🟦 *#مرزا جہلمی کا اعتراض سیدی اعلی حضرت پر بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور صحابہ کرام پر جا لگتا ہے کہ انہوں نے نعوذ باللہ شرک کیا،👈لوگو پہچانو اس مردود جہلمی کو اور اس سے دور رہنا لازم ہے۔۔ظلی نبی، اور غوث پاک نبی کریم کا ظل ہیں دونوں کا فرق۔۔۔؟ تفصیل اس مدلل تحریر میں پڑھیے👈خلاصہ تو ضرور پڑھیے*
۔
🙏مسئلہ باریک و حساس ہے اسے زیادہ واضح کرنے کے لیے ایموجیز کا بہت استعمال کیا ہے۔۔۔ایموجیز لگا کر توجہ دلانا، اہم پوائنٹ ہائی لائٹ کرنا مقصود ہے
۔
🔴سوال:
چند دنوں سے کئ احباب نے فرمایا کہ مرزا جہلمی کا
🚨خطرناک اعتراض وڈیو کی صورت میں
🚨وائرل ہے۔
اسکا مدلل جواب لکھیں، 👈وائرل کریں
👈👈 ویڈیو میں مرزا جہلمی کہتا ہے کہ: المفھوم
شیعوں کا عقیدہ امامت سے بدتر عقیدہ تو بریلویوں کا ہے کہ امام احمد رضا سے سوال ہوا کہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے اگر اللہ تعالی نے نبوت کا دروازہ بند نہ کیا ہوتا۔۔تو امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ بے شک حدیث پاک میں ہے کہ میرے بعد اگر کوئی نبی انا ممکن ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔۔۔ سیدی امام احمد رضا اس سے دلیل اخذ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا کہنا جائز ہے کیونکہ غوث اعظم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات و صفات کے 👈ظل ہیں(جہلمی نے پوری بات نہیں بتائی ہم اگے پوری عبارت لکھیں گے کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ سیدنا غوث اعظم نے خود فرمایا کہ نبوت کے سواء دیگر صفات محمدیہ میں سے انہیں عطاء ہوا ہے)
🚨اس پر
مرزا جہلمی کہتا ہے کہ یہ وہی چیز ہے کہ جس کی بنیاد پر 👈مرزا قادیانی کو دجال قرار دیا گیا کہ اس نے اپنے اپ کو 🔷#ظلی نبی# کہا اور یہاں پر بھی غوث اعظم کو
🔷 #ظلِ نبی# (ظل اور ظلی کا فرق بہت اہم ہے، اگے تفصیل ضرور پڑھیے سمجھیے گا) خیر جہلمی کے مطابق
غوث اعظم کو 🔷#ظلِ نبی# کہا جا رہا ہے تو دوسرے انبیاء کرام سے بڑھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ غوث اعظم کو دیا جا رہا ہے یہ تو ختم نبوت پر ڈاکہ ہے
۔
🟩 *#جواب و تحقیق*
👈👈📌خلاصہ:
1️⃣۔۔۔ دجال مرزا قادیانی نے یہ کہا تھا کہ دیگر کمالات کے ساتھ ساتھ نبوت بھی دے کر مجھے 🔷#ظلی نبی# بنایا گیا ہے،جبکہ سیدی اعلی حضرت نے دو ٹوک الفاظ میں غوث اعظم کا فرمان لکھا ہے کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات صفات میں سے عطا کیا گیا ہے📌 سوائے نبوت کے۔۔۔🚨لیھذا قادیانی کا جملہ کفریہ ہے ختم نبوت پر ڈاکہ ہے جبکہ دوسرا جملہ واضح طور پر نبوت کا دعوی نہیں کرتا بلکہ نبی ہونے کی نفی کی جا رہی ہے تو لہذا وہ ختم نبوت پر ڈاکہ نہیں ہے 🚨🚨جبکہ مرزا جہلمی جھوٹا غلط کفریہ فتوی دے کر خود کافر قرار پایا کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کافر قرار دیا تو وہ اگر کافر ہے تو ٹھیک ورنہ کافر قرار دینے والا خود کافر ہو جائے گا
۔
2️⃣۔۔۔۔ 👈رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے 👈سچے اچھی بادشاہ کو 👈🔷#ظلُ اللہ# فرمایا ہے۔۔۔اب مرزا جہلمی کے مطابق 🔷#ظلِ نبی# کہنے سے نبوت کا دعوی ہو جاتا ہے تو 🔷#ظلُ اللہ# کہنے سے اللہ ہونے کا دعوی ہوجائے گا 🚨تو نعوذ باللہ مرزا جہلمی کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ کو
