Labels

توہین و گستاخی کےالفاظوں کےساتھ👈سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر کٹر شیعہ کے دس بڑے اعتراضات کے مدلل جوابات پڑھیےاس تحریر میں،پھیلائیے کہ 👈شاید کسی کو ہدایت ملے

 🟥 *#توہین و گستاخی کےالفاظوں کےساتھ👈سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر کٹر شیعہ کے دس بڑے اعتراضات کے مدلل جوابات پڑھیےاس تحریر میں،پھیلائیے کہ 👈شاید کسی کو ہدایت ملے۔۔۔۔۔!!*

۔

🌀اعتراضات کے اگے پیچھے جو توہین امیز الفاظ، مذمتی الفاظ اور توپین امیز ایموجیز شیعہ نے لگائے وہ میں نے یہاں حذف کر دیے ہیں تاکہ فساد نہ پھیلے اور میں نے تحریر میں حتی المقدور انداز بھی زیادہ سخت نہیں رکھا کہ شاید انکے دل میں اتر جائے حق بات۔۔۔۔۔۔!!

۔

پہلا اعتراض:1️⃣

🔵شیعہ نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ:

حدیث لکھنے پر پابندی اور صحابہ کو مارنا

تقیید العلم، خطیب بغدادی، صفحہ 52-53:

عمر نے صحابہ کو حدیث لکھنے سے منع کیا اور کہا: "ہم اللہ کی کتاب سے کفایت کرتے ہیں۔" جب کسی نے حدیث لکھی تو اسے مارا اور مٹا دیا۔

۔

🟩جواب و تحقیق:

الفاظ کے انداز سے واضح ہے کہ شیعہ یہ تاثر دینا چاہ رہا ہے کہ نعوذ باللہ تعالی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی 👈حدیث مبارک سے چڑ تھی،اور 👈صحابہ کرام سے سخت اختلاف و جگھڑا تھا کہ زبردستی اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام مبارک یعنی حدیث مبارک کو لکھنے سے منع کیا اور جلوا دیا اور سزا دی

جبکہ

اے شیعہ حضرات، 👈اللہ تمھیں ہدایت دے،اپ لوگ تعصب کی عینک اتار کر پوری بات خطیب بغدادی کی کتاب ہی سے پڑھو گے تو اپ  عش عش کرکے کہیں گے کہ واہ عمر فاروق اپ کی سنت سے محبت اور صحابہ کرام سے محبت اور احتیاط۔۔۔ کیا کہنے اپ کے یا عمر الفاروق۔۔۔

۔

خطیب بغدادی کی اسی کتاب میں ہے

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ السُّنَنَ، فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ , فَأَشَارُوا عَلَيْهِ أَنْ يَكْتُبَهَا فَطَفِقَ عُمَرُ يَسْتَخِيرُ اللَّهَ فِيهَا شَهْرًا , ثُمَّ أَصْبَحَ يَوْمًا وَقَدْ عَزَمَ اللَّهُ لَهُ , فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَكْتُبَ السُّنَنَ وَإِنِّي ذَكَرْتُ قَوْمًا كَانُوا قَبْلَكُمْ كَتَبُوا كُتُبًا فَأَكَبُّوا عَلَيْهَا وَتَرَكُوا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى , وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُلْبِسُ كِتَابَ اللَّهِ بِشَيْءٍ أَبَدًا»......ثُمَّ تَذَكَّرْتُ فَإِذَا أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ قَبْلَكُمْ قَدْ كَتَبُوا مَعَ كِتَابِ اللَّهِ كُتُبًا....فَإِذَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ قَدْ كَتَبُوا مَعَ كِتَابِ اللَّهِ كِتَابًا أَلْبَسُوا عَلَيْهِ , وَتَرَكُوا كِتَابَ اللَّهِ , وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُلْبِسُ كِتَابَ اللَّهِ بِشَيْءٍ أَبَدًا , فَتَرَكَ عُمَرُ كِتَابَ السُّنَّةِ....فَإِذَا حَفِظْتُهُ مَحَوْتُهُ۔۔۔۔يَسْمَعُ الْحَدِيثَ وَيَكْتُبُهُ فَإِذَا حِفْظَهُ دَعَا بِمِقْرَاضٍ فَقَرَضَهُ۔۔۔۔الْكُتُبِ ذَهَبَ نُورُهُ وَصَارَ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ , قُلْتُ إِنَّمَا اتَّسَعَ النَّاسُ فِي كَتْبِ الْعِلْمِ وَعَوَّلُوا عَلَى تَدْوِينِهِ فِي الصُّحُفِ بَعْدَ الْكَرَاهَةِ لِذَلِكَ , لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ انْتَشَرَتْ وَالْأَسَانِيدَ طَالَتْ وَأَسْمَاءُ الرِّجَالِ وَكُنَاهُمْ وَأَنْسَابَهُمْ كَثُرَتْ , وَالْعِبَارَاتِ بِالْأَلْفَاظِ اخْتَلَفَتْ , فَعَجَزَتِ الْقُلُوبُ عَنْ حِفْظِ مَا ذَكَرْنَا , وَصَارَ عِلْمُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا الزَّمَانِ أَثْبَتُ مِنْ عِلْمِ الْحَافِظِ

خلاصہ:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں و احادیث مبارکہ کو لکھوائیں تو انہوں نے اس معاملے میں صحابہ کرام سے مشاورت کی اور صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ احادیث مبارکہ کو بھی لکھ لینا چاہیے، سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس معاملے میں اللہ کے حضور استخارہ فرماتے رہے پھر ایک دن انہیں پختہ خیال یہ سمجھ میں ایا اور انہوں نے صحابہ کرام سے عرض کی کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ احادیث مبارکہ اور سنتوں کو لکھوا لوں لیکن پھر مجھے اس قوم کی طرف توجہ ہوئی جو پہلے گزر چکی اور انہوں نے اللہ کے کلام کے ساتھ ساتھ دیگر کلام کو بھی لکھا اور متشابہ کر دیا تو میں اللہ کی قسم یہ ہرگز نہیں کروں گا کہ احادیث اور سنتوں کو لکھواؤں اس طرح کے کتاب اللہ سے مشابہت و التباس پیدا ہو جائے( کیونکہ اس وقت باقاعدہ صرف قران مجید کی ہی لکھائی کی جاتی تھی،تو احادیث کی کتابیں لکھوانے سے ڈر تھا کہ) قریب یا دور دراز کے لوگ یا کم علم لوگ حدیث کی کتاب کو ہی قران مجید نہ سمجھ لیں یا قران مجید کو حدیث پاک کی کتاب ہی نہ سمجھ لیں اس لیے اپ نے منع فرما دیا اور جنہوں نے لکھا ہوا تھا ان کو مٹوا دیا اور حکم دیا کہ احادیث مبارکہ کو ذہنوں میں محفوظ کیا جائے یاد کیا جائے اور اگے منتقل کیا جائے پھر بعد کے ائمہ نے جب دیکھا کہ اب قران مجید اور احادیث مبارکہ کی کتاب میں التماس و اشتباہ کا اندیشہ نہیں اور علم حدیث یاد کرنے میں دشواریاں ہیں  تو انہوں نے احادیث کی کتابیں احتیاط کے ساتھ اس طرح لکھی کہ قران سے مشابہت نہ ہو

(تقیید العلم، خطیب بغدادی، ص49٫59٫ومابعدہ ملتقطا)

👈1۔۔۔واضح ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اور وہ چاہتے تھے کہ احادیث مبارکہ اور سنتوں کو کتابی شکل میں لکھا جائے مگر پھر احتیاط کے نظر انہوں نے منع فرما دیا.... ناں کہ نفرت کی وجہ سے نعوذ باللہ تعالی

