Labels

محرم میں کالے کپڑے، کالے جھنڈے۔۔۔شیعوں اور مرزا جہلمی کو جواب اور انکی مکاری منافقت۔۔۔خلاصہ تو ضرور پڑھیے پھر تفصیل پڑھیے، اور ہوسکے تو پھیلائیے کہ شاید کسی کو ہدایت ملے اور مکاروں کو پہچان لیا جائے

 🟧 *#محرم میں کالے کپڑے، کالے جھنڈے۔۔۔شیعوں اور مرزا جہلمی کو جواب اور انکی مکاری منافقت۔۔۔خلاصہ تو ضرور پڑھیے پھر تفصیل پڑھیے، اور ہوسکے تو پھیلائیے کہ شاید کسی کو ہدایت ملے اور مکاروں کو پہچان لیا جائے۔۔۔۔!!*

.

🔵 *#شیعہ کہتے ہیں*

لبس السواد ، أو رجحانه حزنا على أبي عبد الله

( عليه السلام ) ، كما عليه سيرة كثير في أيام حزنه ومأتمه...السواد حداد آل محمد ( عليهم السلام ) ، وشهداء كربلا ،

کالے کپڑے پہننا جائز ہے بلکہ بہت ہی اچھا ہے کہ کالے کپڑے پہنے جائیں شہدائے کربلا اور دیگر شہداء کے غم میں ، سوگ و ماتم کے لیے 

(شیعہ کتاب مستدرك الوسائل ميرزا الطبرسي 3/،328 )

👈👈جبکہ نیچے سرخ ڈبے🟥 کی لیکر کے بعد شیعہ کتابوں سے ہم نے حوالہ جات لکھے ہیں کہ سوگ ماتم غم وغیرہ کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اہل بیت کرام کی نافرمانی ہے

۔

🔵 *#مرزا جہلمی کہتا ہے*

مرزا جہلمی کی ویڈیو کسی بھائی نے سینڈ کی جس میں مرزا جہلمی کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پیارا رنگ کپڑوں میں کالا رنگ تھا تو محرم ہو یا کوئی بھی مہینہ خوب کالے رنگ کے کپڑے پہنو

۔

🟩 *#جواب و تحقیق*

اہم بات:

لَا لِإِظْهَارِ الْفَرَحِ وَالْحُزْنِ كَمَا هُوَ طَرِيقُ الْخَوَارِجِ الْمُضَادَةُ لِلْرَوَافِضِ وَقَدِ اشْتُهِرَ عَنِ الرَّافِضَةِ فِي بِلَادِ الْعَجَمِ مِنْ خُرَاسَانَ وَالْعِرَاقِ بَلْ فِي بِلَادِ مَا وَرَاءَ النَّهْرِ مُنْكَرَاتٌ عَظِيمَةٌ مِنْ لُبْسِ السَّوَادِ وَالدَّوَرَانِ فِي الْبَلَادِ وجرح رؤوسهم وَأَبْدَانِهِمْ بِأَنْوَاعِ مِنَ الْجِرَاحَةِ وَيَدَّعُونَ أَنهم محبو أَهْلِ الْبَيْتِ وَهُمْ بَرِيئُونَ 

مِنْهُمْ

شہدائے کربلا وغیرہ پر خوشی کے لیے غسل کرنا یا سرے لگانا یا دعوتیں کرنا نعوذ باللہ تعالی اگر شہدائے کربلا کی شہادت کی خوشی میں یہ سب کیے جائیں تو سخت مردود و باطل ہیں اور خوارج کا طریقہ ہے۔۔۔اس سے بچنا لازم ہے

اور

اسی طرح شہدائے کربلا وغیرہ پر ماتم کرنا کالے کپڑے پہننا اور سروں کو جسموں کو زخمی کرنا اور اس طرح کے دیگر برے کام کرنا بھی ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے اور یہ رافضیوں کا طریقہ ہے جو اپنے اپ کو اہل بیت کا محب سمجھ کر یہ سب کام کرتے ہیں جبکہ وہ اہل بیت کے محب نہیں اور اہل بیت ان تمام برے کاموں سے ان تمام بری بدعتوں سے

 بری الذمہ ہیں

(اسرار مرفوعہ ص340)


👈👈✅خلاصہ:

1️⃣۔۔۔ مرزا جہلمی نے یہ جھوٹ بولا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں میں سب سے پیارا اور محبوب رنگ کالا رنگ تھا۔۔بلکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رنگ سفید رنگ اور سبز رنگ بہت زیادہ محبوب تھا ، بہت زیادہ پیارا تھا ، پسندیدہ تھا

لیھذا

مرزا جہلمی نے جھوٹ بولا ورنہ ثابت کرے

۔

2️⃣...مرزا جہلمی نے کہا کہ محرم میں خوب کالا رنگ پہنو جبکہ یہ فتوی شریعت مطہرہ اور حدیث پاک کے سراسر خلاف ہے کیونکہ خاص کر محرم میں کالے کپڑے اور کالے جھنڈے ماتم غم سوگ کے لیے ہوتے ہیں اور ہمیں ان چیزوں سے روکا گیا ہے لہذا ان چیزوں سے بچنے کے لیے اور بدمذہب شیعوں کی مشابیت سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ کالے جھنڈے کالے کپڑے بالخصوص9٫10 محرم کو ہرگز نہیں پہننے۔۔۔لیھذا مرزا جہلمی کا فتوی ایجنٹی مکاری جھوٹ نفس پسندی پیسہ پرستی پر مبنی ہے

۔

3️⃣...شیعہ کتابوں میں دو ٹوک لکھا ہے کہ کالا رنگ نہیں پہننا کیونکہ یہ فرعون اور جہنمی لوگوں کا لباس ہے جبکہ شیعہ لوگ منافقت مکاری دھوکہ بازی کرتے ہوئے کالا لباس پہنتے ہیں تو یا تو وہ مکار ہیں نفس پرست ہیں کہ اپنی خواہش کے مطابق اپنے فتووں کے خلاف عمل کرتے ہیں یا پھر اپنی کتابوں میں جھوٹے فتوے لکھے اور عمل کچھ اور کرتے ہیں... ہر حال میں شیعہ مکار جھوٹے دوغلے جعلی محب ہیں 👈بلکہ ایک تحریر میں نے شیعہ کتابوں سے ثبوت دے کر لکھی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والوں میں سب سے بڑا ہاتھ شیعوں کا ہی تھا یعنی سیدنا حسین اور شہدائے کربلا رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو شیعوں نے اور یزیدیوں نے شہید کیا

۔

4️⃣... شیعہ کتب میں ثابت ہے کہ ماتم تو ہر حال میں نہیں کرنا اور سوگ غم سالانہ طور پر جو کیا جاتا ہے یا وفات کے شروع کے تین دن کے بعد جو کیا جائے جیسے کہ اج کل سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اور کربلا کے شہداء کی شہادت پر سوگ غم نو 10 محرم کو کیا جاتا ہے یہ سب ناجائز گناہ ہے اور اہل بیت کی نافرمانی ہے

👈👈نیچے سرخ ڈبے🟥 کی لیکر کے بعد شیعہ کتابوں سے ہم نے حوالہ جات لکھے ہیں کہ سوگ ماتم غم وغیرہ کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اہل بیت کرام کی نافرمانی ہے

۔

۔

5️⃣۔۔۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مبارک زیادہ تر سفید اور چار کونوں والا ہوتا تھا اور دیگر رنگ بھی ثابت ہیں لیکن چار کونوں والا ہوتا تھا جبکہ شیعہ کا جعلی جھنڈا من گھڑت جھنڈا تین کونوں والا ہے

🟢🟢🟢🟢🟢

✅دلائل و حوالہ جات:

👈🌹رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص مبارک اور چاردر مبارک میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ رنگ سفید و سبز تھا

۔

🔷1...القرآن:

یَلۡبَسُوۡنَ ثِیَابًا خُضۡرًا

(جتنی)سبز کپڑے پہنے ہوئے ہونگے

(سورہ کہف آیت31)

.