🔷#ظل اللہ# فرما کر اللہ قرار دیا اور شرک کیا نعوذ باللہ تعالی اور صحابہ کرام نے بادشاہ کو 🔷#ظل اللہ# کہہ کر اللہ قرار دیا،شرک کیا نعوذ باللہ۔۔۔ 🤔مرزا جہلمی کے باطل مردود دجال ہونے میں اب کوئی شک رہا ہے کیا۔۔۔؟؟ 💯کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام شرک والا قول نہیں فرما سکتے۔۔۔ہرگز نہیں
۔
3️⃣۔۔۔🔷#ظلِ نبی# اور 🔷#نبی ظلی٫ ظلی نبی# میں فرق ہے۔۔۔ بلا تمثیل فقط سمجھانے کے لیے میں اپ کو دو مثالیں دیتا ہوں کہ
کوئی 6 سال کا عقلمند بچہ کہے کہ میں اپنے والد کا ظل ہوں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ میرے والد کی صفات میں سے کچھ مجھے بھی عطا ہوا ہے میں ایسا شخص ہوں، لیکن یہ جملہ بول کر وہ اپنے اپ کو 🔷#والد ظلی# نہیں کہہ رہا ہوتا، وہ یہ نہیں کہہ رہا ہوتا کہ میں بھی والد ہوں، نیا شادی شدہ والد یا اپنے والد کا عین والد نہیں کہہ رہا ہوتا۔۔۔
🔷#ظلِ والد#
اور
🔷#ظلی والد# میں فرق ہے
👈👈اسکا اپنے اپ کو یا کسی کو 🔷#ظلِ والد# کہنا برحق و درست ہے لیکن 🔷#ظلی والد# کہنا درست نہیں ہے
۔
دوسری مثال:
کوئی کہے کہ مجھ میں حیاءِ اسلام ہے تو کیا وہ اپنے اپ کو اسلام کہہ رہا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟ ہرگز نہیں، اس طرح کوئی کسی کو 🔷#ظلِ نبی# کہے تو وہ اس کو 👈نبی نہیں کہہ رہا ہوتا جیسے حیاءِ اسلام کہنے سے کوئی کسی کو پورا اسلام نہیں کہہ رہا ہوتا۔۔۔البتہ کوئی کہے کہ میں
"اسلام حیاءی" ہوں تو وہ خود کو اسلام کہہ رہا ہوتا ہے اسی طرح کوئی 🔷#"نبی ظلی"# کہے یا 🔷#"ظلی نبی"# کہے تو
👈نبوت کا دعوی کر رہا ہوتا ہے
👈البتہ 🔷#ظلِ نبی# کہے تو نبی ہونے کا دعوی نہیں کر رہا ہوتا۔۔۔دجال مرزا قادیانی نے صاف صاف خود کو
🔷#نبوت سمیت ظلی نبی کہا۔۔فقط ظلِ نبی نہیں کہا#
۔
4️⃣۔۔۔۔ایک زبر زیر ایک نقطہ اور لہجہ الفاظ و معنی کو بدل دیتا ہے۔۔۔
👈لفظ محرم کی ح پر نقطہ لگا دیا جائے تو وہ لفظ مجرم بن جاتا ہے جس میں زمین و اسمان کا فرق ہے۔۔
👈اسی طرح اقرار کی صورت میں لفظ ہاں کہنے کا لہجہ الگ ہوتا ہے جبکہ تعجب کی صورت میں لفظ ہاں کہنا الگ معنی دیتا ہے،
👈 لفظ شیر یعنی جانور ببر شیر اور لفظ شیر یعنی دودھ دونوں میں نقطے کا بھی فرق نہیں اور زبر زیر کا بھی فرق نہیں صرف لہجے کا فرق ہے۔۔۔
👈سورہ فاتحہ میں لفظ انعمت میں ت پر پیش لگا دی جائے تو معنی ہوتا ہے میں نے نعمتیں دیں جبکہ انعمت کی ت پر زبر لگا دی جائے تو معنی بنتا ہے اے اللہ اپ نے نعمتیں عطا فرمائی ہیں
👈👈🚨یہ سب مختصرا اس لیے بتا رہا ہوں کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ
🔷#ظلِ نبی اور 🔷ظلی نبی# ایک ہی ہیں۔۔ بلکہ ان میں زمین و اسمان کا فرق ہے،👈 تھوڑی سی تبدیلی سے بھی معنی میں بہت بڑی تبدیلی ا جاتی ہے جیسے کہ ہم نے اپ کو اوپر مثالیں دے کر واضح کر کے سمجھایا اللہ کریم ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہدایت کا باعث بنائے
۔
5️⃣۔۔۔۔ظل اللہ کا معنی ہے کہ
إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللَّهِ» )۔۔۔۔لِأَنَّهُ يَدْفَعُ الْأَذَى عَنِ النَّاسِ كَمَا يَدْفَعُ الظِّلُّ أَذَى حَرِّ الشَّمْسِ، وَقَدْ يُكَنَّى بِالظِّلِّ عَنِ الْكَنَفِ وَالْحِمَايَةِ ; كَذَا فِي النِّهَايَةِ،۔۔۔۔ أَيْ لِمَا أَنَّ النَّاسَ يَسْتَرْوِحُونَ إِلَى بَرْدِ الظِّلِّ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ ; كَذَلِكَ يَسْتَرْوِحُونَ إِلَى بَرْدِ عَدْلِهِ مِنْ حَرِّ الظُّلْمِ، وَإِضَافَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَشْرِيفًا لَهُ كَبَيْتِ اللَّهِ، وَنَاقَةِ اللَّهِ، وَإِيذَانًا بِأَنَّهُ ظِلٌّ لَيْسَ كَسَائِرِ الظِّلَالِ ; بَلْ لَهُ شَأْنٌ وَمَزِيدُ اخْتِصَاصٍ بِاللَّهِ، لَمَّا جُعِلَ خَلِيفَةُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ يَنْشُرُ عَدْلَهُ وَإِحْسَانَهُ فِي عِبَادِهِ،
کتاب نہایہ وغیرہ میں ظل کا لغوی معنی سایہ بھی ہے اور حمایت بھی ہے اور سایہ رحمت بھی ہے یہاں حدیث پاک میں حقیقی طور پر اللہ کا سایہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد وہ سچا اچھا نیک صالح بادشاہ مراد ہے کہ جو اللہ کا حمایت یافتہ خصوصی صفت والا جو اللہ تعالی کے احکامات کو نافذ کرتا ہے.. تو 👈اس خصوصی مخلوقی صفات والے بادشاہ کو ظل اللہ کہا جاتا۔۔خصوصی بشری صفات مثلا
شریعت کے حدود وسزا وغیرہ احکامات نافذ کرنا
لوگوں کا بادشاہ کی بدولت راحت پانا، جیسے سایے میں رہ کر گرمی کی تپش سے راحت پاتے ہیں، عدل پھیلانا۔۔ ظالم کو روکنا۔۔ مظلوم کی حفاظت و حمایت کرنا۔۔
ظلم سے بچانا، پناہ دینا۔۔۔رحم و کرم احسان و بھلائی کرنا وغیرہ وغیرہ صفات والا سچا اچھا بادشاہ ہو تو وہ ظل اللہ کہلاتا ہے
(مرقاۃ شرح مشکواۃ تحت حدیث3718 شرحا)
۔
🟣🟣🟣🟣🟣🟣
✅ *#دلائل و حوالہ جات*
*#پہلی بات* 1️⃣
مرزا جہلمی نے پوری عبارت نہیں دکھائی۔۔۔یہ لیجیے پوری عبارت کہ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
یہ قول کہ اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو حضور غوپ پاک رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے اگرچہ اپنے👈مفہوم شرطی پر صحیح و جائز اطلاق ہے کہ بے شک مرتبہ علیہ رفیعه حضور پر نور رضی اللہ تعالیٰ عنہ👈🔷ظل مرتبہ نبوت ہے۔ خود حضور معلی رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو قدم میرے جد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھایا میں نے وہی قدم رکھا 👈👈سوا اقدام نبوت کے کہ ان میں غیر نبی کا حصہ نہیں ہے۔
از نبی بر داشتن گام از تو نبهادن قدم
غير اقدام النبوة سد ممشاها الخيام
👈اور جواز اطلاق یوں کہ خود حدیث میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے وارد
لو کان بعدي نبی فكان عمر بن الخطاب
میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔ رواه احمد و الترمذى والحاکم عن عقبة بن عامر و الطبراني عن عصمة بن مالك رضي الله تعالی عنهما۔۔
👈دوسری حدیث میں حضرت ابراہیم صاحبزادہ حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے وارد
و لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبیا اگر جیتے تو صدیق و پیغمبر ہوتے ہوتے رواہ ابن عساكر عن جابر بن عبد الله وعن عبد الله بن عباس و عن ابي اوفي و للياه روى عن انس بن مالك رضي الله تعالى عنھم
👈علماء نے امام ابو محمد جوینی قدس سرہ کی نسبت کہا ہے کہ اگر اب کوئی نبی ہو سکتا تو وہ ہوتے۔۔ امام ابن حجر مکی اپنے فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں
قال فی شرح المهذب نقلا عن الشيخ الامام المسجع على جلالة وصلاحه وامامتہ ابی محمد الجويني الذي قيل في ترجمتہ لو جاز ان يبعث الله في هذه الامۃ نبياً لكان ابا محمد الجويینی
