🟥 *#حنیف قریشی صاحب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے بارے میں خدشات عوام میں پھیلا کر پوسٹ ڈیلیٹ کرکے جان نہیں چھوٹے گی،دلائل پڑھو،پھیلاو اوراعلانیہ توبہ کرو اور لوگوں کو دلائل سے سمجھاؤ کہ صحابہ کرام اولیاء کرام محفوظ ہیں یعنی اکثر ان سے گناہ نہیں ہوتا لیکن اگر ہو بھی جائے تو اللہ تعالی انہیں جلد توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے جبکہ عام لوگوں کے لیے ایسا نہیں ہے کہ وہ جلد توبہ کر لے بلکہ عام لوگوں میں سے کسی کو توبہ کی توفیق ملتی ہے کسی کو نہیں اور حنیف قریشی پر پابندی لگانا ضروری ہے،پڑھیے مدلل جامع مختصر تحریر*
۔
🔷حنیف قریشی صاحب نے لکھا اور پھر کافی وقت بعد اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا وہ پوسٹ یہ تھی:
ایک آستانے کی طرف سے جاری کیئے گئے اعلامیہ کی ایک عبارت پر نظر پڑی کہ تمام صحابہ کرام کو محفوظ مانتے ہیں ۔ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ جن اصحاب رسول سے ایسے امور سرزد ہوئے کہ جن کی بناء پر ان پر خود رسول اللہ نے یا خلفائے راشدین نے حدیں قائم فرمائیں ...حفاظت کے باوجود ان سے اتنے بڑے امور کیسے سرزد ہوگئے کہ ان پر حدیں قائم ہوئیں ...یا پھر معاذ اللہ ثم معاد اللہ وہ صحابی ہی نہ تھے کہ ان سے اس طرح کے معاملے سر زد ہو گئے ..؟؟اگر یہ اہلسنت کا اجماعی یا جمہوری نظریہ ہے تو بتایا جائے کہ اہلسنت کی کون کون سی عقائد کی کتابوں نے اسے اہلسنت کا اجماعی یا جمهوره عقیدہ قرار دیا ہے ؟؟
۔
✅جواب و تحقیق:
خلاصہ:
حدیث پاک میں ہے کہ اعلانیہ جرم گناہ وغیرہ کی توبہ بھی اعلانیہ کرنی ہوگی،حنیف قریشی نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے متعلق نازیبہ لکھا اور ڈیلیٹ کر دیا لیکن یہ شرعی توبہ نہیں ہے،حنیف قریشی صاحب اپ کو اعلانیہ توبہ کرنی ہوگی اور دلائل کے ساتھ صحابہ کرام کے بارے میں لکھنا ہوگا لوگوں کو بتانا ہوگا کہ صحابہ کرام گناہوں سے محفوظ ہیں اور باتقاضہ بشری یا حکمت الہی کے تحت اگر ان سے اکا دکا گناہ ہوئے تو اللہ تعالی نے انہیں فورا توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور بعض معاملات میں جو اجتہادی خطائیں ہوئی ہیں وہ محفوظیت کے خلاف نہیں کہ اجتہادی خطا پر تو حدیث پاک کے مطابق ایک اجر ملتا ہے،لیکن اجتہادی خطا بھی اکا دکا مسائل میں ہے جبکہ اکثر طور پر اجتہادی خطا سے بھی محفوظ ہیں
اور
حنیف قریشی صاحب کی مسلسل نازیبہ باتیں بلکہ توہین امیز انداز الفاظ اور خطائیں مسلسل اتنی ہیں کہ شرعا ان پر حکم لگتا ہے کہ وہ جلد بازی نہ کریں اور کافی عرصے تک مستند عالم دین کے ماتحت رہ کر اپنے اپ کو سدھاریں اور جب وہ مستند عالم دین اجازت دیں تب لکھنے بولنے خطاب کرنے کی ان کو اجازت ہوگی اور وہ بھی اس صورت میں کہ جب وہ جلد بازی میں نہ لکھیں،نہ بولیں کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے توبہ کے باوجود ایسے شخص کو بیان تقریر خطاب وغیرہ سے روک دیا تھا جو بہت خطائیں کرتا تھا
👈اس
پر مختصر دلائل اور حوالہ جات اخر میں لکھوں گا
👈پہلے اس بات پر 17حوالہ جات لیجئے پڑھیے کہ صحابہ کرام اہل بیت عظام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اور اولیاء کرام محفوظ ہیں۔۔۔۔اور محفوظ کی وضاحت بھی لکھیں گے اسلاف کی زبانی۔۔۔۔!!
