Labels

بغیر مستند استاد کے خود ہی قران حدیث سے مسائل نکالنا کیوں منع ہے۔۔؟ کفر تک ہوجاتا ہے۔۔؟ دلائل پڑھیے سمجھیے پھیلائیے

 🟥 *#قران و حدیث خود پڑھ کر عقیدہ عمل کیوں منع ہے۔۔۔۔؟؟ یہ مولویوں کا اپنا کوئی چکر ہے یا شریعت کا حکم۔۔۔۔؟؟ اس تحریر میں سوال کے جواب میں جو اہم خلاصہ لکھا ہے وہ تو ضرور فورا پڑھیے اور پھر وقت نکال کر تفصیل و دلائل پڑھیے اور ہو سکے تو پھیلائیے کہ اس سبب کسی کو ہدایت مل جائے تو اپ کی اور ہماری دنیا و اخرت کی بھلائی ہو جائے۔۔۔۔!!*

🚨 *#سوال*

علامہ صاحب میرا نوجوان بیٹا مرزا جہلمی کو سن سن کر کہتا ہے کہ علماء سے ایت کی تفسیر اور حدیث کی تشریح مت پوچھو بلکہ خود ہی ترجمہ پڑھ کر عقیدہ رکھو اور عمل کرو، اور کہتا ہے کہ علماء کرام جو کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے خود ہی ترجمہ تشریح پڑھ کر عمل نہ کرو تو یہ ان کی اپنی منہ کی بات ہے، ان کا اپنا چکر چلانا ہے، قران و حدیث میں تو ایسا کوئی حکم نہیں،اب وہ مدرسے جانے کو بھی تیار نہیں۔۔۔۔علامہ صاحب مفصل علمی عقلی دلائل کے ساتھ تحریر لکھیں ، اور پھیلائیں کہ نہ جانے کتنے ذہن خراب ہوئے ہونگے۔۔۔!!

۔

🟩*#جواب۔و۔تفصیل۔و۔تحقیق۔و۔دلائل*

🟦👈 *#پہلے جواب کا اہم خلاصہ،ضرور پڑھیے،سمجھیے*

ایات مبارکہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ

1۔۔۔ ایت مبارکہ کی وضاحت دیگر ایات مبارکہ سے ہوتی ہے

2۔۔۔ ایت مبارکہ کی وضاحت احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے

3۔۔۔ احادیث مبارکہ کی وضاحت دیگر احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے

4... احادیث مبارکہ کی وضاحت و مفہوم سمجھنے کے لیے ایات مبارکہ کی سمجھ ضروری ہوتی ہے

5... ایات مبارکہ احادیث مبارکہ کی وضاحت صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے اقوال مبارکہ سے ہوتی ہے

6... ایات مبارکہ احادیث مبارکہ اور اقوال مبارکہ کی صحیح سمجھ کے لیے لغت بلاغت فصاحت وغیرہ علوم و فنون ضروری ہیں

👈لیھذا

اگر اپ کو مذکورہ بالا چھ پوائنٹ پر مہارت حاصل ہے تو مبارک ہو اپ عالم دین ہیں اور اپ ایات و احادیث پڑھ کر "مسائل بتا سکتے" ہیں۔۔یعنی جو مسائل اسلاف نے نکالے وہ اپ لوگوں کو بتا سکتے ہیں ان کی تشریح لوگوں کے لیے کر سکتے ہیں، ان کی دلیل لوگوں کے لیے واضح کر سکتے ہیں لیکن مسائل نکالنے کے لیے مزید علوم و فنون ولوازمات ہیں

👈مگر

اگر مذکورہ بالا چھ اہم پوائنٹ میں ذرا سی بھی کمی اپ میں اور ہم میں ہے تو اپ اور ہم پر لازم ہے کہ کئ ایات مبارکہ ہزاروں احادیث مبارکہ کا علم ہونے کے باوجود، بہت علم ہونے کے باوجود اگر کامل مکمل وسیع و کافی علم نہیں ہے جس کی جھلک اوپر چھ پوائنٹ میں بتائی ہے تو شریعت مطہرہ قران و حدیث مبارکہ میں حکم ہے کہ ہم ایسی حالت میں خود سے ایت حدیث پڑھ کر مسئلے مسائل نہیں نکال سکتے بلکہ ہم پر لازم ہوگا کہ اہل استنباط اہل علم معتبر علماء کرام وسیع علم والے علماء کرام باریک بین علمائے کرام سے ایت و حدیث وغیرہ کی تفصیل سمجھیں معنی سمجھیں اور عمل کریں۔۔

اور علماء کرام سے یہ رہنمائی کامل طور پر اکثر اس طرح ملتی ہے کہ مدرسے میں بڑا وقت دینا پڑتا ہے سمجھنا پڑتا ہے غور و فکر کرنا پڑتا ہے محنت کرنی پڑتی ہے مطالعہ کرنا ہوتا ہے علماء کرام سے تحقیق کی تصدیق کرانی ہوتی ہے اور ان سے مزید تحقیق پوچھنی ہوتی ہے یہ سارے کام اکثر مدارس میں اچھے طریقے سے ہو پاتے ہیں اس لیے مدارس میں جانا ضروری ہے

۔

👈اگر کم علم ہوکر محقق بن بیٹھیں مسائل نکالنے والے بن بیٹھیں اور عمل کرنے والے بن بیٹھیں اور لوگوں کو بتانے والے بن بیٹھیں تو خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے بلکہ قوی خدشہ ہے کہ کفر و الحاد و بدمذہبی و گستاخی ایجنٹی نفس پرستی  وغیرہ میں جا گریں گے

👈اسکی ایک چھوٹی سی مثال  سمجھ لیں کہ ایت مبارکہ میں ہے کہ اللہ تعالی نے احسان فرمایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔۔۔ یہ ایت مبارکہ پڑھ کر کم علم مرزا جہلمی کہنے لگا مسئلہ نکالنے لگا کہ اللہ کا احسان ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی احسان نہیں

جبکہ

باریک بین وسیع علم والے علماء کرام نے فرمایا کہ یہ معنی لینا غلط ہے کیونکہ صحابہ کرام عرض کرتے تھے کہ "اللہ و رسولہ امن" یعنی اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کے ہم پر بہت احسانات ہیں(دیکھیےبخاری حدیث4330)

