Labels

اصلی مفتی عالم اسلالر کو منافق ایجنٹ مفتی اسکالر سوشلی سے مت ملاو، نقلی کی وجہ سے اصلی سے نفرت مت کرو۔۔۔👈منافق مرزا جہلمی اور ساجد نقلی نقشبندی دونوں پر توہین رسالت کفر کا فتوی خود انہی کی زبانی لگتا ہے۔۔؟؟ بکری، چسکے، جہلمی ، مفتی ثمر عباس، جہلمی و قادیانی پھوڑے، لیٹرین۔۔۔۔؟؟ تفصیل و دلائل پڑھیے،👈خلاصہ تو ضرور پڑھیے


🟥 *#اصلی مفتی عالم اسلالر کو منافق ایجنٹ مفتی اسکالر سوشلی سے مت ملاو، نقلی کی وجہ سے اصلی سے نفرت مت کرو۔۔۔👈منافق مرزا جہلمی اور ساجد نقلی نقشبندی دونوں پر توہین رسالت کفر کا فتوی خود انہی کی زبانی لگتا ہے۔۔؟؟ بکری، چسکے، جہلمی ، مفتی ثمر عباس، جہلمی و قادیانی پھوڑے، لیٹرین۔۔۔۔؟؟ تفصیل و دلائل پڑھیے،👈خلاصہ تو ضرور پڑھیے*

۔

اہم تحریرات اس لنک پے

https://tahriratehaseer.blogspot.com/?m=1

👈👈جہلمی کی وڈیو ان دو لنکس پے

https://tahriratehaseer.blogspot.com/2026/05/blog-post_19.html

.

https://www.facebook.com/share/v/18u6BU2KC4/

🚨انتباہ:

یہ کوئی افیشل فتوی نہیں ہے بلکہ علم پھیلانا مقصد ہےتاکہ لوگ حق سچ جانیں اور بدمذہبوں گمراہوں مرتدوں کافروں مکاروں سے دور رہیں اور یہ دعا و نیت ہوتی ہے کہ رب کریم ہماری تحریر کو ویڈیو کو ہدایت کا باعث بنائے، مرتد گمراہ گستاخ وغیرہ کو ہدایت دے ، اور لوگوں کو ان کی پہچان عطا فرمائے اور توفیق دے کے ان سے وہ دور رہیں

۔

🟩 *#پس منظر و خلاصہ تحریر*

مفتی ثمر عباس صاحب نے حدیث پاک وضاحت و تشریح کے ساتھ بیان فرمائی کہ۔۔۔المفھوم:

منافق اور صلح کلی والے لوگوں جعلی اسکالز جعلی علماء کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری سے تشبیہ دی ہے کہ جو مختلف ریوڑوں میں نر تلاش کرتی رہتی ہے تاکہ اس سے چسکے پورے کرے سب کو خوش کرے اور سب اس سے خوش ہوں

👈اس

بیان پر ساجد نقلی نقشبندی اور مرزا جہلمی نے واضح طور پر لکھا پھیلایا کہ مفتی ثمر عباس نے بار بار بکری چسکے والی من گھڑت حدیث بیان کی ہے(اور یاد رکھیے من گھڑت حدیث جان بوجھ کر بیان کرنا کفر ہے گویا ساجد نقلی نقشبندی کے نزدیک بھی مفتی ثمر عباس صاحب نے توہین رسالت و گستاخی و کفر کیا نعوذ باللہ) 

👈اور

مرزا جہلمی نے کہا کہ مفتی ثمر عباس نے توہین رسالت کی ہے ،اس پر گستاخی رسول کا فتوی لگتا ہے اور قانون جاری ہوتا ہے۔۔۔۔۔👈اور مرز جہلمی نے کہا کہ یہ مت کہو کہ فلاں لیٹرین میں مر گیا کیونکہ صحابی رسول طاعون کے مرض میں بڑے بڑے پھوڑے پیپ کی حالت میں وفات پا گئے

۔

🟢اب یہ پڑھیے

1️⃣۔۔۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا کہ میری احادیث مبارکہ وسیع معنی کو شامل ہوتی ہے، اور احادیث مبارکہ و صحابہ کرام سے ثابت ہے کہ قران اور احادیث کی تشریح سمجھنے کے لیے دیگر ایات و احادیث و لغت فصاحت بلاغت وغیرہ کو مد نظر رکھا جائے

اب

ہم نے نیچے کم و بیش20 حوالہ جات معتبر ترین کتب سے پیش کیے ہیں جن میں واضح لکھا ہے کہ مسلم و مشکواہ شریف والی حدیث پاک کا ایک معنی یہ ہے کہ منافق اس بکری کی طرح ہے جو جفتی جماع چسکے کے لیے ایک ریوڑ میں نر کے پاس جاتی ہے اور دوسرے ریوڑ میں نر کے پاس جاتی ہے  ، یعنی دونوں کو خوش رکھتی ہے، اور دونوں اس سے خوش و راضی ہوتے ہیں۔۔ ان 20 حوالہ جات میں اکثر بلکہ تقریبا سب ہی وہ حوالہ جات ہیں کہ جس کو اہل حدیث وہابی نجدی دیوبندی وغیرہ سارے مانتے ہیں اور ساجد نقشبندی اور مرزا جہلمی بھی ان حوالہ جات کے مصنفین کو مانتا ہے کیونکہ ان حوالہ جات میں خاص طور پر اہل حدیث کے بھی حوالہ جات ہیں اور مرزا جہلمی نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ حق کے قریب تر اہلحدیث ہیں