🔷2....الحدیث:

 الْبَسُوا الْبَيَاضَ ؛ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ ". 

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنو بے شک وہ بہت پاکیزہ ہیں اور بہت  عمدہ و پسندیدہ ہیں اور میت کو بھی سفید کفن دو

(ترمذی حدیث2810)

.

🔷3...الحدیث:

كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةَ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسندیدہ  کپڑا حبرہ(سفید سبز و نقش و نگار و خطوط والا کپڑا) تھا

(بخاری حدیث5813)

.


🔷4...وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُحِبُّ الْخُضْرَةَ أَوْ قَالَ: كَانَ أَحَبُّ الْأَلْوَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيُّ ثِقَاتٌ

ترجمہ:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبز رنگ کو بہت پسند فرماتے تھے یا پھر آپ نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو تمام رنگوں میں سے سبز رنگ زیادہ پسند تھا

اس کو بزاز اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور طبرانی کے راوی ثقہ ہیں

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد حدیث8562)

.


🔷5....أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ»

حضور علیہ الصلاۃ والسلام ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر دو سبز کپڑے تھے

(سنن النسائي ,8/204 حدیث5319)


.

🔷6....حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ

ترجمہ:

راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس حال میں کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام دو سبز چادریں پہنے ہوئے تھے 

(سنن الترمذي حدیث2812)

.

🔷7...أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، 

ترجمہ:

راوی فرماتے ہیں کہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر دو سبز چادریں تھیں

(المستدرك على الصحيحين للحاكم ,2/664)

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟩جھنڈوں کے رنگ عمامے کے رنگ اور چار کونے والے جھنڈے۔۔۔۔۔دلائل و حوالہ جات پڑھیے

🟢1.... *#سبز جھنڈے*

ومعهمْ لواء أخضر

اور(رمضان میں شب قدر کی رات جب فرشتے اترتے ہیں تو)فرشتوں کے ساتھ بڑا سبز جھنڈا ہوتا ہے

(الترغيب و الترهيب2/100)


.

🟢2.... *#پانچ رنگ کے عمامے*

 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " أَدْرَكْتُ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ يَعْتَمُّونَ بِعَمَائِمَ كَرَابِيسَ سُودٍ، وَبِيضٍ، وَحُمْرٍ، وَخُضْرٍ، وَصُفْرٍ، 

راوی فرماتے ہیں کہ میں نے اولین ہجرت کرنے والے صحابہ کرام کو پایا اس طرح کہ وہ عمامے باندھتے تھے کالے رنگ کے اور سفید رنگ کے اور (ہلکے یا دھاری دار)سرخ رنگ کے اور سبز رنگ کے اور زرد رنگ کے

(المصنف استاد بخاری روایت24987)

.

🟢3.... *#چیتے کے رنگ کے اور کالے رنگ کے چار کونوں والےجھنڈے*

 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاهى؟ فَقَالَ: «كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ»

ترجمہ:

راوی فرماتے ہین کہ مجھےحضرت محمد بن قاسم نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کیسے ہوا کرتے تھے تو حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کےجھنڈے کالے رنگ کے ہوتے تھے، چار کونے والے ہوتے تھے، چیتے کے رنگوں والے ہوتے تھے(چیتے کے رنگ والا مطلب سفید مٹیالہ کالے نقطوں والا)

(سنن أبي داود ,3/32حدیث2591)

.

.

🟢4.... *#سفید جھنڈے*

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «كَانَ لِوَاؤُهُ يَوْمَ دَخَلَ مَكَّةَ أَبْيَضَ

ترجمہ:

جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا(بڑا مرکزی)جھنڈا مبارک سفید تھا 

(سنن أبي داود ,3/32حدیث2592)

.

🟢5....حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ السَّالِحَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ لَاحِقَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ

ترجمہ:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے جھنڈے کالے ہوتے تھے اور آپ کا بڑا جھنڈا سفید ہوتا تھا 

(سنن الترمذي حدیث1681)


.

🟢6.... *#سرخ جھنڈے*

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ بُسْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا الرِّحَالُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أبِيهِ، عَنْ كَرِيزِ بْنِ سَامَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ رَايَةً لِبَنِي سُلَيْمٍ حَمْرَاءَ

بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سلیم کے لیے سرخ رنگ کا جھنڈا باندھا 

(المعجم الكبير طبراني حدیث425)

.

🟢7..... *#زرد جھنڈے*

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ آخَرَ مِنْهُمْ قَالَ: رَأَيْتُ «رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ»

راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مبارک دیکھا وہ زرد رنگ کا تھا 

(سنن أبي داود ,3/32حدیث2593)


.

🟥🟥🟥🟥🟥🟥

🚨نوحےکرنا سننا چلانا، تعزیے شبیہ اور اسکی منتیں چڑہاوے، ماتم کرنا، زخمی کرنا سینہ کوبی،قصدا غم کرنا کروانا، جان بوجھ کر رونا رولانا،غم مناتےہوئےکالے کپڑے پہننا دودھ نہ پینا، غسل نہ کرنا کپڑے نہ دھونا 👈گناہ ہے دلائل 👈شیعہ اور سنی کتب سے پڑھیے،لیھذا شیعوں سےدوری و بائیکاٹ لازم،انکی محفلوں مجلسوں میں شرکت نہ کرنا لازم ہے..👈البتہ جان بوجھ کر غم و رونے رولانے کے بغیر معتبر روایات کے ساتھ ذکر حسین،واقعہ کربلا، ذکرِ صحابہ و اہلبیت و اسلاف برحق ہے

۔

 🚨مذکورہ تمام معاملات گناہ و گمراہی ہیں اس پر کئی احادیث و اقوال صحابہ و اہلبیت 👈سنی شیعہ کتب میں موجود ہیں...👈19 حوالے شیعہ کتب سے درج ذیل ہیں ہیں لیکن یہ مکار عیاش جھوٹے لوگ عمل نہیں کرتے منافقت کرتے ہیں دوسری جھوٹی روایات لیکر جائز و ثواب کہتے ہیں جوکہ کفر و گمراہی تک ہو جاتا ہے

.

🔷 *#تعزیہ…شبیہ*

قال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا "، أو مثل مثالا "، فقد خرج من الاسلام

 1️⃣ شیعوں کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جس نے قبر کی تزئین و آرائش کی یا جس نے تمثیل و شبیہ بنائی وہ اسلام سے نکل گیا

(شیعہ کتاب بحار الأنوار المجلسي76/285)

(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه - 1/189)

 👈شہداء وغیرہ کی لاشوں کا شبیہ بنانا یا ان کے مزارات کی شبیہ بنانا یا ان کی قبروں کی شبیہ بنانا شیعہ کی بتائی گئ اس روایت کے مطابق سخت ناجائز یا کفریہ شرکیہ کام ہے...مگر افسوس شیعہ شبیہ بناتے ہیں تعظیم کرتے ہیں، فلمیں بناتے ہیں، منتیں مانگتے ہیں حالانکہ شیعہ ہی کی کتب کے مطابق ایسی منت جائز نہیں

.

