Labels

گستاخ رسول کی سزا۔۔۔؟؟ قران حدیث فقہ حنفی و دیوبند سے حوالے۔۔؟؟ جیو نیوز۔۔۔؟؟

 🟫 *#👈1️⃣مفتی طارق مسعود اور علماء دیوبند اور فقہ حنفی اور احادیث مبارکہ ایات مبارکہ کے مطابق 👈بار بار تقریبا5بار گستاخی کرنے والے جیو نیوز کے ذمہ داران کی توبہ اور غلطی کہنا دنیاوی سزا بائیکاٹ وغیرہ میں قبول نہیں،انہیں سزاء موت،مستقل معطلی ضروری ہے، کیونکہ یہ غلطی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کمپیوٹر لیپ ٹاپ وغیرہ میں بنائے گئے پھیلائے گئے خاکے ہیں👈2️⃣بھلا کوئی سچا مسلمان یا کوئی سچا مفتی کس زبان سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک دو بار رسول کریم کی گستاخی کر لو پھر توبہ کر لو کوئی مسئلہ نہیں۔؟سینہ چھلنی ہوجاتا ہے ایسی حرکات و گساتخیوں سے👈3️⃣نکلو ، آواز بلند کرو، ٹرینڈ چلاو،بایکاٹ احتجاج ریلیوں میں شامل ہو جاو👈4️⃣جیو کے کون لوگ اس معاملے میں  کتنے مجرم ہیں،کس کو کتنی سزا ملے،اس پر مستند اہلسنت علماء کرام کا فتوی لیا جائے،5️⃣کاش کہ جیو کے سارے کارکن اینکر صحافی رپوٹر سیکورٹی گارڈ سب عملہ استعفی دے دے تو کیا ہی مزے کی بات ہوگی کہ دنیا دیکھ لے گی کہ بغیر دباو کے استیفوں سے گستاخ چینل کیسے برباد ہوگی۔دلائل و تفصیل  پڑھیے اس تحریر میں*

۔

📌نوٹ:

یہ کوئی افیشل فتوی نہیں،افیشل فتوی مستند اہل سنت علماء کرام کا ہی معتبر اور لازم العمل کہلائے گا 👈لیکن جیو کی بار بار گستاخی واضح ہے تو مستند علماء کرام کا پہلے والا ہی فتوی جاری ہوگیا، نیا فتوی کی حاجت نہیں، ہم سب کو خود ہی انکھیں کھولنی ہونگی، بائیکاٹ کرنا ہوگا، سزا دلوانی ہوگی، احتجاج جلوس ریلیاں نکالنی ہونگیں

👈👈کاش کہ جیو کے سارے کارکن اینکر صحافی رپوٹر سیکورٹی گارڈ سب عملہ استعفی دے دے تو کیا ہی مزے کی بات ہوگی کہ دنیا دیکھ لے گی کہ بغیر دباو کے استیفوں سے گستاخ چینل کیسے برباد ہوگیا 

۔

🔴سوال:

علامہ صاحب جیو نیوز نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے پھیلائے، اور پھر معذرت کی کہ یہ غلطی سے ہو گیا ہم توبہ کرتے ہیں اور ائندہ احتیاط کریں گے جس پر دیوبند کے بڑے مشہور مفتی طارق مسعود نے جیو کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ائندہ جرم نہ کرنے کا کہا ہے گستاخی نہ کرنے کا کہا ہے تو لہذا ان کی توبہ قبول ہے اور انہیں سزا نہیں ہوگی۔۔۔مدلل جواب لکھ دیجیے

۔

🟩جواب و تفصیل:

🗂️خلاصہ:

ہماری تلاش کے مطابق جیو نے پانچ بار توہین رسالت کی

👈1۔۔دی مسج فلم جیو نے چلائی(سب کو یاد)

👈2۔۔تمثیل حیات طیہ 2011میں چلائی(ایک بلاگ میں تذکرہ)

👈3..وینا ملک شادی پر متنازعہ قوالی 2014میں چلائی(بی بی سی، 30دن لائسنس معطل ہوا تھا)

👈4...رسول کریم کے تمثیل خاکے2026میں چلائے(سب نے دیکھیے، ، بہت ساری نیوز ویب نے رپورٹ کیا، جیو نے اعتراف بھی کیا معذرت بھی کی)

👈5...ڈرامے میں کتاب پر روضہ رسول کی تصویر تھی پھینکی گئ2026 میں(روزنامہ جراءت نے رپورٹ کیا، اصل وڈیو میرے پاس ہے جبکہ اب اس کو جیو نے ایڈٹ کرکے وہ حصہ کاٹ کر حذف کر دیا ہے، اب جو یوٹیوب پے قسط ہے اس میں وہ منظر نہیں)

🟣1....ایک فتوی یہ ہے کہ جس بھی مسلمان نے گستاخی رسول کی پھر توبہ کی تو توبہ دنیاوی لحاظ سے قبول نہیں اسے ہر حال میں سزائے موت دی جائے گی اگرچہ وہ توبہ کر لے پھر بھی سزا موت دی جائے گی۔۔

🟣2...لیکن فقہ حنفی میں ایک فتوی یہ  بھی موجود ہے کہ مسلمان سے اگر گستاخی رسول 👈غلطی،اشتباہ شبہ،انجانی،غلط فھمی،بلا ارادہ سے  ہو جائے اور وہ سچی توبہ کر لے تو اسے دنیاوی سزا نہیں ملے گی اور اس کے ساتھ مسلمانوں والا برتاؤ کیا جائے گا۔۔ اتنی بات تو دیوبند و مفتی طارق مسعود صاحب بھی بتاتے ہیں..👈مگر اس فتوے کی تفصیل میں جائیں گے تو وہاں دو ٹوک لکھا ہے کہ دنیاوی سزا اس وقت معاف ہوگی کہ اگر وہ بار بار گستاخی نہ کرے،

👈جبکہ جیو نیوز 5بار توہین رسالت کر چکا ہے، اس بار عوام کا رد عمل سخت ایا

تو

توبہ کرلی اور 🚨کہا کہ یہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا بلکہ یہ اداراتی غلطی ہے

👊جبکہ حق و فتوی جیو پر یہ ہے کہ ذمہ داروں کو سزائے موت گستاخی رسول کی سزا دی جائے اور جیو کا لائسنس ہمیشہ کے لیے معطل کر دیا جائے

کیونکہ

🟣1...یہ غلطی نہیں بلکہ پروگرام باقاعدہ بنایا گیا اور باقاعدہ کمپیوٹر پر یا لیپ ٹاپ پر ڈیوائسز پر خاکے بنائے گئے اور پھر انہیں تراش خراش کر کے بنایا گیا اور پھر اسے سیو کیا گیا اور پھر اسے چلایا گیا یہ ساری چیزیں غلطی نہیں ہیں، یہ جان بوجھ کر کی گئ ہیں، غلطی تو یہ ہوتی ہے کہ انسان کہنا کچھ چاہ رہا تھا اور زبان سے اچانک کچھ غلط نکل گیا تو سمجھ میں اتا ہے کہ غلطی ہو سکتی ہے مگر یہ تو بالکل واضح ہے کہ پروگرام ریکارڈ کیا گیا اور پروگرام کا اسکرپٹ تیار کیا گیا اور پروگرام کمپیوٹر وغیرہ ڈیوائسز میں ایڈٹ کیا گیا خاکے بنائے گئے لیپ ٹاپ وغیرہ پہ کمپیوٹر وغیرہ پہ یا ڈیوائسز پہ خاکے بنائے گئے، یہ سب کچھ غلطی نہیں، اسے غلطی کہنا دراصل دھوکہ دینا ہے، عوام کے انکھوں میں دھول جھونکنا ہے، جو کہ ہرگز قابل قبول نہیں

۔

🟣2۔۔۔ اگرچہ جمھور علماء کے مطابق فتوی اس بات پر ہے کہ کوئی مسلمان ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے، بار بار نہ بھی کرے صرف ایک بار بھی کرے تو بھی اس کی سزا موت ہے مگر جو ایک فتوی موجود ہے کہ گستاخ کی توبہ قبول ہے تو اس میں بھی شرط ہے کہ بار بار نہ کرے جب کہ جیو گستاخی بار بار کر چکا ہے اور یہ فتوی علمائے دیوبند سے ثابت ہے، دیوبند کے بڑے مفتی رشید احمد گنگوہی سے ثابت ہے فقہ حنفی سے ثابت ہے ایات مبارکہ سے ثابت ہے احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ جو بار بار گستاخی کریں اس کی سزا موت ہے اب اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے اگرچہ توبہ کر لے تو بھی سزا معاف نہیں ہوگی