۔

2️⃣۔۔۔ حدیث پاک میں ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کو کافر کہے یا کوئی فتوی لگائے تو اگر سامنے والا شخص ایسا نہیں ہے تو کفر وغیرہ کا فتوی لگانے والے پر ہی اس کا فتوی لگ جاتا ہے

۔

3️⃣۔۔۔ اب یا تو ساجد نقلی نقشبندی اور مرزا جہلمی ان 20حوالہ جات کے مصنفین اور ان کے ماننے والوں پر کفر گستاخی توہین رسالت کا فتوی لگا کر خود پر فتوی لگا دیں کفر و گستاخی کا۔۔۔۔۔کیونکہ جں اسلاف کا ہم نے حوالہ دیا وہ تو تمام کے مطابق گستاخ نہیں تو پھر ان اسلاف کی تشریح کو مانو اور وہ تشریح وہی ہے کہ جو مفتی ثمر عباس نے بیان کی ہے، ورنہ اگر ثمر عباس صاحب پر توہین رسالت کا فتوی لگاؤ گے تو وہی تشریح کرنے والے اسلاف جن کو تم بھی مانتے ہو ان پر توہین رسالت کا فتوی لگ جائے گا اور چونکہ یہ غلط فتوی تم نے لگایا ہے اس لیے تم پر لوٹ کر کفر و توہین رسالت کا فتوی لگ جائے گا

۔

4️⃣۔۔۔ مرض کی حالت میں طاعون کی حالت میں پھوڑے کی حالت میں مسلمان کی وفات ہو جائے تو اس کو حدیث پاک میں شہادت فرمایا گیا ہے جبکہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میری بری موت ہو اور اس کی موت لیٹرین ٹٹی حیضہ وغیرہ میں بری طرح سے ہوئی

 تو

اس لیے ہم بطور دلیل کہتے ہیں کہ خود قادیانی کے مطابق وہ کذاب جھوٹا ہے تو یہ بات بالکل برحق ہے🚨جبکہ مرزا جہلمی ہماری اس دلیل کو غلط قرار دے کر نعوذ باللہ تعالی دجال جھوٹا نبی مرزا غلام قادیانی کی موت کو صحابی کی شہادت سے تشبیہ دے رہا ہے جو کہ خود ایک بہت بڑی گستاخی ہے اور قادیانیت نوازی ہے، اس معاملے میں بھی مرزا جہلمی پر پرچہ کٹنا بنتا ہے

۔

🟫🟫🟫🟫🟫🟫

🟩 *#تفصیل و دلائل*

✅اصول1

ایات مبارکہ اور احادیث مبارکہ کئی معنی کو شامل ہوتے ہیں تو کوئی ایک معنی بیان کرے اور دوسرے کی نفی نہ کی جائے تو ایسا بہت ہوتا رہا ہے صحابہ کرام میں اہل بیت عظام میں تابعین ائمہ مجتہدین اسلاف علماء کرام کے کتب و بیان میں۔۔۔۔۔!!

👈👈الحدیث:

بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ بھیجا گیا ہے

(بخاری حدیث7013)

.

أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ

 نبی کریم روف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ہیں

(مسلم حدیث523)

.

🔵1....معناه: إيجاز الكلام في إشباع للمعاني، يقول الكلمة القليلة الحروف، فتنتظم الكثير من المعنى، وتتضمن أنواعا من الأحكام. وفيه: الحض على حسن التفهم، والحث على الاستنباط لاستخراج تلك المعاني،

 مذکورہ احادیث میں بخاری شریف اور مسلم شریف کی احادیث میں یہ معنی بتائے گئے ہیں کہ کلام کے بہت سارے معنی ہوتے ہیں ایک قلیل کلمہ بہت سارے معنی کو شامل ہوتا ہے کئی سارے احکامات کو شامل ہوتا ہے تو اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان معنی کو سمجھا جائے اور ان معنی کا استنباط کیا جائے دلائل کے ساتھ

(أعلام الحديث شرح صحيح البخاري 2/1442)

.

🔵2.....يَعْنِي الْقُرْآن جمع الله تَعَالَى فِي أَلْفَاظ يسيرَة مِنْهُ مَعَاني كَثِيرَة

وَكَذَلِكَ كَانَ صلى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَكَلَّمُ بِأَلْفَاظٍ يَسِيرَةٍ تَحْتَوِي عَلَى مَعَاني كَثِيرَة

 حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قران پاک میں کم الفاظوں میں کئی سارے معنی بھر دیے ہیں اور اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں بہت بہت سارے معنی موجود ہوتے ہیں

(حاشية السندي على سنن النسائي6/3)

.

🔵3.....و {جوامع الكلم} أي الكلمات القليلة الجامعة للمعاني الكثيرة

 جوام الکلم سے مراد یہ ہے کہ قلیل جملے ہوں اور وہ بہت سارے معنی کو جامع ہوں

( الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري25/30)

.

