Labels

ایات مبارکہ کی تفاسیر،صحابہ کرام کے اقوال ،ائمہ اسلاف کے اقوال و دیگر دلائل و حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ عمومی فضائل وغیرہ میں اہلبیت اور آل محمدﷺ میں تمام امت مومنہ شامل ہےاس پر صراحتا یا حکما50دلائل و حوالہ پر مشتمل علمی ایٹم بم تحریر پڑھیے۔۔سمجھدار کے لیے1مستند دلیل،1مستند حوالہ بھی کافی مگر ضدی فسادی رو1فض و نیم رو1فض و چمن زمان وغیرہ کےلیے علمی ایٹم بم بھی ضروری ہے۔۔۔شریر فسادی چمن زمان پر پابندی لگانا لازم ہے،اسے اکابرین کا جوابدہ بنا کر انکےپاس لانا لازم ہے، کیونکہ وہ مسلسل فساد پھیلا رہا ہے اور ابھی اس نے ایک سید مفتی صاحب پر تحریف تک کا کفر والا فتوی لگانےکا غیر مستند فتوی دیا ہے،ائیے چمن زمان کے فتوے کا رد پڑھیے،پھیلائیے

 🟦 *#ایات مبارکہ کی تفاسیر،صحابہ کرام کے اقوال ،ائمہ اسلاف کے اقوال و دیگر دلائل و حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ عمومی فضائل وغیرہ میں اہلبیت اور آل محمدﷺ میں تمام امت مومنہ شامل ہےاس پر صراحتا یا حکما50دلائل و حوالہ پر مشتمل علمی ایٹم بم تحریر پڑھیے۔۔سمجھدار کے لیے1مستند دلیل،1مستند حوالہ بھی کافی مگر ضدی فسادی رو1فض و نیم رو1فض و چمن زمان وغیرہ کےلیے علمی ایٹم بم بھی ضروری ہے۔۔۔شریر فسادی چمن زمان پر پابندی لگانا لازم ہے،اسے اکابرین کا جوابدہ بنا کر انکےپاس لانا لازم ہے، کیونکہ وہ مسلسل فساد پھیلا رہا ہے اور ابھی اس نے ایک سید مفتی صاحب پر تحریف تک کا کفر والا فتوی لگانےکا غیر مستند فتوی دیا ہے،ائیے چمن زمان کے فتوے کا رد پڑھیے،پھیلائیے*

۔

🌹👈قبلہ سید زین العابدین شاہ صاحب روزانہ کی بنیاد پر چمن زمان کا رد لکھ رہے ہیں، جو کہ ایٹم بم علمی تحریر سے بھی زیادہ اہم طریقہ ہے، روزانہ اسے دلائل ملیں گے تو شاید کہ راہ راست پہ ا جائے،روز روز دلائل ملیں گے تو شاید روز روز سوچنے کی توفیق ملے گی تو شاید کہ وہ راہ راست پہ آجائے،تب تک احباب کے پرزور مطالبے پر تحریف کے غیر مستند فتوے کی وجہ سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے رد کے لیے ایک ایٹم بم تحریر ہماری بھی پڑھتے جائیے،اور میری فیسبک ائی ڈی اور بلاگ ائی ڈی پر چمن زمان لکھ کر سرچ کیجئے،درجنوں تحریریں اس کے رد میں ا جائیں گی 

۔

🛑 *#چمن زمان کے فتوے کا خلاصہ*

چمن زمان کے فتوے میں سوال لکھا ہے جس کا خلاصہ ہے کہ: کسی خطیب صاحب نے ایت تلاوت فرمائی جس کا مفہوم ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو ایمان والا ہو کر۔۔۔تو اس ایت سے خطیب صاحب نے ثابت کیا کہ جو بھی کلمہ گو ہے وہ گھر والا ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےاہلبیت میں شمار ہے📌اس پر چمن زمان صاحب نے فتوی دیا جسکا خلاصہ ہے  کہ اگر یہ بات یعنی اس طرح کی بات ترجمہ کرتے ہوئے کہی ہے تو کفر ہے تحریف ہے اور اگر تفسیر بیان کرتے ہوئے کہی تو غلط بے بنیاد جھوٹی تفسیر ہے جس سے توبہ کرنا ہوگی...چمن زمان شدت کے ساتھ اعتراض کرتے ہیں کہ کلمہ گو میں تو منافق بھی شامل ہیں اس کو بھی ال رسول میں ڈال دو گے ، اہل بیت میں ڈال دو گے۔۔۔؟؟

۔

✅ *#جواب و تحقیق*

خلاصہ:

کلمہ گو سے مراد صحیح طور پر ایمان لانے والا مراد ہوتا ہےجیسے کہ احادیث اور اس کی تشریحات سے ثابت ہے جیسے کہ ہم نیچے لکھیں گے جبکہ منافق وغیرہ کلمہ گو ظاہری طور پر ہوتے ہیں مگر  حقیقی طور پر، صحیح طور پر کلمہ گو نہیں۔۔۔جب ایک لفظ کے دو معنی ہوں اور کسی اچھے کی زبان و قلم سے نکلے ہوں تو لازم ہوتا ہے کہ حسن ظن رکھتے ہوئے بلکہ عالم دین مفتی سید بادشاہ کے علمی خطاب کو مد نظر رکھتے ہوئے واجب ہے کہ کلمہ گو سے مراد سچے ایمان لانے والے مراد ہیں، اور چمن زمان پر بھی واجب تھا کہ وہ درست معنی لیتا۔۔۔۔جبکہ چمن زمان نے اپنے شریر اور فسادی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کلمہ گو سے ظاہری معنی مراد لے کر منافقین کو بھی شامل کر کے سید بادشاہ پر اعتراض جڑ دیا.. جی تو چاہتا ہے اس شریر فسادی کی زبان کھینچ کر کاٹ دی جائے، لکھنے والے اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں لیکن کیا کریں کہ مثلہ کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے لہذا عوام علماء حکومت سب پر لازم ہے کہ اس کو ایسی لگام ڈالیں کہ یہ شریر فسادی ایک لفظ بھی نہ بول پائے ، نہ لکھ پائے،نہ فساد برپا کر پائے۔۔اور جب سید بادشاہ کلام مجید کی تفسیر کر رہے ہیں تو ہمیں بھی اس کو تفسیر ہی سمجھنا واجب ہے اور یہ تفسیر جس کو چمن زمان صاحب غلط جھوٹی قرار دے رہے ہیں اور اس سے توبہ کا کہہ رہے ہیں تو یہ تفسیر تو احادیث و تفاسیر وغیرہ کئی کتب اسلاف سے ثابت ہے بلکہ علماء و مفسرین نے واضح طور پر لکھا کہ ایت کا یا حدیث کا شان نزول یا پس منظر کچھ بھی ہو لیکن اس سے مراد عمومیت ہوتی ہے الا یہ کہ موانع معتبرہ نفی کریں۔۔۔۔لہذا اس ایت سے اور دیگر ایت و احادیث سے اور دیگر کتب سے ثابت ہوتا ہے کہ عمومی فضیلت میں جب اہلبیت بولا جائے تو تمام امت مسلمہ مراد ہوتی ہے، ہاں زکوۃ لینے کے معاملے میں جن اہلبیت کو ممنوع قرار دیا گیا اس کی وضاحت خود حدیث پاک میں ہے کہ ان سے مراد فلان اہلبیت یعنی سادات کرام مراد ہیں۔۔۔ایت مبارکہ کی تفسیر تفاسیر میں یہ بھی موجود ہے کہ اس سے مراد وہ ہے کہ جو شریعت میں داخل ہو جائے یعنی لفظ گھر سے شریعت مراد ہے، تو تفسیری طور جو شریعت میں داخل ہوجائے وہ نبی پاک کے گھرانے فرد ہے یعنی اہلبیت ہے۔۔۔اور چمن زمان نے جو اعتراض کیا ہے کہ اگر شریعت مراد ہے تو پھر اگے ایت میں ہے کہ مومنین اور مومنات کے لیے بھی بخشش ہو تو جب شریعت کا ذکر ہو گیا اس میں مومنین اور مومنات اگئے تو پھر دوبارہ مومنین مومنات لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔؟؟ اس کا بھی جواب پڑھتے جائیے کہ بیت سے مراد سیدنا نوح علیہ السلام کی شریعت مراد ہے یعنی ایت کا یہ معنی بنے گا کہ سیدنا نوح علیہ السلام دعا فرما رہے ہیں کہ یا اللہ میرے والدین کی بخشش فرما اور جو میری امت میں داخل ہو کر میرا اہلبیت ہو جائے اسے بھی بخش دے۔۔۔اب اگے مومنین مومنات کا ذکر اس طرح ہے کہ میری امت کے مومنین کے علاوہ دیگر انبیاء کرام کی جو امتیں مومنین ہیں ان کی بھی بخشش فرما۔۔لہذا چمن زمان کا اعتراض ختم ہو گیا کہ چمن زمان نے کہا تھا کہ اگر اہلبیت مراد لیا جائے تو مومنین مومنات کہنا بےمعنی کہلائے گا،اعتراض اس طرح ختم ہوا کہ یہاں پر انتہائی جامع  ایت ہے کہ والدین کی بخشش فرما اور تمام اہلبیت امت کی بخشش فرما اور پھر دیگر امتوں کے لیے بھی دعا کی کہ ان امتوں کے مومنین مومنات کی بھی بخشش فرما۔۔۔ جیسے کہ تفصیل نیچے لکھیں گے

