🟧 *#سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصی رسولﷺ ثابت کرنے کے لیے حنیف قریشی نے15دلائل لکھے ہیں،ائیے تحقیق پڑھیے کہ وہ دلائل معتبر ہیں یا موضوع جھوٹے من گھڑت اور کیا ان دلائل سے👈خلافت صدیقی بلافصل پر ضرب تو نہیں لگتی۔؟؟ وصی رسولﷺکون۔؟؟ کب رد کرنا سیدنا علی کی فرمانبرداری ہے۔؟؟پڑھیےیہ مفصل مدلل تحریر*
۔
🟩جواب و تحقیق و تفصیل
1️⃣....ہم جو مسلسل رد لکھ رہے ہیں تو یہ دراصل سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور اہل بیت عظام کی نوکری ہی ہے کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے
کہ:
هلك في رجلان: محب غال ومبغض
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاکت میں ہیں ایک وہ جو مجھ سے حد سے زیادہ محبت کریں، ایک وہ جو مجھ سے بغض کریں
(المطالب العالية محققا16/134👈 شیعہ کتاب نہج البلاغۃ4/108)
✅لیھذا سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق غلو مبالغہ ارائی والی تعریف ہلاکت میں ڈال دیتی ہے تو اس ہلاکت سے بچانے کے لیے ہم مسلسل تحریر لکھ رہے ہیں کہ فلاں فلاں صفات و تعریف جو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ائی ہے وہ غیر ثابت ہے مبالغہ ارائی پر مبنی ہے اور جس کا رد کرنے اور اس سے بچنے کی ترغیب گویا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے خود عطا فرمائی ہے کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی سچی تعریف بیان کرنا کافی ہے بلکہ کما حقہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان اور صحابہ کرام کی شان مکمل طور پر کوئی بیان ہی نہیں کر سکتا لیکن جو بھی بیان کرے احتیاط کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ بیان کرے۔۔۔۔ جھوٹ من گھڑت روایت موضوع روایت سے شان بیان کرنا درحقیقت شان بیان کرنا ہی نہیں اور ان روایات کو واضح کرنا کہ من گھڑت موضوع ہیں درحقیقت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فرمان کی پیروی ہی ہے اور اسی میں معاشرتی بھلائی ہے انفرادی بھلائی ہے دینی بھلائی ہے ہر طرح کی بھلائی ہے
۔
2️⃣۔۔۔👈1...سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو یا کسی بھی صحابی یا اہل بیت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
1...دو ٹوک الفاظ میں واضح الفاظ میں اپنا خلیفہ منتخب نہیں کیا
2...ہاں البتہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے افعال مبارک اور اقوال مبارک سے اشارہ ضرور ملتا ہے کہ خلیفہ بلا فصل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ان دونوں باتوں پر اہلسنت کتب و شیعہ کتب سے دلائل حوالہ جات تحریر کے اخر میں سبز🟩 ڈبوں کی لکیر کے بعد لکھوں گا
👈2...وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون ہے تحریر کے اخر میں لکھوں گا نیلے🟦ڈبوں کی لکیر کے بعد
👈3....پہلے ذرا ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جو حنیف قریشی صاحب نے دیے ہیں اور ان میں سے کئی ایسے دلائل ہیں جو بظاہر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ بلافصل بظاہر ثابت کرتے ہیں یا خلیفہ بلا فصل کے دلائل کے طور پر ان کو بیان کیا جاتا ہے تو کوئی اس سے گمراہ نہ ہو اور ان روایات کی حالت جان لے تو اس لیے ہم سب سے پہلے ان روایات کا تجزیات تحقیق پیش کر رہے ہیں
۔
🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴
✅یہ دو اصول مدنظر رہیں
🟢پہلا اصول:
شدید ضعیف حدیث فضائل میں بھی قابل قبول نہیں
اور منکر متروک وغیرہ الفاظ شدید ضعیف ثابت کرتے ہیں لہذا ایسے الفاظ جرح مفسر کے طور پر ہوں تو وہ روایت شدید ضعیف قرار پائے گی اور👈 فضائل میں بھی قابل قبول نہیں ہوگی
1...شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ
فحديثه منكر مردود
ترجمہ:
اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید ہو تو)منکر و مردود ہے
(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)
(المقنع في علوم الحديث1/188)
.
2....كلام الحافظ ابن العربي فيحمل على شديد الضعف المتفق على عدم العمل به كما أشار إليه السخاوي. قوله: (في الفضائل) قال في المجموع وغيره فضائل الأعمال وحذف هنا اما اكتفاء بالعلم من كون المقام لفضل العمل أو تنبيهاً على تعميم الفضائل الشاملة للعمل وغيره كما يدل له قولهم يجوز العمل بالضعيف فيما عدا الأحكام والعقائد. قوله: (والترغيب والترهيب) أي بسائر فنونه وكذا كل ما لا تعلق له بالأحكام والعقائد كما قاله في الإرشاد. قوله: (ما لم يكن موضوعاً) وفي معناه شديد الضعف فلا يجوز العمل بخبر من انفرد من كذاب ومتهم بكذب ومن فحش غلطه فقد نقل العلائي الاتفاق عليه
امام ابن عربی کے کلام محمل یہ ہے کہ شدید ضعیف پر عمل نہ کیا جائے گا،ایسا ہی فرمایا ہے امام سخاوی نے اور موضوع متھم کذاب فحش غلط کی روایت فضائل میں بھی فضائل میں معتبر نہیں
ان سب باتوں پر سب محققین محدثین کا اتفاق ہے
(كتاب الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية1/83)
.
3...مراتب الضعف الشديد (التي لا يعبر بحديث أصحابها)
ـ متروك، ذاهب الحديث
یعنی
متروک الحدیث یا ذاہب الحدیث کہا جائے تو یہ شدید ضعیف ہونے کی جرح ہے کہ ایسی شدید و سخت ضعیف روایت و حدیث فضائل و احکام میں معتبر نہیں
(خلاصة التأصيل لعلم الجرح والتعديل ص36)
.
4....مَتْرُوك الحَدِيث یا ذَاهِب الحَدِيث یا كَذَّاب یا فَهُوَ سَاقِط لَا يكْتب حَدِيثه یا مُتَّهم بِالْكَذِبِ ایا متھم بالْوَضع
وغیرہ
الفاظ سے جرح ہوتو ایسی "سخت ضعیف" یا موضوع روایت و حدیث سے کوئی فضائل و احکام ثابت نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی ایسی روایت و حدیث بطور شاہد پیش کی جاسکتی ہے اور ایسی روایت و حدیث کسی بھی معاملے میں معتبر نہیں ہے
(الرفع والتكميل ص152، .153ملتقطا)
۔
5....فقد ذكر الحافظ ابن حجر في شروط جواز العمل بالضعيف ثلاثة شروط أحدها: أن يكون الضعف غير شديد،
علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا کہ
حدیث ضعیف فضائل میں مقبول ہونے کی تین شرطیں ہیں، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ روایت و حدیث شدید ضعیف نہ ہو۔۔۔اگر روایت و حدیث شدید ضعیف ہو تو فضائل اور احکام کسی میں بھی مقبول و معتبر نہیں
(أحكام الحديث الضعيف - ضمن «آثار المعلمي» ص164)
۔
6....امام سیوطی امام نووی
أَنْ يَكُونَ الضَّعْفُ غَيْرَ شَدِيدٍ، فَيَخْرُجُ مَنِ انْفَرَدَ مِنَ الْكَذَّابِينَ وَالْمُتَّهَمِينَ بِالْكَذِبِ، وَمَنْ فَحُشَ غَلَطُهُ، نَقَلَ الْعَلَائِيُّ الِاتِّفَاقَ عَلَيْهِ.