🔵4....يَعْنِي بِهِ الْقُرْآنَ جَمَعَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْأَلْفَاظِ الْيَسِيرَةِ مِنْهُ الْمَعَانِيَ الْكَثِيرَةَ وَكَلَامُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْجَوَامِعِ قَلِيلُ اللَّفْظِ كَثِيرُ الْمَعَانِي

حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قران پاک میں کم الفاظوں میں کئی سارے معنی بھر دیے ہیں اور اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں بہت بہت سارے معنی موجود ہوتے ہیں

( شرح النووي على مسلم5/5)

.

🔵5.....أي: الألفاظ القليلة تجمع المعاني الكثيرة كالقرآن، وكثير من الأحاديث

 جوامع الکلم سے مراد یہ ہے کہ الفاظ قلیل ہوں مگر کثیر معنی کو جامع ہوں جیسے کہ قران اور کئی احادیث

( التوشيح شرح الجامع الصحيح5/1984)

.

✅اصول2

کسی پر توہین رسالت یا کفر یا بدمذہب وغیرہ کا فتوی کوئی لگائے اور وہ ویسا نہ ہو تو پھر فتوی لوٹ کر خود اسی پر لگے گا

👈👈الحدیث:

 أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ

جس نے کسی مسلمان کو کافر قرار دیا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک ضرور کافر ہوگا، جس کو کافر قرار دیا اگر وہ ویسا نہ ہو تو پھر کافر قرار دینے والے پر کفر کا حکم لوٹ کر لگے گا

(مسلم حدیث216٫، ، 60 نیز اس قسم کی حدیث بخاری ابو داؤد وغیرہ کئی کتب احادیث میں بھی ہے)

۔

✅اصول3

ایات مبارکہ احادیث مبارکہ کا معنی سمجھنے کے لیے دیگر ایات مبارکہ و دیگر احادیث مبارکہ اور لغت فصاحت بلاغت وغیرہ دیگر علوم کی معرفت بھی ضروری ہے

۔

🟢1۔۔۔۔سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

 عليكم بديوانكم لا تضلوا. قالوا: وما ديواننا؟ قال:شعر الجاهلية فإنّ فيه تفسير كتابكم

تم پر عربی دیوان (عربی لغت بلاغت فصاحت گرائمر وغیرہ علوم متعلقہ ) لازم ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ.. بے شک اس دیوان عرب و لغت وغیرہ میں تمہارے کتاب یعنی قران مجید(اور اسی طرح احادیث مبارکہ) کی تفسیر و تشریح بھی ہے

(غريب القرآن في شعر العرب ص19)

.

🟢2....وَتَعَلَّمُوا الْعَرَبِيَّةَ مَا تُعْرِفُونَ بِهِ كِتَابَ اللهِ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عربی کا علم حاصل کرو کہ جس سے قران کا علم تمہیں ملے گا قران( اور اسی طرح احادیث مبارکہ) کی صحیح فہم تمہیں ملے گی

( فضل علم السلف على علم الخلف ص11)

عربی کا علم مطلق ہے جس میں گرائمر حقیقت مجاز لغت بدیع معنی بیان وغیرہ کئی عربی کے علوم و فنون کا ہونا لازمی ہے

.

🟢3...عن عُمَر: تعلموَا العربيةَ فإنها مِنَ دينِكُمْ،

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ عربی سیکھو عربی کے علوم فنون سیکھو کہ بے شک  اس سے تم دین( ایات و احادیث و اقوال صحابہ کرام اہل بیت عظام وغیرہ) کی صحیح سمجھ حاصل کر سکو گے

(مسبوك الذهب في فضل العرب وشرف العلم على شرف النسب ص63)

.

🟢4....قال: حسن يتعلمها فإن الرجل يقرأ الآية فيعيا بوجهها فيهلك بها...

امام حسن فرماتے ہیں جسے قران احادیث اثار صحابہ عربی علوم و فنون کا علم نہ ہوگا وہ کوئی ایت(یا حدیث) پڑھے گا تو اسے اس کی سمجھ نہیں ائے گی اور وہ غلط تشریح کر کے غلط تشریح سمجھ کے غلط تشریح پھیلا کے ہلاکت میں پڑے گا

(شعب الایمان3/216مشرحا)

.

🟢5....عمر...فَإِنَّ أَصْحَابَ السُّنَنِ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّه

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ کے علم کے لیے ضروری ہے کہ احادیث و سنتوں کا علم ہو

(ذم الكلام و اهله3/32)

.


🟢6....مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ يُفَسِّرُ كِتَابَ اللَّهِ غَيْرِ عَالِمٍ بِلُغَةِ الْعَرَبِ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا..وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَالِمًا بِلُغَاتِ الْعَرَبِ...وَرَوَى عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا سَأَلْتُمُونِي عَنْ غَرِيبِ اللُّغَةِ فَالْتَمِسُوهُ فِي الشِّعْرِ

امام مالک فرماتے ہیں کہ جو شخص قران مجید( اور اسی طرح حدیث مبارک) کی تفسیر تشریح غیر عالم ہو کر کرے عربی لغت کو نہ جانتے ہوئے کرے تو میں اسے شدید سزا دوں گا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے عظیم شاگرد امام مجاہد فرماتے ہیں کہ جو اللہ اور اخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ کتاب اللہ(اور احادیث مبارکہ) کی تفسیر و تشریح نہ کرے بلکہ صرف وہ معتبر عالم دین تفسیر و تشریحکر سکتا ہے کہ جو دیگر ایات احادیث اقوال و علوم علوم کے ساتھ ساتھ لغت عرب کا بھی عالم ہو

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم مجھ سے قران مجید( اور اسی طرح احادیث مبارکہ) کی تفسیر  تشریح پوچھو تو اس کو عربی اشعار یعنی عربی لغت میں بھی تلاش کرو

(البرهان في علوم القرآن1/292ماخوذا)

.