۔

🟩 *#تفصیل و تحقیق*

ہم 6 پوائنٹ کے تحت تفصیل مدلل و باحوالہ لکھیں گے

۔

پوائنٹ1

کلمہ گو سےمراد کون۔۔۔؟؟

۔

پوائنٹ2

ایت مبارکہ کی تفسیر اور چمن زمان کے اعتراض کا جواب

۔

پوئنٹ3

قران و احادیث مبارک کے الفاظ جامع ہوتے ہیں

۔

پوائنٹ4

مشھور تفسیر لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری تفسیر نہیں ہو سکتی بلکہ ایت و حدیث کے دیگر معنی بھی مراد ہوتے ہیں

۔

پوائنٹ5

آل/اہلبیت  سے مراد تمام امت ہے،مزید حوالہ جات،دلائل

۔

پوائنٹ6

جب اہلبیت میں تمام امت شامل ہے تو پھر زکواۃ کے معاملے میں اہلبیت میں تمام امت کیوں مراد نہیں۔۔۔؟؟ اس کا جواب حدیث پاک سے لکھیں گے

۔

📌حوالہ جات کی تعداد

پوائنٹ 1 میں: 12 حوالہ جات

پوائنٹ 2 میں: 14 حوالہ جات

پوائنٹ 3 میں: 8 حوالہ جات

پوائنٹ 4 میں: 15 حوالہ جات

پوائنٹ 5 میں: 20 حوالہ جات

پوائنٹ 6 میں: 4 حوالہ جات

کل تحریر میں: 73 حوالہ جات

🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷

🟩پوائنٹ1️⃣

کلمہ گو سے مراد کون۔۔۔؟؟

۔

🌹الحدیث:

فَقَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الجَنَّةَ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا پھر وہ اسی پر وفات پا گیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا

(بخاری حدیث5827)

🚨سید بادشاہ پر اعتراض کرنے والے چمن زمان صاحب بتاؤ کیا نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرو گے کہ ادھا کلمہ پڑھنے والے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنتی قرار دے رہے ہیں۔۔۔۔؟؟

🚨مردود شریر فسادی چمنیے کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایت فٹ کرو گے کہ لا الہ الا اللہ تو منافق بھی پڑھتے ہیں وہ بھی جنتی۔۔۔۔؟؟

لا حول ولا قوۃ الا باللہ

.

📌ویسے تو بالکل بات واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مقصد یہ نہیں کہ جو ادھا کلمہ پڑھے یا پورا کلمہ منافقتا پڑھے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا یہ معنی مراد نہیں ، سب پر واضح ہے۔۔۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یقینا مراد وہ ہے کہ جیسے کہ دیگر احادیث سے اس کی تفسیر ہوتی ہے کہ جو ایمان والا ہو جائے۔۔۔اور منافق ایمان والے نہیں ہوتے اور عام بول چال میں بھی اگر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والا یا کلمہ گو لفظ بولا جائے تو علمی میدان میں جب یہ کلمہ بولا جائے اور عالم دین کی زبان سے بولا جائے تو لازما اس کا معنی یہی ہوگا کہ جو حالت ایمان میں ہو وہ اہل بیت میں شامل ہے۔۔۔📌اس بات پر دلیل تو دینے کی حاجت نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم حق چار یار کی نسبت سے چار حوالہ جات لکھ رہے ہیں 

۔

🔶1....إذا مات مسلمًا دخل الجنة قبل النار أو بعدها

لا الہ الا اللہ سے مراد یہ ہے کہ وہ 👈مسلمان ہو کر وفات پا جائے تو گناہوں کی سزا کاٹ کر یا اللہ کی کرم نوازی سے گناہ معاف ہو کر یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت  سے گناہ معاف ہو کر یا کچھ عرصہ جہنم میں رہ کر اس کے بعد اخر کار ضرور مسلمان جنت میں جائے گا

(إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري القسطلاني12/542)

.

🔶2...ومعنى الحديث أن من مات على التوحيد أنه يدخل

الجنة

حدیث پاک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والا جنت میں جائے گا اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جو👈کامل توحید پر وفات پائے گا تو وہ جنت میں جائے گا

( شرح صحيح البخاري - ابن بطال9/105)

.

🔶3...ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ) أَيْ الِاعْتِقَادِ

حدیث پاک میں جو ہے کہ جو لا الہ الا اللہ پڑھے گا وہ جنت میں جائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ جو👈اعتقاد عقیدے ایمان پر ہو یعنی اسلام والے اعتقاد عقیدے ایمان پر ہو اور اسی پر وفات پا جائے تو وہ جنت میں جائے گا

(مرقاة المفاتيح ،ملا على القاري1/99)

 

.

