Labels

مختصر و مدلل۔۔۔۔عید غدیر کیوں جائز نہیں،پڑھیے مختصر مدلل تحریر اور ہو سکے تو خوب پھیلائیے

 🟥 *#مختصر و مدلل۔۔۔۔عید غدیر کیوں جائز نہیں،پڑھیے مختصر مدلل تحریر اور ہو سکے تو خوب پھیلائیے*

۔

1️⃣لِلْمُسْلِمِينَ عِيدٌ غَيْرُ اَلْعِيدَيْنِ قَالَ «نَعَمْ يَا حَسَنُ أَعْظَمُهُمَا وَ أَشْرَفُهُمَا» قَالَ قُلْتُ وَ أَيُّ يَوْمٍ هُوَ قَالَ۔۔۔ هُوَ يَوْمُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنْ ذِي اَلْحِجَّةِ ۔۔۔«هُوَ يَوْمٌ  نُصِبَ   أَمِيرُ  اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فِيهِ عَلَماً لِلنَّاسِ» فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَ مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَصْنَعَ فِيهِ قَالَ «تَصُومُهُ يَا حَسَنُ وَ تُكْثِرُ فِيهِ اَلصَّلاَةَ عَلَی‌ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ تَبَرَّأُ إِلَی‌ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِمَّنْ ظَلَمَهُمْ

شیعوں کے مطابق تمام عیدوں سے بڑھ کر عزت و شرف والی عید عظمت والی عید عید غدیر ہے جو کہ 18 ذوالحج کو ہے یہ عید اس لیے مناتے ہیں کیونکہ اس دن سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلافت ملی اور اس دن ہم ظالموں پر (یعنی نعوذ باللہ صحابہ کرام سارے ظالم کافر تھے تو ان کی حکومت سے دستبرداری اور شیعوں کے مطابق ظالم سیدنا عثمان کی وفات کی خوشی پر) تبراء(اعلان لا تعلقی گستاخی  توہین) کرتے ہیں

شیعہ کتاب تھذیب الاحکام Vol. ۴, p. ۳۰۵نحوہ

شیعہ کتاب الکافی شیخ کلینی ۴, p. ۱۴۸نحوہ

شیعہ کتاب وسائل الشیعۃ۱۰, p. ۴۴۰نحوہ

۔

🚨کیا اب بھی عید غدیر مناؤ گے کہ جس میں صحابہ کرام پر سیدنا عثمان پر گستاخیاں لعنتیں اور ان کی وفات و دست برداری پر خوشیاں مناتے ہیں شیعہ لوگ۔۔۔۔کیا اپ عید غدیر منا کر ان کا ساتھ دیں گے۔۔۔؟؟ کہو ہرگز نہیں ہرگز نہیں ہرگز نہیں

۔

2️⃣عید غدیر یہ کہہ کر منائی جاتی ہے کہ اس روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو من کنت مولاہ فرما کر خلافت بلا فصل یا ولایت بلا فصل عطا فرمائی جبکہ یہ بات بھی ہرگز ثابت نہیں،لیھذا جھوٹ گمراہی لعنتوں، شہادت پر خوشی وغیرہ پر مبنی عید غدیر منانا جائز نہیں

۔

👈1۔۔۔اللہ تعالی نے اپنے اپ کو مولا کہا ہے اور سیدنا جبرائیل کو مولا کہا ہے اور نیک مومنین کو مولا کہا ہے۔۔۔اب اگر مولا کا معنی خلافت ولایت ہے تو کیا نعوذ باللہ اللہ بھی خلیفہ ہے ۔۔۔۔؟؟ اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں یہ ایت نازل ہوئی تو کیا اس وقت جو مسلمان جن کو اللہ تعالی نے مولا کہا کیا وہ سارے مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بلا فصل بن گئے۔۔۔۔؟؟ ثابت ہوا کہ مولا کا معنی خلیفہ خلافت ولایت نہیں بلکہ مولا کا معنی دوست و مددگار وغیرہ ہے

القران: 

فَاِنَّ اللّٰہَ  ہُوَ مَوۡلٰىہُ  وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ 

رسول کریم حضرت محمد مصطفی کے مولا تو اللہ ہے اور جبرائیل مولا ہے اور نیک مومنین مولا ہیں

سورہ التحریم ایت4

.

