Labels

ایات احادیث تفاسیر شروحات صحابہ کرام سہلبیت عظام ائمہ اسلاف کے مطابق ال محمد اور اہلبیت سے مراد کون۔۔۔؟؟پڑھیے مدلل تحریر

 🟫 *#👈چمن زمان،گردیزی، بمع ہمنوا کہتے ہیں کہ اہلبیت فقط پنجتن پاک ہیں 👈جبکہ ایات کی تفاسیر اور احادیث مبارکہ اور اقوال صحابہ کرام و مخصوص اہلبیت عظام و اقوال ائمہ و اسلاف اور لغت و شروحات کی مستند کتب سےثابت ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات بھی اہلبیت ہیں،ایت تطہیر میں شامل ہیں۔دیگر عمومی فضائل وغیرہ میں اہلبیت میں تمام امت شامل ہے،👈حتی کہ نیم روافض بھی جس کو بہت مانتے ہیں یعنی پیر مہر علی شاہ صاحب نے بھی دو ٹوک لکھا کہ ایت تطہیر میں تمام ازواج مطہرات شامل ہیں اور عمومی فضائل میں اہل بیت ال محمد میں تمام امت شامل ہے82 دلائل وحوالہ جات سے مزین تحریر پڑھیے،ہو سکے تو👈خوب شیئر کیجئے*

۔

🟦رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے کن کن کو اہل بیت قرار دیا گیا ال محمد قرار دیا گیا ائیے ایک جھلک پڑھتے ہیں۔۔۔یاد رہے کہ مخصوص معاملات میں اہل بیت الگ ہیں اور دیگر مخصوص معاملات میں اہل بیت الگ ہیں اور عمومی فضائل میں اہل بیت تمام امت ہے اور ایت تطہیر میں اہل بیت سے مراد پنجتن پاک ان کی اولاد اور ازواج مطہرات بھی ہیں

🔷دلیل و حوالہ1

فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَنْ يَعْذِرُنَا مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا.»

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق فرمایا کہ عائشہ پر تہمت لگا کر میرے اہل بیت کو اذیت دی ہے اس کو کون عذر خواہی کرے گا کیونکہ میں اپنے اہل بیت عائشہ پر بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا

(بخاری حدیث2637)

👈دیکھیے صاف صاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شمار کیا ہے جبکہ گردیزی چمن زمان وغیرہ اہل بیت میں شمار نہیں کرتے ازواج مطہرات کو۔۔۔۔۔!! 

۔

🔷دلیل و حوالہ2

قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممبر پر فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ یعنی صحابہ کرام اہل بیت عظام تم میں سے کون عذر خواہی کرے گا اس شخص سے کہ جس کی اذیت میرے اہل بیت کو پہنچی ہے (سیدہ) عائشہ کے بارے میں کہ میں ان کے متعلق اللہ کی قسم بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا

(مسند أحمد حدیث25623)

👈یہاں بھی واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شمار کیا

۔

🔷دلیل و حوالہ3

يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي؟ فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ أَهْلِي إِلَاّ خَيْرًا،

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ یعنی صحابہ کرام اہل بیت عظام تم میں سے کون عذر خواہی کرے گا اس شخص سے کہ جس کی اذیت میرے اہل بیت کو پہنچی ہے (سیدہ) عائشہ کے بارے میں کہ میں ان کے متعلق اللہ کی قسم بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا

(صحيح ابن حبان7/304)

👈بالکل واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شمار کیا۔۔۔گردیزیو چمنیو ہدایت پہ ا جاؤ،حق قبول کر لو

۔

🔷دلیل و حوالہ4

أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَهُ، قَالَ : اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا : وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ - قَالَا لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَاهُ، فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ....إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ

ربیعہ اور عباس بن عبدالمطلب نے سیدنا علی سے مشاورت کرکے کہا کہ ہم نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجتے ہیں عرض کرتے ہیں کہ ہمیں بھی صدقات دیے جائیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو ملا کر فرمایا کہ ہم اہل بیت کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے

(مسلم حدیث1072ملتقطا)

👈یہاں پر واضح ہے کہ پنجتن کے علاوہ دیگر کو بھی رسول کریم نے ال محمد اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیا ہے جبکہ چمن زمان اور گریزی صرف اور صرف پنجتن پاک کو ہی اہل بیت شمار کرتے ہیں

.