🔷 *#شبیہ، تعزیہ پے منت و چڑھاوے*

2️⃣  إذا لم يجعل لله فليس بشئ

 منت اللہ ہی کے لیے مانے دیگر منتیں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں

(شیعہ کتاب الكافي - الشيخ الكليني7/458)

👈لہذا ذوالجناح کی منتیں، سیدنا قاسم کی شادی منتیں، امام جعفر صادق کی منتیں، اور دیگر تمام منتیں اور چڑھاوے اور شبیہ بنانا اور ان کی منتیں کرنا سخت ناجائز وہ حرام ہے شیعہ کی کتب سے ہی۔۔۔۔۔!!

.

انه لا ينعقد النذر حتى يقول: لله على كذا ويسمى المنذور ويكون عبادة

 3️⃣منت صرف اسی طرح ہوسکتی ہے کہ یوں کہے کہ مجھ پر اللہ ہی کے لئے فلاں عبادت کرنا ہے

( شیعہ کتاب وسائل الشيعة  الحر العاملي16/182)

.

 أنا أهدي هذا الطعام فليس هذا بشئ إنما تهدى البدن

 4️⃣اگر منت یوں کی کہ یہ کھانا میں خیرات کروں گا تو یہ منت نہیں ہے کہ منت یوں ہوسکتی ہے کہ قربانی کی منت اللہ سے مانے

(شیعہ کتاب الكافي - الشيخ الكليني7/455)

👈شیعہ کی ان حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء ائمہ اولیاء وغیرہ کسی کی منت معتبر نہیں اور شبیہ و تعزیہ کی منت بھی جائز نہیں، شبیہ و تعزیہ پے چڑھاوے بھی جائز نہیں۔۔۔ایسا نہیں کہ یہ حکم فقط شیعوں کے لیے ہے بلکہ علماء اہل سنت نے دو ٹوک لکھا ہے کہ اولیاء کرام کی منتیں جائز نہیں ہیں ہاں اولیاء کرام کی منتوں کا جائز ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ یوں کہے کہ یا اللہ میں تیری منت مانتا ہوں کہ فلاں کام ہو جائے تو میں فلاں نیک کام صدقہ خیرات فلاں پیر کے فقراء غرباء مساکین میں تقسیم کروں گا تو برحق ہے

.

🔷 *#پیٹنا...زخمی کرنا...ماتم کرنا...نوحے کرنا۔۔سوگ غم کرنا ناجائز و حرام ہے۔۔۔۔!!*

يحرم اللطم والخدش وجز الشعر إجماعا...عن الصادق عليه السلام لا شئ في لطم الخدود سوى الاستغفار والتوبة...وفي صحاح العامة أنا برئ ممن حلق وصلق، أي حلق الشعر ورفع صوته

5️⃣  تمام شیعہ کا متفقہ فتویٰ ہے کہ پیٹنا اور زخمی کرنا اور بال نوچنا جائز نہیں ہے، امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ پیٹنے پر توبہ اور استغفار ہے...صحیح روایتوں میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس سے برءی ہوں جو بال کاٹے یا چیخ و پکار(نوحہ کرے، سوگ ، غم)

(شیعہ کتاب بحار الأنوار - المجلسي106, 79/105)

.

 ضرب المسلم يده على فخذه عند المصيبة إحباط لأجره...الصبر على قدر المصيبة، ومن ضرب يده على فخذه عند مصيبة حبط أجره

6️⃣ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مصیبت (یعنی کسی دکھ درد یا وفات و شہادت) پے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے (پیٹنے، سینہ کوبی کرنے، ماتم کرنے زخمی کرنے، سوگ و غم کرنے)سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں... سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جتنی بڑی مصیبت ہو اتنا بڑا صبر لازم ہے، مصیبت(یعنی کسی دکھ درد یا وفات و شہادت)  پے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے (پیٹنے، سینہ کوبی کرنے، ماتم کرنے زخمی کرنے، سوگ و غم کرنے)سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں

(شیعہ کتاب وسائل الشيعة الحر العاملي2/914)

.

👈نهينا أن نحد أكثر من ثلاث

ترجمہ:ہمیں(ہم صحابہ و اہلبیت و تمام مسلمانوں کو وفات کے فورا بعد والے)تین دن سے زیادہ سوگ.و.قصدا غم کرنے سے روکا گیا ہے...(اہلسنت کی کتاب بخاری حدیث1279)

 ✅سنی کتب سے بھی ثابت ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور اہلبیت اطہار کے احکام کے خلاف چل کر سینہ کوبی ماتم نوحے تعزیے رونا پیٹنا وغیرہ محبت کے نام پے کرنا دراصل نافرمانی ہے، من مانی ہے....وفات کے فورا بعد کے جو تین دن ہیں ان کے علاوہ قصدا غم و گریہ کرنا قصدا رونا رلانا غم تازہ کرنا کرانا سب ناجائز ہے، شہداء وغیرہ پر وفات کے فورا بعد والے تین دن کے بعد یا سالانہ غم کے طور پر کالے کپڑے پہننا سوگ کرنا اچھی طرح نہ سونا دودھ نہ پینا،کپڑے نہ دھونا، بیوی کے ساتھ سونے کو غلط سمجھنا سب ناجائز ہے ....اللہ ہدایت دے


.

أو تضرب يدك على فخذك، فإنه يحبط أجرك عند المصيبة 

 7️⃣ مصیبت(یعنی کسی دکھ درد یا وفات و شہادت)پے اپنی ران پر ہاتھ مت مارو (مت پیٹو، سینہ کوبی مت کرو، زخمی مت کرو، ماتم مت کرو، سوگ و غم نہ کرو کہ یہ ایسے گناہ ہیں) کہ اس سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں

(شیعہ کتاب مستدرک الوسائل2/448)

.

👈إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا عن النياحة

ترجمہ: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا ہے...(اہل سنت کی کتاب ابوداود حدیث3127)

.

ونهى عن الرنة عند المصيبة، ونهى عن النياحة والاستماع إليه... 

8️⃣ سیدنا علی فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے وقت( یعنی کسی کی وفات پے یا کسی اور مصیبت و دکھ کے وقت) چیخنے سے منع کیا ہے اور نوحہ کرنے اور نوحہ سننے سے منع کیا ہے

(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق جلد4 ص5)

.

👈الحدیث۔ ۔۔ترجمہ:

آج کے بعد(یعنی سیدنا حمزہ پر نوحہ کےبعد) کسی پر بھی نوحہ نہ کریں(یعنی آج کے بعد نوحہ ماتم ہمیشہ کے لئے ممنوع اور حرام ہے)

(اہل سنت کی کتاب ابن ماجہ حدیث نمبر1591)

.


👈الحدیث:

ليس منا من لطم الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية...ترجمہ:جو چہرہ پیٹے اور گریبان پھاڑے(ماتم کرے) اور جاہلی چیخ و پکار کرے(آواز سے رونا دھونا کرے، نوحے کرے)وہ ہم میں سے نہیں...(اہل سنت کی کتاب بخاری حدیث1294)

.

ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب ".

2444 / 13 وعن أبي أمامة: ان رسول الله (صلى الله عليه وآله) لعن الخامشة وجهها، والشاقة جيبها، والداعية بالويل والثبور.2445 / 14 وعن يحيى بن خالد: أن رجلا أتى النبي (صلى الله عليه وآله فقال: ما يحبط الاجر في المصيبة؟ قال:

" تصفيق الرجل يمينه على شماله، والصبر عند الصدمة الأولى، من رضي فله الرضى، ومن سخط فله السخط ".

وقال النبي (صلى الله عليه وآله): " انا برئ ممن حلق وصلق " أي: حلق الشعر، ورفع صوته.

