🟫 *#بڑھاپے،امراض،معذوری میں بھی علماء امام مسجد و دیگر کونسے خادمین اسلام کو تنخواہ دی جائے و تعاون جاری رکھا جائےاور کب تک اور دلائل۔۔۔؟؟ ایک امام صاحب کی دوہائی اور میری وصیت۔۔؟؟ شرارتی ٹک ٹاکر مولوی۔۔؟؟ پڑھیےیہ مختصر و اہم تحریر بمع7دلائل*
.
🚨✅ *#اہم بات،خلاصہ*
جو خلوص دل کے ساتھ بھرپور طاقت کے مطابق اسلام کے لیے سرگرم رہے، چاہے وہ سرگرمی یہ ہو کہ مدرسہ میں استاد رہے یا مسجد کا امام رہے یا مجاہد رہے یا خالص اسلام کے لیے سیاسی سرگرمیاں کرے، اسلام پھیلانے کے لیے پرخلوص ہوکر تحریر تقریر اڈیو وڈیو تدریس خطابت امامت چندہ اکھٹا کرکے دینا وغیرہ وغیرہ طریقوں پر بھرپور عمل کرے، خدمات سر انجام دیے، اسلام کی سربلندی کے لیے سائنس طب ٹیکنالوجی فوج وغیرہ کئی محاذ ہیں ان میں سے کسی بھی محاذ پر اسلام کی سربلندی کے لیے پرخلوص ہوکر علماء کی ہدایت کےمطابق خدمات سرانجام دے
تو
اسے یقینا سرگرمی خدمات کے دوران تنخواہ تعاون دینا بنتا ہے مگر اگر وہ اللہ نہ کرے کسی حادثے یا بیماری کی وجہ سے معذور ہو جائے، یا شدید بیمار ہو جائے یا بوڑھا ہو جائے کہ خدمات سرانجام نہ دے سکے تو بھی اسے سابقہ خدمات کے تناظر میں تنخواہ تعاون دینا بنتا ہے
🟢🚨لیکن
لفظ ضرورت کی تشریح کو بھی سمجھیں پوری تحریر میں مدنظر رکھیں۔۔👈ہم سطحی طور پر سمجھتے ہیں کہ 15،20 ہزار ضرورت کے لیے کافی ہیں یا مدرسے کو دو چار لاکھ کافی ہیں جبکہ اس عالم دین طالب علم امام مسجد لکھاری وغیرہ خادمین اسلام اور مدرسے کی اس سے کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے
اور اچھےمدرسے چلانے والوں کو ضرورت سے زیادہ جتنا زیادہ دیا جائے اتنا زیادہ وہ کام و خدمات کرتے جائیں گے،اتنے زیادہ طلباء اور دینی خدمات بڑھاتے جائیں گے اور وہ اتنے زیادہ مدارس بناتے و چلاتے جائیں گے
🔴اگر
کوئی خدمات کرتا رہا اور اب بیمار معذور بوڑھا ہوگیا کہ خدمات نہیں کر پا رہا اور تعاون تنخواہ بھی بند ہوگیا تو اس کے لیے میرا مشورہ یہ ہے ہے
👈1۔۔۔کاش حکمرانوں کو کوئی ہدایت ملے اور وہ ان کے لیے ضروریات کا بندوبست ہمیشہ کرتے رہیں،تنخواہ دیں تو کبھی واقعی ضرورت زیادہ ہو تو تنخواہ سے بھی زیادہ دیں
۔
👈2۔۔۔محلے کے دو چار معتبر حضرات کو مقرر کرائے اور اس مدلل تحریر سے۔۔۔بلکہ بہتر ہے مشھور و معتبر ترین علماء سے مدلل تقریر وڈیو سے رشتے داروں و عوام کو سمجھوائیں اور وہ مقرر کردہ حضرات کمیٹی سے عوام سے یا مخصوص مخیر حضرات سے تعاون لے کر اس سابقہ خدمات کرنے والے محترم کو تعاون وظیفہ پیش کریں
بلکہ
ضرور تنخواہ تعاون مقرر کرکے دیتے رہیں اور انکی ضروریات پر نظر رکھیں پوچھیں تاکہ جیسے ہی ضروریات بڑھیں تو تعاون تنخواہ بڑھا دیں، اور مناسب لگے تو اسکی وائس یا تحریر بمع دستخط لیں کہ اتنے پیسے مل گئے اور وہ ثبوت تعاون کرنے والوں کو دکھائیں تاکہ شیطان وسوسے نہ ڈالے اور بدگمانیوں کا بھی راستہ بند ہو
۔
👈3۔۔۔کسی تنظیم ویلفیئر سے گذارش کریں اور بطور تصدیق یا بطور دلیل یہ تحریر بھی انکو دے سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ کسی مشہور معتبر ترین عالم دین کی تحریر یا وائس یا ویڈیو دلائل سے مزین ان کو دیں۔۔اور ہرحال میں تنظیم ویلفیئر اس کی سابقہ خدمات کے تناظر میں یا مجبور مستحق کی مدد کے تناظر میں ضرور تنخواہ تعاون مقرر کرکے دیتے رہیں اور انکی ضروریات پر نظر رکھیں پوچھیں تاکہ جیسے ہی ضروریات بڑھیں تو تعاون تنخواہ بڑھا دیں