امام سیوطی اور امام نووی کے مطابق حدیث ضعیف جو فضائل میں مقبول ہوتی ہے اس کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اگر شدید ضعیف ہو یا کذاب راویوں سے یا متہم راویوں سے یا فحش غلطی کرنے والے راویوں سے مروی ہو تو تمام علماء کے مطابق یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ایسی شدید ضعیف روایت یا من گھڑت روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں
(تدریب الراوی1/351)
۔
🟢دوسرا اصول:
1...وهُو الطَّعْنُ بكَذِبِ الرَّاوي في الحَديثِ النبويِّ هو المَوضوعُ
حدیث پاک کی سند یا روایت کی سند میں کذاب جھوٹا راوی ہو تب وہ موضوع من گھڑت جھوٹی روایت کہلاتی ہے
(نزھۃ النظر ابن حجر ص89)
۔
2...مدار سند حدیث پر ہے اگر اس سے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفرد ہو تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی
(شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم ج9 صفحہ 337)
۔
3..حضرت علامہ ملا علی قاری فرماتے ہیں: موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو
(شرح نخبۃ الفکر جلد1 صفحہ 435 )
۔
4..موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا....یا ناقل رافضی(ہو اور) حضرات اہلبیت کرام علٰی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں(تو روایت موضوع من گھرٹ جھوٹی مردود کہلائے گی
(فتاوی رضویہ 5/461. .466ملتقطا)
🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴
🟩اب اتے ہیں حنیف قریشی کے دلائل کی طرف
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴1
امام احمد بن حنبلؒ روایت ذکر کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ہم نے سلمان فارسی سے کہا کہ رسول اللہ سے پوچھیں کہ ان کا وصی کون ہے حضرت سلمان فارسی نے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: إن وصيي ووارثي يقضي ديني و ينجز موعدي علي ابن أبي طالب (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم1052)
میرا وصی اور علم کا وارث وہ ہے جو میرا قرض ادا کرے گا اور میرے وعدے پورے گا وہ علی بن ابی طالب ہے ۔
.
🟢جواب و تحقیق:
پہلی بات:
حنیف قریشی صاحب لکھ رہے ہیں کہ امام احمد بن حنبل روایت ذکر کرتے ہیں۔۔۔ جبکہ یہ مذکورہ روایت امام احمد بن حنبل نے روایت نہیں کی بلکہ قطیعی نے روایت کی ہے اور کتاب میں ڈال دی ہے اور قطیعی من گھڑت روایات بھی ڈال دیتا ہے تو اس روایت کو امام احمد بن حنبل کی روایت نہیں کہہ سکتے جبکہ حنیف قریشی صاحب اس کو امام احمد بن حنبل کی ذکر کردہ روایت قرار دے رہے ہیں جو کہ تحقیق کے بالکل خلاف ہے
محققین کی تحقیق ہے کہ
فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل کی طرف منسوب ہے مگر اس میں ان کے بیٹے کی زیادہ کردہ روایات بھی ہیں اور قطیعی کی زیادہ کردہ روایات بھی ہیں تو گویا یہ کتاب تین مصنفین کا مجموعہ ہے
قطیعی کی زیادہ کردہ روایات کی نشانی علماء نے لکھی کہ حدثنا عبداللہ نہ ہوگا...مذکورہ روایت بھی قطیعی کی ہے امام احمد بن حنبل کی نہیں، لیھذا کہنا کہ امام احمد بن حنبل کی روایت ہے غلط فھمی کم علمی یا خیانت و مکاری ہے اور قطیعی من گھڑت موضوع جھوٹی روایات تک لکھ دیتا ہے...
زيادات لأبي بكر: أَحْمد بن جَعْفَر بن حمدَان قطیعی
على فَضَائِل الصَّحَابَة للْإِمَام أَحْمد بِرِوَايَة ابْنه عبد الله.
وَهِي كَثِيرَة ومشتملة على أَحَادِيث مَوْضُوعَة....منها...حَدثنَا هَيْثَم بن خلف، قثنا مُحَمَّد بن أبي عمر الدوري، قثنا شَاذان، قثنا جَعْفَر بن زِيَاد، عَن مطر عَن أنس يَعْنِي ابْن مَالك قَالَ، قُلْنَا لسلمان: سل النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من وَصيّه،
قطیعی نے امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ میں کافی روایات زیادہ کی ہیں اور ان میں سے کافی من گھڑت جھوٹی ہیں، انہی میں سے یہ روایت بھی ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیدنا علی میرے وصی اور وارث ہیں
(زيادات القطيعي على مسند الإمام أحمد دراسة وتخريجا ص118،119ملتقطا)
۔
👈دوسری بات:
اسکی سند یہ ہے
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الدُّورِيُّ قثنا شَاذَانُ قثنا جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَنَسٍ
فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل حدیث1052)
.
👈امام سیوطی مذکورہ کو موضوع من گھڑت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں اور اس کی وجہ بتاتے ہیں کہ
عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعا: إِنَّ أَخِي وَوَزِيرِي وخليفتي من بعدِي أَهلِي خير مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي يَقْضِي دِينِي وينجز موعودي عَلِيٌّ۔۔۔قلت) قَالَ فِي الْمِيزَان: هَذَا مَوْضُوع، وَالْمُتَّهَم بِهِ مطر
امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے جو مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سیدنا علی میرے وزیر ہے میرا خلیفہ ہے میرا قرض وغیرہ چکائے گا اور میرے وعدے پورے کرے گا تو اس کے متعلق امام سیوطی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے من گھڑت جھوٹی ہے کیونکہ اس کا راوی مطر بن میمون پر جرح ہے کہ وہ جھوٹ بولتا تھا من گھڑت جھوٹی احادیث گھڑ لیتا تھا کذاب تھا
اللالئ المصنوعہ سیوطی1/299)
۔
👈امام حاکم نیشاپوری جو اتنے شدت پسند نہیں ہیں اور اتنے سہل پسند ہیں کہ ضعیف راویوں کو بھی صحیح معتبر ثقہ راوی کہہ دیتے ہیں ان کے مطابق بھی مطر بن میمون من گھڑت روایتیں گھڑ لیتا ہے اپ لکھتے ہیں
مطر بن مَيْمُون الإسكاف وَيُقَال أَبُو خَالِد الْمحَاربي كُوفِي يضع الْأَحَادِيث فِي الْفَضَائِل فيرويها عَن أنس بن مَالك
مطر بن میمون کوفی فضائل میں احادیث گھڑ لیتا تھا جھوٹی حدیث گھڑ لیتا تھا اور اس کو سیدنا انس بن مالک سے روایت کر دیتا تھا
.كتاب المدخل إلى الصحيح ص211
۔
👈امام ابن حجر،امام ابن عدی،امام حاکم،امام ازدی، امام ساجی، امام ابونعیم
وأورد له ابن عدي أحاديث بواطيل منها عن أنس مرفوعًا: "عليٌّ أَخي ووزيري وخليفتي في أهلي، وخيرُ من أَتركه بعدي" (٣) رواه عنه عَمَّار بن رجاء ثقة والمتهم به مطر۔۔۔وقال الأزدي: متروك ۔۔وقال السّاجي: منكر الحديث.وقال أبو أحمد الحاكم (٧): ليس بالقوي عندهم (٨).وقال الحاكم أبو عبد الله (٩) وأبو نُعَيم (١٠): روى عن أنس
الموضوعات.
امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ امام ابن عدی نے مطر بن میمون کی باطل حدیثوں کو بیان کیا تو یہ حدیث بھی اس میں بیان کی کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ میرا بھائی ہے میرا وزیر ہے میرا خلیفہ ہے اور امام ازدی فرماتے ہیں کہ مطر بن میمون متروک راوی ہے اور امام ساجی فرماتے ہیں کہ یہ منکر حدیث راوی ہے اور امام حاکم اور امام ابو نعیم فرماتے ہیں کہ اس راوی نے جھوٹی من گھڑت احادیث گھڑ کر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کر کے روایت کر دی
تهذيب التهذيب -ابن حجر12/818
۔
🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴2
امام ابن المغازلی الجلابی متوفی 483ھ حضرت بریدہ سے روایت ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: نبی پاک فرماتے ہیں :لكل نبي وصي ووارث وإن وصيي ووارثي علي ابن أبي طالب
ہر نبی کا کوئی نہ کوئی وصی اور علمی وارث ہوتا ہے میرا وصی اور علمی وارث علی ہے۔
۔
🟢جواب و تحقیق:
فضائل میں بھی ناقابل قبول روایت ہے کیونکہ یہ شدید ضعیف یا من گھڑت جھوٹی روایت ہے
👈امام سیوطی
عَن ابْن بُرَيْدَة عَن أَبِيهِ مَرْفُوعا: لكل نَبِي وَصِيّ وَإِن عليًّا وصيي ووارثي؛ الرَّازِيّ كذَّبَهُ أَبُو زُرْعَة وَغَيره (قلت) قَالَ الجوزقاني هَذَا حديثٌ بَاطِل وَفِي إِسْنَاده ظلمات عَلِيّ بْن مُجَاهِد كَانَ يضعُ الحَدِيث وَمُحَمَّد بْن حميد كذبه صالِح وَغَيره
حضرت بریدہ سے جو روایت ہے کہ ہر نبی کا وصی ہوتا ہے اور میرا وصی وارث علی ہے تو امام سیوطی فرماتے ہیں کہ امام رازی نے اور امام ابو زرعہ وغیرہ نے اس روایت کو جھوٹ من گھڑت قرار دیاہے۔۔۔میں امام سیوطی کہتا ہوں کہ امام جوزقانی نے فرمایا کہ یہ حدیث باطل ہے اس کی سند میں ظلمات ہی ظلمات ہیں، علی بن مجاہد اس کا ایک راوی ہے جو کہ من گھڑت حدیث گھڑ لیتا تھا جھوٹی حدیث گھڑ لیتا تھا اور ایک راوی محمد بن حمید ہے جس کو امام صالح نے اور دیگر ائمہ نے جھوٹ بولنے والا من گھڑت روایت گھڑ لینے والا راوی کہا ہے
اللالئ المصنوعہ سیوطی1/328
۔
👈ابن المغازلی نے مذکورہ حدیث کی سند یہ لکھی ہے
أخبرنا أبو نصر ابن الطحان إجازة عن أبي الفرج الخيوطي، ⦗٢٦٢⦘ حدثنا عبد الحميد بن موسى، حدثنا محمد بن أحمد بن سعيد، حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا سلمة بن الفضل عن ابن إسحاق عن شريك بن عبد الله عن أبي ربيعة الأيادي عن عبد الله بن بريدة
مناقب علي لابن المغازلي ص261
.
👈اس روایت کے راوی محمد بن حمید کے متعلق امام سیوطی لکھتے ہیں کہ
وهذا حديث منكر، ولعل البلاء فيه من محمد بن حميد
الرازي
یہ حدیث منکر شدید ضعیف ہے اس کی وجہ محمد بن حمید الرازی راوی ہے
الزيادات على الموضوعات1/144
👈محمَّد بن حميد الرازي، واهي الحديث وقد تُكُلّم فيه بشدة، وكذَّبه بعضهم،
محمد بن حمید الرازی واہیات راوی ہے اور بعض ائمہ نے تو اس پر سخت شدید کلام کیا ہے اور بعض نے تو اس کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ جھوٹی من گھڑت حدیثیں گھڑ کر بیان کرتا تھا
التنوير شرح الجامع الصغير1/109
.
👈إسناده ضعيف جدًّا، فيه محمَّد بن حميد بن حيان الرازي وهو متروك...قلت: بل أضعف من فيه محمَّد بن حميد الرازي؛ لأنه منكر الحديث، وقد رماه أبو زرعة وغيره
بالكذب
ایک روایت کے بارے میں محققین نے لکھا کہ وہ سخت ترین ضعیف ہے کیونکہ اس کا راوی محمد بن حمید ہے اور وہ متروک راوی ہے بلکہ اس روایت میں اس سے بھی زیادہ ضعیف راوی ہیں اور امام ابو زرعہ وغیرہ نے اس راوی کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ جھوٹی من گھڑت حدیثیں گھڑ کر بیان کرتا تھا
كتاب المطالب العالية محققا18/644
.
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴3
مسند ابی یعلی حدیث رقم 2459 ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ السلام نے سیدنا علی سے فرمایا: اما انت یا علی فانا منک و انت وصیی
پس اے علی میں تجھ سے ہوں اور تو میرا وصی ہے
.
🟢جواب و تحقیق
سخت ضعیف یا من گھڑت جھوٹی روایت ہے جو کہ فضائل میں بھی ناقابل قبول ہے اس کی سند یہ ہے
👈وهبٌ، حدّثنا خالدٌ، عن حسينٍ، عن عكرمة، عن ابن عباسٍ
.
👈امام ابن حجر امام احمد بن حنبل امام ابن ابی حاتم امام بخاری امام نسائی امام جوزجانی امام دار قطنی
وقال عبد الله بن أحمد عن أبيه متروك الحديث... وقال معاوية بن صالح عن بن معين ليس بشيء وقال بن أبي حاتم عن أبيه ضعيف الحديث منكر الحديث...وقال البخاري أحاديثه منكرة جدا ولا يكتب حديثه وقال النسائي متروك الحديث...وقال الجوزجاني أحاديثه منكرة جدا فلا يكتب ونقل بن الجوزي عن أحمد أنه كذبه وقال الدارقطني
متروك
امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ اس روایت کا راوی حسین بن قیس متروک راوی ہے اور امام معاویہ بن صالح نے امام ابن معین سے روایت کی ہے کہ اس راوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور امام ابن ابی حاتم نے فرمایا ہے کہ یہ راوی منکر الحدیث ہے اور امام بخاری نے فرمایا ہے کہ اس راوی کی احادیث شدید منکر ہوتی ہیں اس کی حدیثیں نہیں لکھی جائیں گی اور امام نسائی نے اس کو متروک الحدیث قرار دیا ہے اور امام جوزجانی نے بھی اس کی روایتوں کو شدید ترین منکر قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی حدیثیں نہیں لکھی جائیں گی اور امام احمد بن حنبل نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے اور امام دار قطنی نے اس کو متروک راوی قرار دیا ہے
تھذیب التھذیب ابن حجر2/365
۔
الحسين بن قيس، أبو علي الرحبي.ويلقب حنشاً.ضعف أحمد حديثه وكذبه، وترك حديثه.وقال ـ مرة: متروك الحديث. وكذلك قال النسائي والدارقطني.وقال يحيى: ليس بشيء.وقال السعدي: أحاديثه منكرة جداً
مذکورہ روایت کا راوی حسین بن قیس جس کو حنش بھی کہتے ہیں اس کو امام احمد بن حنبل نے شدید ضعیف اور جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہے اسی طرح امام نسائی اور امام دار قطنی نے بھی متروک قرار دیا ہے اور امام سعدی نے فرمایا ہے کہ اس کی بیان کردہ احادیث انتہائی درجے کی منکر ہوتی ہیں شدید منکر ہوتی ہیں
الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين4/422
.
الحديث بهذا السند ضعيف جدًا من أجل الحسين بن قيس الرحبي وهو متروك.
حسین بن قیس کی وجہ سے یہ حدیث شدید ضعیف ہے کیونکہ یہ راوی متروک راوی ہے
المطالب العالية محققا12/414
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴4
تذکرۃ الخواص لسبط ابن الجوزی میں ہے حضور نے فرمایا: إن وصيي ووارثي ومنجز وعدي علي ابن أبي طالب
میرا وصی میرا علمی وارث اور میرے وعدوں کو پورا کرنے والا علی ابن ابی طالب ہے
.