👈2۔۔۔۔اگر من کنت مولا سے خلافت ولایت بلا فصل سیدنا علی کے لیے مقصود تھی تو پھر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ساری زندگی اور اہل بیت نے ساری زندگی سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر سیدنا عثمان کو خلیفہ کیوں مانا۔۔۔۔؟؟ سیدنا علی سمیت تمام اہل بیت کا خلاصہ راشدین کو ماننا اس بات کا ثبوت ہے کہ مولا علی کا معنی خلافت ولایت نہیں بلکہ اس کا معنی دوست اور محبوب ہے

۔

👈3۔۔۔۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےخلیفہ بنا دیا تھا سیدنا علی کو مولا علی کہہ کر تو پھر سیدنا علی نے خلافت کا مطالبہ کیوں نہ کیا کہ جب رسول پاک نے ان کو حکم دے دیا ان کو خلیفہ بنا دیا تو رسول کریم کی نافرمانی کیوں کی ، اللہ کی نافرمانی کیوں کی سیدنا علی نے... یہ تو بہت بڑا جرم کیا نعوذ باللہ سیدنا علی نے کہ لوگوں کے باتوں میں اکر لوگوں کے خوف میں اکر شریعت کی بات کو جھٹلا دیا نعوذ باللہ...شریعت کو چھوڑ دیا... کیا نعوذ باللہ سیدنا علی اتنے ڈرپوک تھےجبکہ انکے بیٹے حسین نے پورا گھرانہ شہید کرادیا مگر حق نہ چھوڑا تو ایسے بیٹے کے عظیم والد شیر خدا حیدر کرار بھلا کیسے ڈرپوک ہوگئے.....؟؟ نعوذ باللہ یہ تو شیعوں نے کی بہت بڑی گستاخی  ہے کہ سیدنا علی کو ڈرپوک شریعت چھوڑ دینے والا قرار دے رہے

۔

👈4۔۔۔ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ أَسَاءَ بِنَا آبَاؤُنَا إِنْ كَانَ هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ مِنْ دِينِ اللَّهِ , ثُمَّ لَمْ يُطْلِعُونَا عَلَيْهِ , وَلَمْ يُرَغِّبُونَا فِيهِ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ الرَّافِضِيُّ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِعَلِيٍّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِمْرَةَ وَالسُّلْطَانَ لَأَفْصَحَ لَهُمْ بِذَلِكَ

اہل بیت کے عظیم شہزادے حسن بن حسن فرماتے ہیں کہ اے شیعہ رافضی تم ہمارے متعلق بڑھ کر بیان کرتے ہو،(ہمیں خلیفہ بلا فصل کہتے ہو) حالانکہ ایسا کچھ ہوتا تو ہمارے اباؤ اجداد ہمیں ضرور اس کے بارے میں بتاتے تو رافضی نے کہا کہ حدیث میں تو ہے کہ من کنت مولاہ

تو اہل بیت کے شہزادے سیدنا حسن بن حسن نے فرمایا کہ یہاں مولا سے مراد خلافت ولایت امارت بادشاہی مراد نہیں کیونکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام اگر اپنے بعد کسی کو خلیفہ بنانا چاہتے تو ضرور دو ٹوک الفاظ میں فرما دیتے کہ یہ میرا خلیفہ ہے جبکہ ایسا نہیں

(طبقات کبری5/319)

۔

👈5۔۔تاجدار گولڑہ پیر مہر علی شاہ فرماتے ہیں :

غدیر کے واقعہ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" بریدہ کی شکایت کی وجہ سے تھا اس کا مطلب یہ ہے ، کہ علی سے دوستی اور محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دوستی ہے

(تصفیہ مابین سنی و شیعہ ص33)

.