🔷دلیل و حوالہ5

زید بن ثابت۔۔۔۔قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَنْشُدُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» قُلْنَا لِزَيْدَ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يُحْرَمُونَ الصَّدَقَةَ، آلُ عَلِيٍّ وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ»

سیدنا زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں اہل بیت کے معاملے میں نصیحت کرتا ہوں تو سیدنا زید سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ جن پر صدقہ حرام ہے یعنی ال علی اور ال عباس اور ال عقیل اور ال جعفر

 (المعجم الكبير للطبراني5/183)

👈صحابی رسول فرما رہے ہیں کہ اہل بیت میں ال علی ال عباس ال عقیل اور ال جعفر شامل ہیں جبکہ گردیزی اور چمنی وغیرہ کہتے ہیں کہ نہیں اہل بیت میں تو صرف پنجتن پاک شامل ہیں

۔

🔷دلیل و حوالہ6

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [الأحزاب: ٣٣]، اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي، اللَّهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ»، قَالَ وَاثِلَةُ: فَقُلْتُ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي»

ایت تطہیر نازل ہوئی تو حضور نے پنجتن پاک کو لے کر فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں جو زیادہ حقدار ہیں تو سیدنا واصلہ نے گھر کے کونے سے عرض کی کہ میں بھی اہل بیت میں ہوں یا رسول اللہ فرمایا ہاں تم بھی میرے اہل بیت میں ہو

( فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل حدیث1077)

👈ہاں جی بتائیے صرف پنجتن پاک اہل بیت ہیں یا جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں اہل بیت قرار دے دیں۔۔۔۔۔؟؟ یقینا یہی کہیں گے کہ جس کو چاہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں شمار کر دیں ہاں اہل بیت خصوصی طور پر کون ہے اور کس معاملے میں خصوصی طور پر کون ہے اور کسی اور معاملے میں خصوصی طور پر کون ہے اور عمومی فضائل میں ساری امت ہے یہ معاملہ الگ ہے

۔

🔷دلیل و حوالہ7

قال رسول الله ﷺ: "أبو سُفيان بن الحارث خَيرُ أهلي

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو سفیان بن حارث میرے بہترین اہل بیت میں سے ہے

مستدرک حاکم حدیث5190

جی تو حاضری لگوائیے گردیزیو چمنیو۔۔۔۔۔؟؟

۔

🔷دلیل و حوالہ8

العباسُ، فقال: ادنُ ياعمُّ، فإني سألتُ الله أن يأتيني بأحب أهلي إليه يأكل من هذا، فجئت، فجلس، فأكل

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے میرے چچا عباس تشریف لائیے کیونکہ میں نے اللہ تعالی سے دعا کی تھی کہ میرے اہل بیت میں سے محبوب ترین شخص ائے جو میرے ساتھ کھائے تو سیدنا عباس ائے اور بیٹھے اور کھایا

(جامع المسانيد والسنن – ابن كثير2/659)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بھی اہل بیت اطہار میں وہ شامل جس کو رسول کریم شامل کر دیں

۔

🔷دلیل و حوالہ9

رَبِّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَتُدْخِلُنِي مَعَهُمْ؟ قَالَ: «أَنْتِ مِنْ أَهْلِي» فَفِي هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ ﷺ لِأُمِّ سَلَمَةَ جَوَابًا مِنْهُ لَهَا عِنْدَ قَوْلِهَا لَهُ: تُدْخِلُنِي مَعَهُمْ: «أَنْتِ مِنْ أَهْلِي» فَكَانَ ذَلِكَ مِمَّا قَدْ يُجَوِّزُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ أَنَّهَا مِنْ أَهْلِهِ؛ لِأَنَّهَا مِنْ أَزْوَاجِهِ وَأَزْوَاجُهُ أَهْلُهُ

پنج تن پاک کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں تو ام سلمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والی نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے بھی ان میں شامل کریں گے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم بھی اہل بیت میں ہو تو امام طحاوی فرماتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ازواج مطہرات تمام کی تمام اہل بیت میں شامل ہیں ایت تطہیر کے معاملے میں بھی

(شرح مشكل الآثار – الطحاوي حدیث763مع شرح)

۔

🔷دلیل و حوالہ10

رَسُولَ اللهِ ﷺ جَمَعَ فَاطِمَةَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبَهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدْخِلْنِي مَعَهُمْ، قَالَ: «إِنَّكِ مِنْ أَهْلِي

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جمع کیا فاطمہ کو حسن حسین کو پھر ان کو چادر میں داخل کر کے فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں تو ام سلمہ نے عرض کی کہ مجھے بھی یا رسول اللہ تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تم بھی میرے اہل بیت میں ہو ( ایت تطہیر میں شامل ہو)

 المعجم الكبير للطبراني حدیث696

.

