🟥 *#شیعوں نےکہا کہ اہل سنت کتب سے ثابت ہے کہ اسلام کا پودا ایران و سندھ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے لگایا لہذا ایران اور سندھ ہم شیعوں کا ہے۔۔شیعوں کے اس دعوے کا مدلل رد اور اصل حقائق پڑھیے اس تحریر میں۔۔۔۔!!*
۔
📣 *#توجہ*
نیچے دی گئ لنکس پے آپ میری کافی ساری تحقیقی تحریرات پڑھ سکتے ہیں۔لنکس یہ ہیں👇
https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1
https://www.facebook.com/share/17EiysLaaj/
👈ہوسکے تو میرے واٹسپ چینل کو بھی ضرور فالوو کریں۔۔لنک یہ ہے
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jkhv3bbV8xUTNZI1E
👈اور واٹسپ چینل پہ فیس بک پیج پہ بلاگ پیج پہ وقتا فوقتا ضرور ایا کریں، جزاکم اللہ خیرا
.
🌹نوٹ:
❤️ دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے
۔
🟦تمھید:
1۔۔۔۔واٹس ایپ کے ایک گروپ میں ایک رافضی شیعہ نے دعوی کیا کہ اہل سنت کی کتب سے ثابت ہے کہ ایران اور سندھ میں اسلام کا بیج بونے والے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں لہذا سندھ اور ایران علی والوں یعنی شیعوں کا ہے۔۔۔اس پر اس نے یہ حوالہ دیا
في خلافة علي بْن أَبِي طالب رضي اللَّه عنه توجه إِلَى ذلك الثغر الحارث بْن مرة العبدي متطوعا بإذن علي فظفر
[فتوح البلدان]
۔
2۔۔۔۔اس پر مزید بحث چھڑ گئی اور ان سے حوالہ جات مانگے گئے تو اس نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اہل سنت کے معتبر محقق اسد طحاوی نے بھی یہی لکھا ہے اور کہا کہ اسد طحاوی نے لکھا ہے کہ:
👈سندھ میں جہاد کا پودا حضرت علی رضی اللہ نے لگایا اور اسکو پانی سے مضبوط حضرت معاویہ رضی اللہ نے بنایا
امام بخاری کے شیخ اور مورخ خلیفہ بن خیاط
سندھ میں فتوحات کے حوالے سےلکھتے ہیں:
ﺗﺴﻤﻴﺔ ﻋﻤﺎﻝ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ اﻟﺴﻨﺪ ﺟﻤﻊ اﻝﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻣﺮﺓ اﻟﻌﺒﺪﻱ ﺟﻤﻌﺎ ﺃﻳﺎﻡ ﻋﻠﻲ ﻭﺳﺎﺭ ﺇﻟﻰ ﺑﻼﺩ ﻣﻜﺮاﻥ ﻓﻈﻔﺮ ﻭﻏﻨﻢ
ﻭﺃﺗﺎﻩ اﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﻛﻞ ﻭﺟﻪ ﻓﺠﻤﻊ ﻟﻪ ﺃﻫﻞ ﺫﻟﻚ اﻟﺜﻐﺮ ﺟﻨﺪا ﻓﻘﺘﻞ ﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻣﻌﻪ ﺇﻻ ﻋﺼﺎﺑﺔ ﻳﺴﻴﺮﺓ
حضرت علی بن ابی طالب کے مقرر کردہ عاملین (گورنر و حکام):سندھ اور مکران کی طرف کی مہمات:
سندھ کی جانب حارث بن مرہ العبدی نے حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک لشکر جمع کیا اور مکران کی سرزمین کی طرف روانہ ہوا، وہاں فتح حاصل کی اور مالِ غنیمت پایا۔ ہر طرف سے لوگ اس کے پاس آنے لگے، تو اس سرحدی علاقے کے لوگوں نے اس کے لیے ایک لشکر جمع کر دیا۔ پھر اس کے ساتھیوں میں سے اکثر کو قتل کر دیا گیا، صرف تھوڑا سا گروہ بچا۔ )
[تاریخ خلیفہ بن خیاط]
۔
3۔۔۔۔یہ عبارت لکھنے کے بعد شیعوں نے کہا کہ طحاوی صاحب نے دعوی تو کیا تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پانی دے کر مضبوط کیا لیکن اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا لہذا ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ یا کسی دوسرے خلیفہ کا سندھ اور ایران میں اسلام کا پودا لگانے،اسلام پھیلانے میں کوئی کردار نہیں
۔
4۔۔۔۔کچھ لوگ تو ان کے حق میں بولنے لگے اور کچھ لوگ تو کہنے لگے کہ سنی شیعہ کسی نے اسلام کو سندھ پاکستان میں نہیں لایا بلکہ اسلام کو تو ظالم بادشاہ حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کے ذریعے سے متعارف کروایا
۔
🕵️ائیے پڑھتے ہیں کہ دلائل کیا ہیں حقیقت کیا ہے
۔
🟩🕵️ *#جواب و تحقیق*
*#پہلی بات* 1️⃣
اصل تحقیق یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایران عراق افغانستان پاکستان سندھ وغیرہ پوری کائنات میں اسلام کا بیج بویا اور پھر اس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی سیدنا علی المرتضی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے مل کر اسے پانی دیا اور اپنے اپنے دور میں بھی خوب اسلام کے پودے کو ان سرزمینوں میں خوب پانی دے کر مضبوط باغ بنایا لیکن بعد میں یا شروع سے ہی کچھ شر پسند عناصر نے یہاں خارجیت اور رافضیت پھیلائی۔۔اس سب پر ہم مکمل تفصیل و دلائل نیچے لکھیں گے
۔
*#دوسری بات* 2️⃣
شیعوں نے عین مکاری کرتے ہوئے حسب معمول ادھی عبارت لکھی۔۔۔ ہم اپ کے سامنے پوری عبارت لکھ رہے ہیں اسی کتاب سے جس کتاب سے شیعہ نے حوالہ دیا👇
في خلافة علي بْن أَبِي طالب رضي اللَّه عنه توجه إِلَى ذلك الثغر الحارث بْن مرة العبدي متطوعا بإذن علي فظفر۔والقيقان من بلاد السند مما يلي خراسان، ثُمَّ غزا ذلك الثغر المهلب بْن أَبِي صفرة في أيام معاوية سنة أربع وأربعين فأتى بنة والأهواز وهما بَيْنَ الملتان وكابل فلقيه العدو فقاتله ومن معه
ترجمہ:
خسیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں الحارث بن مرة العبدي نے اجازت لے کر رضاکارانہ طور پر قیقان کی طرف جہاد کیا اور کامیاب ہوئے۔۔قيقان سندھ کے علاقے سے متعلق تھا، جو خراسان( پاکستان ایران عراق افغانستان کے علاقے) کے قریب تھا۔بعد میں مہلب بن ابی صفرة نے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت کے دنوں میں سن 44 ہجری میں اسی سندھی علاقے پر حملہ کیا، وہ ملتان اورلاھور پہنچا، جو ملتّان اور کابل کے درمیان ہیں، اور دشمن سے ملا اور جہاد کیا اور اسلام کا پیغام عام کیا
فتوح البلدان ص417
۔
🚨مذکورہ حوالے میں اپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ لکھا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان علاقوں میں بھی جہاد کیا اور اسلام کی تعلیمات پھیلائی جبکہ رافضی نے اس حوالے کا صرف دو لائنیں لکھ کر دھوکہ دیا کہ فقط سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ان علاقوں میں اسلام کو متعارف کروایا
۔
*#تیسری بات* 3️⃣
اسد طحاوی محترم کی میں نے چند تحاریر کافی عرصے سے پڑھی ہیں لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ اہل سنت کے معتبر عالم دین ہیں یا نہیں۔۔۔ لیکن جب میں ان کی فیس بک پروفائل پر گیا تو حیران رہ گیا کہ رافضی نے اسد طحاوی صاحب کی عبارت کو بھی ادھا پیش کیا جبکہ اسد صاحب نے مکمل حوالہ دیا ہوا تھا کہ جس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی ذکر تھا کہ انہوں نے ان فتوحات میں کردار ادا کیا
۔
*#چوتھی بات* 4️⃣
اہل سنت کے لکھاری حضرات کو چاہیے کہ وہ احتیاط کا دامن ہمیشہ اپنائے رکھیں اور جلد بازی نہ کریں ، کسی بھی موضوع پر لکھیں تو اس پر کافی حد تک ریسرچ کریں اور مختلف پہلو سے سوچ بچار کر کے لکھیں کیونکہ اسد طحاوی صاحب کی تحریر نے بھی ایک طرح سے بظاہر مغالطہ دیا ہے کہ اسلام کا بیج سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بویا ایران اور سندھ میں اور پھر اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو پانی دے کر خوب پھیلایا جبکہ تحقیق یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پہلے ہی سندھ اور ایران میں اسلام کا بیج بویا جا چکا تھا جیسے کہ ہم نیچے تفصیل لکھیں گے دلائل و حوالہ جات کے ساتھ
۔
*#پانچویں بات* 5️⃣
بالفرض اگر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایران اور سندھ میں اول اول اسلام کا بیج بویا تو بھی ایران اور سندھ ہم اہلسنت اصلی علی والوں کا حق ہے، کیونکہ ہم اہل سنت ہی اصلی علی والے ہیں کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تعلیمات دیکھی جائیں تو وہ اہل سنت والی ہیں شیعوں خارجیوں والی نہیں۔۔۔ جیسے کہ اس کی ایک جھلک تحریر کے اخر میں ہم لکھیں گے
۔
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *#پہلا حصہ..1️⃣ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایران اور سندھ وغیرہ بلکہ پوری کائنات میں اسلام کا بیج بویا۔۔چند دلائل اور حوالہ جات درج ذیل ہیں*
.
