🟥 *#کیا موجودہ ایرانی شیعوں کی فضیلت جہاد وغیرہ کے معاملے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔۔۔؟؟ وائرل ایت مبارکہ و حدیث پاک کا درست معنی پڑھیے اس مختصر تحریر میں۔۔۔۔!!*
👈 *#توجہ*
تفسیر، حدیث، عقائد، فقہ، تصوف، سیاست، اصلاح اور اہلسنت پر اعتراض کے جوابات و دفاع پر علمی تحقیقی تحریرات کے لیے اس فیسبک پیج کو فالوو کیجیے،پیج میں سرچ کیجیے،ان.شاءاللہ بہت مواد ملےگا۔اور بلاگ پےبھی کافی مواد اپلوڈ کردیا ہے،لنک یہ ہے:
https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1
https://www.facebook.com/share/1DbgDVUc58/
👈ہوسکے تو میرے واٹسپ چینل کو بھی ضرور فالوو کریں۔۔لنک یہ ہے
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5jkhv3bbV8xUTNZI1E
🛑 *#سوال*
علامہ صاحب ایک حدیث پاک اور ایت مبارکہ کو بہت وائرل کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے موجودہ ایرانی شیعوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو بہت بہادری سے لڑ رہے ہیں۔۔۔ یہ حدیث پاک اور ایت وائرل کی جا رہی ہے اس کا جواب دیں کہ واقعی ایسا ہے یا اس کا کچھ اور معنی ہے، 🚨 *#وائرل تحریر یہ ہے*
ایران کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیش گوئی
جامع ترمذی 3260 (صحیح) جب سوره محمد کی آیت وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم اے عرب کے لوگو! تم ( ایمان و جہاد سے ) پھر جاؤ گے تو تمہارے بدلے اللہ دوسری قوم کو لا کر کھڑا کرے گا، وہ تمہارے جیسے نہیں ) بلکہ تم سے اچھے ) ہوں گے۔ ) سوره محمد ۳۸ ) ، تلاوت فرمائی صحابہ نے کہا: ہمارے بدلے کون لوگ لائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی ع کے کندھے پر ہاتھ مارا ) رکھا ) پھر فرمایا: "یہ اور اس کی قوم یہ اور اس کی قوم".
۔
✅ *#جواب و تحقیق*
اس ایت مبارکہ اور حدیث مبارکہ سے موجودہ ایرانی شیعوں کی ہرگز ہرگز کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی
کیونکہ
🔵..1۔۔۔۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ، اللہ تعالی ہمارے بدلے میں کس قوم کو لائے گا۔۔۔۔؟؟ تو رسول کریم نے فرمایا کہ سلمان فارسی اور اس کی قوم
🧠👈اب سوچیے
عربی صحابہ کرام کے بدلے میں فارسی عجمی صحابہ کرام نہیں لائے گئے، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام عربی ہی تھے۔۔۔باقی چند ہی تھے جو عجمی تھے تو ثابت ہوا کہ یہاں بالفرض کی بات ہو رہی ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بالفرض اگر تم عربی صحابہ کرام دین اسلام سے منہ موڑ لو گے میری یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرو گے اور جہاد نہ کرو گے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے تو تمہارے بدلے میرے کوئی عجمی صحابہ کرام ہو جائیں گے
لیکن
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عربی صحابہ کرام کے بدلے میں دوسرے عجمی صحابہ کرام ہوئے نہیں تو ثابت ہوا کہ یہ ایت فقط اس وقت کے صحابہ کرام کے لیے تھی اور وہ بھی بالفرض تھی، یعنی بالفرض باطل اگر عربی صحابہ کرام دین اسلام سے منہ موڑ لیں گے تو اللہ ان کی جگہ عجمی صحابہ کرام لائے گا۔۔۔۔۔ اور یہ بالفرض کی بات تھی لہذا اس حدیث پاک میں موجودہ شیعوں کی دور دور تک کوئی فضیلت نہیں۔۔۔ ♥️یعنی عربی صحابہ کرام نے خوب جہاد کیا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب پیروی کی اور خوب اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو ان کے بدلے میں اللہ نے کوئی افضل یا برابر عجمی صحابہ پیدا ہی نہیں کیے۔۔۔ لہذا صحابہ کرام سے افضل کسی عجمی کا پیدا ہونا ثابت کرنا بالکل باطل ہے خود حدیث پاک سے ہی اس کا باطل ہونا ثابت ہو جاتا ہے، اس حدیث پاک میں کسی عجمی شیعہ ویا وہابی وغیرہ کی کوئی فضیلت نہیں ہے اور ان عجمی صحابہ کے موجود ہونے کے متعلق یہ حدیث پاک نہیں ہے،⚠️لہذا فارس ایران پاکستان افغانستان وغیرہ کسی کی بھی اس حدیث پاک سے فضیلت ثابت نہیں ہوتی، 🧐یہ ایسے ہے جیسے ایت میں ہے کہ:
قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳﴾
ترجمہ:
تم (نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماؤ) بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے
(سورہ زمر ایت13)
👈کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے۔۔۔۔؟؟ ہرگز ہرگز نہیں،اسی طرح حدیث پاک میں بھی ہے کہ اگر بالفرض تم عربی صحابہ کرام میری یعنی رسول کریم کی پیروی نہ کرو گے ،میری بات نہ مانو گے اور جہاد نہ کرو گے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے، دین اسلام سے منہ موڑ لو گے تو اللہ تعالی تمہارے بدلے میں فارسی صحابہ کرام لائے گا۔۔۔یعنی یہ بالفرض کی بات ہے، حقیقت میں ایسا ہوا نہیں، یعنی عربی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے خوب جہاد کیا خوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور خوب اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور دین اسلام سے منہ نہ موڑا لہذا ان کے بدلے میں کوئی فارسی صحابہ کرام پیدا نہ کیے گئے لہذا کوئی ایران وغیرہ فارس وغیرہ پاکستان افغانستان وغیرہ کی کوئی فضیلت اس حدیث پاک سے ثابت نہیں ہوتی ہے
۔
🔵...2۔۔۔ اس حدیث پاک میں تو عربی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک طرح سے عظیم شان بیان ہوئی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب پیروی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب محبت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کیا اور دین اسلام سے منہ نہیں موڑا۔۔۔👈👈اللہ نہ کرے اگر نعوذ باللہ ایسا ہوتا کہ صحابہ کرام دین اسلام سے منہ موڑ لیتے جہاد نہ کرتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرتے تو یقینا اللہ تعالی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان بڑے بڑے بہت سارے فارسی ایرانی صحابہ کرام پیدا فرما دیتے۔۔۔✅جبکہ حقیقت اور تاریخ میں ایسا نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ صحابہ کرام عربی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین دین اسلام سے انہوں نے منہ نہیں موڑا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور خوب جہاد کیا اور خوب اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور ان جیسا کوئی پیدا نہیں ہوا
۔
🔵....3۔۔۔ حدیث پاک اور ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ اللہ نہ کرے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرتے دین اسلام سے منہ موڑ لیتے جہاد نہ کرتے تو پھر ایسی قوم پیدا ہوتی جو دین اسلام کی پیروکار ہوتی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے پیروکار ہوتی اور خوب جہاد کرتی ہوتی اور دین اسلام کی پابند ہوتی اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرتی ہوتی۔۔۔۔🧐🚨جبکہ یہ ساری اچھی صفات موجودہ شیعہ ایرانی شیعہ میں بالکل بھی نہیں پائی جاتی وہ قران و سنت کے پیروکار ہرگز نہیں ہیں، وہ تو اہل بیت کرام کے بھی سچے پیروکار نہیں ہیں اگرچہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم اہل بیت کے پیروکار ہیں شیعان علی ہیں، ⚠️کیونکہ ایرانی شیعہ کے بڑے بڑے پرانے اور خمینی تک اور ابھی والے کٹر شیعہ بھی یہی کہتے ہیں نعوذ باللہ کہ قران پاک میں کمی بیشی ہو گئی ہے اور شرعی حقیقی جہاد بھی وہ نہیں کرتے اور اللہ کی راہ میں بہت زیادہ خرچ بھی نہیں کرتے اور عیاشی فحاشی متعہ وغیرہ میں مبتلا ہیں اور سنتوں پر عمل نہیں کرتے۔۔ لہذا بالفرض کے حساب سے بھی اس ایت و احادیث سے موجودہ ایرانی شیعہ کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی ان کی طرف کوئی اشارہ ثابت نہیں ہوتا