👈2۔۔۔یہ بھی واضح ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس معاملے میں صحابہ کرام سے مشاورت کی اور ان کا ادب اور احترام کیا اور ان کو مشاورت میں لے کر اگے چلے

۔

🟫🟫🟫🟫🟫🟫🟫

دوسرا اعتراض2️⃣

🔵 شیعہ نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ:

شراب نوشی

سنن بیہقی، جلد 8، صفحہ 181:

ایک دیہاتی نے عمر کی مشک سے نبیذ پی اور مدہوش ہو گیا۔ عمر نے اس پر شراب کی حد جاری کی، پھر خود اس شراب میں پانی ملا کر پی۔

۔

🟩 *#جواب و تحقیق*

خدارا عدل انصاف رکھو، تعصب بہتان جھوٹ سے بچو، تحقیق کرو، تحقیق سمجھو، تحقیق کراو۔۔۔۔

👈1..کتنا بڑا جھوٹ بولا کہ سیدنا عمر نے  بالکل وہی نشے والی شراب پی۔۔🚨کتنی بڑی خیانت کی ہے اپ نے، یا کتنی بڑی خیانت کی ہے شیعہ ذاکر ماکر یا شیعہ عالم ظالم نے اپ سے۔۔۔کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے شراب پینے پر سزا نہیں دی بلکہ نشہ والی نبیذ پینے پر سزا دی اور سنت پر عمل کرتے ہوئے بتایا کہ نبیذ اگر نشہ دینے کی حد تک پہنچ جائے تو اس میں پانی ملا کر اس کو نشے والی نبیذ ہونے سے ختم کر دو، اور پھر اپ نے ایسے ہی کیا اور اس میں پانی بہت شامل کیا کہ نبیذ نشہ والی ہی نہ رہی تب جا کر اپ نے پی اور بتایا کہ ایسی بغیر نشہ والی نبیذ پینا سنت مبارکہ سے ثابت ہے کہ بعض اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بغیر نشہ والی نبیذ نوش فرمائی ہے، پی ہے۔۔۔یعنی سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے شراب نہیں پی جبکہ شیعہ اعتراض کر رہا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے شراب پی۔۔۔افسوس خیانت و تعصب پے

۔

👈پہلے ذرا اپنی شیعہ کتاب سے حوالہ پڑھیے کہ نبیذ پینا اہلبیت کرام صحابہ کرام حتی کہ شیعہ بھی نبیذ پیا کرتے تھے

إِنَّ شِيعَتَكَ يَشْرَبُونَ اَلنَّبِيذَ فَقَالَ وَ مَا بَأْسٌ بِالنَّبِيذِ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّی‌ اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ كَانُوا يَشْرَبُونَ اَلنَّبِيذَ 

شیعہ عالم محقق لکھتا ہے کہ روایت میں ہے کہ سیدنا امام جعفر صادق سے ایک شخص نے سوال کیا کہ تمہارے شیعہ نبیذ پیتے ہیں تو سیدنا امام جعفر صادق نے فرمایا کہ نبیذ پینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اہل بیت نے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام علیہم رضوان نبیذ پیا کرتے تھے

(بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار65/144)

۔

👈اب اہلسنت کی کتاب کا جو حوالہ سنن بیھقی کا اپ نے دیا یا کسی شیعہ ذاکر ماکر ، شیعہ عالم ظالم نے تمھیں بتایا اسکی حقیقت پڑھیے،پوری بات سمجھیے

امام بیھقی لکھتے ہیں:

وَالَّذِي رُوِيَ عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى سَايِحَتَهُ، فَشَرِبَ مِنْهَا، فَسَكِرَ فَضَرَبَهُ، وَقَالَ: «إِنَّمَا أَضْرِبُكَ عَلَى السَّكَرِ»۔۔۔۔۔الْإِدَاوَةِ الَّتِي تَغَيَّرَتْ فَذَاقَهَا عُمَرُ، فَقَبَضَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهَا، وَاللَّهِ مَا قَبَضَ عُمَرُ وَجْهَهُ إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ۔۔۔۔إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا إِذَا حَمِضَ عَلَيْهِمُ النَّبِيذُ كَسَرُوهُ بِالْمَاءِ۔۔۔كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُنْبَذُ غُدْوَةً، فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً، فَيَشْرَبُهُ

 غُدْوَةً

امام بیہقی فرماتے ہیں کہ وہ جو روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مشکیزے سے ایک شخص نے نبیذ پی لی تھی تو اسے نشہ ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں سزا دی اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے صاف صاف فرمایا کہ میں تمہیں نبیذ پینے پر سزا نہیں دے رہا بلکہ میں تمہیں نشہ والی نبیذ پی کر نشہ کرنے پر سزا دے رہا ہوں۔۔۔ پھر ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس نبیذ میں پانی ڈالا یہاں تک کہ اس کا نشہ ختم ہو گیا۔۔۔ اور فرمایا کہ صحابہ کرام جب دیکھتے تھے کہ نبیذ زیادہ پک گئی ہے جس سے نشہ ہو سکتا ہے تو اس میں پانی ڈال کر اس کا نشہ ختم کر دیتے تھے، ازواج مطہرات فرماتی ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ صبح کے وقت بناتے تھے تو سید عالم رات کے وقت پیتے تھے اور رات کے وقت ہم بناتے تھے تو صبح کے وقت پیتے تھے

(سنن بیھقی صغیر3/337۔۔۔3/335 ملتقطا)

.

🌹فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ , اللهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ , وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ

(نشہ والی نبیذ سے منع کرنے اور جو نشہ نہ دے اس نبیذ کو پینے کی اجازت دینے کے وقت) سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ واللہ خدا کی قسم میں کسی بھی چیز کو اپنی طرف سے حلال نہیں کر رہا کہ جس کو شریعت نے حرام کیا ہو اور میں کسی بھی چیز کو حرام نہیں کر رہا کہ جس کو شریعت نے حلال و جائز قرار دیا ہو

(سنن بیھقی کبیر8/522ملخصا)

۔

🌹🌹الحدیث:

وَفَدُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ....فَإِنِ اشْتَدَّ مَتْنُهُ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ۔۔۔۔قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: فَقَالَ: " صُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ " قَال: فَإِذَا اشْتَدَّ؟ قَالَ: " صُبُّوا عَلَيْهِ

 الْمَاءَ

امام بیہقی حدیث پاک لکھتے ہیں کہ ایک وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اس میں ایک مسئلہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں یہ بھی بتایا کہ نبیذ اگر سخت پک جائے کہ نشہ دے گی تو اس کو پانی کے ذریعے سے اس کا نشہ ختم کر دو۔۔۔۔وفد نے عرض کی کہ یا رسول اللہ اگر پھر بھی وہ نشہ دینے والی ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے اندر پھر پانی ڈالو پھر فرمایا کہ اس کے اندر پھر پانی ڈالو حتی کہ وہ نشہ والی نہ رہے

(سنن بیھقی کبیر8/524، 525 ملتقطا)

۔

🌹🌹الحدیث:

نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ

غُدْوَةً.