۔
🔴 *#وجہ تحریر،اطلاع عام،وصیت*
🚨میں یہ تحریر دو وجہ سے لکھ رہا ہوں
1️⃣۔۔۔پہلی بنیادی وجہ۔۔۔ ایک صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ میں امام مسجد40٫50سال تک خدمات سرانجام دیتا رہا لیکن اب بوڑھا اور بیمار ہوگیا ہوں، امامت نہیں کراسکتا، اور میری دو بیٹیاں ہیں لیکن کوئی بیٹا نہیں، اب اس وقت نہ تو رشتہ دار تعاون کرتے ہیں اور نہ ہی مسجد کمیٹی اور نہ ہی دیگر احباب تو بتائیں میں کیا کروں۔۔۔؟؟ بچیوں کی شادی کیسے کراوں۔۔۔۔؟؟ اپنے خرچے دوائیاں وغیرہ کہاں سے پورے کروں۔۔۔؟؟ اپ نے بہت ساری اچھی تحریرات لکھی ہیں میری بیٹی اپ کی تحریرات پڑھتی رہتی ہے اور مجھے بتاتی رہتی ہے،سناتی رہتی ہے،دل بہت خوش ہوتا ہے، دعائیں نکلتی ہیں۔۔۔اب اپ اس موضوع پر میری رہنمائی کرتے ہوئے کچھ لکھ کر دیں کہ شریعت نے میرے جیسوں کے لیے کیا حل رکھا ہے۔۔۔۔؟؟
۔
2️⃣۔۔۔ ضمنا مجھے وہ مولوی صاحب بھی یاد اگئے جو ائے دن ٹک ٹاک پہ عجیب و غریب حرکتیں کرکے ویڈیوز بناتا ہے اور کمنٹ میں لوگ مولویوں پر اعتراض کرتے ہیں ، علماء کرام پر اعتراض کرتے ہیں، اچھی سرگرم تنظیموں پر اعتراض کرتے ہیں اور وہ مولوی صاحب کبھی ویڈیوز میں ٹک ٹاک پر تعاون پیسے وغیرہ مانگتا ہے
اور وہ ایسی ویڈیوز بھی لگاتا ہے کہ جس میں وہ ان حالات سے پہلے اچھا خطیب تھا، دین کے لیے سرگرم تھا، لیکن وہ اب یہ کہہ رہا ہے کہ جب مجھ پر حالات ائے تو سب نے ہاتھ اٹھا لیا اور مجبورا مجھے ان طریقوں سے پیسے کمانے پڑ رہے ہیں
👈👈 اگرچہ ان مولوی صاحب اور ہم سب پر لازم ہے کہ خدمات پر تعاون وغیرہ نہ ملنے کے باوجود بھی اچھے بنیں رہیں اور اچھائی کے ساتھ کمانے کی کوشش کرتے رہیں تو رب تعالی ضرور کرم نوازی فرمائے گا، 🙏ٹک ٹاک یوٹیوب پہ آنا ہی تھا تو وڈیوز کے ذریعے مدلل علمی اصلاحی باتیں شیئر فرماتے، ملحدوں کفار بدمذہبوں کا رد کرتے ،معاشرے کی اصلاح کی بھرپور کوشش کرتے، ختم نبوت ناموس رسالت پر ویڈیوز بناتا، صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے دفاع کے لیے اور ان کی عظمت و شان کے لیے ویڈیوز بناتا
اور
پھر عرض کرتا کہ میرے حالات کچھ بہتر نہیں ہیں، فلاں فلاں واقعی ضروریات ہیں، فلاں فلاں سے پوچھ سکتے ہیں لیھذا جن احباب سے ہو سکے تعاون فرمائے تو بھی یہ اچھی راہ تھی لیکن اوٹ پٹانگ والی حرکتیں ہرگز نہیں کرنی چاہیے تھیں کہ نہ جانے کتنے لوگ علماء کرام سے متنفر ہو سکتے ہیں۔۔؟دینی فلاحی تنظیموں سے متنفر ہو سکتے ہیں۔۔؟؟ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ شیطان ممکن ہے کسی کے دل میں اسلام کی ہی نفرت نعوذ باللہ ڈال دے کہ اسلام میں تو ایسا نظام ہی نہیں کہ جو تحفظ دے مدد کرے جبکہ اسلام میں ایسا نظام موجود ہے کہ جو تحفظ اور مدد فراہم کرتا ہے جیسے کہ ہم نیچے دلائل سے واضح کریں گے
۔