👊باذان بادشاہ تھا جس کے تعلقات بہت وسیع تھے موجودہ دور کے افغانستان ایران عراق سندھ ہند پاکستان حتی کہ سری لنکا تک اس کے خاندانی اور تجارتی تعلقات تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سارے جہاں میں گیا،باذان کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا پیغام ملا یعنی اسلام کا پیغام ملا تو اس نے قبول کر لیا اس طرح اس کے ذریعے سے افغانستان ایران عراق سندھ ہند پاکستان تک بلکہ سارے جہان تک اسلام کا بیج بو دیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔۔!!
۔
1🟤۔۔۔۔۔لما قتل كسرى بعث باذان بإسلامه وإسلام من معه إلى رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلم. حكاه ابن هشام، هكذا أورده الذّهبيّ في التّجريد
کسری کی جب موت ہوئی تو باذان(ساسانی)نے اپنے اسلام لانے اور اپنے ساتھیوں کے اسلام لانے کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا جیسے کہ سیرت ابن ہشام اور ذہبی کی تجرید میں ہے
الإصابة في تمييز الصحابة1/474
۔
👊بازان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت اسلام دی👇
2🟤.....فَبَعَثَ بَاذَانُ بِكِتَابِ كِسْرَى إلَى رَسُولِ اللهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَكَتَبَ إلَيْهِ رَسُولُ اللهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إن اللهَ قَدْ وَعَدَنِي أَنْ يُقْتَلَ كِسْرَى فِي يَوْمِ كَذَا مِنْ شَهْرِ كَذَا» فَلَمّا أَتَى بَاذَانَ الْكِتَابُ تَوَقّفَ لِيَنْظُرَ، وَقَالَ: إنْ كَانَ نَبِيّا، فَسَيَكُونُ مَا قَالَ، فَقَتَلَ اللهُ كِسْرَى فِي الْيَوْمِ الّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ۔۔۔۔۔قَالَ الزّهْرِيّ: فَلَمّا بَلَغَ ذَلِكَ بَاذَانَ بَعَثَ بِإِسْلَامِهِ، وَإِسْلَامِ مَنْ مَعَهُ مِنْ الْفُرْسِ إلَى رَسُولِ اللهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-
کسری کا خط باذان ساسانی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف خط لکھا کہ اللہ تعالی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کسری کو فلاں دن فلاں مہینے قتل کر دیا جائے گا تو یہ خط رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب باذان کی طرف ایا تو اس نے تھوڑا توقف کیا اور کہا کہ اگر سچے نبی ہیں تو جو انہوں نے فرمایا ہے وہ ہو کر رہے گا جب کسری کے قتل ہونے کی اطلاع بازان کو ملی تو بازان نے اپنے اسلام لانے اور اپنے ساتھیوں کے اسلام لانے کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا
الروض الأنف شرح سيرة ابن هشام1/307
البداية والنهاية - ت شيري 2/226 نحوہ
۔
👈باذان ساسانی ایرانی یمنی حکمران تھا
3🟤۔۔۔۔۔منهم باذان بن ساسان أمّره رسول الله ﷺ على أهل اليمن كلّها بعد كسرى وأول من أسلم من ملوك العجم
ترجمہ:
باذان بن ساسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء میں سے تھا کہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن پر مقرر فرمایا تھا اور وہ عجمی بادشاہوں میں سے پہلا بادشاہ ہے کہ جس نے اسلام لایا
نضرة النعيم في مكارم أخلاق الرسول الكريم1/413
۔
👈اور ساسانی حکمرانوں کے تعلقات ہند سند سے بھی اگے تھے، یہ تجارت بھی کرتے تھے اور ساتھ ساتھ مذہبی تعلیمات بھی پھیلاتے تھے
4🟤۔۔۔۔۔وصار للفرس نشاط ملحوظ في الخليج وفي المحيط الهندي. وقد أنشأ الفرس جملة كنائس في سواحل الهند وسقطرى، أنشأها الفرس النساطرة۔۔۔۔كما كانت هنالك سفن فارسية في "أدولس". وقد وجد الساسانيون أن من الأصلح لهم نقل التجارة الآتية التي تجارهم من الصين والهند وسيلان إلى الخليج حيث لا يزاحمهم أحد، ومنه إلى العراق، أو من الهند والصين إلى فارس، ثم العراق ومنه إلى "نصيبين"، أو إلى بلاد الشأم،
ترجمہ:
ساسانیوں نے خلیج(ایران، سعودی عرب، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات) اور ہند-بحرِ ہند میں نمایاں تجارتی سرگرمی قائم کی۔ انہوں نے ہند اور سقطریہ کے ساحلوں پر کئی گرجا گھر قائم کیے، جو نساطری عیسائی تجار تھے۔ اور وہاں فارسی جہاز بھی موجود تھے جیسے "أدولس" میں۔ساسانیوں نے یہ دیکھا کہ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ تجارتی مال جو چین، ہند(سندھ بلوچستان پاکستان)، اور سری لنکا (سیلان) سے آتا ہے، اسے پہلے خلیج کے راستے لے جائیں، جہاں کوئی مقابل نہیں کرتا، پھر عراق یا فارس (ایران) سے، پھر نصیبین یا بلاد الشام( شام، لبنان، فلسطین، اردن) تک پہنچایا جائے۔
المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام13/280
۔
5🟤۔۔۔۔۔ولما دخل سكان اليمن وحضرموت في الإسلام وكانوا يتاجرون بحاصلات السند ومليبار وسيلان وجاوه والصين وغيرها. وصلت الدعوة الإسلامية على أيديهم إليها
ترجمہ:
جب یمن اور حضرموت کے لوگ اسلام میں داخل ہوئے، وہ سند، ملیبار( بھارت)، سری لنکا (سیلان)، جاوا( انڈونیشیا)، چین وغیرہ کی مصنوعات کے تاجر تھے۔ اسلام کی دعوت بھی انہی کے ذریعے ان علاقوں تک پہنچی۔
المستشرقون لنجيب العقيقي1/43
۔
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *#دوسرا حصہ۔۔۔2️⃣جی ہاں فقط لڑنے کا نام نہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات پھیلانے کا نام اور اسلام کی سربلندی کا نام جہاد ہے...مختصر حصہ پڑھیے۔۔۔۔۔!!*
۔
الحدیث:
فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا ؟ فَقَالَ : " انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
ترجمہ:
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ہم ان سے جہاد کریں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان ہو جائیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا
ہاں ان سے لڑو مگر اس سے پہلے تم ان کے پاس جاؤ پھر انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اور انہیں اسلام کے حقوق و تعلیمات بتاؤ، خدا کی قسم تمہاری وجہ سے کسی ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو تمہارے لیے یہ انتہائی قیمتی سرخ اونٹوں سے بہتر ہے
بخاری حدیث3701
۔
✅حدیث پاک واضح کرتی ہے کہ جہاد فقط لڑنا نہیں بلکہ جہاد کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات ان تک پہنچائی جائیں اور کوشش کی جائے کہ انہیں ہدایت مل جائے، یا پھر وہ امن معاہدہ کر لیں لیکن اگر وہ جنگ پہ اتر ائیں تو ان سے جہاد کیا جائے گا تاکہ ان کا غرور تکبر ٹوٹے گا تو شاید پھر ان کو سوچنے کا موقع ملے کہ ہاں اسلام میں ہی دنیا و اخرت کی بھلائی ہے
۔
🚨♥️لہذا کتب تاریخ میں جہاں لکھا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے جہاد کیا ، لڑائی کی تو وہاں پر فقط لڑنا مراد نہیں بلکہ یہ مقصد ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کی تعلیمات پہنچائیں اور پہنچانے کی بہت کوشش کی اور مجبورا انہیں لڑائی جنگ کرنا پڑی لیکن اس کے باوجود ہمیشہ سے کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح انہیں حق بات اسلامی عقائد و تعلیمات وقتا فوقتا بتاتے رہیں
۔
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *#تیسرا حصہ۔۔۔3️⃣مطلق و جامع حوالہ جات کہ شروع اسلام سے لے کر سیدنا معاویہ تک اور اس کے بعد تک اسلام کا پیغام و تعلیمات ایران و سندھ و دیگر ممالک میں پھیلایا گیا۔۔۔!!*
🟤1۔۔۔وكل هذه النواحي إنما دخل أهلها في الإسلام وتركوا عبادة الأوثان. وقبل ذلك قد كان الصحابة في زمن عمر وعثمان فتحوا غالب هذه النواحي ودخلوا في مبانيها، بعد هذه الأقاليم الكبار، مثل الشام ومصر والعراق واليمن وأوائل بلاد الترك، ودخلوا إلى ما وراء النهر وأوائل بلاد المغرب، وأوائل بلاد الهند
ترجمہ:
یہ تمام علاقے (آج کے حساب سے: شمالی بھارت، پاکستان: سندھ و پنجاب، یمن، ایران، عراق، شام، مصر) مسلمانوں کے زیرِ اثر آئے اور یہاں کے لوگ اسلام قبول کر کے بت پرستی چھوڑ دی۔ اس سے پہلے صحابہ نے خلافت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ان علاقوں کے بیشتر حصوں پر جہاد کیا اور ان میں داخل ہو کر اپنی حکومت قائم کی، خاص طور پر بڑے خطے جیسے: الشام (سوریہ، لبنان، فلسطین، اردن)، مصر، عراق، یمن، ابتدائی ترک علاقے (شمالی و وسطی ترکی)، ما وراء النہر (شمالی افغانستان اور وسطی ایشیا)، ابتدائی مغرب (شمالی افریقہ) اور ابتدائی ہند (شمالی بھارت و پاکستان کے حصے سند بلوچستان وغیرہ)
البدایہ والنہایۃ9/88
۔
🟤2۔۔۔۔۔ويؤكد لنا التاريخ أن الاتصال بين أهل(السند) والمسلمين سبق بزمن طويل فتح بلادهم، وأنهم عرفوا كثيرا عن الإسلام ومبادئه، بل إن بعضهم أسلم مبكرا، يروى(البلاذرى)أن كثيرين من أهل(السند)-لمنبوذين - قد أسلموا مبكرا، بعد أن انحازوا إلى المسلمين؛ فرارا من اضطهاد البراهمة، فعندما كان(أبو موسى الأشعرى)يفتح إقليم(الأهواز)غربى بلاد فارس، فى عهد(عمر ابن الخطاب)أرسل له زعيم سندى اسمه(سياهـ) قائلا:(إننا قد أحببنا الدخول معكم فى دينكم على أن نقاتل معكم عدوكم من العجم)واشترط أن يفرض له ولقومه
من العطاء، وأن ينزلوا حيث شاءوا من البلاد، فوافق(عمر بن
الخطاب)على ذلك لما كتب له(أبو موسى)يستأذنه.