۔

🟣👈3۔۔۔ایمان سے بتائیے کوئی عالم دین سچا عالم دین کوئی صحابی یہ فتوی دے سکتا ہے کہ تمہیں ایک دو بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے کی اجازت ہے۔۔۔معافی ہے۔۔۔۔۔ ہرگز ہرگز نہیں۔۔۔مسلمان جان بوجھ کر ایک دفعہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے تو وہ زندیق منافق فسادی ایسا بہت بڑا کافر مرتد ہے کہ اس کی سزا موت ہے بلکہ یہ سزا بھی کم ہے، اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی لاش کی بے حرمتی سے نہ روکا ہوتا تو ایسے گستاخ رسول کی لاش بلکہ زندہ جسم کی ایسی دردناک سزا دی جاتی کہ دنیا  سبق و عبرت حاصل کر لیتی کہ گستاخی رسول کی سزا کتنی سنگین ہے۔۔۔بعض علماء کرام نے جو گستاخ کی توبہ قبول کر کے اس کی سزا معاف کرنے کا فتوی دیا ہے تو ان کا مقصد یقینا یہی تھا کہ اگر اس سے گستاخی نادانی غلط فہمی شبہ وغیرہ کی وجہ سے ہوئی ہو ورنہ جان بوجھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے کی اجازت دینا یا معافی دینا کس کی جراءت نہیں ہوسکتی

۔

🔴🔴🔴🔴🔴🔴

✅دلائل و حوالہ جات:

ہم چار حصے کر کے دلائل اور حوالہ جات لکھیں گے

۔

🟢حصہ اول:

اس میں فقہ حنفی اور صحابہ کرام کے فتاوی جات لکھیں گے کہ مسلمان اگر بار بار گستاخی رسول کرے تو سب کے مطابق معافی بالکل نہیں۔۔ اس کی سزا موت ہے

۔

🟢حصہ دوئم:

اس حصے میں وہ حوالہ جات دیں گے کہ جس میں علماء کرام نے فتوی دیا کہ مسلمان ایک دفعہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے تو اس کی سزا موت ہے۔۔۔بعض علماء نے جو فتوی دیا کہ اکا دکا گستاخی ہو جائے اور ندامت اور توبہ سچی ہو تو قابل معافی ہے تو اس فتوے کا اطلاق و مقصد یہ ہے کہ غلطی نادانی غلط فھمی میں گستاخی کر بیٹھے ورنہ مسلمان جان بوجھ کر اگر ایک دفعہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے گا تو اس کی سزا موت ہے اگرچہ توبہ کر لے،🚨 ورنہ ہر ایک کو دو چار بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے اور توبہ تائب ہونے کا فتوی اور اجازت دے دی جائے تو ائے دن ہر ایک بندہ اٹھے گا گستاخی کرے گا اور بہانہ کرے گا کہ مجھ سے غلطی ہوگئ۔۔۔جب سرعام ایک سچے مسلمان کو غلطی سے گستاخی رسول کرنے پر بھی سزائے موت دی جائے تو گستاخی رسول کرنے کا چور دروازہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند رہے گا اور کسی کی بھی جرات نہ ہوگی کہ وہ گستاخی رسول کرے اور بہانہ کرے کہ غلطی ہو گئی

۔

🟢حصہ سوئم:

ایات مبارکہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی سزا کا ثبوت لکھیں گے

۔

🟢حصہ چہارم:

اس حصے میں احادیث مبارکہ سے ثابت کریں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بھی گستاخی کرے اس کی سزا موت ہے۔۔۔👈اور یہ بھی ثابت کریں گے کہ مخصوص صورتوں میں گستاخ کو عام ادمی بھی سزائے دے سکتا ہے۔۔👈اور یہ بھی ثابت کریں گے کہ مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کرنا عدلیہ فوج حکمرانوں پر لازم ہے

۔

🔴🔴🔴🔴🔴🔴

🟦حصہ اول:

غلطی غلط فہمی شبہ وغیرہ کی وجہ سے اگر نادانی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ہو جائے تو بھی معافی اس صورت میں ہے کہ دوبارہ نہ کرے لیکن اگر دوبارہ کرے بار بار کرے تو ضرور اس کی دال میں کالا ہے اور اس پر فتوی ہے کہ وہ ٹھٹھہ مذاق کرنے والا چور دروازے سے گستاخی رسول کرنے والا منافق گستاخ زندیق بے ایمان ہے اس کی سزا موت ہے

۔

👈دیوبند اور 👈فقہ حنفی سے6حوالہ جات

🔷حوالہ1

دیوبند کے مفتیوں کا متفقہ فتوی:

(کفر اور گستاخی رسول کا)کفارہ شرعی یہی ہے کہ وہ استغفار کرے اور تجدید اسلام کرے اور کلمہ شہادت پڑھے اور اپنے فعل پر تادم اور مستغفر ہو اور👈 آئندہ ایسی حرکت نہ کرے

(فتاوی دارالعلوم دیوبند 12/225)

📌توجہ:

دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے میں ائندہ ایسی حرکت نہ کرے لفظ پر غور کیجئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی شخص کفر کرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذ باللہ گستاخی کر بیٹھے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ وہ توبہ کرے استغفار کرے دوبارہ اسلام قبول کرے کلمہ شہادت پڑھے اور اپنے کام اپنے فعل پر نادم بھی ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اخری شرط یہ بھی ہے کہ ائندہ ایسی حرکت نہ کرے ورنہ کفارہ پورا نہ ہوگا بلکہ سزا دینی ہوگی اور یہ تو متفق علیہ فتوی ہے کہ گستاخ رسول کی سزا سزائے موت ہے

۔

🔷حوالہ2

دیوبند کے مفتی اعظم سمجھے جانے والے رشید احمد گنگوہی صاحب لکھتے ہیں

 پس کلمات کفر کے لکھنے والے کو منع کرنا شدید چاہئے اور مقدور ہو اگر باز نہ آئے تو قتل کرنا چاہئے کہ موذی و گستاخی شان جب کبر یا تعالی اور اس کے رسول النبی ﷺ کا ہے

(فتاوی رشیدیہ ص205)

📌توجہ:

دیوبند کے بڑے بڑے مفتیوں میں سے ایک بڑے مفتی رشید احمد گنگوہی صاحب نے واضح لکھا ہے کہ

 👈اگر باز نہ ائے تو قتل کر دینا چاہیے، اور پھر اگے لکھا کہ یہ سزا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخی کرنے والے کی ہے۔۔۔ 📌اور جیو باز نہیں ایا کیونکہ اس نے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے والی فلم چلائی تھی اور اس وقت علماء کرام نے فتوے دیے تھے اس کو سمجھایا تھا اور اس کے بعد اس نے ڈرامے میں گستاخی کی اور اس کے بعد اس نے پھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے خاکے نشر کیے تو واضح ہے کہ جیو باز نہیں ایا لہذا اس پر گستاخی رسول کی سزا سزائے موت اور مستقل پابندی لازم ہے اس فتوے کے مطابق بھی

۔

🔷حوالہ3

وَكُلُّ مُسْلِمٍ ارْتَدَّ فَتَوْبَتُهُ مَقْبُولَةٌ إلَّا) جَمَاعَةٌ مَنْ تَكَرَّرَتْ رِدَّتُهُ عَلَى مَا مَرَّ وَ (الْكَافِرُ بِسَبِّ نَبِيٍّ) مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ حَدًّا

مسلمان اگر کفر گستاخی کر بیٹھے تو وہ توبہ کر کے اسلام قبول کر لے تو اس کی توبہ قبول ہے مگر یہ کہ جو بار بار گستاخی کفر کرے جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا، اسکی توبہ سے سزائے موت کا حکم ساقط نہیں ہوگا

(در مختار مع فتاوی شامی4/231)

۔

🔷حوالہ4

وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ إذَا تَكَرَّرَ مِنْهُ الِارْتِدَادُ يُقْتَلُ

امام ابو یوسف نے فرمایا ہے کہ جو شخص بار بار کفر اور گستاخی کرے اسے قتل کر دیا جائے گا

(تبیین الحقائق3/284)

.

🔷حوالہ5

فَإِنْ تَكَرَّرَ مِنْهُ ذَلِكَ فَلِلْإِمَامِ قَتْلُهُ سِيَاسَةً لِأَنَّهُ سَعَى فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ.

جو مذکورہ کرتوت بار بار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ وہ زمین میں فساد پھیلا رہا ہے( اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں کرتے پھرنا اور گستاخیاں پھیلانا خاکے کارٹون پھیلانا دنیا کا سب سے بڑا فساد و جرم ہے لیھذا اسکی قتل ہے)

(الاختیار لتعلیل المختار5/29)

۔

🔷حوالہ6

وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - أَنَّهُ إذَا فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا يُقْتَلُ

امام ابو یوسف نے فرمایا ہے کہ جو شخص بار بار کفر اور گستاخی کرے اسے قتل کر دیا جائے گا

(مبسوط سرخسی10/100)

۔

🔴🔴🔴🔴🔴🔴

🟦 *#صحابہ کرام کا فتوی*

1️⃣وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - أَنَّهُ لَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ بَعْدَ الثَّلَاثَةِ لِأَنَّهُ مُسْتَحِقٌّ ومستھزئ

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا فتوی ہے کہ عام کفر میں اگر چوتھی بار وہ کفر کرے اور توبہ کرے تو اسے سزائے موت کا مستحق قرار دیا جائے گا کیونکہ وہ ٹھٹھا مذاق کرنے والا ہے( اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بوجھ کر ایک دفعہ بھی گستاخی کرے اور توبہ کرے تو یقینا وہ زندیق گستاخ بےایمان دین اسلام و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والا مرتد کافر فسادی ہے لہذا جان بوجھ کر ایک دفعہ بھی گستاخی کی جائے تو اس کی سزا موت ہے،جیو نے تو بار بار گستاخی کی ہے)

(مجمع الانھر1/680)

.