تو

مرزا جہلمی جیسے کم علم لوگ کتنا گمراہ و کفر گستاخی تک لے جا سکتے ہیں۔۔۔۔؟؟ ایک مثال ہی کافی ہے سمجھداروں کے لیے۔۔لیکن الحمد للہ ایسے لوگوں کی بہت ساری گمراہیوں غلط مسائل وغیرہ پر علماء کرام مدلل تحریرات و وڈیوز کے ذریعے ہماری رہنمائی کر چکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں

۔

👈بغیر مستند استاد کے خود ہی ترجمہ پڑھ کر مسئلے نکالنا یا غیرمستند استاد سے پڑھ کر مسئلے نکالنا  گمراہی کفر تک لے جاسکتا ہے، اس لیے اس سے بچو۔۔۔ علماء کرام نے یہ حکم اپنی طرف سے نہیں دیا، بلکہ یہ حکم شریعت کا ہے، جیسے کہ نیچے دس دلائل لکھ کر واضح کیا گیا ہے۔۔۔ علماء کرام کا کوئی چکر نہیں ہے، بلکہ یہ تو علماء کرام کا ہم پر احسان ہے،امت پر احسان ہے کہ ہماری دنیا و اخرت سنوارنے کے لیے وہ اپنی زندگی وقت اور بہت  کچھ قربان کرکے مدارس چلاتے ہیں خطابت کرتے ہیں تحریریں کتابیں لکھتے ہیں، امامت خطابت درس تدرس چندہ جمع کرنا مہہتم بننا وعظ تحریرات وڈیوز اڈیوز قافلے اچھی پیری مریدی اور بظاہر دنیاوی تمام فیلڈز میں جاکر مستند علم و اصلاح پھیلا کر اور دیگر طریقوں سے خدمات سرانجام دیتے ہیں

 تاکہ ہماری دنیا و اخرت سنور جائے اور یقینا علمائے کرام جو مستند ہوتے ہیں وہ اگرچہ یہ احسان کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ اسے احسان نہیں سمجھتے بلکہ اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اور اپنی دنیا و اخرت کا سرمایہ سمجھتے ہیں

اگر علماء مولوی طلباء کوئی بھی دینی خدمات بھرپور حسب طاقت کرنے والے بغیر اسراف و تکبر کے اچھے شرعی طریقے سے اچھا کھائیں ، اچھا پہنیں ، اچھی سواری استعمال کریں

تو اس سے ہمارے کلیجے ٹھنڈے ہونے چاہیے کہ علماء کرام جائز مالی طور پر ، جائز جسمانی طور پر ، ظاہری طور پر، علمی عملی طور پر طاقتور ہوں گے تو زیادہ سے زیادہ دینی کام کر سکیں گے، اور کسی کا ذوق ہوتا ہے کہ وہ زیادہ اچھا نہیں کھاتا،زیادہ اچھے کپڑے نہیں پہنتا، زیادہ عاجزی کرتا ہے تو وہ بھی برحق ہے بشرطیکہ دونوں کا مقصد اسلام کی سربلندی ہو اور شرعی احتیاطوں پر بھی عمل کریں اور علماء ربانی ان شرائط و احتیاط و حکمتوں سب کا خیال رکھتے ہیں،ہمیں بدگمانی نہیں کرنی چاہیے

۔

اہل حق مستند علماء بروں باطلوں جھوٹوں کم علموں  کا رد کرتے ہیں، سمجھاتے ہیں، صحیح مسائل بتاتے ہیں اور برے لوگوں سے برے نقلی علماء یوٹیوبر سوشلی ایجنٹ منافق مکار جھوٹوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں اور ایسے گستاخوں گمراہوں کی مذمت و رد کرتے ہیں تو اس کو فرقہ واریت مت سمجھیے،مت کہیے بلکہ یہ معاشرتی بھلائی کے لیے لازمی ہے اور اسلام کی نمک حلالی ہے اور اسلام کی پاسداری میں یہ ذمہ داری ہے، جو اہل حق علماء ادا کرتے ہیں


🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

👈 فرقہ بازی فتنہ وغیرہ بھی دراصل کم علم ایجنٹ غیر معتبر جو محقق بنے پھرتے ہیں عالم بنے پھرتے ہیں مسائل بتاتے پھرتے ہیں تشریحات بتاتے پھرتے ہیں انہی لوگوں نے فرقہ بازی کی ہے فتنہ بازی کی ہے

✅ورنہ اہل حق جو رد کرتے ہیں اور صحیح مسائل بتاتے ہیں اور برے لوگوں سے برے نقلی علماء یوٹیوبر سوشلی ایجنٹ منافق مکار جھوٹوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں اور ایسے گستاخوں گمراہوں کی مذمت و رد کرتے ہیں تو اس کو فرقہ واریت مت سمجھیے بلکہ یہ معاشرتی بھلائی کے لیے لازمی ہے اور اسلام کی نمک حلالی ہے اور اسلام کی پاسداری میں یہ ذمہ داری ہے، جو اہل حق علماء ادا کرتے ہیں، لیکن افسوس ہم ایسے اہل حق کو تفرقہ باز کہتے پھرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں

👈👈القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42)

کم علم لوگ، کم علم محقق، کم علم واعظ خطیب، کم علم یوٹیوبر، کم علم لکھاری، کم علم سوشلی، کم علم نام نہاد اسکالر اور ایجنٹ منافق مکار وغیرہ حق کو باطل سے ملا دیتے ہیں باطل کو حق سے ملا دیتے ہیں گمراہ کر دیتے ہیں اور حق باتیں چھپاتے ہیں اور من گھڑت جھوٹی تفسیر تشریح وغیرہ کرتے ہیں تو ان سب کو ننگا کرنا ان کا مدلل رد کرنا اور ان کی روک تھام کرانا کرنا برحق و لازم ہے فرقہ واریت نہیں

.