🔶4... مات مسلمًا دخل الجنة قبل النار أو بعدها

لا الہ الا اللہ سے مراد یہ ہے کہ وہ👈مسلمان ہو کر وفات پا جائے تو گناہوں کی سزا کاٹ کر یا اللہ کی کرم نوازی سے گناہ معاف ہو کر یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے گناہ معاف ہو کر یا کچھ عرصہ جہنم میں رہ کر اس کے بعد اخر کار ضرور مسلمان جنت میں جائے گا

(التوضيح لشرح الجامع الصحيح – ابن الملقن28/658)

.

✅دیکھا اپ نے کہ حدیث پاک اور اس کی شرح سے واضح ہے کہ لفظ کلمہ گو کوئی مستند ادمی بولے تو اس سے مراد مسلمان ہوتا ہے ایمان والا ہوتا ہے یعنی زبانی کلمہ پڑھنے والا نہیں بلکہ کامل ایمان والا کامل مسلمان مراد ہے۔📌جب یہ معنی اس لفظ کے ہیں تو واجب ہے کہ یہ معنی مراد لیے جائیں جب مستند ادمی یہ لفظ بولے جب عالم دین سید بادشاہ یہ لفظ بولے اور 📌قرینہ کلام بھی یہی ہو تو واجب و لازم ہے کہ یہی معنی مراد لیے جائیں۔۔جبکہ شریر فسادی چمن زمان نے غلط معنی مراد لے کر اعتراض کر دیا کہ کلمہ گو میں تو منافق بھی شامل ہیں،جو کہ سراسر فساد اور شرارت جہالت کی انتہا ہے

۔

✅ *#اچھا محمل ، اچھا معنی مراد لینا واجب ہے،قرآن و حدیث سےماخوذ انتہائی اہم اصول.و.حکم.......!!*

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ  بَعۡضَ الظَّنِّ   اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا(سورہ الحجرات آیت12)والمؤمن ينبغي أن يحمل كلام أخيه المسلم على أحسن المحامل ، وقد  قال بعض السلف : لا تظن بكلمة خرجت من أخيك سوءا وأنت تجد لها في الخير  محملا .فمن حق العلماء: إحسان الظن بهم؛ فإنه إذا كان من حق المسلم على المسلم أن يحسن الظن به ، وأن يحمل كلامه على أحسن المحامل، فمن باب أولى العالم

خلاصہ:

قرآن و حدیث میں حکم ہے کہ بدگمانی غیبت تجسس سے بچا جائے،اچھا گمان رکھا جائےاسی وجہ سےواجب ہےکہ مذمت تکفیر تضلیل تفسیق اعتراض کےبجائے عام مسلمان اور بالخصوص اہلبیت صحابہ اسلاف صوفیاء و علماء کےکلام.و.عمل کو

حتی الامکان

اچھےمحمل،اچھے معنی،اچھی تاویل پےرکھاجائے

(دیکھیےفتاوی حدیثیہ1/223...فتاوی العلماءالکبار فی الارہاب فصل3...فھم الاسلام  ص20...الانوار القدسیہ ص69)

.

،قال عمر رضی اللہ عنہ ولا تظنن بكلمة خرجت من مسلم شراً وأنت تجد لها في الخير محملا

حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

مسلمان کوئی بات کرے اور آپ اس کا اچھا محمل و معنی  پاتے ہوں تو اسے برے معنی پر محمول ہرگز نہ کریں 

(جامع الاحادیث روایت31604)

.

سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ بعض محتمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکمِ قرآن انہیں "معنی حسن" پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح توہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:

 کل اناء یترشح بما فیہ صرح بہ الامام ابن حجر المکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔

 ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے... 

(فتاوی رضویہ ج29، ص225)

🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷

🟩پوائنٹ2️⃣

ایت مبارکہ کی تفسیر اور چمن زمان کے اعتراض کا جواب:

اب اتے ہیں ایت مبارکہ کی تفسیر کی طرف۔۔۔ایت مبارکہ کی تفسیر تفاسیر میں یہ بھی موجود ہے کہ اس سے مراد وہ ہے کہ جو شریعت میں داخل ہو جائے یعنی لفظ گھر سے شریعت مراد ہے، تو تفسیری طور جو شریعت میں داخل ہوجائے وہ نبی پاک کے گھرانے فرد ہے یعنی اہلبیت ہے۔۔۔اور چمن زمان نے جو اعتراض کیا ہے کہ اگر شریعت مراد ہے تو پھر اگے ایت میں ہے کہ مومنین اور مومنات کے لیے بھی بخشش ہو تو جب شریعت کا ذکر ہو گیا اس میں مومنین اور مومنات اگئے تو پھر دوبارہ مومنین مومنات لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔؟؟ اس کا بھی جواب پڑھتے جائیے کہ بیت سے مراد سیدنا نوح علیہ السلام کی شریعت مراد ہے یعنی ایت کا یہ معنی بنے گا کہ سیدنا نوح علیہ السلام دعا فرما رہے ہیں کہ یا اللہ میرے والدین کی بخشش فرما اور جو میری امت میں داخل ہو کر میرا اہلبیت ہو جائے اسے بھی بخش دے۔۔۔اب اگے مومنین مومنات کا ذکر اس طرح ہے کہ میری امت کے مومنین کے علاوہ دیگر انبیاء کرام کی جو امتیں مومنین ہیں ان کی بھی بخشش فرما۔۔لہذا چمن زمان کا اعتراض ختم ہو گیا کہ چمن زمان نے کہا تھا کہ اگر اہلبیت مراد لیا جائے تو مومنین مومنات کہنا بےمعنی کہلائے گا،اعتراض اس طرح ختم ہوا کہ یہاں پر انتہائی جامع  ایت ہے کہ والدین کی بخشش فرما اور تمام اہلبیت امت کی بخشش فرما اور پھر دیگر امتوں کے لیے بھی دعا کی کہ ان امتوں کے مومنین مومنات کی بھی بخشش فرما۔۔۔یہ لیجیے چودھویں کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے 14حوالہ جات... اہل حق کے سینوں کو چمکا دیں گے چودھویں کے چاند کی طرح،اور ضدی فسادی ہٹ دھرم کے 14طبق روشن ہونے کے لیے کافی ہیں،لیکن اس کے بعد بھی مزید دلائل لکھے ہیں تاکہ اہل حق کا سینہ ٹھنڈا ہو ایمان مضبوط ہو اور باطل ضدی فسادی ہٹ دھرم کو شاید کہ کثرت دلائل سے ہدایت ملے امین ثم امین

۔

🔷حوالہ1

امام واحدی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے تفسیر لکھتے ہیں

روى عطاء عن ابن عباس: يريد من دخل بيتي، أي في ديني مؤمنًا....وقوله (٦): ﴿وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ عام في كل من آمن بالله وصدق الرسل.