3️⃣۔۔۔ یہ تیسری بات اگرچہ تحریر کی وجہ نہیں لیکن موقع مناسبت سے میں اپنے بارے میں بھی عرض کرتا چلوں کہ میرا حال بھی کچھ اسی طرح ہے کہ بظاہر سسٹم یہ ہے کہ بعض رشتےدار اور عوام اور محسنین تعاون فرماتے ہیں تو میری زندگی چل رہی ہے،🚨لیکن میں واضح کرتا چلوں کہ میں واللہ باللہ تاللہ رب کعبہ کی قسم بغیر لالچ کے، بغیر کسی فکسنگ کے اور بغیر کسی دباؤ کے صرف اور صرف سچائی کے ساتھ دلائل کے ساتھ حق بیان کرتے ہوئے لکھتا ہوں، اور الحمد للہ مجھے کوئی فکر و لالچ لاحق نہیں ہوتی،مجھے تحریرات لکھنے کے لیے کسی نے بھی ہائر و متعین نہیں کیا،اور نہ ہی میں کسی کا بطور تنخواہی لکھاری پابند ہوں اور تحریرات لکھنےپھیلانے کی کوئی تنخواہ مقرر نہیں۔الغرض میں پیسےتنخواہ کے لیے نہیں لکھتا،📘اسکے کافی دلائل و شواہد پیش کر سکتا ہوں، مختصرا ایک واضح دلیل یہ ہے کہ سکھر میں کافی مشھور تھا، لوگ تحقیقی تحریرات سے متاثر ہوتے تھے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے مگر میں بیمار ہوگیا تو پڑھانا چھوڑنا پڑا،جسکی وجہ سے امدن کا ذریعہ ختم ہوگیا تھا تو اس وقت بھی لوگوں تنظیموں سے تعاون نہیں مانگا بلکہ
دودھ کا کاروبار شروع کیا اور ساتھ ساتھ تحقیقی تحریرات کا کام بھی کرتا رہا اور کسی سے کچھ نہیں مانگا۔۔😥لیکن پھر طبعیت زیادہ خراب رہنے لگی تو کاروبار نہ کر سکا تو احباب سے عرض کی کہ حسب طاقت ہوسکے تو تعاون فرمائیں
لیھذا
🙏رشتےدار ،عوام اور محسنین پر میرا کوئی فرض نہیں بنتا کہ وہ مجھے ابھی اور زندگی بھر تنخواہ دیں تعاون کریں، کیونکہ دینی خدمات کو تو میں اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتا ہوں تو پھر اس کا بدلہ بھی اللہ کریم ہی عطا فرمائے گا۔۔لیکن اگر بالفرض کوئی سمجھتا ہے کہ میرا بدلہ تعاون کی صورت میں بنتا ہے تو بھی میں دستبرداری کا اعلان کرتا ہوں لہذا کوئی تعاون کرے نہ کرے ان.شاءاللہ عزوجل میں اپنی بھرپور طاقت کے مطابق خدمات سرانجام دیتا رہوں گا،مگر میرے حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ عوام رشتےدار محسنین تعاون نہ فرمائیں گے تو شاید دینی خدمات و تحریرات کا کام زیادہ نہ کر پاؤں گا
اور
🙏دوست احباب رشتہ دار بیٹے وغیرہ تمام کو وصیت کر جاتا ہوں کہ بڑھاپے یا بیماری میں یہ مت کہنا کہ ہمارے عنایت اللہ حصیر اب بوڑھے یا بیمار ہو چکے ہیں، صحت کے وقت بڑی خدمات کرتے تھے تو اس لیے تعاون کرنا تم پر لازم ہے۔ایسا کسی سے بھی ہرگز نہ کہنا کیونکہ ایک تو مجھ سے تعاون کرنا فرض نہیں اور دوسری بات یہ کہ اگر کوئی تعاون ضروری سمجھتا تھا تو بھی میں دستبرداری کا اعلان کر چکا
✅ہاں
اگر لگے کہ میں بیمار یا بوڑھا ہوکر بھی دین کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں تو پھر رشتےداروں اور عوام و محسنین سے عرض کرنا کہ ہوسکے تو تعاون کیجیے بلکہ میں بھی ابھی سے عرض کییے دیتا ہوں کہ مہربانوں تعاون میں یاد رکھنا جب تک دین کے لیے میں کام اؤں
♥️👈لیکن
جب لگے کہ میں اب دینی معاملات میں کوئی کام کا نہیں رہا تو پھر مجھ پر خرچ نہ کیجئے بلکہ دیگر مفید دینی کاموں میں خرچ کیجئے اور مجھے کسی سستے مفت سرکاری ہاسپٹل میں داخل کر دیجئے گا، اللہ کریم کرم فرمائے گا اور جلد خاتمہ بالخیر فرمائے گا
🚨مگر
یہ سلوک کہ میں بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے کام کا نہ رہوں تو سابقہ خدمات کے تناظر میں بھی مجھ سے تعاون نہ کیجیے ، یہ صرف میرے لیے ہے۔۔۔۔باقی خادمین اہلسنت کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز ہرگز نہیں کرنا، وہ بظاہر کام کے نہ رہیں تب بھی سابقہ خدمات کے تناظر میں تعاون کرتے رہیے گا
