Labels

چکھنے سے روزہ کیوں نہیں ٹوٹتا اور مکروہ کیوں اور کب ہے اور کب مکروہ نہیں اور کیوں۔۔۔؟؟ مدلل جواب پڑھیے

 🟥 *#چکھنے سے روزہ کیوں نہیں ٹوٹتا اور مکروہ کیوں اور کب ہے اور کب مکروہ نہیں اور کیوں۔۔۔؟؟ مدلل جواب پڑھیے اس مختصر تحریر میں*

🌀 *#سوال*

اگر چکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر فقہائے کرام نے چکھنے کی اجازت کیوں دی اور اگر روزہ نہیں ٹوٹتا تو پھر چکھنے کو مکروہ قرار کیوں دیا،دلیل و وضاحت کے ساتھ جواب دیں

۔

🟩 *#جواب۔و۔وضاحت*

1️⃣...چکھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز زبان پر رکھے اور اس کا ذائقہ نمک مرچ مصالحہ وغیرہ چکھا اور جو چیز زبان پہ رکھی تھی وہ فورا تھوک دی تو عام طور پر ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ ڈر ہے کہ کہیں وہ چیز یا اس چیز کا کچھ حصہ منہ میں چلا نہ جائے اور روزہ ٹوٹ جائے تو اس ڈر کی وجہ سے اس کو مکروہ لکھا گیا لیکن اگر انتہائی احتیاط کے ساتھ چکھا جائے،مجبوری کے تحت احتیاط کے ساتھ چکھا جائے اور چیز یا اسکے کچھ حصے کو نگلا نہ جائے بلکہ فورا تھوک دیا جائے فقط ذائقہ زبان کے ذریعے سے محسوس کیا جائے چکھا جائے تو حرج و مکروہ نہیں اور روزہ نہیں ٹوٹے گا

۔

2️⃣...عورتوں اور باورچیوں ہوٹل والوں وغیرہ کو چکھنے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ وہ اندازہ فکس کر لیں یا ماپ پہلے سے سمجھ لیں کہ اتنا سالن ہو یا اتنا پانی ہو یا اتنی چائے ہو یا اتنا آٹا ہو یا اتنا بیسن ہو یا کوئی چیز اتنی ہو تو اتنا نمک کافی ہوتا ہے اتنی مرچ مصالحہ کافی ہوتا ہے،ایک دو بار چکھ کر اندازہ فکس کر لیں تاکہ بار بار  یا ہر روز چکھنے کی ضرورت نہ پڑے

۔

3️⃣عن ابن عباس - رضي الله عنه - قال: لا بأس أن يتطاعم الصائم 

حسن:

أخرجه البغوي في مسند ابن الجعد (2406) وابن أبي شيبة (9278)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ روزہ دار کوئی چیز چکھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں،روزہ نہیں ٹوٹے گا

یہ روایت حسن معتبر قابل دلیل ہے جس کو 👈امام بغوی نے اور 👈امام بخاری کے استاد امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے(👈بخاری حدیث1930سے پہلے تعلیق میں بھی اس قسم کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے)

(ما صح من اثار الصحابۃ2/646)

.

4️⃣وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادِهِ الصَّحِيحِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ " لَا بَأْسَ أَنْ يتطاعم الصائم بالشئ " يعني المرقة ونحوها

👈 امام نووی فرماتے ہیں کہ امام بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قول و فتوی روایت کیا ہے کہ روزہ دار کوئی چیز چکھ لے تو اس میں حرج نہیں یعنی سالن وغیرہ قسم کی چیز چکھ لے تو ہرج نہیں، روزہ نہیں ٹوٹے گا

(المجموع شرح المهذب امام نووي6/354، السنن الكبرى للبيهقي روایت7630نحوہ)


۔

5️⃣ومن ذاق شيئا بفمه(بفمه من غير إدخال عينه في حلقه

)لم يفطر لعدم الفطر صورة ومعنى، ويكره له ذلك لما فيه من تعريض الصوم للفساد،(لأنه لا يؤمن أن يصل إلى جوفه...إن كان الزوج سيئ الخلق لا بأس للمرأة أن تذوق المرقة

 بلسانها)

جس نے کوئی چیز چکھی اس طرح کہ اس کا کوئی بھی حصہ حلق سے نیچے نہ اترا تو اگرچہ اس کا روزہ نہیں ٹوٹا مگر یہ مکروہ ہے کیونکہ روزہ ٹوٹنے کا خوف ہے اس طرح کہ چکھتے وقت بے احتیاطی کی وجہ سے کوئی چیز حلق سے نیچے چلی گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس لیے عام طور پر چکھنا مکروہ ہے لیکن عذر ہو تو مکروہ نہیں جیسے کسی کا شوہر اچھے اخلاق والا نہ ہو تو بیوی سالن کو اس طرح چکھ سکتی ہے کہ سالن میں سے کچھ بھی حلق سے نیچے نہ جائے صرف ذائقہ محسوس کرے تو جائز ہے، روزہ نہ ٹوٹے

 گا

(الھدایہ مع البنایۃ4/67ملتقطا ماخوذا۔۔بریکٹ والی عبارت بنایہ شرح ہدایہ کی ہے)

.

📣  *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.