(عرفان شریعت ص،84٫85)
۔
🚨جبکہ مرزا قادیانی نے دعوی کیا تھا جسکو جہلمی نے بھی وڈیو میں ہائی لائٹ کیا، اس کے الفاظ یہ تھے
👈مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بارہا میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی
(روحانی خزائن18/216)
۔
🚨📌کتنے واضح الفاظ میں مرزا قادیانی دجال کہہ رہا ہے کہ بروزی صورت نے مجھے رسول اور نبی بنایا۔۔۔ یہ دو ٹوک نبوت کا دعوی ہے جبکہ یہ کہنا کہ
🔷#فلاں ولی اللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہے# تو
👈اسے نبی یا رسول نہیں کہا جا رہا ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل کہا جا رہا ہے 👈جیسے کہ اگے احادیث مبارکہ میں ائے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے نیک صالح سچے اچھے بادشاہ کو 👈اللہ کا ظل قرار دیا ہے۔۔۔
🔷#ظلی نبی قرار دینا اور ظلِ نبی قرار دینا#
دو الگ الگ چیزیں ہیں
۔
🚨مرزا قادیانی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے:
میں بروزی طور پر انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمد مع نبوت محمدیہ کے میرے ائینہ ظلیت میں منعکس ہیں
(روحانی خزائن18/212)
۔
📌📌کتنا واضح طور پر مرزا دجال قادیانی نے لکھا کہ اس کے اندر نبوت بھی اگئی ہے، 👈جبکہ سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق واضح ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبوت کی ظل نہیں ائی بلکہ دیگر صفات محمدییہ میں سے حصہ پایا ہے
۔
🟣🟣🟣🟣🟣🟣
*#دوسری بات* 2️⃣
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے نیک صالح سچے اچھے بادشاہ کو 🔷#ظل اللہ# قرار دیا ہے۔۔چند حوالہ جات پیش ہیں 👈چونکہ یہ شرک ہونے نہ ہونے کا معاملہ ہے تو اس معاملے میں شدت پسند اہل حدیث نجدی غیر مقلدین کے حوالہ جات دیے ہیں جن کو مرزا جہلمی بھی مانتا ہے تاکہ واضح ہو کہ معتدل اہلسنت کے مطابق تو مخلوق کو 🔷#ظل اللہ# کہنا ثابت ہے لیکن شدت پسند نجدی اہل حدیث حضرات کے نزدیک بھی یہ ثابت ہے اور صحیح ہے
۔
1️⃣وَأَمَّا الْحَدِيثُ النَّبَوِيُّ «السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ...وَهَذَا صَحِيحٌ
نجدیوں وہابیوں غیر مقلدوں اہل حدیثوں کا معتبر ترین امام ابن تیمیہ لکھتا ہے کہ حدیث پاک میں ہے کہ بادشاہ یعنی نیک بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے۔۔۔ اور یہ بالکل درست اور صحیح ہے
( الفتاوى الكبرى لابن تيمية5/123)
۔
2️⃣السلطان ظل الله في الأرض" في أحاديث ترفع إلى النبي - صلى الله عليه وسلم -، وهي مروية بطرق متعددة: منها ما هو صحيح، ومنها ما هو حسن، ومنها ما هو ضعيف، تجد هذه الأحاديث في الكتب
محمد خضر محقق لکھتے ہیں کہ جو حدیث پاک ہے کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#اللہ کا ظل# ہے یہ حدیث کئی سندوں سے طرق سے مروی ہے بعض سندیں صحیح ہیں اور بعض حسن معتبر قابل دلیل ہیں اور بعض ضعیف ہیں جیسے کہ اپ احادیث مبارکہ کی کتابوں میں ایسا ہی پائیں گے
(موسوعة الأعمال الكاملة للإمام محمد الخضر حسين1/292)
.
3️⃣حديث حسن
سچا اچھا بادشاہ جو نیک صالح ہو وہ 🔷#اللہ کا ظل# ہے اس حدیث پاک کو نجدیوں وہابیوں اہل حدیث وغیرہ کے معتبر ترین محقق البانی نے حسن معتبر قرار دیا ہے
(دیکھیے السراج المنير شرح الجامع الصغير في حديث البشير النذير3/234)
.
.
