش وغیرہ کی زد میں ا کر شہید ہوئے جو کہ ہمیں پسند نہیں کہ ہماری تو خواہش ہے کہ اللہ تعالی ان کی حفاظت فرماتا اور اللہ تعالی ان اولیاء کرام کو اجازت عطا فرماتا، طاقت عطا فرما کر طاقت کا اظہار کرنے کی اجازت بھی عطا فرماتا کہ یہ اولیاء کرام مساجد کی حفاظت فرماتے اور اپنے مزارات کی حفاظت فرماتے 

مگر

یہ سب ہماری ازمائش کے لیے ہے ، ہمارے امتحان کے لیے ہے،کہ ہم منکر گستاخ بن جاتے ہیں یا پھر اللہ کی رضا و مشیت پر صبر کرنے والے بن جاتے ہیں۔۔۔؟؟

۔

3۔۔تاکہ ہمیں توجہ ملے کہ کچھ تو ہم زمین و فضا فیکڑیوں عیاشی فحاشی وغیرہ غلط کر رہے جس پے اللہ نقصان دہ بارش سیلاب زلزلوں کے ذریعے تنبیہ فرما رہا ہے کہ سوچو کیا غلط کر رہے ہو اور پھر اسکی درستگی کرو احتیاط اپناو

۔

4۔۔۔ہم گناہوں میں لت پت ہوتے ہیں، اللہ نقصان دہ بارش سیلاب زلزلوں سے توجہ دلاتا ہے کہ گناہوں سے رک جاو ورنہ دعائیں قبول نہ کرونگا

الحدیث:ترجمہ:

اسکا کھانا پینا کمانا پہننا سب کچھ حرام تو یا رب یا رب کہتا پھرے اسکی دعا کیسے قبول ہوگی۔۔۔؟؟

(مسلم،ترمذی حدیث2989)

۔

5۔۔۔اس سے بڑی عافت آسکتی تھی دعا وسیلے مدد طلب کرنے سے مدد ہوئی اور کم مصیبت ائی یا دیگر کئ مصیبتیں ٹل گئیں

الحدیث

كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ

کبھی دعا کے بدلے دیگر مصیبتوں کو اللہ ٹال دیتا ہے

(ترمذی حدیث3381)

.

اہم_نوٹ2️⃣

الحدیث:

أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : " هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ

ایک شخص نے رحمتِ عالم ﷺ کے حضور عرض کی :

یا رسول اللہ۔۔۔۔یہ جو دم(قرآن ، سنت ، حدیث وغیرہ ماثورہ وغیرہ دم درود دعائیں) ہیں، جن‌ کےساتھ ہم دم کرتے ہیں ، اور دوائیں ، جن کے ذریعے علاج کرتے ہیں ،‌ اور حفاظت و احتیاط و پرہیز کہ جن کے ذریعے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ؛ کیا یہ تقدیرِ الہی کو ٹال سکتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 یہ تو خود اللہ کی تقدیر سے ہیں ۔(یعنی دعا دوا پرہیز و احتیاط سب کو اپنانا چاہیے کہ نہ جانے کس وسیلے سے شفاء و راحت مل جائے)۔۔۔۔۔(ترمذی ،حدیث2148)

✅لیھذا دوا۔۔۔دعا۔۔۔احتیاط۔۔۔تبرک سب پر عمل کرنا چاہیے کہ نہ جانے کس ذریعے سے شفاء حاصل ہوجائے

.