۔
🟩 *#مختصر7دلائل پڑھتے جائیے اصل موضوع پر کہ مجبوری معذوری بڑھاپہ وغیرہ مجبوری کی وجہ سے کوئی اب کام میں نہ ائے تو بھی اسکی سابقہ خدمات کے تناظر میں تعاون کرنا بنتا ہے، مجبوری کی وجہ سے خدمت نہ کر پائے تو بھی اس سے تعاون کرنا بنتا*
۔
🔵دلیل نمبر1️⃣
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں صحابہ کرام یا تو خود کفیل تھے، پھر بھی خدمات سرگرمیوں پے انہیں نوازا جاتا تھا مگر چونکہ خود کفیل تھے یا انہوں نے ضرورت محسوس نہ کی تھی انکے لیے لازمی فکس نہ تھا مگر کچھ صحابہ کرام دین کے لیے وقف تھے اور انہیں کھانا پینا راشن وغیرہ سہولیات ملتی تھیں،مالی امداد صدقات وغیرہ سے انہیں بھی ملتا تھا۔۔۔👈مگر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ جنگ بدر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک کے تحت ایک مریض کے خیال دیکھ بھال کے لیے رک گئے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ تمہارے لیے جنگ بدر میں شامل ہونے کا ثواب بھی ہے اور تمہارے لیے مال غنیمت میں سے حصہ بھی ہے۔۔۔( دیکھیے بخاری حدیث3130)
✅لیھذا
🌹جو دینی کام خدمات کے لیے سرگرم ہو اور خدمات و ذمہ دارایوں کی ادائیگی کی بھرپور کوشش کرے مگر بیماری یا معذوری یا بڑھاپہ یا دیکھ بھال یا دیگر جائز عذر مجبوری اڑے ا جائے تو اسے تنخواہ و مالی مدد دی جائے گی۔۔۔ اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے گا
🌹یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے مناسب کوئی مناسب کاروبار کھول کر دیا جائے اور وقتا فوقتا پوچھا بھی جائے اور اس پاس پڑوس وغیرہ سے بھی انکا احوال پوچھا جائے اور اس مطابق اسکی دیکھ بھال و ہدایت کی جائے
🌹مگر یہ کہ اگر وہ اپنی مرضی سے نہ لے اور کہے کہ میری ضروریات اپنے بیٹوں یا بھائیوں یا خاندان وغیرہ کہیں سے پوری ہو رہی ہیں تو اسے چاہیے کہ اپنی تنخواہ وغیرہ ادارے تنظیم عوام سے نہ لے بلکہ کہے کہ اپ لوگ اس رقم کو دوسری مناسب بہتر جگہ خرچ کریں
۔
🔵دلیل نمبر2️⃣
وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ......إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، وَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا
اصحاب صفہ اسلام کے مہمان ہیں( اللہ کے مہمان ہیں).....جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اصحاب صفہ کو دیتے آپ علیہ الصلاۃ والسلام صدقے میں سے کچھ بھی تناول نہ فرماتے اور اگر ہدیہ آتا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اصحاب صفہ کی طرف بھیجتے اور خود بھی تناول فرماتے
(بخاری6452)
۔
کسی معتبر کتاب میں یہ نہیں ایا کہ اصحاب صفہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کرنے پر زور دیا ہو، محنت مزدوری کے لیے زور دیا ہو۔۔۔ جبکہ اپ علیہ السلام عمومی طور پر تو صحابہ کرام اور تا قیامت کے لوگوں کو تجارت کے لیے بھی ابھارا اور محنت مزدوری کے لیے بھی ابھارا زور دیا لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ اپ نے اصحاب صفہ کو مخصوص و متعین کیا دینی خدمات کے لیے اور ان کے لیے صدقات تحائف وغیرہ تعاون ہمیشہ فرماتے رہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دینی خدمات کے لیے کوئی مخصوص و متعین ہو اور وہ ضرورت مند ہو، بوڑھا یا معذور ہوجائے تو بھی اس کے ساتھ تعاون جاری رکھنا بنتا ہے اگر کوئی اور مناسب چارہ نہ ہو تو تعاون بڑھاپے بلکہ اسکی بعد بھی تعاون کرتے رہنا لازم تک ہوجاتا ہے۔۔۔