🔷دلیل و حوالہ11

أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا میں اہل بیت کے معاملے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں تو سیدنا حصین نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین سے سوال کیا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اس کے اہل بیت میں نہیں تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ازواج مطہرات اہل بیت میں ہیں لیکن یہاں مراد اہل بیت سے وہ ہے کہ جو صدقہ نہیں لے سکتے

(صحیح مسلم تحت حدیث2408)

۔

🔷دلیل و حوالہ12

فَتُتَأَوَّلُ الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ انهن من اهل بيته الذين يساكنونه وَيَعُولُهُمْ وَأَمَرَ بِاحْتِرَامِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَسَمَّاهُمْ ثَقَلًا وَوَعَظَ فِي حُقُوقِهِمْ وَذَكَرَ فَنِسَاؤُهُ دَاخِلَاتٌ فِي هَذَا كُلِّهِ وَلَا يَدْخُلْنَ فِيمَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ وَقَدْ أَشَارَ إِلَى هَذَا فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى بِقَوْلِهِ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ

فَاتَّفَقَتِ الرِّوَايَتَانِ

ان احادیث کو اسی طرح جمع کیا جائے گا کہ عمومی فضائل، (ایت تطہیر وغیرہ) میں اور حقوق میں اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں لیکن صدقہ نہ لینے کے معاملے میں مخصوص اہل بیت مراد ہیں

(شرح النووي على مسلم – النووي15/181)

.


🟦ائیے دیکھیے پڑھیے کہ صحابہ کرام نے ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شامل کیا اور کسی نے اس کا انکار نہیں کیا لہذا کم سے کم جمہور صحابہ کرام و اہل بیت عظام کا نظریہ یہ ہے کہ فضیلت ایت تطہیر وغیرہ کے معاملے میں ال محمد، اہل بیت محمد میں ازواج مطہرات شامل ہیں

🔷دلیل و حوالہ13

عَائِشَةَ رضي الله عنها قالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ

سیدہ عائشہ نے ازواج مطہرات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے متعلق فرمایا کہ ال محمد نے کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا

بخاری5416

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ازواج مطہرات کو اور خود کو ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیا اور صحابہ کرام اور مخصوص اہل بیت کرام نے کوئی انکار نہ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ سب کے مطابق ال محمد، اہل بیت محمد وسیع معنی میں ہے

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نَلْبَثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، مَا هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ»

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم کبھی کبھار ایک مہینہ بھی ایسا گزارتے کہ اگ ہی نہ جلاتے ہمارا کھانا تو صرف کھجور اور پانی ہوتا

استاد بخاری المصنف - ابن أبي شيبة8/131

اس سے بھی واضح ہے کہ سیدہ عائشہ اور دیگر صحابہ کرام نے جو فرمایا ہے کہ ال محمد پہلے بیت محمد نے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ان سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات اور ان کا گھرانہ ہے کیونکہ سیدہ فاطمہ اور دیگر صاحبزادیاں نکاح کے بعد تو الگ گھر میں رہتے تھے

۔

🔷دلیل و حوالہ14

أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ

سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ال محمد اہل بیت محمد نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا

بخاری5374

سیدنا ابوہریرہ نےازواج مطہرات کو ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیا اور صحابہ کرام اور مخصوص اہل بیت کرام نے کوئی انکار نہ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ سب کے مطابق ال محمد، اہل بیت محمد وسیع معنی میں ہے

۔

🔷دلیل و حوالہ15

أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَهْلُهُ

سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ال محمد اہل بیت محمد نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا

ترمذی2375

۔

🔷دلیل و حوالہ16

ابْن عَبَّاس رضي الله عنهما قَالَ كَانَ رَسُول الله ﷺ يبيت اللَّيَالِي المتتابعة وَأَهله طاويا لَا يَجدونَ عشَاء وَإِنَّمَا كَانَ أَكثر خبزهم الشّعير رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ حَدِيث حسن

 صَحِيح

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم راتیں گزارتے تھے اور ان کے اہل بیت ال محمد یعنی ازواج مطہرات بھی کچھ بھی رات کے کھانے میں نہ پاتے تھے اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے

 الترغيب والترهيب - المنذري4/91

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے 👈چچا زاد بھائی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نےازواج مطہرات کو ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیا اور صحابہ کرام اور مخصوص اہل بیت کرام نے کوئی انکار نہ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ سب کے مطابق ال محمد، اہل بیت محمد وسیع معنی میں ہے

۔

🔷دلیل و حوالہ17

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ

سیدنا عمران بن حصین نے فرمایا کہ ال محمد اہل بیت محمد نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا

 غاية المقصد فى زوائد المسند۔الهيثمي4/409

👈سیدنا عمران بن حصین نے ازواج مطہرات کو  بھی ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیا اور صحابہ کرام اور مخصوص اہل بیت کرام نے کوئی انکار نہ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ سب کے مطابق ال محمد، اہل بیت محمد وسیع معنی میں ہے

.