ازواج مطہرات فرماتی ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ صبح کے وقت بناتے تھے تو سید عالم رات کے وقت پیتے تھے اور رات کے وقت ہم بناتے تھے تو صبح کے وقت پیتے تھے

,(مسلم حدیث2005)

 

🟫🟫🟫🟫🟫🟫🟫

تیسرا اعتراض3️⃣

🔵شیعہ نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ:

جرم۔۔۔قرآن کے خلاف فتویٰ (متعہ کو حرام کرنا)

صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث 1405:

حضرت جابر فرماتے ہیں: "ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور ابوبکر کے دور میں اور عمر کے دور کے شروع میں متعہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر نے اس سے منع کر دیا۔"

مسند احمد بن حنبل، جلد 3، صفحہ 305:

عمر نے خطبہ میں کہا: "رسول اللہ ﷺ کے دور میں دو متعہ تھے: ایک متعہ حج کا اور دوسرا متعہ عورتوں کا۔ میں ان دونوں کو حرام کرتا ہوں اور ان پر سزا دوں گا۔"

👈سوال: قرآن سورہ نساء آیت 24 میں متعہ حلال ہے، کیا خلیفہ کو قرآن کے خلاف فتویٰ دینے کا حق ہے؟

۔

🟩جواب و تحقیق

خلاصہ جواب:

قرآن سے متعہ ثابت نہیں بلکہ ایات مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعہ جائز نہیں، جب قران مجید سے متعہ کا جائز ہونا ثابت نہیں تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پر اپ اعتراض کیسے کر سکتے ہیں کہ انہوں نے متعہ کو حرام کرکے قران مجید کی مخالفت کی۔۔۔۔؟؟

جبکہ

👈حقیقت یہ ہے کہ قران مجید سے متعہ ثابت نہیں ہے البتہ حدیث پاک میں ایک دفعہ یا دو دفعہ متعہ کی اجازت دی گئی اور پھر اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے متعہ کو حرام قرار دے دیا تو اس طرح بعض صحابہ کرام تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ حکم مبارک نہ پہنچا کہ جس میں متعہ کو مستقل حرام کیا گیا تھا تو انہوں نے جائز سمجھا لیکن جب انہیں حرام ہونے کا بتایا گیا تو انہوں نے اپنا فتوی واپس لے لیا👈 اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حقیقت میں خود متعہ حرام نہیں کیا تھا بلکہ متعہ کی حرمت کو مزید واضح کرکے بیان کیا اور اس پر سختی سے عمل کروایا اور اس کی مذمت اور حرمت کے متعلق جو احادیث تھیں ان کو زیادہ پھیلوایا تاکہ لوگوں میں غلط فہمی ختم ہو جائے

.

💠فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ «اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ شَيْئًا حَرَّمْتَهُ عَلَيْهِمْ. وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ شَيْئًا أَحْلَلْتَهُ لَهُمْ»

سیدنا عمر نے فرمایا کہ ہرگز نہیں خدا کی قسم میں ہرگز کسی چیز کو حرام نہیں کرتا جس کو شریعت نے حلال و جائز کیا ہو اور میں ہرگز کسی چیز کو حلال و جائز قرار نہیں دیتا جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو

(موطا امام مالک2/847)

۔

💠كان مراده أنّ المتعة كانت مباحة في زمن الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ، وأنا أنهى عنها لما ثبت أنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ نسخها، فهو ناقل للنَّسْخِ، لا أنَّهُ نسخ من 

عنده

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بظاہر یہ الفاظ استعمال فرمائے بعض روایات کے مطابق کہ انہوں نے فرمایا کہ میں متعہ سے منع کرتا ہوں تو ان کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ میں حلال چیز کو حرام کر رہا ہوں منع کر رہا ہوں بلکہ ان کی مراد اور ان کا مطلب یقینا یہی تھا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع کر دیا حرام کر دیا اور میں عمر تو اس پیغام کو اگے مزید واضح طور پر پہنچا رہا ہوں

(اللباب في علوم الكتاب6/314)

۔

🟩🌹سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام کر دیا بخاری اور مسلم سے دلیل بلکہ قران مجید سے دلیل ہم لکھیں گے نیچے دلیل نمبر2,3 میں...بلکہ شیعہ کتب سے اسکو حرام ثابت کریں گے دلیل نمبر5 میں

۔

🟪دلیل1

 متعہ شیعہ تفاسیر کے مطابق بھی ایت سے ثابت نہیں

شیعہ ذاکرین ماکرین یہ آیت متعہ کے جائز ہونے پر پیش کر رہے ہیں...القرآن:

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ

لفظی ترجمہ: تو جن عورتوں سے تم نفع اٹھا لو تو ان کو ان کے اجور دے دو...(نساء آیت24)

شیعہ ذاکرین ماکرین کہہ رہے ہیں کہ اس آیت میں اجورہن ہے اور اجور اجرت کی جمع ہے اور اجرت متعہ میں ہوتی ہے، نکاح میں مھر ہوتا ہے

.

🟢 *ہمارا پہلا جواب*

تم شیعہ کی تفاسیر میں لکھا ہے کہ اجورہن سے مراد حق مہر بھی ہوتا ہے مثلا قرآن پاک میں ہے

.اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ  اِذَاۤ  اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ  اُجُوۡرَہُنَّ

 تم ان عورتوں سے نکاح کرو بشرطیکہ تم ان کے حق مہر دو

(سورہ ممتحنۃ آیت10)

.

شیعہ تفسیر میں ہے کہ:

والاجر المهر

 اجرت سے مراد حق مہر ہے

(شیعہ کتاب تفسير الميزان - السيد الطباطبائي19/241)

.

👈👈جب اجور سے مراد حق مہر بھی ہوتا ہے تو آیت میں احتمال اگیا کہ اجور سے مراد اجرت ہے یا حق مہر.....؟؟ تو لیجیے شیعہ تفسیر میں ہے کہ اس آیت میں اجور سے مراد حق مھر ہے..

( فآتوهن أجورهن ) يعني مهورهن

 👈شیعہ عالم لکھتا ہے کہ ایت میں جو ہے کہ انکے اجور دے دو، اسکا معنی ہے کہ حق مہر دے دو

(شیعہ کتاب التبيان في تفسير القرآن الطوسي،3/166)

۔

والاجر المهر

 👈 شیعہ مفسر کہتا ہے کہ سیت میں اجرت سے مراد حق مہر ہے

(شیعہ کتاب تفسير الميزان - الطباطبائي19/241)

.

.

✅لیھذا تمھاری کتب کے مطابق اجور سے مراد حق مھر ہے اور

👈👈تمھارے قاعدے کے مطابق مھر نکاح میں ہوتا ہے متعہ میں مھر نہیں ہوتا،  اجرت ہوتی ہے تو ثابت ہوا کہ آیت میں نکاح مراد ہے متعہ مراد نہیں


.

🟢 *دوسرا جواب*

 بعض شیعہ کہتے ہیں کہ اجور سے سے مراد حق مہر ہے اور متعہ میں بھی حق مھر ہوتا ہے

👈اسکا جواب یہ ہے کہ آیت میں ہے کہ جب تم نفع اٹھاؤ تو مھر دے دو...🧐اب اگر نفع سے مراد متعہ کرکے نفع(جماع لذت) ہے تو معنی ہونگے کہ متعہ میں مھر اس وقت دینا لازم ہے جب جماع وغیرہ کرکے نفع اٹھایا جائے 🫵جبکہ کتب شیعہ میں دو ٹوک لکھا ہے کہ متعہ کیا اور نفع نہ اٹھایا تو بھی حق مھر دینا ہوگا

حوالہ:

وإنما يجب كمال المهر بنفس العقد في نكاح المتعة خاصة

ترجمہ:

متعہ کا عقد(ایجاب و قبول) کرتے ہی تمام کا تمام مھر لازم ہوجاتا ہے(چاہے جماع وغیرہ کر کے نفع اٹھاؤ یا نہ اٹھاؤ ہر حال میں متعہ کا عقد کرتے ہی اجرت لازم ہو جاتی ہے) اور یہ حکم صرف متعہ کے ساتھ خاص ہے(کہ اصلی نکاح کا حکم یہ ہے کہ نفع نہ اٹھایا تو آدھا حق مھر دینا ہوتا ہے)

(شیعہ کتاب تفسير جوامع الجامع1/389)

👈لیھذا

اس آیت سے ثابت ہوا کہ نفع اٹھاؤ تو مھر دو،  یہ حکم اصلی نکاح کا ہے، متعہ میں بغیر نفع اٹھائے بھی پورا مھر دینا ہوتا ہے تو آیت میں اصلی نکاح کا بیان ہے، اس سے متعہ ثابت نہیں ہوتا

.