سیدنا ابن عباس سے سیدنا عطا نے روایت کیا ہے کہ ایت میں گھر سے مراد دین ہے یعنی جو میرے دین میں داخل ہو جائے۔۔۔۔اور اگے جو ایت ہے کہ مومنین اور مومنات کی بخشش فرما تو یہ عام ہے کہ تمام دیگر رسولوں پر جو ایمان لائے اس کی بھی بخشش فرما

(التفسير البسيط – الواحدي22/275ملتقطا)

۔

🔷حوالہ2

وقال ابن عباس: أي: دخل في ديني.فإن قيل: فعلى هذا يصير قوله: «مُؤمِنًا» مكررًا.فالجواب: إنَّ من دخل في دينه ظاهرًا قد يكون مُؤمنًا، وقد لا يكون مؤمنًا، فالمعنى: ولمن دخل دخولًا مع تصديق القلبِ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ بیت سے مراد گھر ہے یعنی جو میرے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے،اس تفسیر کو مراد لیا جائے تو بظاہر لفظ مومنا سے تکرار لازم ا رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک دین میں دو قسم کے لوگ داخل ہوتے ہیں ایک وہ کہ جو ایمان والے ہو کر داخل ہوتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں کہ جو ایمان والے نہ ہو کر منافق ہو کر داخل ہوتے ہیں تو یہاں پر مومنا تکرار نہیں بلکہ وضاحت ہے کہ جو میرے گھر میں ایمان والا ہو گا اور داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں ہے

(تفسیر اللباب في علوم الكتاب19/402)

۔

🔷حوالہ3

امام قرطبی تفسیر لکھتے ہیں

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا: أَيْ وَلِمَنْ دَخَلَ دِينِي، فَالْبَيْتُ بِمَعْنَى الدِّينِ، حَكَاهُ الْقُشَيْرِيُّ وَقَالَهُ جُوَيْبِرٌ

سیدنا ابن عباس سے بھی یہ تفسیر مروی ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو سے مراد جو میرے دین میں داخل ہو۔۔تو لفظ بیت یہاں دین کے معنی میں ہے اس کو امام قشیری نے روایت کیا ہے اور یہی بات امام جویبر نے بھی فرمائی ہے.

 (تفسير القرطبي 18/314)


۔

🔷حوالہ4

امام ابو منصور تفسیر لکھتے ہیں

وقَالَ بَعْضُهُمْ: (في بيتي) أي: في ديني؛ فيكون البيت كناية عن الدِّين.

امام ابو منصور فرماتے ہیں کہ بعض کے مطابق ایت میں بیت سے مراد دین ہے، (اور امام ابو منصور اس تفسیر کی تائید کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ) بیت سے کنایتا دین مراد ہے(اور اس طرح کے کنائے قران و حدیث میں کئی جگہ پر موجود ہیں بلکہ یہ وہ جامع کنایہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ نیچے حوالہ جات لکھیں گے) 

( تفسير الماتريدي10/236)

۔

🔷حوالہ5

امام فخر الدین رازی نے تو چمن زمان کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا لکھتے ہیں:

وَقِيلَ: لِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي، فَإِنْ قِيلَ: فَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَصِيرُ قَوْلُهُ: مُؤْمِنًا مُكَرَّرًا، قُلْنَا: إِنَّ مَنْ دَخَلَ فِي دِينِهِ ظَاهِرًا قَدْ يَكُونُ مُؤْمِنًا بِقَلْبِهِ وَقَدْ لَا يَكُونُ، وَالْمَعْنَى وَلِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي دُخُولًا مَعَ تَصْدِيقِ الْقَلْبِ.ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ إِنَّمَا خَصَّ نَفْسَهُ أَوَّلًا بِالدُّعَاءِ ثُمَّ الْمُتَّصِلِينَ بِهِ لِأَنَّهُمْ أَوْلَى وَأَحَقُّ بِدُعَائِهِ ثُمَّ عَمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ.

ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو میرے دین میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے، اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر یہ تفسیر درست ہے تو پھر لفظ مومن سے تکرار لازم ائے گا تو امام رازی اس کا جواب دیتے ہیں کہ دین میں کوئی داخل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے اور کوئی ایمان کے بغیر منافقتا داخل ہوتا ہے تو یہاں لفظ مومن نے وضاحت کر دی کہ میرے اہلبیت میں وہ شمار ہوگا کہ جو میری شریعت میں داخل ہوگا ایمان والا ہو کر۔۔۔پھر اگے مومنین مومنات کا پھر تذکرہ ہے تو یہ بھی تکرار نہیں کیونکہ سیدنا نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے متصل کے لیے دعا کی کیونکہ وہ اولی ہیں احق ہیں پھر (جب سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی پھر والدین کے لیے دعا کی پھر اپنی شریعت کے مومنین کے لیے دعا کی تو پھر) اس کے بعد دیگر تمام مومنین مومنات یعنی دیگر امتوں کے مومنین مومنات سب کے لیے دعا کر دی لہذا کوئی تکرار نہیں

(تفسير الرازي 30/660شرحا)

۔

🔷حوالہ6

امام آلوسی نقشبندی لکھتے ہیں:

وفي رواية عن الحبر أنه أراد شريعته استعار لها اسم

 البيت

امام الوسی فرماتے ہیں کہ حبر الامہ یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ یہاں بیت سے مراد شریعت ہے اور شریعت کے لیے لفظ بیت استعارہ استعمال ہوا ہے(یہ وہ جامع استعارہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ نیچے حوالہ جات لکھیں گے)

 (تفسير الألوسي روح المعاني15/89)

۔

🔷حوالہ7

امام ماوردی نے ایک تفسیر یہ بھی کی کہ:

الثالث: من دخل في ديني

تیسری تفسیر یہ ہے کہ بیت سے مراد دین ہے

تفسير الماوردي = النكت والعيون6/106)

۔

🔷حوالہ8

ثم قال عز وجل: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا يعني: سفينتي وديني

ایت میں جو ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو ایمان کی حالت میں۔۔۔تو گھر سے کشتی اور دین مراد ہے

 (تفسير السمرقندي = بحر العلوم2/502)

.

🔷حوالہ9

وقال الكلبيُّ: أي: أمَّة محمَّد -ﷺ

اس ایت میں جو اگے ہے کہ امت نوح کی بخشش فرما اور پھر فرمایا کہ مومنین مومنات کی بخشش فرما تو ان مومنین مومنات سے مراد امت محمدیہ ہے

(التيسير في التفسير - أبو حفص النسفي15/35)

.

🔷حوالہ10

وَلِلْمُؤْمنِينَ﴾ أَي: لكل الْمُؤمنِينَ وَالْمُؤْمِنَات إِلَى يَوْم الْقِيَامَة.

ایت میں جو امت نوح کی بخشش کے بعد مومنین مومنات لفظ ہے اس سے مراد تمام مومنین مومنات ہیں جو قیامت تک ائیں گے

(تفسير السمعاني – أبو المظفر السمعاني6/61)

.

🔷حوالہ11

وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ؛﴾ عامّ في كلّ من آمن وصدّق الرّسل

ایت میں جو امت نوح کی بخشش کے بعد مومنین مومنات کا لفظ ہے یہ عام ہے ہر اس شخص کے بارے میں جو رسولوں پر ایمان لے ائے

( تفسير الحداد المطبوع خطأ باسم التفسير الكبير للطبراني – أبو بكر الحداد6/359)

.