9️⃣ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ ہم اہل اسلام میں سے نہیں کہ جو چہرہ پیٹے(یا سیینہ یا پیٹھ پیٹھے ماتم کرے زخمی کرے) اور گریبان پھاڑے... رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت کی ہے کہ جو اپنا چہرہ(سینہ پیٹھ) کو زخمی کرے گریبان پھاڑے، ایک شخص آیا اس نے عرض کی یارسول اللہ کون سی چیز ہے کہ مصیبت کے وقت میں (دکھ درد مصیب پے کسی کی شہادت و وفات پے) اس سے نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بندہ اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر مارے(یا چہرہ سینہ پیٹھ پیٹے زخمی کرے تو اس گناہ سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں).... کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ جو چیخ و پکار کرے(نوحہ ماتم سینہ کوبی سوگ و غم کرے)یا بال منڈائے 

(شیعہ کتاب مستدرک الوسائل جلد2 صفحہ452)

.

النياحة من أمر الجاهلية

🔟 نوحہ کرنا جاہلی کاموں میں سے ایک ہے

(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه4/376)

ابن ماجہ حدیث1581)

.

لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم النائحة والمستمعة

ترجمہ:

1️⃣ 1️⃣ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس پر جو نوحہ کرے اور.اس پر جو نوحہ سنے

(ابوداؤد حدیث3128)

(شیعہ کتاب مستدرک وسائل2/453)

2️⃣ 1️⃣ مولا علی نےفرمایا

جزع کرنا(وفات کے فورا تین دن کے علاوہ قصدا غم و بےصبری کا اظہار کرنا،نوحےماتم کرنا)گناہ ہے.(دیکھیے شیعہ کتاب مسکن الفواد ص4)

.

امامِ عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی شہادت سے پہلے سختی سے حکم دیا تھا کہ:

لا تشقي علي جيبا، ولا تخمشي علي وجها، ولا تدعي علي بالويل والثبور

ترجمہ:

🔵13...جب میں شہید ہوجاؤں تو اپنے کپڑے مت پھاڑنا، اپنا چہرہ(سینہ، پیٹھ) زخمی مت کرنا(ماتم مت کرنا) اور یہ مت پکارنا کہ ہائے مصیبت، ہائے ہم ہلاک ہوگئے(مطلب نوحے ماتم چیخ و پکار مت کرنا)

(شیعہ کتاب بحار الانواز45/3)

.

🔵14....نوحہ کرنے والےقیامت کےدن کُتوں کی شکل میں ہونگے.(ماخذ:شیعہ کتاب جامع احادیث شیعہ3/650)

.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا:

 أتلوا عليكم الحكمة فتعرضون عنها ، وأعظكم بالموعظة البالغة فتنفرون عنها ، كأنكم حمر مستنفرة

میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں، سمجھاتا ہوں مگر تم لوگ(وعظ نصیحت ہدایت) سے نفرت کرتے ہو گویا تم بدصورت گدھے ہو....(شیعہ کتاب احتجاج طبرسی1/254)


.

🔵15....سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

لَوْلَاۤ اَنَّكَ اَمَرْتَ بِالصَّبْرِ، وَ نَهَیْتَ عَنِ الْجَزَعِ، لَاَنْفَدْنَا عَلَیْكَ مَآءَ الشُّؤُوْنِ،

(یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم) اگر آپ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور جزع کرنے(رونے دھونے پیٹنے سینہ کوبی کرنے ماتم کرنے خود کو زخمی کرنے)سے روکا نہ ہوتا تو ہم آپ کے غم میں آنسوٶں کا ذخیرہ ختم کر دیتے

(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ2/228)

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان سے واضح ہے کہ سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماتم نوحے پیٹنے سوگ و غم وغیرہ سے سختی سے روکا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے.....!!

.

 ألا تنهونهن عن هذا الرنين وأقبل يمشي معه وهو عليه السلام راكب فقال له: ارجع فإن مشي مثلك مع مثلي فتنة للوالي ومذلة للمؤمن

🔵16...(شہداء پر ایک قبیلے کی عورتیں رو رہی تھیں، نوحہ چیخ و پکار کر رہی تھیں)سیدنا علی نے فرمایا تم اس رونے دھونے چیخ و پکار کو کیوں نہیں روکتے،اس قبیلے کا اہم شخص سیدنا علی کے ساتھ ہونے لگا تو سیدنا علی نے فرمایا(تم رونے دھونے چیخ پکار نوحے نہیں روک رہے اس لیے)تم دفع ہو جاو(میرے ساتھی بننے کے قابل نہیں ہو)فتنہ ہو اور مومن کے لیے ذلت کا باعث ہو

(شیعہ کتاب بحار الأنوار23/619)

(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ4/86،87)

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے دھونے پیٹنے ماتم نوحہ سوگ غم کرنے کی مذمت فرما رہے اور انہیں اپنا ساتھی شمار کرنے کو ذلت قرار دے رہے ہیں....لیکن افسوس آج یہ باعثِ فخر اور محبت کی علامت قرار دیا جا رہا.....صد افسوس، اللہ ہدایت دے

.

🛑🧠شیعہ سنی کتب سے ہی ثابت ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور اہلبیت اطہار کے احکام کے خلاف چل کر سینہ کوبی ماتم نوحے تعزیے رونا پیٹنا وغیرہ محبت کے نام پے کرنا دراصل نافرمانی ہے، من مانی ہے....وفات کے فورا بعد کے جو تین دن ہیں ان کے علاوہ قصدا غم و گریہ کرنا قصدا رونا رلانا غم تازہ کرنا کرانا سب ناجائز ہے، شہداء وغیرہ پر وفات کے فورا بعد والے تین دن کے بعد یا سالانہ غم کے طور پر کالے کپڑے پہننا سوگ کرنا اچھی طرح نہ سونا دودھ نہ پینا،کپڑے نہ دھونا، بیوی کے ساتھ سونے کو غلط سمجھنا سب ناجائز ہے ....اللہ ہدایت دے

لیکن

یہ بھی ذہن میں رہے کہ ماتم نوحے عزاداری غم وغیرہ کے جھوٹے ٹوٹے پھوٹے دلائل و قصے بیان کرنا بھی جھوٹ ہے ناقابل دلیل ہے جھوٹی ٹوٹی پھوٹی دلیل تو باطل کےپاس بھی ہوتی ہے شیطان نے بھی اللہ کو جھوٹی ٹوٹی پھوٹی دلیل دی تھی...یہ شیعوں کی عادت ہے کہ اپنی طرف سے کہتے ہیں لکھتے ہیں اور کسی اہلبیت کا نام ڈال دیتے ہیں لیھذا ان کے بیان کردہ اقوال و روایات حواجات مقبول جو موافق شرع ہوں ورنہ شیعہ کے جھوٹ کہلائیں گے...

.

🔷 *#کالےکپڑے_کالےجهنڈے*

اہلسنت کے مطابق بغیر غم کے کالے کپڑے کوٹ جوتے پہننا جائز ہے۔۔۔۔لیکن وفات کے ابتدائی تین دن کے بعد غم و سوگ میں کالے کپڑے وغیرہ پہننا جائز نہیں اور محرم یا خاص مواقعے پے کالے کپڑے پہننے سے شیعوں کی مشابہت ہوتی ہو تو تب بھی کالے کپڑے نہیں پہن سکتے

لیکن

👈شیعہ کی کتب میں کیا لکھا ہے، ائیے پڑھیے 

رفعه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله يكره السواد إلا في ثلاث: الخف والعمامة والكساء

🔵17....موزہ عمامہ اور چادر کے علاوہ دوسرا کوئی بھی چیز کالی ہو تو رسول اللہ کو یہ ناپسند تھا

(شیعہ کتاب الكافي - الشيخ الكليني6/449)

👈ان تین کے علاوہ کالا رنگ شیعہ کے مطابق مکروہ و ناجائز ہےتو کالے کپڑے،  کالے جبے، کالے کوٹ، کالے جھنڈے سب مکروہ ہیں، نبی پاک سیدنا علی وغیرہ کو ناپسند ہیں مگر شیعہ کو پسند ہیں...افسوس

.