ترجمہ:
تاریخ واضح کرتی ہے کہ سند (پاکستان: سندھ اور جنوبی پنجاب) کے لوگ مسلمانوں کے ساتھ طویل عرصے سے رابطے میں تھے اور اسلام اور اس کے اصولوں کو بہت حد تک جانتے تھے۔ بعض افراد نے اسلام کے شروع میں ہی اسلام قبول کیا، خاص طور پر وہ لوگ جو براہماہ کی ظلم و ستم سے بچنے کے لیے مسلمانوں کے پاس آئے۔روایت ہے کہ بلاذری کے مطابق، بہت سے ایسے سندھی لوگ، جو سماج میں منفرد یا کمزور تھے، جلد اسلام میں داخل ہوئے اور مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری نے الأهواز (جنوب مغربی ایران یا لاھور) کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں فتح کیا، اسلام کا پیغام پھیلایا، تو سند کا ایک سردار سياه نے ان کے پاس خط بھیجا:"ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے دین اسلام میں شامل ہوں اور آپ کے ساتھ عجم کے دشمن سے جہاد کریں۔"اس نے شرط رکھی کہ ان کو اور ان کے لوگوں کو عطا (مال و مراعات) دی جائے اور وہ ملک میں جہاں چاہیں آباد ہو سکیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ کے ذریعے اس درخواست کو منظور کیا۔
موسوعة سفير للتاريخ الإسلامي ص27
.
🟤3۔۔۔۔السند ولاية أقامها المسلمون فى القرن(1ه = 7 م)، وشملت الحوض الأدنى لنهر السند؛ فكانت بذلك بوابة بلاد الهند التى فتحها المسلمون.ولم تكن هذه البلاد مجهولة للعرب قبل الإسلام؛ إذ كانت تجارتها تمر بالأرض العربية عن طريق اليمن أو البحرين إلى سواحل الشام ومصر.ومرت علاقة الدولة الإسلامية بالسند بعدة مراحل، بدأت بحملة بحرية بقيادة المغيرة بن أبى العاص الثقفى عام(15ه)، واستطلع المسلمون أمر الهند فى خلافة عثمان، وقاد الحارث بن مرة حملة إليها فى خلافة على بن أبى طالب.وتعددت الحملات عليها فى خلافة الدولة الأموية، وأشهرها التى قادها المهلب بن أبى صفرة فى خلافة معاوية بن أبى سفيان عام(44ه = 664م)حتى بلغ الأهوار(لاهور)، وتكررت الحملات بعد ذلك للقضاء على الخارجين علىالدولة الإسلامية، أهمها كانت بقيادة محمد بن القاسم بن أبى الحجاج.
ترجمہ:
سند (پاکستان: سندھ اور جنوبی پنجاب) ایک ولایت تھی جو مسلمانوں نے قرن اول ہجری / 7ویں صدی عیسوی میں قائم کی، اور اس میں نچلا سندھ کا حوض شامل تھا۔ یہ علاقے ہندوستان کے دروازے کے طور پر جانے جاتے تھے جو مسلمانوں نے فتح کیے۔یہ علاقے اسلام سے پہلے بھی عربوں کے لیے نامعلوم نہیں تھے کیونکہ یہاں کی تجارت عرب کے راستے یمن یا بحرین کے ذریعے شام اور مصر کے ساحلوں تک جاتی تھی۔اسلامی سلطنت اور سندھ کے تعلقات کئی مراحل سے گذرے۔۔۔سب سے پہلے بحری جہادی مہم المغيرة بن ابی العاص الثقفی سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد کی قیادت میں سن 15 ہجری میں ہوئی۔بعد میں مسلمانوں نے خلافة سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں اور الحارث بن مرة نے خلافة سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ میں سندھ پر جہادی مہم کی قیادت کی۔اموی حکومت کے دور میں متعدد مہمات بھی ہوئیں، سب سے مشہور جہادی مہم سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانے میں المہلب بن ابی صفرة کی قیادت میں سن 44 ہجری / 664 عیسوی میں، جو(سندھ بلوچستان سے ہوتی ہوئی) اہوار (لاہور، پاکستان) تک پہنچیں۔بعد میں کئی مہمات اس لیے بھی ہوئیں کہ اسلامی ریاست کے مخالفین ختم کیے جائیں، جن میں سب سے اہم محمد بن قاسم بن ابی الحجاج کی قیادت تھی۔
الموسوعة الموجزة في التاريخ الإسلامي11/446
۔
🟤4۔۔۔۔ووجه أخاه المغيرة بْن أبى العاصي إِلَى خور الديبل، فلقي العدو فظفر۔۔۔فلما كان آخر سنة ثمان وثلاثين وأول سنة تسع وثلاثين في خلافة علي بْن أَبِي طالب رضي اللَّه عنه توجه إِلَى ذلك الثغر الحارث بْن مرة العبدي متطوعا بإذن علي فظفر والقيقان من بلاد السند مما يلي خراسان، ثُمَّ غزا ذلك الثغر المهلب بْن أَبِي صفرة في أيام معاوية سنة أربع وأربعين فأتى بنة والأهواز وهما بَيْنَ الملتان وكابل فلقيه العدو فقاتله ومن معه۔۔ثُمَّ ولى الحجاج مُحَمَّد بْن الْقَاسِم بْن مُحَمَّد بْن الحكم بْن أَبِي عقيل في أيام الوليد بْن عَبْد الملك فغزا السند،
ترجمہ:
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد عثمان نے اپنے بھائی مغیرہ کو دیبل سندھ( کراچی اور گرد و نواح) کی طرف جہاد کے لیے بھیجا اور انہوں نے کامیابی حاصل کی اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں قیقان تک فتح حاصل کی جو کہ سندھ اور خراسان( بالائی پاکستان ایران افغانستان کے علاقے) کے درمیان علاقہ ہے, پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ملتان اور اھواز تک جہادی مہم کی گئی اور فتح حاصل کی گئی جو کہ ملتان اور کابل کے درمیان میں ہے پھر خلافت الولید بن عبد الملک(86–96 ہجری) کے زمانے میں، الحجاج کے حکم پر محمد بن القاسم بن محمد بن حکم بن ابی عقيل نے سندھ پر منظم حملہ کیا اور فتح حاصل کی۔
فتوح البلدان بلاذری ص416 ومابعدہ
۔
🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟪 *#چوتھا حصہ۔۔۔4️⃣ خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانے میں*
يزل كافرا، حتى نزل القطيف وهجر، واستغوى الخط ومن فيها من الزط والسيابجة، وبعث بعثا إلى دارين، فأقاموا له ليجعل عبد القيس بينه وبينهم، وكانوا مخالفين لهم، يمدون المنذر والمسلمين، وأرسل إلى الغرور بْن سويد، أخي النعمان بْن المنذر، فبعثه الى جؤاثى، وقال: اثبت، فإني إن ظفرت ملكتك بالبحرين حتى تكون كالنعمان بالحيرة وبعث الى جؤاثى، فحصرهم وألحوا عليهم فاشتد على المحصورين الحصر، وفي المسلمين المحصورين
ترجمہ:
مسلمانوں نے کافروں کے خلاف مہم جاری رکھی، یہاں تک کہ وہ قطيف اور ہجر (سعودی عرب: مشرقی ساحل) تک پہنچ گئے، اور وہاں کے زط( سندھی بلوچی جٹ) اور سیابجہ( سندھی) قبیلوں پر غلبہ پا لیا۔ پھر انہوں نے دارين (موجودہ بحرین جزائر) کی طرف ایک قافلہ بھیجا اور وہاں کے لوگوں کو عبد القيس کے ذریعے قابو میں رکھنے کا انتظام کیا، کیونکہ یہ قبائل ان کے مخالف تھے اور المنذر اور مسلمانوں کو مدد دیتے تھے۔اس کے بعد انہوں نے الغرور بن سويد، جو النعمان بن المنذر کا بھائی تھا، کو جؤاثی (موجودہ بحرين کے بعض جزائر یا مشرقی سعودی ساحل) بھیجا اور حکم دیا کہ مضبوطی سے قائم رہے۔ کہا گیا:
"اگر تم کامیاب ہوئے تو تم بحرین پر حکومت کرو گے، بالکل اسی طرح جیسے النعمان نے الحيرة (عراق: کوفہ-نینوا کے قریب) میں حکومت کی تھی۔"انہوں نے جؤاثی کے لوگوں کو گھیر لیا اور ان پر دباؤ بڑھایا، جس سے محصور افراد پر شدید دباؤ آیا، اور مسلمانوں کو بھی یہ محاصرہ معلوم ہوا۔
تاريخ الطبري3/304
۔