ہاں بعض احباب کو دینی علم سے وابسطہ رہنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ معیشت و دیگر جائز دینی محاذوں میں ڈالنا بھی ایت مبارکہ و سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،اور بعض کو دینی خدمات میں ہی مخصوص و متعین کر کے ہمیشہ اس کے لیے مدد کرتے رہنا بھی سنت مبارکہ سے ثابت ہے ،صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے۔۔۔🌹مذکورہ بالا دلائل اور دیگر ایات و احادیث وغیرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے ایسا نظام دیا ہے کہ جو بڑھاپے معذوری ضرورت حاجت محتاجی میں مدد فراہم کرتا ہے
.
لِأَنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ لَيْسَ إلَّا اسْتِفَادَةَ الْأَحْكَامِ وَهَلْ يَبْلُغُ طَالِبٌ رُتْبَةَ مَنْ لَازَمَ صُحْبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتَلَقِّي الْأَحْكَامِ عَنْهُ كَأَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَالتَّفْسِيرُ بِطَالِبِ الْعِلْمِ وَجِيهٌ خُصُوصًا وَقَدْ قَالَ فِي الْبَدَائِعِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَمِيعُ الْقُرَبِ فَيَدْخُلُ فِيهِ كُلُّ مَنْ سَعَى فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَسَبِيلِ الْخَيْرَاتِ إذَا كَانَ
مُحْتَاجًا
وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عننھم اجمعین جو اصحاب صفہ کے نام سے مشہور ہیں وہ علم و احکامات و دینی کاموں کے لیے خصوصی طور پر مقرر تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالب علم اور مدرسین بلکہ ہر وہ شخص کہ جو اللہ کی راہ میں خدمات سر انجام دیتا ہو( امام مسجد خطیب علماء مدرسین مصنفین،سوشلی، لکھاری، اڈیو ویڈیو وغیرہ سے دینی خدمات کرنے والے، اچھی سیاست اچھی سیکیورٹی فوج اور اچھی سائنسدانی وغیرہ وغیرہ ہر وہ محاذ کہ جو دین کی سربلندی کے لیے ہو اس میں جو بھی مصروف ہو خدمات سر انجام دیتا ہو) تو اس کے ساتھ زکوۃ فطرانہ وغیرہ سے تعاون کرنا بنتا ہے
(دیکھیے رد المحتار ,2/343 مشرحا ماخوذا)
(درر الحكام شرح غرر الأحكام ,1/189مشرحا ماخوذا)
.
۔
🔵#دلیل3️⃣
1...فرض عمر لأهل بدر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے( اپنے زمانہ خلافت میں) اہل بدر صحابہ کرام کے لیے( سابقہ خدمات کے تناظر میں )وظیفہ تعاون مقرر فرمایا
(استاد بخاری مصنف ابن ابی شیبہ روایت35071)
۔
2....وفرض للمهاجرين في خمسة آلاف خمسة آلاف، وللأنصار في أربعة آلاف أربعة آلاف
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے( اپنے زمانہ خلافت میں سابقہ خدمات کے تناظر میں) مہاجرین صحابہ کرام کے لیے 5 ہزار اور انصار صحابہ کرام کے لیے 4ہزار وظیفہ تعاون مقرر فرمایا
(استاد بخاری مصنف ابن ابی شیبہ روایت35070)
۔
3...فرض عمر لأهل بدر في ستة آلاف ستة آلاف
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے اہل بدر صحابہ کرام کے لیے (سابقہ خدمات کے تناظر میں) چھ ہزار وظیفہ تعاون مقرر فرمایا
(استاد بخاری مصنف ابن ابی شیبہ روایت35076)
.