2️⃣حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا، فَإِنْ عَادَ قُتِلَ»

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ عام کفر کرنے والے شخص سے تین مرتبہ توبہ قبول کی جائے گی مگر بار بار کفر کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا( لہذا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بار بار گستاخی کرے اور مختلف حیلے بہانے بنائے تو قابل قبول نہیں اسے سزائے موت دی جائے گی)

(استاد بخاری فی المصنف روایت32758)


.

3️⃣أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: «يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا، فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا  قُتِلَ»

سیدنا عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ عام کفر کرنے والا شخص سے تین دفعہ توبہ قبول کی جائے گی اگر بار بار کرے گا تو اسے قتل کیا جائے گا( کیونکہ اب وہ ٹھٹھا مذاق کرنے والا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دفعہ بھی گستاخی کرنے کی اجازت نہیں اس کی سزا دی جائے گی لیکن اگر نادانی غلطی میں ہو بھی جائے تو بار بار کرنے سے سزا معاف نہیں ہوگی اسے سزائے موت ہوگی)

(استاد بخاری فی المصنف روایت32761)


.

4️⃣أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَتَى أَبَا مُوسَى وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا يَهُودِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ، وَقَدِ اسْتَتَابَهُ أَبُو مُوسَى شَهْرَيْنِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: «لَا أَجْلِسُ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَضَى اللَّهُ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ

 وَسَلَّمَ»

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا ابو موسی  رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ائے تو ان کے پاس ایک یہودی تھا تو ان کے متعلق پوچھا تو سیدنا ابو موسی نے فرمایا کہ یہ یہودی تھا مسلمان ہوا پھر مرتد ہوا کفر کیا اور پھر سیدنا ابو موسی اس سے دو مہینے تک توبہ طلب کرتے رہے

👈 تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں اس گستاخ کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا مگر یہ کہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا یہی اللہ کا فیصلہ ہے اور یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے

(استاد بخاری فی المصنف روایت32729)


.

🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴

🟦حصہ دوئم:

جو مسلمان ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بار بھی توہین کرے اس کی سزا موت ہے8حوالہ جات فقہ حنفی سے کیونکہ دیوبند سنی پاکستان میں فقہ حنفی رائج ہے،👈اور قران احادیث اور دیگر فقہ میں تو صاف صاف لکھا ہے کہ توہین رسالت مسلمان ایک دفعہ بھی کرے تو اس کی سزا قتل ہے 👈صرف تھوڑی سی رعایت بعض کتب فقہ حنفی میں ملتی تھی لیکن اس میں بھی شرط تھی کہ بار بار نہ کرے 👈جبکہ مستند فتوی فقہ حنفی کا یہ ہے کہ ایک بار بھی مسلمان توہین رسالت کرے تو اس کی سزا سزائے موت ہے

۔

🟢1....ثُمَّ إنْ رَجَعَ وَتَابَ وَجَدَّدَ الْإِسْلَامَ هَلْ تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ أَمْ لَا قَالَ الصَّدْرُ الشَّهِيدُ لَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ وَإِسْلَامُهُ وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ السَّمَرْقَنْدِيُّ وَأَبُو نَصْرٍ الدَّبُوسِيُّ وَهُوَ الْمُخْتَارُ

 لِلْفَتْوَى

جو مسلمان گستاخی کرے پھر توبہ تجدید ایمان کرکے مسلمان ہوجائے تو بھی اس کی سزا سزائے موت برقرار ہے اور توبہ کرنے سے اس کی سزا ختم نہیں ہوگی، یہی فتوی دیا ہے امام ابو اللیث سمرقندی اور امام دبوسی نے اور یہی فتوی فقہ حنفی میں مختار معتبر و نافذ ہے

(جوھرہ نیرہ2/276)

.

🟢2....وَيُسْتَثْنَى مِنْهُ مَسَائِلُ الْأُولَى الرِّدَّةُ بِسَبِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ كُلُّ مَنْ أَبْغَضَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَلْبِهِ كَانَ مُرْتَدًّا فَالسَّابُّ بِطَرِيقِ أَوْلَى ثُمَّ يُقْتَلُ حَدًّا عِنْدَنَا فَلَاتُقْبَلُ تَوْبَتُهُ فِي إسْقَاطِهِ الْقَتْلَ۔۔۔۔وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَجِيءَ تَائِبًا مِنْ نَفْسِهِ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ

 بِذَلِكَ

مسلمان کفر کر بیٹھے اور اس کے بعد سچی توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے اسے سزا نہیں دی جائے گی لیکن اس قاعدہ سے توہین رسالت کرکے کفر کرنے والے کی سزا معاف نہیں ہوگی اگرچہ وہ خود توبہ کرے یا اس پر کسی نے گواہی دی کہ توہین کی ہے،اس کے بعد اس نے توبہ کی یا پہلے توبہ کی کسی بھی حال میں اس سے سزائے موت ساقط نہیں ہوگی

(البحر الرائق5/135)

.

🟢3....مَحَلُّ قَبُولِ تَوْبَةِ الْمُرْتَدِّ مَا لَمْ تَكُنْ رِدَّتُهُ بِسَبِّ النَّبِيِّ أَوْ بُغْضِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا قَدَّمَهُ الْمُصَنِّفُ فَإِنْ كَانَ بِهِ قُتِلَ حَدًّا وَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ سَوَاءٌ جَاءَ تَائِبًا مِنْ نَفْسِهِ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ بِذَلِكَ،

جو کفر کر بیٹھے اور پھر توبہ کر کے ایمان لائے تو اس کی توبہ قبول ہے یہ فتوی اس پر لاگو ہوتا ہے کہ جو توہین رسالت کے علاوہ ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور توہین کوئی بھی مسلمان کرے اور پھر جتنا چاہے ایمان لے ائے تو اس کو سزا معاف نہیں ہوگی اسے قتل کیا جائے گا اگرچہ وہ خود توبہ کرے یا کوئی اس پر گواہی دےکہ توہین کی ہے،کچھ بھی معاملہ ہو توبہ سے اس کی سزائے موت ختم نہیں ہوگی  

(درر الحکام1/301)

.

🟢4....وروي أن رجلاً كانت له أم ولدٍ، تشتم النبي صلي الله عليه وسلم، فقتلها، فأهدر النبي صلي الله عليه وسلم دمها.

فدل على أن شتم النبي صلي الله عليه وسلم يوجب 

الردة

ایک صحابی نے ایک عورت کو قتل کر دیا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتی تھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے سے مسلمان مرتد ہو جاتا ہے( اور اس کی سزا یہی قتل ہے)

(شرح مختصر الطحاوی 6/142)



۔

🟢5.....فإن أسلم) رفع عنه القتل هذا الإطلاق يستثنى منه ما لو ارتد بسببه - صلى الله عليه وسلم - ثم تاب فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته في إسقاط القتل عنه ولا فرق بين أن يجيء تائبا أو يشهد عليه

کوئی مسلمان مرتد ہو جائے کفر کر بیٹھے اور پھر توبہ کر لے تو اس سے سزائے موت کا حکم اٹھ جائے گا لیکن اس سے توہین رسالت کی سزا مستثنی ہے کیونکہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے پھر توبہ کرے تو بھی اس کی سزا سزائے موت ہے چاہے وہ خود اقرار کر کے توبہ کرے یا کوئی اس پر گواہی دے کہ اس نے توہین کی ہے ہر حال میں اس کی سزا موت ہے

(النھر الفائق3/253)

.

🟢6.....جَزَاءَهُ الْقَتْلُ عَلَى وَجْهِ كَوْنِهِ حَدًّا، وَلِذَا عَطَفَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ وَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ لِأَنَّ الْحَدَّ لَا يَسْقُطُ بِالتَّوْبَةِ فَهُوَ عَطْفُ تَفْسِيرٍ؛ وَأَفَادَ أَنَّهُ حُكْمُ الدُّنْيَا، أَمَّا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى فَهِيَ

مَقْبُولَةٌ

 جو شخص کسی بھی نبی کسی بھی رسول کی گستاخی کرے تو اسے حد کے طور پر قتل کیا جائے گا، توبہ کرے گا تو اللہ کی بارگاہ میں اس کی توبہ اگرچہ قبول ہے لیکن سزا معاف نہیں ہوگی

(رد المحتار ,4/232)

.

🟢7....فَإِنْ كَانَ بِهِ قُتِلَ حَدًّا وَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ

 اگر کوئی گستاخِ رسول ہو تو اس کو حد کے طور پر قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ سے اسکی سزا معاف نہیں ہوگی

(درر الحكام شرح غرر الأحكام ,1/301)

.