✅اس اقتباس سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ سندھ بلوچستان ایران اور اس کے متعلقہ علاقے میں اگرچہ سندھی بلوچی ایرانی مسلمانوں کو زور دیا گیا کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی مخالفت کر دیں اور زکواۃ کا انکار کر دیں لیکن اگرچہ کچھ بہک گئے لیکن کئی محصور اور قیدی ہی رہے لیکن انہوں نے فتنہ ارتداد میں حصہ نہ لیا اور مسلمان ہی رہے
۔
🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥
🟪*# پانچوان حصہ۔۔۔5️⃣ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایران افغانستان ہند سندھ پاکستان وغیرہ میں دین اسلام کی خوب ابیاری کی، ترقی و ترویج کی*
۔
🟤1۔۔۔۔۔حدثني جماعة من أهل العلم، قَالُوا: كان سياه الأسواري عَلَى مقدمة يزدجرد، ثُمَّ أنه بعث به إِلَى الأهواز فنزل الكلبانية وأبو موسى الأشعري محاصر السوس، فلما رأى ظهور الإِسْلام وعز أهله وأن السوس قَدْ فتحت والأمداد متتابعة إِلَى أَبِي موسى أرسل إليه: إنا قَدْ أحببنا الدخول معكم في دينكم عَلَى أن نقاتل عدوكم منَ العجم معكم وعلى أنه إن وقع بينكم اختلاف لم نقاتل بعضكم مع بعض، وعلى أنه أن قاتلنا العرب منعتمونا منهم وأعنتمونا عليهم، وعلى أن ننزل بحيث شئنا منَ البلدان ونكون فيمن شئنا منكم، وعلى أن نلحق بشرف العطاء ويعقد لنا بذلك الأمير الَّذِي بعثكم، فقال أَبُو موسى بل لكم ما لنا وعليكم ما علينا، قَالُوا لا نرضى، فكتب أَبُو موسى بذلك إِلَى عُمَر فكتب إليه عُمَر، أن أعطهم جميع ما سألوا، فخرجوا حَتَّى لحقوا بالمسلمين وشهدوا مع أَبِي موسى حصار تستر فلم يظهر منهم نكاية، فقال لسياه يا عون ما أنت وأصحابك كما كنا نظن، فقال له أَخْبَرَك أنه ليست بصائرنا كبصائركم ولا لنا فيكم حرم نخاف عليها ونقاتل، وإنما دخلنا في هَذَا الدين في بدء أمرنا تعوذا وإن كان اللَّه قَدْ رزق خيرا كثيرا، ثُمَّ فرض لهم في شرف العطاء، فلما صاروا إِلَى البصرة سألوا أي الأحياء أقرب نسبا إِلَى رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقيل: بنو تميم وكانوا عَلَى أن يحالفوا الأزد فتركوهم وحالفوا بنى تميم، ثم خطت لهم خططهم فنزلوا وحفروا نهرهم وهو يعرف بنهر الأساورة، ويقال أن عَبْد اللَّهِ بْن عَامِر حفره.وقال أَبُو الْحَسَن المدائني: أراد شيرويه الأسواري أن ينزل في بكر بْن وائل مع خَالِد بْن معمر وبنى سدوس فأبى سياه ذلك فنزلوا في بني تميم۔۔فانضم إِلَى الأساورة السيابجة وكانوا قبل الإِسْلام بالسواحل وكذلك الزط وكانوا بالطفوف يتتبعون الكلأ فلما اجتمعت الأساورة والزط والسيابجة تنازعتهم بنو تميم فرغبوا فيهم فصارت الأساورة في بني سَعْد والزط والسيابجة في بني حنظلة فأقاموا معهم يقاتلون المشركين وخرجوا مع ابن عَامِر إِلَى خراسان ولم يشهدوا معهم الجمل وصفين
ترجمہ:
اہلِ علم کی ایک جماعت نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا:
(سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانے میں) سِيَاهُ الأَسْوَارِي (سیاہ اسواری سندھی بادشاہ) یزدجرد کے لشکر کے مقدمہ پر تھا، پھر یزدجرد نے اسے اَہواز (ایران: خوزستان) کی طرف بھیجا، تو وہ الکَلبانیة (ایران: خوزستان / اہواز کے نواح) میں اترا، جبکہ ابو موسیٰ اشعری اس وقت السُّوس (ایران: شوش / خوزستان) کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔جب سیاہ سندھی بادشاہ نے اسلام کے غلبے، مسلمانوں کی عزت و قوت، اور یہ دیکھا کہ سوس (ایران) فتح ہو چکا ہے اور سیدنا ابو موسیٰ کے پاس امدادیں پے در پے پہنچ رہی ہیں، تو اس نے سیدنا ابو موسیٰ کی طرف پیغام بھیجا کہ:“ہم آپ کے دین میں آپ کے ساتھ داخل ہونا چاہتے ہیں، اس شرط پر کہ ہم آپ کے ساتھ عجم کے خلاف قتال کریں گے، اور اگر آپس میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف ہو تو ہم ایک دوسرے کے خلاف قتال نہیں کریں گے، اور اگر ہم نے عربوں سے جنگ کی تو آپ ہمیں ان سے روکیں گے اور ہماری مدد کریں گے، اور ہم جہاں چاہیں شہروں میں آباد ہوں گے، اور جس قبیلے میں چاہیں شامل ہوں گے، اور ہمیں عطا (وظیفہ) میں شرف دیا جائے، اور اس پر وہ امیر عقد کرے جس نے آپ کو بھیجا ہے۔” سیدنا ابو موسیٰ نے فرمایا:“تمہارے لیے وہی ہے جو ہمارے لیے ہے، اور تم پر وہی ہے جو ہم پر ہے۔”انہوں نے کہا: ہم اس پر راضی نہیں۔تو سیدنا ابو موسیٰ نے یہ سب 👈سیدنا عمر کو لکھ بھیجا، پس سیدنا عمر نے جواب میں لکھا:
“ان کو وہ سب دے دو جو انہوں نے مانگا ہے۔”پس وہ سندھی بادشاہ بمع رفقاء نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ آ ملے، اور سیدنا ابو موسیٰ کے ساتھ تُسْتَر (ایران: شوشتر / خوزستان) کے محاصرے میں شریک ہوئے۔۔۔سندھی بادشاہ نے کہا اللہ نے ہمیں بہت سا خیر عطا فرما دیا ہے۔”پھر ان سندھی مسلمانوں کے لیے شرفِ عطا مقرر کیا گیا۔جب وہ سندھی بصرہ (عراق) پہنچے تو انہوں نے پوچھا “رسول اللہ ﷺ سے نسب کے اعتبار سے کون سا قبیلہ قریب ہے؟”کہا گیا: بنو تمیم۔۔حالانکہ وہ پہلے اَزْد (یمن/عمان نژاد، عراق میں آباد) سے حلف پر تھے، تو انہوں نے ازْد کو چھوڑ دیا اور بنو تمیم سے حلف کر لیا۔پھر ان کے لیے ان کے محلے مقرر کیے گئے، وہ وہاں اترے، اور انہوں نے اپنا نہر کھودا جو نہر الاساورة کہلاتا ہے (عراق: بصرہ)، اور کہا جاتا ہے کہ اسے عبد اللہ بن عامر نے کھدوایا۔ابو الحسن المدائنی کہتے ہیں:
شیرویہ الاسواری چاہتا تھا کہ وہ بکر بن وائل (عراق/جزیرہ عرب) میں خالد بن معمر اور بنو سدوس (عراقی عرب قبائل) کے ساتھ آباد ہو، مگر سیاہ نے اس سے انکار کیا، پس وہ بنو تمیم میں جا بسے۔پھر الاساورة کے ساتھ السَّيابِجَة آ ملے، اور وہ اسلام سے پہلے ساحلی علاقوں (سندھ و مکران / بلوچستان کے ساحل) میں رہتے تھے،
اور اسی طرح الزُّط(سندھی اور بلوچی) بھی آ ملے،
جب الاساورة، الزُّط اور السَّيابِجَة اکٹھے ہوئے تو بنو تمیم نے انہیں اپنی طرف مائل کیا اور ان میں رغبت لی،
چنانچہ الاساورة بنو سعد (عراقی تمیمی شاخ)
الزُّط اور السَّيابِجَة بنو حنظلہ (تمیم کی شاخ، عراق)
میں جا بسے۔وہ ان کے ساتھ رہے، مشرکین سے قتال کرتے رہے، اور عبد اللہ بن عامر کے ساتھ خراسان (ایران / وسطی ایشیا) کی طرف نکلے،مگر جمل اور صفین میں شریک نہیں ہوئے۔
فتوح البلدان بلاذری ص362ومابعدہ
۔
🟤2....أذن عمر في الانسياح..ولواء إصطخر إلى عثمان بْن أبي العاص الثقفي۔۔ولواء سجستان الى عاصم ابن عمرو- وكان عاصم من الصحابة- ولواء مكران إلى الحكم بْن عمير التغلبي
ترجمہ:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہم نے جہاد و فوج کشی کی اجازت دی:لواء اصطخر (اصفہان، ایران اور فارس کے وسطی علاقے) کو عثمان بن ابی العاص الثقفی کے سپرد کیا۔لواء سجستان (Sistan / ایران-افغانستان کے سرحدی علاقے) کو عاصم بن عمرو کے سپرد کیا۔لواء مكران (مکران: بلوچستان کے ساحلی علاقے) کو الحكم بن عمير التغلبی کے سپرد کیا کہ ان علاقوں میں جاؤ اور جہاد کرو اسلام کی تعلیم عام کرو
تاریخ طبری4/94
.