🔷دلیل و حوالہ18

أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: «مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ»

سیدنا ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات جو کی روٹی سے زیادہ افضل عام طور پر نہیں کھایا

ترمذی2359

👈سیدنا ابو امامہ نے ازواج مطہرات کو اور خود کو ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کیا اور صحابہ کرام اور مخصوص اہل بیت کرام نے کوئی انکار نہ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ سب کے مطابق ال محمد، اہل بیت محمد وسیع معنی میں ہے

۔

🔷دلیل و حوالہ19

نَحَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ، عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت ال محمد کی طرف سے قربانی کی ( یعنی ازواج مطہرات کی طرف سے بھی)

 موطأ مالك3/694

یہ اہلبیت کون تھے۔۔۔۔۔؟؟پڑھیے

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنَّا يَوْمَ حَجَجْنَا بَقَرَةً بَقَرَةً

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری طرف سے ایک ایک گائے قربانی کی 

 مستخرج أبي عوانة2/318

۔

🔷دلیل و حوالہ20

امام بیقی نے فرمایا

بابُ الدَّليلِ على أَنَّ أَزواجَه -صلى اللَّه عليه وسلم- مِن أهلِ بَيتِه....وذَلِكَ لأنَّ اللَّهَ تعالَى خاطَبَهُنَّ بقَولِه تعالَى: {يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ}. ثمَّ ساقَ الكَلامَ إلى أَن قال: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 32, 33]

یعنی

 آیت مبارکہ میں جو ہے کہ اللہ تعالی اہل بیت سے تمام ناپاکیوں کو دور فرما دے گا ان کی طہارت فرمادے گا تو اس آیت میں ازواج مطہرات بھی شامل ہیں کیونکہ آیت کا خطاب ہی ازواج مطہرات و اہل کساء(پنچ تن پاک سے ہے)

پھر منقولی دلیل یہ حدیث پاک لکھی

أُمِّ سلمةَ قالَت: فى بَيتِى أُنزِلَت: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا}. قالَت: فأَرسَلَ رسولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- إلى فاطِمَةَ وعَلِىٍّ والحَسَنِ والحُسَينِ فقالَ: "هَؤُلاءِ أَهلُ بَيتى". وفِى حَديثِ القاضِى والسُّلَمِى: "هَؤُلاءِ أَهلِى". قالَت: فقُلتُ: يا رسولَ اللَّه، أَما أَنا مِن أَهلِ البَيتِ؟ قال: "بَلَى إن شاءَ اللَّه تعالَى" (1). قال أبو عبدِ اللَّه: هذا حديثٌ صحيحٌ سَنَدُه، ثِقاتٌ رواتُه.

 سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میرے گھر میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اہل بیت سے ہر طرح کے عیوب و ناپاکی کو دور رکھ کر انہیں پاکیزہ بنانا چاہتا ہے.. جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کو بلایا سیدنا علی کو بلایا سیدنا حسن کو بلایا سیدنا حسین کو بلایا اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں، نبی کریم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ یا رسول اللہ کیا میں اہل بیت میں نہیں تو آپ نے فرمایا بے شک تم بھی اہل بیت میں ہو... ابو عبد اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اس کی سند صحیح ہے اس کے راوی ثقہ ہیں

(سنن کبری بیہقی حدیث2900)

.

🔷دلیل و حوالہ21

مسند امام احمد بن حنبل امام ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر:

إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً وَهَذَا نَصٌّ فِي دُخُولِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ الْبَيْتِ هَاهُنَا،..قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ...اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي» قَالَتْ: فَقُلْتُ وأنا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: «وَأَنْتِ....ابن جرہر قالت أم سلمة رضي الله عنها: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَنِي مَعَهُمْ، فَقَالَ صلى الله عليه وسلم: «أنت من أهلي...لَيْسَ الْمُرَادُ بِالْأَهْلِ الْأَزْوَاجَ فَقَطْ، بَلْ هُمْ مَعَ آلِهِ، وَهَذَا الِاحْتِمَالُ أَرْجَحُ جمعا بينهما وَبَيْنَ الرِّوَايَةِ الَّتِي قَبْلَهَا، وَجَمْعًا أَيْضًا بَيْنَ الْقُرْآنِ وَالْأَحَادِيثِ