🟥نوٹ:
بظاہر اگر چند احادیث ضعیف بھی ہوں تو مختلف سندوں وغیرہ کی وجہ سے حسن صحیح معتبر قابل دلیل تک بن جاتی ہے اور حسن حدیث سے فضائل کے ساتھ ساتھ شرعی احکام بھی ثابت ہوتے ہیں 👈اس کے بارے میں تحریر کے اخر میں چند حوالہ جات لکھیں گے تاکہ تسلی رہے
۔
✅اب چودیں کے چاند کی طرح 👈👈14چمکتے ہوئے حوالہ جات احادیث و اقوال صحابہ کرام کے پڑھیے
۔
🟢1۔۔۔۔الحدیث۔۔۔راوی سیدنا ابو بکرہ
حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الْخَوْلانِيُّ ثنا حُمَيْدُ بْنُ مهران عن سعيد بْنِ أَوْسٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:«السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الأَرْضِ۔۔۔حديث حسن(الباني)
سیدنا ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اپ فرما رہے تھے کہ سچا اچھا بادشاہ 🔷#ظل اللہ# ہے۔۔۔۔ نجدیوں وہابیوں غیر مقلدوں اہل حدیثوں کا معتبر ترین امام البانی لکھتا ہے کہ یہ حدیث حسن معتبر قابل دلیل ہے
(السنة لابن أبي عاصم ومعها ظلال الجنة للألباني2/492 حدیث نمبر1024)
۔
🟢2....الحدیث:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ...،صححه
الألباني
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے۔۔۔۔ (نجدیوں وہابیوں اہل حدیث وغیرہ کے معتبر ترین امام) البانی نے اس حدیث کو حسن و صحیح قرار دیا ہے قابل دلیل قرار دیا ہے
(الجامع الصحیح لسننن و المسانید11/384)
۔
🟢3..... الحدیث... سیدنا کثیر بن مرہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ.. أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ،
سیدنا کثیر بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے اس کی طرف مظلوم جاتے ہیں راحت پاتے ہیں حفاظت پاتے ہیں
(الأموال لابن زنجويه حدیث نمبر32)
۔
🟢4....الحدیث۔۔۔ سیدنا کثیر بن مرہ
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث،عن معاوية بن صالح، عن أبي الزاهدية، عن كثير بن مرة، قال: قال رسول الله- ﷺ -: «السلطان ظل الله في الأرض، يأوي إليه كل مظلوم من عباده۔۔۔۔قلت: هو كثير بن مرة الحضرمي، ويقال: الحضرمي أبو شجرة الرهاوي، ثم الحمصي روى عن عمر، ومن بعده من أكابر الصحابة، وغيرهم، وقال له عوف بن مالك: إني لأراك رجلًا صالحًا. ووافقه غير واحد من الأئمة
سیدنا کثیر بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے اس کی طرف مظلوم جاتے ہیں راحت پاتے ہیں حفاظت پاتے ہیں
👈امام ابن کثیر جو کہ وہابیوں نجدیوں اہل حدیث وغیرہ کا بھی معتبر امام ہے وہ لکھتے ہیں کہ کثیر بن مرہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے بعد اکابر صحابہ سے احادیث و روایات کرتے ہیں سیدنا عوف بن مالک نے فرمایا ہے کہ کثیر بن مرہ نیک صالح معتبر ہیں اور اس بات پر معتبر علماء نے ان کی تائید کی ہے(لہذا یہ حدیث حسن معتبر قابل دلیل ہے)
(جامع المسانيد والسنن ابن کثیر 7/151 )
۔
🟢5.....الحدیث۔۔۔ سیدنا ابو عبیدہ
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُهُ، عَنِ ابْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو عُبَيْدَةَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «لَا تَسُبُّوا السُّلْطَانَ؛ فَإِنَّهُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ»
راوی کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو عبیدہ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اپ فرما رہے تھے کہ نیک صالح سچے اچھے بادشاہ کو برا مت کہو بے شک وہ زمین میں
🔷#اللہ کا ظل# ہے
(السنة لابن أبي عاصم حدیث نمبر1013)
.
🟢6.....الحدیث۔۔۔ سیدنا کثیر بن مرہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ۔۔۔أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ،
سیدنا کثیر بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے اس کی طرف مظلوم جاتے ہیں راحت پاتے ہیں حفاظت پاتے ہیں
(الأموال لابن زنجويه حدیث32)
۔
🟢7.....الحدیث۔۔۔ سیدنا انس بن مالک
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ۔۔۔۔۔۔إِنَّمَا السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس میں یہ بھی تھا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں
🔷#اللہ کا ظل# ہے
(السنن الكبرى - البيهقي حدیث16550)
۔
🟢8....الحدیث۔۔۔ سیدنا ابی بکرہ
السلطان ظل الله في الأرض۔۔۔( ابی بکرہ۔۔۔ضعيف)
سیدنا ابو بکرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے
وہابی نجدیوں اہل حدیث وغیرہ کا معتبر ترین عالم البانی نے لکھا کہ یہ حدیث پاک ضعیف ہے(موضوع من گھڑت نہیں)
(الجامع الصغير وزيادته حدیث3350)
۔
🟢9....الحدیث۔۔۔ سیدنا انس بن مالک
إنما السلطان ظل الله۔۔۔( عن انس...ضعيف)
سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے
وہابی نجدیوں اہل حدیث وغیرہ کا معتبر ترین عالم البانی نے لکھا کہ یہ حدیث پاک ضعیف ہے(موضوع من گھڑت نہیں)
(الجامع الصغير وزيادته حدیث696)
۔
🟢10....الحدیث۔۔۔ سیدنا ابو ہریرہ
السلطان ظل الله في الأرض يأوي إليه الضعيف وبه ينتصر المظلوم (ابن النجار عن أبي هریرہ۔۔۔ضعيف)
سیدنا ابو ہریرہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے اس کی طرف مظلوم جاتے ہیں راحت پاتے ہیں حفاظت پاتے ہیں
وہابی نجدیوں اہل حدیث وغیرہ کا معتبر ترین عالم البانی نے لکھا کہ یہ حدیث پاک ضعیف ہے(موضوع من گھڑت نہیں)
(الجامع الصغير وزيادته حدیث3352)
۔
🟢11....الحدیث
- السلطان ظل الله فى الأرض۔۔۔۔ (الطبرانى، والبيهقى فى شعب الإيمان عن أبى بكرة)أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (٦/١٧، رقم ٧٣٧٣) . وأخرجه أيضًا: ابن أبى عاصم فى السنة (٢/٤٩٢، رقم ١٠٢٤) . قال المناوى (٤/١٤٢): فيه سعد بن أويس فإن كان هو العبسى فقد ضعفه الأزدى وإن كان البصرى فضعفه ابن معين ذكرهما الذهبى فى الضعفاء.