4....كان عطاءُ أهلِ بدر ستةَ آلاف ستةَ آلاف
اہل بدر صحابہ کرام کے لیے (سابقہ خدمات کے تناظر میں) چھ ہزار وظیفہ تعاون مقرر رہا
(مستدرک حاکم روایت6873)
۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے یقینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ایات سے اخذ فرمایا اور سابقہ خدمات پر تعاون وظیفہ مقرر فرمایا اور یہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
الحدیث:
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا
بِهَا
نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پر میری سنت لازم ہے اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کی سنت لازم ہے، ان سنتوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو
(ابوداؤد حدیث4607)
(ابن ماجہ حدیث43نحوہ)
(ترمذی حدیث2676نحوہ)
۔
🔵دلیل نمبر4️⃣
🌹الحدیث:
المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه، ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة، فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة
ترجمہ:
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،وہ نا اس پر ظلم کرے اور نا ظلم کرنے دے،نہ بےیار و مددگار چھوڑے اورجو اپنے(مسلمان بھائی) کی حاجت روائی میں ہو اللہ اسکی حاجت روائی فرمائے گا، اور جو کسی مسلمان سے مصائب.و.مشقت تکالیف دور کرے اللہ قیامت کے دن اس سے تکالیف.و.مشقت دور فرمائے گا...(بخاری حدیث2442)
👈1۔۔۔۔حدیث پاک میں واضح رہنمائی ہے کہ امام مسجد ہو یا مدرسہ کا استاد یا کوئی لکھاری یا دین کی سربلندی کے لیے کسی بھی محاذ پر کام کرنے والا خدمت گزار ہو تو اسے خدمات کرتے وقت بھی بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے
اور جب وہ بوڑھا ہو جائے یا محتاج معذور ہو جائے تو بھی اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے
.
👈2...زلزلہ زدگان،سیلاب زدگان، بارش متاثرین و یتیم و غرباء مستحقین کو بےیار و مددگار مت چھوڑیے انکی مدد انکی حاجت و ضرورت کے مطابق وقتا فوقتا کرتے رہا کیجیے،
۔
👈3۔۔۔۔بعض کی اشد ضرورت پکا ہوا کھانا ہے انہیں پکا پکایا کھانا و صاف پانی دیجیے، بعض کی حاجت خشک راشن ہے انہیں راشن دیجیے،بعض کی اہم ضرورت یہ ہے کہ گھروں محلوں سے فورا پانی نکالا جائے تو ان کے لیے نکاسی آب کےلیے مدد کیجیے،کسی کو ضرورت ادویات و علاج خیموں ترپالوں پلاسٹک و لکڑیوں گیس سیلنڈروں کی ہے تو اس حساب سے مدد کیجیے،کسی کی حاجت مکانوں کی تعمیر ہے تو تعمیرات میں مدد کیجیے…حسب حاجت مدد کرنا زیادہ بہتر ہے و نافع ہے۔۔۔۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معتبر مستحق کو پیسے دییے جاءیں جو وہ اپنی حاجت میں استعمال کرے
۔
🔵دلیل نمبر5️⃣
الحدیث:
عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ "..... " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔۔۔۔( ان صدقات لازمہ میں سے ہے کہ )حاجت مند غمگین مظلوم کی مدد کی جائے( چاہے وہ مدد کے لیے پکارے یا نہ پکارے)
(بخاری حدیث1445)
.
🔵دلیل نمبر6️⃣
مختلف محاذ۔۔۔۔۔اور ان میں مدد پر 4 ایت مبارکہ
1۔۔۔🌹القرآن:
فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ
ترجمہ
تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی فقہ و سمجھ حاصل کریں اور اپنی قوم کو ڈر سنائیں(باعمل ہوکر علم شعور معاشرےمیں پھیلائیں)
(سورہ توبہ آیت122)
اس آیت مبارکہ میں بھی اشارہ ہے کہ بعض لوگ علم و شعور تحریر تقریر تحقیق و اصلاح کے لیے مخصوص ہوں...مدارس کے لیے مخصوص ہوں......اگر یہ لوگ کمانے میں لگیں گے یا انہیں مدد تعاون تنخواہ نہ دی جائے گی اور بڑھاپے میں ، مجبوری میں انکا خیال نہ رکھا جائے گا تو بظاہر علم شعور مدارس کا سلسلہ کمزور سے کمزور بلکہ ختم ہی ہوتا جائے گا....اللہ نہ کرے ایسا ہو........!!
