🟦 رضا عسقلانی اور پروفیسر عون صاحبان کو جواب کہ ابن ماجہ کی روایت کا متابع و شاہد جو انہوں نے دیا وہ درست نہیں۔۔لیھذا ابن ماجہ والی روایت ضعیف جدا یا موضوع ہے۔۔مدلل تحریر پڑھیے۔۔۔!!
۔
✅پہلے دو اہم اصول یاد دلاتے چلیں کہ
🟣پہلا اصول:
شدید ضعیف یا موضوع روایت کسی دوسری روایت کے لیے شاہد اور متابع تائید کرنے والی نہیں بن سکتی
1...ابن حجر
فقد تابعه الزبير بن سعيد، إلَّا أنه ليِّن الحديث، فلا يصلح للمتابعة
امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ فلاں روایت کا راوی لین الحدیث ہے یعنی سخت شدید ضعیف ہے تو یہ متابع( اور شواہد) کے طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی
(المطالب العالية محققا8/527)
۔
2...فالحديث موضوع، أو بغاية الضعف، لا يصلح للمتابعة
ایک حدیث کے متعلق مصنف لکھتے ہیں کہ وہ یا تو موضوع ہے یا پھر شدید ضعیف ہے اور دونوں حالتوں میں وہ متابعت اور شواہد میں قابل قبول نہیں
(الفوائد الحديثية -ص232)
۔
3...سخاوی
فابنُ الفضلِ لا يَصلُحُ للمتابعةِ، ولا يُعتَبَرُ بحديثِهِ؛ للاتفاقِ على ضَعْفِهِ واتِّهامِهِ بالكذبِ
امام سخاوی فرماتے ہیں کہ ابن فضل سخت ضعیف ہے اور اس پر کذب کی جرح بھی ہے اس لیے یہ اور اس کی روایت متابعت میں(اور شواہد میں) قابل قبول نہیں
(المقاصد الحسنة1/204)
۔
🟣دوسرا اصول۔۔جو بڑے اہم نکات کو شامل ہے کہ
👈شدید ضعیف حدیث فضائل میں بھی قابل قبول نہیں
اور 👈منکر متروک وغیرہ الفاظ شدید ضعیف ثابت کرتے ہیں لہذا ایسے الفاظ 👈جرح مفسر کے طور پر ہوں تو وہ روایت شدید ضعیف قرار پائے گی اور👈 فضائل میں بھی قابل قبول نہیں ہوگی
1...شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ
فحديثه منكر مردود
ترجمہ:
اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید ہو تو)منکر و مردود ہے
(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)
(المقنع في علوم الحديث1/188)
.
2....كلام الحافظ ابن العربي فيحمل على شديد الضعف المتفق على عدم العمل به كما أشار إليه السخاوي. قوله: (في الفضائل) قال في المجموع وغيره فضائل الأعمال وحذف هنا اما اكتفاء بالعلم من كون المقام لفضل العمل أو تنبيهاً على تعميم الفضائل الشاملة للعمل وغيره كما يدل له قولهم يجوز العمل بالضعيف فيما عدا الأحكام والعقائد. قوله: (والترغيب والترهيب) أي بسائر فنونه وكذا كل ما لا تعلق له بالأحكام والعقائد كما قاله في الإرشاد. قوله: (ما لم يكن موضوعاً) وفي معناه شديد الضعف فلا يجوز العمل بخبر من انفرد من كذاب ومتهم بكذب ومن فحش غلطه فقد نقل العلائي الاتفاق عليه
امام ابن عربی کے کلام محمل یہ ہے کہ شدید ضعیف پر عمل نہ کیا جائے گا،ایسا ہی فرمایا ہے امام سخاوی نے اور موضوع متھم کذاب فحش غلط کی روایت فضائل میں بھی فضائل میں معتبر نہیں
ان سب باتوں پر سب محققین محدثین کا اتفاق ہے
(كتاب الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية1/83)
.