👈👈قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أترعون عن ذكر الفاجر؟، اذكروه بما فيه يعرفه الناس

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا تم(زندہ یا مردہ) فاجر(فاسق معلن ، منافق , خائن، دھوکے باز مکار کرپٹ گمراہ کن، بدمزہب) کو واضح کرنے(مذمت کرنے، رد کرنے) سے ہچکچاتے ہو...؟(جیسا وہ ہے ویسا کہنے سے گھبراتے ہو...؟؟)اسے ان چیزوں(ان کرتوتوں، عیبوں اعلانیہ گناہوں ، خیانتوں، منافقتوں دھوکے بازیوں) کے ساتھ واضح کرو جو اس میں ہوں تاکہ لوگ اسے پہچان لیں(اور اسکی گمراہی خیانت منافقت بدعملی دھوکے بازی مکاری سے بچ سکیں)

(طبرانی کبیر حدیث1010)

یہ حدیث پاک  کتبِ حدیث و تفاسیر اور فقہ و تصوف کی کئی کتب میں موجود ہے... مثلا جامع صغیر، شعب الایمان، احیاء العلوم، جامع الاحادیث، کنزالعمال، کشف الخفاء ردالمحتار ، عنایہ شرح ہدایہ، فتاوی رضویہ، تفسیر ثعالبی، تفسیر درمنثور وغیرہ کتب میں موجود ہے

👈لیھذا ایسے فرقوں لکھاریوں یوٹیوبر وغیرہ کے عیوب مکاریاں منافقتیں خیانتیں دھوکے بازیاں بیان کرنا برحق ہے لازم ہے اسلام کا حکم ہے....یہ عیب جوئی نہیں غیبت نہیں،ایسوں کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے... یہ فرقہ واریت نہیں،تفرقہ تو مکار منافق گمراہ پیدا کر رہے پھیلا رہے ہیں....اہل حق حق بتا رہے پھیلا رہے ہیں یہ حسد نہیں بغض نہیں بلکہ حق کی پرواہ ہے اسلام کے حکم کی پیروی ہے... ہاں حدیث پاک میں یہ بھی واضح ہے کہ وہ عیوب، وہ خیانتیں، وہ دھوکے بازیاں وہ کرتوت بیان کیے جائیں جو اس میں ہوں...جھوٹی مذمت الزام تراشیاں ٹھیک نہیں......!!

اللہ کریم سمجھ عطاء فرمائے

۔

👈👈الحدیث:

أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ، شِرَارُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ، خِيَارُ الْعُلَمَاءِ

ترجمہ:

خبردار......!! بےشک بد سے بدتر چیز برے علماء ہیں اور اچھی سے اچھی چیز اچھے علماء ہیں

(دارمی حدیث382)

🧐غور کیا جائے تو اس حکم میں علم و معلومات پھیلانے والے تمام لوگ و ذرائع اس حکم میں شامل ہیں

لیھذا

علماء، معلمین،اسکالز، مرشد، اساتذہ، میڈیا، سوشل میڈیا، صحافی، تجزیہ کار،وکیل،جج،جرنیل،مبلغ ، واعظ وغیرہ معلومات پھیلانے والے لوگ

اچھی سے اچھی چیز ہیں بشرطیکہ کہ اچھے ہوں سچے ہوں باعمل ہوں

اور

یہی لوگ بد سے بدتر ہیں اگر برے ہوں

.

🚨👈القرآن،ترجمہ:

سچوں(کو پہچان کر ان)کا ساتھ دو(سورہ توبہ آیت119)

ایت مبارکہ اور اوپر لکھی احادیث مبارکہ اور دیگر احادیث مبارکہ و دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ

دین و دنیا کو بدنام تو جعلی منافق مکار کر رہےہیں....عوام و خواص سب کو سمجھنا چاہیےکہ #جعلی_مکار_منافق تو علماء پیر اینکر لیڈر سیاست دان جج وکیل استاد ڈاکٹر فوجی وغیرہ افراد و اشیاء سب میں ہوسکتےہیں،ہوتے ہیں

تو

جعلی کی وجہ سے #اصلی سےنفرت نہیں کرنی چاہیےبلکہ اصلی کی تلاش کرنی چاہیے اور اسکا ساتھ دینا چاہیے اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنی چاہیے، اصلاح و جواب قبول کرنے کا دل جگرہ ہونا چاہیے، رد و مذمت مجبوری ہے تاکہ عوام ایسوں سے دور رہے ورنہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ اللہ ہمیں اور ہماری تحریر تقریر رد و جواب سب کچھ کو ہدایت کا باعث بنائے

۔

🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩

🟩 *#چند(10)دلائل۔۔تحقیق و تفصیل۔۔۔۔۔!!*

میں نے اختصار کے پیش نظر فقط 10 دلائل لکھے ہیں ورنہ اس بات پر تو دلائل کے انبار ہیں انبار۔۔۔۔!!

اللہ کریم ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہدایت کا باعث بنائے اور ہمیں خوب برکتیں عطا فرمائے

*#دلیل نمبر1* 1️⃣

القران:

فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ  لَا  تَعۡلَمُوۡنَ

اہل ذکر(اچھی یاداشت وسیع علم والے معتبر علماء) سے پوچھو اگر تمہیں(کافی و کامل یا بالکل ہی) علم نہ ہو

(سورہ نحل ایت43)

علم نہیں تو پوچھنا لازم۔۔۔۔اب ہزاروں ایتیں اور لاکھوں احادیث مبارکہ جو ایک دوسرے کی وضاحت اور تشریح کرتے ہیں، ایت کی وضاحت ایت مبارکہ سے ہوتی ہے اور ایت کی وضاحت احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے۔۔۔ اسی طرح حدیث مبارکہ کی وضاحت ایت سے ہوتی ہے اور حدیث مبارکہ کی وضاحت حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے، تو ہزاروں ایتیں اور لاکھوں احادیث مبارکہ کا مستند اور صحیح علم ہونا لازمی ہے۔۔۔۔اور ایات و احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام اہلبیت عظام کی پیروی کرو تو لاکھوں اقوال صحابہ کرام کے اہل بیت عظام کے ہیں۔۔تو ایات احادیث اور صحابہ کرام کے اقوال سے واضح ہے کہ عربی لغت فصاحت بلاغت وغیرہ علوم قران اور احادیث کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے

تو

اگر اپ ہزاروں ایات مبارکہ اور لاکھوں احادیث مبارکہ و اقوال صحابہ کرام اہلبیت عظام کو مستند لغت و علوم کے ذریعے سے اور دیگر علوم کے ذریعے سے اور تمام ایات اور تمام احادیث اور تمام اقوال کے ذریعے سے سمجھتے ہیں

 تو

مبارک ہو اپ عالم دین ہیں اور عالم دین واقعی قران اور حدیث پڑھ کر سمجھ کر لوگوں کو سمجھائے گا