🟢8....ما لو ارتد بسببه - صلى الله عليه وسلم - ثم تاب فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته في إسقاط القتل عنه

 اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے تو وہ کافر ہو گیا ، مرتد ہوگیا اگر توبہ کرے تو بھی اس کو قتل کیا جائے گا ، قتل کے معاملے میں اس کی توبہ قبول نہیں

(النهر الفائق شرح كنز الدقائق ,3/253)

۔

🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴


🟦حصہ سوئم

قران مجید سے دلائل

دلیل1️⃣

القرآن:

 اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ  مِّنۡۢ بَعۡدِ عَہۡدِہِمۡ وَ طَعَنُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ  فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الۡکُفۡرِ ۙ اِنَّہُمۡ لَاۤ اَیۡمَانَ لَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ  یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾الا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ

ترجمہ:

اگر وہ عہد کے بعد اپنا عہد توڑ دیں اور دین میں طعن کریں(گستاخی رسول بھی دین میں طعن کی ایک صورت ہی ہے) تو ان کافر سرغنوں کو قتل کرو ان کے پاس کوئی ایمان نہیں بچا۔۔(سزا اس لیے دو کہ) شاید کہ (اس سزا سے عبرت پکڑ کر دیگر کفار مرتدین چھپے گستاخ رسول) برائی سے رک جائیں، تو(توہین رسالت و گستاخی و ارتداد کرکے) جنہوں نے اپنے ایمان اور عہد کو توڑ ڈالا تو ان کو تم کیوں نہیں قتل کرتے، انہیں قتل کرو

(سورہ توبہ ایت12،13)

.

وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ أَيْ عَابُوهُ وَانْتَقَصُوهُ، وَمِنْ هَاهُنَا أُخِذَ قَتْلُ مَنْ سب الرسول صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ أَوْ مَنْ طَعَنَ في دين الإسلام أو ذكره بنقص

دین میں طعن کریں یعنی دین کی عیب جوئی کریں توہین و تنقیص کریں تو انہیں قتل کر دو۔۔۔ اسی ایت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس سے ایت مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو دین اسلام میں طعن کرے یا توہین و تنقیص کرے مرتد ہو جائے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا

(تفسیر ابن کثیر4/102,103)

.

 «استدلُّوا بهذه الآية على وجوب قتل كل من طعن في الدِّين، إذ هو كافر، والطعنُ هو أن ينسب إليه ما لا يليقُ به، أو يعترض بالاستخفاف على ما هو من الدِّين، لما ثبت بالدليل القطعي على صحَّة أصوله، واستقامة فروعه» قال ابنُ المنذر: «أجمع عامَّةُ أهل العلم على أنَّ من سبَّ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ يقتل»

تمام اہل علم نے اس ایت مبارکہ سے دلیل اخذ کی ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے گستاخی کرے اسے قتل کر دیا جائے گا اور جو دین میں طعن کرے یعنی کوئی ایسی بات اس کی طرف منسوب کرے کہ جو دین کے لائق نہ ہو تو اس مرتد کو بھی قتل کر دیا جائے گا کیونکہ یہ ساری چیزیں قطعی طور پر ثابت ہیں اور قطعی کا انکار کرنے والا توہین کرنے والا مرتد گستاخ کافر ہے جسکی سزا قتل ہے

(تفسیر اللباب10/36ملخصا)

۔

دلیل2️⃣

القرآن:

فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَ اضۡرِبُوۡا مِنۡہُمۡ  کُلَّ  بَنَانٍ ﴿ؕ۱۲﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ  وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ

تو ان کی گردنیں اڑا دو اور ان کے ہر جوڑ پر وار کرو کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت و دشمنی کی ہے 

(سورہ انفال ایت12،13)

بالکل واضح ہوتا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا سر تن سے جدا

.

أي: عادوه وخالفوا امرہ

یعنی رسول کریم سے دشمنی کی اور شریعت کی مخالفت کی تو ان کی گردنیں اڑا دو(واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی توہین تو سیدعالم کے متعلق شریعت کی مخالفت ہی ہے تو توہین کرنے والوں کی گردنیں اڑا دو)

(تفسیر اللباب18/569)

.

کیونکہ رسول کریم کی تعظیم قرآن کا حکم ہے تو جو قران کے حکم شریعت کے حکم کی مخالفت کرے توہین کرے تو اوپر والی ایت کے مطابق اس کی گردن اڑا دی جائے گی

القرآن

 لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ  وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ  بُکۡرَۃً  وَّ اَصِیۡلًا

اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو

(سورہ فتح آیت9)

.

وعزَّروه"، يقول: وَقَّروه وعظموه

معنی ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ(ہر حال میں)رسول کی تعظیم و توقیر کرو

(تفسیر طبری13/168)

.

مَنْ سَبَّهُ أَوْ شَتَمَهُ، أَوْ عَابَهُ أَوْ تَنَقَّصَهُ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ، وَحُكْمُهُ عِنْدَ الْأُمَّةِ الْقَتْلُ كَالزِّنْدِيقِ وَقَدْ فَرَضَ اللَّهُ تعالى

 توقيره

جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہا ، گالی دی یا عیب لگایا یا ان کی شان میں کمی کی، بے شک اس کو قتل کر دیا جائے گا اس کا حکم ساری امت کے نزدیک قتل ہے جیسے کہ زندیق کو قتل کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ہے

(شفاء شریف2/477)

۔

من ضرب هؤلاء الكفرة فوق الأعناق وضرب كل بنان منهم، جزاءٌ لهم بشقاقهم الله ورسوله، وعقاب لهم عليه

جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت اور دشمنی کرے توہین کرے تو اس کی سزا یہ ہے کہ ان کفار مرتدین کی گردنیں اڑا دو

(تفسیر طبری13/433)

۔

دلیل3️⃣

القران:

إِنَّمَا جَزَٲٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًۭا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا غداب

(سورہ مائدہ ایت33)

اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی اور توہین کرنا بھی اللہ سے جنگ ہے اللہ کے رسول سے جنگ ہے اس طرح یہ ایت توہین رسالت کے حکم کو بھی شامل ہے اور دیگر سزاؤں کو بھی شامل ہے

.

وَنُهِيَ عَنِ الْمُثْلَةِ لَمْ يَعُدْ۔۔۔ذلك وقع في مرتدين

یہ ایت تمام مرتدین کے متعلق بھی ہے( جو گستاخی کر کے مرتد ہو جائیں یا دیگر کفریہ بات کر کے مرتد ہو جائیں ان سب کے متعلق یہ ایت ہے) کہ انہیں قتل کر دیا جائے لیکن جب مثلہ کرنے سے روک دیا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے روکا اور پھر کبھی مثلہ نہ کیا

(تفسیر قرطبی6/149)

۔

اور توہین رسالت کرنے والے مرتد ہیں یہ خود قران مجید سے ثابت ہے

القرآن:

قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ  کُنۡتُمۡ  تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ....لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ

اے محبوب فرما دیجئے کہ کیا اللہ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہو گستاخیاں کرتے ہو بہانے نہ بناؤ تم مرتد ہو چکے

(سورہ توبہ آیت55,56)

1۔۔۔ایت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنا گستاخی کرنا ارتداد ہے اور ارتداد کی یعنی مرتدین کی سزا اوپر قران مجید سے ثابت ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے

2۔۔۔ایت مبارکہ میں ایک اصول بتا دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ٹھٹھا مذاق کفر و ارتداد ہے تو لہذا جو بھی گستاخی کرے گا اس پر یہ حکم خود بخود لاگو ہو جائے گا۔۔ لہذا یہ بہانہ نہ کیا جائے کہ مولوی کو حق نہیں کہ وہ کفر کے فتوے لگائے کیونکہ مولوی کو واقعی حق نہیں کہ وہ کفر کے فتوے اپنی طرف سے لگائے۔۔۔ مولوی تو اسلام کے دیے ہوئے فتوے کفر کے فتوے کو پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو میں اپنی طرف سے کفر کا فتوی نہیں لگا رہا بلکہ شریعت مطہرہ نے اس پر کفر کا فتوی لگایا ہے، شریعت مطہرہ نے اصول بیان کر دیا ہے اور اس اصول کے مطابق شریعت کا ہی فتوی اس پر کفر کا لگ جاتا ہے ہم تو صرف اس اصول کو واضح کرتے ہیں

۔

دلیل4️⃣

القرآن:

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ  فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال  وغیرہ انکی تمام زندگی میں تمہارے لیے اسوہ حسنہ ہے یعنی اچھی پیروی ہے

(سورہ الاحزاب ایت 21)

1۔۔۔اس ایت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل اقوال و احادیث سب حجت و دلیل ہیں۔۔۔ ہمیں پر ان کی پیروی لازم ہے، اس ایت مبارکہ سے منکرین حدیث کا واضح طور پر دو ٹوک رد ہو جاتا ہے

۔

2۔۔۔۔اب ائیے مختصرا دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں گستاخان رسول کا کیا حکم جاری ہوا۔۔۔نیچے حصہ چہارم میں لکھ رہے ہیں


۔

🔴🔴🔴🔴🔴🔴

🟦حصہ چہارم

احادیث مبارکہ سے دلائل:

1️⃣الحدیث:

ایک عورت صحابی کے سامنے گستاخی کیا کرتی تھی، اسے صحابی نے بہت سمجھایا مگر وہ نا مانی، ایک رات حسبِ عادت گستاخی کر رہی تھی تو صحابی نے اسے قتل کر دیا اور معاملہ رسول کریم تک پہنچا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فیصلہ فرمایا کہ: 

«ألا اشهدوا أن دمها هدر

ترجمہ: خبردار سب سن لو......!! بے شک اس گستاخِ رسول کا خون رائیگاں ہے

(ابو داؤد حدیث4361)

📌اس حدیث پاک سے یہ بھی بات واضح ہوئی کہ بار بار گستاخی کرنے والے کو عدلیہ کے پاس لائے بغیر ہی قتل کیا جا سکتا ہے۔۔۔ جیسے کہ صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت مبارک میں نہیں رکھا بلکہ بار بار گستاخی کرنے والی عورت کو قتل کر دیا اور اس کے بعد حضور کے پاس عرض لے کر ائے۔۔ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا

.