3...مراتب الضعف الشديد (التي لا يعبر بحديث أصحابها)
ـ متروك، ذاهب الحديث
یعنی
متروک الحدیث یا ذاہب الحدیث کہا جائے تو یہ شدید ضعیف ہونے کی جرح ہے کہ ایسی شدید و سخت ضعیف روایت و حدیث فضائل و احکام میں معتبر نہیں
(خلاصة التأصيل لعلم الجرح والتعديل ص36)
.
4....مَتْرُوك الحَدِيث یا ذَاهِب الحَدِيث یا كَذَّاب یا فَهُوَ سَاقِط لَا يكْتب حَدِيثه یا مُتَّهم بِالْكَذِبِ ایا متھم بالْوَضع
وغیرہ
الفاظ سے جرح ہوتو ایسی "سخت ضعیف" یا موضوع روایت و حدیث سے کوئی فضائل و احکام ثابت نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی ایسی روایت و حدیث بطور شاہد پیش کی جاسکتی ہے اور ایسی روایت و حدیث کسی بھی معاملے میں معتبر نہیں ہے
(الرفع والتكميل ص152، .153ملتقطا)
۔
5....فقد ذكر الحافظ ابن حجر في شروط جواز العمل بالضعيف ثلاثة شروط أحدها: أن يكون الضعف غير شديد،
علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا کہ
حدیث ضعیف فضائل میں مقبول ہونے کی تین شرطیں ہیں، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ روایت و حدیث شدید ضعیف نہ ہو۔۔۔اگر روایت و حدیث شدید ضعیف ہو تو فضائل اور احکام کسی میں بھی مقبول و معتبر نہیں
(أحكام الحديث الضعيف - ضمن «آثار المعلمي» ص164)
۔
6....امام سیوطی امام نووی
أَنْ يَكُونَ الضَّعْفُ غَيْرَ شَدِيدٍ، فَيَخْرُجُ مَنِ انْفَرَدَ مِنَ الْكَذَّابِينَ وَالْمُتَّهَمِينَ بِالْكَذِبِ، وَمَنْ فَحُشَ غَلَطُهُ، نَقَلَ الْعَلَائِيُّ الِاتِّفَاقَ عَلَيْهِ.
امام سیوطی اور امام نووی کے مطابق حدیث ضعیف جو فضائل میں مقبول ہوتی ہے اس کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اگر شدید ضعیف ہو یا کذاب راویوں سے یا متہم راویوں سے یا فحش غلطی کرنے والے راویوں سے مروی ہو تو تمام علماء کے مطابق یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ایسی شدید ضعیف روایت یا من گھڑت روایت فضائل میں بھی قابل قبول نہیں
(تدریب الراوی1/351)
۔
🟫🟫🟫🟫🟫🟫🟫
1️⃣رضا عسقلانی اور پروفیسر عون مصطفوی لکھتے ہیں:
۔
اس روایت کی سند میں عباد بن عبداللہ الاسدی منفرد نہیں ہے اس کی متابعت۔۔۔۔۔ سیدنا ابوسلیمان زید بن وہب الجہنی۔۔۔۔ نے کر رکھی ہے جس کا ثبوت یہ ہے:
سیدنا ابوسلیمان زید بن وہب الجہنی کی روایت:
حدثنا عبد الله بن نمير عن الحارث بن حصيرة قال حدثني أبو سليمان الجهني يعني زيد بن وهب قال سمعت عليا على المنبر وهو يقول أنا عبد الله وأخو رسوله صلى الله عليه و سلم لم يقلها أحد قبلي ولا يقولها أحد بعدي إلا كذاب مفتر
(مصنف ابن أبي شيبة، رقم 32079)
