Labels

کیا ہم پہلے چاند پر گئے۔۔۔؟؟ اب جا رہے ہیں ۔؟؟ ائیے سوچیں

 🛑 *#چاند تک پہنچنے کے مشن جو اب ہو رہے ہیں۔۔۔تھوڑا سوچتے ہیں۔۔۔سات پوائنٹ پر مشتمل اس مختصر تحریر میں۔۔۔۔۔۔!!!*

۔

🚨نوٹ: اے ائی سے تحریر کی تصدیق تحقیق نہیں کرائیے گا کیونکہ اسے اس طرح ماڈل کر دیا گیا ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی بہانہ وہانہ کرکے مطمئن کرنے کی کوشش کرے گا

۔

1️⃣ *#پہلی بات*

👈1....اپولو مشن کے ذریعے سے انسان 1969 میں چاند پر اتر چکا تھا، ایک مشن کی بات نہیں بلکہ اپولو کے چھ مشن1969تا1972 الگ الگ طور پر کیے گئے اور چھ مرتبہ انسان چاند پر اترے اور اپولو کے باقی دیگر مشن بھی چاند پر گئے۔۔۔ 😜گویا انسان کے پاس چاند پر اترنے کے لیے ایسی ٹیکنالوجی اس وقت تھی کہ چاند پر اترنا جانا حلوہ تھا حلوہ۔۔۔ 🧐لیکن حیرت کی بات ہے کہ 2021 تک کسی نے دوبارہ چاند پر جانے کی زحمت نہیں کی

👈2...پھر

2022 میں ارٹیمس1 مشن چاند کی طرف گیا اور چاند پر اتر نہ سکا بلکہ چاند کے 130 کلومیٹر دور چکر لگا سکا اور اس مشن میں انسان چاند کی طرف نہیں گیا تھا بلکہ صرف مشینری ہی چاند کے 130 کلومیٹر دور تک پہنچ پائی

👈3....پھر اب

 خبروں میں ہے کہ ارٹیمس2 اج یکم مارچ2026 یا کچھ دنوں میں لانچ ہونے والا ہے جو چار انسانوں کو لے کر جائے گا 🤫لیکن پھر بھی چاند پر اترے گا نہیں بلکہ چاند سے نو ہزار کلومیٹر دور گھوم کر واپس ائے گا

۔

2️⃣ *#دوسری بات*

اگر غور کیا جائے تو چاند پر جانے والے مشن جو 1970 کے اس پاس گئے اس وقت عوام کو انفارمیشن کم تھی معلومات کم تھی اور اب مشن جو جا رہے ہیں یہ اس وقت ان حالات میں جا رہے ہیں کہ اے ائی اپنے عروج پر ہے اور اے ائی کے ذریعے سے جس قسم کی چاہیں ہم ویڈیو بنا سکتے ہیں ⚠️یعنی 1970 میں دھوکہ دینا بھی اسان تھا اور 2026 میں بھی دھوکہ دینا انتہائی اسان ہے۔۔۔ یہ بات انسان کے چاند پر پہنچنے کے معاملے کو مشکوک بناتی ہے

۔

3️⃣ *#تیسری بات*

1970 کے اس پاس تو ہم چاند پر 10 15 مرتبہ ا جا چکے 🙈یعنی انا جانا لگا رہا لیکن اس کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی مگر وہ سفر کہ ہم باسانی چھ مرتبہ انا جانا لگا رہا چاند تک لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا... اور 2020 تک پوری ترقی کے عروج کے زمانے تک بھی ہم چاند پر نہیں جا سکے۔۔۔ 👈وہ کام جو ہمارے لیے انتہائی اسان تھا لیکن ہم ترقی کے عروج کے زمانے میں بھی چاند کے نو ہزار کلومیٹر دور ہی جا سک رہے ہیں یہ بات بھی 1970 کے وقت چاند پر پہنچنے کے دعووں کو مشکوک بناتی ہے