🧐ریاض شاہ چمن زمان عرفان شاہ طاہر کادری آپ سب لوگ ان عظیم بزرگوں کو پیشوا مانتے ہو اعلان کرتے ہو، ان کے نام پے شہرت چندہ کماتے ہو مگر مکار کہیں کے تم لوگ کہ بزرگوں کے خلاف جاتے ہو، کیا تمھاری سمجھ بزرگوں کی سمجھ سے بڑھ کر ہے یا معاملہ ایجنٹی ایرانی مال ڈالر پاؤنڈ شہرت مکاری وغیرہ کا ہے.......؟؟ تمھارے فتوے مطابق تو یہ سب اہلسنت حضرات ناصبی کہلائے اہلبیت سے بغض رکھنے والے کہلائے....اب بندہ آپ کو کیا کہے....؟؟

۔

👈6۔۔۔عجیب بات ہے کہ حجۃ الوداع جو اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کسی کو نہ بنایا اور واپسی پر تھوڑی تعداد کے سامنے غدیرخم پر خلیفہ کا اعلان کر دیا......؟؟

.

🌹اگر خلافت کا اعلان رسول کریمﷺنےکرنا ہوتا تو اسکا صحیح و بہترین موقعہ حجۃ الوداع تھا........غدیرخم مقام پے تو رسول کریمﷺنے ایک تنازع کا حل فرمایا اور فرمایا کہ علی سے ناگواری مت رکھو، اس سے محبت کرو، جسکو میں محبوب ہوں وہ علی سے محبت رکھے

.

🧐دراصل ہوا یہ تھا کہ مال غنیمت حضرت علی نے تقسیم کی تھی ، تقسیم پر کچھ صحابہ کرام کو ناگوار گذرا انہوں نے غدیرخم مقام پر رسول کریمﷺسے حضرت علی کی شکایت کی....رسول کریمﷺنے پوچھا اے بریدہ کیا تم علی سے(اس تقسیم کی وجہ سے)ناگواری محسوس کرتے ہو...؟ حضرت بریدہ نے فرمایا جی ہاں... رسول کریمﷺ نے فرمایا علی سے ناگواری مت رکھ، جتنا حصہ علی نے لیا ہےحق تو اس سے زیادہ حصہ بنتا ہے....بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میری ناگواری ختم ہوگئ...اس تقسیم وغیرہ کی وجہ سے دیگر صحابہ کرام وغیرہ کو بھی ناگواری گذری ہو تو انکی بھی ناگواری ختم ہو اس لیے رسول کریمﷺنے اعلان فرمایا:

میں جسکا مولا علی اسکا مولا.... یعنی میں جسکو محبوب ہوں وہ علی سے بھی محبت رکھے،ناگواری ختم کردے

(دیکھیے بخاری حدیث4350,,المستدرك حدیث4578

مسند احمد23036...,22967...22945)

مرقاۃ شرح مشکاۃ11/247 البيهقي في الكبرى 6/342...7/309) الصواعق المحرقة 1/109 الاعتقاد للبيهقي ص 498 البداية والنهاية 5/227.. ,11/58)


.

1....سَبَبُ وُرُودِ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا نَقَلَهُ الْحَافِظُ شَمْسُ الدِّينِ الْجَزَرِيُّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ عَلِيًّا تَكَلَّمَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهُ بِالْيَمَنِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّهَ خَطَبَ بِهَا تَنْبِيهًا عَلَى قَدْرِهِ وَرَدًّا عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ كَبُرَيْدَةَ كَمَا فِي

 الْبُخَارِيِّ

 بخاری وغیرہ کی حدیث سے یہ معنی و پس منظر ثابت ہوتا ہے کہ علی مولا کہنے کی جو روایت ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام نے حضرت علی کی مال غنیمت کے معاملے میں شکایت لگائی تھی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس کا میں محبوب ہوں علی اس کا محبوب ہے

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح9/3937)

.