۔
🔵حوالہ1
أن أصحاب رسول الله - ﷺ - محفوظون
بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یعنی صحابہ کرام اہل بیت عظام سب کے سب محفوظ ہیں
(الإفصاح عن معاني الصحاح2/98)
.
🔵حوالہ2
لأن الصحابة محفوظون
کیونکہ بے شک صحابہ کرام اور اہل بیت عظام محفوظ ہیں
(نخب الأفكار – بدر الدين العيني2/51)
.
🔵حوالہ3
الصحابۃ محفوظون
صحابہ کرام اہل بیت عظام محفوظ ہیں
(حاشیۃ المغنی1/115)
۔
🔵حوالہ4
والصحابۃ محفوظون
اور صحابہ کرام اہل بیت عظام محفوظ ہیں
(شرح مسلم الثبوت ص431)
۔
🔵حوالہ5
لأن الصحابة محفوظون
کیونکہ بے شک صحابہ کرام اہل بیت عظام محفوظ ہیں
ا(لسراج المنیر1/198)
۔
🔵حوالہ6
وعباد الله الصالحون محفوظون
اور اللہ کے نیک بندے یعنی صحابہ کرام اہل بیت عظام اولیاء کرام محفوظ ہیں
(البحر المحيط الثجاج 38/84)
.
🔵حوالہ7
وَالْمَنْقُولُ فِي الْأُصُولِ أَنَّ الصَّحَابَةَ عُدُولٌ فَهُمْ
مَحْفُوظُونَ
عقائد اور اصول کی کتاب میں لکھا ہے کہ بے شک صحابہ کرام اہل بیت عظام عادل ہیں نیک ہیں محفوظ ہیں
(البحر الرائق ابن نجيم1/44)
۔
🔵حوالہ8
والأولياء محفوظون لا معصومون.
اولیاء کرام اور اسی طرح صحابہ کرام اہل بیت عظام بدرجہ اولی محفوظ ہیں لیکن معصوم نہیں
(الإشاعة لأشراط الساعة ص213)
.
🔵حوالہ9
وَالْأَوْلِيَاءُ مَحْفُوظُونَ فِي ظَوَاهِرِهِمْ وَبَوَاطِنِهِمْ
اور اولیاء کرام اور اسی طرح صحابہ کرام اہل بیت عظام بدرجہ اولی محفوظ ہیں ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی
(المدخل لابن الحاج 3/204)
.
🔵حوالہ10
كان الولى محفوظا فحظه المكروهة مادامت العناية
تحفه
ولی اور اسی طرح بدرجہ اولی صحابہ کرام اہل بیت عظام محفوظ ہوتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ کبھی اگر نامناسب کام کر بیٹھے تو اللہ تعالی کی عنایت انہیں توبہ کی طرف توجہ دلاتی ہے
(الیواقیت والجواہر ص209)
.
🔵حوالہ11
وَأَمَّا أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا حَتَّى لَا يُصِرَّ عَلَى الذُّنُوبِ
اور ولی جو محفوظ ہوتا ہے اور اسی طرح صحابہ کرام اہل بیت عظام محفوظ ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہ پر ڈٹے نہیں رہتے بلکہ اللہ تعالی انہیں توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے
(الاعتصام للشاطبي1/276)
.
🔵حوالہ12
يكون محفوظا فلا يصر على الذنوب
ولی اور اسی طرح صحابہ کرام اہل بیت عظام بدرجہ اولی محفوظ ہیں وہ اکثر گناہ و خطاء نہیں مگر کبھی گناہ ان سے ہو بھی جاتا ہے تو وہ گناہ پر مصر و قائم نہیں رہتے
(بستان العارفين للنووي ص66)
.