 لیکن

 اگر اپ کو  ایات مبارکہ مد نظر نہیں ہیں

اگر اپ کو احادیث مبارکہ مدنظر نہیں ہیں

اگر اپ کو صحابہ کرام اہل بیت عظام کے اقوال مبارک مدنظر نہیں ہیں

اگر اپ کو لغت فصاحت بلاغت و دیگر "علوم متعلقہ" اپ کے مدنظر نہیں ہیں

تو

پھر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اپ کو علم ہے۔۔۔ اور جب اپ کو علم نہیں ہے تو قران مجید کا حکم ہے کہ اہل علم مستند علماء سے پوچھو کہ ایت مبارکہ کا مفہوم کیا ہے اور ایت مبارکہ سے کیا ثابت ہوتا ہے۔۔۔ تو اپ پر لازم ہے کہ اہل علم مستند علماء سے پوچھیں کہ قبلہ فلاں حدیث مبارکہ کا مفہوم کیا ہے معنی کیا ہے اور اس سے کیا کیا ثابت ہوتا ہے اور کیسے۔۔۔؟؟

لیھذا

اس ایت مبارکہ سے بھی ثابت ہوا کہ ہم کم علموں پر لازم ہے کہ ہم خود سے قران احادیث پڑھ کر عقیدہ نہ بنائیں اور عمل نہ کریں بلکہ مستند علماء کرام سے پوچھ کر عقیدے عقائد رکھیں اور عمل کریں۔۔۔اور مستند علماء کرام اپ کو اکثر مدارس میں ہی صحیح وقت و وافر علم دے سکیں گے تو مدرسے جانا لازم ہوا۔۔۔ورنہ کم از کم اتنا تو لازم ہے کہ مدرسے نہیں جاسکتے تو مستند علماء کرام سے پوچھ پوچھ کر عقیدے رکھیں، عمل کریں۔۔۔۔!!

 اللہ کریم سمجھ عطاء فرمائے

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر2* 2️⃣

القرآن:

لَوۡ رَدُّوۡہُ  اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ

اگر معاملات و مسائل کو لوٹا دیتے رسول کی طرف اور اولی الامر کی طرف تو اہل استنباط(اہلِ تحقیق،باشعور،باریک دان،سمجھدار علماء صوفیاء)ضرور جان لیتے

(سورہ نساء آیت83)

 آیت مبارکہ میں واضح حکم دیا جارہا ہے کہ اہل استنباط معتبر وسیع علم والے باریک بین علماء اہلسنت کی طرف کی طرف معاملات کو لوٹایا جائے اور انکی مدلل مستنبط رائے و سوچ و حکم کی تقلید و پیروی کی جائے.....!!

لیھذا

عام طور پر حکم یہی ہے کہ ہم اپنے اپ خود قران حدیث پڑھ کر ہدایت تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ قران مجید نے میں فرمایا ہے کہ اہل استنباط کی طرف جانا ضروری ہے

 کیونکہ

اہل استنباط یعنی مستند علماء کو تمام و اکثر و اہم ایات و احادیث لغت فصاحت بلاغت وغیرہ سب کی طرف توجہ ہوتی ہے تو وہ ایت و حدیث مبارکہ کا صحیح معنی سمجھتے ہیں اور صحیح معنی بتاتے ہیں تو بندہ ہدایت پاتا ہے، اس ایت مبارکہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ مستند علماء کرام کی مدلل تشریح کے بغیر اپنے اپ سے قران و حدیث پڑھ کر حکم نکالنا اور عمل کرنا گمراہی کا باعث بن جاتا ہے،لیھذا ایت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خود ایت حدیث پڑھ کر عقیدے بنانا شروع نہ کریں، خود سے عمل کرنا شروع نہ کریں، بلکہ اہل استنباط یعنی مستند وسیع علم و حکمت والے باریک بین علماء کرام کی طرف رجوع کریں اور ان سے ایت و حدیث کا معنی پوچھیں سمجھیں

اور

اس کے لیے اپ کو مدرسہ جانا ہوگا کہ مستند علماء کرام اپ کو اکثر مدارس میں ہی صحیح وقت و وافر علم دے سکیں گے تو مدرسے جانا لازم ہوا۔۔۔ورنہ کم از کم اتنا تو لازم ہے کہ مدرسے نہیں جاسکتے تو مستند علماء کرام سے پوچھ پوچھ کر عقیدے رکھیں، عمل کریں۔۔۔۔!!

.

يَسْتَخْرِجُونَهُ وَهُمُ الْعُلَمَاءُ..الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُنَافِقِينَ، لَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى ذَوِي الرَّأْيِ وَالْعِلْمِ،...وَفِي الْآيَةِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْقِيَاسِ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا يُدْرَكُ بِالتِّلَاوَةِ وَالرِّوَايَةِ وَهُوَ النَّصُّ، وَمِنْهُ مَا يُدْرَكُ بِالِاسْتِنْبَاطِ وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى الْمَعَانِي الْمُودَعَةِ فِي النُّصُوصِ

 اہل استنباط سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو احکام و نکات نکالتے ہوں اور وہ علماء کرام ہیں... آیت میں منافقین اور مومنین سب کو حکم ہے کہ وہ معاملات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دیں اور اہل علم کی طرف لوٹا دیں اور رائے و قیاس کرنے والوں کی طرف لوٹا دیں... اس آیت میں دلیل ہے کہ قیاس کرنا بالکل جائز ہے کہ علم وہ ہوتا ہے کہ جو نص یعنی قرآن اور حدیث و سنت سے ملتا ہے یا پھر ان سے اخذ کیا جاتا ہے یہی تو قیاس ہے، اس لیے اہل استنباط معتبر علماء کرام سے پوچھنا لازمی ہے(کہ وہی تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ کا علم رکھتے ہیں اور صحابہ کرام کے اقوال اور اہل بیت عظام کے اقوال کا علم رکھتے ہیں اور قران و حدیث و اقوال کی باریکیاں سمجھتے ہیں)

(تفسیر بغوی2/255)

.