شیعوں کے مطابق حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

لا تلبسوا السواد فإنه لباس فرعون

ترجمہ:

🔵18...کالے کپڑے نہ پہنو کہ بےشک یہ فرعونی لباس ہے...(شیعہ کتاب من لا یحضرہ الفقیہ1/251)

.

فإنها لباس أهل النار

🔵19....کالا لباس جہنمیوں کا لباس ہے

(شیعہ کتاب وسائل الشيعة . الحر العاملي4/387)

.

🛑👈*#الحاصل*

*یادِ حسین،ذکر حسین،ذکرِ صحابہ و اہلبیت برحق ہےمگر کسی کی وفات و شھادت کےایام میں سوگ ماتم نوحے،قصدا غم کرنا،قصدا رونا رولانا تعزیے کرنا جائز نہیں…بلاقصد غم آجائے آنسو نکل پڑیں تو ہرج نہیں…وفات کے فورا بعد والے تین دن غم کرنا اور بغیر نوحے کے بغیر چیخ و پکار کے رونا جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے...وفات کےفورا بعد والے تین دن کے بعد قصدا غم تازہ کرنا یا قصدا غم میں رونا، رولانا سوگ کرنا تعزیہ نکالنا، غم و سوگ کے طور پر کالے کپڑے پہننا، دودھ نہ پینا غسل نہ کرنا، سوگ و غم کرتے ہوئے نہ نہانا نہ کپڑے دھونا الغرض کسی بھی طرح سوگ و قصدا غم کرنا جائز نہیں۔۔۔نوحے ماتم زنجیر زنی کرنا تو کسی بھی صورت جائز نہیں...وفات کے فورا بعد سے تین دن تک تعزیت و دعا کرنا سنت سے ثابت ہے....اس کے بعد یا سالانہ تعزیے نکالنا قصدا غم تازہ کرنا سوگ و غم کرنا جائز نہیں...کالا عمامہ سنت ہے، کالے کپڑے بغیر غم کے پہننا جائز ہے…وفات کے وقت تین کے دن علاوہ غم و سوگ کرتے ہوئے کالے کپڑے پہننا گناہ ہیں

لیھذا

مذکورہ کرتوت و گناہ و گمراہی شیعوں میں بھرپور پائی جاتی ہے تو ایسے بدمذہب گمراہ یا کافر مرتد زندیق شیعوں کی صحبت یاری دوستی میل جول کھانا پینا اکھٹے کرنا انکی مجلس محفل میں شرکت کرنا سب جائز نہیں...ان شیعوں سے انکی محفلوں مجلسوں سے دور رہنا لازم ہے، بائیکاٹ کرنا لازم ہے...سمجھانے کے ساتھ ساتھ مجرموں گستاخوں بدمذہبوں سے سلام دعا کلام ، کھانا پانی ، میل جول ، شادی بیاہ نماز وغیرہ میں شرکت نہ کرنے، انکی مذمت کرنے کرتوت بیان کرنے بائیکاٹ کرنے کے دلائل یہ ہیں

🌹القرآن:

فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ  الذِّکۡرٰی  مَعَ الۡقَوۡمِ  الظّٰلِمِیۡنَ

یاد آجانے(دلائل آجانے)کے بعد تم ظالموں(بدمذبوں گمراہوں گستاخوں مکاروں گمراہ کرنے والوں منافقوں ظالموں بدعتیوں) کے ساتھ نہ بیٹھو(نہ میل جول کرو، نہ انکی محفل مجلس میں جاؤ، نہ کھاؤ پیو، نہ شادی بیاہ دوستی یاری کرو،ہر طرح کا بائیکاٹ کرو)

(سورہ انعام آیت68)

 

.

وَكَذَلِكَ مَنَعَ أَصْحَابُنَا الدُّخُولَ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ وَدُخُولِ كَنَائِسِهِمْ وَالْبِيَعِ، وَمَجَالِسِ الْكُفَّارِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ، وَأَلَّا تُعْتَقَدَ مَوَدَّتُهُمْ وَلَا يُسْمَعَ كَلَامُهُمْ

ہمارے علماء نے اس ایت سے ثابت کیا ہے کہ دشمنوں کے پاس نہ رہا جائے،چرچ گرجا گھروں میں ہرگز نہ مسلمان نہ جائے،کفار اہل کتاب بدمذہب سے بھی میل جول نہ رکھا جائے،نہ ان سے محبت رکھے نہ انکا کلام سنے(یہود و نصاری مشرکین کفار ملحدین منافقین مکار بدمذہب سب سے بائیکاٹ کیا جائے،بغیر محبت و دوستی یاری کے احتیاط کے ساتھ فقط سودا بازی تجارت کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اسلام پے آنچ نہ آئے بلکہ تجارت سے اسلام و مسلمین کا فائدہ مدنظر ہو)

(تفسیر قرطبی 7/13)

.


🔴 *#دلیل نمبر3*

الحدیث:

ایاکم و ایاھم

’’گمراہوں،گستاخوں، بدمذہبوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو(سمجھانے کے ساتھ ساتھ قطع تعلق و بائیکاٹ کرو کہ)....(صحیح مسلم1/12)

واضح ہوتا ہے کہ بد مذہبوں تمام کے تمام بد مذہبوں چاہے وہ رافضی ہوں تفضیلی ہوں ناصبی ہوں خارجی ہوں یا دیگر بدعتی بد مذہب  کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے ان سے دور بھاگنا ہے، ان سے قطع تعلق کرنا ہے، ان کا بائیکاٹ کرنا ہے

۔

🔴 *#دلیل نمبر4*

ایک امام نےقبلہ کی طرف تھوکا،رسول کریمﷺنےفرمایا:

لایصلی لکم

ترجمہ:

وہ تمھیں نماز نہیں پڑھا سکتا

(ابوداؤد حدیث481، صحیح ابن حبان حدیث1636,

مسند احمد حدیث16610 شیعہ کتاب احقاق الحق ص381)بدعتی فاجر گستاخ رافضی تفضیلی ناصبی وغیرہ تمام بدمذہبوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے،لیھذا یہ حدیث پاک بھی دلیل ہے کہ بدعتی گمراہ بدمذہب رافضی تفضیلی کو عزت نہیں دے سکتے انکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، اس کی تعظیم و توقیر نہیں کر سکتے، ان کو اپنی محافل و اسٹیج پہ نہیں بلا سکتے، ان کی تقریر  بیان وغیرہ کچھ نہیں سن سکتے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا

.

🔴 *#دلیل نمبر5*

الحدیث:

فَلَا تُجَالِسُوهُمْ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ، وَلَا تُشَارِبُوهُمْ، وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ

ترجمہ:

بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ میل جول نہ رکھو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے معیت میں(انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو

(السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/483حدیث769)

واضح حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ گستاخ بدمذہبوں بدعتی رافضی نجدی ناصبی تفضیلی اور انکو درست سمجھنے والوں کے پیچھے نماز نہیں ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھنی...انکا ہر طرح سے باءیکاٹ لازم ہے

.

🔴 *#دلیل نمبر6*

الحدیث:

فلا تناكحوهم ولا تؤاكلوهم ولا تشاربوهم ولا تصلوا معهم ولا تصلوا عليهم

ترجمہ:

بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان کے معیت میں (انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو

(جامع الأحاديث ,7/431حدیث6621)

واضح حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ گستاخ بدمذہبوں بدعتی رافضی تفضیلی اور انکو درست سمجھنے والوں کے پیچھے نماز نہیں ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھنی...انکا ہر طرح سے باءیکاٹ لازم ہے

.

🔴 *#دلیل نمبر7*

الحدیث:

أَلَا لَا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلًا،... وَلَا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خبردار کوئی بھی عورت مرد کی امامت نہ کرائے اور کوئی فاجر(گمراہ بدمذہب بدعتی)کسی مومن کی امامت نہیں کرا سکتا

(ابن ماجہ حدیث1081)

واضح ہے کہ عورت اور فاجر بدمذمب گمراہ بدعتی کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے چاہے وہ خانہ کعبہ کا امام ہو یا کسی اور جگہ کا امام ہو اسکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے،لیھذا یہ حدیث پاک بھی دلیل ہے کہ بدعتی گمراہ بدمذہب رافضی تفضیلی کو عزت نہیں دے سکتے انکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، اس کی تعظیم و توقیر نہیں کر سکتے، ان کو اپنی محافل و اسٹیج پہ نہیں بلا سکتے، ان کی تقریر  بیان وغیرہ کچھ نہیں سن سکتے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا

.

🔴 *#دلیل نمبر8*

الحدیث:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بدمذہب(گستاخ برےبدعت والے گمراہ باطل مردود) کی عزت(و محبت) کی اس نے اسلام(و سنت) کو ڈھانے پے مدد کی

(مشکواۃ حدیث نمبر189)

اپنی نماز کا امام بنانا سمجھنا بھی تو عزت دینا ہے..لیھذا یہ حدیث پاک بھی دلیل ہے کہ بدعتی گمراہ بدمذہب رافضی تفضیلی کو عزت نہیں دے سکتے انکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، اس کی تعظیم و توقیر نہیں کر سکتے، ان کو اپنی محافل و اسٹیج پہ نہیں بلا سکتے، ان کی تقریر  بیان وغیرہ کچھ نہیں سن سکتے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا

.

🔴 *#دلیل نمبر9*

فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ

بدعتی بدمذہب گمراہ گستاخ اور اسکو جگہ دینے والے(انکے معاونین محبین) پر اللہ کی لعنت ہے ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، ان کے نہ فرض واجب عبادات قبول ہیں نہ ہی سنت و نوافل قبول ہیں

(بخاری حدیث3179)

(مسلم حدیث 1371)

جب بدمذہب گمراہ گستاخ کی عبادات نماز ہی قبول نہیں تو انکے پیچھے بھلا کیسے نماز پڑہیں ہم.....؟؟ ثابت ہوا کہ ان کے پیچھے ہرگز نماز نہیں پڑھنی،لیھذا یہ حدیث پاک بھی دلیل ہے کہ بدعتی گمراہ بدمذہب رافضی تفضیلی کو عزت نہیں دے سکتے انکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، اس کی تعظیم و توقیر نہیں کر سکتے، ان کو اپنی محافل و اسٹیج پہ نہیں بلا سکتے، ان کی تقریر  بیان وغیرہ کچھ نہیں سن سکتے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا


.

🔴 *#دلیل نمبر10*

الحدیث:

لا تصاحب إلا مؤمنا

مومن کے علاوہ کسی کی صحبت و دوستی یاری اختیار نا کر

(ترمذی حدیث2395)

حدیث پاک سے واضح ہے کہ سچے اچھے مومن اہلسنت کی صحبت میں یعنی اس ہی کے پیچھے نماز پڑھنا لازم ہے، فساق فجار بدمذہب گمراہ بدعتی کے پیچھے نماز نہیں پٍڑھ سکتے....لیھذا یہ حدیث پاک بھی دلیل ہے کہ بدعتی گمراہ بدمذہب رافضی تفضیلی کو عزت نہیں دے سکتے انکے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے، اس کی تعظیم و توقیر نہیں کر سکتے، ان کو اپنی محافل و اسٹیج پہ نہیں بلا سکتے، ان کی تقریر  بیان وغیرہ کچھ نہیں سن سکتے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا

.

🔴 *#دلیل نمبر11*

الحدیث:

الرجل على دين خليله، فلينظر أحدكم من يخالل

ترجمہ:

ہر شخص اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو تمہیں سوچنا چاہیے کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو( یعنی سچے اچھے سے دوستی کرو برے بد مذہب وغیرہ باطلوں سے دوستی نہ کرو)

(ترمذی حدیث2378)

امام بھی ایک قسم کا دوست ہوتا ہے اس حدیث پاک کے مطابق ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ ہم کس سے دوستی کر رہے ہیں.....؟؟ کہیں وہ بد مذہب بدعتی کہ جو نہ اللہ کا دوست ہے نہ رسول کا دوست ہے اس کو دوست تو نہیں بنا رہے ہم....؟؟

۔

🔴 *#دلیل نمبر12*

خاجی نجدی ناصبی وہابی اہلحدیث غیرمقلد بروں باطلوں مکاروں گمراہوں بدمذہبوں تفضیلیوں رافضیوں نیم رافضیوں شیعوں خمینیوں ناصبیوں ایجنٹوں قادیانیوں نیچریوں سرسیدیوں جہلمیوں غامدیوں قادیانیوں ذکریوں بوہریوں غیرمقلدوں نام نہاد اہلحدیثوں وغیرہ سب باطلوں سے ہر طرح کا تعاون نہ کرنا،انکی تحریروں کو لائک نہ کرنا، انہیں نہ سننا،  نہ پڑھنا، انہیں اپنے پروگراموں میں نہ بلانا، وقعت نہ دینا، جانی وقتی مالی تعاون نہ کرنا، مذمت کرنا مدلل کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ہے

الحدیث:

مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ ؛ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ

جو اللہ(اور اسلام کے حکم)کی وجہ سے محبت کرے اور(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) اللہ(اور اسلام کے حکم)کی وجہ سے(مستحق برے ضدی فسادی بدمذہب بدعتی گستاخ وغیرہ سے)بغض و نفرت رکھے اور (مستحق و اچھوں) کی امداد و مدد کرے اور (نااہل و بروں بدمذہبوں گستاخوں منافقوں ایجنٹوں) کی امداد و تعاون نہ کرے تو یہ تکمیل ایمان میں سے ہے 

(ابوداود حدیث4681)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟩 *#تمام مکتبہ فکر کے مطابق غیر مسلموں یا مسلمان فاسقوں بدمذہبوں کے ساتھ مشابہت کرنا کم از کم ممنوع و ناجائز ہے کیونکہ حدیث پاک ہے کہ«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» یعنی جو جس سے مشابہت کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا...ہر مکتبہ فکر سے 20حوالہ جات یہ لیجیے پڑھیے..!!*

۔

🟤1....غیرمقلدوں اہلحدیثوں کے ہاں معتبر علامہ کحلانی لکھتے ہیں:

من تشبه بقوم) ظاهرًا في ملبوسه وهيئته (فهو منهم) معدود إن كانوا من أهل الخير فهو من أهله أو من أهل الشر.. وقال ابن حجر في الفتح: سنده حسن

 حدیث مبارکہ میں ہے کہ جو جس سے مشابہت کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا اس سے مراد یہ ہے کہ ظاہری لباس میں یا ہیئت میں( یا افعال میں کسی بھی معاملے میں)مشابہت کرے گا تو وہ اسی میں شمار ہوگا اگر بروں کی مشابہت کرے گا تو برا شمار ہوگا غیرمسلموں کی مشابہت اختیار کرے گا تو یا تو کافر ہوگا یا گناہ ہوگا اگر اچھوں کی مشابہت اختیار کرے گا تو اچھا کہلائے گا.... علامہ ابن حجر نے اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے(جو کہ معتبر ہے دلیل بن سکتی ہے)

(التنوير شرح الجامع الصغير10/178)

.