۔
👈القرآن:
وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ
ترجمہ:
اور بالفرض اگر تم دین اسلام سے منہ موڑ لو گے تو اللہ تعالی تمہاری جگہ دوسروں کو لائے گا جو تمہاری طرح نافرمان نہیں ہوں گے
(سورہ محمد ایت38)
۔
🔵۔۔۔۔4... البتہ بعض علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ایت کا شان نزول جو بھی ہو لیکن ایت سے عمومی قاعدہ مراد لیا جاتا ہے لہذا ایت مبارکہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ حقیقت میں دین اسلام پر عمل کریں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں اور ان کی پیروی کریں ، سنتوں پر عمل کریں ، حقیقی جہاد کریں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں، شریعت پر بھرپور عمل کریں
اگر
وہ ایسا نہیں کریں گے تو اللہ ان کی جگہ اقتدار طاقت شہرت فضیلت میں کسی کو بھی لاسکتا ہے جو مذکورہ بالا اچھے اعمال کرتے ہوں گے۔۔۔♥️اس معنی کے لحاظ سے بھی سب سے افضل صحابہ کرام ہیں کہ انہوں نے یہ تمام اعمال بھرپور انداز میں کیے تو ان کی جگہ پر کوئی دوسرا نہیں لایا گیا لہذا وہ سب سے افضل ہیں
🫵لیکن
بعد کے عربی عجمی حکمران علماء گروہ غور کریں کہ اگر وہ مذکورہ بالا اچھے اعمال نہیں کریں گے تو اللہ تعالی دنیا بھر میں سے کسی بھی عجمی یا عربی قوم کو لائے گا جو بہت عمل کرتی ہوگی مذکورہ بالا صفات پر پورا اترتی ہوگی ،چاہے اس کا تعلق پاکستان سے ہو یا افغانستان سے ہو یا بھارت سے ہو یا بنگلہ دیش سے ہو یا افریقہ سے ہو یا اسٹریلیا سے ہو یا امریکہ سے ہو، ✅کسی بھی جگہ سے عجمی یا عربی مسلمان گروہ کو اللہ تعالی بعض معاملات میں بعد کے عربیوں پر فضیلت و اقتدار و طاقت و عمل کی توفیق دے دے گا،اگر صحابہ کرام کے بعد کے عربی مذکورہ بالا صفات پر عمل نہ کریں گے تو اللہ تعالی قادر ہے کہ دوسری کسی عجمی یا عربی قوم کو طاقت اقتدار شہرت عزت و توفیق دے گا جو شریعت مطہرہ کی پابند ہوگی سنتوں کی پابند ہوگی۔اور اس کا تعلق کسی بھی جگہ سے ہو سکتا ہے ضروری نہیں کہ ایران سے ہو ⚠️بلکہ موجودہ ایران کی صفت و شان ثابت نہیں کیونکہ موجودہ ایرانی اور ان سے پہلے کے ایرانی جو قران مجید کو ناقص کہیں، صحابہ کرام کو برا کہیں اور دیگر برے کرتوت کر رہے ہیں تو ان کی کوئی فضیلت نہیں ہے اگرچہ بظاہر وہ دشمنان اسلام سے جہاد بھی کریں تو بھی فضیلت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی فاسق و فاجر بد مذہب گمراہ مرتد سے بھی دین اسلام کی خدمات لے لیتا ہے
الحدیث,ترجمہ:
اللہ تو فاجر(گمراہ.بدمذھب.منافق،مرتد،زندیق)سے بھی اس دین اسلام کی تائید اور کام لیتا ھے(بخاری حدیث3062(
📣لیکن
صحابہ کرام کے بعد کئ عجمیوں عربیوں کو افضلیت سے نوازا، اللہ تعالی نے بہت دین اسلام کا پیروکار بنایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا محب بنایا اور نیک اعمال کی توفیق دی اور اقتدار و بہت علم شہرت دیا۔۔۔بعض کا تعلق ایران سے تھا، بعض کا تعلق فارس سے تھا بعض کا تعلق بغداد سے تھا بعض کا تعلق پاکستان سے ہندوستان سے تھا بعض کا تعلق کسی ملک سے تھا ، بعض کا تعلق کسی علاقے سے تھا۔۔۔!!