اس روایت سے کم از کم عباد بن عبداللہ الاسدی کا تفرد رفع ہوا۔۔۔اب یہاں۔۔۔۔ صاحب اعتراض کر سکتا ہے کہ مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت کے متن میں " الصديق الأكبر" کا اضافہ نہیں ہے۔ تواس کا جواب یہ ہے کہ مصنف ابن ابی شیبہ کے نسخوں میں مشہور اختلاف موجود ہے. جیسے"تحت السرۃ" کا اختلاف وغیرہ۔۔۔اس لئے سیدنا امام بوصیری کے پاس جو مصنف ابن ابی شیبہ کا نسخہ تھا اس کے اندر پہلے سے یہ اضافہ موجود تھا اس لئے انہوں نے اسی روایت کے متن میں اسی اضافے کا ذکر کیا جو انہوں نے سنن ابن ماجہ میں نہیں پایا. جس کا ثبوت یہ ہے:
رَوَاهُ أَبُو بكر بن أبي شيبَة فِي مُسْنده من طَرِيق أبي سُلَيْمَان الجهيني عَن عَليّ فَذكره وَزَاد لَا يَقُولهَا قبلي
(مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه للبوصیری، ج1، ص 20، رقم 49)
۔
🟩میرا تبصرہ و جواب
1....پہلے تو میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ ...... لگا کر میں نے ان الفاظ کو حذف کیا ہے کہ جو زائد قسم کے ہیں جو ہماری بحث سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اس میں مخاطب کسی شخص کو کیا گیا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس مخاطب کا نام ائے۔۔۔۔ لہذا اس کو اصل مدعی و دلیل میں کمی بیشی ہرگز نہ سمجھا جائے
۔
2...دوسری بات:
جس روایت کو متابع کے طور پر ، تائید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اس میں صدیق اکبر کا لفظ موجود ہی نہیں۔۔اور اس کی تاویل انہوں نے یہ کی کہ جیسے تحت السرہ کا اضافہ متنازعہ ہے بعض نسخوں میں ہے اور بعض میں نہیں ہے تو اسی طرح صدیق اکبر لفظ بعض نسخوں میں ہوگا بعض میں نہیں ہوگا۔۔۔۔👈ہم انہیں جواب دیں گے کہ دو ٹوک الفاظ میں ایا تھا کہ محدثین معتبرین نے فرمایا تھا کہ
تحت السرۃ کا اضافہ ہے تو اس لیے وہ مان لیا گیا لیکن یہاں پر کسی بھی محدث نے حتی کہ امام بوصیری نے بھی یہ نہیں لکھا کہ ابن شیبہ کے بعض نسخوں میں مذکورہ روایت کے تحت الصدیق الاکبر ہے لہذا دونوں میں زمین اسمان کا فرق ہے اور یہ متابع و شاہد نہیں بن سکتا،لیھذا ابن ماجہ کی روایت کو تائید اس سے حاصل نہیں ہو سکتی
۔
تیسری بات:
ابن شیبہ کی جس روایت کو متابع اور شاہد کے طور پر پیش کر رہے ہیں
👈 وہ خود شدید ضعیف ہے تو شدید ضعیف روایت کسی اور روایت کے لیے شاہد اور متابع نہیں بن سکتی جیسے کہ اوپر اصول میں بھی بیان کیا گیا،یہ روایت شدید ضعیف ہے کیونکہ
👈اس مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کا ایک راوی الحارث بن حصيرة پر جرح مفسر ہے اور کچھ تعدیل و توثیق بھی ہے لیکن اصول ہے کہ جرح مفسر مقدم ہے، لہذا یہ شدید ضعیف ہے جو کہ متابع اور شاہد نہیں بن سکتی، ہاں بعض جگہ ان سے روایات لی گئیں تو وہاں وجود رد نہیں ہونگی جبکہ یہاں واضح وجہ رد ہے کہ اصول ہے کہ غالی شیعہ رافضی بدمذہب اپنے نظریے کی روایت کرے تو وہ مقبول نہیں ہوتی
👈سیدی امام احمر رضا لکھتے ہیں