2️⃣عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا

 سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کیا کرتی تھی تو اس گستاخ عورت کو ایک شخص نے گلا گھونٹ کر مار دیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گستاخِ رسول عورت کا خون رائیگاں قرار دے دیا

(السنن الكبرى - البيهقي - ط العلمية7/96)

.

3️⃣الحدیث:البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ اليَهُودِيِّ رِجَالًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند انصار صحابہ کو خیبر بھیجا یہودی ابو رافع کو قتل کرنے کے لیے کیونکہ ابو رافع گستاخ رسول تھا، رسول کریم کو(زبان و کلام وغیرہ سے) اذیت پہنچاتا تھا...(بخاری حدیث4039)

📌گویا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں تاقیامت کے لیے فتوی مل گیا کہ جو بار بار گستاخی کرتا ہو ضدی فسادی گستاخ ہو اس کو اعلی عدلیہ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدلیہ مبارک سے فتوی مل گیا ہے کہ کوئی بھی ادمی اٹھ کر اس کو قتل کر سکتا ہے

.

4️⃣جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الكَعْبَةِ فَقَالَ «اقْتُلُوهُ

ترجمہ:

ایک شخص نے نبی پاک سے عرض کی کہ ابن خطل(ضدی فسادی گستاخ) کعبے کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا اسے ہرحال میں قتل کر دو

(بخاری حدیث1846)

.

5️⃣أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ ؟ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ.... فَقَتَلَهُ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اس کے رسول کو اذیت دی ہے، گستاخی کی ہے....مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ نے فرمایا کہ میں اسے قتل کروں گا اور اس گستاخ کو قتل کر دیا

(بخاری حدیث3031ملخصا)

📌گویا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں تاقیامت کے لیے فتوی مل گیا کہ جو بار بار گستاخی کرتا ہو ضدی فسادی گستاخ ہو اس کو اعلی عدلیہ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدلیہ مبارک سے فتوی مل گیا ہے کہ کوئی بھی ادمی اٹھ کر اس کو قتل کر سکتا ہے

.

🟦مذکورہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ضدی فسادی بار بار گستاخی کرنے والے شخص ، سرعام بار بار واضح گستاخی کرنے والے شخص کو عام ادمی بھی قتل کر سکتا ہے

اور

👈یہ فتوی فقہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح چور کو سزا قاضی دیگا مگر جسکا چور ہونا معروف ہو اور چوری کر رہا ہو تو اسے بلاحکم قاضی عام آدمی بھی قتل کرسکتا ہے اسی طرح بدرجہ اولی گستاخ جسکی گستاخی مشھور ہو فسادی ہو گستاخی الحاد فساد پھیلا رہا ہو تو اسے  قاضی و عدلیہ کے حکم بغیر ہی کوئی بھی عام ادمی قتل کرسکتا ہے....📌جزیہ:

رأى رجلا يسرق ماله فصاح به أو ينقب حائطه أو حائط غيره وهو معروف بالسرقة فصاح به ولم يهرب حل قتله ولا قصاص عليه

(خلیفہ اعلی حضرت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ اسکا تفسیری ترجمہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

مکان میں چور گھسا اور ابھی مال لے کر نکلا نہیں اس نے شور و غل کیا مگر وہ بھاگا نہیں یا اس کے مکان میں یا دوسرے کے مکان میں نقب لگا رہا ہے اور شور کرنے سے بھاگتا نہیں، اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ چور ہونا اس کا مشہور ومعروف ہو۔

(النهر الفائق شرح كنز الدقائق,3/165)

((رد المحتار فتاوی شامی) ,6/546)

(بہارِ شریعت حصہ 17 صفحہ761)

۔

🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣

✅ غیر مستند علماء کا فتوی قابل قبول نہیں اور اسی طرح غیر مستند علم والے حکمرانوں کا بھی فتوی فیصلہ قبول نہیں ہے بلکہ سب پر لازم ہے حکمرانوں پر لازم ہے عوام پر لازم ہے کہ مستند علماء کرام سے رہنمائی لیں اور ان کے مدلل فتوے پر عمل کریں، مستند علماء کرام زبانی فتوی بھی دے سکتے ہیں، تحریری فتوی ضروری نہیں، لہذا جس کی گستاخی بار بار ہو یا گستاخ بڑا فسادی ہو تو اس کے متعلق کسی عالم دین کے زبانی حکم و فتوے کے مطابق عمل کرتے ہوئے کوئی بھی شخص سزا موت لاگو کر سکتا ہے اور بہتر ہے کہ اس طریقے سے کرے کہ خود پکڑا نہ جائے کیونکہ یہ عاشق رسول کی جان بڑی قیمتی ہے بہتر تو یہی ہے کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے لیکن اگر لاٹھی کا ٹوٹنا ضروری ہو عاشق رسول کا گرفتار ہونا اور سزا پانا یقینی ہو تو بھی عاشق رسول کو چاہیے کہ سانپ کو ضرور مارے پھر بے شک اسے حکمران سزا ہی کیوں نہ دیں ، وہ عاشق رسول دل و جان محبت سے سزا سہے اور حکمران مزید بدتر ثابت ہو جائیں گے


🔴1....مستند علماء کرام سے پوچھنا اور انکے مدلل فتوے پے عمل کرنا واجب ہے:

وَلَيْسَ لِغَيْرِ الْعُلَمَاءِ مَعْرِفَةَ كَيْفِيَّةِ الرَّدِّ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَيَدُلُّ هَذَا عَلَى صِحَّةِ كَوْنِ سُؤَالِ الْعُلَمَاءِ وَاجِبًا، وَامْتِثَالِ فَتْوَاهُمْ

لَازِمًا.

قران مجید کی ایت میں حکم تھا کہ اولی الامر کی پیروی کرو مگر اولی الامر و دیگر کا اپس میں اختلاف ہو جائے تو قران مجید نے حکم دیا کہ کتاب اللہ کی طرف جانا ہے اور سنت کی طرف جانا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قران مجید کا علم اور احادیث مبارکہ اور سنت مبارکہ کا علم علمائے کرام کو ہی ہوتا ہے تو ایت سے ثابت ہوتا ہے کہ 👈مستند علماء سے پوچھنا ان کی رہنمائی لینا واجب ہے اور ان کے مدلل فتوے پر عمل کرنا لازم ہے

(تفسیر قرطبی5/260)

۔

🔴2....بادشاہوں کے بادشاہ حکمرانوں کے حکمران کون۔۔۔۔اور حکمرانوں کے قول فیصلے بھی تب لاگو ہونگے جب مستند علماء فتوی دیں گے

أَنَّ أَعْمَالَ الْأُمَرَاءِ وَالسَّلَاطِينِ مَوْقُوفَةٌ عَلَى فَتَاوَى الْعُلَمَاءِ، وَالْعُلَمَاءُ فِي الْحَقِيقَةِ أُمَرَاءُ الْأُمَرَاءِ

👈لیڈر بادشاہ حکمران وغیرہ سب کے احکامات قوانین وغیرہ علماء معتبرین کے فتوے پر موقوف ہیں اور معتبر علماء ہی حقیقت میں بادشاہوں کے بادشاہ ہیں،  لیڈروں کے لیڈر ہیں،  حکمرانوں کے حکمران ہیں

(تفسیر کبیر10/114)

.