🟢7.....قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: «مَنْ كَانَ عَالِمًا بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِقَوْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَا اسْتَحْسَنَ فُقَهَاءُ الْمُسْلِمِينَ وَسِعَهُ أَنْ يَجْتَهِدَ رَأْيَهُ...قال الشافعی لَا يَقِيسُ إِلَّا مَنْ جَمَعَ آلَاتِ .الْقِيَاسِ وَهَى الْعِلْمُ بِالْأَحْكَامِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَرْضِهِ وَأَدَبِهِ وَنَاسِخِهِ وَمَنْسُوخِهِ وَعَامِّهِ وَخَاصِّهِ وإِرْشَادِهِ وَنَدْبِهِ

....وَلَا يَكُونُ لِأَحَدٍ أَنْ يَقِيسَ حَتَّى يَكُونَ عَالِمًا بِمَا مَضَى قَبْلَهُ مِنَ السُّنَنِ، وَأَقَاوِيلِ السَّلَفِ وَإِجْمَاعِ النَّاسِ وَاخْتِلَافِهِمْ وَلِسَانِ الْعَرَبِ وَيَكُونُ صَحِيحَ الْعَقْلِ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَ الْمُشْتَبِهِ، وَلَا يُعَجِّلَ بِالْقَوْلِ وَلَا يَمْتَنِعَ مِنَ الِاسْتِمَاعِ مِمَّنْ خَالَفَهُ لَأَنَّ لَهُ فِي ذَلِكَ تَنْبِيهًا عَلَى غَفْلَةٍ رُبَّمَا كَانَتْ مِنْهُ.... وَعَلَيْهِ بُلُوغُ عَامَّةِ جَهْدِهِ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِهِ حَتَّى يَعْرِفَ مِنْ أَيْنَ قَالَ

 مَا يَقُولُ

 امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے شاگرد رشید محمد بن حسن فرماتے ہیں کہ جو کتاب اللہ کا عالم ہو سنت رسول اللہ و احادیث مبارکہ کا عالم ہو اور صحابہ کرام کے اقوال کا عالم ہو اور فقہاء کے اجتہاد و استنباط و قیاس کا عالم ہو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ قیاس و اجتہاد کرے(ایسے ہی کے لیے جائز ہے کہ وہ قران کی تفسیر اور حدیث کی تشریح کرے، مسائل و فوائد نکالے)

 امام شافعی فرماتے ہیں کہ قیاس و اجتہاد(اسی طرح قران مجید کی تفسیر اور احادیث کی تشریح) وہی کرسکتا ہے کہ جس نے قیاس کے لیے مطلوبہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کی ہو، مثلا قرآن کریم(اور سنت رسول، احادیث مبارکہ) کے احکامات کا علم ہو قرآن کریم(و سنت رسول اور احادیث مبارکہ) کے فرض واجبات آداب ناسخ  منسوخ عام خاص اور اس کے ارشادات و مندوبات وغیرہ کا علم ہو...

قیاس و اجتہاد( اسی طرح قران مجید کی تفسیر اور احادیث کی تشریح)صرف اس عالم کے لئے جائز ہے کہ جو عالم ہو سنتوں اور سحادیث مبارکہ اور اسلاف(صحابہ کرام تابعین عظام و دیگر ائمہ)کے اقوال کا عالم ہو، اسلاف کے اجماع و اختلاف کا عالم ہو، لغت عرب کے فنون کا عالم ہو، عمدہ عقل والا ہو تاکہ اشتباہ سے بچ سکے،اور جلد باز نہ ہو،اور مخالف کی بات سننے کا دل جگرہ رکھتا ہوکہ ممکن ہے یہ غفلت میں ہو اور مخالف کی تنقید سے غفلت ہٹ جائے اور اس پر واجب ہے کہ دلائل پر بھرپور غور کرے انصاف کے ساتھ بلاتعصب اور اسے پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے کس بنیاد پر کہہ رہا ہے

(جامع بیان العلم و فضلہ2/856)

.

🟫🟫🟫🟫🟫🟫🟫

🟩۔۔۔امید ہے اپ نے اوپر 3 اہم ترین متعلقہ اصول ذہن نشین فرما لیے ہوں گے کہ

1۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک بھی جامع ہوتی ہے کئی معنی کو شامل ہوتی ہے لہذا اگر کوئی ایک معنی کو بیان کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرط کہ وہ معنی معتبر علماء نے لیا ہو یا معتبر دلائل کے ساتھ وہ معنی بنتا ہو نکلتا ہو،

2۔۔۔ اور دوسرا اصول یہ بھی اپ نے ذہن نشین فرما لیا ہوگا کہ دلائل کے ساتھ لغت وغیرہ دلائل کے ساتھ قران اور احادیث مبارکہ کی تشریح کرنا بالکل برحق ہے بلکہ جو دلائل کے بغیر تشریح کرے اس پر سزا بنتی ہے

3۔۔۔اور تیسرا اصول یہ بھی یاد فرما لیا ہوگا کہ کوئی کسی پر کفر توہین رسالت وغیرہ کا فتوی لگائے اور سامنے والا ایسا نہ ہو تو فتوی لوٹ کر واپس اس پر لگتا ہے جس نے لگایا

۔

✅...اب پہلے حدیث مبارک پڑھیں اور پھر اس کی تشریح معتبر علماء کرام کی کتب سے پڑھیں اور لغت سے بھی پڑھیں 20حوالہ جات کے ساتھ

الحدیث:

مَثَلُ الْمُنَافِقِ، كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً»۔۔۔۔۔۔بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً»

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا منافق کی مثال عائرہ بکری کی طرح ہے کہ جو کبھی(نر سے جفتی کرانے) اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے(عائرہ بکری اور انا جانا اسکی تشریح لغت و شروحات معتبر علماء سے نیچے دییے گئے پڑھیے) اور اسی طرح کی ایک حدیث ہے اس میں تعیر کی جگہ تکر لفظ ہے

مسلم حدیث7043 ،2784،7044 مشکواۃ حدیث57

۔

🟣1۔۔۔ مرزا جہلمی اور ساجد نقشبندی کا معتبر ترین امام زبیر اس حدیث پاک کا ترجمہ یوں کرتا ہے:

(٥٧) وعن ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ : (( مثل المنافق كالشاة العائرة بين الغنمين، تعبر إلى هذه مرة وإلى هذه مرة )) رواه مسلم.

( سید نا عبداللہ ابن عمر  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال دو ریوڑوں میں اس سرگرداں بکری کی طرح ہے جو کبھی ایک ریوڑ کی طرف ( نر کے لئے ) بھاگتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے ۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

(اضواء المصابیح ص93)

۔

🟣2.....شبَّه - عليه الصَّلاة والسلام - تردَّدَ المنافقين بين الطائفتين من المؤمنين والمشركين تبعًا لهواه وقصداً لغرضه الفاسد بالشاة المترددة بين طائفتين من الغنم؛

طلباً للفحل

امام ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو اس بکری سے تشبیہ دی ہے کہ وہ بکری ایک ریوڑ کے بعد دوسرے ریوڑ میں جاتی ہے نر بکرے کی طلب میں۔۔۔ تاکہ بکری اور منافقین اپنی خواہشات نفسانی اور برے مقاصد  و اغراض پورے کریں( نفسانی خواہشات چسکے ہی تو ہوتے ہیں اور برے مقاصد بہت ہوتے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اچھے برے، امیر غریب ، دیسی پردیسی، مسلم غیر مسلم ہر کوئی اس سے خوش ہو)

شرح المصابیح لابن ملک1/76

۔

🟣3....والعائرة: الناقة تخرج من إبل أخرى ليضربها

الفحل.

امام ابن اثیر فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں جو عائرہ بکری ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اونٹی (اور بکری) جو دوسرے ریوڑ میں جائے دوسری طرف جائے پھر دوسری طرف ریوڑ میں جائے تاکہ نر تلاش کرے تاکہ وہ اس سے جفتی جماع کرائے ، خواہش پوری کرے

جامع الأصول4/658

۔

🟣4....العائرة أَي المترددة بَين قطيعين من الْغنم وَهِي الَّتِي تطلب الْفَحْل فتتردد بَين قطيعين وَلَا تَسْتَقِر مَعَ إِحْدَاهمَا وَالْمُنَافِق مَعَ الْمُؤمنِينَ بِظَاهِرِهِ وَمَعَ الْمُشْركين بباطنه تبعا لهواه وغرضه الْفَاسِد

علامہ سندی فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں جو عائرہ بکری ایا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بکری کہ جو مختلف ریوڑوں میں گھومتی پھرے اور نر بکرے کو تلاش کرے منافقین کو بھی اس بکری سے مشابہت دی گئی ہے کہ منافقین بظاہر مومنین کے ساتھ ہوتے ہیں اور باطن میں مشرکین کے ساتھ ہوتے ہیں کافروں کے ساتھ ہوتے ہیں اور دونوں کا غرض ہوتا ہے کہ اپنی نفسانی خواہشات چسکے پورے کریں اور برے مقاصد اغراض پورے کریں

حاشیۃ السندی علی النسائی8/124

۔


🟣5....مثل المنافقِ كمثلِ الشاةِ العائرة بين الغنمين». و (العائرة) بالمهملتين, التي تخرج من غنم إلى أخرى,

ليضربَها الفحل

امام جمال الدین فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں منافق کی مثال عائرہ بکری سے دی گئی ہے عائرہ بکری اس کو کہتے ہیں کہ جو ایک ریوڑ سے نکل کر دوسرے ریوڑ کی طرف جائے تاکہ نر اس سے جفی کرے، خواہش پوری کرے

تخليص الشواهد وتلخيص الفوائد ص448

.

🟣6.....مثل المنافق كمثل الشاة العائرة (أي المترددة بين

 الفحلين

علامہ سعید حوی لکھتے ہیں کہ منافق کی مثال حدیث پاک میں عائرہ بکری سے دی گئی ہے کہ جو ادھر ادھر پھرتی ہے تاکہ نروں کو تلاش کرے( اور نفسانی خواہشات چسکے پوری کرے)

الاساس فی التفسیر2/1213

۔

🟣7....العائرة: التي تخرج منْ الإبل إلى أخرى ليربها

 الفحل.

علامہ اثیوبی( جو دور جدید کے اہلحدیث کے تو بہت ہی معتبر علامہ مانے جاتے ہیں) لکھتے ہیں کہ حدیث پاک میں جو عائرہ بکری کا تذکرہ ہوا ہے اس سے مراد وہ ہے کہ جو دوسرے نر کی تلاش کرے تاکہ دوسرا نر اسے جفتی جماع کرے

ذخيرة العقبى في شرح المجتبى37/386ملخصا

۔

🟣8.....وفي تشبيه بالشاة الطالبة للفحل إعلام بأنه ليس غرضه إلا غرض الحيواني البهيمي في متابعة

هواه.

امام صنعانی فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں منافقین کو تشبیہ عائرہ بکری سے دی گئی ہے کہ جو نر کی تلاش و طلب میں گھومتی پھرتی ہے، دونوں کا مقصد خواہشات نفسانی پوری کرنا اور برے اغراض پورے کرنا ہوتا ہے

التنوير شرح الجامع الصغير9/540

۔

🟣9....كَالشَّاةِ الْعَائِرَةِ) أَيِ الطَّالِبَةِ لِلْفَحْلِ۔۔۔هِ) أَيِ الْقِطْعَةِ الْأُخْرَى (مَرَّةً) أُخْرَى؛ لِيَضْرِبَهَا فَحْلُهَا۔۔۔ وَإِنَّمَا هِيَ أَسِيرَةُ 

شَهْوَتِهَا

امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں منافقین کو عائرہ بکری سے تشبیہ دی گئی ہے اور عائرہ بکری اس کو کہتے ہیں جو نر بکروں کو تلاش کرتی پھرے مختلف ریوڑوں میں کیونکہ وہ تو اپنی شہوات نفسانی خواہشات چسکوں کی غلام ہوتی ہے

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح1/119

۔

🟣10...فشبه تردده بين الطائفتين من المؤمنين والمشركين تبعا لهواه، وقصدا لغرضه الفاسد، وميلا إلى ما يبتغيه من شهواته – بتردد الشاة العائرة، وهي تطلب الفحل فتتردد بين

 الثلتين

امام طیبی فرماتے ہیں کہ منافقین جو مسلمانوں اور مشرکوں کافروں(بدمذہبوں) کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں ان کو تشبیہ دی گئی ہے عائرہ بکری کے ساتھ کہ جو گروہوں میں ریوڑوں میں نر بکروں کو تلاش کرتی پھرتی ہے اور دونوں کا مقصد ہوتا ہے کہ اپنی نفسانی خواہشات پوری کریں اور  برے اغراض حاصل کریں

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن2/510

۔

🟣11....، قال التوربشتيّ: وأكثر استعماله في الناقة، وهي التي تخرج من إبل إلى أخرى؛ ليضربها الفحل، ثم اتُّسِع في

 المواشي

امام توربشتی اور علامہ اثیوبی لکھتے ہیں کہ لفظ عائرہ کا اگرچہ اکثر استعمال اونٹنی میں ہوتا ہے مگر پھر اس کا استعمال تمام مویشیوں میں عام ہے اور عائرہ کا مطلب ہوتا ہے وہ کہ جو ایک نر سے نکل کر دوسرے کی طرف جائے تاکہ وہ اس سے جفتی کرے جماع کرے خواہش پوری کرے

البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج43/297

۔

🟣12...كار الفرس [إذا] (٢) جرى ورفع ذنبه عند

 جريه.

امام قاضی عیاض فرماتے ہیں ایک حدیث پاک میں مزید اضافہ ہے کہ وہ بکری "یکر" کرتی ہے یعنی جب مختلف ریوڑوں میں گھومتی پھرتی ہے تو اپنی دم اوپر کرتی ہے( تاکہ نر بکرے اس کی طرف مائل ہوں اور م نفسانی خواہشات شہوات چسکے پورے ہوں)

إكمال المعلم بفوائد مسلم8/314

۔

🟣13....وهي التي ⦗٥١٦⦘ تخرج من إبل إلى أخرى ليضربها الفحل ثم اتسع في المواشي

امام مناوی فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں منافقوں کی مشابہت کے لیے عائرہ بکری کا تذکرہ ایا ہے تو یہ وہ بکری ہوتی ہے جو ایک ریوڑ سے نکل کر دوسرے کی طرف جائے تاکہ نر اس کے ساتھ میل ملاپ کرے جفتی کرے خواہش پوری کرے اس کا اطلاق تمام مواشی پر ہوتا ہے

فيض القدير5/515

۔

🟣14....(كمثل الشاة العائرة بين الغنمين) أي المترددة بين قطيعين من الغنم في طلب الفحل

حدیث پاک میں عائرہ بکری کے ساتھ منافقین کی تشبیہ دی گئی ہے اور عائرہ بکری وہ ہوتی ہے کہ جو ریوڑوں میں گھومتی پھرتی ہے نر کی تلاش میں

منة المنعم في شرح صحيح مسلم4/296

۔

🟣15....(كالشاة العائرة) أي: المائلة المترددة لطلب الفحل بين

 الغنمين

امام شاہ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ منافقوں کو عائرہ بکری سے تشبیہ دی گئی ہے عائرہ بکری وہ ہوتی ہے کہ جو گھومتی پھرتی ہے تاکہ نر کو اپنے لیے تلاش کرے

لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح1/303

.

اوپر جو حوالہ جات دیے گئے ہیں وہ بھی اہل علم حضرات کے ہیں لغت فصاحت بلاغت و دیگر دلائل سے انہوں نے تشریح کی ہے لیکن اب ہم چند حوالہ جات ان کتابوں کے پیش کر رہے ہیں کہ جو خاص طور پر لغت کی کتب کے طور پر مشہور و معتبر ہیں

۔

🟣16....هي التي تطلب الفحل فتردد بين التيسين فلا يستقر مع إحداهما كالمنافق المتردد بين المؤمنين والمشركين تبعًا لهواه ولغرضه الفاسد؛

عائرہ بکری اس کو کہتے ہیں کہ جو ریوڑوں میں گھومتی پھرتی ہے تاکہ نر کو تلاش کرے، منافق بھی اس بکری کی طرح ہوتے ہیں دونوں کا مقصد ہوتا ہے کہ خواہشات لذات شہوات چسکے پورے ہوں اور برے مقاصد پورے ہوں 

مجمع بحار الانوار3/713٫714

.


🟣17....والعائِرةُ الَّتِي تَخْرُجُ مِنَ الإِبل إِلى أُخْرَى لِيَضْرِبَهَا الْفَحْلُ.

عائرہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک اونٹنی(اسی طرح بکری) دوسری طرف جائے تاکہ دوسرے اونٹ( یادوسرے بکرے) سے خواہش پوری کرے تاکہ دوسرا اونٹ(یا دوسرا بکرا) اس کے ساتھ خواہش پوری کرے جفتی کرے

لسان العرب4/623

۔


🟣18...العائِرةُ...و- من الإبل: التي تخرج منها إلى أخرى ليضربها الفحل.

عائرہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک اونٹنی(اسی طرح بکری) دوسری طرف جائے تاکہ دوسرے اونٹ( یادوسرے بکرے) سے خواہش پوری کرے تاکہ دوسرا اونٹ(یا دوسرا بکرا) اس کے ساتھ خواہش پوری کرے جفتی کرے

معجم متن اللغۃ4/242

۔

🟣19...والعائِرةُ: الناقة تخرج من الإبل إلى الأخرى ليضربها الفحل

عائرہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک اونٹنی(اسی طرح بکری) دوسری طرف جائے تاکہ دوسرے اونٹ( یادوسرے بکرے) سے خواہش پوری کرے تاکہ دوسرا اونٹ(یا دوسرا بکرا) اس کے ساتھ خواہش پوری کرے جفتی کرے

الصحاح تاج اللغۃ2/763

.

۔

🟣20....والعائِرةُ: الناقة تخرج من الإبل إلى الأخرى ليضربها الفحل

عائرہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک اونٹنی(اسی طرح بکری) دوسری طرف جائے تاکہ دوسرے اونٹ( یادوسرے بکرے) سے خواہش پوری کرے تاکہ دوسرا اونٹ(یا دوسرا بکرا) اس کے ساتھ خواہش پوری کرے جفتی کرے

منتخب من صحاح الجوھری ص3626

۔

🟫🟫🟫🟫🟫🟫🟫

مرض کی حالت میں طاعون کی حالت میں پھوڑے کی حالت میں مسلمان کی وفات ہو جائے تو اس کو حدیث پاک میں شہادت فرمایا گیا ہے جبکہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میری بری موت ہو اور اس کی موت لیٹرین ٹٹی حیضہ وغیرہ میں بری طرح سے ہوئی

 تو

اس لیے ہم بطور دلیل کہتے ہیں کہ خود قادیانی کے مطابق وہ کذاب جھوٹا ہے تو یہ بات بالکل برحق ہے🚨جبکہ مرزا جہلمی ہماری اس دلیل کو غلط قرار دے کر نعوذ باللہ تعالی دجال جھوٹا نبی مرزا غلام قادیانی کی موت کو صحابی کی شہادت سے تشبیہ دے رہا ہے جو کہ خود ایک بہت بڑی گستاخی ہے اور قادیانیت نوازی ہے، اس معاملے میں بھی مرزا جہلمی پر پرچہ کٹنا بنتا ہے

۔

1۔۔۔الحدیث:

 الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو طاعون کی وبا میں بیماری میں مسلمان وفات پا جائے تو وہ شہادت کا ثواب پائے گا

(بخاری حدیث2830)

الحدیث:

وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ

ذات الجنب(پھوڑے پھنسیاں پسلیوں وغیرہ کی بیماری) سے جس مسلمان کی وفات ہو وہ شہید ہے

[سنن أبي داود ,3/188حدیث3111]

.