🟤2....غیرمقلدوں اہلحدیثوں کے ہاں معتبر علامہ محمد بن علي بن آدم بن موسى الأثيوبي الولوي لکھتے ہیں:

لأن موافقتهم فِي ذلك تشبه بهم، وَقَدْ قَالَ صلّى الله تعالى عليه وسلم فيما أخرجه أبو داود بإسناد صحيح، منْ حديث ابن عمر رضي الله تعالى عنهما، مرفوعًا: "منْ تشبّه بقوم، فهو منهم"

( غیر مسلموں کی اور فجار کی اور فاسقوں کی)مشابہت نہیں کر سکتے کیوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو جس سے مشابہت کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا اس کی سند صحیح ہے

( ذخيرة العقبى في شرح المجتبى32/255)

.

🟤3....غیرمقلدوں اہلحدیثوں نجدیوں سعودیوں کے ہاں معتبر علامہ ابن باز لکھتا ہے:

فقد أخرج أبو داود وابن حبان وصححه عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم (٣) » وهو غاية في الزجر عن التشبه بالفساق أو بالكفار في أي شيء مما يختصون به من ملبوس أو هيئة

 امام ابو داؤد اور امام ابن حبان نے حدیث نقل کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو جس سے مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی میں شمار ہو گا... اس حدیث پاک میں ڈانٹا گیا ہے کہ فاسقوں اور کافروں سے مشابہت نہیں کرنی چاہیے چاہے وہ کسی بھی معاملے میں لباس میں ہو یا ہیئت میں ہو یا کسی بھی معاملے میں ہو

(مجموع فتاوى ومقالات متنوعة - ابن باز25/350)

.

🟤4....«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُد وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ) الْحَدِيثُ فِيهِ ضَعْفٌ وَلَهُ شَوَاهِدُ عِنْدَ جَمَاعَةٍ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ تُخْرِجُهُ عَنْ الضَّعْفِ...وَالْحَدِيثُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ مَنْ تَشَبَّهَ بِالْفُسَّاقِ كَانَ مِنْهُمْ أَوْ بِالْكُفَّارِ أَوْ بِالْمُبْتَدِعَةِ فِي أَيِّ شَيْءٍ مِمَّا يَخْتَصُّونَ اعتقد کفر، لم یعتقد لایکفر

 جو جس کے ساتھ مشابہت کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا اس حدیث کو امام ابو داؤد نے نقل کیا ہے اور امام ابن حبان نے نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے...حدیث میں ضعف ہے لیکن ائمہ حدیث کے مطابق صحابہ کرام سے ایسی احادیث بطور شواہد منقول ہیں ہیں جو اس حدیث کو ضعیف ہونے سے نکال کر معتبر حدیث بنا دیتے ہیں.... حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو فاسقوں کے ساتھ مشابہت کرے گا تو وہ انہی میں شمار ہوگا اور جو کفار کے ساتھ یا بد مذہبوں کے ساتھ بدعتیوں کے ساتھ مشابہت کرے گا تو اگر اعتقاد جواز کا رکھے گا تو کفر ہو گا اگر اعتقاد جواز کا نہیں رکھے گا تو گناہ گار ہوگا

(سبل السلام2/647ملخصا)

.

🟤5.....سلفیوں غیرمقلدوں نجدیوں وہابیوں اہلحدیثوں کے ہاں معتبر عالم ابن قیم لکھتا ہے:

من تشبه بقوم فهو منهم» وهذا إسناد جيد وهذا الحديث أقل أحواله أن  يقتضي تحريم التشبه بهم

 حدیث پاک میں ہے کہ جو جس سے مشابہت کرے گا اسی میں شمار ہوگا اس کی سند جید معتبر ہے... اس حدیث پاک سے کم سے کم اتنا تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ کفار(اور فاسقوں) کے ساتھ مشابہت کرنا حرام ہے

(اقتضاء الصراط المستقيم1/269)

.

🟤6....الحديث سنده حسن.قال المؤلِّف: أخرجه أبو داود، وصحَّحهُ ابن حبان.والحديث فيه ضعف، ولكن له شواهد عند جماعة من أئمة الحديث، عن جماعةٍ من الصحابة، تُخْرِجه عن دائرة الضعف....الحديث يدل على أنَّ من تشبَّه بالفسَّاق كان منهم، أو بالكفَّار، أو المبتدعة، في أي شيء...كان على طريقتهم

 جو جس کے ساتھ مشابہت کرے گا اسی میں شمار ہوگا اس کی سند حسن معتبر ہے... اس کو امام ابو داؤد نے نقل کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے حدیث میں ضعف ہے لیکن اس کے دیگر احادیثی شواہد ہیں کہ جو اس کو ضعیف ہونے سے نکال کر معتبر بنا دیتے ہیں... حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاسقوں کے ساتھ جو مشابہت کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا یا جو کفار اور بد مذہبوں کے ساتھ کسی بھی معاملے میں مشابہت کرے گا تو وہ انہی کے طریقہ پر کہلائے گا

(توضيح الأحكام من بلوغ المرام7/363)

.

🟤7....امام ملا علی قاری حنفی سنی جو دیوبندیوں اور اہلسنت کے ہاں معتبر ہیں وہ لکھتے ہیں اور وہابیوں دیوبندیوں کے ہاں معتبر عالم خلیل احمد لکھتے ہیں:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ) : أَيْ مَنْ شَبَّهَ نَفْسَهُ بِالْكُفَّارِ مَثَلًا فِي اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ، أَوْ بِالْفُسَّاقِ أَوِ الْفُجَّارِ أَوْ بِأَهْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الْأَبْرَارِ. (فَهُوَ مِنْهُمْ) : أَيْ فِي الْإِثْمِ وَالْخَيْرِ

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو جس قوم سے مشابہت کرے گا کفار کے ساتھ مشابہت کرے گا یا فاسقوں کے ساتھ مشابہت کرے گا یا غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کرے گا یا یا نیک لوگوں کے ساتھ مشابہت کرے گا یا تصوف والوں کے ساتھ مشابہت کرے گا تو انہی میں شمار ہوگا... یعنی اچھوں کے ساتھ مشابہت کرے گا تو اچھا شمار ہوگا بروں کے ساتھ مشابہت کرے گا تو گنہگار ہوگا

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة 7/2782)

(بذل المجهود في حل سنن أبي داود12/59)

.

🟤8....الواجبُ البعد عن مشابهة أهل الضلال؛ سواء أكان هذا التشبه مما يُخرج من الملة، أو كان يفضي إلى المعصية؛ فإنَّ من تشبه بقوم، فهو منهم.

 واجب ہے کہ گمراہوں سے مشابہت نہ کی جائے، چاہے مشابہت کبھی کفر ہو یا کبھی گناہ ہو کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا

(توضيح الأحكام من بلوغ المرام2/85)

.

🟤9....غیرمقلدوں اہلحدیثوں نجدیوں سعودیوں کے ہاں معتبر علامہ ابن باز لکھتا ہے:

فإنا قد نهينا أن نتشبه بهم لقول النبي صلى الله عليه وسلم من تشبه بقوم فهو منهم

 ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ان(یہود و نصاری غیرمسلم مشرکین اور فساق فجار وغیرہ)کے ساتھ مشابہت اختیار کریں کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو جس سے مشابہت اختیار کرے گا انہی میں شمار ہوگا

(شرح رياض الصالحين لابن عثيمين6/587)


.