.
2۔۔۔۔🌹القرآن:
اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ
اگر تم مسلمان یہ(یعنی ایک دوسرے سے علمی،جانی ،مالی، اتحاد،جائز جدت و عسکری قوت وغیرہ ہر مناسب ترقی و تعاون)نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ تباہی و بڑا فساد برپا ہو گا(سورہ انفال ایت73 +تفاسیر)
1️⃣ہم اگر علماء مدارس لکھاری امام مسجد وغیرہ دینی کام و اصلاح میں مگن لوگوں کی جانی مالی تحفظاتی حوصلاتی مدد نہ کریں گے۔۔۔2️⃣اگر ہم حکمرانوں کی مدد نہ کریں گے، سمجھا کر یا وقتِ ضرورت ان پر پریشر ڈال کر دین کے کام نہ کروائیں گے۔۔۔۔3️⃣دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم عسکری علوم جدت ٹیکنالوجی میں نہ چھاتے جائیں گے۔۔4️⃣ہر قسم کے سرکاری و نجی اداروں کے نصاب و نظام کو اسلام موافق نہ کرتے جائیں گے۔۔۔۔5️⃣سیاست تجارت حکومت میں اچھوں کو نہ لاتے جائیں گے۔۔۔6️⃣اتحاد نہ کریں گے۔۔7️⃣منافقوں ایجنٹوں بروں میں سے نہ سمجھنے والے ضدی فسادی سے بائیکاٹ نہ کریں گے۔۔۔8️⃣بیرونی دباؤ ہو نہ ہو ہر حال میں جراءت و دلائل کا اظہار نہ کریں گے
تو
اسی طرح غزہ کشمیر جیسے مظالم اور زمین میں فتنہ و فساد اور مسلم ممالک میں اسلام مخالف قوانین و برائی پر انسو بہانے افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر پائیں گے۔۔۔
👈اب بھی وقت ہے ایت و اسلام پے عمل کریں، ہر قسم کی جائز مدد ایک دوسرے کی ضرور ضرور کریں
اور
👈ہر جائز شعبے میں چھاتے جائیں تو فتنہ فساد ختم ہوتا جائے گا ، انسانیت کا مفید نظام یعنی نظامِ اسلام نافذ ہوتا جائے گا
.
3۔۔۔۔🌹القرآن:
اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ
ہر مورچے پے(اسی طرح ہر جائز شعبے میں) ان سے مقابلے کے لیے تیار بیٹھو...(سورہ توبہ آیت5)
اور مولوی حضرات اسلام کے ایک بہت بڑے محاذ دینی محاذ کو الحمدللہ سنبھالے ہوئے ہیں اور دن رات سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں تو پھر دیگر شعبوں کی طرح ان دینی شعبوں کی بھی تنخواہ مقرر ہونی چاہیے نا۔۔۔۔؟؟
.
4۔۔۔۔🌹القرآن:
اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ
جو قوت،طاقت ہوسکے تیار رکھو..(سورہ انفال آیت60)
آیت مبارکہ مین غور کیا جائے تو ایک بہت عظیم اصول بتایا گیا ہے... جس میں معاشی طاقت... افرادی طاقت... جدید ہتھیار کی طاقت...دینی علوم و مدارس کی طاقت, جدید تعلیم و ترقی کی طاقت.... علم.و.شعور کی طاقت... میڈیکل اور سائنسی علوم کی طاقت...دینی دنیاوی علوم فنون کی طاقت... اقتدار میں اچھے لوگوں کو لانے کی طاقت.. احتیاطی تدابیر مشقیں جدت ترقی اور دیگر طاقت و قوت کا انتظام و اہتمام کرنا چاہیے،یہ سب طاقتیں قوتیں حاصل کرنی چاہیے، مدارس و اسکول میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم و فنون سکھانے کا اہتمام ہونا چاہیے بشرطیکہ ان علوم و فنون کا مقصد جائز ہو، مقصود اسلام کی سربلندی ہو....!!