*#دلیل نمبر1* 1️⃣

القران:

فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ  لَا  تَعۡلَمُوۡنَ

اہل ذکر(اچھی یاداشت وسیع علم والے معتبر علماء) سے پوچھو اگر تمہیں(کافی و کامل یا بالکل ہی) علم نہ ہو

(سورہ نحل ایت43)

علم نہیں تو پوچھنا لازم۔۔۔۔اب ہزاروں ایتیں اور لاکھوں احادیث مبارکہ جو ایک دوسرے کی وضاحت اور تشریح کرتے ہیں، ایت کی وضاحت ایت مبارکہ سے ہوتی ہے اور ایت کی وضاحت احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے۔۔۔ اسی طرح حدیث مبارکہ کی وضاحت ایت سے ہوتی ہے اور حدیث مبارکہ کی وضاحت حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے، تو ہزاروں ایتیں اور لاکھوں احادیث مبارکہ کا مستند اور صحیح علم ہونا لازمی ہے۔۔۔۔اور ایات و احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام اہلبیت عظام کی پیروی کرو تو لاکھوں اقوال صحابہ کرام کے اہل بیت عظام کے ہیں۔۔تو ایات احادیث اور صحابہ کرام کے اقوال سے واضح ہے کہ عربی لغت فصاحت بلاغت وغیرہ علوم قران اور احادیث کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے

تو

اگر اپ ہزاروں ایات مبارکہ اور لاکھوں احادیث مبارکہ و اقوال صحابہ کرام اہلبیت عظام کو مستند لغت و علوم کے ذریعے سے اور دیگر علوم کے ذریعے سے اور تمام ایات اور تمام احادیث اور تمام اقوال کے ذریعے سے سمجھتے ہیں

 تو

مبارک ہو اپ عالم دین ہیں اور عالم دین واقعی قران اور حدیث پڑھ کر سمجھ کر لوگوں کو سمجھائے گا

 لیکن

 اگر اپ کو  ایات مبارکہ مد نظر نہیں ہیں

اگر اپ کو احادیث مبارکہ مدنظر نہیں ہیں

اگر اپ کو صحابہ کرام اہل بیت عظام کے اقوال مبارک مدنظر نہیں ہیں

اگر اپ کو لغت فصاحت بلاغت و دیگر "علوم متعلقہ" اپ کے مدنظر نہیں ہیں

تو

پھر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اپ کو علم ہے۔۔۔ اور جب اپ کو علم نہیں ہے تو قران مجید کا حکم ہے کہ اہل علم مستند علماء سے پوچھو کہ ایت مبارکہ کا مفہوم کیا ہے اور ایت مبارکہ سے کیا ثابت ہوتا ہے۔۔۔ تو اپ پر لازم ہے کہ اہل علم مستند علماء سے پوچھیں کہ قبلہ فلاں حدیث مبارکہ کا مفہوم کیا ہے معنی کیا ہے اور اس سے کیا کیا ثابت ہوتا ہے اور کیسے۔۔۔؟؟

لیھذا

اس ایت مبارکہ سے بھی ثابت ہوا کہ ہم کم علموں پر لازم ہے کہ ہم خود سے قران احادیث پڑھ کر عقیدہ نہ بنائیں اور عمل نہ کریں بلکہ مستند علماء کرام سے پوچھ کر عقیدے عقائد رکھیں اور عمل کریں اور توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں انکے فتوے پر عمل کریں

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر2* 2️⃣

القرآن:

لَوۡ رَدُّوۡہُ  اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ

اگر معاملات و مسائل کو لوٹا دیتے رسول کی طرف اور اولی الامر کی طرف تو اہل استنباط(اہلِ تحقیق،باشعور،باریک دان،سمجھدار علماء صوفیاء)ضرور جان لیتے

(سورہ نساء آیت83)

 آیت مبارکہ میں واضح حکم دیا جارہا ہے کہ اہل استنباط معتبر وسیع علم والے باریک بین علماء اہلسنت کی طرف کی طرف معاملات کو لوٹایا جائے اور انکی مدلل مستنبط رائے و سوچ و حکم کی تقلید و پیروی کی جائے.....!!

لیھذا

عام طور پر حکم یہی ہے کہ ہم اپنے اپ خود قران حدیث پڑھ کر ہدایت تک نہیں پہنچ سکتے کیونکہ قران مجید نے میں فرمایا ہے کہ اہل استنباط کی طرف جانا ضروری ہے

 کیونکہ

اہل استنباط یعنی مستند علماء کو تمام و اکثر و اہم ایات و احادیث لغت فصاحت بلاغت وغیرہ سب کی طرف توجہ ہوتی ہے تو وہ ایت و حدیث مبارکہ کا صحیح معنی سمجھتے ہیں اور صحیح معنی بتاتے ہیں تو بندہ ہدایت پاتا ہے، اس ایت مبارکہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ مستند علماء کرام کی مدلل تشریح کے بغیر اپنے اپ سے قران و حدیث پڑھ کر حکم نکالنا اور عمل کرنا گمراہی کا باعث بن جاتا ہے،لیھذا ایت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خود ایت حدیث پڑھ کر عقیدے بنانا شروع نہ کریں، خود سے عمل کرنا شروع نہ کریں، بلکہ اہل استنباط یعنی مستند وسیع علم و حکمت والے باریک بین علماء کرام کی طرف رجوع کریں اور ان سے ایت و حدیث کا معنی پوچھیں سمجھیں

توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں ان مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کریں

۔

.

يَسْتَخْرِجُونَهُ وَهُمُ الْعُلَمَاءُ..الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُنَافِقِينَ، لَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى ذَوِي الرَّأْيِ وَالْعِلْمِ،...وَفِي الْآيَةِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْقِيَاسِ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا يُدْرَكُ بِالتِّلَاوَةِ وَالرِّوَايَةِ وَهُوَ النَّصُّ، وَمِنْهُ مَا يُدْرَكُ بِالِاسْتِنْبَاطِ وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى الْمَعَانِي الْمُودَعَةِ فِي النُّصُوصِ

 اہل استنباط سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو احکام و نکات نکالتے ہوں اور وہ علماء کرام ہیں... آیت میں منافقین اور مومنین سب کو حکم ہے کہ وہ معاملات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دیں اور اہل علم کی طرف لوٹا دیں اور رائے و قیاس کرنے والوں کی طرف لوٹا دیں... اس آیت میں دلیل ہے کہ قیاس کرنا بالکل جائز ہے کہ علم وہ ہوتا ہے کہ جو نص یعنی قرآن اور حدیث و سنت سے ملتا ہے یا پھر ان سے اخذ کیا جاتا ہے یہی تو قیاس ہے، اس لیے اہل استنباط معتبر علماء کرام سے پوچھنا لازمی ہے(کہ وہی تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ کا علم رکھتے ہیں اور صحابہ کرام کے اقوال اور اہل بیت عظام کے اقوال کا علم رکھتے ہیں اور قران و حدیث و اقوال کی باریکیاں سمجھتے ہیں)

(تفسیر بغوی2/255)

.

دلت هذه الآية على أنَّ القياس حُجَّة... أن في الأحْكَام ما لا يُعْرَف بالنَّصِّ، بل بالاستِنْبَاطِ... أن العَامِيِّ يجِب عليه تَقْلِيد العُلَمَاء

 مذکورہ آیت مبارکہ دلالت کرتی ہے کہ قیاس برحق و دلیل ہے اور بظاہر ایک ایت یا حدیث سے حکم سمجھ نہیں اتا بلکہ اس کے لیے استنباط کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے اس ایت سے ثابت ہوا کہ بے شک عام و کم علموں پر واجب ہے کہ وہ مستند علماء کرام کی تقلید کریں،ان سے پوچھیں

(اللباب فی علوم الکتاب6/526)

 رب تعالی سمجھ عطاء فرمائے

.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر3* 3️⃣

القرآن:

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ

اور جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکم نہ لگائے(انہیں حق نہ سمجھے،شک کرے،انکار کرے،اسکے برخلاف حکم تشریح تفسیر اپنی طرف سے نکال کر لاگو کرے) تو وہ لوگ کافر ہیں

(سورہ مائدہ ایت44)

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی ہوتی ہے ، اللہ کا نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)

۔

دونوں ایتوں کو ملائیے تو واضح ہوتا ہے کہ تمام کی تمام نازل کردہ ایات اور تمام کی تمام احادیث مبارکہ۔۔۔۔۔کیونکہ احادیث مبارکہ بھی تو اللہ کا نازل کردہ حکم ہوتے ہیں صرف الفاظ رسول کریم کے اپنے ہوتے ہیں جیسے کہ ایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ اللہ کی وحی کردہ ہوتا ہے تو رسول کریم ایت اور حدیث دونوں بولتے ہیں تو ثابت ہوا کہ

 👈تمام ایات اور تمام احادیث کو مد نظر رکھ کر ہی مستند حکم لگایا جا سکتا ہے اور جو ایسا نہ کرے یعنی تمام ایات اور تمام احادیث مبارکہ پر نظر کیے بغیر مسئلے مسائل نکالتا پھرے اور بتاتا پھرے تو وہ کفر اور گمراہی میں پڑ جاتا ہے۔۔۔ تو

👈ثابت ہوا کہ ہم چند احادیث چند ایات مبارکہ کو پڑھ کر مسئلے مسائل نکالنا شروع نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے اور وہ علم مستند علماء کرام سے ہی ملتا ہے،تو اس ایت مبارکہ سے بھی ثابت ہوا کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم مستند علماء کرام سے ایت مبارکہ حدیث مبارکہ کی تشریح سمجھیں پوچھیں اور مزید ایات و احادیث تلاش کریں پوچھیں سمجھیں اور پھر بعد میں جا کر مسائل بتا سکتے ہیں اور مسائل کے دلائل نکال کر بتا سکتے ہیں اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کر سکتے ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں ان مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کریں