۔
🟩 *#حوالہ جات*
ویسے تو بہت سارے حوالہ جات اور دلائل ہیں ہم فقط 8 حوالہ جات پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ تحریر زیادہ طویل نہ ہو جائے
1️⃣۔۔۔فَهَذَا إِخْبَار عَن الْقُدْرَة وتخويف لَهُم لَا أَن فِي الْوُجُود من هُوَ خير
اس میں خبر دی گئی ہے اور ڈرایا گیا ہے کہ بالفرض اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرو گے جہاد نہ کرو گے خرچ نہ کرو گے تو تمہارے بدلے میں کوئی اور فارسی وغیرہ اللہ لے ائے گا، یہ صرف بالفرض کی بات ہے یہ معنی نہیں کہ حقیقت میں وجود میں بھی ایسی کوئی قوم پائی جاتی ہے کہ جو صحابہ کرام سے افضل ہو،ایسی قوم ہرگز نہیں پائی جاتی
(عمدۃ القاری شرح بخاری4/146)
۔
2️⃣۔۔۔فهو تحريض وبعث لهم على الإنفاق، فلا يلزم منه
التفضيل
یعنی اس حدیث پاک میں عربی صحابہ کرام کو ابھارا گیا ہے کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب پیروی کرتے رہو اور خوب خرچ کرتے رہو ، خوب جہاد کرتے رہو، اس سے یہ نہیں مراد کہ تم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بدلے واقعی میں کوئی اور افضل(فارسی ایرانی پاکستانی افغانی وغیرہ) قوم اگئ،ایسا معنی مراد ہرگز نہیں
(لمعات شرح مشکواۃ9/781)
۔
3️⃣۔۔۔كقوله تعالى: {وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ} [محمد: 38] وهو إخبار عن القدرة وتخويف لهم، لا أن في الوجودِ من هو خير من أصحاب محمد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
یعنی
جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اگر تم صحابہ کرام دین اسلام سے منہ موڑ لو گے تو اللہ تعالی تمہاری جگہ دوسرے لے ائے گا تو یہ فقط تخویف و ابھارنے کے لیے ہے کہ تم دین اسلام پر ڈٹے رہو، اس ایت کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ صحابہ کرام کی جگہ حقیقت و وجود میں دوسری قوم اگئی
(تفسیر اللباب19/202)
۔
4️⃣...وإن تتولوا أي ترجعوا عن الإسلام إلى الكفر والعياذ بالله يستبدل الله بكم قوما غيركم أي يذهبكم ويأت بآخرين ثم لا يكونوا أمثالكم بل يكونون أطوع إلى الله تعالى منكم وأسرع امتثالا لما يطلب منهم. وحاشاهم أن يتولوا وما تولوا ولا استبدل الله تعالى بهم غيرهم. وإنما هذا من باب حثهم على معالي الأمور والأخذ بعزائمها نظرا لمكانتهم من هذه الأمة فهم أشرفها وأكملها وأطوعها لله وأحبها له ولرسوله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یعنی
اگر تم دین اسلام سے کفر کی طرف نعوذ باللہ جاؤ گے تو اللہ تعالی تمہاری جگہ دوسروں کو لے کر ائے گا جو تمھاری طرح نافرمان نہ ہونگے بلکہ اللہ کی اطاعت کرنے والے ہوں گے اور دین اسلام کی پیروی کرنے والے ہوں گے اور رسول کریم کی پیروی کرنے والے ہوں گے۔۔۔ یہ تو اللہ تعالی نے صحابہ کرام عربی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو دین اسلام کی پیروی اور شریعت کی پیروی پر ابھارنے کے لیے فرمایا ہے، حقیقت میں ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے دین اسلام کی پیروی نہیں کی اور اللہ دوسری قوم لے ایا بلکہ صحابہ کرام نے دین اسلام کی پیروی کی، وہ تو دین اسلام کے تمام لوگوں میں سے اشرف ہیں، اکمل ہیں ، سب سے زیادہ پیروکار ہیں ، سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں رسول کریم سے اور اللہ تعالی سے
(ایسر التفاسیر5/92)