۔
🔵دلیل نمبر7️⃣
*#کبھی امداد پیسے راشن دینے کے بجائے ترقی دینا لازم ہوتا ہے۔۔اور کبھی کچھ وقت کے لیے امداد دینا لازم ہوتا ہے اور کاروبار جاب دلانا خودمختار بنانا اصل مشن ہے، مگر ایک مشن یہ ہے کہ کچھ اہم افراد کو ہمیشہ امداد تعاون راشن پیسہ دینا لازم ہوتا ہے۔۔۔تفصیل کچھ یوں ہے کہ۔۔۔۔!!*
۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت مبارکہ یہ بھی ہے کہ:
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مواقع پہ امداد راشن تعاون کھانے پینے کی چیز سامان ساز و سامان دیا۔۔۔ بہت سارے واقعات ہیں مثلا دیکھیے مسلم حدیث1017.. 2351
.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری سنت مبارکہ یہ بھی ہے کہ:
ایک صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعاون کی اپیل کی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں جو کچھ ہے وہ لے اؤ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس میں سے مہنگے داموں بکوا کر فرمایا کہ کچھ پیسے راشن میں استعمال کر اور بقیہ پیسوں کی کلہاڑی خرید لکڑیاں کاٹ اور انہیں خرید و فروخت کر اور اس طرح اپنا کاروبار چلا
دیکھیے ابو داؤد حدیث 1641
۔
👈1...کسی کو راشن پہ چلانا کبھی کبھار جرم ہوتا ہے،جی ہاں تعاون یہ نہیں کہ اپ کسی کو اپنا محتاج بنا دیں، اصل تعاون کی جڑ یہ ہے کہ سامنے والا اگر ترقی کر سکتا ہے ، اس میں ہمت طاقت ہے اور ترقی کرنا ہی اس کے لیے مفید ہے، اسلام کے لیے مفید ہے تو اسے عارضی طور پر کچھ راشن دے دیجئے اور اصل مدد یہ ہے کہ اپ اکیلے یا چند احباب مل کر یا وفاق یا صوبائی حکومت کوئی بھی اسے کوئی کاروبار سکھائے اور کاروبار کھول کے دے اور کاروبار کامیاب بھی کرانے میں مدد کرے، یہ ہے اصل ترقی کہ کسی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیجیے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ راشن دینا بند کر دیں۔۔ممکن ہے اس کا کاروبار نہ چل سکے یا کاروبار سے گھر نہ چل سکے تو کچھ نہ کچھ مدد کرتے رہنا ضروری ہوگا تاکہ وہ کاروبار کو مزید بڑھا سکے
۔
👈2...اسی طرح بعض اوقات کسی کو کاروبار نہ کھول کے دینا ہی ضروری ہوتا ہے۔۔۔ بلکہ لازم ہوتا ہے کہ ان کی راشن پیسوں وغیرہ سے امداد کی جائے تاکہ وہ کاروبار کی طرف توجہ نہ کریں بلکہ اسلام کے دیگر محاذ پر مکمل توجہ سے کام کریں۔۔۔ مثلا دین اسلام کی سچی تعلیمات عام کرنے کے لیے خدمات عام کرنے کے لیے سرگرم سچے مسلم مدارس علماء لکھار، طلباء وغیرہ وغیرہ کی ہمیشہ مدد کی جائے اور ان میں سے بعض کو تجارت معیشت وغیرہ دیگر محاذ پر بھیجنا چاہیے اور بعض کو ہمیشہ مدد کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ فقط اور فقط دینی خدمات پر مرکوز و موقوف رہیں
اور
اسی طرح اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے سچے سائنسدان وکیل جج پولیس فوج انجنئیر وغیرہ وغیرہ جو بھی جس جائز محاذ پر اسلام کی سربلندی کے لیے خدمات سرانجام دے رہا ہو ان کی ہمیشہ مدد کی جائے، اور جیسے مدارس چلانے والے علمائے کرام اور سچے اچھے مبلغ حضرات ، علم و شعور پھیلانے والے معتبر لکھاری محققین مصنفین امام مسجد وغیرہ میں سے بعض کو بے شک چھوٹی یا بڑی تجارت کی طرف لگانا چاہیے تاکہ وہ کچھ کام دین کا بھی کام کریں اور ساتھ میں کچھ کاروبار بھی کریں
مگر
👈3....کئی ایسے افراد و ٹیم بنانا سنبھالنا بھی ضروری ہیں کہ ان کی ہمیشہ مالی مدد کی جائے راشن دیا جائے دیگر تعاون کیے جائیں اور انہیں کاروبار سے بے نیاز کر دیا جائے تاکہ وہ مکمل وقت دے کر بہت زبردست قسم کی تعلیمی سائنسی ٹیکنالوجی دینی تدریسی تحقیقی وغیرہ مختلف خدمات اسلام کی سربلندی کے لیے ، مسلمانوں کی بھلائی کے لیے سرانجام دے سکیں اور انکی بڑھاپے میں بھی معذوری میں بھی مدد و تنخواہ جاری رکھی جائے
۔
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475