🔷حوالہ12

أولًا من يتصل به لأنهم أولى وأحق بدعائه ثم عم المؤمنين والمؤمنات

سیدنا نوح علیہ السلام نے دعا فرمائی پہلے ان کے متعلق کہ جو ان کے متصل ہیں یعنی اہل بیت کہ وہ اولی اور احق ہیں پھر سیدنا نوح علیہ السلام نے عمومی طور پر دیگر تمام مومنین مومنات کے لیے دعا فرمائی

( تفسير النسفي = مدارك التنزيل وحقائق التأويل3/547)

.

🔷حوالہ13

وللمؤمنين والمؤمنات عام في كل من آمن بالله تعالى، وصدق بالرسل

سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی امت کے بارے میں دعا کرنے کے بعد جو مومنین مومنات فرمایا اس سے مراد ہر وہ مومن ہے کہ جو رسولوں پر ایمان لے ائے

(التفسير الوسيط للواحدي – الواحدي4/360)

۔

🔷حوالہ14

﴿وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ هَذَا عَامٌّ فِي كُلِّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَصَدَّقَ الرُّسُلَ

سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی امت پر دعا کے بعد جو دعا فرمائی اس میں مومنین مومنات سے مراد عام ہے کہ جو بھی تمام رسولوں پر ایمان لائے اور اللہ پر ایمان لائے

 (تفسير البغوي8/234)

.

🔷🔷🔷🔷🔷🔷

🟩پوئنٹ3️⃣

قران و احادیث مبارک کے الفاظ جامع ہوتے ہیں:

اب احادیث مبارکہ پڑھیے کہ قران اور احادیث کے کئی معنی ہیں ،کئی تفسیریں ہیں، کئی معنی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ احادیث مبارکہ میں ہے کہ قران اور احادیث بہت جامع معنی رکھتے ہیں کئی معنی رکھتے ہیں اور ایک وقت میں سارے معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں اور  ایک معنی بھی مراد ہو سکتا ہے اور قرینہ کلام ہو یا موانع نہ ہوں تو جامع معنی جامع تفسیر مراد ہوا کرتی ہے

۔

حوالہ1🔵

بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ بھیجا گیا ہے

(بخاری حدیث7013)

.

حوالہ2🔵

أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ

 نبی کریم روف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ہیں

(مسلم حدیث523)

.

حوالہ3🔵

معناه: إيجاز الكلام في إشباع للمعاني، يقول الكلمة القليلة الحروف، فتنتظم الكثير من المعنى، وتتضمن أنواعا من الأحكام. وفيه: الحض على حسن التفهم، والحث على الاستنباط لاستخراج تلك المعاني،

 مذکورہ احادیث میں بخاری شریف اور مسلم شریف کی احادیث میں یہ معنی بتائے گئے ہیں کہ کلام کے بہت سارے معنی ہوتے ہیں ایک قلیل کلمہ بہت سارے معنی کو شامل ہوتا ہے کئی سارے احکامات کو شامل ہوتا ہے تو اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان معنی کو سمجھا جائے اور ان معنی کا استنباط کیا جائے دلائل کے ساتھ

(أعلام الحديث شرح صحيح البخاري 2/1442)

.

حوالہ4🔵

.يَعْنِي الْقُرْآن جمع الله تَعَالَى فِي أَلْفَاظ يسيرَة مِنْهُ مَعَاني كَثِيرَة

وَكَذَلِكَ كَانَ صلى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَكَلَّمُ بِأَلْفَاظٍ يَسِيرَةٍ تَحْتَوِي عَلَى مَعَاني كَثِيرَة

 حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قران پاک میں کم الفاظوں میں کئی سارے معنی بھر دیے ہیں اور اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں بہت بہت سارے معنی موجود ہوتے ہیں

(حاشية السندي على سنن النسائي6/3)

.

حوالہ5🔵

و {جوامع الكلم} أي الكلمات القليلة الجامعة للمعاني الكثيرة

 جوام الکلم سے مراد یہ ہے کہ قلیل جملے ہوں اور وہ بہت سارے معنی کو جامع ہوں

( الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري25/30)

.

حوالہ6🔵

يَعْنِي بِهِ الْقُرْآنَ جَمَعَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْأَلْفَاظِ الْيَسِيرَةِ مِنْهُ الْمَعَانِيَ الْكَثِيرَةَ وَكَلَامُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْجَوَامِعِ قَلِيلُ اللَّفْظِ كَثِيرُ الْمَعَانِي

حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قران پاک میں کم الفاظوں میں کئی سارے معنی بھر دیے ہیں اور اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں بہت بہت سارے معنی موجود ہوتے ہیں

( شرح النووي على مسلم5/5)

.

حوالہ7🔵

أي: الألفاظ القليلة تجمع المعاني الكثيرة كالقرآن، وكثير من الأحاديث

 جوامع الکلم سے مراد یہ ہے کہ الفاظ قلیل ہوں مگر کثیر معنی کو جامع ہوں جیسے کہ قران اور کئی احادیث

( التوشيح شرح الجامع الصحيح5/1984)

.

حوالہ8🔵

قرآن مجید کے الفاظ بھی جامع ہیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے اپنے الفاظ بھی نہایت جامع ہیں کہ لفظ تھوڑے معنی مطلب بہت زیادہ۔

(مراۃ شرح مشکواۃ8/5747)

.

🔷🔷🔷🔷🔷

🟩پوائنٹ4️⃣

مشھور تفسیر لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری تفسیر نہیں ہو سکتی بلکہ ایت و حدیث کے دیگر معنی بھی مراد ہوتے ہیں

۔

مشھور تفسیر و شان نزول بیان کرنے لکھنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دیگر صحیح معنی مراد نہیں ہوسکتے

بلکہ

مفسرین و شارحیں فقہاء و علماء و صوفیاء نے دوٹوک فرمایا لکھا کہ سبب و شان نزول کی وجہ سے عمومِ ایت و حدیث کو خاص نہیں کرسکتے بشرطیکہ عموم وسیع معنی مراد لینے سے کوئی چیز مانع نہ ہو...اس اصول کے15حوالہ جات ملاحظہ کیجیے

۔

🔵1....هذا تخصيص للعموم بالسبب، والمعتبر عموم اللفظ دون خصوص السبب...

 سبب و شان نزول کی وجہ سے کسی عام کو خاص نہیں کر سکتے بلکہ معتبر عموم وسیع معنی ہی ہوگا 

(فقہ حنفی سنی التجريد للقدوري1/150)

.

🔵2... العبرة لعموم اللفظ دون خصوص السبب

 صرف خاص سبب و شان نزول ہی مراد نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر عمومی وسیع معنی بھی مراد ہوتے ہیں

(فقہ حنفی سنی علامہ عینی البناية شرح الهداية1/375)

.

🔵3....وَالِاعْتِبَارُ لِعُمُومِ اللَّفْظِ وَالْعَامُّ يَبْقَى عَلَى عُمُومِهِ حَتَّى لَا يُعْتَبَرَ مَعَهُ خُصُوصُ السَّبَبِ

 لفظ کا عام ہونا معتبر ہے، عام اپنے عموم پر باقی رہے گا یہاں تک کہ عام طور پر خصوصی سبب و شان نزول کی وجہ سے بھی خاص نہیں کیا جاسکے گا

(علامه ابن عابدین شامی حنفی سنی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية1/150)


.