🟢جواب و تحقیق
اسکی سند میں بھی وہی مطر راوی ہے جس کے متعلق علماء کے دوٹوک حوالے گذرے کہ اسکی روایت من گھڑت جھوٹی ہوتی ہے
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴5
التنویر شرح جامع صغیر امام محمد بن اسماعیل الکحلانی متوفی 1182ھ حضرت بریدہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا: لكل نبي وصي وإن علياً وصيي ووارثي .ہر نبی کا وصی ہوتا ہے میراوصی علی ہے۔
۔
🟢جواب و تحقیق
تنویر شرح جامع صغیر کا حوالہ تو دیا لیکن اسی صفحے پر جو مصنف نے تبصرہ کیا اسے نہ لکھا۔ یہ خیانت دھوکہ مکاری نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟؟ مصنف تبصرہ لکھتے ہیں:
فالشيعة أحدثوا "عقيدة الوصي"قلت: هذا إسنادٌ ضعيفٌ جداً فيه:1 - علي بن مجاهد الرازي، قال الحافظ ابن حجر: (متروك وليس في شيوخ أحمد أضعف منه)2 - محمَّد بن حميد الرازي، واهي الحديث وقد تُكُلّم فيه بشدة، وكذَّبه بعضهم،۔۔۔متابعة كالعدم۔۔۔قلت: أحمد بن عبد الله بن حكيم أبو عبد الرحمن الفِرْيانَانِي، كان متروك الحديث، ليس بثقة، وقال أبو نعيم: (كان وضاعاً، مشهوراً بالوضع) فهذه متابعة
لا تثبت
مذکورہ روایت لکھنے کے بعد مصنف تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ حدیث انتہائی شدید ترین ضعیف ہے جو فضائل میں بھی قابل قبول نہیں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق 👈وصی رسول کا عقیدہ شیعوں نے گھڑا ہے۔۔۔ اس روایت کا ایک راوی علی بن مجاہد کے متعلق امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ متروک راوی ہے۔۔۔ اور اس روایت کا دوسرا راوی محمد بن حمید واہیات ہے، محدثین محققین نے اس پر شدید جرح کی ہے حتی کہ بعض محققین نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے۔۔۔ مصنف اس سے ملتی جلتی ایک اور روایت لاتے ہیں اور اس کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ یہ روایت اتنی شدید ترین مجروح ہے کہ یہ اوپر والی روایت کی تائید کے طور پر پیش یہی نہیں کی جا سکتی اس کے بعد پھر مصنف ایک اور روایت لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کا راوی متروک ہے بلکہ امام نعیم نے فرمایا ہے کہ یہ راوی حدیثیں گھڑ لینے میں مشہور تھا تو لہذا اس روایت سے بھی اوپر والی روایت کی تائید نہیں ہوتی( بہرحال تمام روایات کو نظر رکھتے ہوئے یہ روایت ثابت نہیں اور فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
التنوير شرح الجامع الصغير1/108ومابعدہ
۔
اس حدیث بریدہ پر مزید تحقیق دلیل2 کے جواب میں لکھی ہے
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴6
جامع المسانید والسنن رقم 4392 میں ہے حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے حضور نے فرمایا
وصيي وموضع سرّي وخير من اترك بعدي ومنجز وعدي ويقضي ديني علي ابن ابي طالب
میرا وصی میرا رازداں ۔۔۔۔۔۔۔۔علی ہے
۔
🟢جواب و تحقیق
جامع المسانید کا حوالہ تو دیا لیکن مصنف کا تبصرہ نہ لکھا تو یہ خیانت دھوکہ فریب مکاری نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟؟ مصنف نے لکھا کہ:
قلت: بل هذا الحديث منكر جدًا، ولا يصح سنده قولاً
واحدًا
مذکورہ روایت لکھنے کے بعد مصنف تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ حدیث شدید ترین مجروح منکر شدید منکر ہے ، کسی ایک قول میں بھی اس کی سند صحیح نہیں
جامع المسانید والسنن تحت روایت4392
۔
👈امام سیوطی امام جوزقانی امام ابن حبان
وَصِيّ وَمَوْضِعُ سِرِّي وَخَلِيفَتِي فِي أَهْلِي وَخَيْرُ مَنْ أُخَلِّفُ بَعْدِي عَلِيٌّ..قَالَ عَبْد الْغَنِيّ: أَكثر رُوَاته مَجْهُولُونَ وضعفاء وَإِسْمَاعِيل بْن زِيَاد مَتْرُوك (قلت) قَالَ الجوزقاني بَاطِل لَا أصلَ لَهُ وَإِسْمَاعِيل بْن زِيَاد قَالَ ابْن حبَان دجال
امام سیوطی مذکورہ روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ میرا وصی ہے اور میرے رازوں کا جگہ ہے اور میرا خلیفہ ہے تو امام سیوطی فرماتے ہیں کہ امام عبدالغنی نے فرمایا ہے کہ اس روایت کے اکثر راوی مجہول یا انتہائی شدید ترین ضعیف ہیں بلکہ اسماعیل بن زیاد متروک راوی ہے بلکہ امام سیوطی فرماتے ہیں کہ امام جوزقانی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے کیونکہ اس کا راوی اسماعیل بن زیاد کے متعلق امام ابن حبان نے فرمایا ہے کہ یہ دجال جھوٹا راوی ہے
اللالئ المصنوعہ سیوطی1/327
۔
👈امام ملا علی قاری
مَوْضُوعٌ عَلَى مَا قَالَهُ الصَّغَانِيُّ فِي الدُّرِّ الْمُلْتَقِطِ..قُلْتُ وَهُوَ مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ وَكَيْفَ يَأْفِكُونَ
امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ یہ جو حدیث ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ میرا وصی ہے میرا خلیفہ ہے میرے راز کی جگہ ہے یہ حدیث باطل موضوع من گھڑت ہے جیسے کہ امام صغانی نے بھی کہا ہے بلکہ میں امام ملا علی قاری کہتا ہوں کہ یہ شیعہ کی من گھڑت روایتوں میں سے ہے
الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص277
.
👈امام ابن حجر امام حاکم امام ابن حبان
وقال ابن حبان والحاكم حدث عن أنس بأحاديث موضوعة
يروي عن أنس نسخة موضوعة ما لها أصول يعرفها من ليس الحديث صناعته أنها موضوعة لا يحل كتب حديثه الاعلى جهة التعجب. منها عن أنس عن سلمان قال قال رسول الله ﵌ لعلي هذا وصيي وموضع سري وخير من
أترك بعدي
امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ امام ابن حاکم اور امام ابن ابان نے اس روایت کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے جو سیدنا انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سیدنا علی میرا وصی ہے میرے راز کی جگہ ہے، اس حدیث کو فضیلت یا تائید کے طور پر لکھنا جائز نہیں ہے
تهذيب التهذيب ابن حجر3/105ومابعدہ
.
عمر بن سعيد البصري الأبَحّ، عن سعيد بن أبي عروبة. قال البخاري: منكر الحديث،
امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت کا راوی عمر بن سعید کے متعلق امام بخاری نے فرمایا ہے کہ منکر الحدیث ہے
لسان الميزان6/108
۔
قال ابن حبان: كان ممن يخطئ كثيرا حتى استحق الترك.
وقال ابن عدي: منكر الحديث.
اس روایت کے راوی کے متعلق امام ابن حبان نے فرمایا ہے کہ وہ بہت زیادہ خطائیں کرتا تھا یہاں تک کہ مستحق ہوا کہ اس کو متروک قرار دیا جائے اور امام ابن عدی نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا ہے
الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين11/110
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴7
کنز العمال میں ہے:«هذا أخي ووصيي وخليفتي فيكم، فاسمعوا له وأطيعوا
یہ میرا بھائی اور میرا وصی ہے
۔
🟢جواب و تحقیق
یہی روایت لکھنے کے بعد کنرالعمال میں تبصرہ ہے کہ
ابن جرير وفيه عبد الغفار بن القاسم، قال في المغنى،
تركوه".
مذکورہ روایت لکھنے کے بعد کنز الاعمال میں تبصرہ ہے کہ اس روایت میں عبدالغفار ہے جو کہ متروک ہے( بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید اس پر جرح ہے جیسے کہ اگے ائے گا)
کنزالعمال13/114
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴8
کنز العمال رقم: 32952میں ابوسعید الخدری حضرت سلمان فارسی سے مروی ہیں رسول اللہ نے فرمایا: ان وصيي و موضع سرّي۔۔۔۔۔۔علی ابن ابی طالب
۔
🟢جواب و تحقیق
کنز الاعمال میں اس حدیث کو لکھ کر لکھا گیا ہے کہ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے سیدنا ابو سعید خدری سے اور سیدنا سلمان فارسی سے
طب - عن أبي سعيد وسلمان"1.