اہم_نوٹ3️⃣

*#ہندو مدد کے لیے پکارے تو شرک اور مسلمان مدد کے لیے پکارے تو شرک نہیں۔۔کیوں۔۔۔؟؟ جواب پڑھیے غور سے درج ذیل پانچ پوائنٹس میں۔۔۔۔!!*

👈1۔۔۔ہندو بتوں کو خدا سمجھ کر پکارتے ہیں جبکہ مسلمان انبیاء کرام کو اور اولیاء عظام کو پکارتے ہیں لیکن خدا سمجھ کر نہیں

📗 *#دلیل*

سورہ المومنون ایت نمبر 117 میں اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو خدا و معبود سمجھ کر مت پکارو کہ اس غیراللہ کے خدا و معبود پر کوئی دلیل ہی قران و حدیث سے نہیں۔۔۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی غیر اللہ کو خدا و معبود سمجھ کر پکارنا کرنا شرک ہے لیکن

کسی غیر اللہ جو اللہ کو محبوب ہو اس کو خدا و معبود سمجھے بغیر اس طرح پکارنا جائز ہے کہ وہ اللہ کی عطا سے اجازت سے معجزہ کرامت دعا سفارش وغیرہ کے ذریعے مدد کریں گے، اور ان کی معجزہ کرامت دعا سفارش پر قران و حدیث سے جائز ہونے پر دلائل بھی ہیں

جبکہ بتوں کے متعلق قران و حدیث میں کوئی دلیل نہیں کہ وہ معجزہ کر سکتے ہیں کرامت دکھا سکتے ہیں سفارش کر سکتے ہیں دعا کر سکتے ہیں ایسا کچھ بھی بتوں کے متعلق قران و حدیث میں نہیں

۔

👈2۔۔۔ہندو اگر بت سورج وغیرہ باطل معبود کو وسیلہ سمجھیں کہ یہ بت سورج وغیرہ اللہ سے لے کر ہمیں دیں گے تو بھی باطل مردود کیونکہ اللہ تعالی نے معجزہ کرامت دعا جائز وسیلے کی اجازت دی ہے لیکن اللہ کی طرف سے کوئی ایسی اجازت نہیں کہ بت سوج وغیرہ کو وسیلہ بنایا جائے

📗 *#دلیل*

سورہ زمر ایت نمبر3 میں اللہ تعالی نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ بتوں کی عبادت اگر اس لیے کرو تاکہ وہ اللہ تک پہنچا دیں یعنی وسیلہ بنیں تو بھی یہ غلط باطل مردود ہے کیونکہ یہ جھوٹ ہے۔۔۔ اللہ نے لفظ "زلفی" یعنی بتوں کے وسیلے کی نفی "کذاب" کہہ کر فرمائی۔۔۔ یعنی بتوں کی عبادت کرنے والے پوجا کرنے والے  تم نے جھوٹا نظریہ بنا لیا ہے کہ بت اللہ تک پہنچاتے ہیں وسیلہ بنتے ہیں کیونکہ میں اللہ نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تو تم نے اپنی من مرضی سے یہ نظریہ بنا کر عبادت کرنا شروع کر دی لہذا یہ وسیلہ بنانا جھوٹا ہے 

جبکہ

سورہ ص ایت40 میں اللہ تعالی نے غیر اللہ یعنی اللہ کے پیارے محبوب بندوں میں سے ایک پیارے بندے کے لیے "زلفی" وسیلہ کو ثابت قرار دیا ہے۔۔۔اسی طرح دیگر جائز وسیلے کہ اللہ تعالی نے قران اور احادیث کے ذریعے سے ہمیں انکو وسیلہ بنانے کی اجازت عطا فرمائی

۔

👈3۔۔۔بت سورج وغیرہ باطل معبودوں کو اللہ تعالی نے قران اور احادیث میں متبرک قرار نہیں دیا کہ ان سے تبرک لیا جائے جبکہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام اور اولیاء کرام کے متعلقات کو متبرک قرار دیا ہے لہذا ان سے تبرک لینا جائز ہے

📗 *#دلیل*

سورہ یوسف ایت نمبر 93 میں واضح ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی قمیض کی برکت سے ان کے والد کی بینائی لوٹ ائی۔۔۔جبکہ بتوں کے متبرک ہونے کے لیے قران اور احادیث میں کوئی دلیل نہیں

