Labels

الحمد للہ عزوجل مجھے سعادت ملی ان9حضرات کے ہاتھ چومنے کی، لیکن بتا کیوں رہا ہوں۔۔؟؟ دل سے چومنے پر مائل کرنے کا طریقہ۔۔؟؟ اور بہت کچھ پڑھیے اس مختصر تحریر

 🟩الحمد للہ عزوجل مجھے سعادت ملی ان9حضرات کے ہاتھ چومنے کی، لیکن بتا کیوں رہا ہوں۔۔؟؟ دل سے چومنے پر مائل کرنے کا طریقہ۔۔؟؟ اور بہت کچھ پڑھیے اس مختصر تحریر۔۔۔۔!!

۔

وَلَا بَأْسَ بِتَقْبِيلِ يَدِ) الرَّجُلِ (الْعَالِمِ) وَالْمُتَوَرِّعِ عَلَى سَبِيلِ التَّبَرُّكِ دُرَرٌ وَنَقَلَ الْمُصَنِّفُ عَنْ الْجَامِعِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِتَقْبِيلِ يَدِ الْحَاكِمِ وَالْمُتَدَيِّنِ (السُّلْطَانِ الْعَادِلِ)....(وَعَلِمْت أَنَّ مُفَادَ الْأَحَادِيثِ سُنِّيَّتُهُ أَوْ نَدْبُهُ شامی)۔۔۔۔وَلَا رُخْصَةَ فِيهِ) أَيْ فِي تَقْبِيلِ الْيَدِ (لِغَيْرِهِمَا) أَيْ لِغَيْرِ عَالِمٍ وَعَادِلٍ هُوَ الْمُخْتَارُ۔۔۔۔وَفِي الْمُحِيطِ إنْ لِتَعْظِيمِ إسْلَامِهِ وَإِكْرَامِهِ جَازَ وَإِنْ لِنَيْلِ الدُّنْيَا كُرِهَ

تلخیصی ترجمہ:

احادیث مبارکہ وغیرہ دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ برکت و فیض لینے کے لیے نیک متقی عالم دین(استاد معلم مفتی) کے ہاتھ چومنا جائز و مستحب یا سنت غیرموکدہ ہے(فرض واجب نہیں، بری نیت و برے انداز کے بغیر احترام کے ساتھ ہاتھ ملائے مگر ہاتھ نہ چومے تو گستاخ گناہ گار نہیں )اور اچھے بادشاہ اچھے حکمران کے ہاتھ چومنا بھی جائز ہے،اسی طرح ہر دین دار بلکہ ہر ایک اچھے کے ہاتھ چومنا جائز ہے بشرطیکہ مقصد اسکے اسلام و خدمات کی تعظیم و توقیر کرنا ہو(عظمت و خدمات کو اجاگر کرنا ہو) اور مختار قول یہ ہے کہ ہر محترم کا ہاتھ چومنے کی ترغیب نہ دی جائے بلکہ عظیم کے ہاتھ پاوں چومنے کی ترغیب دی جائے،اور اگر دنیاوی غرض(لالچ چاپلوسی چمچہ گیری وغیرہ) ہو تو ہاتھ چومنا مکروہ و گناہ ہے

(در مختار مع رد المحتار6/383ملتقطا ماخوذا)


🧐مزدور ، کسان، ڈاکٹر ، میڈیکل فوج پولیس وکیل ، جج صدر وزیر، علماء مشائخ طلباء وغیرہ وغیرہ تمام شعبہ جات میں سے ہر محسن و محترم  کے ہاتھ پاوں چومنا جائز و سعادت ہوسکتا ہے مگر ہر محترم کے ہر کوئی ہاتھ پاؤں چومنے لگ جائیں تو شاید عظیم لوگوں کی عظمتوں کا اظہار نہ ہوسکے گا،اس لیے ہر ایک محترم کا احترام کیا جائےمگر انکے ہاتھ پاؤں نہیں چومنے چاہیے بلکہ عظیم کی عظمتیں اجاگر کرنے، فیض و برکتیں لینے کے لیے عظیم کے ہاتھ پاوں چومنے چاہیے

👈اگرچہ ہاتھ پاوں فرض واجب نہیں اور جو  بری نیت و برے انداز کے بغیر ہاتھ پاوں نہ بھی چومے تو گناہ گار بےادب گستاخ نہیں مگر فیض و برکات حاصل کرنے کے لیے عظیم کےہاتھ پاوں چومنا بہترین طریقوں میں سےہے

