🟫 *#جامی گولڑوی صاحب کی قسط اول کا جواب*
🟦پس منظر:
گولڑہ شریف کے موجودہ جانشین نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فاروق اعظم اور صدیق اکبر کا لقب دے دیا اور یہ شعر کہا:
اے علی! فاروقِ اعظم تو لقب ہے آپ کا
اے وصیِ مصطفیٰ! صدیقِ اکبر کون ہے؟
۔
اس پر امت مسلمہ اہلسنت میں انتشار و عجیب سا غشہ طاری ہوا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ اکابرین نے توجہ دلائی کہ اے گدی نشین حضرات سوچیے تو اپ کہاں جا رہے ہیں، اکابرین اور دیگر احباب نے مسئلے کو سلجھانے کے لیے سوشل میڈیا پر تردید و مذمت کے بجائے عرض کرنے سلجھانے سمجھانے کو ترجیح دی اور ہم نے بھی اسی انتظار میں کچھ نہ لکھا کہ اللہ کریم کرم فرمائے اور ہم اپس میں مسئلے کو سلجھا لیں
۔
🟥دفاع والی وائرل تحریر:
ابھی ہم اسی سلجھاو کے انتظار میں تھے کہ اس شعر کا دفاع کرنےمحمد صفدر الجامی صاحب ظاہر ہوئے اور انکی تحریر وائرل ہوئی اور بظاہر انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ صدیق اکبر اور فاروق اعظم یہ دونوں لقب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اسلاف نے بھی دیے ہیں،تو کئ احباب کرام نے توجہ دلائی کہ عوام ذہنی طور پر الجھن و تشویش کا شکار ہو رہی ہے، اس لیے سلجھانے کے انداز میں اس کا جواب شروع کریں تو
👈👈لیجیے پہلی قسط کا جواب
۔
🔴محمد صفدر جامی صاحب لکھتے ہیں:
اس شعر پر معترضین کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات کا علمی و تحقیقی محاکمہ کرنے سے پہلے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے اس مسلمہ محقق اور جلیل القدر ہستی کا فیصلہ پیش کر دیا جائے جس کی علمی جلالت پر اپنوں اور بیگانوں سب کا اتفاق ہے، یعنی محقق علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ۔
👈معترضین نے اس مسئلہ میں یہ شوشہ چھوڑا کہ مولیٰ علی مرتضیٰ علیہ السلام کے لیے ان القابات کا اثبات پیر آف گولڑہ شریف، کی کوئی "نئی بات" ہے اور آج سے پہلے اسلاف میں یہ بات کسی نے نہیں کی۔ یہ بات ان کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
👈جامی حضور (سجادہ نشین آستانہ عالیہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف) نے جو لکھا، وہ کوئی ان کی اپنی ایجاد نہیں تھی، 👈بلکہ وہ چودہ سو سالہ علمی تسلسل کی ترجمانی تھی۔ میں معترضین کی علمی کم مائیگی کے علاج کے لیے اُن سے سینکڑوں برس پہلے گزرے محقق علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی عبارات پیش کرتا ہوں، جنہوں نے صاف لکھا کہ: " (جنابِ علیؑ المرتضی) بھی صدیقِ اکبر ہیں اور اس امت کے فاروق ہیں"۔ اور انہوں نے آگے امام جلال الدین سیوطی، امام طبرانی، اور امام ابنِ عدی جیسے جلیل القدر ائمۂ اسلاف کے واسطے سے اس موقف پر مہرِ تصدیق ثبت فرمائی۔
👈اگر مولیٰ علی مرتضیٰؑ کو 'صدیقِ اکبر اور فاروق' کہنا پیر آف گولڑہ شریف کی "نئی بات" ہے، اور رافضیت ہے تو معترضین ہمت کریں اور پیر آف گولڑہ شریف سے پہلے شیخ عبد الحق محدث دہلوی پر، ان سے پہلے امام سیوطی پر، اور ان سے پہلے ائمۂ حدیث پر بھی یہی فتویٰ صادر کریں! لیکن سچ یہ ہے کہ ان کے پاس نہ علم ہے، نہ تحقیق؛ 👈یہ محض اپنے تعصب کی تسکین کے لیے اکابرینِ امت پر جھوٹ کے تیر چلاتے ہیں، جو حق کے سامنے بالکل بے وقعت ہیں۔
👈معترضین کا یہ دعویٰ کہ یہ القابات شیخین کریمین کے ساتھ اس طرح خاص ہیں کہ کسی دوسرے پر بولے ہی نہیں جا سکتے، اس بابت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنی مایہ ناز کتاب 🟣'اشعة اللمعات' (جلد 4، صفحہ 374) پر واضح ترین فیصلہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