دلت هذه الآية على أنَّ القياس حُجَّة... أن في الأحْكَام ما لا يُعْرَف بالنَّصِّ، بل بالاستِنْبَاطِ... أن العَامِيِّ يجِب عليه تَقْلِيد العُلَمَاء

 مذکورہ آیت مبارکہ دلالت کرتی ہے کہ قیاس برحق و دلیل ہے اور بظاہر ایک ایت یا حدیث سے حکم سمجھ نہیں اتا بلکہ اس کے لیے استنباط کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے اس ایت سے ثابت ہوا کہ بے شک عام و کم علموں پر واجب ہے کہ وہ مستند علماء کرام کی تقلید کریں،ان سے پوچھیں

(اللباب فی علوم الکتاب6/526)

 رب تعالی سمجھ عطاء فرمائے

.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر3* 3️⃣

القرآن:

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ

اور جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکم نہ لگائے(انہیں حق نہ سمجھے،شک کرے،انکار کرے،اسکے برخلاف حکم تشریح تفسیر اپنی طرف سے نکال کر لاگو کرے) تو وہ لوگ کافر ہیں

(سورہ مائدہ ایت44)

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی ہوتی ہے ، اللہ کا نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)

۔

دونوں ایتوں کو ملائیے تو واضح ہوتا ہے کہ تمام کی تمام نازل کردہ ایات اور تمام کی تمام احادیث مبارکہ۔۔۔۔۔کیونکہ احادیث مبارکہ بھی تو اللہ کا نازل کردہ حکم ہوتے ہیں صرف الفاظ رسول کریم کے اپنے ہوتے ہیں جیسے کہ ایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ اللہ کی وحی کردہ ہوتا ہے تو رسول کریم ایت اور حدیث دونوں بولتے ہیں تو ثابت ہوا کہ

 👈تمام ایات اور تمام احادیث کو مد نظر رکھ کر ہی مستند حکم لگایا جا سکتا ہے اور جو ایسا نہ کرے یعنی تمام ایات اور تمام احادیث مبارکہ پر نظر کیے بغیر مسئلے مسائل نکالتا پھرے اور بتاتا پھرے تو وہ کفر اور گمراہی میں پڑ جاتا ہے۔۔۔ تو

👈ثابت ہوا کہ ہم چند احادیث چند ایات مبارکہ کو پڑھ کر مسئلے مسائل نکالنا شروع نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے اور وہ علم مستند علماء کرام سے ہی ملتا ہے،تو اس ایت مبارکہ سے بھی ثابت ہوا کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم مستند علماء کرام سے ایت مبارکہ حدیث مبارکہ کی تشریح سمجھیں پوچھیں اور مزید ایات و احادیث تلاش کریں پوچھیں سمجھیں اور پھر بعد میں جا کر مسائل بتا سکتے ہیں اور مسائل کے دلائل نکال کر بتا سکتے ہیں اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کر سکتے ہیں

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر4* 4️⃣

القرآن

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ  فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ

بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اسوہ حسنہ ہے

(سورہ احزاب ایت21)

۔

أي في أخلاقه وأفعاله قدوة حسنة

یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اخلاق اور کردار اور تمام کام ہر چیز اسوہ حسنہ ہیں کہ ان کی پیروی کی جائے

تفسیر محاسن التاویل8/57

۔

وفي نبينا مُحَمَّدٍ- عليه السلام- أسوةٌ حسنةٌ على 

الإطلاق

اور ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مطلق طور پر یعنی ان کی ہر چیز ہر کام ہر فعل ہر قول مبارک سب کچھ اسوہ حسنہ ہے ، اس کی پیروی کرنی ہے

تفسیر ثعالبی5/419

۔

فَهِيَ عَامَّةٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ایت عام ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز ہر فعل ہر قول اسوہ حسنہ ہے، اس کی پیروی کرنی ہے

تفسیر فتح القدیر4/312

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی ہوتی ہے ، اللہ کا نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)

۔

✅واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں وہ اللہ ہی کی طرف سے وحی کردہ ہوتا ہے، تو حدیث بھی اللہ تعالی کی طرف سے وحی کردہ ہی ہوتی ہے

بلکہ

قران حدیث سنت تمام زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہماری بھلائی ہے، اسوہ حسنہ ہے، سب پر ایمان و عمل ہی میں نجات ہے۔۔۔ذرا سا چوکے تو گمراہی ہے

👈لیھذا

یا تو تمام ایات اور تمام احادیث و سنت لغت فصاحت بلاغت کا درست علم ہو اور صحابہ کرام کے اقوال، اہلبیت عظام کے اقوال کا صحیح علم ہو تو مبارک ہو اپ عالم ہیں، ایت و حدیث خود سے پڑھ کر تمام ایات و احادیث و اقوال کو مدنظر رکھ کر سمجھا سکتے ہیں۔ مسائل بتا و سمجھا سکتے ہیں

ورنہ

آپ پر ، ہم پر لازم ہے کہ بڑے وسیع علم و حکمت و استنباط والے معتبر علماء کرام سے پوچھیں سمجھیں عمل کریں،اور 👈جب اپ کو، ہم کو پورا وسیع علم نہیں ہے تو قران مجید کا حکم ہے کہ اہل علم مستند علماء سے پوچھو کہ ایت مبارکہ کا مفہوم کیا ہے اور ایت مبارکہ سے کیا ثابت ہوتا ہے۔۔۔ تو اپ پر، ہم پر لازم ہے کہ اہل علم مستند معتبر علماء سے پوچھیں کہ قبلہ فلاں حدیث مبارکہ کا مفہوم کیا ہے معنی کیا ہے اور اس سے کیا کیا ثابت ہوتا ہے

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر5* 5️⃣

القرآن:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ

اے ایمان والو اللہ کی مانو اطاعت کرو اور رسول کریم کی مانو اطاعت کرو اور اولی الامر(مستند معتبر علماء اور انکی نگرانی میں چلنے والے حکمرانوں) کی مانو اطاعت کرو۔۔ تو اگر کسی بات میں تنازعہ کر بیٹھو تو اس کو اللہ کی طرف(یعنی قران مجید کی طرف) اور رسول کی طرف (یعنی قران و حدیث و سنت کی طرف یعنی قران احادیث و سنت جاننے والے مستند علماء کی طرف) لوٹا دو(جیسے کہ سورہ نساء ایت83میں حکم ہے کہ اہل استنباط علماء کی طرف رجوع کریں)....(سورہ نساء ایت59)