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر4* 4️⃣

القرآن

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ  فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ  اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ

بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اسوہ حسنہ ہے

(سورہ احزاب ایت21)

۔

أي في أخلاقه وأفعاله قدوة حسنة

یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اخلاق اور کردار اور تمام کام ہر چیز اسوہ حسنہ ہیں کہ ان کی پیروی کی جائے

تفسیر محاسن التاویل8/57

۔

وفي نبينا مُحَمَّدٍ- عليه السلام- أسوةٌ حسنةٌ على 

الإطلاق

اور ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مطلق طور پر یعنی ان کی ہر چیز ہر کام ہر فعل ہر قول مبارک سب کچھ اسوہ حسنہ ہے ، اس کی پیروی کرنی ہے

تفسیر ثعالبی5/419

۔

فَهِيَ عَامَّةٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ایت عام ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز ہر فعل ہر قول اسوہ حسنہ ہے، اس کی پیروی کرنی ہے

تفسیر فتح القدیر4/312

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی ہوتی ہے ، اللہ کا نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)

۔

✅واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں وہ اللہ ہی کی طرف سے وحی کردہ ہوتا ہے، تو حدیث بھی اللہ تعالی کی طرف سے وحی کردہ ہی ہوتی ہے

بلکہ

قران حدیث سنت تمام زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہماری بھلائی ہے، اسوہ حسنہ ہے، سب پر ایمان و عمل ہی میں نجات ہے۔۔۔ذرا سا چوکے تو گمراہی ہے

👈لیھذا

یا تو تمام ایات اور تمام احادیث و سنت لغت فصاحت بلاغت کا درست علم ہو اور صحابہ کرام کے اقوال، اہلبیت عظام کے اقوال کا صحیح علم ہو تو مبارک ہو اپ عالم ہیں، ایت و حدیث خود سے پڑھ کر تمام ایات و احادیث و اقوال کو مدنظر رکھ کر سمجھا سکتے ہیں۔ مسائل بتا و سمجھا سکتے ہیں

ورنہ

آپ پر ، ہم پر لازم ہے کہ بڑے وسیع علم و حکمت و استنباط والے معتبر علماء کرام سے پوچھیں سمجھیں عمل کریں،اور 👈جب اپ کو، ہم کو پورا وسیع علم نہیں ہے تو قران مجید کا حکم ہے کہ اہل علم مستند علماء سے پوچھو کہ ایت مبارکہ کا مفہوم کیا ہے اور ایت مبارکہ سے کیا ثابت ہوتا ہے۔۔۔ تو اپ پر، ہم پر لازم ہے کہ اہل علم مستند معتبر علماء سے پوچھیں کہ قبلہ فلاں حدیث مبارکہ کا مفہوم کیا ہے معنی کیا ہے اور اس سے کیا کیا ثابت ہوتا ہے اور توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں ان مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کریں

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر5* 5️⃣

القرآن:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ

اے ایمان والو اللہ کی مانو اطاعت کرو اور رسول کریم کی مانو اطاعت کرو اور اولی الامر(مستند معتبر علماء اور انکی نگرانی میں چلنے والے حکمرانوں) کی مانو اطاعت کرو۔۔ تو اگر کسی بات میں تنازعہ کر بیٹھو تو اس کو اللہ کی طرف(یعنی قران مجید کی طرف) اور رسول کی طرف (یعنی قران و حدیث و سنت کی طرف یعنی قران احادیث و سنت جاننے والے مستند علماء کی طرف) لوٹا دو(جیسے کہ سورہ نساء ایت83میں حکم ہے کہ اہل استنباط علماء کی طرف رجوع کریں)....(سورہ نساء ایت59)

۔

ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ تمام ایات مبارکہ کو سمجھنا ہے ماننا ہے اور تمام احادیث مبارکہ کو سمجھنا ہے ماننا ہے اور تمام مستند علماء کرام کو ماننا ہے ان ان سب کی باتوں کو ماننا ہے ان کی طرف رجوع کرنا ہے۔۔۔ قران کی طرف رجوع اور احادیث مبارکہ کی طرف رجوع کرنا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مستند تفاسیر اور شروحات و دلائل و علوم و فنون سے صحیح فہم حاصل کریں قران مجید کی احادیث مبارکہ کی۔۔۔ تو یہاں بھی وہی بات کہ یا تو اپ کو تمام ایات و تمام احادیث مبارکہ مستند علوم کے ذریعے سے فہم میں ہوں تو اپ مسئلے مسائل بتا سکتے ہیں لوگوں کو سمجھا سکتے ہیں تب تو اپ عالم کہلائیں گے

ورنہ

اگر اپ کم علم ہیں تو اپ کو علماء کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور تمام احادیث مبارکہ کو سمجھنا ہوگا اور تمام ایات مبارکہ کو سمجھنا ہوگا اور اپ پر لازم ہوگا کہ علماء کرام سے پوچھیں کہ فلاں ایت فلاں حدیث مبارکہ کا صحیح معنی و مفہوم کیا ہے اور کون کون سے مسائل و فوائد نکلتے ہیں ایات مبارکہ سے احادیث مبارکہ سے۔۔۔۔ بہت ساری ایات و احادیث کا علم ہو تب بھی اپ گمراہی میں کفر میں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اس ایت میں بھی حکم ہے کہ ساری کی ساری ایات مبارکہ اور تمام کی تمام احادیث مبارکہ کا علم ہونا چاہیے صحیح فہم ہونا چاہیے

۔

وَلَيْسَ لِغَيْرِ الْعُلَمَاءِ مَعْرِفَةَ كَيْفِيَّةِ الرَّدِّ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَيَدُلُّ هَذَا عَلَى صِحَّةِ كَوْنِ سُؤَالِ الْعُلَمَاءِ وَاجِبًا، وَامْتِثَالِ فَتْوَاهُمْ

لَازِمًا.

قران مجید کی ایت میں حکم تھا کہ اولی الامر کی پیروی کرو مگر اولی الامر و دیگر کا اپس میں اختلاف ہو جائے تو قران مجید نے حکم دیا کہ کتاب اللہ کی طرف جانا ہے اور سنت کی طرف جانا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قران مجید کا علم اور احادیث مبارکہ اور سنت مبارکہ کا علم علمائے کرام کو ہی ہوتا ہے تو ایت سے ثابت ہوتا ہے کہ علماء سے پوچھنا ان کی رہنمائی لینا واجب ہے اور ان کے مدلل فتوے پر عمل کرنا لازم ہے

(تفسیر قرطبی5/260)

۔

أَنَّ أَعْمَالَ الْأُمَرَاءِ وَالسَّلَاطِينِ مَوْقُوفَةٌ عَلَى فَتَاوَى الْعُلَمَاءِ، وَالْعُلَمَاءُ فِي الْحَقِيقَةِ أُمَرَاءُ الْأُمَرَاءِ

لیڈر بادشاہ حکمران وغیرہ سب کے احکامات قوانین وغیرہ علماء معتبرین کے فتوے پر موقوف ہیں اور معتبر علماء ہی حقیقت میں بادشاہوں کے بادشاہ ہیں،  لیڈروں کے لیڈر ہیں،  حکمرانوں کے حکمران ہیں

(تفسیر کبیر10/114)

۔

لیھذا اس ایت مبارکہ کے تحت بھی ہم سب پر لازم ہے کہ توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں ان مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کریں

۔

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر6* 6️⃣

القرآن:

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ

 میں ایت کے کسی ایک حکم یا ایت کے تمام احکامات کو منسوخ کرتا ہوں یا ان کو مکمل طور پر منسوخ کرتا ہوں محو کرتا ہوں تو ان کی جگہ دوسرے احکامات کا حکم دیتا ہوں جو اس کے برابر ہوتے ہیں یا اس سے بڑھ کر ہوتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے

(سورہ بقرہ ایت106)

۔

القران:

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی اِنۡ  ہُوَ   اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی 

اور وہ رسول( حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وہ جو بھی بولتے ہیں اللہ کی وحی کردہ، نازل کردہ ہوتا ہے

(سورہ النجم ایت3٫4)


اور اللہ تعالی کے احکامات ہم تک پہنچے قران کے ذریعے سے یعنی تمام ایات کے ذریعے سے اور تمام احادیث مبارکہ کے ذریعے سے کیونکہ اوپر دوسری ایت مبارکہ میں واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں وہ اللہ ہی کی طرف سے وحی کردہ ہوتا ہے تو حدیث بھی اللہ تعالی کی طرف سے وحی کردہ ہی ہوتی ہے