«صدیق اگرچہ لقب امیر المومنین ابی بکر شدہ رضی اللہ عنہ ولیکن معنی این منحصر نیست در وی و صادق است بر غیر او از صدیقان وسیوطی بطریق متعددہ در مناقب امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ آوردہ کہ این اول کسی است کہ ایمان آوردہ و اول کسی است کہ مصافحہ میکند روز قیامت واین صدیق اکبر و فاروق این امت است»
ترجمہ:
"صدیق اگرچہ امیر المومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب بن چکا ہے لیکن اس کا معنی ان میں منحصر نہیں ہے۔ (یہ لقب) ان کے علاوہ دیگر صدیقین پر بھی صادق آتا ہے۔ علامہ سیوطی امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت لائے ہیں کہ یہ (علی ع) سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے (رسول اللہ ص سے) مصافحہ کریں گے اور یہ (علی ع) «صدیق اکبر» ہیں اور اس امت کے «فاروق» ہیں۔
"
👈آپ اسی پر بس نہیں کرتے، بلکہ اپنی دوسری تصنیف 🟣'لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح' (جلد 9، صفحہ 677) پر مزید صراحت کے ساتھ رقمطراز ہیں
"واسم الصديق مما غلب على أبي بكر، ولكن معناه
غير منحصر فيه، وقد ذكر السيوطي من حديث سلمان وأبي ذر معاً كما رواه الطبراني، ومن حديث حذيفة كما رواه العقيلي في (الضعفاء) وابن عدی في (الكامل) في مناقب علي: أن النبي ﷺ قال: 'هذا أول من آمن، وهو أول من يصافحني يوم القيامة، وهذا الصديق الأكبر، وهذا فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل، وهذا يعسوب المسلمين، والمال يعسوب الظالمين۔'"
ترجمہ:
"لفظِ صدیق ان القابات میں سے ہے جس نے (عرف و شہرت کے اعتبار سے) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر غلبہ کر لیا ہے، لیکن اس کا معنی صرف انہی کے ساتھ خاص اور منحصر نہیں ہے۔ اور علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل کی ہے جسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے، نیز سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جسے عقیلی نے (الضعفاء) میں اور ابن عدی نے (الکامل) میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے ضمن میں روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'یہ سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں، اور قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کرنے والے ہیں، اور یہی صدیقِ اکبر ہیں، اور یہی اس امت کے فاروق ہیں جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں، اور یہی مسلمانوں کے یعسوب (سردار و قائد) ہیں، جبکہ مال ظالموں کا یعسوب ہے۔
👈شیخِ محقق عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے ان مہرِ نیم روز جیسے جلی بیانات اور ائمۂ اسلاف کی تصریحات کے بعد، اب معترض کے پاس فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ 👈اب اس کج بحث کے سامنے صرف تین ہی راستے ہیں، اور تینوں ہی اس کی علمی شکست کا اعلان ہیں:
👈پہلا راستہ: وہ (معاذ اللہ) شیخِ محقق کی جلالتِ علمی اور محدثانہ مقام کا سرے سے انکار کر دے؛ اور جس طرح وہ مولیٰ علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے پر ہمیں 'رافضیت' کا طعنہ دینے پر تلا ہوا ہے، اسی طرح اٹھ کر شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور علامہ جلال الدین سیوطی پر بھی رافضی ہونے کا فتویٰ جڑ دے! (جس کی جرات کسی ذی ہوش مسلمان میں نہیں ہو سکتی)۔