۔

👈4۔۔ہندو نظریہ رکھتے ہیں کہ اللہ کی کوئی صفت ان بتوں میں اگئی ہے لہذا ان کے مختلف کاموں کے مختلف بت ہیں جن کے متعلق وہ نظریہ رکھتے ہیں کہ فلاں کام کی خدائی صفت طاقت اب فلاں بت میں اگئی ہے جو کہ انہوں نے اپنی اپ یہ نظریہ باطل نظریہ بنا لیا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ایسا کچھ نہیں فرمایا کہ میری فلاں خدائی صفت فلاں چیز میں اگئی ہے ایسا کچھ نہیں فرمایا،اور مسلمان بھی یہ نظریہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ انبیاء کرام میں یا اولیاء عظام میں فلاں خدائی صفت اگئی ہے نعوذ باللہ تعالی۔۔۔ ایسا کوئی نظریہ مسلمان نہیں رکھتے

📗 *#دلیل*

سورہ الروم ایت 35 میں اللہ تعالی نے یہ واضح ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ اللہ  کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو کیا اس پر میں نے کوئی سند و اجازت دی ہے کہ جو تم شریک ٹھہرا رہے ہو۔۔۔مطلب واضح ہے کہ مکمل طور پر اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے یا پھر اللہ کی کسی ایک خاص صفت میں کسی کو شریک کر دیا جائے اور کہا جائے کہ اللہ کی وہ خاص صفت اس مخلوق میں بھی اگئی ہے تو یہ بھی شرک ہے شریک ٹھہرانا ہے جس کی نفی اللہ تعالی نے یہ فرمائی کہ اس پر میں نے کوئی اجازت و سند تو نہیں دی لہذا اس طرح کا شرک بھی جھوٹ پر مبنی ہے

۔

👈5۔۔۔بالفرض ہندو نظریہ رکھیں کہ بت اللہ کی عطا سے عطا کرتا ہے تو بھی باطل مردود کیونکہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ میں فلاں بت کی وجہ سے عطا کرتا ہوں جبکہ اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے کہ انبیاء کرام اولیاء عظام میری عطا سے عطا کرتے ہیں اور میں اللہ عطا کرتا ہوں ان اللہ کے پیاروں کی سفارش و دعا سے

📗 *#دلیل*

جیسا کہ پوائنٹ نمبر دو میں واضح ہے کہ اللہ تعالی نے نفی کی ہے کہ بت وسیلہ نہیں بنتے یعنی اللہ بتوں کو عطا کرے اور بت اللہ کی عطا سے عطا کریں وسیلہ بنیں ایسا ہرگز اللہ تعالی نے نہیں فرمایا

 جبکہ

 اللہ کے پیارے بندوں کو اللہ تعالی نے جائز وسیلہ بنانے کی اجازت دی ہے اور قران و حدیث میں ایا ہے کہ اللہ کے پیارے بندے اللہ کی عطا سے عطا کرتے ہیں جیسا کہ اس تحریر میں نیچے تفصیل ارہی ہے

۔

👈6۔۔۔اور بھی بہت سارے فرق ہیں جنہیں مد نظر رکھنا ایمان و کفر شرک کے درمیان فرق مد نظر رکھنے کے مترادف ہے

اور

🚨علماء کرام ہمیشہ واضح کرتے رہتے ہیں، توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ لوگوں خوب ذہن نشین کر لو مذکورہ بالا تمام فرق کو۔۔۔اور اس قسم کے فرق ہمیشہ نظر میں رکھ کر ہی اللہ کے پیاروں سے مدد مانگو

📌یہی نظریہ رکھو کہ اللہ کے پیارے یعنی انبیاء کرام اولیاء عظام تو اللہ تعالی کی اجازت و عطاء سے معجزہ یا کرامت اور عطائی کرم نوازی کے ذریعے مدد فرمائیں گے، اللہ کی بارگاہ میں سفارش فرمائیں گے ، دعا فرمائیں گے تو ہمارا کام بن جائے گا ہماری مدد ہو جائے گی

۔

🚨📣لیکن بعض اہلسنت بریلوی علماء نے یہاں تک لکھا ہے کہ احتیاط کے پیش نظر عوام اللہ کے پیاروں سے مانگنے کے بجائے اللہ کے پیاروں کا 👈وسیلہ دیکر اللہ سے مانگیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام فرق بھولتی جائے اور اللہ کے پیاروں کو ہی اصلی دینے والا نہ سمجھ بیٹھے

دیکھیے عقائد و نظریات ص186

.