۔
5️⃣...والآية واردة في الإخبار عن القدرة، لا عن الكون في الوقت...وهذا كقوله؛ {وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ} (1) فهذا إخبار عن القدرة، وتخويف لهم، لا أن في الوجود من هو خير
یہ ایت صرف اللہ تعالی کی قدرت کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالی قادر ہے لیکن اس ایت کا یہ معنی نہیں کہ اس وقت صحابہ کرام نافرمانی کرنے لگ گئے اور ان کی جگہ دوسری قوم اگئی ایسا معنی نہیں ہے
(تفسیر الثعلبی27/48)
۔
6️⃣...وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ «2» [محمد: 38]. وَهُوَ إِخْبَارٌ عَنِ الْقُدْرَةِ وَتَخْوِيفٌ لَهُمْ، لَا أَنَّ فِي الْوُجُودِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم
اگر تم دین اسلام سے منہ موڑ لو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور کو لے کر ائے گا یہ صرف ڈرانے کے لیے ہے حقیقت میں ایسا نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی جگہ کوئی اور افضل قوم ہو، ایسا ہرگز نہیں
(تفسیر قرطبی18/193)
۔
7️⃣...شرط في الاستبدال توليهم لكنهم لم يتولوا فلم يستبدل قوما
یعنی
اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے کہ اگر بالفرض تم دین اسلام سے منہ موڑ لو گے تو اللہ تعالی تمہاری جگہ کوئی اور لے کر ائے گا۔۔یعنی مشروط فرمایا یعنی شرط یہ ہے کہ اگر وہ دین اسلام سے منہ موڑ لیں گے تو ان کی جگہ کوئی اور ائے گا،لیکن صحابہ کرام نے دین اسلام سے منہ نہیں موڑا تو اللہ تعالی نے ان کی جگہ پر دوسری قوم کو نہیں لایا
(تفسیر غرائب القرآن6/139)
۔
8️⃣۔۔۔۔وَقِيلَ: الْآيَةُ عَامَّةٌ، أَيْ وَإِنْ تَكْفُرُوا يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ أَطْوَعَ لِلَّهِ مِنْكُمْ. وَهَذَا كَمَا قَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى: (وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثالَكُمْ «2»). وَفِي الْآيَةِ تَخْوِيفٌ وَتَنْبِيهٌ لجميع من كانت له ولاية وإمارة ورئاسة فَلَا يَعْدِلُ فِي رَعِيَّتِهِ، أَوْ كَانَ عَالِمًا فَلَا يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ وَلَا يَنْصَحُ النَّاسَ، أَنْ يُذْهِبَهُ وَيَأْتِيَ بِغَيْرِهِ
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہ ایت بھی کہ اللہ تعالی دوسری مخلوق لے ائے گا اس ایت کی طرح عام ہے جس میں ہے کہ اگر تم دین اسلام سے منہ موڑ لو گے تو اللہ تعالی دوسرے اچھے لوگ لے ائے گا تو ایت میں تنبیہ ہےکہ(صحابہ کرام کے بعد)ہر اس شخص کے لیے ہر اس قوم کے لیے کہ جس کو سرپرستی اور حکومت حاصل ہے اور وہ عدل نہ کرے یا عالم ہو اور عمل نہ کرے اور لوگوں کو نصیحت نہ کرے تو ان سب کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ دین اسلام سے منہ موڑ لیں گے تو اللہ تعالی طاقت میں، اقتدار میں، جہاد سخاوت بہادری وفاداری عشق رسول وغیرہ نیکیوں میں دوسرے عربی یا عجمی لوگوں کو توفیق دے دے گا اور وہ فضیلت پا جائیں گے
(تفسیر قرطبی5/409)
۔
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475
👈مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔👈چاہیں تو میرا نام یا نمبر مٹا کر بھی فارورڈ شیئر کر سکتے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حق سچ زیادہ سے زیادہ پھیلے