🔵حوالہ13
والمراد بكون الوليِّ محفوظًا أن يحفظَه الله تعالى من تماديهِ في الزَّلل والخطأ إنْ وقع فيهما بأن يُلهمَه التَّوبة
فيتوبُ
اور ولی اسی طرح بدرجہ اولی صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی انہیں خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرماتا ہے اور اگر وہ ان میں پڑ بھی جائیں تو اللہ تعالی انہیں توبہ الھام فرماتا ہے اور وہ توبہ کر لیتے ہیں
(إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري – القسطلاني18/305)
.
🔵حوالہ14
وكما أن النبيّ لا يكون إلا معصوما فالولىّ لا يكون إلا محفوظا.
والفرق بين المحفوظ والمعصوم أن المعصوم لا يلمّ بذنب البتّة، والمحفوظ قد تحصل منه هنات، وقد يكون له- فى الندرة- زلّات، ولكن لا يكون له إصرار
جس طرح کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہوتے ہیں اسی طرح ولی اور صحابہ کرام اہل بیت عظام بدرجہ اولی محفوظ ہوتے ہیں۔۔۔۔معصوم اور محفوظ میں فرق یہ ہے کہ معصوم کبھی گناہ کرتا ہی نہیں جبکہ محفوظ اگرچہ اکثر حالات میں محفوظ ہوتا ہے مگر کبھی اس سے شاز و نادر کبھی گناہ خطائیں لغزشیں واقع ہو جاتی ہیں لیکن وہ اس پر ڈٹے نہیں رہتے بلکہ اللہ تعالی انہیں توجہ دلا دیتا ہے اور وہ توبہ کر لیتے ہیں
(لطائف الإشارات = تفسير القشيري2/105)
.
🔵حوالہ15
وَأَمَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلِيُّ مَحْفُوظًا، فَلاَ يُصِرُّ عَلَى الذُّنُوبِ
اور ولی محفوظ ہوتا ہے،صحابہ کرام اہل بیت عظام بدرجہ اولی محفوظ ہوتے ہیں اور وہ گناہ پر ڈٹ نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالی انہیں توبہ کی توفیق جلد عطا فرماتا ہے
(الموسوعة الفقهية الكويتية45/177)
.
🔵حوالہ16
إذ الأولياء محفوظون، والحفظ يجوز مع الوقوع في المعصية، إلا أنه لا يجوز مع الإصرار عليها
کیونکہ اولیاء کرام اور اسی طرح بدرجہ اولی صحابہ کرام اہل بیت عظام محفوظ ہوتے ہیں اور محفوظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ میں واقع ہونا ممکن ہی نہیں بلکہ ممکن ہے وہ کبھی گناہ کر بھی بیٹھتے ہیں تو اس پر ڈٹے نہیں رہتے بلکہ اللہ تعالی انہیں الہام فرماتا ہے اور وہ توبہ فرما لیتے ہیں
( النصيحة الكافية لمن خصه الله بالعافية ص19)
.
🔵حوالہ17
كون الولى محفوظا كما يشترط في النبي أن يكون معصوما ولكن على معنى أن الله يحفظه من تماديه في الزلل والخطأ أن وقع فيهما بإن يلهمه التوبة فيتوب منهما
جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معصوم ہونا ضروری ہے اسی طرح ولی اللہ کے لیے صحابہ کرام اہل بیت عظام کے لیے محفوظ ہونا ضروری ہے لیکن اس کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالی انہیں خطاؤں لغزشوں میں واقع ہونے سے محفوظ رکھتا ہے لیکن ان میں واقع بھی ہونا ممکن ہے مگر اللہ تعالی انہیں الہام فرماتا ہے اور وہ جلد توبہ کر لیتے ہیں
(إجابة الغوث ابن عابدين ص288)
۔
🟩 حنیف قریشی مسلسل خطائیں لغزشیں جلد بازیاں زبان پھسلن وغیرہ میں مسلسل ملوث رہا ہے لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ پکی سچی توبہ کرے اور اس کے بعد اس پر پابندی لگا دی جائے اور وہ سچے پکے باشعور محتاط علمائے دین کی نگرانی میں تربیت حاصل کرے اور جب وہ باشعور محتاط علماء اس کی اچھی حالت دیکھ لیں تب اسے اس شرط پر اجازت دیں کہ وہ جلد بازی نہ کرے گا۔۔۔تب تک پابندی رہے گی
۔
📌الحدیث:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الأناة من الله والعجلة من الشيطان
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
انائت(جلد بازی نہ کرنا،مناسب وقت موقعہ الفاظ انداز کا لحاظ رکھنا ، ثابت قدمی، سنجیدگی، وقار، وسعتِ ظرفی،صبر) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے..(ترمذی حدیث2012)
دین اور دنیا اور زندگی کا بہت ہی اہم اصول کہ جلدبازی نہیں کرنی چاہیے... چاہے دینی معاملہ ہو یا دنیاوی،
سیاسی معاملہ ہو یا ذاتی معاملہ....