🟤3۔۔۔۔۔الديبل من ناحية السند، وجه إِلَيْهِ عثمان بن أبي العاص أخاه.... ففتحه
ترجمہ:
دیبل سندھ کا ایک علاقہ تھا (موجودہ دور میں: کراچی اور ٹھٹھہ اور ساحلی علاقے، پاکستان)۔ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی( جن کو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جہاد کے لیے بھیجا تھا انہوں ) نے اپنے بھائی کو اس کی طرف بھیجا، چنانچہ اس نے دیبل( کراچی گردو نواح) فتح کر لیا۔
الأماكن، ما اتفق لفظه وافترق مسماه ص286
.
🟤4۔۔۔۔۔ووجه أخاه المغيرة بْن أبى العاصي إِلَى خور الديبل، فلقي العدو فظفر
حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی( جن کو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جہاد کے لیے بھیجا تھا انہوں ) نے اپنے بھائی مغیرہ کو اس کی طرف بھیجا، چنانچہ اس نے دیبل( کراچی گردو نواح) فتح کر لیا۔
فتوح البلدان بلاذری ص416
.
🟤5۔۔۔۔الدّيبل من ناحية السند، والدّيبل: مدينة على ساحل بحر الهند، ووجّه إليه عثمان بن أبي العاصي أخاه الحكم ففتحه.
دیبل سندھ کا ایک علاقہ تھا (موجودہ دور میں: کراچی اور ٹھٹھہ اور ساحلی علاقے، پاکستان)۔ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی( جن کو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جہاد کے لیے بھیجا تھا انہوں ) نے اپنے بھائی کو اس کی طرف بھیجا، چنانچہ اس نے دیبل( کراچی گردو نواح) فتح کر لیا۔
معجم البلدان الحموی2/400
.
🟤6۔۔۔۔وقصد عاصم بْن عمرو لسجستان، ولحقه عبد اللَّه بْن عمير، فاستقبلوهم فالتقوا هم وأهل سجستان في أدنى أرضهم، فهزموهم ثم أتبعوهم، حتى حصروهم بزرنج، ومخروا أرض سجستان ما شاءوا ثم إنهم طلبوا الصلح على زرنج وما احتازوا من الأرضين، فأعطوه....وكانت فيما بين السند إلى نهر بلخ بحياله،
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے مقرر کردہ مجاہد عاصم بن عمرو نے سجستان (آج کا ایران–افغانستان سرحدی علاقہ) کی طرف پیش قدمی کی، اور عبد اللہ بن عمیر بھی ان کے ساتھ جا ملے۔ اہلِ سجستان نے ان کا مقابلہ کیا، تو دونوں لشکر سجستان کے نچلے علاقے میں آمنے سامنے ہوئے۔ مسلمانوں نے انہیں شکست دی، پھر ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ انہیں زرنج (آج کا زرنج، افغانستان) میں محصور کر لیا۔مسلمانوں نے سجستان کے علاقوں (ایران–افغانستان کا خطہ) میں آبادکاری کے لحاظ سے اپنی مرضی کے مطابق کارروائی کی، پھر اہلِ سجستان نے زرنج اور اپنے قبضے میں موجود زمینوں کے بارے میں صلح کی درخواست کی، تو مسلمانوں نے یہ صلح قبول کر لی۔یہ اور دیگر فتوحات والے علاقے سند (پاکستان: سندھ و بلوچستان) سے لے کر دریائے بلخ کے مقابل خطے تک (افغانستان: بلخ/مزار شریف کے علاقے) واقع تھے۔
تاریخ طبری4/180ومابعدہ
.
🟤7۔۔۔۔۔فولى عُمَر البصرة المغيرة بْن شعبة، وقد كان الناس سألوا عتبة عَنِ البصرة فأخبرهم بخصبها فسار إليها خلق منَ الناس....فلما استعمل عُمَر عتبة بْن غزوان قدم معه نافع وأبو بكرة وزياد، ثُمَّ إن عتبة قاتل أهل مدينة الفرات...ففتح اللَّه عَلَى المسلمين..وأمر المغيرة بْن شعبة أن يصلي بالناس...فتح عتبة بْن غزوان الأبلة والفرات وأبرقباذ ودستميسان وفتح المغيرة ميسان وغدو أهل أبر قباذ ففتحها المغيرة
ترجمہ:
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے بصرہ (عراق: جنوبی عراق) کی گورنری مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کی۔ اس سے پہلے لوگوں نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ سے بصرہ کے بارے میں پوچھا تھا، تو انہوں نے اس کی زرخیزی بتائی، چنانچہ بہت سے لوگ وہاں کی طرف روانہ ہو گئے۔جب سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ کو (بصرہ کا امیر بنا کر) بھیجا تو ان کے ساتھ نافع، ابو بکرہ اور زیاد رضی اللہ تعالی عنہم بھی آئے۔ اس کے بعد عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرات کے شہر کے لوگوں (عراق: دریائے فرات کے کنارے کے علاقے) سے جنگ کی، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کی امامت کریں۔اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ نے اُبُلّہ (عراق: بصرہ کے قریب بندرگاہی علاقہ)، فرات کے علاقے، اَبرقُباذ (عراق: جنوبی عراق کا قدیم علاقہ) اور دستميسان (عراق: خوزستان کے قریب کا خطہ) فتح کیے۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے میسان (عراق: بصرہ اور اہواز ایران کے علاقے) فتح کیا، اور اَبرقباذ کے لوگ دوبارہ مقابلے کے لیے آئے تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے بھی فتح کر لیا۔
فتوح البلدان بلاذری ص335
۔
🟤8۔۔۔۔۔وقصد الحكم بن عمرو التغلبي من أمراء الانسياح بلد مكران ولحق به شهاب بن المخارق وجاء سهيل بن عديّ وعبد الله بن عبد الله بن عتبان وانتهوا جميعا الى دوين [١] وأهل مكران على شاطية [٢] وقد أمدّهم أهل السند بجيش كثيف، ولقيهم المسلمون فهزموهم وأثخنوا فيهم بالقتل، واتبعوهم أياما حتى انتهوا الى النهر ورجعوا إلى مكران فأقاموا بها وبعثوا إلى عمر بالفتح
ترجمہ:
حَکَم بن عمرو التغلبي رضی اللہ تعالی عنہ (جو سیدنا عمر کے مقرر کردہ مجاہدوں میں سے تھے) نے مکران (پاکستان: بلوچستان کا ساحلی علاقہ) کی طرف پیش قدمی کی۔ ان کے ساتھ شہاب بن المخارق رضی اللہ تعالی عنہ، سہیل بن عدیّ رضی اللہ تعالی عنہ اور عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبان رضی اللہ تعالی عنہ بھی آ ملے۔ یہ سب مل کر دوین (بلوچستان: مکران کا اندرونی مقام) تک فتح کرتے ہوئے پہنچے۔مکران کے لوگ ساحلِ سمندر (موجودہ مکران کوسٹ، بلوچستان) پر تھے، اور اہلِ سندھ (پاکستان: سندھ) نے ان کی مدد کے لیے ایک بڑا لشکر بھیجا۔ مسلمانوں نے ان سے مقابلہ کیا، انہیں سخت شکست دی اور بہت سے لوگ مارے گئے۔ مسلمان کئی دن تک ان کا پیچھا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دریا( سندھ کے دریا کراچی وغیرہ گرد و نواح) تک جہاد کرتے ہوئے جا پہنچے۔اس کے بعد مسلمان واپس مکران (بلوچستان، پاکستان) آ گئے، وہیں قیام کیا، اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو فتح کی خبر بھیج دی۔
تاريخ ابن خلدون2/567
۔
🟤9۔۔۔۔فغزاها أَبُو موسى الأشعري حين ولاه عُمَر بْن الخطاب البصرة بعد المغيرة، فافتتح سوق الأهواز وفتح نهرتيرى..أَبِي موسى إذا شخص عَنِ البصرة، فسار أَبُو موسى إِلَى الأهواز، فلم يزل يفتح رستاقا رستاقا ونهرا نهرا، والأعاجم تهرب من بين يديه فغلب على جمع أرضها إلا السوس، وتستر ومناذر، ورامهرمز.فكتب إلينا عُمَر فخلوا ما في أيديكم منَ السبي فرددنا السبي ولم نملكهم...وصارت مناذر الكبرى والصغرى في أيدي المسلمين...وسار أَبُو موسى إِلَى السوس فقاتل أهلها ثُمَّ حاصرهم حَتَّى نفد ما عندهم منَ الطعام فضرعوا إِلَى الأمان.....وقتل من سواهم منَ المقاتلة
ترجمہ:
سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے اس علاقے پر جہاد کیا جب سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد بصرہ (عراق: جنوبی عراق) کا گورنر مقرر کیا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے اہواز کا بازار (جنوب مغربی ایران) فتح کیا اور نہرِ تیری (ایران کے قدیم نہری علاقے) پر قبضہ کیا۔جب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بصرہ سے روانہ ہوئے تو وہ اہواز (ایران) کی طرف بڑھے اور مسلسل ایک ایک دیہی علاقہ اور ایک ایک نہر فتح کرتے گئے۔ غیر عرب لوگ ان کے سامنے سے بھاگتے چلے گئے، یہاں تک کہ انہوں نے اس پورے خطے کی زیادہ تر زمین پر فتح حاصل کر لیا، سوائے سوس، تُستَر، مناذر اور رامہرمز کے۔۔۔پھر سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا خط آیا کہ جو قیدی تمہارے قبضے میں ہیں انہیں آزاد کر دو، چنانچہ مسلمانوں نے قیدی واپس کر دیے اور انہیں غلام نہیں بنایا۔اس کے بعد مناذرِ کبریٰ اور مناذرِ صغریٰ (ایران کے علاقے) مسلمانوں کی فتح میں آ گئے۔ پھر سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ سوس (ایران) کی طرف بڑھے، وہاں کے لوگوں سے جنگ کی، پھر انہیں محاصرے میں لے لیا، یہاں تک کہ ان کے پاس کھانا ختم ہو گیا اور وہ امان مانگنے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ جو جنگ کرنے والے تھے وہ مارے گئے، اور غیر جنگجو لوگوں کو چھوڑ دیا گیا۔
فتوح البلدان بلاذری ص366ومابعدہ ملتقطا
وبعضہ فی كتاب الأموال لابن زنجويه1/193بعضہ
۔
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *2چھٹا حصہ۔۔۔6️⃣سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے ہند سندھ ایران وغیرہ علاقوں میں اسلام کی آبیاری کی*
۔
🟤1۔۔۔۔۔ولى ابن عَامِر عَبْد الرَّحْمَنِ بْن سمرة بْن حبيب بْن عَبْد شمس سجستان، فأتى زرنج فحصر مرزبانها في قصره في يوم عيد لهم فصالحه عَلَى ألفي ألف درهم وألفي وصيف وغلب ابن سمرة عَلَى ما بَيْنَ زرنج وكش من ناحية الهند وغلب من ناحية طريق الرخج عَلَى ما بينه وبين بلاد الدوار، فلما انتهى إِلَى بلاد الدوار حصرهم في حبل الزور ثُمَّ صالحهم فكانت عدة من معه منَ المسلمين ثمانية آلاف فأصاب كل رجل منهم أربعة آلاف، ودخل عَلَى الزور وهو صنم من ذهب عيناه ياقوتتان فقطع يده وأخذ الياقوتتين، ثُمَّ قَالَ للمرزبان: دونك الذهب والجوهر، وإنما أردت أن أعلمك أنه لا يضر ولا ينفع وفتح بست وزابل بعهد
ترجمہ:
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد الرحمن بن سَمُرَة بن حبیب بن عبد شمس رضی اللہ تعالی عنہ کو سجستان (آج کا ایران–افغانستان سرحدی علاقہ) کا حاکم مقرر کیا۔ وہ زرنج (آج کا زرنج، افغانستان) پہنچے اور وہاں کے مرزبان کو اس کے قلعے میں محاصرہ کر لیا، یہ محاصرہ ان کے عید کے دن ہوا۔ آخرکار مرزبان نے بیس لاکھ درہم اور دو ہزار نوجوان غلاموں پر صلح کر لی۔اس کے بعد عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے زرنج اور کَش کے درمیان کے علاقے (افغانستان کے جنوبی و مشرقی علاقے، بھارت کی سمت) پر فتح حاصل کی، اور رخج کے راستے سے (افغانستان کے پہاڑی علاقے) چلتے ہوئے بلادِ دوار (موجودہ افغانستان–پاکستان سرحدی پہاڑی خطہ) تک فتح کرتے گئے۔
جب وہ بلادِ دوار پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو حبل الزور(سندھ میں بت کے نام کا علاقہ) میں محصور کیا، پھر ان سے بھی صلح ہو گئی۔ اس مہم میں مسلمانوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی، اور ہر مسلمان کو چار ہزار (حصۂ غنیمت) ملا۔
پھر وہ زور (سندھ میں بت کے نام کا علاقہ) میں داخل ہوئے اور اسلام کا پیغام پہنچایا، جہاں ایک سونے کا بت تھا جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں۔ انہوں نے اس بت کا ہاتھ کاٹ دیا اور یاقوت نکال لیے، پھر مرزبان سے فرمایا:“سونا اور جواہر تم رکھ لو، میرا مقصد صرف یہ دکھانا تھا کہ یہ بت نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ۔”اس کے بعد انہوں نے بُست اور زابل (آج کا جنوبی افغانستان) کو بھی معاہدے کے ذریعے فتح کر لیا۔
فتوح البلدان بلاذری ص382
.
🟤2۔۔۔أَفْرِيقِيَّةَ وَخُرَاسَانَ وَبَعْضَ السِّنْدِ افتتحت فِي زمن عُثْمَان رَضِي الله عَنهُ
افریقہ اور خراسان( افغانستان بلوچستان ایران بھارت کے گرد و نواح کے علاقے) اور سندھ کے بعض علاقے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں فتح ہوئے وہاں اسلام کا پیغام پہنچا
الخراج لأبي يوسف ص234
۔
👈👈سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے خراسان کو فتح کیا ذرا دیکھیے خراسان میں کون کون سے علاقے اتے ہیں
خُراسَانُ:بلاد واسعة، أول حدودها مما يلي العراق أزاذوار قصبة جوين وبيهق، وآخر حدودها مما يلي الهند طخارستان وغزنة وسجستان وكرمان، وليس ذلك منها إنما هو أطراف حدودها، وتشتمل على أمّهات من البلاد منها نيسابور وهراة ومرو، وهي كانت قصبتها، وبلخ وطالقان ونسا وأبيورد وسرخس وما يتخلل ذلك من المدن التي دون نهر جيحون، ومن الناس من يدخل أعمال خوارزم فيها ويعدّ ما وراء النهر منها وليس الأمر كذلك، وقد فتحت أكثر هذه البلاد عنوة وصلحا... وذلك في سنة ٣١ في أيام عثمان، رضي الله عنه
ترجمہ:
خراسان ایک بہت وسیع خطہ تھا۔ اس کی ابتدائی سرحد عراق کی جانب ازاذوار، جوین اور بیہق سے شروع ہوتی تھی (آج کا شمال مشرقی ایران)، اور اس کی آخری سرحد ہند کی طرف طخارستان، غزنی، سجستان اور کرمان تک جاتی تھی (آج کا افغانستان، ایران اور پاکستان سے متصل علاقے)۔ یہ علاقے بنیادی خراسان میں شامل نہیں بلکہ خراسان کی سرحدی اطراف شمار ہوتے تھے۔خراسان میں بڑے اور اہم شہر شامل تھے، جیسے نیشاپور (ایران)، ہرات (افغانستان)، مرو (ترکمانستان، جو اس وقت دارالحکومت تھا)، بلخ (افغانستان)، طالقان (افغانستان)، نَسا، ابیورد اور سرخس (ایران و ترکمانستان کے سرحدی علاقے)، اور وہ تمام شہر جو دریائے جیحون (آج کا آمو دریا) کے اس پار نہیں بلکہ اس کے اس طرف واقع تھے۔کچھ لوگ خوارزم (ازبکستان/ترکمانستان) کو بھی خراسان میں شامل کرتے ہیں اور ما وراء النہر (وسطی ایشیا) کو بھی خراسان کا حصہ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔خراسان کے علاقوں میں سے زیادہ تر علاقے جنگ کے ذریعے یا صلح کے معاہدوں سے فتح کیے گئے، اور یہ فتوحات 31 ہجری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئیں۔
معجم البلدان حموی 2/350
۔
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *#ساتواں حصہ۔۔۔7️⃣سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی ہند سندھ ایران وغیرہ علاقوں میں اسلام کی آبیاری کی*
۔
🟤1۔۔۔۔في خلافة أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب، رضي الله عنه، توجّه إلى ثغر السند الحارث بن مرّة العبدي متطوّعا بإذن عليّ، رضي الله عنه، فظفر
ترجمہ:
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اجازت سے سیدنا حارث سندھ کے علاقوں کی طرف جہاد کرنے ،اسلام کی ابیاری کرنے روانہ ہوئے اور کامیابی حاصل کی
كتاب معجم البلدان حموی4/423
.