۔

ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ تمام ایات مبارکہ کو سمجھنا ہے ماننا ہے اور تمام احادیث مبارکہ کو سمجھنا ہے ماننا ہے اور تمام مستند علماء کرام کو ماننا ہے ان ان سب کی باتوں کو ماننا ہے ان کی طرف رجوع کرنا ہے۔۔۔ قران کی طرف رجوع اور احادیث مبارکہ کی طرف رجوع کرنا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مستند تفاسیر اور شروحات و دلائل و علوم و فنون سے صحیح فہم حاصل کریں قران مجید کی احادیث مبارکہ کی۔۔۔ تو یہاں بھی وہی بات کہ یا تو اپ کو تمام ایات و تمام احادیث مبارکہ مستند علوم کے ذریعے سے فہم میں ہوں تو اپ مسئلے مسائل بتا سکتے ہیں لوگوں کو سمجھا سکتے ہیں تب تو اپ عالم کہلائیں گے

ورنہ

اگر اپ کم علم ہیں تو اپ کو علماء کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور تمام احادیث مبارکہ کو سمجھنا ہوگا اور تمام ایات مبارکہ کو سمجھنا ہوگا اور اپ پر لازم ہوگا کہ علماء کرام سے پوچھیں کہ فلاں ایت فلاں حدیث مبارکہ کا صحیح معنی و مفہوم کیا ہے اور کون کون سے مسائل و فوائد نکلتے ہیں ایات مبارکہ سے احادیث مبارکہ سے۔۔۔۔ بہت ساری ایات و احادیث کا علم ہو تب بھی اپ گمراہی میں کفر میں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اس ایت میں بھی حکم ہے کہ ساری کی ساری ایات مبارکہ اور تمام کی تمام احادیث مبارکہ کا علم ہونا چاہیے صحیح فہم ہونا چاہیے

۔

وَلَيْسَ لِغَيْرِ الْعُلَمَاءِ مَعْرِفَةَ كَيْفِيَّةِ الرَّدِّ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَيَدُلُّ هَذَا عَلَى صِحَّةِ كَوْنِ سُؤَالِ الْعُلَمَاءِ وَاجِبًا، وَامْتِثَالِ فَتْوَاهُمْ

لَازِمًا.

قران مجید کی ایت میں حکم تھا کہ اولی الامر کی پیروی کرو مگر اولی الامر و دیگر کا اپس میں اختلاف ہو جائے تو قران مجید نے حکم دیا کہ کتاب اللہ کی طرف جانا ہے اور سنت کی طرف جانا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قران مجید کا علم اور احادیث مبارکہ اور سنت مبارکہ کا علم علمائے کرام کو ہی ہوتا ہے تو ایت سے ثابت ہوتا ہے کہ علماء سے پوچھنا ان کی رہنمائی لینا واجب ہے اور ان کے مدلل فتوے پر عمل کرنا لازم ہے

(تفسیر قرطبی5/260)

۔

أَنَّ أَعْمَالَ الْأُمَرَاءِ وَالسَّلَاطِينِ مَوْقُوفَةٌ عَلَى فَتَاوَى الْعُلَمَاءِ، وَالْعُلَمَاءُ فِي الْحَقِيقَةِ أُمَرَاءُ الْأُمَرَاءِ

لیڈر بادشاہ حکمران وغیرہ سب کے احکامات قوانین وغیرہ علماء معتبرین کے فتوے پر موقوف ہیں اور معتبر علماء ہی حقیقت میں بادشاہوں کے بادشاہ ہیں،  لیڈروں کے لیڈر ہیں،  حکمرانوں کے حکمران ہیں

(تفسیر کبیر10/114)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر6* 6️⃣

القرآن:

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ

 میں ایت کے کسی ایک حکم یا ایت کے تمام احکامات کو منسوخ کرتا ہوں یا ان کو مکمل طور پر منسوخ کرتا ہوں محو کرتا ہوں تو ان کی جگہ دوسرے احکامات کا حکم دیتا ہوں جو اس کے برابر ہوتے ہیں یا اس سے بڑھ کر ہوتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے

(سورہ بقرہ ایت106)

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی کردہ، نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)


اور اللہ تعالی کے احکامات ہم تک پہنچے قران کے ذریعے سے یعنی تمام ایات کے ذریعے سے اور تمام احادیث مبارکہ کے ذریعے سے کیونکہ اوپر دوسری ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں وہ اللہ ہی کی طرف سے وحی کردہ ہوتا ہے تو حدیث بھی اللہ تعالی کی طرف سے وحی کردہ ہی ہوتی ہے

اب

اس ایت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ قران مجید کی کسی ایت اور کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں تمام ایات کا پتہ ہو صحیح علم ہو اور ہمیں تمام احادیث مبارکہ کا صحیح علم ہو تاکہ ہمیں علم ہو کہ جو ایت یا حدیث ہم پڑھ رہے ہیں وہ منسوخ تو نہیں مخصوص تو نہیں اس کی تفسیر کسی اور ایت و حدیث سے تو نہیں۔۔۔۔؟؟ لہذا تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ اور تمام اقوال صحابہ کرام اہل بیت عظام کا علم ہو تو ہی ہم ہدایت اور حق تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ ایک ایت یا چند ایات و احادیث کا علم ہو تو ہم حق تک نہیں پہنچ پائیں گے اس لیے ہم خود سے ایک ایت پڑھ کر ترجمہ پڑھ کر یا چند ایات و احادیث کا ترجمہ پڑھ کر حکم نہیں نکال سکتے بلکہ لازم ہے کہ تمام ایت مبارکہ کا علم ہو ، تمام احادیث لازمہ کا علم ہو۔۔۔منسوخ مخصوص سمجھنے کے لیے لغت فصاحت بلاغت وغیرہ متعلقہ علوم کا انا بھی ضروری ہے

تو

اگر تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے اقوال مبارکہ کا صحیح علم اگر ہمیں ہے تو مبارک ہو ہم عالم دین ہیں اور لوگوں کو ایات و احادیث کا علم سمجھائیں گے اور خود بھی عمل کریں گے لیکن اگر کچھ بھی کمی ہے اور یقینا ہم میں کمی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ مستند علماء کرام مستند کتب سے علم حاصل کریں اور عقیدہ اپنائیں اور عمل کریں لیکن خود سے ایت حدیث کا  ترجمہ پڑھ کر عقیدہ و مسئلہ نہیں نکال سکتے

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر7٫8* 7️⃣ اور 8️⃣

الحدیث:

فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا

جاہل و کم علم(اپنی من مانی، اپنی خواہشات کے مطابق یا کم علمی کی بنیاد پر یا غلط قیاس کی بنیاد پر) فتویٰ دیں گے تو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے( لہذا ایسوں سے بچو،ایسے کم علم و گمراہوں سے قرآن و حدیث مت سنو..ایسوں کی بات کا کوئی اعتبار نہیں لیھذا انکی نہ سنو نہ مانو بلکہ معتبر سچے علماء سے تحقیق و تصدیق کراؤ.... ایسوں کے خلاف شرع و غلط قیاس و گمان سے بچو،ایسوں کی نام نہاد تحقیق سے بچو...ایسوں کے خلاف شرع و غلط قیاس و حکم کی تقلید و پیروی سے بچو)

(بخاری حدیث100)

.

