Labels

حنیف قریشی بمع کمپنی کا اعتراض کہ ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا علی نےفرمایا میں صدیق اکبر ہوں۔اس روایت کے راویوں کو 👈علامہ سیوطی علامہ بوصیری علیھما الرحمۃ نےصحیح قرار دیا ہے جبکہ بعض👈بریلوی ناصبیت میں اکر اسے موضوع ضعیف کہہ رہے ہیں، تو اس کا کیا جواب ہے۔۔؟؟ 👈چمن و حنیف وغیرہ کے اس اصول مطابق کون کون اکابرین ناصبی قرار پائیں گے۔۔۔؟؟ پڑھیے مختصر مدلل تحریر

 🟥 *#حنیف قریشی بمع کمپنی کا اعتراض کہ ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا علی نےفرمایا میں صدیق اکبر ہوں۔اس روایت کے راویوں کو 👈علامہ سیوطی علامہ بوصیری علیھما الرحمۃ نےصحیح قرار دیا ہے جبکہ بعض👈بریلوی ناصبیت میں اکر اسے موضوع ضعیف کہہ رہے ہیں، تو اس کا کیا جواب ہے۔۔؟؟ 👈چمن و حنیف وغیرہ کے اس اصول مطابق کون کون اکابرین ناصبی قرار پائیں گے۔۔۔؟؟ پڑھیے مختصر مدلل تحریر*

۔

🔴 سوال:

علامہ صاحب یہ حنیف قریشی کی تحریر دیکھیں، چمن زمان کے گروپ میں یہ پھیلائی جا رہی ہے کہ

 امام بوصیری اور امام سیوطی علیہ الرحمہ جیسے محققین معتبر علماء نے ابن ماجہ کی اس روایت کے راویوں صحیح کہا ہے کہ جس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد کوئی صدیق اکبر کہے وہ جھوٹا ہے، اور جو علماء محققین اس روایت کے راویوں پر جرح کر رہے ہیں اور موضوع من گھڑت ، ضعیف کہہ رہے ہیں ان کو یہ لوگ ناصبی قرار دے رہے ہیں۔۔تسلی بخش مدلل جواب دیں اور یہ بھی بتائیں کہ ابن ماجہ تو صحاح ستہ کی کتاب ہے، امام ابن ماجہ بھلا کیسے اپنی کتاب میں موضوع من گھڑت ضعیف جدا روایت لکھیں گے

۔

🟩 *#جواب۔و۔تحقیق*

👈1۔۔۔امام بوصیری علیہ الرحمۃ کے مطابق ابن ماجہ جیسی کتب میں موضوع من گھڑت اور شدید ضعیف احادیث اسکتی ہیں

۔

👈2۔۔۔ امام بوصیری علیہ الرحمۃ کے مطابق کوئی امام کسی حدیث کو صحیح یا قابل عمل یا فضائل میں قابل قبول قرار دیتا ہے مگر حقیقت میں وہ تحقیق کے مطابق ایسی نہیں ہوتی بلکہ مردود اور باطل ہوتی ہے

۔

👈3...ابن ماجہ کی روایت کو من گھڑت یا شدید ضعیف یا اس کے راویوں کو سخت مجروح غیر معتبر قرار دے کر اس حدیث کا فضائل میں بھی غیر معتبر قرار پانا درج دیل علماء سے ثابت ہوتا ہے۔۔👈کیا ان سب پر بھی ناصبیت کا فتوی لگاو گے