ذات الجنب مطلق ہے جس کا معنی وسیع ہے یعنی پسلی سینے پیٹھ کی دبیلہ وغیرہ کوئی بھی بیماری.......!!

ذو الجنب الذي يشتكي جنبه لسبب الدبيلة ونحوها

ترجمہ:

ذات الجنب ایسا مرض کہ انسان کی پسلیوں(سینے پیٹھ وغیرہ) میں پھوڑے وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے

[فيض القدير ,4/178]

.

ذاتُ الجَنْب شَهادةٌ..وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ:ذُو الجَنْبِ شَهِيدٌ

هُوَ الدُّبَيْلةُ والدُّمَّل الْكَبِيرَةُ، وقَلَّما يَسْلَمُ صاحِبُها. وذُو الجَنْبِ: الَّذِي يَشْتَكي جَنْبَه بِسَبَبِ الدُّبيلة

ذات الجنب شہادت ہے،  دوسری حدیث میں ہے کہ ذات الجنب سے جس مسلمان کی وفات ہو وہ شہید ہے...ذات الجنب کو دبیلہ کہتے ہیں یعنی جان لیوا بڑا پھوڑا کہ جس کو لگ جائے اس کا بچنا بہت کم ہی ہوتا ہے..ذو الجنب اس کو کہتے ہیں کہ جسکو دبیلہ پھوڑے کی وجہ سے بیماری و درد ہو

[لسان العرب ,1/281]

۔

🟥 ایک طرف اپ نے اوپر پڑھ لیا کہ پھوڑا پھنسی وغیرہ میں مسلمان کو وفات ا جائے تو شہادت کا ثواب ہے حدیث پاک کے مطابق۔۔۔۔تو پھر مرزا جہلمی صحابی کی شہادت کو مرزا قادیانی کی گندی موت سے کمپیئر کر رہا ہے تو کیا ثابت ہوتا ہے۔۔۔؟؟ قادیانیت نوازی۔۔۔؟؟ ایجنٹی مکاری۔۔۔۔؟؟

۔

👈👈 قادیانی نے کہا تھا کہ جس کی بری موت ہو وہ کذاب جھوٹا ہے اور خود ملاحظہ کیجئے کہ قادیانی کی موت کس طرح عبرت ناک بری طرح ہوئی، قادیانی کی موت لیٹرین ٹٹی وغیرہ میں ہونے کی بات ایسے دلائل کی بنیاد پر کی جاتی ہے

1....قادیانی نے کہا:

اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے، وہ بہت بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔''

(قادیانی اخبار روزنامہ الفضل قادیان جلد28، نمبر50، صفحہ 1)

۔

2....مرزا قادیانی نے لکھا کہ : 

اگر خدا کا فضل و رحمت مجھ پر نہ ہوتی تو میرا سر اسی پاخانے میں ڈالا جاتا ۔ 

 (تذکرہ ص 916..الہام نمبر 6٫7٫8991)



3....اب اس معیار پر بھی مرزا قادیانی کافر مرتد جھوٹا ثابت ہوتا ہے کیونکہ 25مئی 1908ء کو شام کھانے کے بعد اس کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ اسے مسلسل اسہال شروع ہوگئے۔ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین گیا، بعد ازاں ضعف کی وجہ سے نڈھال ہوگیا۔ اس کے جسم کا پانی اور نمک ختم ہوگیا تھا۔ بلڈپریشر کم ہونے سے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئیں اور نبض اتنی کمزور ہوگئی کہ محسوس کرنا مشکل ہوگئی۔مرزا بشیر احمد ایم، اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پائوں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے، اور میں آپ کے پائوں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جائو۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پائوں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔''

(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

۔

4.... بقول حکیم نورالدین '' ہیضہ کی صورت میں جب آنتیں متاثر ہوتی ہیں تو قے کے ساتھ اسہال ہوتے ہیں۔ قے کا آنا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کی علامت ہے۔ آنتوں کے فالج اور رکاوٹ میں غذا ہی قے کا باعث بنتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد شراب یا افیون کے استعمال سے بھی قے ہوتی ہے۔ اگر اسہال کے ساتھ قے بھی شامل ہو تو مرض اسہال کے بجائے ہیضہ بن جاتا ہے۔'' (بیاض نورالدین ص209)


.

5.... مسلسل اسہال اور قے کی وجہ سے مرزا قادیانی کے جسم، بستر اور کمرے میں سخت بدبو اور تعفن پھیل گیا تھا۔ اس کی حالت دگرگوں ہوگئی اور نورالدین کو بلانے کے لیے کہا۔ حکیم نورالدین آیا تو مرزا قادیانی نے اسے کہا ''مجھے اسہال کا دورہ ہوگیا ہے۔ آپ کوئی دوائی تجویز کریں۔'' (ضمیمہ الحکم 28مئی 1908)

۔

6....مرزا قادیانی کے ''نام نہاد صحابی'' اور خسر میر ناصر نواب کی ثقہ روایت سے خود مرزا قادیانی کا اپنا ''اقرارِ صالح'' موجود ہے کہ :

حضرت (یعنی مرزا قادیانی دجال جہنمی اسلام دشمنوں کا ایجنٹ) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا ، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا ، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کرکے فرمایا : میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے ۔ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی ، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا ۔ (حیاتِ ناصر صفحہ 14، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)

۔

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475


 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.