امام سیوطی فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں ہے کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#اللہ کا ظل# ہے
اس حدیث پاک کو 👈امام طبرانی اور امام بیہقی اور امام ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں کو علامہ مناوی اور امام ابن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے
(جامع الاحادیث سیوطی)
۔
🟢12....الحدیث۔۔۔ سیدنا انس بن مالک
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري ببغداد أنا إسماعيل الصفار نا عباس بن عبد الله الترقفي نا سعيد بن عبد الله الدمشقي نا الربيع بن صبيح عن [الحسن] (^١) عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ قال۔۔۔۔ إنما السلطان ظل الله ورمحه في الأرض».
سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#ظل اللہ# ہے اور اللہ کا نیزہ ہے
(شعب الإيمان حدیث7375)
۔
🟢13....روایت۔۔۔ سیدنا قتادہ و سیدنا کعب الحبر
أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، أخبرنا أحمد بن عبيد، حدثنا معاذ بن المثنى، حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا الأشعث بن براز الهجيمي، عن قتادة، عن أبي شيخ الهنائي، عن كعب الحبر وقد سُئِلَ عن الحجر الأسود؟ فقال: حجر من أحجار الجنّة، وسئل عن السُّلطان؟ فقال: ظلّ الله في الأرض
سیدنا قتادہ فرماتے ہیں کہ سیدنا کعب الحبر سے پوچھا گیا کہ حجر اسود کہاں سے ایا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جنت کے پتھروں میں سے ایک پتھر ہے پھر ان سے سوال کیا گیا بادشاہ کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا کہ نیک صالح سچا اچھا بادشاہ زمین میں 🔷#اللہ کا ظل# ہے، 🔷#ظل اللہ# ہے
(شعب الإيمان روایت6992)
۔
🟢14....الحدیث۔۔۔۔ سیدنا عمر سیدنا ابو عبیدہ
أخبرنا أبو محمد الحسين بن علي بن المؤمل أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا الفضل بن محمد البيهقي نا أبو بكر بن أبي شيبة أخبرني ابن أبي فديك عن موسى بن يعقوب الربعي عن عبد الأعلى بن موسى بن عبد الله بن قيس بن مخرمة أن إسماعيل بن رافع مولى المزنيين أخبره أن زيد بن أسلم أخبره أن أباه أسلم أخبره أنه خرج مع عمر بن الخطاب حتى قدم على أبي عبيدة بن الجراح وهو بباب الجابية فقال أبو عبيدة: يا أسلم هل استعملك عمر من مواليه وأهله؟ فقلت: لا. قال: فاشهد لسمعت رسول الله ﷺ وهو يقول:«لا تسبوا السلطان فإنهم ظل الله في أرضه».
راوی فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کے پاس ائے تو سیدنا ابو عبیدہ نے گفتگو میں یہ بھی فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا کہ نیک صالح سچے اچھے بادشاہ کو برا مت کہو گالیاں مت نکالو بے شک نیک صالح سچا اچھے بادشاہ 🔷#اللہ کے ظل# ہے
(شعب الایمان حدیت7372)
۔
🟣🟣🟣🟣🟣🟣
*#تیسری بات* 3️⃣
انفرادی طور پر مذکورہ روایات و حدیث کو ضعیف مان بھی لیا جائے تو بھی تعدد طرق کی وجہ سے حسن و معتبر کہلائے گی کیونکہ سنی شیعہ نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ تعدد طرق سے ضعیف روایت حسن و معتبر بن جاتی ہے.... اس اصول کے بہت سارے حوالہ جات دیے جا سکتے ہیں مگر ہم درج زیل 9 حوالہ جات پہ اکتفاء کر رہے ہیں
.