یا ناقل رافضی(غالی شیعہ ہو اور) حضرات اہلبیت کرام علٰی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں(تو روایت موضوع من گھرٹ جھوٹی مردود کہلائے گی)
(فتاوی رضویہ 5/461. .466ملتقطا)
۔
سمعتُ يَحيَى يقول: الحارِث بن حَصيرَة، كان شيعيًّا.ولَه غَير حَديث مُنكَر في الفَضائِل ومِما شَجَر بَينَهُم، وكان مِمَّن يَغلُو في هَذا الأَمر...كان الحارث بن حصيرة وأبو اليقظان يؤمنان بالرجعة...(دارقطنی)يغلو في التشيع..، وَقَالَ ابْن عدی۔۔۔وَهُوَ أحد من يعد من المحترقين بِالْكُوفَةِ فِي التَّشَيُّع۔۔۔وقال أبو حاتم الرازي: هو من الشيعة العتق
حارث بن حصیرہ کے متعلق امام یحیی فرماتے ہیں کہ وہ شیعہ تھا,اسکی فضائل اور مشاجرات میں👈 منکر روایتیں ہیں( 👈اور منکر روایتیں شدید ضعیف کہلاتی ہیں اور شدید ضعیف فضائل میں بھی قبول نہیں اور متابعت اور شواہد میں بھی قبول نہیں جیسا کہ اوپر اصول لکھا ہے)
اور یہ شیعت میں غلو کرتا تھا حتی کہ یہ رجعت جیسے بدمزہبی(عقیدہ رجعت بدمذہبی کم از کم ضرور ہے ورنہ اسے کفریہ عقیدہ تک کہا گیا ہے ایسے)نظریات پر ایمان لاتا تھا، امام دار قطنی نے بھی اس کو غالی شیعہ قرار دیا ہے اور امام ابن عدی نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے کہ جو تشیع میں جلے ہوئے ہیں، اور امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ یہ راوی تو بڑے بڑے شیعہ میں سے تھا
(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين3/551وماقبلہ)
.🔷🔷🔷🔷🔷🔷
2️⃣رضا عسقلانی اور پروفیسر عون مصطفوی لکھتے ہیں
اسی طرح امام ابوصیری نے مسند محمد ابن ابی عمر سے اس روایت کا ذکر کیا اور اس کو ثقہ تابعی سیدنا ابو تحیی حکیم بن سعد الحنفی کےطریق سے اس روایت کے متن کے اضافے کو بیان کیا جو سنن ابن ماجہ میں موجود نہیں تھا جس کا ثبوت یہ ہے:
وَرَوَاهُ مُحَمَّد بن يحيى بن أبي عمر فِي مُسْنده من طَرِيق أبي يحيى عَن عَليّ بن أبي طَالب بِإِسْنَادِهِ وَمَتنه وَزَاد فِي آخِره فَقَالَهَا رجل فأصابته جنَّة
(مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه للبوصیری، ج1، ص 20، رقم 49)
.
🟩میرا تبصرہ و جواب
پہلی بات:
امام بوصیری نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے الگ متن سے روایت کیا جس کا مطلب ہے کہ ابن ماجہ کا متن اور اس متابع کا متن الگ ہے لہذا جب متن ہی الگ ہو گیا تو متابعت نہ رہی
۔
دوسری بات:
امام بوصیری نے اس الگ متن و سند کو صحیح تو قرار نہ دیا، بلکہ صرف تخریج کر دی تو اس سے کہاں لازم اتا ہے کہ ابن ماجہ والا متن ہی یہاں پر تھا اور وہ بھی صحیح سند کے ساتھ تھا یا کم سے کم معتبر ضعیف سند کے ساتھ تھا،ایسا کچھ بھی امام بوصیری نے نہیں فرمایا
لہذا یہ شکوک اور قیاس کی بنیاد پر متابع نہیں بن سکتا
۔
تیسری بات:
اس روایت کہ جسکو یہ دونو صاحبان بطور شاہد و متابع لکھ رہے ہیں اس مسند کے مصنف محمد بن یحیی بن ابی عمر کے متعلق خلاصہ کلام یہ ہے