 آیت مبارکہ میں جو ہے کہ اہل بیت اللہ تمھیں پاکیزہ کرنا چاہتا ہے تمھاری تطہیر فرمانا چاہتا ہے ایت سے دوٹوک واضح ہے کہ اس میں ازواج مطہرات بھی شامل ہیں... اس کی دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ مسند احمد میں روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ کو نبی پاک نے فرمایا کہ تم بھی اہل بیت میں شامل ہو، تیسری دلیل یہ ہے کہ جس کو ابن جریر نے روایت کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے بھی چادر مبارک میں لے لیجئے تو آپ نے انہیں چادر میں لے لیا اور فرمایا تم بھی میرے اہل بیت میں سے ہو... لہذا آیات اور احادیث کے مطابق اہل بیت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور سیدنا علی سیدہ فاطمہ سیدنا حسن و سیدنا حسین بھی شامل ہیں

(تفسیر ابن کثیر تفسیر سورہ احزاب ایت33 ملتقطا)

.

🔷دلیل و حوالہ22

وهذه كما ترى آية بينة وحجة نيرة على كون نساء النبي عليه السلام من اهل بيته قاضية ببطلان مذهب الشيعة فى تخصيصهم اهل البيت بفاطمة وعلى وابنيه اى الحسن والحسين رضى الله عنهم واما ما تمسكوا به من ان النبي عليه السلام خرج ذات يوم غدوة وعليه مرط مرجل من شعر اسود: يعنى [بروى ميزر معلم بود از موى سياه] فجلس فأتت فاطمة فادخلها فيه ثم جاء على فادخله فيه ثم جاء الحسن والحسين فادخلهما فيه ثم قال انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت فانه يدل على كونهم من اهل البيت لا ان من عداهم ليسوا كذلك

 یہ آیت مبارکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بالکل واضح اور روشن دلیل ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں... اس سے شیعوں کا مذہب باطل ہو جاتا ہے کہ جنہوں نے اہل بیت میں فقط سیدہ فاطمہ سیدنا علی سیدنا حسن اور حسین کو شامل کیا ہے، شیعہ لوگوں کی جو دلیل ہے کہ نبی پاک نے ان پنجتن پاک کو چادر میں لیا اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی پاک نے یہ فرمایا کہ ان پنجتن پاک کے علاوہ کوئی اہل بیت نہیں

(تفسیر روح البیان 7/171)

.

🔷دلیل و حوالہ23

وَالَّذِي يَظْهَرُ مِنَ الْآيَةِ أَنَّهَا عَامَّةٌ فِي جَمِيعِ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنَ الْأَزْوَاجِ وَغَيْرِهِمْ...فَهَذِهِ دَعْوَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ بَعْدَ نُزُولِ الْآيَةِ، أَحَبَّ أَنْ يُدْخِلَهُمْ فِي الْآيَةِ الَّتِي خُوطِبَ بِهَا الْأَزْوَاجُ

یعنی

 آیت مبارکہ ہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات اور اولاد وغیرہ شامل ہیں، آیت میں بظاہر خطاب ازواج مطہرات سے تھا تو اس سے یہ گمان ہو سکتا تھا کہ ازواج مطہرات کے علاوہ اولاد اور سیدنا علی وغیرہ اہل بیت میں شامل نہیں تو اس گمان کو ختم کرنے کے لیے نبی پاک نے ان پانچ کو بلایا اور انہیں چادر میں لے کر فرمایا کہ یہ بھی اہل بیت ہیں

(تفسیر قرطبی تفسیر احزاب ایت33ملتقطا)

.

🔷دلیل و حوالہ24

والآيةُ نص صريح في دخول أزواج النبي - صلى الله عليه وسلم - في أهل البيت

 آیت مبارکہ دوٹوک دلیل ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں

(التفسیر المامون6/170)

.

🔷دلیل و حوالہ25

وَيُطَهِّرَكُمْ أَيْ يُلْبِسَكُمْ خِلَعَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَرَكَ خِطَابَ الْمُؤَنَّثَاتِ وَخَاطَبَ بِخِطَابِ الْمُذَكَّرِينَ بِقَوْلِهِ: لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ لِيَدْخُلَ فِيهِ نِسَاءُ أَهْلِ بَيْتِهِ وَرِجَالِهِمْ، وَاخْتَلَفَتِ الْأَقْوَالُ فِي أَهْلِ الْبَيْتِ، وَالْأَوْلَى أَنْ يُقَالَ هُمْ أَوْلَادُهُ وَأَزْوَاجُهُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ مِنْهُمْ وَعَلِيٌّ مِنْهُمْ لِأَنَّهُ كَانَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ بِسَبَبِ مُعَاشَرَتِهِ بِبِنْتِ النَّبِيِّ عليه السلام وملازمته للنبي.