باہر کا معاملہ ہو یا گھریلو معاملہ....
دوستی کا معاملہ ہو یا دشمنی کا....
محبت کا معاملہ ہو یا نفرت کا....
رشتہ توڑنے کا معاملہ ہو یا کسی سے رشتہ جوڑنے کا...
کسی پر اعتماد کا معاملہ ہو یا بے اعتمادی کا...
کسی کو سمجھنےسمجھانے کا معاملہ ہو یا تنقید کا.....
کسی کی تائید و تعریف کا معاملہ ہو یا تردید و مذمت کا...
الغرض
ہر معاملے میں جلد بازی ٹھیک نہیں، اہل علم سے، اہلِ شعور سے حتی کہ چھوٹوں سے بھی مشاورت کر لینی چاہیے مگر جلد بازی نہیں کرنی چاہیے...مناسب انداز و لحاظ رکھنا چاہیے، غصہ ہی غصہ تکبر جلدبازی میں نقصان و تباہی ہے....اختلافات جگھڑے فسادات کی ایک بڑی وجہ جلد بازی بھی ہے
.
📌الحدیث:
إذا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَحدِثْ عِنْدَهَا تَوْبَةً السِّرَّ بالسِّرِّ والعَلانِيَةَ بالعَلانِيَةِ
گناہ برائی اعلانیہ کی تو توبہ بھی اعلانیہ کر اور اگر اعلانیہ گناہ برائی نہ کی تو توبہ بھی اعلانیہ ضروری نہیں
( الجامع الصغير سیوطی حدیث1613)
👈اعلانیہ پوسٹ لگانا۔۔۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے متعلق خدشات پیدا کرنا اور خدشات کو تقویت دینا کتنا بڑا جرم ہے تو اس کی تلافی صرف پوسٹ ڈیلیٹ کرنے سے نہیں ہوگی بلکہ اعلانیہ معافی بھی کرنی ہوگی اور صحیح معلومات نظریات بھی دلائل و والہ جات کے ساتھ عوام میں رکھنے ہوں گے تاکہ خدشات کا سد باب ہو اور شریعت کی بھی پیروی ہو
۔
📌الحدیث:
التائب من الذنب كمن لا ذنب له، والمستغفر من الذنب وهو مقيم عليه كالمستهزئ بربه
گناہ سےسچی توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں لیکن گناہ(یا اس کے متعلقات)پر رہتے ہوئے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسےاللہ عزوجل سے مذاق کرے(نعوذ باللہ تعالی)
(كنز العمال حدیث10176)
(شعب الإيمان - ط الرشد9/363)
(الجامع الصغير سيوطي حدیث6247)
👈ڈیلیٹ کر دینا کافی نہیں،اس جرم کے متعلقات کو مٹانا سلجھانا بھی ضروری ہے اور اعلانیہ توبہ بھی ضروری ہے اور اس کے بعد کافی عرصے تک مستند باشعور علماء کرام محتاط علماء کرام کی نگرانی میں رہنا بھی ضروری ہے
۔
📌ثم تركه حتى برأ ثم عاد له ثم تركه حتى برأ فدعا به ليعود فقال صبيغ إن كنت تريد قتلي فاقتلني قتالا جملا وإن كنت تريد أن تداويني فقد والله برأت فأذن له إلى أرضه فكتب إلى موسى الأشعري أن لا يجالسه أحد من المسلمين فاشتد ذلك على الرجل فكتب أبو موسى الأشعري إلى عمر أن قد حسنت هنيته فكتب عمر أن ائذن للناس بمجالسته