🟤2۔۔۔۔في خلافة علي بْن أَبِي طالب رضي اللَّه عنه توجه إِلَى ذلك الثغر الحارث بْن مرة العبدي متطوعا بإذن علي فظفر..والقيقان من بلاد السند مما يلي خراسان، ثُمَّ غزا ذلك الثغر المهلب بْن أَبِي صفرة في أيام معاوية سنة أربع وأربعين فأتى بنة والأهواز وهما بَيْنَ الملتان وكابل فلقيه العدو فقاتله ومن معه
سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں الحارث بن مرة العبدي نے اجازت لے کر رضاکارانہ طور پر قیقان کی طرف جہاد کیا اور کامیاب ہوئے۔قيقان سندھ کے علاقے سے متعلق تھا، جو خراسان( پاکستان ایران عراق افغانستان کے علاقے) کے قریب تھا۔بعد میں مہلب بن ابی صفرة نے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت کے دنوں میں سن 44 ہجری میں اسی سرحدی علاقے پر حملہ کیا، وہ ملتان اورلاھور تک فتح کرتا ہوا پہنچا، جو ملتّان اور کابل کے درمیان ہیں، اور دشمن سے ملا اور جہاد کیا۔اسلام کا پیغام عام کیا
فتوح البلدان ص417
.
🟤3۔۔۔۔۔تَسْمِيَة عُمَّال عَلِيّ بْن أَبِي طَالب..خُرَاسَان وَجه إِلَيْهَا عون بْن جعدة المَخْزُومِي فَردُّوهُ فَبعث خُلَيْد بْن قُرَّة التَّمِيمِي سجستان خرج حسكة بْن عتاب الحبطي وَعمْرَان بْن الفضيل البرجمي فِي صعاليك من الْعَرَب عَند انْقِضَاء الْجمل فَأتوا زالق فَأَصَابُوا نسَاء وَغَنَائِم فَصَالحهُمْ صَاحب زرنج فَدَخَلُوهَا فَبعث عَلِيّ عَبْد الرَّحْمَن بْن جرو الطَّائِي فَقتله حسكة فَكتب عَلِيّ إِلَى ابْن عَبَّاس أَن وَجه رجلا إِلَى سجستان فَوجه ربعي بْن كأس العَنبري فَظهر عَلَى حسكة وَعمْرَان وَأقَام حَتَّى قتل عَليّ وبويع مُعَاوِيَة..السَّنَد جمع الْحَارِث بْن مرّة الْعَبْدي جمعا أَيَّام عَلِيّ وَسَار إِلَى بِلَاد مكران فظفر
ترجمہ:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں گورنروں کی تقرری یوں ہوئی:خراسان (آج کا شمال مشرقی ایران، افغانستان، ترکمانستان پاکستان) کی طرف عون بن جعدہ المخزومی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا گیا، مگر وہاں کے لوگوں نے انہیں واپس کر دیا۔ اس کے بعد خلید بن قرہ التمیمی رضی اللہ تعالی عنہ کو سجستان (ایران و افغانستان کا سرحدی علاقہ) بھیجا گیا۔جنگِ جمل کے ختم ہونے کے بعد حسکہ بن عتاب الحبطي اور عمران بن الفضیل البرجمی عرب کے چند آوارہ لوگوں کے ساتھ نکلے اور زالق (افغانستان کا علاقہ) پہنچے، وہاں انہوں نے عورتوں کو قید کیا اور مالِ غنیمت حاصل کیا۔ زرنج (آج کا زرنج، افغانستان) کے حاکم نے ان سے صلح کر لی، چنانچہ وہ زرنج میں داخل ہو گئے۔یہ خبر سن کر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد الرحمن بن جرو الطائی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا، لیکن انہیں حسکہ نے قتل کر دیا۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو لکھا کہ وہ سجستان کی طرف ایک آدمی بھیجیں، چنانچہ انہوں نے رِبعی بن کأس العنبرى رضی اللہ تعالی عنہ کو روانہ کیا۔ انہوں نے حسکہ اور عمران پر قابو پا لیا اور وہیں مقیم رہے، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہو گئے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت ہو گئی۔اسی طرح سند (پاکستان: سندھ و بلوچستان) کے محاذ پر الحارث بن مرّة العبدي رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں لشکر جمع کیا اور بلادِ مکران (پاکستان: بلوچستان کا ساحلی علاقہ) کی طرف جہاد کیا اسلام کی ابیاری کی، جہاں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
تاريخ خليفة بن خياط ص199ومابعدہ
.
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *#اٹھواں حصہ۔۔۔8️⃣سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی ہند سندھ ایران وغیرہ علاقوں میں اسلام کی آبیاری کی*
۔
🟤1۔۔۔۔۔اسْتَعْمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ عَلَى ثَغْرِ الْهِنْدِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَوَّارٍ الْعَبْدِيَّ، وَيُقَالُ وَلَّاهُ مُعَاوِيَةُ مِنْ قِبَلِهِ، فَغَزَا الْقِيقَانَ
ترجمہ:
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد عبداللہ بن عامر نے عبداللہ بن سوار کو قیقان(سندھی علاقے) کی طرف جہاد کرنے اور اسلام کی ابیاری کرنے کے لیے بھیجا جیسے کہ اس سے پہلے اسی طرف سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھیجا تھا
الكامل في التاريخ 3/35
.
🟤2۔۔۔۔فيها غزا عبد الرحمن بن سمرة سجستان. فافتتح زرنج وغيرها. وسار راشد بن عمرو فشن الغارات ووغل في بلاد السند۔فتحت الرخج من أرض سجستان.۔وأفتتح عقبة بن نافع كوراً من بلاد السودان.وشتا بسر بن أبي أرطاة بأرض الروم
ترجمہ:
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ان کے مقرر کردہ مجاہد عبد الرحمن بن سَمُرَة رضی اللہ تعالی عنہ نے سجستان (آج کا ایران افغانستان سرحدی علاقہ) پر حملہ کیا اور زرنج (آج کا زرنج، افغانستان) اور اس کے علاوہ دوسرے علاقے فتح کیے۔اسی زمانے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مقرر کردہ مجاہد راشد بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے سند(پاکستان: سندھ اور ملحقہ علاقے) کی طرف چھاپے مارے اور اندر تک پیش قدمی کی۔اسی دور سیدنا معاویہ میں رخج (سجستان کا علاقہ، آج کا جنوبی افغانستان) بھی فتح ہوا۔اسی دور معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ میں عقبہ بن نافع رضی اللہ تعالی عنہ نے بلادِ سودان (آج کا شمالی افریقہ: سوڈان، لیبیا اور اطراف کے علاقے) کے کئی علاقے فتح کیے۔اور اسی سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ حکومت میں بسر بن ابی ارطاة رضی اللہ تعالی عنہ نے روم (بازنطینی سلطنت: آج کا ترکی اور مشرقی یورپ کے بعض علاقے) میں سردیوں کی فوجی مہم گزاری۔
العبر في خبر من غبر1/36
.
🟤3۔۔۔۔وفي سنة ثلاث وأربعين فتحت الرخج وغيرها من بلاد سجستان، وودان من برقة، وكور من بلاد السودان...وفي سنة خمس وأربعين فتحت القيقان.وفي سنة خمسين فتحت قوهستان
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت کے تحت سنہ 43 ہجری: رخج (جنوبی افغانستان: سجستان کے نزدیک) اور سجستان کے دیگر علاقے (ایران–افغانستان سرحدی خطہ) فتح ہوئے۔ودّان (برقہ: شمالی افریقہ، لیبیا کا علاقہ) فتح ہوا۔
کور (بلادِ سودان: شمالی افریقہ، موجودہ سوڈان/لیبیا/اطراف) فتح کیے گئے۔ اور سنہ 45 ہجری:قیقان (سند کے شمال مشرقی علاقے، افغانستان: زرنج کے قریب) فتح ہوا۔
سنہ 50 ہجری:قوہستان (افغانستان: وسطی پہاڑی علاقے، کوہستان) فتح ہوا۔
تاریخ الخلفاء سیوطی ص150وماقبلہ ملتقطا
۔
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟪 *#سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جن احکامات کی تعلیم دی وہ وہی ہیں جو اہل سنت کے ہیں ایک جھلک ملاحظہ کیجئے*
۔
حتّى لا نبقى قرية إلاّ و ينادى فيها بشهادة أن لا إله إلاّ اللّه [محمّد رسول اللّه] بكرة و عشيّا.