👈دوسرا راستہ: وہ ائمہ کی ان مایہ ناز کتب پر علمی خیانت کا الزام لگاتے ہوئے یہ مضحکہ خیز عذر تراشے کہ: "شیخِ محقق کی کتب (اشعة اللمعات اور لمعات التنقیح) میں بعد میں کسی نے الحاقات (تحریف یا بیرونی عبارات شامل) کر دیے ہیں!"— یہ ایسا دعویٰ ہوگا جس پر دنیا کا ہر اہلِمحراب و منبر اور محقق معترض کی عقل پر ماتم کرے گا۔
👈تیسرا اور واحد راستہ (بشرطِ خوفِ خدا): وہ اپنی ضد اور انا کی عینک اتار کر اسلاف کے اس مروّجہ طریقے کو تسلیم کرے، اور اب تک فضائلِ مولیٰ علیؑ کے باب میں جو مغلظات اور ناصبی ہذیان بک چکا ہے، اس پر بارگاہِ الٰہی میں سچے دل سے نادم و شرمندہ ہو کر توبہ کرے۔
👈اگر معترض میں اب بھی ذرہ برابر خوفِ خدا، حیا اور علمی دیانت باقی ہے، تو اسے کج بحثیاں چھوڑ کر حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا چاہیے؛ ورنہ اس کے علمی دیوالیہ پن اور فکری جمود کا جنازہ تو شیخِ محقق کے اقتباساتِ قاہرہ پہلے ہی نکال چکے ہیں۔
ابھی جاری ہے ۔۔۔۔ اگلی قسط کا انتظار کیجیے ۔۔
محرر ایں سطور
محمد صفدر الجامی قادری
07/06/2026
۔
🟥اپ کے سامنے من و عن دفاعی تحریر رکھی ہے۔۔۔اب نیچے ہم اسکا مفصل جواب لکھیں گے۔۔۔اللھم ہداہۃ الحق و الصواب
🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩
🟩 *#جواب و تحقیق*
*#خلاصہ*
👈1...اسلاف کی کتب میں صدیق اکبر اور فاروق اعظم بطور لقب صرف انہی دو شخصیات کے لیے ہیں، بطور لقب کسی بھی مستند کتاب میں اسلاف کی زبانی ان کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ایا ہماری معلومات کے مطابق۔۔
۔
👈2...بطور لقب صدیق اکبر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ہے اور بطور لقب فاروق اعظم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ہے لیکن معنی یعنی صدیق اکبر کا معنی اور فاروق اعظم کا معنی سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سمیت کئی صحابہ کرام پر فٹ اتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام صحابہ کرام کے ساتھ یہ لقب لگانا شروع کر دیں کیونکہ بطور لقب تو یہ دوسرے صحابہ کرام کے لیے ثابت نہیں ہاں بطور معنی کہ دوسرے صحابہ کرام کے لیے ایا ہے۔۔۔🚨لیھذا جن روایات میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو صدیق اکبر فاروق وغیرہ فرمایا گیا ہے ان میں سے کئی روایات مردود اور من گھڑت ہیں اور بعض کو اگر درست مان لیا جائے تو بھی ان کا معنی یہی ہوگا کہ بطور لقب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ صدیق اکبر فاروق اعظم نہیں ہیں بلکہ معنی کے لحاظ سے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سمیت دیگر صحابہ کرام بھی صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہیں،لیکن کیونکہ لقب سیدنا صدیق اکبر سیدنا ابوبکر صدیق کے لیے ہے اور لقب فاروق اعظم سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ہے لہذا بطور لقب کسی بھی صحابی کو یا سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بطور لقب صدیق اکبر یا فاروق اعظم نہیں کہا جائے گا،✅👈سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو وقت کا صدیق اکبر لکھا ہے تو وہ بھی اسی معنی کے تحت لکھا ہے بطور لقب نہیں لکھا اور مزید احتیاط کرتے ہوئے لفظ وقت کی قید بھی لگائی ہے
۔
👈3...علامہ خفاجی اور سیدی اعلی حضرت و دیگر اسلاف کی کتب میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو *#صدیق اصغر* فرمایا گیا ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلاف نے بطور لقب صدیق اصغر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو قرار دیا ہے لہذا اپ کا کہنا کہ لقب صدیق اکبر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے یہ سراسر اسلاف سے انحراف ہے