(صبیغ بدمذہب کو سیدنا عمر نے سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا تو سیدنا عمر نے کوڑے مارے) پھر اسے کچھ عرصہ چھوڑ دیا جب اس کے زخم ٹھیک ہو گئے تو پھر کوڑے مارے پھر کچھ عرصہ چھوڑ دیا پھر اس کے زخم ٹھیک ہو گئے تو پھر اسے بلایا تاکہ کوڑے دوبارہ ماریں تو صبیغ نے کہا کہ اے عمر رضہ اللہ تعالیٰ عنہ اگر اپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو اچھی طرح سے قتل کیجئے اور اگر اپ چاہتے ہیں کہ اپ میری دوا فرمائیں تو اللہ کی قسم میں ٹھیک ہوگیا ہوں(بذمذہبی سے توبہ کر چکا ہوں) تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو اسکے علاقے جانے کی اجازت دے دی اور حضرت سیدنا ابو موسی اشعری کی طرف خط لکھا کہ( اس نے توبہ اگرچہ کر لی ہے لیکن پھر بھی) اس کی مجلس میں نہ بیٹھا جائے ، اسے لوگوں کی مجلس میں نہ بٹھایا جائے(مکمل بائیکاٹ کیا جائے) معاملہ یونہی شدت سے چلا پھر سیدنا ابو موسی اشعری نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف خط لکھا کہ اس کی اصلاح ہوگئ ہے تب جاکر سیدنا عمر نے اجازت دی کہ لوگ اس کی مجلس میں جاسکتے ہیں، اسے اپنے مجلس میں بلا سکتے ہیں
(تاريخ دمشق لابن عساكر23/411)
.
👈واضح ثبوت ہے کہ کسی شخص کی اگر توبہ سچی نہ ہونے کے آثار ہوں وہ بار بار توبہ کرے اور بار بار توہین کرے حیلے بہانے فسادات انتشار کرے تو اسے حاکم وقت سزا دے گا، قاضی سزا دے گا اور اج کے دور میں علمائے اہل سنت میں سے جو باشعور نڈر طاقتور ہو وہ قاضی کا درجہ رکھتا ہے وہ سزا دے پابندی لگائے لگوائے، ایسے شخص کو کسی محفل میں خطاب کرنے نہ دیا جائے اور لوگوں کو ان کے قریب نہ چھوڑا جائے لوگوں کو پر لازم ہوگا کہ اس کا بائیکاٹ کریں... وہ شخص معتبر سچے علماء اہلسنت سے دین حاصل کرے اپنے خدشات کا جواب حاصل کرے جب علماء تصدیق فرما دیں کہ اس کے حالات اچھے ہو گئے ہیں اس کے نظریات اچھے ہو گئے ہیں تب وہ شخص خطاب و تقاریر تدریس امامت خطابت کر سکتا ہے ورنہ سخت پابندی لگانا حسب طاقت اہل پر لازم ہے
.
🚨حنیف قریشی چمن زمان ریاض شاہ مرزا جہلمی طاہر طارق وغیرہ کی بدمذہبیں توہینِ صحابہ، سیدنا حسن کی توہین، سیدنا معاویہ کی توہین، سیدنا عمرو بن العاص کی توہین اور دیگر توہینیں اور تحریفات اور منافقتیں اور بےباکیاں اور صلح کلی اور اسلاف کی توہین اور چرب زبانیاں اور شریعت پر جراءتیں ڈھٹائیاں مکاریاں اور تاویلات فسادات.....اللہ پناہ اللہ پناہ
ایسوں کو حکومت قید کرے،یا تادیبا و عبرتاً سزائے مو.ت
تک کچھ کو دے اور بقیا کی علماء برحق سے انکی اصلاح کروائی جاءے، کافی عرصہ تک ان پر پابندی ہو، بائیکاٹ ہو، جب انکے حال و نظریات کی درستگی کی تصدیق معتبر علماء فرما دیں تب انہیں جلسے جلوس امامت خطابت سوشل میڈیا وغیرہ پے بیانات تقاریر تدریس وعظ کی اجازت دی جائے
.