2....فَقَدْ ذَكَرْنَا مِنْ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ مَا دَلَّ عَلَى مَقْصودِ النَّبِيِّ۔۔۔۔الخ

 احادیث مبارکہ سے معنی و پس منظر ثابت ہوتا ہے کہ جب سیدنا علی کو یمن کی طرف بھیجا گیا تھا تو وہاں پر مال غنیمت کی تقسیم میں بعض صحابہ کرام کو ناگواری گزری تو انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ معاملہ شکایت غدیرخم پے عرض کی تو حضور نے حضرت علی کی محبت و خصوصیت اجاگر کرنے کے لیے فرمایا کہ جس کا میں محبوب ہوں علی اس کو محبوب ہیں تو اس سے مراد محبت ہے نہ کہ کوئی اور چیز....اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بعض احادیث میں یہ بھی اضافہ ہے کہ یا اللہ تو اس شخص سے محبت رکھ جو حضرت علی سے محبت رکھے

(الاعتقاد للبیھقی ص354)

.

3....وَأَيْضًا فسبب ذَلِك كَمَا نَقله الْحَافِظ شمس الدّين الْجَزرِي عَن ابْن إِسْحَاق أَن عليا تكلم فِيهِ بعض من كَانَ مَعَه فِي الْيمن فَلَمَّا قضى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حجه خطبهَا تَنْبِيها على قدره وردا على من تكلم فِيهِ كبريدة كَمَا فِي البُخَارِيّ أَنه كَانَ يبغضه

 علی مولا کا معنی سبب و پس منظر یہ ہے کہ مال غنیمت کے معاملے میں کچھ صحابہ کرام نے شکایت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کی قدر و منزلت بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ جس کا میں مولا علی اس کا مولا یعنی ان سے بغض نہ رکھو ان سے محبت رکھو جیسے کہ بخاری سے ثابت ہوتا ہے

(الصواعق المحرقة 1/109 )

.

4....شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے شاگرد قاضی ثناء اللہ پانی پتی کہ جس کے متعلق شاہ عبدالعزیز دہلوی نے فرمایا کہ بیھقیِ وقت ہیں، قاضی صاحب خلیفہ تھے حضرت مظہر جان جانان دہلوی کے، یہی قاضی پانی پتی  لکھتے ہیں :

 حدیث مذکورہ میں مولا سے مراد محبوب ہے حدیث کے آخری دعائیہ الفاظ(کہ اے جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ) اس پر قرینہ ہیں...مزید فرماتے ہیں..المفھوم: علی مولا والی حدیث کا سبب و پس منظر یہ ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں کچھ صحابہ کرام کو سیدنا علی سے اختلاف ہوا، ناگواری محسوس کی اور اسکا تذکرہ سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تاکہ ناگواری وشکایت ختم ہوجائے اس لیے فرمایا کہ میں جس کا مولا علی اس کا مولا یعنی جس کا میں محبوب علی اس کا محبوب ہے لیھذا علی کو دوست رکھو، ناگواری شکایت دل سے نکال دو...(السیف المسلول مترجم ص245,246ملخصا)

.

5...شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے کلام کا مفھوم:

 سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے متعلق ہدایت فرمائی تو اتنے بڑے مسئلے یعنی مسئلہ خلافت کے متعلق اگر کچھ فرمانا ہوتا واضح فرما دیتے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو رحمت میں ڈالتے ہوئے اور انہیں غور و خوض کرنے کی عادت ڈالنے کے لیے یہ معاملہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا، اور نماز میں سیدنا ابوبکر صدیق کو خلیفہ بنا کر یہ اشارہ بھی دے دیا کہ کون خلیفہ ہونا چاہیے... علی مولا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت بڑھانے کے لیے فرمایا تھا کیونکہ صحابہ کرام کو سیدنا علی سے شکایت تھی تو شکایت دور کرنے کے لیے فرمایا تھا

(تحفہ اثناء عشریہ ص418,419)

۔

🫵 *#شیعہ کتب سے بھی یہی پس منظر ثابت ہے*

وخرج بريدة الأسلمي فبعثه علي عليه السلام في بعض السبي، فشكاه بريدة إلى رسول الله صلى الله عليه وآله فقال رسول الله صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فعلي مولاه

یعنی

بریدہ اسلمی نے رسول کریمﷺسے حضرت علی کی مال غنیمت کی تقسم کی شکایت تو رسول کریمﷺنے فرمایا میں جسکا مولا و محبوب ہوں علی بھی اس کے مولا و محبوب ہیں)لیھذا ناگواری نہ رکھو، ختم کرو)

(شیعہ کتاب بحار الانوار37/190)

.