۔
👈4... معنی کے طور پر دیکھیں تو صادق و امین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب مبارک ہے لیکن کیا سیدنا صدیق اکبر اور کیا سیدنا علی اور دیگر صحابہ کرام صادق نہیں ہیں اور امین نہیں ہیں۔۔۔؟؟ تو پھر کیا اپ تمام صحابہ کرام کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص لقب صحابہ کرام کے ساتھ لگانا شروع کر دیں گے۔۔۔۔؟؟
۔
👈5... اب اگر اسی طرز پر سوچا جائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو لقب مبارک ہیں ان میں کئی ایسے القاب ملیں گے کہ جو معنی کے اعتبار سے دیگر صحابہ کرام پر بھی فٹ اتے ہیں تو نعوذ باللہ بدمذہبوں کی طرح کہ جنہوں نے رحمۃ اللعالمین لقب اپنے بزرگوں کے ساتھ لگا دیا جبکہ اسلاف نے ان کو خوب رد کیا کہ یہ لقب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور کسی کے لیے جائز نہیں
۔
👈6... اسی طرح اگر معنی کو دیکھتے ہوئے ہم نے القابات کی بھرمار کرنا شروع کر دی تو روایات کے اندر جو القابات استعمال ہوئے ہیں اور تاریخ میں جو القابات استعمال ہوئے ہیں تو موجودہ لوگ اور آنے والی نسل تشویش مغالطے میں اور گمراہی میں پڑ جائے گی اور سمجھ نہیں پائے گی کہ
تاریخ واقعہ حدیث روایت میں
صدیق اکبر لفظ لکھا ہے تو اس سے مراد سیدنا ابوبکر صدیق ہے یا سیدنا علی یا کوئی اور صحابی۔۔۔؟؟ اور موجودہ لوگوں کو اور انے والی نسلوں کو گمراہی میں دھکیلنا تشویش میں ڈالنا شرعی اخلاقی ہر لحاظ سے سخت سخت ممنوع ہے۔۔۔۔!!
۔
👈7...علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا مشہور لقب مرتضی ہے جس کا معنی ہے جس سے راضی ہوا جائے تو کیا اللہ تعالی تمام صحابہ کرام سے راضی نہیں ہے۔۔۔؟؟ تو کیا تمام صحابہ کرام کے ساتھ مرتضی لگانا شروع کر دیں۔۔۔؟؟
۔
👈8...جامی صاحب کے شعر میں لکھا ہے کہ:
اے وصیِ مصطفیٰ! صدیقِ اکبر کون ہے؟
جس سے ایک معنی یہ نکل رہا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ کوئی صدیق اکبر نہیں ہے، سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ کون ہے صدیق اکبر۔۔۔؟؟ ایک معنی کے تحت یہ سوالیہ انکاریہ جملہ واضح کر رہا ہے کہ نعوذ باللہ تعالی اس شعر کا ایک معنی تو یہ بنتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ کوئی صدیق اکبر نہیں کوئی فاروق اعظم نہیں۔۔۔🚨اسی وجہ سے لوگوں نے علماء و مشائخ نے اعتراض اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ رافضیت نہیں۔۔۔۔؟؟ کیونکہ سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم کا انکار کرنا ہی تو رافضیت کی ایک علامت ہے
🙏لیھذا دوسروں کو مذمت کرنے کے بجائے اپنے اشعار پر غور فرمائیے اپنے نظریات پر غور فرمائیے اور محتاط اشعار ایسے لکھیے کہ جس سے رافضیت خارجیت بدمذہبیت کی بو نہ اتی ہو، تفضیلیت کی بو نہ اتی ہو ، یہی اہل سنت کا وطیرہ رہا ہے اور اسی لیے اہل سنت علماء کرام نے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے صدیق اصغر کا لقب استعمال کیا ہے
۔
🟢🟢🟢🟢🟢🟢🟢
🟫 *#تھوڑی تفصیل و دلائل*
پہلی بات:1️⃣
یہ لیجیے اسلاف کے چند حوالہ جات کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے صدیق اصغر استعمال کیا ہے
🟢1...علامہ خفاجی فرماتے ہیں:
ابی بکر فلانہ الصدیق الاکبر...کذا کرم اللہ وجہہ الکریم فانہ یسمی الصدیق الاصغر
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ صدیق اکبر ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ صدیق اصغر ہیں
(نسیم الریاض1/234)
.