🔵4...فالحق أن العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب

 حق یہی ہے کہ لفظ کے عمومی وسیع معنی کا اعتبار ہے ، صرف خصوصی سبب کا نہیں

(علامہ فخر الدین رازی شافعی سنی المحصول للرازي3/125)

.

🔵5...كون هذا السبب لا يقتضي خصوص الحكم، بل العبرة بعموم االفظ

 سبب اور شان نزول اس چیز کا تقاضا نہیں کرتے کہ حکم اسی کے ساتھ خاص ہو بلکہ معتبر یہی ہے کہ لفظ کا عام ہونا ہی معتبر ہے

(علامہ سیوطی شافعی سنی حاشية السيوطي على تفسير البيضاوي2/469)

.

🔵6....وَالْأَصْل وان كَانَ عُمُوم اللَّفْظ لَا خُصُوص السَّبَب لَكِن قد يخص بِالسَّبَبِ إِذا كَانَ هُنَاكَ مَانع من الْعُمُوم

 اصل قاعدہ یہی ہے کہ لفظ کا عام ہونا ہی معتبر ہےصرف خصوص معتبر نہیں لیکن کبھی کبھار عام کو سبب و شان نزول کی وجہ سے خاص کر دیا جاتا ہے بشرطیکہ عام وسیع معنیٰ مراد لینے سے کوئی صحیح مانع ہو

(حاشية السندي على سنن النسائي6/110)

.

🔵7....وَالعِبْرَةُ فِيهِ: عُمُومُ اللَّفْظِ، لَا خُصُوصُ السَّبَبِ

 لفظ کا عمومی وسیع معنیٰ ہی معتبر ہے فقط سبب و شان نزول مراد نہیں ہوتا

(بابات في علوم القرآن ص6)

.

🔵8...العبرة بعُمُوم اللَّفْظ لا خُصوص السَّبَب

لفظ کا عمومی وسیع معنیٰ ہی معتبر ہے فقط سبب و شان نزول مراد نہیں ہوتا

(اللباب في علوم الكتاب7/٣08)

.

🔵9...العبرة عموم اللفظ لا خصوص السبب

لفظ کا عمومی وسیع معنیٰ ہی معتبر ہے فقط سبب و شان نزول مراد نہیں ہوتا

(التنوير شرح الجامع الصغير6/46)

.

🔵10...إذا كان السّبب خاصّاً والجواب عامّاً جاز، وحمل الحكم على عموم اللفظ لا على خصوص السّبب لأنّه جواب 

وزيادة فائدة

 سبب خاص ہو اور جواب عام ہو یہ ہوسکتا ہے کہ اضافہ و فائدہ ہے،ایسی صورت میں عموم ہی معتبر ہوگا فقط خصوصِ سبب و شان نزول ہی مراد نہ ہوگا

(فتح السلام شرح عمدة الأحكام من فتح الباري4/382)

.

،🔵11.... والمعتبر عموم اللفظ لا خصوص السبب

لفظ کا عمومی وسیع معنیٰ ہی معتبر ہے فقط سبب و شان نزول مراد نہیں ہوتا

(ذخيرة العقبى في شرح المجتبى5/138)

.

🔵12...خصوص السبب لا يُخَصِّص لأنه لا يعارضه

 سبب و شان نزول عموما کسی عام کو خاص نہیں کرتے کیونکہ یہ اس کے متضاد نہیں ہے

(الإبهاج في شرح المنهاج - ط دبي4/1503)

.

🔵13...ان خصوص السبب لا يقدح في عموم اللفظ

 کسی خصوصی سبب و شان نزول کا پایا جانا لفظ کے عام وسیع معنی مراد لینے میں عیب و مانع نہیں

(شرح الزرقاني على المواهب8/510)

.

🔵14....العبرة في عموم اللفظ لا في خصوص السّبب"

لفظ کا عمومی وسیع معنیٰ ہی معتبر ہے فقط سبب و شان نزول مراد نہیں ہوتا

(موسوعة القواعد الفقهية8/1042)

.

🔵15...الجمهور: على اعتبار اللفظ دون خصوص السبب

جمھور و اکثر علماء کے مطابق لفظ کا عمومی وسیع معنیٰ ہی معتبر ہے فقط سبب و شان نزول مراد نہیں ہوتا

(الدرر اللوامع في شرح جمع الجوامع2/395)

.

🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷

🟩پوائنٹ5️⃣

آل اہلبیت سے مراد تمام امت ہے،مزید حوالہ جات،دلائل:

آل و اہل بیت سے مراد پوری امت ہے مزید 19دلائل و حوالہ جات پڑھیے 

۔

🌹القرآن:

 وَ اَغۡرَقۡنَاۤ  اٰلَ فِرۡعَوۡنَ

اور ہم نے آل فرعون کو غرق کیا

(سورہ بقرۃ آیت50)

.

🔵حوالہ1

آل فِرْعَوْن} قومه

آل فرعون سے مراد اسکی قوم ہے

( تفسير الجلالين ص236)

.

🔵حوالہ2

آلِ فِرْعَوْنَ} أَتْبَاعِهِ وَأَهْلِ دِينِهِ

آل فرعون سے مراد اسکے ماننے والے ہیں، اسکے دین والے ہیں

( تفسير البغوي - طيبة1/90)

📌📌اس آیت مبارکہ سے دوٹوک واضح ہوا کہ آل سے مراد قوم و امت بھی ہوتے ہیں

۔

🔵حوالہ3

وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ) [البقرة: ٤٩]، قال: هم أهل دينه...وكذلك آل محمد إنما هم أمته

قران مجید میں ال فرعون ایا ہے تو اس سے مراد اس کے ماننے والے ہیں۔۔۔عام طور اسی طرح ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد پوری امت ہے (فضائل وغیرہ معاملات میں عمومی طور پر ال رسول اہل بیت رسول سے مراد تمام امت ہے مگر یہ کہ جن مواقع پہ دلائل کے ساتھ آل رسول و اہل بیت رسول سے مخصوص افراد مراد ہوتے ہیں جب دلائل و قرائن اسکی دلیل بنیں)

(شرح صحيح البخاري - ابن بطال10/277)

.

🔵حوالہ4

صحابی سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا فتوی:

عن جابر بن عبد الله قال: آل محمد ﷺ أمته. اهـ سند 

ضعيف

صحابی سیدنا جابرِ بنِ عبدِ اللَّه رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ( درود و دیگر مواقع مناسبہ میں) آل محمد سے مراد پوری امت محمد مراد ہے۔۔۔(یہ روایت انفرادی طور پر ضعیف ہے مگر متفقہ اصول ہے کہ فضائل میں ضعیف معتبر ہوتی ہے اور دیگر دلائل وغیرہ وجوہ تقویت کی وجہ سے اس کا ضعف ختم ہو جاتا ہے)

(العتيق مصنف جامع لفتاوى أصحاب النبي6/381)

.

🔵حوالہ5

آل محمد: منْ هم؟ فقيل: أمته، وهذا قول طائفة مِن أصحاب محمد - صلى الله عليه وسلم

 ال محمد کون ہیں ایک قول یہ ہے کہ ال محمد سے مراد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے اور یہ صحابہ کرام کے ایک گروہ کا قول ہے

(معجم المناهي اللفظية ص302)

👈📌سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوٹوک مروی ہے اور مستند حوالہ جات میں دیگر صحابہ کرام نے نفی نہ کی تو یقینا یہ کہنا درست ہوگا کہ دو ٹوک طور پر بمع تقریری تسلیمی طور پر گروہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اور دیگر مستند علماء کرام کا قول مبارک ہے کہ عمومی فضائل وغیرہ میں اہل بیت ال رسول میں  تمام سچے ایمان والے امتی شامل ہیں الا کہ ان معاملات میں کہ جہاں پر تخصیص اگئی ہو


.

🔵حوالہ6

وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْآلِ جَمِيعُ أُمَّةِ الْإِجَابَةِ، وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْآلِ الْأَزْوَاجُ وَمَنْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ وَيَدْخُلُ فِيهِمُ الذَّرِّيَّةُ، وَبِذَلِكَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْأَحَادِيثِ

 امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ ال سے مراد تمام امت ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ ال سے مراد ازواج مطہرات ہیں اور وہ جن پر صدقہ حرام ہے اس معنی میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذریت مبارکہ یعنی سیدنا حسن حسین سیدہ فاطمہ وغیرہ شامل ہیں، اس طرح احادیث مبارکہ میں تطبیق دی جائے گی، دونوں قسم کی احادیث کو اسکے مناسب مناسب پر جمع کیا جائے گا( یعنی دعا، عمومی فضیلت وغیرہ کے معاملے میں ال سے مراد تمام امت ہے اور باقی مخصوص معاملات میں ال سے مراد دیگر ہیں)

(مرقاۃ شرح مشکواۃ2/740)


.

🔵حوالہ7

معني الآل كل الامة

آل محمد سے مراد تمام امت محمدیہ ہے

(فتح الباري لابن حجر ,11/157)


.

🔵حوالہ8

وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ) أَتْبَاعِهِ قَالَهُ مَالِكٌ

امام مالک نے فرمایا کہ آل محمد سے مراد متبعین(امت محمدیہ) مراد ہے

(شرح زرقانی علی الموطا1/572)

📌👈صحابہ کرام کا گروہ، امام مالک جیسے عظیم الشان مجتہد و امام اور علامہ زرقانی، علامہ ملا علی قاری بھی تمھارے تحریف و بغضِ ال رسول کے فتوے سے بچ نہیں پاتے، بھلا پھر کن صحابہ و علماء کو مانتے ہو.....؟؟ اہلسنت کے علماء تو یہی فتوی دے رہے ہیں اور تم چمن زمان انکے فتووں کو ردی کے ٹوکرے میں پھینکتے ہو، یہ گستاخی فساد امت پھیلانا ہے یا تمھارا مودبانہ اختلاف....؟؟ مودبانہ مدلل اختلاف قابل برداشت ہے مگر تحریف، غلط تفسیر، بغض اہلبیت کے جھوٹے فتوے مکاریاں چالبازیاں دھوکے بازیاں ایجنٹیاں منافقتیں قبول نہیں....ہرگز نہیں.......!!


.

🔵حوالہ9

امام ابن عربی فرماتے ہیں

وقد اختلف في الآل هل هم أهل بيته أو أمته والصحيح أنهم أمته

آل محمد سے کیا مراد ہے اہلبیت یا امت محمد....صحیح یہ ہے کہ آل محمد سے مراد امت محمد ہے

(القبس في شرح موطأ مالك بن أنس ص356)

.

🔵حوالہ10

امام خطابی فرماتے ہیں

وكذلك آلُ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هُمْ أُمَّتُهُ

اور اسی طرح آل محمد سے مراد امتِ محمد ہے 

(غریب الحدیث للخطابی1/319)

.

🔵حوالہ11

امام ابن ملقن فرماتے ہیں:

وكذلك آل محمد إنما هم أمته

 اور اسی طرح ال محمد سے مراد امت محمدیہ ہے

(التوضيح لشرح الجامع الصحيح24/158)

.

🔵حوالہ12

وقيل: المراد بالآل جميع أمة الإجابة. قال ابن العربي: مال إلى ذلك مالك. وقال النووي في شرح مسلم: هو أظهر الأقوال، قال: وهو اختيار الأزهري وغيره من المحققين

 امام ابن عربی نے فرمایا ہے کہ درود پاک میں ال سے مراد تمام امت ہے کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہو، اور یہی قول امام مالک کا ہے اور امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ یہ دیگر اقوال سے زیادہ ظاہر و مضبوط قول ہے اور اسی قول کو امام اظہری وغیرہ محققین نے اختیار کیا ہے

(مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح3/253)

.

🔵حوالہ13

والآل أيضًا يجيء بمعنى الأتباع، وبهذا المعنى ورد إلى كل مؤمن، ومال إليه مالك، واختاره الأزهري وآخرون، وهو قول سفيان الثوري وغيره، ورجَّحه النووي في (شرح مسلم) (1)، وقيده القاضي حسين بالأتقياء (2)، والظاهر أن المراد في الحديث المعنى الأعم، واللَّه أعلم

 شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ال کا معنی متبعین(امت) بھی ہے، حدیث میں یہی معنی مراد ہے یہ فرمانا ہے امام مالک کا، اسی کو امام ازھری وغیرہ محققین نے اختیار کیا ہے اور یہی قول ہے سیدنا سفیان ثوری وغیرہ کا ہے اور اسی کو امام نووی نے راجح قرار دیا ہے.... امام قاضی عیاض نے فرمایا ہے کہ ال سے مراد متقی امتی ہے مگر ظاہر و قوی بات یہ ہے کہ یہاں درود(و دعا و دیگر عمومی فضائل) کے معاملے میں اعم(سب امتی) مراد ہیں

(لمعات شرح مشکواۃ3/58)

🚨👈چمن زمان اور اسکو ماننے والو ذرا اپنے ضمیر سے پوچھو کہ کیا امام مالک، امام ابن عربی،  امام خطابی، امام ابن ملقن امام نووی، محدث شاہ دھلوی وغیرہ بھی تحریف کرنے والے، غلط تفسیر کرنے والے بغضِ آل رسول رکھتے تھے نعوذباللہ.....؟؟ چمن کے فتوے سے تو یہ ائمہ بھی نہ بچ سکے بلکہ صحابہ کرام سیدنا جابر پر بھی چمن زمان کا فتوی لگ رہا ہے، اب آپ کی مرضی ہے اجڑے چمن میں رہ کر تباہ ہونا ہے یا اسلاف کے اقوال کی چھاؤں تلے بہاروں میں زندگی گذارنی ہے.....؟؟

۔

🔵حوالہ14

آلُ) الرَّجُلِ أَهْلُهُ وَعِيَالُهُ وَ (آلُهُ) أَيْضًا أَتْبَاعُهُ

ال کا معنی ہے اہل و عیال اور آل کا معنی متعبین(امت) بھی ہے

(مختار الصحاح ص25)

.