🟢 *تیسرا جواب*

القرآن:

 مَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ مِنۡکُمۡ طَوۡلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ

تم میں سے جو محصنات عورتوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ لونڈیوں سے(نکاح کرے یا لونڈیوں سے حاجت پوری کرے)

(نساء آیت25)

🫵شیعہ کے مطابق ایک مٹھی کجھور گندم اناج دے کر بھی متعہ ہوسکتا ہے، اتنا آسان ہے متعہ


سألت أبا عبد الله ( عليه السلام ) عن أدنى مهر المتعة ما هو ؟ قال : كف من طعام دقيق أو سويق أو تمر

 شیعوں کے مطابق امام جعفر صادق سے سوال کیا گیا کہ متعہ کا حق مہر کم سے کم کتنا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک مٹھی کسی بھی طعام کی ہو مثلا ایک مٹھی آٹا یا ستو یا ایک مٹھی کھجور وغیرہ

(شیعہ کتاب اصول کافی5/457)

.

👈👈 اب اگر آیت میں اللہ تعالی نے نکاح متعہ کو اتنا آسان بنایا ہوتا تو پھر دوسری آیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ازدواجی حاجت کو پورا کرنے کے فقط دو طریقے کیوں بتائے...؟؟ ایک طریقہ نکاح اصلی کا اور دوسرا طریقہ لونڈیوں سے ہمبستری کا....اگر متعہ بھی جائز ہوتا تو آیت میں فقط دو طریقے نہ بتائے جاتے بلکہ کہا جاتا کہ اگر نکاح نہیں کرسکتے تو اسان سا متعہ کرو یا اسان سا طریقہ ہے کہ لونڈیوں سے حاجت پوری کرو.......آیت میں متعہ کا نہ بتانا ہی دلیل ہے کہ متعہ جائز ہونے کا ذکر قرآن کی کسی آیت میں نہیں...🟪دلیل2

بلکہ ایت میں ہے کہ

القرآن:

اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ   مَلُوۡمِیۡنَ⑥فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ

 اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ کہ ان دو صورتوں میں حاجت پوری کرنے میں ملامت نہیں، اس(لونڈی اور بیوی) کے علاوہ کوئی طریقہ حاجت پوری کا تلاش کریں تو وہی اللہ کی بیان کردہ حدود سے بڑھنے والے ہیں

(سورہ مومنون آیت6..7)

👈👈 اس آیت مبارکہ میں دو ٹوک ہے کہ بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ کوئی بھی صورت نہیں ہے حاجت پوری کرنے کی لہذا مشت زنی اور متعہ وغیرہ کوئی بھی جائز نہیں

.

🟪دلیل3

متعہ حلال ہوا پھر حرام ہوا پھر حلال ہوا پھر قیامت تک کےلیے حرام ہوا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے...اس پر قرآن و سنت سے علماء اہلسنت نے کتب تک لکھی ہیں میں یہاں صرف دو حوالوں پر اکتفاء کرتا ہوں

صحیح مسلم میں ہے کہ

باب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ:

باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔

فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگوں میں نے عورتوں سے متعہ کرنےکو حلال کیا تھا لیکن اب سے قیامت تک کے لیے اللہ نے اس کو حرام کر دیا ہے

(مسلم حدیث3422)

.

الحدیث

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَقَالَ: «أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،

بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا اور فرمایا کہ خبردار یہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے 

(صحيح مسلم حدیث1406)

.

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ

ترجمہ:

حضرت علی نے فرمایا کہ رسول کریم نے متعہ کو حرام کر دیا تھاَ..(بخاری حدیث5523)

۔

امام بخاری فرماتے ہیں:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ

امام بخاری کہتے ہیں کہ حضرت علی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان فرمایا کہ متعہ منسوخ ہوچکا 

(صحيح البخاري ,7/13)

.

🟪دلیل4

*سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ  وغیرہ چند صحابہ کرام تک متعہ کے حرام ہونے کی روایت نہ پہنچی تھی تو وہ جائز کا فتوی دیتے تھے پھر جب انکو حرام ہونے کی مذکورہ بالا احادیث بتائی گئیں تو انہوں نے متعہ کو جائز کہنے سے رجوع کر لیا تھا......!!*

1....سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا رجوع صحیح و ثابت ہے حتی کہ صحاح ستہ میں اس رجوع کا تذکرہ ہے...امام ترمذی فرماتے ہیں:

وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي المُتْعَةِ، ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ 

وَسَلَّمَ «

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ متعہ کے متعلق رخصت کا قول کرتے تھےمگر جب ان کو (کثرت سے)احادیث سنائی گئی تو انہوں نے رجوع کر لیا تھا  

(سنن الترمذي3/421تحت الحدیث1121)

۔

2.....مَا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنْ الدُّنْيَا حَتَّى رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فِي الصَّرْفِ وَالْمُتْعَةِ فَثَبَتَ النَّسْخُ بِاتِّفَاقِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ دنیا سے رخصت نہ ہوئے حتی کہ انہوں نے رجوع کر لیا متعہ اور بیع صرف سے تو متعہ کےمنسوخ ہونے پر(سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ) تمام صحابہ کا اجماع ہے 

[المبسوط للسرخسي ,5/152]

.

🟪دلیل5

*#حتی کہ شیعہ کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار دے دیا*

حرم رسول الله صلى الله عليه وآله لحوم الحمر الأهلية ونكاح المتعة.

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے اور نکاح متعہ کو حرام کردیا

(شیعہ کتاب الاستبصار - الشيخ الطوسي 3/142)

(شیعہ کتاب وسائل الشيعة- الحر العاملي 21/12)

 👈شیعہ اس حدیث پاک کے متعلق بکواس کرنے لگے کہ یہ تقیہ (ایک قسم کا جھوٹ بیان) کرتے ہوئے لکھی گئ ہے......ارے گستاخو مکارو عیاشو کیا کسی بھی طرح رسول کریم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا جائز سمجھتے ہو....افسوس ہے تم پر.... 🧐پھر تو تمھاری پوری کتابیں غیر معتبر کہ جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جھوٹ بول سکتے ہو تو ائمہ و اہل بیت کے متعلق کتنے جھوٹ بولتے ہو گے تم لوگ...؟؟🚨 بلکہ حقیقت یہی ہے کہ اکثر تم لوگوں نے اپنی طرف سے جھوٹ بیان کر لیے ہیں اور ان کو رسول کریم اور سیدنا علی اور امام جعفر صادق و دیگر اہل بیت کی طرف منسوب کر دیا ہے

.

🌹یہ حدیث تقیہ جھوٹ نہیں بلکہ حق سچ ہے🚨جسے تم اپنی خواہش نفسانی کے لیے بہانے بنا کر کہتے ہو کہ تقیہ جھوٹ ہے، 🫵کیا کبھی سوچ بھی سکتے ہو کہ

👈👈1....اہلبیت کی پاک بیبیاں بھی متعہ کراتی ہونگی،

👈👈2.... تمھارے بڑوں بڑوں کی بچیاں عورتیں متعہ کرانے کے لیے پیش کرو گے۔۔۔۔؟؟

🫵 یا پھر جاہل عوام کی عورتوں بچیوں سے تم اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لیے متعہ کو جائز و ثواب کا عمل کرکے ورغلاتے ہو۔۔۔۔ڈوب مرو

.