سیدنا علی نے فرمایا:
کوئی ایسا گاؤں نہ بچے ایسی جگہ نہ بچے جس میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی اواز صبح شام نہ اتی ہو
(شیعہ تفسير کنز الدقائق و بحر الغرائب13/233)
(شیعہ تفسير نور الثقلين 5/318)
(شیعہ تفسير مجمع البيان -الطبرسي9/464)
.
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اذان یوں ہے
الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله (صلى الله عليه وآله)، أشهد أن محمدا رسول الله (صلى الله عليه وآله)، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله أكبر، الله أكبر لا إله إلا الله
(شیعہ کتاب وسائل الشيعة - الحر العاملي5/421)
.
حرم رسول الله صلى الله عليه وآله لحوم الحمر الأهلية ونكاح المتعة.
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے اور نکاح متعہ کو حرام کر دیا
(شیعہ کتاب الاستبصار - الشيخ الطوسي 3/142)
(شیعہ کتاب وسائل الشيعة- الحر العاملي 21/12)
.
قال أمير المؤمنين عليه السلام: من جدد قبرا "، أو مثل مثالا "، فقد خرج من الاسلام
شیعوں کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جس نے قبر کی تزئین و آرائش کی یا جس نے تمثیل و شبیہ بنائی وہ اسلام سے نکل گیا
(شیعہ کتاب بحار الأنوار المجلسي76/285)
(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه - 1/189)
شہداء وغیرہ کی لاشوں کا شبیہ بنانا یا ان کے مزارات کی شبیہ بنانا یا ان کی قبروں کی شبیہ بنانا شیعہ کی بتائی گئ اس روایت کے مطابق سخت ناجائز یا کفریہ شرکیہ کام ہے...مگر افسوس شیعہ شبیہ بناتے ہیں تعظیم کرتے ہیں، فلمیں بناتے ہیں، منتیں مانگتے ہیں حالانکہ شیعہ ہی کی کتب کے مطابق ایسی منت جائز نہیں
.
إذا لم يجعل لله فليس بشئ
منت اللہ ہی کے لیے مانے دیگر منتیں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں
(شیعہ کتاب الكافي - الشيخ الكليني7/458)
.
ونهى عن الرنة عند المصيبة، ونهى عن النياحة والاستماع إليه...
سیدنا علی فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے وقت( یعنی کسی کی وفات پے یا کسی اور مصیبت و دکھ کے وقت) چیخنے سے منع کیا ہے اور نوحہ کرنے اور نوحہ سننے سے منع کیا ہے
(شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه جلد4 ص5)
.
مولا علی نےفرمایا
جزع کرنا(وفات کے فورا تین دن کے علاوہ قصدا غم و بےصبری کا اظہار کرنا،نوحےماتم کرنا)گناہ ہے.(دیکھیے شیعہ کتاب مسکن الفواد ص4)
.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
لَوْلَاۤ اَنَّكَ اَمَرْتَ بِالصَّبْرِ، وَ نَهَیْتَ عَنِ الْجَزَعِ، لَاَنْفَدْنَا عَلَیْكَ مَآءَ الشُّؤُوْنِ،
(یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم) اگر آپ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور جزع کرنے(رونے دھونے پیٹنے سینہ کوبی کرنے ماتم کرنے خود کو زخمی کرنے)سے روکا نہ ہوتا تو ہم آپ کے غم میں آنسوٶں کا ذخیرہ ختم کر دیتے
(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ2/228)
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان سے واضح ہے کہ سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماتم نوحے پیٹنے سوگ و غم وغیرہ سے سختی سے روکا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے.....!!
.
ألا تنهونهن عن هذا الرنين وأقبل يمشي معه وهو عليه السلام راكب فقال له: ارجع فإن مشي مثلك مع مثلي فتنة للوالي ومذلة للمؤمن
(شہداء پر ایک قبیلے کی عورتیں رو رہی تھیں، نوحہ چیخ و پکار کر رہی تھیں)سیدنا علی نے فرمایا تم اس رونے دھونے چیخ و پکار کو کیوں نہیں روکتے،اس قبیلے کا اہم شخص سیدنا علی کے ساتھ ہونے لگا تو سیدنا علی نے فرمایا(تم رونے دھونے چیخ پکار نوحے نہیں روک رہے اس لیے)تم دفع ہو جاو(میرے ساتھی بننے کے قابل نہیں ہو)فتنہ ہو اور مومن کے لیے ذلت کا باعث ہو
(شیعہ کتاب بحار الأنوار23/619)
(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ4/86،87)
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے دھونے پیٹنے ماتم نوحہ سوگ غم کرنے کی مذمت فرما رہے اور انہیں اپنا ساتھی شمار کرنے کو ذلت قرار دے رہے ہیں....لیکن افسوس آج یہ باعثِ فخر اور محبت کی علامت قرار دیا جا رہا.....صد افسوس، اللہ ہدایت دے
۔
شیعوں کے مطابق حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لا تلبسوا السواد فإنه لباس فرعون
کالے کپڑے نہ پہنو کہ بےشک یہ فرعونی لباس ہے...(شیعہ کتاب من لا یحضرہ الفقیہ1/251)
.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه، فلم يكن للشاهد أن يختار ولا للغائب أن يرد، وإنما الشورى للمهاجرين والأنصار، فإن اجتمعوا على رجل وسموه إماما كان ذلك لله رضى
میری(سیدنا علی کی)بیعت ان صحابہ کرام نے کی ہےجنہوں نےابوبکر و عمر کی کی تھی،یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کسی کی بیعت کرلیں تو اللہ بھی راضی ہے، ہمیں بھی راضی ہونا ہوگا(اور وہ خلیفہ برحق کہلائے گا) تو ایسی بیعت ہو جائے تو دوسرا خلیفہ انتخاب کرنے یا تسلیم نہ کرنے کا حق نہیں(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص491)
1۔۔۔یہ سیدنا علی کا فرمان ان کے سامان ہدایت ہے جو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق دو ٹوک یا ڈھکے چھپے الفاظ میں گستاخی و بکواس کرتےہیں
۔
2۔۔۔۔مزید اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ
سیدنا علی کے مطابق سیدنا ابوبکر و عمر مہاجرین انصار صحابہ کرام برحق سچےاچھےتھے ،انکی خلافت برحق تھی تبھی تو سیدنا علی نے انکی بیعت کو دلیل بنایا.....!!
۔
3۔۔۔اس قول سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق رسول کریمﷺنے دوٹوک کسی کو خلیفہ نہ بنایا اگر بنایا ہوتا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی رائے و انتخات کو وقعت نہ دیتے بلکہ وہ نص بیان فرماتے کہ میں تو فلاں آیت یا حدیث کی وجہ سے خلیفہ بلافصل ہوں
۔
4۔۔۔۔اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق خلافت میں پہلا نمبر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا نمبر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا
۔
5۔۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر وغیرہ صحابہ کرام کافر مشرک مرتد منافق ظالم غاصب بدعتی نہ تھے، انہوں نے خلافت نہ چھینی، نہ ہی باغ فدک چھینا ، نہ ہی گھر کی بےحرمتی کی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا وغیرہ پر کوئی ظلم وغیرہ نہیں کیا ، کوئی گھر وغیرہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ خلافت و باغ فدک کے معاملے میں بلکہ ہر معاملے میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام کا فیصلہ شریعت و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا
۔
6۔۔۔۔اس قول مبارک سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام نیک و عبادت گذار سچے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ انکی تعریف و مدح کرتے تھے
.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان
یہ بات بالکل واضح ہے ظاہر ہے کہ ان(سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ)کا اور ہمارا رب ایک ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہے، انکی اور ہماری اسلامی دعوت و تبلیغ ایک ہے، ہم ان کو اللہ پر ایمان رسول کریم کی تصدیق کے معاملے میں زیادہ نہیں کرتے اور وہ ہمیں زیادہ نہیں کرتے...ہمارا سب کچھ ایک ہی تو ہے بس صرف سیدنا عثمان کے قصاص کے معاملے میں اختلاف ہے
(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ3/114)
ثابت ہوا کہ سیدنا علی کا ایمان سیدنا معاویہ کا ایمان سیدنا معاویہ کا اسلام سیدنا علی کا اسلام اہل بیت کا اسلام صحابہ کرام کا اسلام قرآن و حدیث سب کے سب معاملات میں متفق ہی تھے،سیدنا علی و سیدنا معاویہ وغیرہ سب کے مطابق قرآن و حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ تھی....پھر کالے مکار بے وفا ایجنٹ غالی جھوٹے شیعوں نے الگ سے حدیثیں بنا لیں، قصے بنا لیے،الگ سے فقہ بنالی، کفریہ شرکیہ گمراہیہ نظریات و عمل پھیلائے، سیدنا علی و معاویہ وغیرہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے اختلاف کو دشمنی منافقت کفر کا رنگ دے دیا...انا للہ و انا الیہ راجعون
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
https://wa.me/923062524574
مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا