Labels

شہر سڑک اداروں وغیرہ کے نام بدل کر برے پرانے نام رکھنے کا رد عقلی و منقولی و ثقافتی دلائل سے

 🛑 *#اسلام،تاریخ،فطرت،عقل کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کے شہروں،سڑکوں،جگہوں،اسکول کالج وغیرہ اداروں کے نام اسلامی رکھے جائیں مگر افسوس سنا ہے حکومت نام بدل کر برے پرانے جاہلی نام رکھنے جا رہی ہے،جس کی روک تھام کے لیے حقیقی طور پر اور سوشلی میدان میں بھی اواز اٹھانا لازم ہے،احتجاج لازم ہے،عہدے طاقت کا استعمال لازم ہے۔۔۔اگر حکومت بدل بھی دے تو بھی اسلامی نام سے عوام پکارتی رہے،حکومت کی ایک نہ مانے،تفصیل و دلائل اس مختصر تحریر میں پڑھیے،پھیلائیے۔۔۔۔!!*

۔

🟢سوال:

علامہ صاحب حکومت پنجاب لاہور شہر کو اس کی اپنی ثقافت پر تاریخ پر لوٹانے کے لیے مختلف سڑکوں اہم جگہوں کے نام پرانے بحال کرنے جا رہی ہے

👈مثلا۔۔

 اسلام پورا کا نام کرشن نگر 

بابری مسجد چوک کا نام جین مندر چوک

رحمان گلی کا نام رام گلی

سنت نگر کا نام سنٹ نگر

مصطفی اباد کا نام دھرم پورہ

ظفر علی خان چوک کا نام لکشمی چوک

حمید نظامی روڈ کا نام ٹیمپل روڈ 

باغ جنا کا نامLawrence Gardens

فاطمہ جناح روڈ کا نا کوائن روڈ

👈 رکھنے جا رہی ہے

اس پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے

۔

🟩 *#جواب و تحقیق*

بری ثقافت، بری تاریخ، بری فطرت،بری حکومت اور توھم و برائی وغیرہ وغیرہ برے پر مبنی برا نام بدل کر اسلام مطابق مناسب و اچھا و جائز نام رکھنا چاہیے، اگر حکومت برے نام بحال بھی کر دے یا رکھے تو بھی ہم سب اسے رد کر دیں اور اچھے نام کے ساتھ پکارتے رہیں

۔

*#پہلی بات* 1️⃣

عقل تاریخ فطرت شریعت سب کے مطابق نام اسلامی رکھنا چاہیے۔۔۔لیکن بالفرض ثقافت اور تاریخ پر جا کر نام تبدیل کرنے ہی ہیں تو پہلے ذرا یہ جھگڑا حل کرو کہ لاہور کا نام کیا رکھنا ہے کیونکہ تاریخی اور ثقافتی طور پر تو لاہور کے درج زیل پانچ نام ہمیں ملے ہیں

1.لوہاور(Lohawar)  2.لاوا(Lava)

3.لوہ کوٹ(Loh Kot) 4۔لاہنور 5۔لہانور

👈لیکن حق یہ ہے کہ شرعی تاریخی ثقافتی عقلی ہر حساب سے اسلامی نام رکھا جائے کیونکہ اول ثقافت تاریخ سیدنا ادم علیہ السلام سے ہے اور اخری ثقافت تاریخ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور دونوں بلکہ تمام انبیاء کرام کے نظریات اسلام والے تھے تو ہر لحاظ سے اسلامی نام ہونے چاہیے

۔

*#دوسری بات* 2️⃣

سڑک ادارے لاہور شہر ہی کیوں۔۔۔۔؟؟ ائیے پاکستان کا نام بھی تاریخی بحال کر لیتے ہیں ،ثقافتی رکھ لیتے ہیں، لیکن جھگڑا تو حل کرو کہ ثقافتی نام تو 9 نام ملتے ہیں پاکستان کے۔۔۔ تو پھر کون سا نام رکھیں۔۔۔۔؟؟

تاریخ میں برصغیر(پاکستان وغیرہ) کو یہ اہم نام دیے گئے تھے:

1سپت سندھو.... 2سندھو... 3ہند... 4الہند... 5انڈیا(India)

۔۔۔6آریہ ورت Aryavarta۔۔۔ 7جمودویپ (Jambudvipa)

...8برٹش انڈیا (British India)۔۔۔ 9انڈین ایمپائر (Indian Empire)

👈لیکن حق یہ ہے کہ شرعی تاریخی ثقافتی عقلی ہر حساب سے اسلامی نام رکھا جائے کیونکہ اول ثقافت تاریخ سیدنا ادم علیہ السلام سے ہے اور اخری ثقافت تاریخ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور دونوں بلکہ تمام انبیاء کرام کے نظریات اسلام والے تھے تو ہر لحاظ سے اسلامی نام ہونے چاہیے

.

*#تیسری بات* 3️⃣

دیکھیں عقل و ثقافت پر چلیں تو عقل یہ کہتی ہے کہ لاہور پاکستان اور سڑکیں چوراہے ادارے وغیرہ کے مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں میں مختلف نام رہے ہیں تو ایک حکومت سے پہلے دوسری حکومت تھی ،دوسری سے پہلے تیسری تھی ،چوتھی تھی، پانچویں تھی تو اخر کار ہمیں یہی کہنا پڑے گا کہ یہ خطہ لاہور پاکستان سیدنا ادم علیہ السلام کے زمانے میں بھی تھا، اور سارے زمین سیدنا ادم علیہ السلام کی زمانے سے ہے اور سیدنا ادم علیہ السلام تو رہے مسلمان۔۔۔ تو ساری دنیا کی سڑکوں کے نام اسلامی ہونے چاہیے نا۔۔۔؟؟لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد مبارک کے بعد تمام ادیان منسوخ ہو گئے اور قیامت تک اب کوئی دوسرا نبی نہیں ائے گا لہذا حق یہی بن گیا کہ عقل فطرت تاریخ ثقافت ہر حساب سے ان علاقوں کے نام اسلام کے مطابق ہونے چاہیے، اسلامی ہونے چاہیے

ورنہ

👈انہی علاقوں میں نہ جانے کتنی ثقافتوں نے اپنے اپنے نام رکھے تو پھر اپ کس ثقافت کو لے کر نام رکھیں گے۔لیکن ماضی میں جاتے جاتے اخری ثقافت تاریخ تو سیدنا ادم علیہ السلام کی ہے اور سیدنا ادم علیہ السلام مسلمان تو پھر بھی اسلام کے مطابق نام رکھنا رکھنا چاہیے ناں۔۔۔!!

تو

🚨پھر یہ برے ہندوانہ مجوسانہ انگریزانہ نام ہی کیوں منتخب کر رہے ہو، ہم تو لازمی یہی سمجھیں گے کہ اپ لوگوں کی دال میں کالا ہے

۔

🚨👈لہذا اے عوام اٹھو ،اواز اٹھاؤ، دھرنے جلسے جلوس کرو اور اپنے طاقت عہدے کا استعمال کرو اور سوشل میڈیا پہ اواز بلند کرو ،ٹرینڈ چلاؤ، اگر حکومت نہ بھی مانے اور زبردستی گندے نام واپس رکھ دے تو بھی ہم پر لازم ہوگا کہ ہم اسے ناکام بنا دیں اور عوام کہے کہ 👈تمھارے اصول مطابق ہمارا علاقہ ہماری مرضی، اسلامی ملک پاکستان کا علاقہ اور اسلام کی مرضی لہذا اسلامی نام ہی استعمال کرنا ہم عوام کا حق ہے لہذا ہم اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اسلامی نام ہی استعمال کریں گے۔۔۔لہذا اسلامی عقلی تاریخی فطرتی اصول کے تحت بھی اور تمہارے من گھڑت اصولوں کے تحت بھی پاکستان اسلامی ملک کے شہر سڑک اداروں کے نام اسلامی ہونا ضروری ہیں جو کہ ہمارا حق ہے

۔

*#چوتھی بات* 4️⃣

*#القرآن*

فَاَقِمۡ  وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ؕ فِطۡرَتَ اللّٰہِ  الَّتِیۡ فَطَرَ  النَّاسَ عَلَیۡہَا

اللہ کریم نے حکم دیا ہے کہ اس دین حنیف (اسلام ) کے لیے کاربند ہو جاؤ کہ یہی دین ہے جس پر اللہ نے انسان کو فطرتی طور پر اس دین پر رکھ کر پیدا فرمایا ہے

(سورہ روم ایت30)

.

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ......" ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : { فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا } . الْآيَةَ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے والدین وغیرہ یہودی نصرانی مجوسی (یا مشرک و دیگر مذاہب والا) بنا دیتے ہیں۔۔۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے دلیل کے طور پر یہ ایت تلاوت فرمائی فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا } . الْآيَةَ( اس کا ترجمہ اوپر لکھا ہے)

(بخاری حدیث1358)

۔

وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ

جان لو کہ بے شک تمام کی تمام  زمین اللہ کی ہے اور اس کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے

(بخاری حدیث3167)

✅ایت مبارکہ اور حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد زمینیں سڑک چوراہے ادارے وغیرہ کا نام اسلامی ہونا چاہیے اور ان کو اسلامی ہونا چاہیے یہی فطرت کے مطابق ہے، یہی اصل فطرت و ثقافت ہے، یہی اخری فطرت و ثقافت ہے، یہی اول و اخر تاریخ ہے

لیھذا

👈حقیقی تاریخ ، حقیقی فطرت ، حقیقی ثقافت اور حقیقی عقلی دلیل کے طور پر تمام حساب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نام اسلام کے مطابق ہونے چاہیے ، جو نام اسلام مطابق برے ہو ان کو بدل کر اسلام کے مطابق رکھ لینا چاہیے

.

*#پانچویں بات* 5️⃣

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جگہوں کے نام، لوگوں کے نام جو برے تھے ان کو بدل کر اسلامی نام میں کنورٹ کر دیاجیسے ہم نیچے باحوالہ لکھیں گے اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے

القرآن:

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

جو اللہ کے نازل کردہ کے برخلاف حکم دے تو وہی ظالم ہیں

(سورہ مائدہ ایت45)

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی ہوتی ہے ، اللہ کا نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)

✅ایت کے مطابق جو اللہ کے حکم کے علاوہ کوئی حکم دے تو وہ ظالم ہے اور اللہ کے احکامات نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچے تو لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات اور تمام اقدامات وحی کے ذریعے ہیں وہ بھی اللہ کے نازل کردہ احکامات میں سے ہی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و اقدامات میں سے ہے کہ اپ نے برے نام بدل کر اسلام مطابق اچھے نام مقرر فرمائے رکھے لہذا جو اچھے نام کے بجائے برے نام کی طرف جائے گا بالخصوص مسلمان ہونے کا دعوی کر کے برے نام رکھے گا تو وہ ظالم قرار پائے گا۔۔۔ اس ایت مبارکہ احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے مطابق نام ہونے چاہیے، چاہے وہ نام کسی انسان کے ہوں یا ادارے روڈ سڑکیں شہر دیہات وغیرہ زمینوں کے ہوں

۔

*#چھٹی بات* 6️⃣

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ اور ان کے احکام مبارکہ اور ان کے اقدامات مبارکہ افعال مبارکہ سب کی پیروی کرنے کا ہمیں حکم ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افعال مبارکہ اقدامات مبارکہ میں سے یہ بھی ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے برے نام بھی تبدیل کیے اور بری جگہوں کے نام بھی تبدیل کیے جیسے کہ ہم نیچے حوالہ جات کے ساتھ لکھیں گے