🟤10....علامہ ابن الملک حنفی سنی لکھتے ہیں:

وقال: مَن تشَبَّهَ بقومٍ"؛ يعني من شبَّه نفسَه بالكفارِ مثلاً في اللِّباس وغيرِه، أو بالفُسَّاق، أو بالنّساء، أو بأهلِ التصوف والصلَحاء.فهو منهم" في الإثم والخير

  حدیث پاک میں ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا.... جو کفار کے ساتھ مشابہت کرے گا یا فساق کے ساتھ فاسقوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا یا عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا نیک لوگوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا تو انہی میں شمار ہوگا یہ مشابہت لباس کے معاملے میں ہو یا کسی بھی معاملے میں ہو اگر اچھائی میں مشابہت کرے گا تو اچھا شمار ہوگا اگر گناہ میں مشابہت کرے گا تو گناہ گار ہوگا

(شرح المصابيح لابن الملك5/24)

.

🟤11...دیوبندیوں اور اہلسنت و احناف کے ہاں معتبر محدث دھلوی لکھتے ہیں:

وهو بإطلاقه يشمل الأعمال والأخلاق واللباس سواء كان بالأخيار أو بالأشرار

 حدیث پاک میں ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں کہلائے گا یہ حدیث مطلق ہے، ' اعمال کو شامل ہے اخلاق کو شامل ہے لباس کو شامل ہے کہ جو بھی جس بھی معاملے میں جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا انہی میں شمار ہوگا اگر اچھوں کی مشابہت اختیار کرے گا تو اچھا شمار ہوگا اگر بروں کی مشابہت اختیار کرے گا تو برا شمار ہوگا

(لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح7/356)

.

🟤12....علامہ مناوی شافعی سنی لکھتے ہیں:

فمن سلك طريق أهل الله ورد عليهم فصار من السعداء ومن سلك طريق الفجار ورد عليهم وكان منهم فصار من الأشقياء والإنسان مع من أحب ومن تشبه بقوم فهو منهم

 حدیث پاک میں ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اسی میں شمار ہوگا لہذا جو اللہ والوں کے طریقے پر چلے گا تو سعادت مندوں میں شمار ہوگا اور اگر فاسق و فاجر کے طریقے پر چلے گا تو بروں میں شمار ہوگا

(فيض القدير5/47)

.

🟤13....تشبه صنع الكفار، وقد قال عليه السلام: (من تشبه بقوم فهو منهم)

 یہ کفار کے ساتھ مشابہت ہے اور یہ ممنوع ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جو جس سے مشابہت کرے گا اسی میں شمار ہوگا

(فقہ حنفی التجريد للقدوري2/674)

.

🟤14....وَلَا يَحِلُّ الِاسْتِمَاعُ إلَيْهِ؛ لِأَنَّ فِيهِ تَشَبُّهًا بِفِعْلِ الْفَسَقَةِ

 یہ سننا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں فاسق لوگوں کے ساتھ مشابہت ہے

(فقہ حنفی تبيين الحقائق1/91)

(فقہ حنفی خزانة المفتين ص622 نحوہ)

.

🟤،15.... وذلك صنيع أهل الكتاب، والتشبيه بهم مكروه قال عليه السلام: «من تشبه بقوم فهو منهم

 یہ اہل کتاب کا طریقہ ہے اور اہل کتاب سے مشابہت جائز نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا

(فقہ حنفی النهاية في شرح الهداية3/92)

.

🟤.16.... وَيُمْنَعُ التَّشَبُّهُ بِهِمْ كَمَا تَقَدَّمَ لِمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»

 (کفار و مشرکین اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ فاسق و فاجر وغیرہ کے ساتھ)مشابہت ممنوع ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا

(فقہ مالکی المدخل لابن الحاج2/48)

.

🟤17.....وَمِنْ أَقْبَحِ الْبِدَعِ مُوَافَقَةُ الْمُسْلِمِينَ النَّصَارَى فِي أَعْيَادِهِمْ بِالتَّشَبُّهِ بِأَكْلِهِمْ وَالْهَدِيَّةِ لَهُمْ وَقَبُولِ هَدِيَّتِهِمْ فِيهِ وَأَكْثَرُ النَّاسِ اعْتِنَاءً بِذَلِكَ الْمِصْرِيُّونَ وَقَدْ قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»

 بری بدعتوں میں سے ہے کہ یہود و نصاری کی عیدوں تہواروں میں اس طرح مشابہت کی جائے کہ ان کے ساتھ کھانا کھایا جائے یا انہیں تحفہ دیا جائے یا ان کا تحفہ قبول کیا جائے تو یہ سب بری بدعت ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اسی میں شمار ہوگا

(فقہ شافعی الفتاوى الفقهية الكبرى4/239)

.

🟤18....هو من فعل المجوس، "ومن تشبه بقوم فهو منهم

 یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے ممنوع ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو جس کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا اسی میں شمار ہوگا

(فقہ حنبلی الجامع لعلوم الإمام أحمد - الفقه13/347)

.

🟤19....لما فيه من التشبه بأهل الكتاب وفي الحديث «من تشبه بقوم فهو منهم» رواه أحمد وغيره بإسناد صحيح

 ممنوع ہے اور جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں اہل کتاب یہود و نصاری کی مشابہت ہے اور حدیث پاک میں ہے کہ جو جس کے ساتھ مشابہت کرے گا انہی میں شمار ہوگا ہے اسکی سند صحیح ہے

(فقہ حنبلی حاشية الروض المربع لابن قاسم1/515)

.

🟤20...طاہر الکادری منہاجی کا نظریہ:

جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ اُنہی میں سے (شمار ہوتا) ہے۔‘‘اس حدیث مبارکہ کی رو سے رسم و رواج کی ہر وہ چیز جو غیرمسلموں تک مخصوص ہو وہ ممنوع ہوگی

(برائے مزید معلومات ملاحظہ ہو: خطاب شیخ الاسلام، سی ڈی نمبر: 540)

.

 ✅مذکورہ بالا تمام حوالہ جات سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ چاہے کوئی مقلد ہو چاہے کوئی غیرمقلد ہو، چاہے کوئی اہلحدیث ہو چاہے کوئی وہابی ہو، چاہے سلفی ہو چاہے دیوبندی ہو منہاجی ہو یا پھر اہل سنت حنفی شافعی مالکی حنبلی ہو

 سب کے مطابق اہل کتاب یہود و نصاری غیرمسلم مشرکین اور فاسق و فاجر بدمذہب وغیرہ سے مشابہت نہیں کر سکتے۔۔۔۔!!

۔

✅✅لیھذا رافضیوں شیعوں اور خارجیوں ناصبیوں وغیرہ ہرقسم کے مکار و بدمذہب و جھوٹے لوگوں فرقوں کی مشابہت نہیں کرسکتے، ماتم سوگ تعزیے اور سوگ و غم میں کالے کپڑے پہننا یا دودھ نہ پینا اور بیویوں سے الگ سونا ااور کپڑے نہ دھونا، غسل نہ کرنا وغیرہ وغیرہ بری بدعات  تو ویسے ہی ناجائز ہیں اور انکے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ بدمذہب شیعوں رافضیوں سے مشابہت ہے اور حدیث پاک میں حکم ہے کہ بدمذہب سے مشابہت نہیں کرنی۔۔۔۔۔لیھذا ان بری بدعتوں سے دور۔۔۔۔۔بہت دور رہیے اور سمجھا کر دوسروں کو بھی دور رکھینے کی کوشش کیجیے

.

 📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.