🟢2...(قالت لعائشة) أي: الصديقة بنت الصديق الأكبر....خرجوا على سيدنا علي الصدِّيق الأصغر رضي الله عنه
سیدہ عائشہ جو صدیق اکبر ابوبکر صدیق کی بیٹی ہیں اور خوارج جو نکلے صدیق اصغر سیدنا علی کے خلاف
( أصل الزراري شرح صحيح البخاري - مخطوط ص183)
.
🟢3... مجدد دین و ملت امام اہلسنت سیدی احمد رضا لکھتے ہیں:
علماء فرماتے ہیں،ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضی صدیق اصغر،صدیق اکبر کا مقام اعلٰی صدیقیت سے بلند وبالا ہے
(فتاوی رضویہ15/681)
.
دوسری بات:2️⃣
اپ نے قبلہ شاہ صاحب کی دو عبارات کا حوالہ دیا ہے لیکن اپ نے شاید دونوں حوالوں پر غور نہیں فرمایا۔۔۔ کیونکہ اگے پیچھے کی عبارت کو دیکھیں تو شاہ صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ بطور لقب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا لقب صدیق اکبر ہے لیکن اس معنی میں سیدنا علی بھی شامل ہیں اور سیدنا سعد بن ابی وقاص بھی شامل ہیں
اور اسی طرح دیگر صحابہ کرام کو بھی اپ شامل کر لیں کیونکہ وہ بھی تو صدیق ہیں سچے ہیں، بڑے سچے ہیں،
تو
شاہ صاحب نے بطور لقب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو صدیق اکبر نہیں فرمایا جبکہ اپ نے شاہ صاحب کی عبارت میں ایک قسم کی تحریف اور رد و بدل کیا ہے اور لکھا ہے کہ بطور لقب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بطور لقب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی صدیق اکبر ہیں، یہ اپ کی اپنی طرف سے بے بنیاد بات ہے کیونکہ شاہ صاحب نے بطور لقب سیدنا صدیق اکبر کے علاوہ کسی کو بھی صدیق اکبر قرار نہیں دیا بلکہ صدیق کے معنی میں سیدنا علی اور سیدنا سعد بن ابی وقاص کو شامل کیا ہے
🟣یہ لیجیے شاہ صاحب کی پوری عبارت
وأما ذكر سعد بن أبي وقاص في هذا الحديث فمشكل، لأنه غير مقتول، فقد ذكر في (جامع الأصول) (1): أنه مات في قصره بالعقيق قريبًا من المدينة، ودفن بالبقيع، اللهم إلا أن يدخل في الصديق، واسم الصديق مما غلب على أبي بكر -رضي اللَّه عنه-، ولكن معناه غير منحصر فيه، وقد ذكر السيوطي من حديث سلمان وأبي ذر معًا كما رواه الطبراني، ومن حديث حذيفة كما رواه العقيلي في (الضعفاء) وابن عدي في (الكامل) (2) في مناقب علي: أن النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: (هذا أول من آمن وهو أول من يصافحني يوم القيامة، وهذا الصديق الأكبر، وهذا فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل
خلاصہ:
شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ احد پہاڑ پہ سیدنا سعد بن ابی وقاص بھی تھے تو رسول کریم نے فرمایا کہ احد پہاڑ جنبش نہ کر تجھ پر صدیق ہے اور شہید ہے تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص شہید تو نہیں ہوئے تو پھر اس حدیث پاک کا کیا مطلب ہوا۔۔۔؟؟ تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ شہید میں سیدنا علی المرتضی، سیدنا عثمان غنی، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین شامل ہیں جبکہ لفظ صدیق میں معنی کا لحاظ کرتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ شامل ہیں
(لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح9/677)
👈👈اب بتائیے اپ نے اوپر لکھا کہ بطور لقب سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بطور لقب دوسروں کے ساتھ بھی جائز ہے جبکہ شاہ صاحب واضح فرما رہے ہیں کہ معنی میں شامل ہیں لقب میں شامل نہیں، ورنہ کیا اپ سیدنا سعد بن ابی وقاص کو بھی صدیق اکبر کہنا شروع کر دیں گے۔۔۔۔؟؟
۔
🟣شاہ صاحب کے دوسرے حوالے میں بھی وہی بات لکھی ہے جو ہم نے اوپر لمعات کے حوالے سے لکھی ہے، یقین نہیں اتا تو اشعۃ کی پوری عبارت پڑھیے۔۔۔یہ لیجیے:
و زاد بعضهم و سعد ابن ابی وقاص و زیاده کرده اند بعضی از روات این لفظ که سعد بن ابی وقاص یعنی وی نیز بر حرا بود همراه انحضرت ولم یذکر علیا و ذکر نکرده این بعض علی را ولیکن این مشکل است زیرا که سعد بن ابی وقاص مقتول نیست و در قصر خود مرده که در وادی عقیق داشت و آور و شد از انجا و دفن کرده شد به بقیع مگر آنکه داخل صدیق دارند و صدیق اگرچه لقب امیر المؤمنین ابی بکر شده رضی الله عنه ولیکن معنی این مخصر نیست وروی و صادق است. برغیراوانہ صدیقان و سیوطی بطریق متعده در مناقب امیر المؤمنین علی رضی الله عنه آورده که این اول کسی است که ایمان آورده و اول کسی است که مصافحه میکند روز قیامت و این صدیق اکبر و فاروق این امت است
خلاصہ:
شاہ صاحب نے بالکل وہی بات لکھی ہے جو اوپر ہم خلاصے میں عربی عبارت کے تحت لکھا ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص بھی صدیق اکبر کے معنی میں داخل ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی صدیق اکبر کے معنی میں داخل ہیں لیکن بطور لقب صدیق اکبر تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ خاص ہے
(اشعۃ اللمعات4/374)
۔
تیسری بات:3️⃣
مختصر عرض کرتا چلوں کہ ایات و احادیث مبارکہ میں واضح طور پر موجود ہے کہ غلط فہمیوںچمغالطوں میں نہیں ڈالنا چاہیے تو چونکہ پوری تاریخ میں مشہور و معروف لقب صدیق اکبر فاروق اعظم دو ہستیوں کا ہے یعنی صدیق اکبر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا لقب ہے اور فاروق اعظم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا لقب ہے تو اب اگر ہم سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یا دیگر صحابہ کرام علیہ رضوان کے ساتھ لگانا شروع کر دیں گے تو اشتباہ اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی جائیں گی کہ تاریخ میں گڈمڈ ہوتا جائے گا کہ موجودہ لوگ اور آنے والی نسلیں سمجھ ہی نہ پائیں گی کہ فاروق اعظم صدیق اکبر لکھا ہے تو اس سے کون مراد ہے ابوبکر صدیق ،عمر فاروق، علی المرتضی، سعد بن ابی وقاص و دیگر صحابہ کرام۔۔۔؟؟اخر کون مراد ہے۔۔۔۔؟؟ یہ تشویش مغالطے غلط فہمیوں میں ڈالنا ہی تو ہے جبکہ احادیث مبارکہ میں اس کی سخت ممانعت ہے
الحدیث:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْغَلُوطَاتِ
نبی پاکﷺمنع فرمایا ہےمغالطوں سے،غلط فھمیوں سے( یعنی نبی پاکﷺ نے غلط فھمیوں مغالطوں میں ڈالنے
سے بھی منع فرمایا ہے)
(ابوداؤد حدیث3656)
.
دھوکے مغالطے دینا
الحدیث:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ
جو دھوکہ دے، مغالطے میں ڈالے وہ ہم میں سے نہیں.
(ابن ماجہ حدیث2224)
.
مکاریاں..فریب...چالبازیاں..
الحدیث...
مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا، أَوْ مَكَرَ بِهِ
ترجمہ: لعنتی ہے وہ شخص جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچاے یا اس کے ساتھ مکر.و.فریب کرے
(ترمذی حدیث1941)
۔
🚨میں اپ پر دو ٹوک انداز میں ان احادیث مبارکہ کو فٹ نہیں کر رہا لیکن اپ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے یہ احادیث مبارکہ لکھی ہیں کہ سوچیے ہم سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ یا دیگر صحابہ کرام کو صدیق اکبر فاروق اعظم لکھ کر مغالطے دھوکے غلط فہمیوں میں ڈال رہے ہیں یا نہیں۔؟کتاب حدیث تاریخ روایات وغیرہ پڑھتے وقت اج کے لوگ اور انے والی نسلیں فقط لفظ سیدنا صدیق اکبر یا لفظ سیدنا فاروق اعظم پڑھیں گی تو کیا مغالطے اور دھوکے اور تشویش میں مبتلا نہیں ہوں گی کہ یہاں پر کون ہستی مراد ہے۔۔۔۔؟؟
۔
چوتھی بات:4️⃣
تعریف و مذمت وغیرہ ہر معاملے میں اعتدال ضروری ہے اور مبالغہ ارائی سے منع کیا گیا ہے، سخت منع کیا گیا ہے
الحدیث:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ
خبردار دین میں(اور دینداروں کی محبت تعریف یا مخالف پر تنقید وغیرہ ہر معاملےمیں)خود کو غلو(مبالغہ آرائی،حد سےتجاوز کرنے) سےدور رکھو
(ابن ماجہ حدیث3029شیعہ کتاب منتہی المطلب2/729)
.