1...امام سیوطی

2...امام احمد بن حنبل

3...امام بخاری

4...امام عقیلی

5...امام ابن قدامہ

6....امام آجری

7....امام ابوداود

8...امام فسوی

9...امام مزی

10...الحاكم

11...ابن قتيبة

12...يعقوب

13...الجوزجاني

14...امام ابن ابی حاتم

۔

✅امام بوصیری لکھتے ہیں

قلت فَمن تَأمل كَلَام السُّيُوطِيّ هَذَا فهم حسن نِيَّة المُصَنّف فِي وَصفه الحَدِيث فِي كِتَابه وَلم يقْصد التعصب لبلاده وَلَعَلَّ الْعذر أَنه كَانَ فِي نِيَّته بعد الْإِخْرَاج التصفية ورد كل حَدِيث لما يسْتَحقّهُ صِحَة أَو حسن أَو ضعف أَو مَوْضُوع ففاجأته الْمنية هَكَذَا يَنْبَغِي أَن تلتمس لَهُم أحسن المخارج لحسن نياتهم رَحِمهم الله تَعَالَى وَغفر لَهُم فليسوا

 بالمعصومين

امام سیوطی فرماتے ہیں کہ فلاں حدیث موضوع من گھڑت ہے مگر ابن ماجہ میں ہے۔۔۔۔۔تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابن ماجہ میں ایسی روایت ہو۔۔۔۔؟؟ تو اس کے جواب میں فرماتے ہیں ہم حسن ظن رکھیں گے کہ امام ابن ماجہ نے حدیثوں کو لکھا ہے لیکن ان کو دوبارہ چیک کرنے کے لیے کہ کونسی صحیح ہے اور کونسی ضعیف ہے اور کون سی حسن ہے اور کون سی موضوع من گھڑت اور کونسی سخت ضعیف۔۔۔اس کے لیے ان کو وقت نہ مل پایا تو اسی لیے وہ معذور ہیں

امام بوصیری اس جواب کی تائید و تحسین فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بے شک ائمہ محدثین غلطیوں خطاؤں سے معصوم نہیں ہیں، ان کے ایسے عذر بیان کریں گے مگر انکی بیان کردہ روایت کو مقبول قرار نہ دیں گے

(مصباح الزجاجۃ3/161 ماخوذا)

۔

✅لیھذا امام بوصیری علیہ الرحمۃ کے مطابق یہ اصول تمام پر لاگو ہوگا بلکہ خود امام بوصیری کے کلام پر بھی لاگو ہوگا کہ ممکن ہے انہوں نے کسی حدیث کو صحیح کہا ہو، اس کے راویوں کو صحیح کہا ہو لیکن چھان بین کا وقت نہ ملا اور وہ حدیث صحیح اور معتبر نہ نکلی تو ایسا بالکل ممکن ہے

جب

👈ہم نے ائمہ محققین محدثین معتدل معتبر کے کلام مفصل کو دیکھا تو نتیجہ سامنے ایا کہ ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث کے تین راویوں کی اگرچہ کچھ نہ کچھ توثیق ہے لیکن بعض پر جرح مفسر اور غالب ہے اور مبہم توثیق پر جرح مفسر مقدم ہوتی ہے اس لیے یہ حدیث ابن ماجہ کی تمام محدثین کے اصول کے مطابق شدید ضعیف یا موضوع من گھڑت قرار پاتی ہے اور تمام محدثین کا متفقہ اصول ہے کہ فضائل میں شدید ضعیف حدیث بھی معتبر نہیں بلکہ کئی علمائے متقدمین نے ابن ماجہ کی اس روایت کو اور اس سے ملتی جلتی دیگر روایت کو موضوع من گھڑت یا شدید ضعیف قرار دے کر غیر مقبول مردود قرار دیا ہے، جیسے کہ اوپر 14 نام دییے ہیں اور انکی تفصیل نیچے ا رہی ہے

.

🔴🔴🔴🔴🔴🔴

🟩پہلے ہم چار اہم اصول مختصر لکھ رہے ہیں👈ضرور ضرور پڑھیے تاکہ اگے بات سمجھ میں آئے، اصولوں کی تفصیل و حوالے تحریر کے اخر میں لکھیں گے

1️⃣ پہلا اصول

کسی راوی کو ثقہ معتبر کہا گیا ہو لیکن علماء محققین نے جرح مفسر کردی ہو تو جرح مفسر کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کی روایت کو قابل قبول نہیں کیا جائے گا

۔

2️⃣ دوسرا اصول:

شدید ضعیف حدیث فضائل میں بھی قابل قبول نہیں

اور

منکر متروک وغیرہ الفاظ شدید ضعیف ثابت کرتے ہیں لہذا ایسے الفاظ جرح مفسر کے طور پر ہوں تو وہ روایت شدید ضعیف قرار پائے گی اور فضائل میں بھی قابل قبول نہیں ہوگی

۔

3️⃣ تیسرا اصول:

ابن ماجہ جیسی کتب میں بھی شدید ضعیف یا موضوع حدیث اسکتی ہے ، اور شدید مجروح غیر معتبر راوی کو کوئی محدث امام ثقہ بھی لکھ جاتا ہے

کیونکہ

ایسا بھی ہوتا ہے کہ چھان بین کا وقت نہیں ملتا یا تساہل ہو جاتا ہے یا کسی پر اکتفاء کرکے لکھا جاتا ہے یا ان مذکورہ وجہ پر ثقہ کہا جاتا ہے جبکہ تحقیق تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تو فضائل میں بھی غیر معتبر حدیث و روایت ہے اور وہ راوی فضائل میں بھی غیر معتبر و مجروح قرار پاتا ہے

۔

4️⃣راوی رافضی ، غالی شیعہ ، ہو اور روایت اہلبیت کرام کے متعلق کرے اور اس کی تائید کسی معتبر روایت سے نہ ہوتی ہو تو اس روایت کو موضوع اور من گھڑت مردود ناقابل قبول قرار دیا جائے گا

🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴

👈امام ابن قدامہ، امام احمد بن حنبل

قال الأَثْرَمُ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ "أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ"فَقَالَ: اضْرِبْ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّهُ حَدِيثٌ منكر.

امام ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ امام اثرم نے کہا کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی جو روایت ہے ابن ماجہ کی کہ میں صدیق اکبر ہوں اس کے متعلق اپ کیا فرماتے ہیں تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ ایسی روایت بیان کرنے والے شخص کو میں سزا دوں گا بے شک وہ روایت منکر(غیر معتبر شدید ضعیف یا موضوع) ہے

(المنتخب من علل الخلال1/204مشرحا)

۔

👈امام عقیلی، امام بخاری

سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ. حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ: «أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ» ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، وَلَا يُعْرَفُ سَمَاعُ سُلَيْمَانَ مِنْ مُعَاذَةَ

امام عقیلی فرماتے ہیں کہ

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جو روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں تو اس کے متعلق امام بخاری نے فرمایا کہ اس حدیث کی تائید و متابعت کرنے والی کوئی معتبر روایت و حدیث نہیں ہے اور یہ روایت خود بھی معتبر نہیں کہ سلیمان نے معاذہ سے نہیں سنا(لیھذا گویا یہ اپنی طرف سے گھڑی ہوئی من گھڑت یا شدید ضعیف غیر معتبر روایت بیان کر رہا ہے)

(الضعفاء الكبير للعقيلي2/130)

۔

👈امام سیوطی، امام ابن حجر

وَأَنْتَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ وَأَنْتَ الْفَارُوقُ تُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَأَنْتَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الْكُفَّارِ، مَوْضُوع: مُحَمَّد بْن عُبَيْد الله لَيْسَ بِشَيْء وَعباد مَتْرُوك.(قلتُ) قَالَ الْحَافِظ ابْن حجر فِي زَوَائِد الْبَزَّار: هَذَا إِسْنَاد واه وَمُحَمَّد مُتَّهم وَعباد من كبار الروافض

امام سیوطی فرماتے ہیں کہ جو روایت ہے کہ سیدنا علی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر فاروق قرار دیا تو یہ روایت موضوع ہے من گھڑت ہے امام سیوطی اس کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام ابن حجر عسقلانی نے فرمایا ہے کہ اس روایت کے راوی واہیات ہیں، اس روایت کا ایک راوی محمد پر جرح ہے کہ وہ من گھڑت  روایتیں گھڑ لیتا تھا، اور عباد(جو ابن ماجہ کی روایت کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں اس کا راوی بھی ہےیہ عباد)راوی رافضی تھا( اور اس کی تائید کسی معتبر روایت سے نہیں ملتی جیسے کہ خود محققین نے لکھا ہے لہذا اہل بیت کے متعلق رافضی کی یہ روایت اصول نمبر چار کے تحت موضوع من گھڑت جھوٹی قرار پاتی ہے)

(اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة1/297)

۔

👈امام بخاری

سُليمان بن عَبد الله، عن مُعاذة العَدويَّة، عن عَليٍّ: أَنا الصِّدّيق الأَكبَرُ.۔۔قال البُخاريُّ: لا يُتابَع عَليه، ولا يُعرَف سَماع سُليمان مِن مُعاذة.

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جو روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں تو اس کے متعلق امام بخاری نے فرمایا کہ اس حدیث کی تائید و متابعت کرنے والی کوئی معتبر روایت و حدیث نہیں ہے اور یہ روایت خود بھی معتبر نہیں کہ سلیمان نے معاذہ سے نہیں سنا(لیھذا گویا یہ اپنی طرف سے گھڑی ہوئی من گھڑت یا شدید ضعیف غیر معتبر روایت ہے)

(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين7/30)

۔

👈امام سیوطی

فَهَذَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، مَوْضُوع: صنعه النداء

امام سیوطی فرماتے ہیں کہ النداء راوی نے یہ حدیث من گھڑت گھڑ لی ہے ،جھوٹی گھڑ لی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو صدیق اکبر فرمایا ہے

(اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة1/296)

.

👈امام سیوطی،امام ابن مدینی، امام ابن حجر

حَدَّثَنَا عُبَيْد الله بْن مُوسَى حَدَّثَنَا الْعَلَاء بْن صالِح عَن الْمنْهَال بْن عَمْرو عَن عباد بْن عَبْد الله الْأَسدي سمعتُ عليًّا يَقُولُ: أَنَا عَبْد الله وأخو رَسُوله وَأَنا الصّديق الْأَكْبَر لَا يَقُولهَا بعدِي إِلَّا كَاذِب صليتُ قبل النَّاس سبع سِنِين۔۔۔وَعباد قَالَ ابْن الْمَدِينِيّ ضَعِيف الحَدِيث وَذكره ابْن حبَان فِي الثِّقَات.۔وَقَالَ فِي الْمِيزَان هَذَا الحَدِيث كذب عَلَى عَليّ وَقد أَخْرَجَهُ الْحَاكِم فِي الْمُسْتَدْرك قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاس مُحَمَّد بْن يَعْقُوب حَدَّثَنَا الْحَسَن بْن عَلِيّ بْن عَفَّان حَدَّثَنَا عُبَيْد الله بْن مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيل عَن أبي إِسْحَاق عَن الْمنْهَال بْن عَمْرو بِهِ وَقَالَ صَحِيح عَلَى شَرط الشَّيْخَيْنِ وَتعقبه الذَّهَبِيّ فِي تلخيصه بِأَن عبادًا ضَعِيف وَالله أعلم

امام سیوطی ابن ماجہ والی روایت کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں اس کے متعلق امام سیوطی تحقیق فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام ابن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے عباد کی وجہ سے جبکہ میزان میں اور اسی طرح امام ابن حجر نے عباد کو روافض میں شمار کر کے اس روایت کو موضوع من گھڑت یا شدید ضعیف قرار دیا ہے(اور مزید تحقیق کہ دوسرا راوی علاء پر بھی جرح ہے، اور ابن ماجہ کی اس روایت کے ایک اور راوی عبیداللہ پر شدید جرح مفسر ہے جو کہ مقدم و معتبر ہے لیھذا کئ وجوہات کی بنیاد پر یہ ابن ماجہ والی روایت بھی شدید ضعیف یا من گھڑت موضوع قرار پاتی ہے)

(اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة1/295ملخصا)

.

👈امام سیوطی ، امام حاکم

سَمِعت رَسُول الله يَقُولُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي عَلَى: هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ فَارُوقُ هَذِهِ الأُمَّةِ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَهُوَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الظَّلَمَةِ وَهُوَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ وَهُوَ بَابِي الَّذِي أُوتِيَ مِنْهُ وَهُوَ خَلِيفَتِي من بعدِي: ابْن داهر.قَالَ الْعقيلِيّ كَانَ مِمَّن يغلو فِي الرَّفْض وَلَا يُتَابع عَلَى حَدِيثه وَإنَّهُ كَذَّابٌ (قلتُ) لَهُ طريقٌ آخر قَالَ أَبُو أَحْمَد الْحَاكِم فِي الكنى حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاس مُحَمَّد بْن يَعْقُوب بْن يُوسُف حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيم بْن سُلَيْمَان الخزار الفهمي حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْن بشر الْأَسدي حَدثنَا خَالِد بن الْحَرْث عَن عَوْف عَن الْحَسَن عَنْ أَبِي لَيْلَةَ الْغِفَارِيِّ....عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يَرَانِي وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ وَهُوَ فَارُوقُ هَذِهِ الأُمَّةِ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَهُوَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الْمُنَافِقِينَ قَالَ الْحَاكِم إِسْنَادُهُ غَيْرُ صَحِيحٍ انْتهى.وَفِي الْمِيزَان: إِسْحَاق بْن بشر كَذَّاب فِي عداد يصنعُ الحَدِيث وَأورد لَهُ هَذَا

الحَدِيث، وَالله أعلم

امام سیوطی فرماتے ہیں کہ ایک اور روایت ہے کہ جس میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر قرار دیا ہے تو اس روایت کے متعلق امام حاکم نے فرمایا ہے کہ صحیح نہیں ہے، اور میزان میں ہے کہ اس روایت کا راوی اسحاق بن بشر کذاب جھوٹا راوی ہے جو کہ حدیثیں من گھڑت گھڑ لیتا ہے، ایسی ایک روایت ہے جو کہ متابع نہیں اور اسکا کوئی متابع بھی نہیں کیونکہ اسکا راوی ابن داہر رافضیت میں غلو کرنے والا تھا اور حدیثیں من گھڑت گھڑ لیتا تھا

(اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة1/298)

.

🔴🔴🔴🔴🔴🔴

👈ابن ماجہ کی روایت کے تین راوی

1....عبیداللہ

2...عباد

3...العلاء

کے متعلق9حوالہ جات پڑھیے کہ ان پر👈 جرح مفسر ہے لہذا ابن ماجہ والی روایت میں ان کو غیر معتبر قرار دیا جائے گا اور روایت فضائل میں بھی غیر معتبر ناقابل قبول قرار پائے گی،ہاں البتہ ان تینوں راویوں سے کتب میں دیگر روایات لی گئی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کوئی متابع ہے یا دیگر وجوہ قبول ہیں اور وجوہ رد نہیں ہیں

۔

1....سألت أحمد عن عبيد اللَّه بن موسي۔۔۔۔يحدث بأحاديث فيها تنقص لأصحاب رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ بن موسی سخت غیر معتبر راوی ہے اس نے ایسی من گھڑت جھوٹی روایات گھڑ لی ہیں کہ جس میں صحابہ کرام کی توہین و گستاخی کی گئ ہے

الجامع لعلوم الإمام أحمد - الرجال18/169

۔

2....وَكَانَ شِيعِيًّا

امام سیوطی فرماتے ہیں کہ ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ شیعہ تھا

(طبقات الحفاظ للسيوطي ص155)

۔

3...امام مزی امام آجری امام ابوداود

وَقَال أَبُو عُبَيد اللَّه الآجري عَن أَبِي دَاوُد: كَانَ محترقا

 شيعيا،

امام اجری اور امام ابو داؤد کے مطابق ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ جلا بھنا سخت کٹر شیعہ تھا

(تهذيب الكمال في أسماء الرجال19/169)

۔

4....وقال أبو مسلم البغدادي: عبيد الله بن موسى من المتروكين تركه أحمد لتشيعه، وقد عوتب أحمد على روايته عن عبد الرزاق، فذكر أن عبد الرزاق رجع...وقال أحمد: روى مناكير...وقال الآجري: قال أبو داود: سمعت أحمد بن حنبل يقول: من عبيد الله بن موسى؟ كل بلية تأتي عن عبيد الله بن موسى

ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ کو امام ابو مسلم بغدادی نے متروک قرار دیا ہے(اور متروک روایت سخت ضعیف ہوتی ہے اور فضائل میں بھی قبول و معتبر نہیں ہوتی)امام عبدالرزاق نے اس راوی سے روایت لی تو اس پر انہیں توجہ دلائی گئی تو انہوں نے اس سے روایت لینا چھوڑ دی، اس راوی کے متعلق امام احمد بن حنبل نے مزید فرمایا کہ افات بلائیں من گھڑت روایات فسادات اس عبیداللہ سے ائی ہیں

(موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله2/412)

.

5.....وقال ابن قتيبة: وكان يتشيع، ويروي أحاديث في التشيع منكرة،..وقال يعقوب بن سفيان: شيعي، وإن قال قائل: رافضي، لم أنكر عليه، وهو منكر الحديث ..وقال الجوزجاني: وعُبَيد الله بن موسى أغلا، وأسوأ مذهبًا، وأروى للعجائب ... وقال الحاكم: سمعت قاسم بن قاسم السياري، سمعت أبا مسلم البغدادي الحافظ يقول: عبيد الله بن موسى من المتروكين

ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ کے متعلق ابن قتیبہ نے کہا کہ وہ شیعت کرتا تھا اور شیعت کے دفاع میں اس نے منکر مردود روایتیں لائی ہیں اسی طرح امام یعقوب نے بھی اسے شیعہ کہا بلکہ فرمایا کہ اگر کوئی اس کو رافضی کہے تو بھی میں انکار نہیں کروں گا، اس راوی کے متعلق امام جوزجانی نے فرمایا کہ غلو کرنے والا ہے گندے مذہب والا ہے منکر الحدیث ہے ، امام حاکم نے فرمایا کہ قاسم بن قاسم امام ابو مسلم بغدادی نے فرمایا ہے کہ یہ راوی متروک راوی ہے( اور متروک راوی منکر راوی کی روایت شدید ضعیف ہوتی ہے فضائل میں ناقابل قبول ہوتی ہے جیسے کہ اوپر چار اصول لکھے ہیں)

(تهذيب التهذيب -ابن حجر8/676)

۔

6....وقال علي بن المديني ضعيف 

ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عباد کے متعلق امام ابن مدینی نے فرمایا کہ ضعیف ہے

(تهذيب التهذيب،ابن حجر5/98)


۔

7....عباد ابن عبد الله الأسدي الكوفي ضعيف

امام ابن حجر اسقلانی نے بھی عباد راوی مذکورہ روایت ابن ماجہ کو ضعیف قرار دیا

(تقريب التهذيب ابن حجر ص290)

.

8....العلاء بن ابى العباس فقال هو من عتق الشيعة

ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی علاء کے متعلق امام ابن ابی حاتم نے فرمایا ہے کہ وہ بڑے بڑے شیعوں میں سے تھا

(الجرح والتعديل - ابن أبي حاتم6/356)

.

9....روى أحاديث مناكير....، حدثنا العلاء بن صالح، عن المنهال بن عمرو، عن عباد بن عبد الله، قال: سمعت عليا يقول: أنا عبد الله وأخو رسول الله، وأنا الصديق الاكبر، لا يقولهما بعدى الا كذاب

ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی العلاء منکر روایتیں بیان کرتا تھا ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں( اوپر چار اصولوں میں بیان ہو چکا کہ منکر روایتیں شدید ضعیف کہلاتی ہیں فضائل میں بھی غیر معتبر ہوتی ہیں)

(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين10/464)

.

🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴

اوپر ذکر کردہ چار اصولوں کے13 حوالہ جات

۔

 1...شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ

فحديثه منكر مردود

ترجمہ:

اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید ہو تو)منکر و مردود ہے

(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)

(المقنع في علوم الحديث1/188)

.

2....كلام الحافظ ابن العربي فيحمل على شديد الضعف المتفق على عدم العمل به كما أشار إليه السخاوي. قوله: (في الفضائل) قال في  المجموع وغيره فضائل الأعمال وحذف هنا اما اكتفاء بالعلم من كون المقام لفضل العمل أو تنبيهاً على تعميم الفضائل الشاملة للعمل وغيره كما يدل له قولهم يجوز العمل بالضعيف فيما عدا الأحكام والعقائد. قوله: (والترغيب والترهيب) أي  بسائر فنونه وكذا كل ما لا تعلق له بالأحكام والعقائد كما قاله في الإرشاد. قوله: (ما لم يكن موضوعاً) وفي معناه  شديد الضعف فلا يجوز العمل بخبر من انفرد من كذاب ومتهم بكذب ومن فحش غلطه فقد نقل العلائي الاتفاق عليه

 امام ابن عربی کے کلام محمل یہ ہے کہ شدید ضعیف پر عمل نہ کیا جائے گا،ایسا ہی فرمایا ہے امام سخاوی نے اور موضوع متھم کذاب فحش غلط کی روایت فضائل میں بھی فضائل میں معتبر نہیں

 ان سب باتوں پر سب محققین محدثین کا اتفاق ہے

(كتاب الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية1/83)

.

3...مراتب الضعف الشديد (التي لا يعبر بحديث أصحابها)

ـ متروك، ذاهب الحديث

یعنی

 متروک الحدیث یا ذاہب الحدیث کہا جائے تو یہ شدید ضعیف ہونے کی جرح ہے کہ ایسی شدید و سخت ضعیف روایت و حدیث فضائل و احکام میں معتبر نہیں

(خلاصة التأصيل لعلم الجرح والتعديل ص36)

.

4....مَتْرُوك الحَدِيث یا ذَاهِب الحَدِيث  یا كَذَّاب یا فَهُوَ سَاقِط لَا يكْتب حَدِيثه یا مُتَّهم بِالْكَذِبِ ایا متھم بالْوَضع

وغیرہ

 الفاظ سے جرح ہوتو ایسی "سخت ضعیف" یا موضوع روایت و حدیث سے کوئی فضائل و احکام ثابت نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی ایسی روایت و حدیث بطور شاہد پیش کی جاسکتی ہے اور ایسی روایت و حدیث کسی بھی معاملے میں معتبر نہیں ہے

(الرفع والتكميل ص152، .153ملتقطا)

۔

5....فقد ذكر الحافظ ابن حجر في شروط جواز العمل بالضعيف ثلاثة شروط أحدها: أن يكون الضعف غير شديد،

 علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا کہ

حدیث ضعیف فضائل میں مقبول ہونے کی تین شرطیں ہیں، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ روایت و حدیث شدید ضعیف نہ ہو۔۔۔اگر روایت و حدیث شدید ضعیف ہو تو فضائل اور احکام کسی میں بھی مقبول و معتبر نہیں

(أحكام الحديث الضعيف - ضمن «آثار المعلمي» ص164)

۔

6....امام سیوطی امام نووی

أَنْ يَكُونَ الضَّعْفُ غَيْرَ شَدِيدٍ، فَيَخْرُجُ مَنِ انْفَرَدَ مِنَ الْكَذَّابِينَ وَالْمُتَّهَمِينَ بِالْكَذِبِ، وَمَنْ فَحُشَ غَلَطُهُ، نَقَلَ الْعَلَائِيُّ الِاتِّفَاقَ عَلَيْهِ.

امام سیوطی اور امام نووی کے مطابق حدیث ضعیف جو فضائل میں مقبول ہوتی ہے اس کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اگر شدید ضعیف ہو یا کذاب راویوں سے یا متہم راویوں سے یا فحش غلطی کرنے والے راویوں سے مروی ہو تو تمام علماء کے مطابق یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ایسی شدید ضعیف روایت یا من گھڑت روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں

(تدریب الراوی1/351)

.

7....جَرْحٌ) مُفَسَّرٌ، (وَتَعْدِيلٌ، فَالْجَرْحُ مُقَدَّمٌ) ، وَلَوْ زَادَ عَدَدُ الْمُعَدِّلِ، هَذَا هُوَ الْأَصَحُّ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ وَالْأُصُولِيِّينَ، وَنَقَلَهُ الْخَطِيبُ عَنْ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ

امام سیوطی فرماتے ہیں فقہاء اصولیین اور جمہور معتبر علماء کے مطابق کسی راوی یا حدیث پر جرح مفسر ہو اور اس روایت یا روای کو ثقہ بھی کہا گیا ہو تو اس صورت میں جرح مفسر مقدم و معتبر ہے اگرچہ ثقہ کہنے والوں کی تعداد زیادہ ہو پھر بھی ثقہ نہ کہلائی گی

(تدریب الراوی1/364)

.

8....والجَرْحُ مُقَدَّمٌ عَلى التَّعْديلِ، وأَطلقَ ذلك جماعةٌ، ولكنَّ محلَّهُ إِن صَدَرَ مُبَيَّناً مِن عَارِفٍ بأَسْبَابِهِ؛لأنَّه إِنْ كانَ غيرَ مفسَّرٍ لم يَقْدَحْ فيمَنْ  ثبَتَتْ عدالَتُه.

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ بعض علماء کے مطابق جرح ہر صورت میں توثیق پر مقدم ہے مگر معتبر یہ ہے کہ جرح مفسر ہو یا ایسے شخص نے کی ہو کہ جو جرح کے اسباب و اصول و احوال کو جانتا ہو تو پھر اس صورت میں جرح مقدم و معتبر کہلائے گی

(نزھۃ النظر ابن حجر ص139)

۔

9....تَقْدِيم الْجرْح على التَّعْدِيل ثَابت عِنْد الْمُحَقِّقين على وَجه التَّفْصِيل وَهُوَ أَنه: (إِن صدر) أَي الْجرْح. (مبيَّناً) أَي مُفَسرًا. (من عَارِف بأسبابه) أَي الْجرْح.

امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ محققین کے نزدیک جرح توثیق پر مقدم ہے بشرطیکہ جرح مفسر ہو یا ایسے شخص نے جرح کی ہو کہ وہ جرح کےاسباب و اصول و احوال کو جانتا ہو تو پھر اس صورت میں جرح مقدم و معتبر کہلائے گی

(شرح نخبۃ الفکر ملا علی قاری ص742)

.

۔

10...وهُو الطَّعْنُ بكَذِبِ الرَّاوي في الحَديثِ النبويِّ هو المَوضوعُ

حدیث پاک کی سند یا روایت کی سند میں کذاب جھوٹا راوی ہو تب وہ موضوع من گھڑت جھوٹی روایت کہلاتی ہے

(نزھۃ النظر ابن حجر ص89)

۔

11...مدار سند حدیث پر ہے اگر اس سے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفرد ہو تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی

(شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم ج9 صفحہ 337)

۔

12..حضرت علامہ ملا علی قاری فرماتے ہیں: موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو

(شرح نخبۃ الفکر جلد1 صفحہ 435 )

۔

13..موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا....یا ناقل رافضی(ہو اور) حضرات اہلبیت کرام علٰی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں(تو روایت موضوع  من گھرٹ جھوٹی مردود کہلائے گی

(فتاوی رضویہ 5/461. .466ملتقطا)

۔

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر(بطور تعارف علامہ)عنایت اللہ حصیر القادری

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.