، قال: أتبغض عليا؟.....الخ

بریدہ اسلمی کہتےہیں ہمیں مال غنیمت حاصل ہوا...رسول کریمﷺکی طرف خط لکھا کہ تقسیم کے لیے کسی کو بھیجیں،رسول کریمﷺنے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا حضرت علی نے تقسیم کیا اور اپنا حصہ بھی نکالا، ابو بریدہ تقسیم کی شکایت لے کر (غدیر خم مقام پے) رسول کریمﷺ

کو پہنچے اور شکایت و ناگواری کا اظہار کیا رسول کریمﷺنے فرمایا علی نے جتنا لیا اس سے بڑھ کرحصہ ہے اگر علی سے ناگواری ہے تو ختم کردو اگر محبت ہےتو زیادہ محبت کرو

(شیعہ کتاب کشف الغمہ لاربیلی1/293بحذف)

۔

✅ *#لیھذا مولا علی سے مراد خلیفہ یا روحانی خلیفہ بلافصل یا ولایتِ بلافصل یا قطب بلافصل ہرگز ہرگز نہیں...بلکہ محبوب وغیرہ معنی مراد لینا ہی برحق و لازم ہے*

.

1....لَا يَسْتَقِيمُ أَنْ تُحْمَلَ الْوِلَايَةُ عَلَى الْإِمَامَةِ الَّتِي هِيَ التَّصَرُّفُ فِي أُمُورِ الْمُؤْمِنِينَ، لِأَنَّ الْمُتَصَرِّفَ الْمُسْتَقِلَّ فِي حَيَاتِهِ هُوَ هُوَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا غَيْرُ فَيَجِبُ أَنْ يُحْمَلَ عَلَى الْمَحَبَّةِ وَوَلَاءِ الْإِسْلَامِ وَنَحْوِهِمَا..

 حدیث کا معنی یہ بنانا کہ پہلے میں مولا تھا اب علی مولا ہے یعنی اب علی خلیفہ ہے اب تمام معاملات علی سنبھالے گا، یہ معنی قطعا درست نہیں ہے لہذا واجب ہے کہ علی مولا کا معنی ہے کہ جس کو میں محبوب ہوں علی اس کو محبوب ہوں

(مرقاة المفاتيح 9/3937)

( شرح المشكاة للطيبي12/3884)


.

2....امام ابن الاعرابی اور امام ثعلب فرماتے ہیں:

ابن الأعرابي قال المولى المالك وهو الله والمولى ابن العم والمولى المعتق والمولى المعتق والمولى الجار والمولى الشريك والمولى الحليف والمولى المحب والمولى اللوي (3) والمولى الولي ومنه قول النبي (صلى الله عليه وسلم) من كنت مولاه فعلي مولاه معناه من تولاني فليتول عليا قال ثعلب وليس هو كما تقول الرافضة ولكنه من باب المحبة

 امام ابن الاعرابی فرماتے ہیں کہ مولا کا معنی مالک ہے مولا کا معنی چچا کا بیٹا ہے مولا کا معنی ہے ازاد کردہ وغیرہ دوسرے معنی بھی ہیں اور ایک معنی ہے محبوب، یہی محبوب معنی مراد ہے اس قول میں کہ جس کا میں مولا علی اس کا مولا

(تاریخ دمشق ملتقطا42/238)

.

3...وهو وليُّ كلِّ مؤمن"؛ أي: حبيبه....معناه: من كنت أتولاه فعليٌّ يتولاه؛ من الولي ضد العدو

 علی ولی اللہ ہیں مولا ہیں یعنی محبوب ہیں، ولی مولا کا الٹ عدو یعنی دشمن ہے

(شرح المصابيح لابن الملك6/439)

.