کہ
قال ابن أبي حاتم عن أبيه: كان رجلا صالحا، وكان به غفلة، ورأيت عنده حديثا موضوعا
امام ابو حاتم نے فرمایا کہ محمد بن یحیی اگرچہ نیک بندہ تھا لیکن غفلت کرتا تھا اور میں نے اس سے موضوع من گھڑت حدیث تک سنی ہے
(تهذيب التهذيب 3/ 731)
جب اس کی روایات میں من گھڑت موضوع حدیث بھی پائی جاتی ہے تو جب تک مکمل روایت مکمل سند کے ساتھ موجود نہ ہو ہم متابع کے طور پر شواہد کے طور پر اس کو پیش ہی نہیں کر سکتے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ موضوع من گھڑت ہو
۔
چوتھی بات:
👈الصدیق الاکبر کے اضافے کے بغیر جو روایت مصنف ابن ابی شیبہ اور محمد بن یحیی کی کتاب سے پیش کی گئی ہے اس میں صدیق اکبر کا اضافہ نہیں ہے تو وہ👈 غالبا سیدنا زید بن علی کے نسخے سے منقول شدہ لگتی ہے اور سیدنا زید بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق جو نسخہ مشہور کیا گیا تھا وہ کذاب راوی نے مشہور کیا تھا یعنی کذاب راوی نے اپنی طرف سے جھوٹ بول کر سیدنا زید بن علی کی طرف منسوب کر دیا
عَمْرو بن خَالِد عَن زيد بن عَليّ عَن أَبِيه عَن جده عَن عَليّ بن أبي طَالب...هَذَا إِسْنَاد فِيهِ عَمْرو بن خَالِد كذبه أَحْمد وَابْن معِين..وَقَالَ البُخَارِيّ مُنكر الحَدِيث وَقَالَ أَبُو زرْعَة وَكِيع يضع الحَدِيث..وَقَالَ الْحَاكِم يروي عَن زيد بن عَليّ الموضوعات
امام بوصیری فرماتے ہیں کہ عمر بن خالد جو سیدنا زید بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نسخے سے روایت کرتا ہے اس کے متعلق امام احمد بن حنبل اور امام ابن معین نے اس کو کذاب کہا ہے اور امام بخاری نے منکر الحدیث کہا ہے اور امام زرعہ نے کہا ہے کہ وہ من گھڑت حدیثیں گھڑ لیتا تھا اور امام حاکم نے فرمایا ہے کہ یہ من گھڑت روایتیں گھڑ کر سیدنا زید بن علی کی نسبت سے بیان کرتا تھا
(مصباح الزجاجۃ1/84)
ابن حجر
وذكره البوصيري في الإتحاف (٣/ ل ١٦٨) وقال: "رواه ابن المقرئ في زياداته ... بسند ضعيف لضعف عمرو بن خالد الواسطي وغيره".قلت: بل إنه موضوع؛ لأن عمرو بن خالد الواسطي كذابٌ عند الأئمة
امام ابن حجر نے فرمایا کہ عمرو بن خالد(جو سیدنا زید بن علی سے روایت کرتا ہے) یہ عمرو تمام ائمہ کے مطابق کذاب ہے جھوٹا ہے
( المطالب العالية محققا18/705)
.
سیوطی
عمرو بن خالد الواسطي كذاب يضع الحديث
امام سیوطی نے فرمایا کہ عمرو بن خالد(جو سیدنا زید بن علی سے روایت کرتا ہے) یہ عمرو کذاب ہے جھوٹا ہے، جھوٹی احادیث گھر لیتا ہے
(الزيادات على الموضوعات2/683)
۔
وقال أحمد بن محمد: قال أبو عبد الله: عمرو بن خالد الواسطي كذاب، قلت له: الذي يروي عنه إسرائيل؟ قال: نعم، الذي يروي حديث الزيدين، ويروي عن زيد بن علي، عن أبائه أحاديث موضوعة، يكذب۔۔• وقال ابن حبان: كذبه أحمد بن حنبل ويحيى بن معين.