۔

4️⃣ *#چوتھی بات*

ہمارے پاس چاند تک انا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔اہا بلے بلے۔۔۔اتنی ٹیکنالوجی تھی لیکن اس کے بعد ہم مزید ترقی کرتے گئے تو اب ہمارے پاس مضبوط ٹیکنالوجی کے باوجود 2021 میں صرف مشینری بھیج کر دیکھی اور اب انسانوں کو چاند سے نو ہزار کلومیٹر دور بیھج کر تجربہ کر رہے ہیں، 🧐جو ملک چھ مرتبہ چاند پر انا جانا لگا کے رکھا اس کے لیے اتنا مشکل کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی وہ چاند پر اترنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ چاند سے نو ہزار کلومیٹر دور انسانوں کو بھیج رہا ہے۔۔۔ یہ بھی چاند پر جانے کے معاملات کو مشکوک بناتی ہے

۔

5️⃣ *#پانچویں بات*

1970 کے اس پاس کے بعد کہا جانے لگا کہ ہمیں چاند پر جانے کی ضرورت نہیں ہے تو بھیا 2021 میں چاند پر مشن بھیجنے کی کیا ضرورت تھی اور اب 2026 میں چاند کے نو ہزار کلومیٹر دور بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔؟؟ مطلب وہ جو ہمیں بے وقوف بنایا گیا کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کے باوجود چاند پر نہیں گئے کیونکہ ہمیں ضرورت نہیں تھی وہ جھوٹ ثابت ہو گئی کیونکہ ضرورت تو اب بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی دو مشن جا رہے ہیں

۔

6️⃣ *#چھٹی بات*

1970 کہ اس پاس جب چھ مرتبہ ہم چاند پر اترے اور دنیا کو حیران کر دیا لیکن عجیب بات ہے حیران کرنے سے بھی زیادہ حیران کن بات ہے کہ وہ ساری ویڈیوز وہ سارا ڈیٹا غائب کر دیا گیا اور کہا جانے لگا کہ ہم سے ڈیلیٹ ہو گیا ہے تباہ و برباد ہو گیا ہے ہمارے پاس کچھ بھی ڈیٹا ویڈیوز موجود نہیں ہے۔۔۔ اتنی بڑی کامیابی اور چاند فتح کرنے کی ویڈیوز ڈیلیٹ ہو گئیں غائب ہو گئیں اور ریکور بھی نہ ہو سکی۔۔۔؟؟ حیرت تو ہوگی نا ، شک تو ہوگا نا

۔

7️⃣ *#ساتویں بات*

اب جب اے ائی کے ذریعے سے کچھ بھی کر دکھانا دھوکہ دینا اسان ہے تو ایسے وقت میں چاند پر اترنے کی لائیو مناظر دکھائے جائیں تو بھی ہمارے ذہن قبول نہیں کریں گے کیونکہ اے ائی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے جھوٹ کو ایسا سچ بنا کر دکھایا جا سکتا ہے کہ انسان جھوٹ ہونے کا وہم و گمان بھی نہیں کرے گا، لیکن ہم نے اے ائی کو چکھ لیا ہے چیک کر لیا ہے کہ یہ فیک جھوٹ دھوکہ کتنی حد تک دیتا ہے اور ہم اسے اب اتنا اپڈیٹ کر چکے ہیں کہ پہچاننا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے تو پھر ایسے وقت میں چاند پر اترو یا پھر سورج میں سے بالٹی پانی کی نکال کے لے اؤ ہمیں یقین نہیں انے والا۔۔۔۔ شاید اب یقین کا ایک ہی راستہ رہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ معتبر ترین علمائے اہل سنت کو چاند پر لے جایا جائے اور وہ وہاں سیر فرمائیں اور وہ معتبر علماء لازما دین کے معاملے میں بھی محقق ہوں اور دنیاوی معاملے میں بھی محقق ہوں بہت ساری انفارمیشن معلومات رکھتے ہوں جو ہمیں سمجھا سکیں کہ واقعی اب ہم چاند پر اتر چکے ہیں اور چاند پر اترنے کے فلاں فلاں فوائد ہیں

۔

واللہ تعالی اعلم ورسولہﷺ اعلم بالصواب

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.