4....قال الشافعي رضي الله عنه: يعني بذلك ولاء الإسلام كقوله تعالى: {ذلك بأن اللہ مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولى لهم

 امام شافعی فرماتے ہیں کہ علی مولا کا معنی ہے علی محبوب ہیں... جیسا کہ اس ایت ذلك بأن اللہ مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولى لهم کا معنی اسی طرح بنتا ہے

(شرح المشكاة للطيبي12/3884)

.


5....من كُنْتُ مَوْلَاهُ فعَليٌّ مَوْلاهُ". أراد بذلك ولاء الإسلام، كقوله تعالى: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آَمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ

 امام سیوطی نے بھی فرمایا کہ علی مولا ہیں اسے مراد یہ ہے کہ علی اسلامی طور پر محبوب ہیں جیسا کہ اس ایت ذلك بأن الهل مولى الذين آمنوا وأن الكافرين لا مولى لهم کا معنی اسی طرح بنتا ہے

( قوت المغتذي على جامع الترمذي2/1002)

.

.

6....وهو ولي كل مؤمن) أي: حبيبه

 شیخ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ولی مولا کا معنی محبوب ہے

(لمعات شرح مشکواۃ9/653)

.

7.....مَوْلَاهُ مَعْنَاهُ مَحْبُوبٌ مَنْ أَنَا مَحْبُوبُهُ قُلْتُ وَيَدُلُّ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى قَوْلُهُ: اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَلَاهُ أَيْ أَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ بِقَرِينَةِ اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَعَلَى هَذَا فَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ لَهُ تَعَلُّقٌ بِالْخِلَافَةِ

أَصْلًا

 علی مولا ہیں اس سے نہ تو روحانی خلافت ثابت ہوتی ہے نہ ہی سیاسی خلافت ثابت ہوتی ہے اس کا معنی تو یہ ہے کہ جس کو میں محبوب ہوں علی اس کو محبوب ہیں اور یہ معنی حدیث سے ہی ثابت ہوتے ہیں کہ حدیث پاک میں ہے کہ یا اللہ اس سے محبت فرما جو علی سے محبت کرے اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے

(حاشية السندي على سنن ابن ماجه1/56)

.

8....سیدی اعلیٰ حضرت نے بھی مولا کا معنی دوست لکھا ہے، اور فرمایا ہے کہ اس سے سیدنا علی کی افضلیت یا ولایت باطنی بلافصل وغیرہ ثابت نہیں ہوتی۔۔۔بلکہ سیدی اعلی حضرت نے فرمایا کہ اول روحانی باطنی خلیفہ اور ظاہری خلیفہ بھی سیدنا ابوبکر صدیق ہیں پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ تعالی عنہم

(دیکھیے مطلع القمرین ص71۔۔۔۔المعتقد المنتقد ص286ملتقطا)

🚨اور عرفان شاہ مشہدی ریاض شاہ وغیرہ نیم روافض کے معتبر ترین ساتھی اور ان کے محقق صاحب چمن زمان لکھتے ہیں کہ ہم نظریات کے معاملے میں اعلی حضرت کے پیروکار ہیں، طاہر کادری اور منہاجی بھی اعلی حضرت کو مانتے ہیں ان سب کو اعلی حضرت کا یہ فرمان نظر نہیں اتا۔۔۔۔۔۔۔؟؟

چمن زمان صاحب لکھتے ہیں

ہم باب نظریات میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شخصیت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں

(دیکھیےجدید نعرے ص57,58)

۔

🧐 *#صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نیم روافض سیدی اعلی حضرت کا نعرہ صرف اس لیے لگاتے ہیں تاکہ عوام کو دھوکہ دے سکیں عوام میں عزت پا سکیں عوام سے پیسہ کھا سکیں اور شیعہ وغیرہ ایرانی ہڈیوں پر بھی پلتے رہیں ورنہ کریں توبہ اور کریں حق قبول۔۔۔۔۔!!*

۔


📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.