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ عمر بن خالد یہ سیدنا زید بن علی کی طرف اور ان کے اباء کی طرف موضوع من گھڑت جھوٹی احادیث منسوب کر کے روایت کرتا ہے اور اسی طرح امام ابن حبان نے بھی اور امام یحیی بن معین نے بھی اس کو کذاب قرار دیا ہے
(موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله3/93)
.🔷🔷🔷🔷🔷
3️⃣رضا عسقلانی اور پروفیسر عون مصطفوی لکھتے ہیں
باقی صدیق اکبر کے الفاظ پر ایک معمولی ضعف کی روایت بھی شاہد کے طور پر موجود ہے جو بریلوی اصول پر پوری اترتی ہے جو یہ ہے:
وحدثني محمد بن أبان الطحان، عن أبي هلال الراسبي، عن أبي فاطمة:عن معاذة العدوية قالت: سمعت عليا على منبر البصرة يقول: أنا الصديق الأكبر، آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر، وأسلمت قبل أن يسلم
(الانساب الاشراف للبلاذری، ج 1، ص 287)
۔
🟩میرا تبصرہ و جواب:
👈بطور شاہد پیش کی جانے والی یہ روایت معمولی ضعیف نہیں بلکہ یہ بھی شدید ضعیف یا موضوع من گھڑت ہے لہذا یہ بھی بطور شاہد اور بطور تائید پیش کرنا باطل ہے
کیونکہ
پہلی بات:
اسکا پہلی راوی بلاذری ہی ایسے معاملات میں معتبر نہیں، بلاذری کی کتب میں کیا کیا نہیں موجود، اللہ پناہ دے
بلاذری
كثير الهجاء بذيء اللسان آخذا لأعراض الناس،
بلاذری بہت زیادہ مذمتیں کرتا تھا ۔۔۔ فحش زبان تھا ۔۔۔ عزتوں کو پامال کرتا تھا ---
(معجم الادباء حموى 2/531)
۔
دوسری بات
بلاذری کی سند میں ابو ہلال راسبی راوی شدید ضعیف و غیر معتبر ہے اور جہاں علماء نے اس سے روایت لی ہے تو وہاں وجوہ موجود ہونگی جبکہ یہاں وجوہ رد موجود ہیں کہ ایک دو بلازری غیر معتبر اور دوسرا ابی فاطمہ مجہول راوی اور تیسرا یہ کہ اس روایت کا راوی ابان نے معاذہ عدویہ کو پایا ہی نہیں تو یہ ان سے کیسے روایت کر رہا ہے یہ تو سراسر جھوٹ کہلائے گا ورنہ کم از کم غیر معتبر ضعیف شدید تو کہلائے ہی گا
۔
یحْيَى بْن معِين: أَبُو هِلَال الرَّاسِبِي لَيْسَ بِشَيْء، كَانَ يعادي ويوالي على الْقدر، كَانَ قدريا.۔۔۔قَالَ إِبْرَاهِيم بْن أَحْمد: وَإِن كَانَ مُحَمَّد بْن سليم هَذَا مديني نزل الْبَصْرَة فَلهُ، أَحَادِيث مَنَاكِير.
امام یحیی بن معین فرماتے ہیں کہ ابو بلال راسبی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ قدری بدمذہب تھا اور امام ابراہیم بن احمد نے فرمایا کہ اس کی روایات منکر روایات ہیں( اور فضائل میں اور شواہد میں منکر روایات بھی قابل قبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ شدید ضعیف ہوتی ہیں)
(تعليقات الدارقطني على المجروحين لابن حبان ص246)
۔
انَ يحيى القطَّان لَا يحدث عَنهُ، وَكَانَ أبو هِلَال شيخاً صَدُوقًا الا أَنه كَانَ يخطئ كثيراً من غير تعمد حَتَّى صَار يرفع المَرَاسيل وَلَا يعلم، وَأكْثر مَا كَانَ يحدث من حفظه، فَوَقع المَنَاكِير فِي حَدِيثه من سوء حفظه۔۔۔قَالَ أبو حَاتِم وَالَّذِي أميل اليْهِ فِي أبي هِلَال الرَّاسِبِي ترك مَا انْفَرد من الأَخْبَار التِي خَالف فِيهَا الثِّقَات، والاحتجاج بِمَا وَافق الثِّقَات، وَقبُول مَا انْفَرد من الرِّوَايَات التِي لم يُخَالف فِيهَا الأثابت التِي لَيْسَ فِيهَا مَنَاكِير
امام یحیی قطان راسبی سے روایت نہیں لیتے تھے کہ اگرچہ وہ صدوق ہے لیکن بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے، اس کے برے حافظے کی وجہ سے اس کی روایات میں منکر روایات ہیں اور امام ابو حاتم فیصلہ کن بات فرماتے ہیں کہ اگر یہ وہ بات کرے وہ روایت لکھے کہ جس کو ثقہ روات نے روایت کیا ہو تو پھر معتبر ہے ورنہ قابل قبول نہیں( اور یہاں ابن ماجہ والی روایت میں عبید اللہ شدید ترین مجروح راوی ہیں اور عباد بھی مجروح ہے متفق علیہ ثقہ نہیں ہے لہذا ابن ماجہ کی روایت کے لیے ابو ہلال راسبی کی روایت فائدہ نہ دے گی قابل قبول نہیں)
(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين13/375)
۔
👈محمد بن ابان نے روایت کی ہے معاذہ سے جبکہ محمد بن ابان پیدا ہوا 147 ہجری میں اور معاذہ اس سے پہلے ہی 106 ہجری یا 98 ہجری میں وفات پا چکی تھی تو پھر یہ وفات شدہ سے کیسے روایت کر رہا ہے۔۔۔؟؟ اس کو کیسے قابل قبول کہا جا سکتا ہے
.