🚨لیکن چاپلوسی چمچہ گیری کرنے کرانے جیسے  برے مقصد کے تحت ہاتھ پاوں چومنے چموانے سے بچنا ضرور ضرور لازم ہے۔۔۔۔👈مگر شرعی عظیم کی شرعی عظمتیں برکتیں اپ پر، ہم پر ظاہر نہ بھی ہوں تو بھی دل سے عظمتوں والا تصور کرکے ہاتھ پاوں چومنا چاہیے، اور انکی عظمتیں خدمات کی معلومات حاصل کرنا چاہیے اور متعلقین کو چاہیے کہ  عظمتوں خدمات وغیرہ کو سچائی کے ساتھ اجاگر کریں

♥️تاکہ دل سے انکے ہاتھ پاوں چومنے کو دل کرے۔۔۔مروت و مجبوری کے وجہ سے نہ چومے

۔

🟢درج ذیل9قسم کے محترم حضرات کے دل سے ہاتھ پاوں چومنے کی مجھے سعادت ملی،یہ وائرل اس لیے کر رہا ہوں کہ اگر میں غلط ہوں تو میری اصلاح کیجئے اور اگر میں درست ہوں مگر مزید درستگی کی ضرورت ہے تو مزید اصلاح و درستگی کیجئے، اور یہ مقصد بھی ہے کہ ان عظیم لوگوں کی عظمتیں بھی ظاہر ہوں

۔

1️⃣...سادات کرام کے ہاتھ پاوں چومنے کی سعادت ملی اور بظاہر بالفرض کتنے ہی تکبر برائی گمراہی والے ہوں مگر تب بھی ان کے ہاتھ پاؤں چومنا چاہیں کہ ہم انکو نہیں بلکہ ان کے جسم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خون اقدس کو چومتے ہیں، 👈ہاں یہ ضرور ہے کہ انکے نانا جان یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک کی پیروی کرنا اور انکی سنت مبارکہ کی پیروی کرنا زیادہ لازم ہے لہذا گمراہی برائی وغیرہ کی باتیں بالفرض اگر سادات کرام سے ملیں تو ان گمراہی اور برائی پر نہیں چلنا

👈یہ بات بھی لازم ہے کہ دیگر بڑے حضرات  سادات کرام کے چومنے کے ساتھ ساتھ عرض بھی کریں کہ سادات کرام غور تو فرمائیں کہ نانا جان یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں اپ۔۔۔۔؟؟ اپ پر تو زیادہ حق بنتا ہے کہ سنتوں پے عمل کریں

۔

2️⃣۔۔۔۔والدین محترمین کے ہاتھ پاوں چومنے کی سعادت ملی کہ والدین نے اپنے مفاد پرستی و غلامی میں نہ رکھا بلکہ جو کچھ سلوک کیا تو سمجھایا کہ اپ کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں، اور بچپن ہی سے خوداری حیاء غیرت وغیرہ اچھائیوں کا درس کوٹ کوٹ کر بھرا۔۔👈لیکن والدین اگر بظاہر برے ہوں تو بھی ہاتھ پاوں چومنا بنتا ہے اگرچہ برائی کے حکم میں انکی پیروی نہ کریں گے

۔

3️⃣۔۔۔کئ علماء و مفتیان کرام اور استاتذہ کرام کے ہاتھ چومے اور بعض اوقات پاوں چومنے کی بھی سعادت ملی،کسی لالچ سے نہیں بلکہ علم برحق و نافع+اس پے عمل

 کا ادب کرنے کے لیے، مزید فیض و برکتیں لینے کے لیے

۔

4️⃣...طلباء بظاہر  مجھے سنئیر اساتذہ میں سمجھتے تھے اور ایک دو اساتذہ کرام کو جونئر سمجھتے کہ وہ ابتدائی اسان کتابیں پڑھاتے تھے

مجھے سعادت ملی کہ ان بظاہر جونیئر اساتذہ کرام کے ہاتھ مبارک سرعام چومے اور طلباء کو بتایا کہ حقیقت میں یہ جونیئر نہیں بلکہ یہ بھی سینیئر ہیں۔۔۔ اگر یہ ابتدائی تعلیم اپ کو بہتر طریقے سے نہ دیں تو اپ ہم تک پہنچتے پہنچتے ایک ناقص طالب علم بن کر ائیں گے اور ہم ناقص طالب علم کو پڑھا نہ پائیں گے،کہ ہم ناقص طلباء کو چوتھے پانچویں درجے میں حدیث اور فقہ سمجھائیں یا ابتدائی تعلیم صرف نحو گرائمر سمجھائیں۔۔۔۔؟؟ حدیث اور فقہ ہم اسی طرح سمجھا پاتے ہیں اور اپ لوگ اسی طرح سمجھ پاتے ہیں کہ بہت بڑا احسان ان ابتدائی تعلیم دینے والے علمائے کرام اساتذہ کرام کا ہے، ہم پر ان کے بڑے احسانات ہیں،دل سے ان کے بھی ہاتھ چوما کرو

۔

5️⃣...میں نے مدرسے کے ناظم صاحب کے ہاتھ سرعام طلباء کے سامنے چومنے کی سعادت حاصل کی اور طلباء کو سمجھایا کہ مدرسے کے نظام وغیرہ کو یہ سنبھالتے ہیں تبھی تو ہم توجہ دے کر وقت دے کر اچھی طرح پڑھا پاتے ہیں، یہ بھی ہمارے بہت بڑے محسن ہیں۔۔۔دل سے ان کے بھی ہاتھ چوما کرو

۔

6️⃣...مدرسے کے لیے چندہ کرنے والے کے میں نے سرعام طلباء کے سامنے ہاتھ چومنے کی سعادت حاصل کی اور طلباء کرام کو بتایا کہ عزیز طلباء اساتذہ کرام جو اپ کو پڑھا پاتے ہیں ان میں ان چندہ کرنے والے محترم حضرات کا بھی بہت بڑا احسان و تعاون شامل ہے کیونکہ اگر اساتذہ کرام لکھاری وغیرہ کمانے لگ جائیں تو وہ بہترین انداز میں نہ پڑھا پائیں گے اور بہترین انداز میں تحریری کام، تصنیفی کام، تقریری کام نہ کر پائیں گے

۔

7️⃣...علماء کرام کے ایک سکیورٹی گارڈ کے بھی ہاتھ چومنے کی سعادت مجھے ملی اور میں نے ان سے کہا کہ بے شک وہ ہاتھ جو علم کی حفاظت کرنے کے لیے حاضر خدمت ہیں وہ ہاتھ چومنے کے بہت لائق ہیں

۔

8️⃣....ایک بابا جان ریڑی چلاتے ہیں اور میں کوشش کرتا ہوں کہ جو سامان ان کے پاس ہو اور وہ سامان مجھے لینا ہو تو میں اسی سے لیتا ہوں اور بعض اوقات ان کے ہاتھ چوم لیتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ بابا جان اس عمر میں لوگ گھر بیٹھ جاتے ہیں اور بچوں پر حق جتاتے ہیں لیکن اپ حق جتانے کی بجائے محنت فرما رہے ہیں خودداری فرما رہے ہیں اگرچہ اپ کے بچوں پر لازم ہے کہ وہ اپ کے اخراجات سنبھالتے مگر اگر وہ نہیں کر رہے تو پھر اپ بھیک مانگنے کے بجائے مزدوری کا راستہ چنتے ہیں تو ایسے ہاتھ بے شک چومنے کے لائق ہیں

۔

9️⃣۔۔۔پاکیزہ دولت کمانے والے اور اچھائی میں خوب خرچ کرنے والے، چندہ تعاون دینے والے احباب و رشتے دار کے بھی ہاتھ چومنے کا دل کرتا ہے مگر یہ سوچ کر رک جاتا ہوں کہ کہیں شیطان انکے یا میرے دل میں یا کسی اور دل میں یہ وسوسہ ڈال دیگا کہ یہ دولت طاقت وغیرہ کی لالچ میں ہاتھ چوم رہا ہے،چاپلوسی کر رہا ہے۔۔۔یہ محترم حضرات بھی بڑی شان و عزت والے ہیں،ان سے میں دلی معذرت چاہتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ اپ کے کوئی ہاتھ چومے یا نہ چومے مگر ہر حال میں تکبر لالچ چاپلوسی وغیرہ وغیرہ برے خیالات سے بچتے رہیے گا،ہم ہاتھ نہ چوم کر بھی دل ہی دل میں اپ کے ہاتھ چومتے ہیں

مگر

غریب محنتی احباب و رشتے دار میں سے بعض کے ہاتھ چومنے کی سعادت ملی کہ وہ ہاتھ جو محنت مزدوری میں مگن ہوں وہ بھی چومنے کے لائق ہیں

۔

📣 *#توجہ*

میری کوئی اصلاح کرنی ہو، یا مشورہ دینا ہو یا اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں اور اپ کے مشورے اصلاح پر عمل کرکے کوشش کروں گا کہ مزید اچھا بنوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.