اہم_نوٹ4️⃣

الحدیث:

كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ

صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی ہم جاہلیت میں دم جھاڑ پھونک کرتے تھے اب انکا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا دم جھاڑ پھونک مجھے بتاؤ اگر اس میں کفر شرک کے الفاظ و اعتقاد نہ ہوں تو ایسے دم جھاڑ پھونک میں حرج نہیں

(مسلم حدیث5732 ابوداود حدیث3886)

 یہ حدیث پاک انتہائی جامع ہے کہ جس میں کسی ایک طریقے کو مخصوص نہیں کیا گیا بلکہ بہت سارے طریقے اس میں آجائیں گے.....

 کبھی صرف بسم اللہ شریف پڑھ کر پڑھوا کر

کبھی سورہ فاتحہ پڑھ کر  پڑھوا کر

 کبھی کوئی سورت پڑھ کر کبھی کوئی ایت پڑھ کر کبھی چار قل پڑھ کر کبھی کوئی ایک قل شریف پڑھ کر یا پڑھوا کر

 کبھی اللہ تعالی کے 99 ناموں میں سے کسی نام کا ورد کر کے ورد کروا کے

 کبھی دعائے ماثورہ پڑھ کر پڑھوا کر

 کبھی فقط دعا کر کے التجا کر کے

 کبھی کسی اور سے دعا کرا کے التجا کروا کے

 کبھی نفل پڑھ کر تو کبھی نفل پڑھوا کر

 کبھی درود شریف پڑھ کر تو کبھی پڑھوا کر

 کبھی پیسہ صدقہ کر کے

 کبھی بکرا بکری گائے وغیرہ صدقہ کر کے

 کبھی ختم شریف نکلوا کر

 کبھی فرض پڑھ کر کبھی سنت پڑھ کر  کبھی نفل پڑھ کر کبھی نماز حاجات پڑھ کر کبھی تہجد پڑھ کر کبھی اشراق و چاشت پڑھ کر کبھی اوابین پڑھ کر کبھی نماز توبہ پڑھ کر کبھی فقط اللہ کی محبت میں بس اللہ کی محبت میں نفل پڑھ کر

 کبھی استغفار کرکے استغفار پڑھ کے

 کبھی کسی کے ساتھ کوئی تعاون کر کے نفلی صدقہ دے کے

 کبھی جائز خوشی کسی کو دے کر اس کی دعائیں لے کے

 کبھی علماء باعمل و اولیاء کے ہاتھ پاؤں چوم کر تبرک کے ذریعے

تو کبھی علماء و اولیاء سے دعا کرا کے

کبھی دربار اولیاء پے جاکر دعا کرکے دعا کراکے

کبھی ڈاکٹر تو کبھی ادویات

الغرض

کسی بھی جائز حیلے وسیلے کو اپنا پر شفاء کی دعا کیجیے،دعا کرائیے، راحت شفاء مطلوب و مقصود و مٹھاس حاصل کیجیے، فیوض و برکات حاصل کیجیے

.

اہم_نوٹ5️⃣

مذکورہ بالا قسم کی احادیث مبارکہ و دیگر دلائل کو دلیل بناتے ہوئے علماء کرام نے لکھا

1....وَفِيهِ التَّبَرُّكُ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ وَبَيَانُ مَا كَانَتِ الصَّحَابَةُ عَلَيْهِ مِنَ التَّبَرُّكِ بِآثَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَبَرُّكِهِمْ بِإِدْخَالِ يَدِهِ الْكَرِيمَةِ فِي الْآنِيَةِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِشَعْرِهِ الْكَرِيمِ

امام نووی ایک حدیث پاک سے دلیل اخذ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک صالحین اولیاء کرام انبیاء کرام صحابہ کرام وغیرہ کے اثار تبرکات وغیرہ سے برکت حاصل کرنی چاہیے۔۔۔۔صحابہ کرام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اثار و تبرکات سے برکت حاصل کرتے تھے۔۔۔برکت کے لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ مبارک پانی میں ڈلواتے تھے اور برکت کے لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بال مبارک سے برکتیں حاصل کرتے تھے تبرک حاصل کرتے تھے

(شرح مسلم نووی15/82)

.

2......وفيه دليل على جواز أن يُطلب مثلُ ذلك وغيرُه ممَّا يُتبرك به من العلماء والصلحاء

ایک حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ علماء صالحین انبیاء کرام اولیاء عظام اہل بیت کرام وغیرہ سے وہ چیز لے لینی چاہیے جس سے تبرک حاصل کیا جا سکے

(مفاتیح شرح مصابیح6/142)

(شرح المصابیح ابن ملک6/233)

.

3.....وَهُوَ أَصْلٌ فِي التَّبَرُّكِ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ

امام زرقانی ایک حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے

(شرح الزرقانی علی الموطا2/72)

۔ 

4.....وَهُوَ الثَّوْب الَّذِي يَلِي الْجَسَد وَإِنَّمَا أَمر بذلك تبركا وَفِيه دلَالَة على أَن التَّبَرُّك بأثار أهل الصّلاح مَشْرُوع

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے جسم مبارک سے متصل ہونے والے کپڑے کو تبرک کے طور پر دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک لوگوں صالحین یعنی انبیاء کرام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے

(حاشیۃ السندی علی نسائی4/29)

۔ 

5.....قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَفِيهِ التَّبَرُّكُ بِفَضْلِهِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -، وَنَقْلُهُ إِلَى الْبِلَادِ، وَنَظِيرُهُ: مَاءُ زَمْزَمَ فَإِنَّهُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَانَ يَسْتَهْدِيهِ مِنْ أَمِيرِ مَكَّةَ لِيَتَبَرَّكَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَيُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ فَضْلَةَ وَارِثِيهِ مِنَ الْعُلَمَاءِ وَالصَّالِحِينَ كَذَلِكَ۔۔۔۔۔ قَالَ النَّوَوِيُّ: فِي الْحَدِيثِ التَّبَرُّكُ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ وَلُبْسِ مَلَابِسِهِمْ۔۔۔۔۔۔۔(العرق) وَفِيهِ اسْتِحْبَابُ التَّبَرُّكِ وَالتَّقَرُّبِ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ

امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ امام ابن حجر عسقلانی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے استعمال شدہ چیز سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے تبرک حاصل کرنا چاہیے اور اس تبرک کو دوسرے شہروں تک دوسرے لوگوں تک پہنچانا چاہیے اور اس کی مثال زمزم کا پانی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام یہ پانی تحفۃً دیا کرتے تھے تاکہ دوسرے لوگ اس سے تبرک حاصل کریں ان تمام باتوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں یعنی علماء کرام اور صالحین یعنی اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک حدیث کے تحت امام نووی نے بھی فرمایا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین کے اثار وتبرکات اور ملبوسات سے تبرک حاصل کرنا چاہیے

(مرقاۃ 2/603۔۔۔۔۔و 7/2800۔۔۔۔۔و9/3703)

۔ 

6.....الحَدِيث أصل فِي التَّبَرُّك باثار الصَّالِحين ولباسهم كَمَا يَفْعَله بعض مريدي المشائخ۔ ۔۔۔ وَفِيه التَّبَرُّك بآثار الصَّالِحين حَيا وَمَيتًا

ایک حدیث پاک کے تحت علامہ سیوطی وغیرہ فرماتے ہیں اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے، جیسے کہ بعض مشائخ کے مریدین تبرک حاصل کرتے ہیں یہ درست ہے ایک اور حدیث پاک کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے چاہے وہ وفات پا گئے ہوں یہ چاہے وہ زندہ ہوں یا چاہے تبرک حاصل کرنے والا زندہ ہو یا تبرک حاصل کرنے والا وفات شدہ ہو مثلا اپنی لاش پہ مبارک قمیض یا مبارک بال یا مبارک ناخن یا کچھ بھی تبرکات رکھنے کی وصیت کر جائے تو یہ تبرکات بالکل جائز اور برحق ہیں

(حاشیۃ السیوطی وغیرہ علی ابن ماجہ ص254،105)

.