🚨أن المؤمن لا يكمل حتى يتمتع

 مومن مرد و عورت کا ایمان اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ متعہ(پیسے وغیرہ اجرت دیکر زنا)کرے

(شیعہ کتاب وسائل الشيعة  الحر العاملي 21/14)

(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق 3/466)

.

: 🚨للمتمتع ثواب؟ قال: إن كان يريد بذلك وجه الله تعالى وخلافا على من أنكرها لم يكلمها كلمة إلا كتب الله له بها حسنة، ولم يمد يده إليها إلا كتب الله له حسنة، فإذا دنا منها غفر الله له بذلك ذنبا، فإذا اغتسل غفر الله له بقدر ما مر من الماء على شعره

ترجمہ:

متعہ(پیسے وغیرہ اجرت دیکر زنا)کرنے والوں کو ثواب ملے گا.....؟؟ ہاں اسے ثواب ملے گا اگر وہ اللہ کی رضا کے لئے اور فلاں کی مخالفت میں متعہ کرے، جس عورت سے متعہ کرے گا اس کے ساتھ بات چیت کرے گا تو ہر بات کے بدلے میں اسے نیکی ملے گی اور اس کی طرف ہاتھ بڑھائے گا تو اس پر نیکی ملے گی اور اس سے قربت کرے گا تو اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کر دے گا اور جب وہ غسل کرے گا تو اللہ تعالی اس کے اتنے سارے گناہ معاف کر دے گا کہ جو پانی کے قطرے اس کے جسم کے بالوں پر بہیں گے

(شیعہ کتاب وسائل الشيعة  الحر العاملي 21/13)

(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق 3/463)

.

🚨وإذا أراد التمتع بامرأة، فليطلب امرأة عفيفة مؤمنة....ولا بأس أن يتمتع الرجل بالفاجرۃ

اگر تم متعہ(پیسے وغیرہ اجرت دیکر زنا) کرنا چاہو تو 

👈👈پاکدامن مومنہ کو تلاش کرکے اس سے متعہ کرو اور بری عورت سے بھی متعہ کر سکتے ہو

(شیعہ کتاب النهاية - الشيخ الطوسي ص490)

🚨🚨 *#صحابیات_اہلبیت و مومن عورتوں کی عزت پامالی*

 اب ہمارا سوال ہے شیعوں سے کہ کیا اہل بیت اور صحابہ کرام کی عورتیں پاک دامن نہیں تھیں....؟؟ کیا وہ مومنہ نہیں تھی...؟؟ اگر انہوں نے متعہ(ایک قسم کا زنا) نہیں کیا تمہارے مطابق تو ان کا ایمان کامل نہ ہوا تمہارے مطابق کیونکہ تمھارے مطابق ایمان کامل اس وقت ہوتا ہے جب کوئی متعہ (ایک قسم کا زنا)کرتا ہے.... گویا یہ تمہاری بہت بڑی گستاخی اور عزت پامالی ہے کہ تم نے صحابہ کرام کی عورتوں اور اہل بیت کی عورتوں کی طرف منسوب کردیا کہ وہ یا تو متعہ کرنے والی زنا کرنے والی تھی نعوذباللہ یا پھر وہ کامل ایمان والی نہ تھیں....اللہ کریم ہدایت دے

۔

🟫🟫🟫🟫🟫🟫

چوتھا اعتراض:4️⃣

🔵شیعہ نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ:

حضور ﷺ کو قتل کرنے کی نیت

مسند احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 174-175:

"حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے تلوار لے کر گھر سے نکلا۔ ایک شخص نے پوچھا: اے عمر! کدھر جا رہے ہو؟ کہا: جا کر محمد کو قتل کروں گا!"

(تاریخ الاسلام، ذہبی، ج1 ص174؛ مسند احمد؛)سوال: جس نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کی نیت کی، وہ "فاروق اعظم" کیسے؟

۔

🟩جواب و تحقیق

اے میر عزیز بھائی اللہ تمھیں ہدایت دے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے انتہائی غلیظ توہین امیز والے ایموجیز و الفاظ لگا رہے ہو، ہوش کرو۔۔۔ ضرور تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے یا تمہیں ورغلایا گیا ہے جیسا کہ تم نے اوپر کچھ پڑھ لیا کہ کیسے شیعہ ذاکر ماکر،  شیعہ عالم ظالم مفادی مطلبی عیاش گستاخ ہیں اور گستاخ کرتے ہیں اور گستاخ بناتے ہیں اور نفس پرستی عیاشی کرتے ہیں اور نفس پرستی عیاشی فحاشی کرواتے ہیں

۔

🟩اب اعتراض کا جواب پڑھ تعصب کی عینک اتار کر اور تحقیق اور سچائی کا ساتھ دے کر غور سے پڑھ

۔

🟢پہلا جواب:

کچھ روایات میں اتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نعوذ باللہ تعالی سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن سید عالم کا چہرہ دیکھ کر ان پر فدا ہو گئے

👈👈لیکن بعض دیگر روایات میں اتا ہے کہ اپ نے کبھی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ اپ نے ایات مبارکہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دی اور مشرف با اسلام ہوئے

۔

🟢دوسرا جواب:

نعوذ باللہ تعالی بالفرض اگر شہید کرنے کا ارادہ کیا بھی تھا تو اسلام لانے کے بعد وہ تمام گندے کرتوت ختم ہو گئے، اور سیدنا فاروق اعظم پاک و پاکیزہ ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ساتھی رفیق وفادار بن گئے ،جان فدا کرنے والے بن گئے

🌹الحدیث:

أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

اسلام لانے سےپہلے جو گناہ و مظالم کرتوت وغیرہ اس نے کیے اسلام لانے کے بعد اسلام ان گناہ و مظالم مذمتوں لعنتوں وغیرہ سب کچھ کو اسلام مٹا دیتا ہے

(اہلسنت کتاب مسلم حدیث192,321)

(👈شیعہ کتاب میزان الحکمۃ2/134)

۔

🟢تیسرا جواب:

 ❤️اللہ تمہیں ہدایت دے تم اس سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق گندی زبان استعمال کر رہے ہو جس کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے الفاظ تو پڑھیے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ تو پڑھیے کہ جو خود شیعہ کتب میں ائے ہیں

🔷1....عمر بن الخطاب...وإنما أخرت لنا طيباتنا

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ہمارے لیے اخرت میں پاک چیزیں نعتمیں تیار کی گئی ہیں

(شیعہ کتاب ميزان الحكمة 2/913)

(شیعہ کتاب بحار الأنوار ج 109 ص240)

❤️اور پاک چیزیں نعمتیں آخرت میں جنتی کو ہی ملیں گی لیھذا شیعہ کتب سے بھی ثابت ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو جنتی قرار دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں ہوسکتے ہرگز نہیں…لیھذا سیدنا عمر وغیرہ کو کافر مرتد ڈاکو غاصب کہنے والے مذمت کرنے والے شیعہ اپنے ایمان کی فکر کریں

.

🔷2...خلف الفتنة وأقام السنة

 سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فتنوں کو ختم کیا اور سنتوں کو قائم کیا

(شیعہ کتاب نهج البلاغة 2/222)

✅شیعہ کتاب سے بھی ثابت ہوگیا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مطابق بھی سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ساری زندگی اسلام کے مطابق رہی، سنت کے مطابق رہی، انکی وفات و شہادت بھی ایمان کامل پے ہوئی، باغ فدک کا معاملہ ہو میراث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ہو، عبادات معاملات کوئی بھی معاملہ ہو ہر معاملے میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں سنت کو قائم کرنے والا قرار دے دیا جو کہ سیدنا عمر کے گستاخ شیعوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے...اللہ شیعوں رافضیوں و ہمنوا کو ہدایت و سمجھ عطاء فرمائے ورنہ جلنے والوں کو مزید جلائے


.