🟤1۔۔۔شیعہ کے علاوہ سب کا متفقہ امام علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
فهما ضعيفان، فينجبر أحدهما للآخر فيرتقي الإسناد إلى الحسن لغيره
دو حدیثیں اگرچہ بنیادی طور پر ضعیف ہیں لیکن ایک دوسرے کو تقویت دے کر دونوں مل کر حسن معتبر قابل دلیل حدیث بن جائیں گی
(المطالب العالیہ11/257)
.
🟤2۔۔۔۔موجودہ وہابیوں نجدیوں اہل حدیثوں غیر مقلدوں کا موجودہ دور کا بہت بڑا معتبر ترین عالم محقق مسٹر البانی لکھتا ہے:
إن تعدد الطرق إنما يرفع الحديث إلى مرتبة الحسن لغيره إذا كان الضعف في الرواة من جهة الحفظ والضبط فقط، لا من ناحية تهمة الكذب، فإن كثرة الطرق لا تفيد شيئا إذ ذاك "
حدیث ضعیف کی ایک دو سندیں یا زیادہ سندیں مل جائیں اگرچہ وہ ضعیف ہوں تب بھی وہ حدیث مجموعی طور پر حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے بشرط کہ حدیث کا ضعف کی وجہ کذب یا تہمت کذب نہ ہو
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ1/88)
.
🟤3۔۔۔۔وقد يكثر الطرق الضعيفة فيقوى المتن
تعدد طرق سے ضعف ختم ہو جاتا ہے اور(حدیث و روایت کا) متن قوی(معتبر مقبول صحیح و حسن)ہوجاتا ہے
(شیعہ کتاب نفحات الازھار13/55)
.
🟤4۔۔۔۔۔علامہ ابو المحاسن علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
أن تعدد الطرق، ولو ضعفت، ترقي الحديث إلى الحسن
بےشک تعدد طرق سے ضعیف روایت و حدیث حسن و معتبر بن جاتی ہے(اللؤلؤ المرصوع ص42)
.
🟤5۔۔۔۔۔امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
لِأَنَّ كَثْرَةَ الطُّرُقِ تُقَوِّي
کثرت طرق(تعدد طرق)سے روایت و حدیث کو تقویت ملتی ہے(اور ضعف ختم ہوجاتا ہے)
(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي ,1/179)
.
🟤6۔۔۔۔۔امام ملا علی قاری فرماتے ہیں
فَهَذِهِ عِدَّةُ طُرُقٍ وَإِنْ لَمْ يُحْتَجَّ بِوَاحِدٍ مِنْهَا فَالْمَجْمُوعُ يُحْتَجُّ بِهِ لِتَعَدُّدِ الطُّرُقِ
چند طرق اگرچہ انفرادی طور پر ان سے دلیل نہیں پکڑ سکتے کیونکہ ضعیف ہیں مگر ان سب کو ملا کر مجموعی طور پر یہ قابل دلیل بن جاتے ہیں
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح4/1395)
.
🟤7....امام بیھقی فرماتے ہیں
فَإِذَا ضَمَمْنَا هَذِهِ الْأَسَانِيدَ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، أَخَذَتْ قُوَّةً
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں لیکن یہ اپس میں مل جائیں تو تقویت و قوت پکڑ لیتی ہیں اور دلیل بن سکتی ہیں
(معرفۃ السنن والاثار2/65)
۔
هَذِهِ الْأَسَانِيدُ وَإِنْ كَانَتْ ضَعِيفَةً فَهِيَ إِذَا ضُمَّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ أَخَذَتْ قُوَّةً
حدیث کی یہ سندیں انفرادی طور پر اگرچہ ضعیف ہیں مگر یہ سب مل کر قوت و تقویت حاصل کر لیتی ہیں اور قابل دلیل بن جاتی ہیں
(شعب الایمان5/333)
۔
.
🟤8...امام ذہبی لکھتے پیں
ويكون المتنُ مع ذلك عُرِف مِثلُه أو نحوُه مِن وجهٍ آخر اعتَضد به
ضعیف حدیث کی تقویت دوسری ضعیف حدیث سے ہوتی ہے اور وہ قابل دلیل بن جاتی ہے
(الموقظة للذهبي ص28)
۔
.