 اللہ پاک تم اہل بیت کو پاک فرمانا چاہتا ہے تمہاری تطہیر کرنا چاہتا ہے یعنی تم پر نوازشات کرم نوازیاں فرمانا چاہتا ہے... ازواج مطہرات کے لیے تو مونث کا صیغہ ہونا چاہیے جبکہ آیت میں مذکر کا صیغہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مرد بھی شامل ہو جائیں تو پھر مذکر کا صیغہ استعمال ہوتا ہے، یہ مذکر کا صیغہ ہی بتا رہا ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ ساتھ اولاد سیدہ فاطمہ  اور سیدنا علی سیدنا حسن حسین وغیرہ شامل ہیں

(تفسیر کبیر امام رازی25/168)

.

🔷دلیل و حوالہ26

والذي يظهر من الآية أنها عامة في جميع أهل البيت من الأزواج وغيرهم

 آیت مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بیت لفظ عام ہے اس میں  ازواج مطہرات اور دیگر شامل ہیں

(التفسیر الوسیط8/183)

.

🔷دلیل و حوالہ27

والحق ما ذكرنا ان الاية يعم جميع اهل البيت وان كان سوق الكلام للنساء عن أم سلمة رضى الله عنها قالت فى بيتي أنزلت إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ قالت فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فاطمة وعلى والحسن والحسين فقال هؤلاء اهل بيتي فقلت يا رسول الله اما انا من اهل البيت قال بلى ان شاء الله- رواه البغوي وغيره هذا الحديث يدل على ان اهل البيت يعم

 حق بات یہ ہے کہ آیت عام ہے اس میں ازواج مطہرات و پنجتن پاک سب شامل ہیں کیونکہ سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میرے گھر میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اہل بیت سے ہر طرح کے عیوب و ناپاکی کو دور رکھ کر انہیں پاکیزہ بنانا چاہتا ہے.. جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کو بلایا سیدنا علی کو بلایا سیدنا حسن کو بلایا سیدنا حسین کو بلایا اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں، نبی کریم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ یا رسول اللہ کیا میں اہل بیت میں نہیں تو آپ نے فرمایا بے شک تم بھی اہل بیت میں ہو.. حدیث پاک کو امام بغوی وغیرہ نے روایت کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں اور لفظ اہل بیت عام ہے

(تفسیر مظہری7/340)

.

🔷دلیل و حوالہ28

وفيه دليل على أن نساءه من أهل بيته

 آیت مبارکہ میں دلیل ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل ہیں 

(تفسیر النسفی3/30)

.

🔷دلیل و حوالہ29

أَهْلَ البيت} مُراداً بهم من حَواهم بيتُ النُّبوة {وَيُطَهّرَكُمْ} من أوضارِ الأوزارِ والمَعاصي {تَطْهِيراً} بليغاً واستعارةُ الرِّجسِ للمعصيةِ والتَّرشيحُ بالتَّطهيرِ لمزيدِ التَّنفيرِ عنها وهذهِ كما ترى آيةٌ بينةٌ وحجَّةٌ نيرةٌ على كونِ نساءِ النبيِّ صلَّى الله عليهِ وسلم من أهلِ بيتِه قاضيةً ببُطلان رأيِ الشِّيعةِ في تخصيصهم أهل البيتِ بفاطمةَ وعليَ وابنيهما رضوانُ الله عليهم وأمَّا ما تمسكوا به من أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرجَ ذاتَ غُدوةٍ وعليه مرط مرجل من شَعَرٍ أسودَ وجلسَ فأتتْ فاطمةُ فأدخلَها فيهِ ثم جاءَ عليٌّ فأدخلَه فيه ثم جاء الحسنُ والحسينُ فأدخلَهما فيهِ ثمَّ قال إنَّما يُريد الله ليُذهبَ عنكم الرِّجسَ أهلَ البيتِ فإنَّما يدلُّ على كونِهم من أهلِ البيتِ لاعلى أنَّ من عداهم ليسُوا كذلك

یعنی

 اہل بیت سے مراد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور دیگر کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں شامل ہیں  ہیں سب اہلبیت میں شامل ہیں اور انکی اللہ نے ہر نفرت والی بات و فعل سے پاکیزگی و تطہیر فرما دی ہے..یہ آیت مبارکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بالکل واضح اور روشن دلیل ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں... اس سے شیعوں کا مذہب باطل ہو جاتا ہے کہ جنہوں نے اہل بیت میں فقط سیدہ فاطمہ سیدنا علی سیدنا حسن اور حسین کو شامل کیا ہے، شیعہ لوگوں کی جو دلیل ہے کہ نبی پاک نے ان پنجتن پاک کو چادر میں لیا اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی پاک نے یہ فرمایا کہ ان پنجتن پاک کے علاوہ کوئی اہل بیت نہیں

(تفسیر ابی السعود7/103)

.