القرآن

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ  فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ

بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اسوہ حسنہ ہے

(سورہ احزاب ایت21)

۔

أي في أخلاقه وأفعاله قدوة حسنة

یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اخلاق اور کردار اور تمام کام ہر چیز اسوہ حسنہ ہیں کہ ان کی پیروی کی جائے

تفسیر محاسن التاویل8/57

۔

وفي نبينا مُحَمَّدٍ- عليه السلام- أسوةٌ حسنةٌ على 

الإطلاق

اور ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مطلق طور پر یعنی ان کی ہر چیز ہر کام ہر فعل ہر قول مبارک سب کچھ اسوہ حسنہ ہے ، اس کی پیروی کرنی ہے

تفسیر ثعالبی5/419

۔

فَهِيَ عَامَّةٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ایت عام ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز ہر فعل ہر قول اسوہ حسنہ ہے، اس کی پیروی کرنی ہے

تفسیر فتح القدیر4/312

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی ہوتی ہے ، اللہ کا نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)

۔

*#ساتویں بات* 7️⃣

اب ائیے دیکھتے ہیں پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے برے نامناسب نام تبدیل فرما کر اچھے نام رکھے

🌹1...يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کا نام یثرب تھا لیکن میں اسے بدل کر اس کا نام مدینہ رکھ رہا ہوں

(بخاری حدیث1871)

👈یثرب نام کا ایک جاہلیت والا شخص گزرا تھا اس کے نام پر اس جگہ کا نام یثرب تھا یا اس جگہ کو لوگ منحوس برا سمجھتے تھے اس لیے یثرب نام رکھا یعنی خرابی والا ملامت والا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے

👈پرانی بری ثقافت، جاہلیت کی ثقافت، بری ثقافت اور توھم و تمسخر وغیرہ  پر مبنی نام کو مٹاتے ہوئے اچھا نام مدینہ رکھ دیا

۔

🌹2...وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا خَضِرَةَ، وَشِعْبُ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ شِعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ : بَنِي رِشْدَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا 

لِلِاخْتِصَارِ.

امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمین چوراہے چوک وغیرہ کا نام عفرہ تھا(عفرہ کا معنی ہے بنجر، ویران) اسے بدل کر خضرہ(سرسبز و اباد)رکھ دیا، شعب الضلالۃ( ایک راستے یا چوراہے کا نام شعب الضلالۃ گمراہی کا راستہ چوراہا تھا ) کا نام بدل کر شعب الھدی( ہدایت والا راستہ، ہدایت والا چوراہا) رکھا، بنو الزنیۃ کا نام بدل کر بنی رشدہ رکھا( ہدایت والا قبیلہ کہ اگرچہ وہ ہدایت والا نہ ہو لیکن بطور دعا اس کا نام اچھا رکھا جائے کہ اللہ اسے ہدایت والا قبیلہ بنا دے) اور بنی مغویہ کا نام بدل کر بنی رشدہ رکھ دیا۔۔۔امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے ان تمام احادیث مبارکہ کی سندوں کو اختصار کی وجہ سے حذف کر دیا ہے

(ابوداود حدیث4956)

۔

🌹3...النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْمَ الْقَبِيحَ.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم برا نام تبدیل فرما کر اچھا نام رکھ دیتے تھے

(ترمذی حدیث2839)

۔

🌹4...كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ اسْمًا قَبِيحًا غَيَّرَهُ , فَمَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا عُفْرَةُ , فَسَمَّاهَا 

خَضِرَةً»