🟤9.... *#امام احمد بن حنبل امام بخاری امام علی بن مدینی امام منذری امام عراقی امام ابن کثیر امام ذہبی امام ابن حجر عسقلانی امام زیلعی وغیرہ کئی ائمہ محدثین کا فرمان۔۔۔۔۔۔۔ !!*
تحسينَ الحديث الضعيف ضعفاً خفيفاً بتعدُّد طرقه، أو وجود شواهد له، مذهبٌ دَرَجَ عليه حفاظ الحديث ونقاده من الأئمة المتقدمين، أمثال الإمام أحمد بن حنبل، وعلي بن المديني، ومحمد بن إسماعيل البخاري وغيرهم، وارتضاه المتأخرون من أهل العلم، وأخذوا به، ومَشَوْا عليه إلى يومنا هذا، وفيما دوَّنَه الحفاظ:المنذريُّ والعراقي وابن كثير والذهبي وابن حجر والزَّيْلعي وغيرهم
مسند امام احمد بن حنبل کے حاشیہ میں ہے کہ وہ حدیث کہ جو زیادہ سخت ضعیف نہ ہو وہ درج ذیل ائمہ امام احمد بن حنبل امام بخاری امام علی بن مدینی امام منذری امام عراقی امام ابن کثیر امام ذہبی امام ابن حجر عسقلانی امام زیلعی وغیرہ کئی ائمہ محدثین کے مطابق دیگر ضعیف احادیث یا دیگر ضعیف سندوں سے مل کر حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے
(مقدمة مسند احمد1/78)
۔
✅الحاصل اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ درج ذیل 📌📌تقریبا 16 ائمہ محدثین محققین سے ثابت ہے کہ وہ اگرچہ کسی حدیث کو صرف اس حدیث کی انفرادیت کی طرف نظر کرتے ہوئے ضعیف کہہ دیتے ہیں مگر اس جیسی دوسری حدیث ضعیف موجود ہو تو ان تمام محققین محدثین کے مطابق دو تین ضعیف حدیث مل کر حسن معتبر قابل دلیل قوی حدیث بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ 16 نام تو ہم نے حوالہ جات دیکھ کر ثابت کیے ورنہ ہزاروں ائمہ محدثین کا یہی نظریہ ہے
1۔۔۔امام نووی
2۔۔۔امام بیہقی
3۔۔امام ابن حجر عسقلانی
4۔۔۔امام احمد بن حنبل
5۔۔۔امام ملا علی قاری
6۔۔۔امام بخاری
7۔۔۔حافظ عراقی
8۔۔۔حافظ ذہبی
9۔۔۔۔حافظ منذری
10۔۔۔۔۔۔حافظ ابن کثیر
11۔۔۔امام زیلعی
13۔۔۔۔۔امام عراقی
14۔۔۔۔۔امام ابن کثیر
15۔۔۔۔امام علی بن مدینی
16۔۔۔۔۔ امام سیوطی
.
👊 *#اصول*
صحیح حدیث و روایت سے بھی دلیل اخذ کی جاتی ہے تو یہ بھی یاد رہے کہ حسن حدیث و روایت سے بھی دلیل اخذ کی جاتی ہے۔۔۔یہ لیجیے چار حوالہ جات حق چار یار کی نسبت سے۔۔۔!!
۔
🟢1۔۔۔۔وهو في الاحتجاج به كالصحيح عند الحمهور
حسن حدیث دلیل بننے کے لحاظ سے جمہور کے نزدیک صحیح حدیث کی طرح ہے
(امام ابن کثیر الباعث الحثیث ص37)
.
🟢2۔۔۔۔لِأَنَّ غَالِبَ الْأَحَادِيثِ لَا تَبْلُغُ رُتْبَةَ الصَّحِيحِ (وَيَقْبَلُهُ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ)
حسن احادیث کی اکثریت صحیح حدیث کے درجہ سے کم ہوتی ہے... حسن حدیث کو اکثر علماء نے قبول کیا ہے دلائل میں فضائل میں
(امام سیوطی تدریب الراوی1/167)
.
🟢3۔۔۔۔وَهُوَ أَن يُقَال إِن الصِّفَات الَّتِي يجب (مَعهَا قبُول الرِّوَايَة) لَهَا مَرَاتِب ودرجات فأعلاها هُوَ الصَّحِيح وَكَذَلِكَ أوسطها وَأَدْنَاهَا الْحسن
صحیح بات اور تحقیق کی بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ دلائل و فضائل میں جن احادیث کو قبول کرنا واجب ہے انکے مراتب ہیں،اعلی مرتبہ صحیح حدیث کا ہے اور پھر حسن حدیث کا مرتبہ ہے کہ انکو فضائل و دلائل میں معتبر قرار دینا واجب ہے
(النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح1/306)
امام ابن ملقن المقنع فی علوم الحدیث1/84)
.
🟢4۔۔۔۔ويقبله أكثر العلماء، ويستعمله عامة الفقهاء...ثم الحسن كالصحيح في الاحتجاج به وإن كان دونه في القوة
حسن حدیث کو اکثر علماء و محدثین و محققین نے قبول کیا ہے دلائل و فضائل میں اور عام فقہاء نے اس کو استعمال کیا ہے دلائل و فضائل و مسائل میں اور حسن حدیث دلیل کے اعتبار سے صحیح کی طرح ہے اگرچہ حدیث صحیح سے تھوڑا کم درجہ کی ہے
(امام نووی التقریب والتیسییر ص29)
۔
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475