🔷3....فإن أظهر الله فذاك ما تحب، وإن تكن الأخرى كنت ردءا للناس ومثابة للمسلمين

(سیدنا علی نے فرمایا کہ اے سیدنا عمر آپ اتنی بڑی جنگ و جہاد میں نہ جائیں)اگر فتح نصیب ہوئی مسلمانون کو تو اے عمر آپ کے لیے بھی یہ محبوب ہے، اور اگر شکست ہوئی تو کم از کم آپ تو لوگوں کا سہارا ہونگے اور مسلمانوں کے اجتماعیت کا مرکز ہونگے

(شیعہ کتاب نهج البلاغة -2/18)

(شیعہ کتاب بحار الأنوار 31/136)

🚨بھلا دشمن مرتد کافر غاصب ظالم کے متعلق سیدنا علی ایسے فرماتے......؟؟ ہرگز نہیں بلکہ ایسے کی موت کی تمنا کی جاتی جبکہ سیدنا علی سیدنا عمر کو اسلام کا قیمتی سرمایا قرار دے کر جہاد میں جانے سے روک رہے ہیں اور آپ کی ذات کو اسلام کے لیے عظیم ترین سرمایہ قرار دے رہے ہیں....اللہ شیعوں کو عقل دے، اپنی کتابوں میں کروڑوں اربوں جھوٹ لکھے اور اہلبیت کی طرف منسوب کر دیے مگر اللہ کی شان دیکھیے کہ چور جھوٹا جتنا بھی چالاک ہو اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ نشانیاں چھوڑ ہی جاتا کہ جس سے اسکے باطل مردود ہونے کا عقدہ کبھی نہ کبھی ضرور کھلتا ہے، تھوڑی سی تحقیق و عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ شیعہ لوگ باطل مردود منافق مکار جھوٹے ہیں

۔

🟢چوتھا جواب:

*#سیدنا فاروق اعظم کے عشق رسول کی ایک جھلک تو پڑھیے*

⏪1.....اعْدِلْ. فَقَالَ : " وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ؟ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ ". فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ.

ایک شخص نے کہا کہ اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم کرنے میں عدل کر۔۔۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا تمہاری ہلاکت ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو دنیا میں کوئی عدل کرنے والا ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں

بخاری حدیث3610)

.

⏪2.... فَقَالَ عُمَرُ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي

(سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت دیکھیے کہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ اکثر مواقع پہ عرض کیا کرتے تھےکہ)

یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں

(نسائی تحت حدیث1932)

۔

⏪3.... فكنت عبدَه وخادَمه، وكان - كما قال الله - بالمؤمنين رؤوفًا رحيمًا، فكنت بين يديهِ كالسيفِ المسلول إلّا أن يَغمِدَني أو ينهاني عن أمرٍ

(سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اندازہ اس سے لگاؤ کہ وہ عرض کرنے لگے) کہ لوگو سنو میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم اور اس کا غلام رہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ایسے تھے جیسے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ روف و رحیم، اور میں ان کے سامنے ننگی تلوار لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہداری کرتا تھا اور اپ کے دشمنوں منافقوں کی گردن اڑایا کرتا تھا سوائے اس کے کہ جب اپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منع فرما دیتے تو میں رک جاتا

(مستدرک1/516)

۔

⏪4.....أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِي، لَا تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ

 وَسلم

(سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اتنی عقیدت و محبت رکھتے تھے کہ) اپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو تنبیہ کی کہ کیا تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کا تقاضا کر کے اللہ کا غضب اور رسول کا غضب حاصل کرنا چاہتی ہو، ہرگز نہ کرو

(بخاری تحت حدیث5191)

.

⏪5.....فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ قَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ. فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ غَضَبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

ایک شخص نے کوئی بات عرض کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزری تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا تو عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ہم اس بات پر بالکل راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے دین ہمارا اسلام ہے اور اپ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اخری نبی ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ الفاظ یہ عرض بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناگواری ختم ہو گئی

(ابوداود تحت حدیث2425)

.


⏪6....ارے تم سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس شخصیت پر انگلی اٹھا رہے ہو جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا وزیر قرار دیا ہے

وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ : فَأَبُو بَكْرٍ،

وَعُمَر

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمین میں میرے دو وزیر ہیں ابوبکر اور عمر

(ترمذی حدیث3680)

.

🟫🟫🟫🟫🟫🟫

اعتراض5تا10

🔵شیعہ نے لکھا کہ:

تاریخ طبری، جلد 2، صفحہ 443:

"عمر بن خطاب علیؑ کے گھر آیا اور کہا: 'خدا کی قسم! میں تم پر گھر جلا دوں گا یا پھر بیعت کے لیے باہر آؤ!' "

۔

🟩 *#جواب*

👈تاریخ طبری میں اس کی سند یہ لکھی ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ،

تاریخ طبری

۔

👈مذکورہ روایت کا ایک راوی ابن حمید جھوٹا کذاب غیر معتبر راوی ہے لہذا اس کی بیان کردہ روایت مذکورہ باطل و مردود ہے

۔

وَقَالَ السَّعْدِيّ: كَانَ رَدِيء المَذْهَب، غير ثِقَة۔۔كذبه أبو زرعة، وابن وارة.وقال النسائي: ليس بثقۃ.وقال صالح بن محمد الأسدي: ما رأيت أحذق بالكذب منه ومن الشاذكوني.قال يعقوب بن شيبة: كثير المناكير۔۔وقال ابن خراش: حدثنا ابن حميد - وكان والله يكذب

امام سعدی نے فرمایا کہ ابن حمید برے مذہب والا تھا انتہائی غیر معتبر تھا اور امام ابوزرعہ نے اس کو جھوٹا کذاب راوی قرار دیا ہے، اسی طرح امام ابن وارہ نے بھی جھوٹا قرار دیا ہے، امام نسائی نے بھی اسے غیر معتبر قرار دیا، امام اسدی نے فرمایا کہ میں نے شاذکونی اور ابن حمید سے بڑھ کر کسی کو جھوٹ بولنے میں ماہر نہیں پایا، امام یعقوب فرماتے ہیں کہ یہ بہت منکر روایتیں کرتا تھا اور امام ابن خراش نے فرمایا کہ خدا کی قسم ابن حمید روایات میں جھوٹ بولتا ہے

(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين13/222ومابعدہ)

.🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣


🔵شیعہ نے لکھا کہ:

العقد الفرید، جلد 5، صفحہ 12 (ابن عبد ربہ):

"عمر نے قبسِ آتش لے کر کہا: 'کیا تمہارا گھر جلا دوں؟' فاطمہ(س) نے کہا: 'اے ابن خطاب! کیا تو ہمارا گھر جلا دے گا؟' کہا: 'ہاں!' "

.


✅ *#جواب*

پہلی بات

اس کی کوئی سند نہیں لکھی اور ایسے حساس اہم معاملے میں سند کے بغیر کسی کا بھی کلام معتبر نہیں۔

۔

*#دوسری بات*

👈معتبر اہل سنت کتاب نہیں بلکہ اس میں شیعہ روایات موجود ہیں باطل روایات موجود ہیں تو اس کی روایات کو دیگر روایات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا


..ويدل كثير من كلامه على تشيع فيه وميل إلى الحد من بني أمية وهذا عجيب منه لأنه أحد مواليهم وكان الأولى به أن يكون ممن يواليهم لا ممن يعاديهم)]البداية والنهاية () [وقال في موضع آخر ـ رحمه الله تعالى ـ : ( كان فيه تشيع شنيع ومغالاة في أهل البيت

 عقد الفرید کے مصنف کی کتب میں ایسی باتیں ہیں کہ جو اس کے شیعہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں یہ بہت برا شیعہ تھا اہل بیت میں غلو کرتا تھا 

(البداية والنهاية 10/ 433 و 11/230 ملتقطا)

🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🔵شیعہ نے لکھا کہ:

 الامامہ والسیاسہ، جلد 1، صفحہ 12 (ابن قتیبہ):

"عمر نے کہا: 'خدا کی قسم! یا تو تم بیعت کے لیے نکل آؤ یا میں گھر کو جلاؤں گا جتنے بھی اس میں ہیں!' کہا گیا: اس میں فاطمہ ہیں! کہا: 'اگرچہ فاطمہ ہوں!' "

.