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی برا نام سماعت فرماتے تو اسے تبدیل فرما کر اچھا نام رکھ دیتے ایک دفعہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام ایک گاؤں سے گزرے جس کا نام عفرہ تھا(عفرہ کا معنی بنتا ہے بنجر،ویران) تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر خضرہ(سرسبز، اباد) رکھ دیا (کہ بظاہر وہ اگرچہ بنجر ہے لیکن اس کا نام سرسبز رکھ دیا جائے اس نیت سے اس دعا سے کہ اللہ تعالی اسے جلد از جلد سرسبز بنا دے، اسے اباد بنا دے)

طبرانی صغیر حدیث349

۔

👈وأرض كان اسمها عفرة، أي: مجدبة، فغير اسمها صلى الله عليه وسلم وسماها: خضرة، وكان هناك شعب -وهو الطريق بين الجبلين- كان اسمه شعب الضلالة، فغير اسمه صلى الله عليه وسلم وسماه: شعب الهدى، وشعب بني الزنية، وهي قبيلة كانت تسمى بذلك، والزنية من الزنا والعياذ بالله، فغير النبي صلى الله عليه وسلم هذا الاسم، فلا يليق بإنسان مسلم أن يلقب بذلك فسماهم: بني الرشدة، فغير الاسم القبيح إلى مستحسن

ایک زمین تھی جس کا نام “عَفْرَة” تھا، یعنی بنجر اور ویران۔ رسولِ کریم ﷺ نے اس کا نام بدل کر “خَضْرَة” رکھ دیا۔

اسی طرح دو پہاڑوں کے درمیان ایک گھاٹی،راستہ،چوارہے کا نام “شِعْبُ الضَّلَالَة” تھا تو آپ ﷺ نے اس کا نام بدل کر “شِعْبُ الْهُدَى” (ہدایت کی گھاٹی، ہدایت والا راستہ، ہدایت والا چوراہا) رکھ دیا۔

اسی طرح ایک قبیلہ “بنو الزِّنيَة” کہلاتا تھا، اور “الزِّنيَة” کا لفظ زنا سے نکلا ہوا تھا، جو نہایت ناپسندیدہ معنی رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے یہ نام بھی تبدیل فرما دیا، کیونکہ کسی  کے لیے ایسا بُرا لقب مناسب نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کا نام “بنو الرِّشْدَة” رکھ دیا۔ اس طرح آپ ﷺ بُرے اور ناپسندیدہ ناموں کو بدل کر اچھے اور پسندیدہ نام رکھا کرتے تھے۔

(الجامع لأحكام العمرة والحج والزيارة 24/13)

.

*#اٹھویں بات* 8️⃣

الحدیث:

 "أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ..

وفي رواية النسائي والحاكم "كلمة الحق"

راہِ حق سے ہٹے ہوے ظالم بادشاہ یا راہِ حق سے ہٹے ہوے ظالم امیر(امیر یعنی حاکم،لیڈر، قاضی، جج، سردار وغیرہ کؤئی بھی ذمہ دار، عھدے دار)کے پاس عدل.و.حق کی بات کہنا افضل جھاد ہے

(ابوداؤد حدیث نمبر4344)

.

الحدیث:

سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ،وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد امراء(لیڈر، سیاستدان، جرنیل،حکمران)ہوں گے… جو ان کے پاس جائے(ان کے لیے نکلے یا انکی مانے) ، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر مدد کرے تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور میں اس سے نہیں ہوں اور جو ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور ان کی ظلم پر مدد نہ کرے تو میں اس سے ہوں اور وہ مجھ سے ہے

(نسائی حدیث4208بالحدف الیسیر)

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

مجھ سے سوال کیجیے، تصدیق تحقیق تردید پوچھیے ، کوشش ہوگی کہ جلد جواب دوں اور میرے نئے وٹسپ نمبر کو وٹسپ گروپوں میں ایڈ کرکے ایڈمین بنائیے تاکہ میں تحریرات وہاں بھیج سکوں،سوالات اعتراضات کے جوابات دے سکوں۔۔۔۔دینی خدمات زیادہ سے زیادہ سر انجام دے سکوں۔۔۔جزاکم اللہ خیرا

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.