قال أحمد ابن محمد بن أبان الواسطي سمعت أبي يقول ولدت سنة (١٤٧)
محمد بن ابان کے بیٹے نے کہا کہ محمد بن ابان کی ولادت 147 ہجری میں ہوئی
(تهذيب التهذيب -ابن حجر9/3)
.
تُوُفِّيَتْ سَنَةَ ثَمَانٍ وَتِسْعِيْنَ..وَقِيْلَ: تُوُفِّيَتْ فِي سَنَةِ سِتٍّ
وَمائَةٍ
معاذہ عدویہ کی وفات 98 ہجری یا 106 ہجری میں ہوئی
(سير أعلام النبلاء 4/508)
🔷🔷🔷🔷🔷
4️⃣ابن ماجہ کی روایت کے تین راوی
1....عبیداللہ
2...عباد
3...العلاء
کے متعلق9حوالہ جات پڑھیے کہ
ان میں سے بعض پر👈 جرح مفسر ہے لہذا ابن ماجہ والی روایت میں ان کو غیر معتبر قرار دیا جائے گا اور روایت فضائل میں بھی غیر معتبر ناقابل قبول قرار پائے گی،ہاں البتہ ان تینوں راویوں سے کتب میں دیگر روایات لی گئی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کوئی متابع ہے یا دیگر وجوہ قبول ہیں اور وجوہ رد نہیں ہیں
۔
👈🚨نوٹ:
العلاء اور عباد پر بات کرنے سے پہلے عبیداللہ بن موسی پر بات کیجیے۔۔۔یہ راوی انتہائی مجروح ہے کہ اس پر اتنی جرح مفسر ہے کہ اس ایک اکیلے راوی کی وجہ سے بھی ابن ماجہ کی روایت شدید ضعیف یا موضوع من گھڑت بن جاتی ہے۔۔۔لیکن تمام علتیں مجموعی طور پر دیکھیں تو یقینا ابن ماجہ کی روایت شدید ضعیف یا موضوع من گھڑت قرار پاتی ہے اور شدید ضعیف موضوع من گھڑت روایات فضائل شواہد متابعات وغیرہ میں بھی معتبر نہیں
۔
1....سألت أحمد عن عبيد اللَّه بن موسي۔۔۔۔يحدث بأحاديث فيها تنقص لأصحاب رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ بن موسی سخت غیر معتبر راوی ہے اس نے ایسی من گھڑت جھوٹی روایات گھڑ لی ہیں کہ جس میں صحابہ کرام کی توہین و گستاخی کی گئ ہے
الجامع لعلوم الإمام أحمد - الرجال18/169
۔
2....وَكَانَ شِيعِيًّا
امام سیوطی فرماتے ہیں کہ ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ شیعہ تھا
(طبقات الحفاظ للسيوطي ص155)
۔
3...امام مزی امام آجری امام ابوداود
وَقَال أَبُو عُبَيد اللَّه الآجري عَن أَبِي دَاوُد: كَانَ محترقا
شيعيا،
امام اجری اور امام ابو داؤد کے مطابق ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ جلا بھنا سخت کٹر شیعہ تھا
(تهذيب الكمال في أسماء الرجال19/169)
۔
4....وقال أبو مسلم البغدادي: عبيد الله بن موسى من المتروكين تركه أحمد لتشيعه، وقد عوتب أحمد على روايته عن عبد الرزاق، فذكر أن عبد الرزاق رجع...وقال أحمد: روى مناكير...وقال الآجري: قال أبو داود: سمعت أحمد بن حنبل يقول: من عبيد الله بن موسى؟ كل بلية تأتي عن عبيد الله بن موسى
ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ کو امام ابو مسلم بغدادی نے متروک قرار دیا ہے(اور متروک روایت سخت ضعیف ہوتی ہے اور فضائل میں بھی قبول و معتبر نہیں ہوتی)امام عبدالرزاق نے اس راوی سے روایت لی تو اس پر انہیں توجہ دلائی گئی تو انہوں نے اس سے روایت لینا چھوڑ دی، اس راوی کے متعلق امام احمد بن حنبل نے مزید فرمایا کہ افات بلائیں من گھڑت روایات فسادات اس عبیداللہ سے ائی ہیں
(موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله2/412)
.