🟩جواب

پہلی بات

الامامۃ و السیاسۃ بھی معتبر اہلسنت کتاب نہیں بلکہ متنازعہ کتاب ہے بعض نے اسے ابن قتیبہ کی تصنیف ہی قرار نہ دیا بعض نے لکھا کہ ابن قتیبہ دو تھے ایک سنی ایک شیعہ،شیعہ نے کتاب لکھی اور شیعہ اسے سنی مصنف کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں..(دیکھیے میزان الکتب ص 275 لسان المیزان ر4460)

۔

*#دوسری بات*

👈علماء نے دلائل سے ثابت کیا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

 كتاب مكذوب على ابن قتيبة ـ رحمه الله تعالى ـ ، وعلى الرغم من ذلك ؛ فهو مصدر هام عند كثير من المؤرخين المعاصرين ، ويجب التعامل مع هذا الكتاب بحذر شديد ؛ إذ حوى مغالطات كثيرة ، ولذا ؛ شكك ابن العربي من نسبة جميع ما فيه لابن قتيبة .

والأدلة على عدم صحة نسبة هذا الكتاب لابن قتيبة كثيرة . منها :

1. أن الذين ترجموا لابن قتيبة لم يذكروا هذا الكتاب بين ما ذكروه له ، اللهم إلا القاضي أبا عبدالله التوزي المعروف بابن الشباط ، فقد نقل عنه في الفصل الثاني من الباب الرابع والثلاثين من كتابه ( صلة السمط ) .

2. أن الكتاب يذكر أن مؤلفه كان بدمشق . وابن قتيبة لم يخرج من بغداد إلا إلى دينور .

3. أن الكتاب يروى عن أبي ليلى ، وأبو ليلى كان قاضياً بالكوفة سنة(148هـ)أي قبل مولد ابن قتيبة بخمس وستين سنة

4. أن المؤلف نقل خبر فتح الأندلس عن امرأة شهدته ، وفتح الأندلس كان قبل مولد ابن قتيبة بنحو مائة وعشرين سنة .

5. أن مؤلف الكتاب يذكر فتح موسى بن نصير لمراكش ، مع أن هذه المدينة شيدها يوسف بن تاشفين سلطان المرابطين سنة (455هـ) وابن قتيبة توفي سنة (276هـ) .

6. أن هذا الكتاب مشحون بالجهل والغباوة والركة والكذب والتزوير ؛ ففيه أبو العباس والسفاح شخصيتان مختلفتان ، وهارون الرشيد هو الخلف المباشر للمهدي ، وأن الرشيد أسند ولاية العهد للمأمون ، وهذه الأخطاء يتجنبها صغار المؤرخين ، فضلاً عمن هو مثل ابن قتيبة

7. أن مؤلف (الإمامة والسياسة) يروي كثيراً عن اثنين من كبار علماء مصر ، وابن قتيبة لم يدخل مصر ولا أخذ من هذين العالمين ؛ فدل هذا على أن الكتاب مدسوس عليه .

وقد جزم بوضع الكتاب على ابن قتيبة غير واحد من الباحثين ، من أشهرهم :

1- محب الدين الخطيب في مقدمة كتاب ابن قتيبة

2- ثروت عكاشة في مقدمة كتاب ابن قتيبة (المعارف)

3- عبد الله عسيلان في رسالة صغيرة مطبوعة بعنوان (كتاب الإمامة والسياسة في ميزان التحقيق العلمي) ، ساق فيها اثني عشر دليلاً على بطلان نسبة هذا الكتاب لابن قتيبة .

4- عبد الحليم عويس في كتابه (بنو أمية بين الضربات الخارجية والانهيار الداخلي) ص 9-10.

5- سيد إسماعيل الكاشف في كتابه (مصادر التاريخ الإسلامي) ص33 .

6- وقد قُدِّمت في الجامعة الأردنية كلية الآداب عام 1978م رسالة ماجستير عنوانها ( الإمامة والسياسة دراسة وتحقيق ) ، قال الباحث فيها : وعلى ضوء هذه الدراسة ؛ فقد تبين أن ابن قتيبة الدينوري بعيد عن كتاب (الإمامة والسياسة) ، وبنفس الوقت ؛ فإنه لم يكن بالإمكان معرفة مؤلف الكتاب ، مع تحديد فترة وفاته بحوالي أواسط القرن الثالث الهجري ،

 7- وقد جزم ببطلان نسبة هذا الكتاب لابن قتيبة أيضاً السيد أحمد صقر في مقدمة تحقيقه لـ ( تأويل مشكل القرآن ) ص32 ؛ فقال : ( كتاب مشهور شهرة بطلان نسبته إليه )

8۔وإلى هذا ذهب الحسيني في رسالته (ص77-78) ، 9.والجندي في كتابه عن ابن قتيبة ( 169-173 )

10۔وفاروق حمادة في ( مصادر السيرة النبوية ) ص91 ،

 11۔وشاكر مصطفى في ( التاريخ العربي والمؤرخون ) (1/241-242)

✅ترجمہ:

کتاب الامامۃ و السیاسۃ ابن قتیبہ کی طرف جھوٹی منسوب کی گئی من گھڑت کتاب ہے۔ لوگ اس کتاب سے حوالہ دیتے ہیں لیکن اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے وقت انتہائی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ اس میں بے شمار غلطیاں اور گڑبڑیاں موجود ہیں۔ اسی بنا پر 👈امام ابن العربی نے اس کتاب کی تمام روایات کا ابن قتیبہ کی طرف منسوب ہونا مشکوک قرار دیا ہے۔

👈یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں اس پر کئی دلائل موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

(1) جن اہلِ علم نے ابن قتیبہ کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے اس کتاب کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا۔ صرف قاضی ابو عبد اللہ التوزی المعروف ابن الشباط نے اپنی کتاب صلة السمط کے باب 34 کے دوسرے فصل میں اس سے کچھ نقل کیا ہے۔

(2) کتاب الامامۃ و السیاسۃ میں مصنف لکھتا ہے کہ وہ دمشق میں رہا۔ لیکن ابن قتیبہ بغداد سے صرف دینور گئے تھے، دمشق کبھی نہیں گئے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

(3) اس کتاب میں ’’ابو لیلى‘‘ سے روایت ہے، جو 148 ہجری میں کوفہ کے قاضی تھے۔ یعنی یہ ابن قتیبہ کی پیدائش سے 65 سال پہلے کا زمانہ ہے—لہٰذا ابن قتیبہ کا ان سے روایت لینا ناممکن ہے۔تو اس سے بھی ثابت ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

(4) اس کتاب میں مصنف نے فتحِ اندلس کا واقعہ ایک ایسی عورت سے نقل کیا ہے جو اس موقع پر موجود تھی، جبکہ فتحِ اندلس ابن قتیبہ کی پیدائش سے 120 سال قبل ہوا تھا۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