🔷دلیل و حوالہ30

وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ» ) قَالَ الْعُلَمَاءُ: مَعْنَى الْبَرَكَةِ هُنَا الزِّيَادَةُ مِنَ الْخَيْرِ وَالْكَرَامَةِ، وَقِيلَ: هِيَ بِمَعْنَى التَّطْهِيرِ وَالتَّزْكِيَةِ أَيْ طَهِّرْهُمْ، وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: {لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]

 اللہ پاک برکت فرمائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی ازواج پر اور ذریت پر... علماء نے فرمایا کہ برکت کے یہاں معنی زیادہ خیر اور بزرگی ہے.. ایک قول یہ ہے کہ یہ طہارت کے معنی میں ہے تطہیر کے معنی میں ہے، جیسے کہ آیت میں ہے کہ اہل بیت سے اللہ تعالی ہر طرح کی ناپاکی کو دور فرمانا چاہتا ہے اور انہیں پاکیزہ فرمانا چاہتا ہے

(شرح زرقانی علی الموطا1/51)

.

🔷دلیل و حوالہ31

التخصيص بهم لا يناسب ما قبل الآية وما بعدها، والحديث يقتضي أنهم من أهل البيت لا أنه ليس غيرهم

 سیدہ فاطمہ سیدنا علی سیدنا حسن حسین کے ساتھ اہل بیت کو خاص کر دینا یہ آیت کے ماقبل اور مابعد کے خلاف ہے لہذا اہل بیت سے ازواج مطہرات بھی مراد ہیں... اور وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ نبی پاک نے ان پانچوں کو چادر میں لیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان پانچ کے علاوہ کوئی اہل بیت نہیں

(تفسیر بیضاوی4/231)

.

🔷دلیل و حوالہ32

شاہ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں

{إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33].والحق أن أزواجه -صلى اللَّه عليه وسلم- أيضًا داخلات في هذا الخطاب

 قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالی اہل بیت سے تمام ناپاکی کو دور رکھنا چاہتا ہے اور انکی تطہیر و پاکیزگی فرمانا چاہتا ہے تو اس تطہر و پاکیزگی میں لفظ اہلبیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں، یہی حق ہے

(لمعات شرح مشکواۃ3/57)

.


🔷دلیل و حوالہ33

گردیزو چمنیو مشہدیو سنو تاجدار گولڑہ نے کیا فرمایا...پڑھو:

👈تاجدار گولڑہ پیر مہر علی شاہ صاحب لکھتے ہیں:

جمہور کا قول ہے کہ لفظ اہل بیت فریقین میں امہات المومنین اور آل عبا(یعنی جنکو نبی پاک نے چادر میں لیا تھا)علیھم السلام کو بھی شامل ہے

(تصفیہ ما بین سنی و شیعہ ص54)

۔

🔷دلیل و حوالہ34

👈پیر مہر علی شاہ صاحب سے سوال ہوا:

سوال :

جناب مخدوم محمد صدرالدین گیلانی قادری ملتانی آیہ تطہیر کن کے لئے ہے۔ آیہ تطہیر کے مصداق کون کون لوگ ہیں ؟

جواب حضور قبله مکتوب نمبر ۳۳۵

معظمی مکرمی جناب مخدوم صاحب حفظكم الله تعالے وعلیکم السلام ورحمة اللہ جوابا عرض ہے کہ👈 آیت تطہیر میں لفظ اہلبیت امہات المومنین علیہا الرضوان و آل عبا علیہم السلام دونوں کو شامل ہے۔👈سیاق آیتہ واحادیث کثیرہ اسی پر دال ہیں۔

 العيد الملتحي والمشتكى الى اللہ المدعو ب-مهرعلی شاه بقلم خوداز گولڑہ

(مکتبوبات طیباب مہر علی شاہ ص150)

۔

🔷دلیل و حوالہ35

آپ لوگوں کے ممدوح، اپ لوگوں کے امام و مجدد طاہر الکادری لکھتا ہے:

قول راجح یہ ہے کہ (جن احباب کو حضور نبی اکرم ﷺ نے چادر مبارک میں ڈھانپ لیا وہ)چادر والے اور ازواج مطہرات سب کے سب آیت اہل بیت کے خطاب میں شامل ہیں

(قرابۃ النبی ص63)

🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🟦اہم اصول نوٹ کیجیے کہ جو حدیث سخت ضعیف ہو وہ بعض علماء کے مطابق فضائل میں مقبول ہوتی ہے مگر بعض کے مطابق یا شاید اکثریت کے مطابق سخت ضعیف حدیث مقبول نہیں ہوتی فضائل میں،لیکن تمام علماء کا متفقہ نظریہ ہے کہ سخت حدیث تعدد طرق کی وجہ سے سخت ضعیف سے نکل کر عام ضعیف بن جاتی ہے اور فضائل میں مقبول ہو جاتی ہے

.