📌فتاوی فیض رسول میں ہے
پھر اگرچہ اس نے توبہ کرلی ہو اور اپنے سنی ہونے کا اعلان کرتا ہو اسے امام نہیں بناسکتے بلکے لازم ہے کہ اسے زمانہ دراز تک معزول رکھیں اور اسکے احوال کو بغور دیکھیں اگر وہ ثابت قدم رہتا ہے تو اسکو امام بنایا جاسکتا ہے...اعلی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جسے دیکھیں کہ ان گمراہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے انکے مجالس میں وعظ کرتا ہے اسکا حال مشتبہ ہے ہرگز اسکو نہ بنائیں اگرچہ خود کو سنی صحیح العقیدہ کہتا ہو(فتاوی رضویہ جلد سوم ص 214)
(فتاوی فیض رسول جلد 1ص ..281..280ملتقطا)
👈جب امام نہیں بنا سکتے تو خطابت و تقریر کرکے بدمذہبی پھیلانے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے.....؟؟
۔
📌امام اہلسنت مجدد دین و ملت سیدی امام احمد رضا علیہ الرحمة فرماتے ہیں:
پھر اگر یہ شخص توبہ بھی کرلے تو بمجرد توبہ اسے امام نہیں بنا سکتے بلکہ لازم ہے کہ ایک زمانہ ممتد تک اسے معزول رکھیں اور اور اس کے احوال پر نظر رہے، اگرخوف وطمع وغضب ورضا وغیرہا حالات کے متعدد تجربے ثابت کردیں کہ واقعی یہ سنی صحیح العقیدہ ثابت قدم ہے اور روافض سے اصلاً میل جول نہیں رکھتا بلکہ ان سے اور سب گمراہوں بدینوں سے متنفر ہے اس وقت اسے امام کرسکتے ہی
فتاوٰی قاضی خاں پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الفاسق اذا تاب لایقبل شہادتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثرالتوبۃ والصحیح ان ذلک مفوض الی راء القاضی ۱؎۔فاسق جب تاب ہوجائے تو اس وقت تک اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی جب تک اتنا زمانہ نہ گزر جائے جس میں توبہ کا اثر ظاہر ہوجائے اور صحیح یہی ہے کہ یہ قاضی کی رائے کے سپرد کیا جائے ۔ (ت) (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادتہ لفسقہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۴۲۸)
امیر المومنین غیظ المنافقین امام العادلین سید نا عمر فاروق اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جب صبیغ سے جس پر بوجہ بحث متشابہات بد مذہبی کا اندیشہ تھا بعد ضرب شدید توبہ لی ابو موسیٰ اشعری رضی ﷲ عنہ کو فرمان بھیجا کہ مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھیں اس کے ساتھ خرید وفروخت نہ کریں بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو نہ جائیں مرجائے تو اس کے جنازے پر حاضر نہ ہوں، تعمیل حکم احکم ایک مدت تک یہ حال رہا کہ اگر سو آدمی بیٹھے ہوتے اور وہ آتا سب متفرق ہوجاتے جب موسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض بھیجی کہ اب اس کا حال اچھا ہوگیا اس وقت اجازت فرمائی
(فتاوٰی رضویہ جلد 6 صفحہ ..530..531)
👈جب ایسے کی گواہی قبول و معتبر نہین تو جو تقریر و خطاب وہ کرے گا وہ کیسے معتبر کہلا سکتا ہے....،؟؟ لیھذا ایسوں پر پابندی و بائیکاٹ لازم...مزمت بھی لازم، سزا بھی لازم، دوا بھی لازم، دعا بھی لازم، اصلاح کی کوشش بھی لازم......!!
.
📌 *#نوٹ*
دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475