🔵حوالہ15

فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: آلُ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنِ اتَّبَعَهُ قَرَابَةً كَانَتْ أَو غَيْرَ قَرَابَةٍ...فَيَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ كُلُّ مَنِ اتَّبَعَ النَّبِيَّ، صَلَّى الله عليه وَسَلَّمَ، قُرَابَةً كَانَ أَو غَيْرَ قُرَابَةٍ...قَالَ قَائِلٌ آلُهُ أَهله وأَزواجه...: وَقَالَ قَائِلٌ آلُ مُحَمَّدٍ أَهل دِينِ مُحَمَّدٍ...وَقِيلَ: آلُهُ أَصحابه وَمَنْ آمَنَ بِهِ وَهُوَ فِي اللُّغَةِ يَقَعُ عَلَى الْجَمِيعِ

 کچھ لوگوں نے کہا کہ ال کا معنی ہے اہل و عیال ازواج رشتے دار... کچھ لوگوں نے فرمایا کہ ال کا معنی ہے پیروکار تو آل محمد کا معنی ہوا "دینِ محمدی والے" تو اس معنی کے تحت درود پاک میں آل سے مراد امت محمد ہے....اگرچہ اختلاف ہے مگر آل کے یہ سب معنی لغت کے اعتبار سے درست ہیں

(لسان العرب11/38)

.

🔵حوالہ16

الآلُ: أَهْلُ الرَّجُلِ وعِيالُه أَيْضا: أَتْباعُه وأولِياؤُه،

ال کا معنی ہے اہل و عیال، آل کا معنی پیروکار(امت) بھی ہے اور آل کا معنی دوست بھی ہے

(تاج العروس جز28 ص36)

.

🔵حوالہ17

وقيل: اَل محمد أتباعه. وقيل: الأتباع والرهط والعشيرة.

وقيل: اَل الرجل ولده. وقيل: قومه. وقيل: أهله الذين حرمت

عليهم الصدقة. وقيل: كل تقي إلى يوم القيامة، فهو آله- عليه السلام

آل محمد کا معنی یہ کیا گیا ہے کہ حضور کے پیروکار امتی ایک معنی یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد پیروکار امتی اور گروہ اور خاندان بھی ہے۔۔اور کہا گیا ہے کہ آل کا معنیٰ ہے اولاد اور کہا گیا ہے کہ معنی ہےقوم۔۔۔اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ نیک و متقی امتی جو قیامت تک آئے گا تو وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آل میں شامل ہے  

(شرح ابوداود للعینی6/285)

.

🔵حوالہ18

والآل: يقع على ذات الشيء، وعلى ما يضاف إليه، وقيل: الوجهان في (آل محمد) أنهم أمته. وقيل: آله: قرابته. وقيل: آله: هو المراد في تحريم  الصدقة عليه وعليهم

آل سے مراد ذات ہے اور آل جسکی طرف مضاف ہو اس مناسبت سے معنی مراد ہوگا اور کہا گیا ہے کہ آل محمد سے دو معنی مراد ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آل محمد سے مراد امتِ محمدیہ ہے اور دوسرا یہ کہ آل سے مراد اہلبیت اور کہا گیا ہے کہ ال محمد سے مراد وہ جن پر حرام ہے کہ زکاۃ لیں

(مطالع الأنوار على صحاح الآثار1/260بحذف یسیر)

.

🔵حوالہ19

وَعَلَى آل مُحَمَّد، قِيل أتْبَاعُه وَقِيل أمَّتُه وَقِيل آل

بَيْتِه وَقِيل الْأَتْبَاع ولرهط وَالْعَشِيرَة وَقِيل آل الرَّجُل وَلَدُه وَقِيل قَوْمُه وَقِيل أَهْلُه الَّذين حُرِّمَت عَلَيْهِم الصَّدَقَة

آل محمد سے مراد متبع ہیں یا آل محمد سے مراد امت محمدیہ ہے اور کہا گیا کہ آل سے مراد اہلبیت ہین اور کہا گیا ہے کہ آل محمد سے مراد وہ سادات ہیں جو زکاۃ نہین لےسکتے

(شفاء شریف2/81,82)

.

🔷🔷🔷🔷🔷🔷

🟩پوائنٹ6️⃣

جب اہل بیت میں تمام امت شامل ہے تو پھر زکوۃ کے معاملے میں اہل بیت میں تمام امت کیوں مراد نہیں اس کا جواب حدیث پاک سے:

.

درود و دعا و رحمت وغیرہ کے معاملے میں آل محمد میں تمام امت شامل ہے لیکن صدقہ کون سے ال محمد نہیں کھا سکتی اس کی وضاحت خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے

أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ال محمد صدقہ نہیں کھاتے.... نہیں کھا سکتے ہیں

(بخاری حدیث1485)

.

کونسی آل محمد صدقہ واجبہ نہیں کھا سکتے.....؟؟

أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَهُ، قَالَ : اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا : وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ - قَالَا لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَاهُ، فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ....إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ

ربیعہ اور عباس بن عبدالمطلب نے سیدنا علی سے مشاورت کرکے کہا کہ ہم نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجتے ہیں عرض کرتے ہیں کہ ہمیں بھی صدقات دیے جائیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو ملا کر فرمایا کہ ہم اہل بیت کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے

(مسلم حدیث1072ملتقطا)

۔

اسی لیے علماء کرام نے فتوی دیا کہ

أَوْلَادَ عَبَّاسٍ وَحَارِثٍ وَأَوْلَادَ أَبِي طَالِبٍ مِنْ عَلِيٍّ وَجَعْفَرٍ وَعُقَيْلٍ

 سیدنا عباس اور سیدنا حارث کی اولاد اور ابو طالب کی اولاد سیدنا علی کی اولاد سیدنا جعفر کی اولاد سیدنا عقیل کی اولاد ان سب کو صدقہ واجبہ لینا زکواۃ لینا اور انہیں دینا جائز نہیں ہے

(فتاوی شامی2/350)

.

🌹ہاں انکو سادات کرام کو تحفہ ھدیہ نفلی صدقہ دے سکتے ہیں بلکہ دینا چاہیے کہ ان کے لیے تحفہ نفلی صدقہ کھانا سنت مبارکہ سے ثابت ہے

الحدیث:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ : " أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ ؟ " فَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ. قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوا ". وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ. ضَرَبَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَهُمْ

 نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کچھ طعام کھانے پینے کی چیز لائی جاتی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام پوچھتے کہ یہ تحفہ(نفلی صدقہ ھدیہ تحفہ ھبہ) ہے یا صدقہ(فرض واجب صدقہ) ہے اگر کہا جاتا صدقہ ہے تو صحابہ کرام سے فرماتے کہ اپ لوگ کھاؤ اور خود تناول نا فرماتے اور اگر کہا جاتا کہ یہ تحفہ ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ساتھ تناول فرماتے، نوش فرماتے

(بخاری حدیث2576)

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.