کنزالعمال11/610
۔
👈دلیل1 اور دلیل6 میں سیدہ انس کی روایت کا جواب ہے اور
👈سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کا جواب یہ ہے کہ اسکے راوی شدید مجروح ہیں کہ فضائل میں بھی یہ روایت قابل قبول نہیں
.
👈طبرانی میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت اور سیدنا انس کی روایت کی سند یہ لکھی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الثَّعْلَبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ نَاصِحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ
طبرانی کبیر6/221
.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .... وَفِي إِسْنَادِهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ
مَتْرُوكٌ.
امام ہیثمی فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ناصح بن عبداللہ ہے جو کہ متروک راوی ہے
مجمع الزوائد9/114
۔
نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
امام ہیثمی فرماتے ہیں کہ ناصح بن عبداللہ شدید ترین ضعیف راوی ہے(کہ جس کی روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
مجمع الزوائد2/249
۔
وقال عمرو بن علي: متروك الحديث، روى عن سِمَاك أحاديثَ منكرةً ۔۔۔ وقال البخاري: منكر الحديث
امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ ناصح بن عبداللہ جو طبرانی کی روایت میں ہے اس کے متعلق امام عمرو بن علی نے فرمایا کہ یہ متروک الحدیث ہے اس نے منکر حدیثیں بیان کی ہیں اور امام بخاری نے بھی اس کو منکر الحدیث کہا ہے
تهذيب التهذيب -ابن حجر13/555
۔
ناصح بن عبد الله كوفي روى عن سماك ابن حرب احاديث منكرة، متروك
امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ ناصح بن عبداللہ منکر حدیثیں بیان کرتا ہے اور یہ متروک راوی ہے( کہ جس کی روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
الجرح والتعديل - ابن أبي حاتم8/503
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴9
مجمع الزوائد رقم: 14668
حضور پاک نے فرمایا فانّ وصيي وموضع سرّي۔۔ علی بن ابی طالب
۔
🟢جواب و تحقیق
مجمع الزوائد کا حوالہ تو دے دیا لیکن مصنف کا تبصرہ ذکر نہیں کیا جو کہ عین مکاری خیانت دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔؟؟ مصنف یہی حدیث لکھنے کے بعد تبصرہ فرماتے
ہیں
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .... وَفِي إِسْنَادِهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ
مَتْرُوكٌ.
امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں مذکور احادیث لکھنے کے بعد فرمایا کہ اس کو امام طبرانی روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ناصح بن عبداللہ ہے جو کہ متروک راوی ہے( جو کہ فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
مجمع الزوائد تحت حدیث14668
۔
نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
امام ہیثمی فرماتے ہیں کہ ناصح بن عبداللہ شدید ترین ضعیف راوی ہے(کہ جس کی روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
مجمع الزوائد2/249
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴10
طبرانی رقم 8687 عن ابی سعید عن سلمان ، رسول اللہ نے فرمایا
انّ وصيي وموضع سرّي۔۔۔علی بن ابی طالب ۔امام طبرانی لکھتے ہیں : یعنی انہ اوصاہ فی اھلہ لا بالخلافۃ یعنی حضور نے مولی علی کو اپنی ذاتی اور گھر کی باتوں کی وصیت کی تھی اس میں خلافت کی وصیت نہ تھی
۔
🟢جواب و تحقیق
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .... وَفِي إِسْنَادِهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ
مَتْرُوكٌ.
امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں مذکور احادیث لکھنے کے بعد فرمایا کہ اس کو امام طبرانی روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ناصح بن عبداللہ ہے جو کہ متروک راوی ہے( جو کہ فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
مجمع الزوائد تحت حدیث14668
۔
نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
امام ہیثمی فرماتے ہیں کہ ناصح بن عبداللہ شدید ترین ضعیف راوی ہے(کہ جس کی روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
مجمع الزوائد2/249
۔
مزید تفصیل اس راوی کی دلیل نمبر8 میں اوپر لکھی ہے مطالعہ فرمائیں
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴11
جامع الاحادیث لسیوطی رقم 8687 ۔۔۔
حضور نے فرمایا :ان وصيي۔۔۔ علی بن ابی طالب
۔
🟢جواب و تحقیق
جامع الاحادیث میں اس حدیث کے ساتھ لگا تبصرہ چھپانا خیانت مکاری دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔ اس حدیث کو لکھنے کے بعد جامع الاحادیث میں تبصرہ لکھا ہے کہ
أخرجه الطبرانى (6/221، رقم 6063) . قال الهيثمى (9/114) : فى إسناده ناصح بن عبد الله وهو
متروك.
جامع الاحادیث میں مذکورہ روایت لکھنے کے بعد تبصرہ لکھا ہے کہ اس روایت کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور امام ہیثمی نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں ناصح بن عبداللہ ہے جو کہ متروک راوی ہے(جس کی روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں)
جامع الاحادیث لسیوطی رقم8687
۔
مزید تفصیل دلیل نمبر8 میں اوپر لکھی ہے مطالعہ فرمائیں
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴12
تذکرۃ الحفاظ لابن القیسرانی متوفی 507 روایت نمبر ٢٢٦ حضور اکرم نے فرمایا علی میرا وصی ہے
۔
🟢جواب و تحقیق
مصنف کا تبصرہ چھپا دینا خیانت مکاری دھوکہ بازی نہیں تو اور کیا ہے... مذکورہ روایت لکھ کر تبصرہ لکھا ہوا ہے
کہ
رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْعَتَكِيُّ الْبَصْرِيُّ أَبُو عِصَامٍ، عَنْ أَنَسٍ.
وَخَالِدٌ هَذَا رَوَى عَنْ أَنَسٍ نُسْخَةً مَوْضُوعَةً، لا يَحِلُّ كَتْبُ حَدِيثِهِ إِلا عَلَى سَبِيلِ الاعْتِبَارِ.
تذکرۃ الحفاظ میں مذکورہ روایت لکھنے کے بعد تبصرہ لکھا ہے کہ اس روایت کو خالد بن عبید نے سیدنا انس سے روایت کیا ہے اور یہ خالد راوی من گھڑت جھوٹا نسخہ جس میں من گھڑت جھوٹی روایتیں ہیں جن کو وہ سیدنا انس کی طرف منسوب کرتا ہے اس کی حدیث کو فضائل و احکام کسی بھی معاملے میں نہیں لکھ سکتے
تذکرۃ الحفاظ لابن القیسرانی ص102
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴13
تاریخ طبری جلد ۲ میں ہے:نبی پاک نے فرمایا :
ان ھذا اخی و و صیی و خلیفتی فیکم فاسمعوا لہ واطیعوا
یہ میرا بھائی اور میرا وصی ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
🟢جواب و تحقیق
موضوع و من گھڑت روایت ہے اسکی سند یہ ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حدثنا سلمة، قال: حدثني محمد بن إسحاق، عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بن عمرو، عن عبد الله ابن الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، [عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،
تاریخ طبری2/319
.
عَبد الغفار بن القاسم وكان يضع الحديث
تاریخ طبری کی روایت میں راوی عبدالغفار ہے جو کہ حدیثیں گھڑ لیتا تھا
الكامل في ضعفاء الرجال7/17
۔
وقال النسائي: كوفيٌّ، متروك الحديث. "الضعفاء والمتروكون" وقال الدارقطنيُّ: وعبد الغفار بن القاسم أبو مريم،
متروكٌ
طبرانی کی روایت میں عبدالغفار راوی ہے جس کے متعلق امام نسائی نے فرمایا ہے کہ متروک الحدیث ہے اور امام دار قطنی نے فرمایا ہے کہ متروک الحدیث ہے( کہ جس کی فضائل میں بھی روایات قابل قبول نہیں ہوتی)
الجامع في الجرح والتعديل2/121
۔
عبد الغفار بن الْقَاسِم أبو مَرْيَم الأنْصَارِيّ رَافِضي قَالَ ابْن المَدِينِيّ وَأَبُو دَاوُد كَانَ يضع الحَدِيث وَقَالَ أَحْمد عَامَّة أَحَادِيثه بَوَاطِيلُ
طبرانی کی روایت میں عبدالغفار راوی ہے جو کہ رافضی ہے اور امام ابن مدینی اور امام ابو داؤد نے فرمایا ہے کہ یہ راوی حدیثیں گھڑ لیتا تھا جھوٹے حدیثیں اپنی طرف سے بیان کر دیتا تھا اور امام احمد نے فرمایا ہے کہ عمومی طور پر اس کی روایات باطل ہوتی ہیں
الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين8/629
۔
عبد الغفار بن القاسم أبو مريم الأنصاري. رافضي ليس بثقة.
قال علي بن المديني: كان يضع الحديث...وقال أحمد بن حنبل... وعامة حديثه بواطيل...وقال أبو حاتم والنسائي، وَغيرهما: متروك الحديث.وقال الآجري: سألت أبا داود عنه فقال: كان يضع الحديث
امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ عبدالغفار رافضی ہے غیر معتبر ہے اور امام علی بن مدینی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیثیں گھڑ لیتا تھا اور امام احمد نے فرمایا ہے کہ عام طور پر اس کی بیان کردہ احادیث باطل ہوتی ہیں اور امام ابو حاتم اور امام نسائی وغیرہ نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے اور امام اجری فرماتے ہیں کہ امام ابو داؤد سے میں نے اس کے متعلق پوچھا تو امام ابو داؤد نے فرمایا کہ یہ حدیثیں گھڑ لیتا تھا
لسان المیزان ابن حجر5/226
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴14
تاریخ کامل میں ہے :«إن هذا أخي ووصيي وخليفتي فيكم، فاسمعوا له وأطيعوا
یہ علی میرا بھائ اور وصی ہے ۔۔۔۔
.
🟢جواب و تحقیق
تاریخ طبری والی ہی موضوع من گھڑت جھوٹی روایت لکھی ہے جسکی تحقیق و جواب دلیل نمبر13 میں لکھ ایا ہوں
۔
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟣حنیف قریشی کی دلیل نمبر🔴15
تفسیر مظہری جلد7 میں ہے رسول اللہ نے فرمایا ان ھذا اخی و وصیی ۔۔علی میرا بھائی اور وصی ہے ۔
.
🟢جواب و تحقیق
تاریخ طبری والی ہی موضوع من گھڑت جھوٹی روایت لکھی ہے جسکی تحقیق و جواب دلیل نمبر13 میں لکھ ایا ہوں
.
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟥خلیفہ بلافصل کون۔۔۔۔۔۔؟؟
اہلسنت کا نظریہ ہے کہ:
1... الیٰ ان النبی لم ینص علی امام بعدہ
معتبر اہل سنت کا نظریہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو دوٹوک خلیفہ مقرر نہ فرمایا
(شرح المقاصد 5/259)
.
2...علی انہ لم یکن نص علی امامۃ احد بعدہ
معتبر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بعد کسی کو دوٹوک خلیفہ نہ بنایا
(المسامرہ2/143)
.
3....فقد ترك أَي: التَّصْرِيح بالشخص الْمعِين،
وَعقد الْأَمر لَهُ.
پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معین شخص کو دو ٹوک الفاظ میں خلیفہ مقرر نہیں فرمایا
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري ,24/279)
4....وَلَوْ كَانَ هُنَاكَ نَصٌّ عَلَيْهِ أَوْ عَلَى غَيْرِهِ لَمْ تَقَعِ
الْمُنَازَعَةُ
کسی کے خلیفہ ہونے پر اگر دو ٹوک نص(آیت معتبر حدیث) ہوتی تو خلافت پر تنازعہ واقع ہی نہ ہوتا
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,9/3885)
.
5...أن النبى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لم ينص على خلافة أبى بكر، ولا على علىٍّ، ولا على العباس
بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا علی اور سیدنا عباس میں سے کسی کو دوٹوک الفاظ میں خلیفہ مقرر نہ فرمایا
(القاضي عياض ,إكمال المعلم بفوائد مسلم ,6/221)
.
6....أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنُصَّ عَلَى خَلِيفَةٍ وَهُوَ إِجْمَاعُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَغَيْرِهِمْ
بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دوٹوک خلیفہ مقرر نہ فرمایا اس پر اہل سنت وغیرہ کا اجماع ہے
(شرح النووي على مسلم12/205..206)
.
7....قال : قيل لعمر : الا تستخلف ، قال : إن استخلف ، فقد استخلف من هو خير ، مني ابو بكر ، وإن اترك ، فقد ترك من هو خير مني ، رسول الله صلى الله عليه وسلم
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا گیا آپ کسی کو اپنا خلیفہ کیوں نہیں بناتے؟ جواب دیا کہ اگر میں کسی کو خلیفہ نہ کروں تو مجھ سے بہتر شخص نے یہ کام کیا ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹوک الفاظ میں کسی کو خلیفہ نہیں بنایا اور اگر میں کسی کو خلیفہ بنا دوں تو مجھ سے بہتر شخصیت نے یہ کام کیا ہے یعنی سیدنا ابوبکر صدیق نے دوٹوک اپنا خلیفہ بنایا
(بخاری 7218)
.
8....وإني لئن لا استخلف ، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يستخلف ، وإن استخلف فإن ابا بكر قد استخلف
اگر میں کسی کو خلیفہ نہ کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹوک الفاظ میں کسی کو خلیفہ نہیں بنایا اور اگر میں کسی کو خلیفہ بنا دوں تو سیدنا ابوبکر صدیق نے دوٹوک اپنا خلیفہ بنایا
(مسلم 4714...ترمذی، ابوداؤد وغیرہ)
.
🟩ہاں البتہ نصوص کے اشارات ثابت کرتے ہیں کہ خلیفہ اول و بلافصل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں
مثلا
1...الحدیث:
أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَتْ : أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ ؟ كَأَنَّهَا تَقُولُ : الْمَوْتَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ
ایک عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی نبی پاک نے فرمایا کہ میرے پاس بعد میں آنا، اس عورت نے کہا کہ اگر میں آپ کو نہ پاؤں گویا کہ وہ یہ کہہ رہی تھی کہ شاید آپ وفات پا چکے ہوں تو؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا
(بخاری حدیث3659)
.
2....اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ "
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا
(ترمذی حدیث3662)
.
3....الْإِشَارَةِ إِلَى أَنَّهُ الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نبی پاک کی وفات کے بعد خلیفہ ہیں
(فتح الباري لابن حجر ,7/24)
.
4.... ما عليه أهل الأصول من أنه لم ينص على خلافه أحد (قلت) مرادهم لم ينص نصا صريحا
وہ جو اہل اصول کا متفقہ اصول ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہ فرمایا تو ان کی مراد یہ ہے کہ دوٹوک وضاحت کے ساتھ مقرر نہ فرمایا
(فيض القدير2/56)
.
5....وَلَمْ أَرَ فِي التَّعْرِيضِ بِالْخِلَافَةِ فِي سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْضَحَ مِنْ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ،
دونوں حدیثوں میں واضح اشارہ ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اشارہ فرمایا ہے کہ ان کے بعد ان کے خلیفہ ابوبکر و عمر ہونگے
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,9/4017)
.
6....وفيه الإشارة إلى أن أبا بكر هو الخليفة بعد النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، ولا يعارض هذا جزم عمر أن النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لم يستخلف لأن مراده نفي النص على ذلك صريحًا
حدیث پاک میں اشارہ ہے کہ ابوبکر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوں گے، وہ جو سیدنا عمر نے فرمایا کہ نبی پاک نے کسی کو خلیفہ نہ فرمایا تو انکی مراد یہ ہے کہ دو ٹوک الفاظ میں خلیفہ مقرر نہ فرمایا(لیکن اشارتاً فرمایا کہ میرے بعد یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر اور عمر خلیفہ ہوں گے)
(شرح القسطلاني، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري ,6/87)
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟩شیعہ کتب سے حوالہ جات کہ خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق ہیں اور پھر اس کے بعد سیدنا عمر فاروق اور اس کے بعد سیدنا عثمان غنی اور اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہم خلیفہ ہیں
.
1️⃣حوالہ نمبر ایک
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه، فلم يكن للشاهد أن يختار ولا للغائب أن يرد، وإنما الشورى للمهاجرين والأنصار، فإن اجتمعوا على رجل وسموه إماما كان ذلك لله رضى
میری(سیدنا علی کی)بیعت ان صحابہ کرام نے کی ہےجنہوں نےابوبکر و عمر کی کی تھی،یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کسی کی بیعت کرلیں تو اللہ بھی راضی ہے، ہمیں بھی راضی ہونا ہوگا(اور وہ خلیفہ برحق کہلائے گا) تو ایسی بیعت ہو جائے تو دوسرا خلیفہ انتخاب کرنے یا تسلیم نہ کرنے کا حق نہیں(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص491)
1۔۔۔یہ سیدنا علی کا فرمان ان شیعوں کے منہ پےزناٹےدار تھپڑ ہیں جو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق دو ٹوک یا ڈھکے چھپے الفاظ میں گستاخی و بکواس کرتےہیں
۔
2۔۔۔۔مزید اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ
سیدنا علی کے مطابق سیدنا ابوبکر و عمر مہاجرین انصار صحابہ کرام برحق سچےاچھےتھے ،انکی خلافت برحق تھی تبھی تو سیدنا علی نے انکی بیعت کو دلیل بنایا.....!!
۔
3۔۔۔اس قول سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق رسول کریمﷺنے دوٹوک کسی کو خلیفہ نہ بنایا اگر بنایا ہوتا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی رائے و انتخات کو وقعت نہ دیتے بلکہ وہ نص بیان فرماتے کہ میں تو فلاں آیت یا حدیث کی وجہ سے خلیفہ بلافصل ہوں....
۔
4۔۔۔۔اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق خلافت میں پہلا نمبر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا نمبر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا...
۔
5۔۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر وغیرہ صحابہ کرام کافر مشرک مرتد منافق ظالم غاصب بدعتی نہ تھے، انہوں نے خلافت نہ چھینی نہ ہی باغ فدک چھینا بلکہ خلافت و باغ فدک کے معاملے میں بھی سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام کا فیصلہ شریعت و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا
۔
6۔۔۔۔اس قول مبارک سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام نیک و عبادت گذار سچے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ انکی تعریف و مدح کرتے تھے…
.
2️⃣حوالا نمبر دو
هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين
(شیعوں کے مطابق)امام حسن نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے
(شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)
۔
1۔۔۔سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق امام علی گذرے تھے لیکن سیدنا حسن "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جسکا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسن کا وہی نظریہ تھا جو سچے اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسن نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے امام حسن....
۔
2۔۔۔۔اور دوسری بات یہ بھی اہلسنت کی ثابت ہوئی کہ "قرآن و سنت" اولین ستون ہیں کہ ان پے عمل لازم ہے جبکہ شیعہ قرآن و سنت کے بجائے اکثر اپنی طرف سے اقوال گھڑ لیتے ہیں اور اہلبیت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں
۔
3۔۔۔۔اور سیدنا معاویہ کی حکومت سنت رسول و سیرت خلفاء پر اچھی تھی ورنہ ظالمانہ ہوتی تو سیدنا حسن حسین ضرور باءیکاٹ فرماتے صلح نہ فرماتے چاہے اس لیے جان ہی کیوں نہ چلی جاتی جیسے کہ یزید سے بائیکاٹ کیا
۔
4۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے ، انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی کیونکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفاء راشدین یعنی رشد و ہدایت والے خلیفہ قرار دے رہے ہیں
.
3️⃣حوالہ نمبر3
حضرت علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:
رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً
میں(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ بہت عجر و انکساری والے، بہت نیک و عبادت گذار تھے(فاسق فاجر ظالم غاصب نہ تھے)تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں...(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر کتاب نہج البلاغہ ص181)
ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے بلکہ نیک متقی پرہیزگار تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے کیونکہ انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی
۔
4️⃣حوالہ نمبر4
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان
یہ بات بالکل واضح ہے ظاہر ہے کہ ان(سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ)کا اور ہمارا رب ایک ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہے، انکی اور ہماری اسلامی دعوت و تبلیغ ایک ہے، ہم ان کو اللہ پر ایمان رسول کریم کی تصدیق کے معاملے میں زیادہ نہیں کرتے اور وہ ہمیں زیادہ نہیں کرتے...ہمارا سب کچھ ایک ہی تو ہے بس صرف سیدنا عثمان کے قصاص کے معاملے میں اجتہادی اختلاف ہے
(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ3/114)
ثابت ہوا کہ سیدنا علی کا ایمان سیدنا معاویہ کا ایمان سیدنا معاویہ کا اسلام سیدنا علی کا اسلام اہل بیت کا اسلام صحابہ کرام کا اسلام قرآن و حدیث سب کے سب معاملات میں متفق ہی تھے،سیدنا علی و سیدنا معاویہ وغیرہ سب کے مطابق قرآن و حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ تھی....پھر کالے مکار بے وفا ایجنٹ غالی جھوٹے شیعوں نے الگ سے حدیثیں بنا لیں، قصے بنا لیے،الگ سے فقہ بنالی، کفریہ شرکیہ گمراہیہ نظریات و عمل پھیلائے، سیدنا علی و معاویہ وغیرہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے اختلاف کو دشمنی منافقت کفر کا رنگ دے دیا...انا للہ و انا الیہ راجعون
.
5️⃣حوالہ نمبر5 تا اٹھ8️⃣
عن علي عليه السلام أنه سئل عن قتلى الجمل أمشركون هم؟
قال: لا بل من الشرك فروا، قيل: فمنافقون، قال: لا ان المنافقين لا يذكرون الله الا قليلا: قيل: فما هم؟ قال: إخواننا بنوا علينا....ان عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من اهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق ولكن (ولكنه كان - خ) يقول هم إخواننا بغوا علينا....ان عليا عليه السلام كان يقول لأهل حربه انا لم نقاتلهم على التكفير لهم ولم نقاتلهم على التكفير لنا ولكنا رأينا انا على حق ورأوا انهم على حق
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا کہ جنگ جمل کے ہمارے مخالفین صحابہ کیا مشرک و کافر ہیں سیدنا علی نے فرمایا نہیں تو انہوں نے کہا کہ کیا پھر وہ منافق(ظالم غاصب مرتد) ہیں...؟؟ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نہیں... انہوں نے کہا کہ پھر وہ کیا ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا وہ تو ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے(اجتہادی) بغاوت کی ہے... سیدنا علی اپنے مخالفین جو جنگ کرتے تھے جنگ جمل اور جنگ صفین ان تمام صحابہ کرام کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ نہ تو منافق ہیں نہ مشرک ہیں ، فرمایا کرتے تھے ہم ان سے جنگ کفر(منافقت) کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ اس بنیاد پر جنگ کی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ درستگی پر ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم درستگی پر ہیں...
(شیعہ کتاب جامع أحاديث الشيعة 141 16/126)
(شیعہ کتاب بحارالانوار32/324)
(شیعہ کتاب وسائل الشیعۃ15/83)
(شیعہ کتاب قرب الاسناد ص94)
سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و معاویہ اور دیگر صحابہ کرام کو کھلےعام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں منافق ظالم کافر کہنے والے،توہین و گستاخی کرنےوالےرافضی نیم رافضی اپنےایمان کی فکر کریں کیونکہ سیدنا علی تو بھائی فرما رہے ہیں، کیا سیدنا علی کافر مرتد ظالم منافق کو بھائی کہیں گے اپنا۔۔۔۔۔۔؟؟ لیھذا گستاخ شیعہ محبانِ علی و اہلبیت نہیں بلکہ نافرمانِ علی ہیں،نافرمانِ اہلبیت ہیں
.
9️⃣حوالہ نمبر 10
فنعى الوليد إليه معاوية فاسترجع الحسين...سیدنا حسین کو جب سیدنا معاویہ کی وفات کی خبر دی گئ تو آپ نےاِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا…(شیعہ کتاب اعلام الوری طبرسی1/434) مسلمان کو کوئی مصیبت،دکھ ملےتو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(سورہ بقرہ156)ثابت ہوا سیدنا معاویہ امام حسین کے مطابق کافر ظالم منافق دشمن برے ہرگز نہ تھے، اللہ ہدایت دے
.
🟦🟦🟦🟦🟦🟦🟦
🟥وصی رسولﷺ کون۔۔۔۔۔؟؟
فَإِنْ قَالَ: أَوْصَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهِدَ إِلَيْهِ، وَأَنَّهُ الْقَاضِي لِدَيْنِهِ، وَالْقَائِمُ بِعَهْدِهِ، الْمُنْجِزُ مَوْعِدَهُ، وَمَا شَاكَلَهُ مِنْ مَوْضُوعَاتِهِمْ وَأَبَاطِيلِهِمْ. قِيلَ لَهُ: قَدْ رُوِيَ مِنَ الْوُجُوهِ الْمُرْتَضَى خِلَافُهُ وَذَلِكَ....قَالَتْ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ...بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: «أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ...فَفِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ الثَّابِتَةِ إِبْطَالٌ لِمَا ادَّعَاهُ مِنِ اخْتِصَاصِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَصِيَّتِهِ وَعَهْدِهِ مِنْ دُونِ الْمُسْلِمِينَ كَافَّةً
امام ابو نعیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وصی بنایا کہ وہ ان کے قرض کے معاملات اور اس کے وعدوں کے معاملات اور اس طرح کے دیگر معاملات کو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سنبھالیں گے، لہذا سیدنا علی وصی رسول ہیں تو امام ابو نعیم فرماتے ہیں یہ تمام چیزیں باطل اور من گھڑت ہیں بلکہ روایتوں سے ان کا رد ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو ان معاملات میں وصی بنایا ہو۔۔۔ ایک حدیث پاک میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خصوصی وصی مقرر نہ کیا،بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کو تھامے رہنے کی وصیت کی تو اس طرح کی دیگر روایات سے وہ دعوی باطل ہو جاتا ہے کہ دیگر کو چھوڑ کر فقط سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصیہ بنایا ، یہ نظریہ باطل ہے
(تثبیت الامامۃ ص231تا234)
۔
: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ وَصِيًّا. فَقَالَتْ : مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ ؟ وَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي - أَوْ قَالَتْ : حَجْرِي - فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ ؟
کچھ حضرات نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس عرض کی کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصی بنایا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں اور میری موجودگی میں رہے اور وفات پا گئے تو میں نے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات نہیں سنی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وصی بنایا ہو
(بخاری روایت2741)
۔
👈غسل کفن تدفین میں وصی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ایسے معاملات میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وصیت فرمائی ہوتی ان کو وصی مقرر کیا ہوتا تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ دو ٹوک الفاظ میں بیان فرماتے جبکہ ہر ایک نے اپنی رائے دی لیکن سیدنا ابوبکر صدیق نے رسول کریم کی ایک طرح سے وصیت پڑھ کر سنائی گویا کہ سیدنا ابوبکر صدیق وصی رسول
ہیں
دَخَلَ أبو بكرٍ -رضي الله عنه- على رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- حينَ ماتَ.....ويُصَلَّى عَلَيهِ؟ وكَيفَ يُصَلِّى عَلَيهِ؟ قال: تَجيئونَ عُصَبًا عُصَبًا فيُصَلُّونَ فعَلِموا أنَّه كما قال، فقالوا: هَل يُدفَنُ؟ وأَينَ؟ فقالَ: حَيثُ قَبَضَ اللهُ روحَه
ترجمہ:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہو گئی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حاضر ہوئے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی تو سیدنا صدیق اکبر نے جواب دیا جی ہاں ۔صحابہ کرام نے عرض کیا کیسے نماز جنازہ پڑھیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ تم گروہ در گروہ آتے جاؤ اور نماز جنازہ پڑھتے جاؤ... پھر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو دفن کیا جائے گا اور کہاں دفن کیا جائے گا ؟ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو وہاں دفن کیا جائے گا جہاں ان کی روح قبض ہوئی
(السنن الكبرى للبيهقي7/362روایت6987بحذف)
.
ووضع على سريره دخل أبو بكر وعمر فقالا السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته ومعهما نفر من المهاجرين والأنصار قدر ما يسع البيت فسلموا كما سلم أبو بكر وعمر وصفوا صفوفا لا يؤمهم عليه أحد
ترجمہ:
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسد مبارک کو تخت پر لٹایا گیا تو ابوبکر اور عمر دونوں داخل ہوئے اور دونوں نے عرض کیا السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته... سیدنا ابو بکر صدیق اور عمر کے ساتھ مہاجرین اور انصار میں سے صحابہ کرام تھے کہ جتنا گھر میں جگہ تھی پھر سب نے سلام عرض کیا جیسے کہ ابوبکر اور عمر نے سلام عرض کیا اور یہ سب صف باندھے کھڑے ہوئے تھے کوئی امام نہ تھا
(جامع الأحاديث روایت27941)
(الطبقات الكبرى ط دار صادر2/290)
.
👈جب تدفین کا وقت آیا تو صحابہ کرام میں اختلاف ہوا کہ کہاں دفنایا جائے تو سیدنا صدیق اکبر نے گویا بطور وصیت و بطور وصی حدیث پاک سنا کر مسلہ حل کر دیا، گویا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ وصی رسول
ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ، قَالَ: «مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي المَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ»، ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ
ترجمہ:
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو صحابہ کرام میں اختلاف ہو گیا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو کہاں دفن کیا جائے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےاس متعلق ایک حدیث پاک سنی ہے کہ جس کو میں کبھی نہیں بھولا...نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کوئی بھی نبی اسی جگہ وفات پاتا ہے کہ جس جگہ پر اس کا دفن ہونا محبوب ہوتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی جگہ پر دفن کیا جائے گا
(سنن الترمذي روایت1018)
.
أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ يَدْفِنُونَهُ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُحَوَّلُ عَنْ مَكَانِهِ , يُدْفَنُ حَيْثُ يَمُوتُ» فَنَحَّوْا فِرَاشَهُ فَحَفَرُوا لَهُ مَوْضِعَ فِرَاشِهِ
ترجمہ:
صحابہ کرام میں اختلاف ہو گیا کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک کہاں کی جائے،کہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کریں؟... سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ نبی پاک کو اس جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا جہاں اس کی وفات ہوئی ہو تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو اسی جگہ پر دفن کیا گیا
(استادِ بخاری،المصنف ابن ابی شیبہ روایت37022)
۔
👈وعدے عھد قرض وغیرہ میں بھی وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وعدے کی تکمیل کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف اشارہ فرمایا
الحدیث:
أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَتْ : أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ ؟ كَأَنَّهَا تَقُولُ : الْمَوْتَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ
ایک عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی نبی پاک نے فرمایا کہ میرے پاس بعد میں آنا، اس عورت نے کہا کہ اگر میں آپ کو نہ پاؤں گویا کہ وہ یہ کہہ رہی تھی کہ شاید آپ وفات پا چکے ہوں تو؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا
(بخاری حدیث3659)
.
👈چاروں خلفاء راشدین بھی وصی رسول ہیں:
اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ "
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا
(ترمذی حدیث3662)
۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول کریم نے وصیت کی کہ وہ حضور علیہ السلام کی طرف سے قربانی کیا کریں
(ابوداود روایت2790)
.
الحدیث:
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا
نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پر میری سنت لازم ہے اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت لازم ہے، ان سنتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو
(ابوداؤد حدیث4607)
(ابن ماجہ حدیث43نحوہ)
(ترمذی حدیث2676نحوہ
.
🟦✅لیھذا ایسے انداز میں باتیں نظریات اشعار نہ لکھے جائیں کہ جس سے تقویت ملتی ہو کہ فقط سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔۔۔۔ بلکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سب کو وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشہور کیا جائے
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475