(5) اس کتاب میں مصنف کہتا ہے کہ موسیٰ بن نصیر نے مَرّاکَش فتح کیا، حالانکہ مَرّاکَش شہر تو سلطان یوسف بن تاشفین نے 455 ہجری میں تعمیر کیا—جبکہ ابن قتیبہ 276 ہجری میں وفات پا چکے تھے۔تو جو ابن قتیبہ 276ھ میں وفات پا چکا وہ 455ھ کا واقعہ کیسے لکھے گا۔۔۔؟؟ثابت ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

👈(6) یہ کتاب جہالت، بے علمی، کمزور اسلوب، جھوٹ اور تحریف سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر:

اس میں ابو العباس اور سفاح کو دو الگ الگ شخصیات بنا دیا گیا ہے،

ہارون الرشید کو براہِ راست مہدی کا جانشین لکھا گیا ہے،

اور یہ بھی کہ الرشید نے خلافت کی ولی عہدی مأمون کو سونپی۔

یہ غلطیاں عام طالب علمِ تاریخ بھی نہیں کرتے، چہ جائیکہ ابن قتیبہ جیسا امام ایسی غلطیاں لکھے۔۔تو معلوم ہوا کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں

(7) اس کتاب کا مصنف مصر کے دو بڑے علماء سے بار بار روایت کرتا ہے، جبکہ ابن قتیبہ کبھی مصر گئے ہی نہیں، نہ اُن علماء سے پڑھا۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب ابن قتیبہ پر گھڑی گئی ہے۔

👈وہ محققین جنہوں نے صراحتاً ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں:

1...محب الدین الخطيب — مقدمہ کتاب ابن قتیبة

2...ثروت عکاشہ — مقدمہ المعارف لابن قتیبہ

3...عبد اللہ عُسیلان — رسالہ كتاب الإمامة والسياسة في ميزان التحقيق العلمي (جس میں انہوں نے بارہ دلائل پیش کیے)

4...عبد الحليم عويس — بنو أمية بين الضربات الخارجية والانهيار الداخلي، ص 9–10

5...سید اسماعیل الکاشف مصادر التاريخ الإسلامي، ص33

1978ء میں جامعہ اردنیہ میں پیش کی گئی ایم اے کی تحقیق "الإمامة والسياسة: دراسة وتحقيق"

اس میں محقق نے واضح کیا کہ ابن قتیبہ کا اس کتاب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ مصنف کی وفات غالباً تیسری صدی ہجری کے وسط میں ہوئی۔

6...السید أحمد صقر — مقدمہ تأويل مشكل القرآن، ص 32

انہوں نے کہا:

“یہ کتاب اپنی جھوٹی نسبت کی شہرت ہی کی وجہ سے مشہور ہے۔”

7...الحسینی — اپنی رسالہ، ص 77–78

8...الجندی — کتاب: ابن قتيبة، ص 169–173

9...فاروق حمادة — مصادر السيرة النبوية، ص 91

10...شاكر مصطفى — التاريخ العربي والمؤرخون، ج1، ص 241–242

(كتب حذر منها العلماء 2/298-301ملتقطا)

.

🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🔵شیعہ نے لکھا کہ:

الشہرستانی، الملل والنحل، جلد 1، صفحہ 57 (الجاحظ کے حوالے سے):"عمر نے فاطمہ(س) کے پیٹ پر مارا یہاں تک کہ ان کا حمل (محسن) گر گیا، اور عمر چلا رہا تھا: اس کے گھر کو جلا دو! جبکہ گھر میں علی، فاطمہ، حسن، حسین اور زینب تھے۔"

.


🟩 *#جواب*

شیعوں نے یہاں بھی آدھی عبات لکھ کر بہت بڑی مکاری دھوکہ دہی کی ہے

الملل و النحل کی پوری بات پڑھیے لکھا ہےکہ

وزاد في الفرية فقال: إن عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى ألقت الجنين من بطنها

ترجمہ:

(فرقہ نظامیہ کا بانی إبراهيم بن يسار بن هانئ النظام نے)مزید جھوٹ و بہتان باندھتے ہوئے کہا کہ عمر نے فاطمہ کے پیٹ پے مارا اور اپ کے پیٹ میں بچہ گر گیا

(الملل و النحل1/57)

.

👈ذرا سی بھی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ ملل نحل میں تو اس کو جھوٹ بہتان و افتراء کہا ہے اور شیعہ آدھی بات پیش کرکے مکاری و دھوکہ بازی دیتے ہوئے مفھوم بدل کر پیش کر رہے ہیں

۔

🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🔵شیعہ نے لکھا کہ:

ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، جلد 1، صفحہ 268:

"عمر نے فاطمہ(س) کو لات ماری یہاں تک کہ ان کا حمل (محسن) گر گیا۔"


🟩 *#جواب*

خیانت جھوٹ مکاری کرتے ہوئے لسان المیزان کا ادھا حوالہ دیا اور ادھا چھپا دیا پوری بات پڑھیے لسان المیزان میں یہ

 لکھا ہے کہ

أحمد" بن محمد بن السري بن يحيى بن أبي دارم المحدث أبو بكر الكوفي الرافضي الكذاب مات في أول سنة سبع وخمسين وثلاث مائة وقيل أنه لحق إبراهيم القصار حدث عن أحمد بن موسى الحمار وموسى بن هارون وعدة روى عنه الحاكم وقال رافضي غير ثقة وقال محمد بن أحمد بن حماد الكوفي الحافظ بعد أن أرخ موته كان مستقيم الأمر عامة دهره ثم في آخر أيامه كان أكثر ما يقرأ عليه المثالب حضرته ورجل يقرأ عليه أن عمر رفس1 فاطمة حتى أسقطت

بمحسن

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ احمد بن محمد بن سری رافضی جھوٹا کذاب ہے اس کے اخری ایام میں اس کے پاس جھوٹی روایات پڑھی جاتی تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ فاطمہ کے پیٹ پہ مکہ مارا اور پیٹ میں موجود بچہ محسن شہید ہو گیا

(ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان1/268)

.

🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🔵شیعہ نے لکھا کہ:

مسعودی، اثبات الوصیہ، صفحہ 143:

"انہوں نے گھر پر حملہ کیا، دروازہ جلایا، علیؑ کو زبردستی نکالا، اور خواتین کی سیدہ کو دروازے سے دبایا یہاں تک کہ محسن کا حمل گر گیا۔"

.

🟩 *#جواب*

پہلی بات

سند ہی نہیں لکھی

۔

دوسری بات

 👈اسے اہلسنت عالم کہنا عین مکاری دھوکے بازی ہے...مروج الذہب کا مصنف معتزلی شیعہ تھا معتبر اہلسنت نہ تھا اگرچہ اسکی کتب میں سنی شیعہ معتزلی سب کی حمایت میں مواد موجود ہے

۔

وكان معتزليًّا

 مروج الذهب کا مصنف (سنی نہیں) معتزلی تھا

(تاريخ الإسلام - ت بشار7/829)

.

وكتبه طافحة بأنه كان شيعيا متعزليا

 مروج الذهب کا مصنف اسکی کتب بھری پڑی ہیں ایسی باتوں سے کہ جو اسکے شیعہ اور معتزلی ہونے کا ثبوت ہیں

(ابن حجر العسقلاني ,لسان الميزان ,4/225)

.

 🚨👈حتی کہ شیعہ مصنفین نے اسے اپنا معتبر عالم تک لکھا ہے....علي بن الحسين بن علي المسعودي بخط التقي المسعودي شيعي۔۔كتاب اثبات الوصية له ويدل على أنه من أكمل الشيعة وخواصهم

 👈مروج الذہب اور اثبات الوصیہ کتابوں کا مصنف مسعودی شیعہ تھا بلکہ کامل شیعہ تھا خواص شیعہ میں سے تھا

(شیعہ کتاب أعيان الشيعة -محسن الأمين8/221)

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.