5.....وقال ابن قتيبة: وكان يتشيع، ويروي أحاديث في التشيع منكرة،..وقال يعقوب بن سفيان: شيعي، وإن قال قائل: رافضي، لم أنكر عليه، وهو منكر الحديث ..وقال الجوزجاني: وعُبَيد الله بن موسى أغلا، وأسوأ مذهبًا، وأروى للعجائب ... وقال الحاكم: سمعت قاسم بن قاسم السياري، سمعت أبا مسلم البغدادي الحافظ يقول: عبيد الله بن موسى من المتروكين
ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عبید اللہ کے متعلق ابن قتیبہ نے کہا کہ وہ شیعت کرتا تھا اور شیعت کے دفاع میں اس نے منکر مردود روایتیں لائی ہیں اسی طرح امام یعقوب نے بھی اسے شیعہ کہا بلکہ فرمایا کہ اگر کوئی اس کو رافضی کہے تو بھی میں انکار نہیں کروں گا، اس راوی کے متعلق امام جوزجانی نے فرمایا کہ غلو کرنے والا ہے گندے مذہب والا ہے منکر الحدیث ہے ، امام حاکم نے فرمایا کہ قاسم بن قاسم امام ابو مسلم بغدادی نے فرمایا ہے کہ یہ راوی متروک راوی ہے( اور متروک راوی منکر راوی کی روایت شدید ضعیف ہوتی ہے فضائل میں ناقابل قبول ہوتی ہے جیسے کہ اوپر چار اصول لکھے ہیں)
(تهذيب التهذيب -ابن حجر8/676)
۔
6....وقال علي بن المديني ضعيف
ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی عباد کے متعلق امام ابن مدینی نے فرمایا کہ ضعیف ہے
(تهذيب التهذيب،ابن حجر5/98)
۔
7....عباد ابن عبد الله الأسدي الكوفي ضعيف
امام ابن حجر اسقلانی نے بھی عباد راوی مذکورہ روایت ابن ماجہ کو ضعیف قرار دیا
(تقريب التهذيب ابن حجر ص290)
.
8....العلاء بن ابى العباس فقال هو من عتق الشيعة
ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی علاء کے متعلق امام ابن ابی حاتم نے فرمایا ہے کہ وہ بڑے بڑے شیعوں میں سے تھا
(الجرح والتعديل - ابن أبي حاتم6/356)
.
9....روى أحاديث مناكير....، حدثنا العلاء بن صالح، عن المنهال بن عمرو، عن عباد بن عبد الله، قال: سمعت عليا يقول: أنا عبد الله وأخو رسول الله، وأنا الصديق الاكبر، لا يقولهما بعدى الا كذاب
ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کا راوی العلاء منکر روایتیں بیان کرتا تھا ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں( اوپر چار اصولوں میں بیان ہو چکا کہ منکر روایتیں شدید ضعیف کہلاتی ہیں فضائل میں بھی غیر معتبر ہوتی ہیں)
(الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين10/464)
۔
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475