الحدیث:
قولوا بقولكم، أو بعض قولكم، ولا يستجرينكم الشيطان
ترجمہ:
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں کچھ الفاظ کہے گئے تھے تو اس پر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ)
تعظیم کے الفاظ کہو یا بعض الفاظ کہو لیکن خیال رہے کہ شیطان تمھیں جری نا بنا دے(یعنی شیطان تمھیں تعظیم میں حد سے بڑھنے والا،غلو کرنے والا بےباک جری نا بنا دے)
(ابو داؤد حدیث نمبر4806)
✅جسکو اللہ نے عزت و عظمت دی ہے اسکی عزت تعظیم.و.قدر کرنی چاہیے مگر شرعی حد میں رہتے ہوئے.....!!
جب
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے متعلق خود تنبیہ فرمائی کہ شیطان تمہیں جری و بے باک غلو مبالغہ ارائی کرنے والا نہ بنا دے، تو پھر صحابہ کرام علیہم رضوان اور دیگر کے متعلق کتنی احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔۔؟؟ اسی طرح اگر ہم قیاس ارائیوں اور معنی کا لحاظ کرتے ہوئے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ القابات لگاتے گئے تو کل صادق و امین بھی کہنا شروع کر دیں گے رحمۃ اللعالمین بھی کہنا شروع کر دیں گے، اللہ کریم ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور شرعی حد میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے
۔
🟥 *#دو اہم نوٹ*
👈1....میں جامی صاحب پر اور دیگر تمام احباب و عوام پر واضح کرتا چلوں کہ میں کسی کا تنخواہ دار لکھاری نہیں ہوں، اور نہ ہی میں کسی مخصوص تنظیم تحریک کا نمائندہ یا ذمہ دار۔۔۔۔ میں تمام اہل سنت سچے اہل سنت بالخصوص رضویت والے تمام تنظیموں تحریکوں اداروں درگاہوں کا خادم و غلام ہوں۔۔۔ اس تحریر کا میں خود ذمہ دار ہوں، تحریر کو شیئر کرنے والے پھیلانے والے اور مجھ سے متعلقین کا اس تحریر سے کوئی ذمہ نہیں، پوری ذمہ داری مجھ پر ہے۔۔۔سوائے اس کے کہ کوئی محترم شرف بخشے میری تحریر کو تو وہ انکی اواز بن جائے گی مگر کبھی بھی اس تحریر میں غلطی نکلے تو وہ میری ذمہ داری ہے میری غلطی ہے
۔
👈2...کاش کہ جامی اور گولڑہ شریف کے ذمہ دار و مشائخ و اہل علم حضرات اپنے دلائل و اشکالات دیگر علماء اہل سنت کے سامنے رکھیں اور پیار محبت سے بات کریں اور سمجھنے سمجھانے سلجھنے سلجھانے کو مد نظر رکھیں تو اس طرح تحریرات وائرل کر کے بحث و مباحثہ کی ضرورت ہی نہیں،اور ہم نے بھی تحریر وائرل صرف اس لیے کی ہے تاکہ جامی صاحب نے جو تحریر وائرل کی ہے اس سے نہ جانے کتنے اہل سنت تشویش میں مبتلا ہوئے تو ان کے لیے بھی علم کا ذریعہ بنے، اور اگر میں غلط ہوں یا ہم مخالفت کرنے والے غلط ہیں تو جامی صاحب تحریرات وائرل کرنے کے بجائے اہل علم حضرات کے سامنے رکھیں تاکہ ہمارے لیے ہدایت کا سامان بنے
۔
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر(بطور تعارف علامہ) عنایت اللہ حصیر القادری
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475