7......لِيَصِلَ بَرَكَةُ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ وَالْحَدِيثُ فِيهِ ثُبُوتُ التَّبَرُّكِ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ۔ ۔۔۔۔ قَالَ الشَّوْكَانِيُّ فِيهِ مَشْرُوعِيَّةُ التَّبَرُّكِ بِشَعْرِ أَهْلِ الْفَضْلِ۔ ۔۔۔۔ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى اسْتِحْبَابِ التَّبَرُّكِ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ وَثِيَابِهِمْ

تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک کی برکت حاصل ہو جائے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔ اور امام شوکانی نے کہا ہے ایک حدیث کے تحت کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ فضیلت والے لوگوں یعنی انبیاء کرام اولیاء عظام علمائے کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک صالحین کے بالوں سے بھی تبرک حاصل کرنا جائز ہے ایک اور حدیث کے تحت فرماتے ہیں اس حدیث میں دلیل ہیں کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار و ملبوسات سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے

(عون المعبود و حاشیۃ ابن القیم1/52 و5/317 و 11/70)

۔ 

8.....فِيهِ مَشْرُوعِيَّةُ التَّبَرُّكِ بِمُلَامَسَةِ أَهْلِ الْفَضْلِ۔ ۔۔۔۔ وَهُوَ أَصْلٌ فِي التَّبَرُّكِ بِآثَارِ الصَّالِحِينَ۔۔۔۔۔۔ فِيهِ مَشْرُوعِيَّةُ التَّبَرُّكِ بِشَعْرِ أَهْلِ الْفَضْلِ وَنَحْوِهِ 

امام شوکانی ایک حدیث کے تحت لکھتا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل فضل یعنی فضیلت والے لوگوں نے جس چیز کو چھوا اس چیز سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے ایک اور حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین کے تبرکات اثار سے تبرک حاصل کرنا چاہیے ایک اور حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ اہل فضل یعنی فضیلت والے لوگوں انبیاء کرام علماء کرام اولیاء عظام صحابہ کرام اہل بیت کرام نیک متقی لوگوں علماء مشائخ فضیلت والے لوگوں اولیاء کرام وغیرہ کے بالوں سے اور اس مثل دوسری چیزوں سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے

(نیل الاطار شوکانی2/362۔۔۔۔4/40۔۔۔۔۔5/83)

۔ 

9.....فما يؤتى بإناء إلا غمس يده فيها) تبريكاً منه عليهم فينال بركته كل أحد وفيه التبرك بآثار الصالحين

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پانی لے کر ایا کرتے تھے صحابہ کرام تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس میں اپ ہاتھ مبارک ڈبویا کرتے تھے یہ صحابہ کرام کا تبرک حاصل کرنے کا طریقہ تھا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے

(تنویر شرح جامع صغیر8/420)

۔ 

10.....فيه التبرك بالفضلاء، ومشاهد الأنبياء وأهل الخير ومواطنهم، ومواضع صلاتهم

ایک حدیث پاک سے دلیل اخذ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فضیلت والے لوگوں انبیاء کرام اولیاء کرام علماء کرام صحابہ کرام اہل بیت کرام نیک متقی پرہیزگار لوگوں کے جسم سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے اور ان کی جگہوں سے بیٹھنے کی جگہوں سے ان کی نماز پڑھنے کی جگہوں سے مصلی وغیرہ سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے

(اکمال المعلم شرح مسلم2/631)