الحدیث:

إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت پر ان لوگوں کا خوف ہے کہ جو گمراہ کن ائمہ(خطیب یوٹیوبر سوشلی اور جعلی محقق، جعلی عالم مفتی، واعظ بظاہر علم بیان کرنے والے) ہوں گے

(ترمذی حدیث2229)

.

گمراہ کن ائمہ اس طرح ہوں گے کہ کم علمی یا ایجنٹی یا عیاشی لالچ وغیرہ کی بنیاد پر غلط جواب دیں گے، قران مجید کی تمام ایات کی تفاسیر اس کو مد نظر نہ ہوں گی اور اکثر احادیث کا علم نہ ہوگا یا اکثر احادیث کا صحیح فہم نہ ہوگا اور اقوال صحابہ کرام کا علم نہ ہوگا... عربی علوم لغت معنی صرف نحو بدیع بیان حقیقت مجاز وغیرہ علوم و فنون اسے نہ ہوں گے اور وہ ان تمام کے بغیر مسائل نکال کر بتاتا پھرے گا۔۔۔ ایت و احادیث کی غلط تاویل و تفسیر و تشریح کرتا پھرے گا۔۔۔ پھیلاتا پھرے گا اور گمراہ ہوگا اور گمراہ کرتا پھرے گا... لہذا ان سے دور رہو یہ قران و حدیث کے حوالے دے تب بھی ان کا کوئی اعتبار نہ کرو کیونکہ یہ قران و حدیث کے معنی کرنے میں معنی و مقصود سمجھانے میں دو نمبری کرتے ہیں.... ان دو نمبر کو پہچانو.... ان دو نمبر کی وجہ سے اصلی علماء اصلی مولوی سے نفرت نہ کرو

اور

اسی طرح اپ خود بھی ایک ایت پڑھ کر یا حدیث پاک پڑھ کر خود سے معنی نکال کر عقیدے رکھنا شروع کر دیں عمل کرنا شروع کر دیں تو بھی یہ ٹھیک نہیں ، جائز نہیں کیونکہ گمراہ کن علماء سے اس لیے منع کیا گیا کہ ان کو علم نہیں ہوتا جیسے کہ حدیث پاک میں دو ٹوک لکھا ہے، تو پھر اپ کو بھی لاکھوں کروڑوں احادیث و ایات و اقوال صحابہ کرام مدنظر نہیں ہوتے تو اپ بھی اپنے اپ کو فتوی نہیں دے سکتے کہ اس ایت کا یہ مطلب ہے اس حدیث کا یہ مطلب ہے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیں۔۔۔ ایسا کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں، ایسے عمل کو حدیث پاک میں واضح طور پر گمراہی کہا گیا ہے۔۔۔اور گمراہی کا مطلب ہوتا ہے راہ حق سے گم ہو جانا۔۔۔اور راہ حق سے گم ہوکر اپ نعوذ باللہ تعالی کفر میں پڑ جائیں گے، بدمذہبیت میں گر جائیں گے،توحید و رسالت و عقائد و فقہ و تصوف وغیرہ دنیا و اخرت کی تمام بھلائی کے علوم عقائد و مسائل سے گمراہ ہو کر اپنی اخرت بھی تباہ کر دیں گے اور اپنی دنیا بھی تباہ کر دیں گے بلکہ عین ممکن ہے کہ دوسروں کی بھی اخرت تباہ کرنے کا باعث بنیں گے اور دوسروں کی دنیا بھی تباہ کرنے کا باعث بنیں گے اور انفرادی اجتماعی معاشرتی معاشی ہر لحاظ سے تباہی کا باعث بنیں گے

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر9* 9️⃣

الحدیث:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينسخ حديثه بعضه بعضا، كما ينسخ القرآن بعضه بعضا ".

‏‏‏‏ ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو دوسری  حدیث منسوخ و مخصوص(و تشریح) کر دیتی ہے۔ جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت سے منسوخ و مخصوص(و تفسیر) ہو جاتی ہے

(مسلم حدیث777)

لیھذا یہ اصول یاد رہے کہ بعض آیات و احادیث کی تشریح تنسیخ تخصیص دیگر آیات و احادیث سے ہوتی ہے....عام آدمی کے لیے اسی لیے تقلید لازم ہے کہ اسے ساری احادیث و تفاسیر معلوم و یاد نہیں ہوتیں،مدنظر نہیں ہوتیں تو وہ کیسے جان سکتا ہے کہ جو ایت یا حدیث وہ پڑھ رہا ہے وہ کہیں منسوخ یا مخصوص تو نہیں.....؟؟ یااسکی تفسیر و شرح کسی دوسری آیت و حدیث سےتو نہیں.....؟ اسی لیے سیدنا سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں

الحديث مَضِلَّة إلا للفقهاء

ترجمہ:

حدیث(اسی طرح آیت عام آدمی کےلیے)گمراہی کا سبب بن سکتی ہے سوائے فقہاء کے

(الجامع لابن أبي زيد القيرواني ص 118)

تو آیت و حدیث پڑھتے ہوءے معتبر اہلسنت عالم کی تفسیر و تشریح مدنظر ہو تقلید ہو یہ لازم ہے ، مستند علماء کرام سے ایات و احادیث مبارکہ کی تشریح تفسیر و نکلنے والے مسائل پوچھنا لازم ہے

ورنہ اپنے سے نکات و مسائل نکالنا گمراہی بلکہ کفر تک لے جاسکتا ہے....وہ عالم وہ مجتہد و فقیہ نکات و مسائل نکال سکتا ہے جو بلاتصب وسیع الظرف ہوکر تفاسیر و احادیث کو جانتا ہو لغت و دیگر فنون کو جانتا ہو