اب

اس ایت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ قران مجید کی کسی ایت اور کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں تمام ایات کا پتہ ہو صحیح علم ہو اور ہمیں تمام احادیث مبارکہ کا صحیح علم ہو تاکہ ہمیں علم ہو کہ جو ایت یا حدیث ہم پڑھ رہے ہیں وہ منسوخ تو نہیں مخصوص تو نہیں اس کی تفسیر کسی اور ایت و حدیث سے تو نہیں۔۔۔۔؟؟ لہذا تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ اور تمام اقوال صحابہ کرام اہل بیت عظام کا علم ہو تو ہی ہم ہدایت اور حق تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ ایک ایت یا چند ایات و احادیث کا علم ہو تو ہم حق تک نہیں پہنچ پائیں گے اس لیے ہم خود سے ایک ایت پڑھ کر ترجمہ پڑھ کر یا چند ایات و احادیث کا ترجمہ پڑھ کر حکم نہیں نکال سکتے بلکہ لازم ہے کہ تمام ایت مبارکہ کا علم ہو ، تمام احادیث لازمہ کا علم ہو۔۔۔منسوخ مخصوص سمجھنے کے لیے لغت فصاحت بلاغت وغیرہ متعلقہ علوم کا انا بھی ضروری ہے

تو

اگر تمام ایات مبارکہ اور تمام احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام کے اقوال مبارکہ کا صحیح علم اگر ہمیں ہے تو مبارک ہو ہم عالم دین ہیں اور لوگوں کو ایات و احادیث کا علم سمجھائیں گے اور خود بھی عمل کریں گے لیکن اگر کچھ بھی کمی ہے اور یقینا ہم میں کمی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ مستند علماء کرام مستند کتب سے علم حاصل کریں اور عقیدہ اپنائیں اور عمل کریں لیکن خود سے ایت حدیث کا  ترجمہ پڑھ کر عقیدہ و مسئلہ نہیں نکال سکتے بلکہ توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں ان مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کریں

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر7٫8* 7️⃣ اور 8️⃣

الحدیث:

فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا

جاہل و کم علم(اپنی من مانی، اپنی خواہشات کے مطابق یا کم علمی کی بنیاد پر یا غلط قیاس کی بنیاد پر) فتویٰ دیں گے تو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے( لہذا ایسوں سے بچو،ایسے کم علم و گمراہوں سے قرآن و حدیث مت سنو..ایسوں کی بات کا کوئی اعتبار نہیں لیھذا انکی نہ سنو نہ مانو بلکہ معتبر سچے علماء سے تحقیق و تصدیق کراؤ.... ایسوں کے خلاف شرع و غلط قیاس و گمان سے بچو،ایسوں کی نام نہاد تحقیق سے بچو...ایسوں کے خلاف شرع و غلط قیاس و حکم کی تقلید و پیروی سے بچو)

(بخاری حدیث100)

.

الحدیث:

إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت پر ان لوگوں کا خوف ہے کہ جو گمراہ کن ائمہ(خطیب یوٹیوبر سوشلی اور جعلی محقق، جعلی عالم مفتی، واعظ بظاہر علم بیان کرنے والے) ہوں گے

(ترمذی حدیث2229)

.

گمراہ کن ائمہ اس طرح ہوں گے کہ کم علمی یا ایجنٹی یا عیاشی لالچ وغیرہ کی بنیاد پر غلط جواب دیں گے، قران مجید کی تمام ایات کی تفاسیر اس کو مد نظر نہ ہوں گی اور اکثر احادیث کا علم نہ ہوگا یا اکثر احادیث کا صحیح فہم نہ ہوگا اور اقوال صحابہ کرام کا علم نہ ہوگا... عربی علوم لغت معنی صرف نحو بدیع بیان حقیقت مجاز وغیرہ علوم و فنون اسے نہ ہوں گے اور وہ ان تمام کے بغیر مسائل نکال کر بتاتا پھرے گا۔۔۔ ایت و احادیث کی غلط تاویل و تفسیر و تشریح کرتا پھرے گا۔۔۔ پھیلاتا پھرے گا اور گمراہ ہوگا اور گمراہ کرتا پھرے گا... لہذا ان سے دور رہو یہ قران و حدیث کے حوالے دے تب بھی ان کا کوئی اعتبار نہ کرو کیونکہ یہ قران و حدیث کے معنی کرنے میں معنی و مقصود سمجھانے میں دو نمبری کرتے ہیں.... ان دو نمبر کو پہچانو.... ان دو نمبر کی وجہ سے اصلی علماء اصلی مولوی سے نفرت نہ کرو

اور

اسی طرح اپ خود بھی ایک ایت پڑھ کر یا حدیث پاک پڑھ کر خود سے معنی نکال کر عقیدے رکھنا شروع کر دیں عمل کرنا شروع کر دیں تو بھی یہ ٹھیک نہیں ، جائز نہیں کیونکہ گمراہ کن علماء سے اس لیے منع کیا گیا کہ ان کو علم نہیں ہوتا جیسے کہ حدیث پاک میں دو ٹوک لکھا ہے، تو پھر اپ کو بھی لاکھوں کروڑوں احادیث و ایات و اقوال صحابہ کرام مدنظر نہیں ہوتے تو اپ بھی اپنے اپ کو فتوی نہیں دے سکتے کہ اس ایت کا یہ مطلب ہے اس حدیث کا یہ مطلب ہے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیں۔۔۔ ایسا کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں، ایسے عمل کو حدیث پاک میں واضح طور پر گمراہی کہا گیا ہے۔۔۔اور گمراہی کا مطلب ہوتا ہے راہ حق سے گم ہو جانا۔۔۔اور راہ حق سے گم ہوکر اپ نعوذ باللہ تعالی کفر میں پڑ جائیں گے، بدمذہبیت میں گر جائیں گے،توحید و رسالت و عقائد و فقہ و تصوف وغیرہ دنیا و اخرت کی تمام بھلائی کے علوم عقائد و مسائل سے گمراہ ہو کر اپنی اخرت بھی تباہ کر دیں گے اور اپنی دنیا بھی تباہ کر دیں گے بلکہ عین ممکن ہے کہ دوسروں کی بھی اخرت تباہ کرنے کا باعث بنیں گے اور دوسروں کی دنیا بھی تباہ کرنے کا باعث بنیں گے اور انفرادی اجتماعی معاشرتی معاشی ہر لحاظ سے تباہی کا باعث بنیں گے

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

*#دلیل نمبر9* 9️⃣

الحدیث:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينسخ حديثه بعضه بعضا، كما ينسخ القرآن بعضه بعضا ".

‏‏‏‏ ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو دوسری  حدیث منسوخ و مخصوص(و تشریح) کر دیتی ہے۔ جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت سے منسوخ و مخصوص(و تفسیر) ہو جاتی ہے

(مسلم حدیث777)

لیھذا یہ اصول یاد رہے کہ بعض آیات و احادیث کی تشریح تنسیخ تخصیص دیگر آیات و احادیث سے ہوتی ہے....عام آدمی کے لیے اسی لیے تقلید لازم ہے کہ اسے ساری احادیث و تفاسیر معلوم و یاد نہیں ہوتیں،مدنظر نہیں ہوتیں تو وہ کیسے جان سکتا ہے کہ جو ایت یا حدیث وہ پڑھ رہا ہے وہ کہیں منسوخ یا مخصوص تو نہیں.....؟؟ یااسکی تفسیر و شرح کسی دوسری آیت و حدیث سےتو نہیں.....؟ اسی لیے سیدنا سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں

الحديث مَضِلَّة إلا للفقهاء

ترجمہ:

حدیث(اسی طرح آیت عام آدمی کےلیے)گمراہی کا سبب بن سکتی ہے سوائے فقہاء کے

(الجامع لابن أبي زيد القيرواني ص 118)

تو آیت و حدیث پڑھتے ہوءے معتبر اہلسنت عالم کی تفسیر و تشریح مدنظر ہو تقلید ہو یہ لازم ہے ، مستند علماء کرام سے ایات و احادیث مبارکہ کی تشریح تفسیر و نکلنے والے مسائل پوچھنا لازم ہے

ورنہ اپنے سے نکات و مسائل نکالنا گمراہی بلکہ کفر تک لے جاسکتا ہے....وہ عالم وہ مجتہد و فقیہ نکات و مسائل نکال سکتا ہے جو بلاتصب وسیع الظرف ہوکر تفاسیر و احادیث کو جانتا ہو لغت و دیگر فنون کو جانتا ہو

مگر آج کے مصروف دور میں اور علم و حافظہ کے کمی کے دور میں اور فنون و احاطہ حدیث و تفاسیر کے کمی کے دور میں بہتر بلکہ لازم یہی ہے کہ عالم فقیہ بھی تقلید کرے،کسی مجتہد کے قول و تفسیر و تشریح کو لے لے کیونکہ ہر مسلے پر اجتہاد مجتہدین کر چکے

البتہ

جدید مسائل میں باشعور وسیع ظرف وسیع علم والا باریک بین عالم دین اپنی رائے پردلیل باادب ہوکر قائم کر سکتا ہے

لیھذا

توہین رسالت عقائد فقہ وغیرہ تمام مسائل میں ان مستند علماء کرام کے فتوے پر عمل کریں

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.