۔ 

11.....فأبدأ به فأستاك) تبركًا ومحبةً للنبي -صلى اللَّه عليه وسلم-، وفيه التبرك بآثار الصالحين۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وفي الحديث التبرك بفضله -صلى اللَّه عليه وسلم- ونقله إلى البلاد نظير ماء زمزم، ويؤخذ منه أن فضل وارثيه من العلماء والصلحاء كذلك۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ وهذا الحديث أصل في التبرك بآثار الصالحين ولباسهم 

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دہن مبارک سے تبرک لیا صحابہ کرام نے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے۔۔۔۔۔ ایک اور حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی استعمال شدہ چیزوں سے تبرک حاصل کرنا چاہیے اور اسے دوسرے شہروں تک بھی لے جانا چاہیے جیسے کہ زم زم کے پانی سے تبرک حاصل کیا جاتا ہے اور اسے دوسرے شہروں تک لے جایا جاتا ہے اور اس سے یہ بھی حاصل ہوا کہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یعنی علماء کرام نیک لوگ متقی لوگ صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ صالحین کے استعمال شدہ چیزوں سے بھی تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ تبرک حاصل کرنا چاہیے۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث پاک دلیل ہے کہ صالحین یعنی انبیاء کرام علماء عظام اولیاء کرام صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ نیک لوگوں علماء متقی پرہیزگار لوگوں کے اثار ملبوسات سے تبرکات سے برکتیں حاصل کرنی چاہیے تبرک حاصل کرنا چاہیے

(لمعات شاہ دھلوی2/111۔۔۔۔ 2/477۔۔۔۔۔ 4/107)

۔

اہم_نوٹ6️⃣

حدیث پاک میں ہے کہ جب نبی پاک وضو کرتے تو صحابہ کرام نبی پاک کے مبارک ہاتھوں سے لگے پانی کو حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر جلدی کرتے تھے تاکہ وہ اپنے جسموں اور چہروں پر لگائیں...اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا

 " لم تفعلون هذا؟ "، قالوا: نلتمس به البركة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من أحب أن يحبه الله ورسوله فليصدق الحديث، وليؤد الأمانة، ولا يؤذي جاره "

.ترجمہ:

رسول کریم نے فرمایا: تم ایسا کیوں کرتے ہو..؟ صحابہ کرام نے عرض کی "ہم اس سے تبرک، برکت حاصل کرتے ہیں، رسول کریم نے فرمایا:

جو یہ چاہتا ہو کہ وہ اللہ اور اسکے رسول کا محبوب ہو جائے تو اسے چاہیے کہ سچ بولے اور امانت ادا کرے(خیانت نا کرے) اور پڑوسیوں کو اذیت نا پہنچائے

(دیکھیے شعب الایمان حدیث9104، جامع الاحادیث 42738)

.


تبرک دوا دعا دم جھاڑ پھونک وغیرہ پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہیں فرمایا، شرک بدعت جہالت کا فتوی نہیں لگایا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا انداز اپنایا کہ تبرک دم جھاڑ پھونک بھی ہو،  دعا اور دوا بھی ہو اور نیک اعمال  بھی ہوں... تبرک دوا دعا دم  جھاڑ پھونک کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے، اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے...تبرکات دوا دعا دم جھاڑ پھونک پر مذمت ہرگز نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانی چاہیے...ہم پر اور علماء پر اور خطیبوں پر لازم ہے کہ تبرک دوا دعا دم کے بیان کے ساتھ ساتھ نیک اعمال عقائد و عبادات کی تاکید کریں، ایسا نہ ہو کہ عوام تبرکات دم دعا دوا میں گم ہوتی جائے اور نیک اعمال سے دور ہوتی جائے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ لوگ عمل کی طرف بلاتے ہیں اور تبرکات دم وغیرہ کی نفی کرتے ہیں جہالت قرار دیتے ہیں جو کہ ہرگز ہرگز ٹھیک نہیں.........!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.