مگر آج کے مصروف دور میں اور علم و حافظہ کے کمی کے دور میں اور فنون و احاطہ حدیث و تفاسیر کے کمی کے دور میں بہتر بلکہ لازم یہی ہے کہ عالم فقیہ بھی تقلید کرے،کسی مجتہد کے قول و تفسیر و تشریح کو لے لے کیونکہ ہر مسلے پر اجتہاد مجتہدین کر چکے

البتہ

جدید مسائل میں باشعور وسیع ظرف وسیع علم والا باریک بین عالم دین اپنی رائے پردلیل باادب ہوکر قائم کر سکتا ہے

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر10* 🔟

👈سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

 عليكم بديوانكم لا تضلوا. قالوا: وما ديواننا؟ قال:شعر الجاهلية فإنّ فيه تفسير كتابكم

تم پر عربی دیوان (عربی لغت بلاغت فصاحت گرائمر وغیرہ علوم متعلقہ ) لازم ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ.. بے شک اس دیوان عرب و لغت وغیرہ میں تمہارے کتاب یعنی قران مجید(اور اسی طرح احادیث مبارکہ) کی تفسیر و تشریح بھی ہے

(غريب القرآن في شعر العرب ص19)


مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ يُفَسِّرُ كِتَابَ اللَّهِ غَيْرِ عَالِمٍ بِلُغَةِ الْعَرَبِ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا..وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَالِمًا بِلُغَاتِ الْعَرَبِ...وَرَوَى عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا سَأَلْتُمُونِي عَنْ غَرِيبِ اللُّغَةِ فَالْتَمِسُوهُ فِي الشِّعْرِ

👈امام مالک فرماتے ہیں کہ جو شخص قران مجید( اور اسی طرح حدیث مبارک) کی تفسیر تشریح غیر عالم ہو کر کرے عربی لغت کو نہ جانتے ہوئے کرے تو میں اسے شدید سزا دوں گا

👈سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے عظیم شاگرد امام مجاہد فرماتے ہیں کہ جو اللہ اور اخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ کتاب اللہ(اور احادیث مبارکہ) کی تفسیر و تشریح نہ کرے بلکہ صرف وہ معتبر عالم دین تفسیر و تشریحکر سکتا ہے کہ جو دیگر ایات احادیث اقوال و علوم علوم کے ساتھ ساتھ لغت عرب کا بھی عالم ہو

👈سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم مجھ سے قران مجید( اور اسی طرح احادیث مبارکہ) کی تفسیر  تشریح پوچھو تو اس کو عربی اشعار یعنی عربی لغت میں بھی تلاش کرو

(البرهان في علوم القرآن1/292ماخوذا)

.

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: «مَنْ كَانَ عَالِمًا بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِقَوْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَا اسْتَحْسَنَ فُقَهَاءُ الْمُسْلِمِينَ وَسِعَهُ أَنْ يَجْتَهِدَ رَأْيَهُ...قال الشافعی لَا يَقِيسُ إِلَّا مَنْ جَمَعَ آلَاتِ .الْقِيَاسِ وَهَى الْعِلْمُ بِالْأَحْكَامِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَرْضِهِ وَأَدَبِهِ وَنَاسِخِهِ وَمَنْسُوخِهِ وَعَامِّهِ وَخَاصِّهِ وإِرْشَادِهِ وَنَدْبِهِ

....وَلَا يَكُونُ لِأَحَدٍ أَنْ يَقِيسَ حَتَّى يَكُونَ عَالِمًا بِمَا مَضَى قَبْلَهُ مِنَ السُّنَنِ، وَأَقَاوِيلِ السَّلَفِ وَإِجْمَاعِ النَّاسِ وَاخْتِلَافِهِمْ وَلِسَانِ الْعَرَبِ وَيَكُونُ صَحِيحَ الْعَقْلِ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَ الْمُشْتَبِهِ، وَلَا يُعَجِّلَ بِالْقَوْلِ وَلَا يَمْتَنِعَ مِنَ الِاسْتِمَاعِ مِمَّنْ خَالَفَهُ لَأَنَّ لَهُ فِي ذَلِكَ تَنْبِيهًا عَلَى غَفْلَةٍ رُبَّمَا كَانَتْ مِنْهُ.... وَعَلَيْهِ بُلُوغُ عَامَّةِ جَهْدِهِ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِهِ حَتَّى يَعْرِفَ مِنْ أَيْنَ قَالَ

 مَا يَقُولُ

 👈امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے شاگرد رشید محمد بن حسن فرماتے ہیں کہ جو کتاب اللہ کا عالم ہو سنت رسول اللہ و احادیث مبارکہ کا عالم ہو اور صحابہ کرام کے اقوال کا عالم ہو اور فقہاء کے اجتہاد و استنباط و قیاس کا عالم ہو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ قیاس و اجتہاد کرے(ایسے ہی کے لیے جائز ہے کہ وہ قران کی تفسیر اور حدیث کی تشریح کرے، مسائل و فوائد نکالے)

 👈امام شافعی فرماتے ہیں کہ قیاس و اجتہاد(اسی طرح قران مجید کی تفسیر اور احادیث کی تشریح) وہی کرسکتا ہے کہ جس نے قیاس کے لیے مطلوبہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کی ہو، مثلا قرآن کریم(اور سنت رسول، احادیث مبارکہ) کے احکامات کا علم ہو قرآن کریم(و سنت رسول اور احادیث مبارکہ) کے فرض واجبات آداب ناسخ  منسوخ عام خاص اور اس کے ارشادات و مندوبات وغیرہ کا علم ہو...

👈قیاس و اجتہاد( اسی طرح قران مجید کی تفسیر اور احادیث کی تشریح)صرف اس عالم کے لئے جائز ہے کہ جو عالم ہو سنتوں اور سحادیث مبارکہ اور اسلاف(صحابہ کرام تابعین عظام و دیگر ائمہ)کے اقوال کا عالم ہو، اسلاف کے اجماع و اختلاف کا عالم ہو، لغت عرب کے فنون کا عالم ہو، عمدہ عقل والا ہو تاکہ اشتباہ سے بچ سکے،اور جلد باز نہ ہو،اور مخالف کی بات سننے کا دل جگرہ رکھتا ہوکہ ممکن ہے یہ غفلت میں ہو اور مخالف کی تنقید سے غفلت ہٹ جائے اور اس پر واجب ہے کہ دلائل پر بھرپور غور کرے انصاف کے ساتھ بلاتعصب اور اسے پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے کس بنیاد پر کہہ رہا ہے

(جامع بیان العلم و فضلہ2/856)

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.