🟩👈 اسی طرح مشہور حدیث کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 

کہ ہر متقی (اور تقوی کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ مسلمان ہو، تو گویا رسول کریم نے فرمایا ہر مسلمان امتی) میرا اہل بیت ہے ال محمد میں شامل ہے،یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے، کچھ موضوع من گھڑت سندیں ہیں اور کچھ سندیں طرق ضعیفہ ہیں،تو تعدد طرق کی وجہ سے کم سے کم عام ضعیف کے درجے میں اجائے گی اور سخت ضعیف کے درجے سے نکل جائے گی اور فضیلت کے معاملے میں یعنی ال محمد اور اہل بیت محمد میں تمام امت شامل ہے یہ فضیلت کا معاملہ ہے تو اس فضیلت کے معاملے میں یہ حدیث قابل قبول اور معتبر ہے 

۔

قال الحافظ فى " النتائج " 2 / 299:ترقى الحديث إلى درجة الضعيف الذى يعمل به الفضائل

حافظ ابن حجر عسقلانی نے النتائج میں لکھا ہے کہ ضعیف جو غیر مقبول ہو(ضعیف جدا ہو، منکر بلاتائید ہو)وہ ترقی کرکے ایسی ضعیف بن جاتی ہے جس پر فضائل میں عمل جائز ہے

(روضة المحدثين11/349)

.

أَنَّ الضَّعِيفَ مَعْمُولٌ بِهِ فِي الْفَضَائِلِ اتِّفَاقًا

بےشک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے اس پر سب(جمھور علماء محدثین)کا اتفاق ہے

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,4/1474)


والأكثر: يعمل بالحديث الضعيف في الفضائل

اکثر و جمھور کے نزدیک فضائل میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا

(تحرير المنقول وتهذيب علم الأصول1/174)

۔

سنی شیعہ نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ تعدد طرق سے ضعیف روایت حسن و معتبر بن جاتی ہے

وقد يكثر الطرق الضعيفة فيقوى المتن

تعدد طرق سے ضعف ختم ہو جاتا ہے اور(حدیث و روایت کا) متن قوی(معتبر مقبول صحیح و حسن)ہوجاتا ہے

(شیعہ کتاب نفحات الازھار13/55)

أن تعدد الطرق، ولو ضعفت، ترقي الحديث إلى الحسن

بےشک تعدد طرق اگرچہ ضعیف ہوں ان سے ضعیف روایت و حدیث حسن و معتبر بن جاتی ہے(اللؤلؤ المرصوع ص42)

لِأَنَّ كَثْرَةَ الطُّرُقِ تُقَوِّي

کثرت طرق(تعدد طرق)سے روایت و حدیث کو تقویت ملتی ہے(اور ضعف ختم ہوجاتا ہے)

(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي ,1/179)

وإنما يحكم له بالصحة عند تعدد الطرق) أي أو طريق واحد مساو له، أو أرجح

ضعیف حدیث کی ایک اور مساوی ضعیف سند مل جائے یا ایک ارجح سند مل جائے یا ایک سے زائد ضیف سندیں مل جائیں تو اس تعددِ طرق سے ضعیف حدیث صحیح(و حسن معتبر قابل دلیل) کہلاتی ہے

(شرح نخبۃ الفکر للقاری1/297)

تحسينَ الحديث الضعيف ضعفاً خفيفاً بتعدُّد طرقه، أو وجود شواهد له، مذهبٌ دَرَجَ عليه حفاظ الحديث ونقاده من الأئمة المتقدمين، أمثال الإمام أحمد بن حنبل، وعلي بن المديني، ومحمد بن إسماعيل البخاري وغيرهم، وارتضاه المتأخرون من أهل العلم، وأخذوا به، ومَشَوْا عليه إلى يومنا هذا، وفيما دوَّنَه الحفاظ:المنذريُّ والعراقي وابن كثير والذهبي وابن حجر والزَّيْلعي وغيرهم

مسند امام احمد بن حنبل کے حاشیہ میں ہے کہ وہ حدیث کہ جو زیادہ سخت ضعیف نہ ہو وہ درج ذیل ائمہ

 امام احمد بن حنبل

 امام بخاری

 امام علی بن مدینی

 امام منذری

 امام عراقی 

امام ابن کثیر 

امام ذہبی

 امام ابن حجر عسقلانی

 امام زیلعی وغیرہ کئی ائمہ محدثین کے مطابق دیگر ضعیف احادیث یا دیگر ضعیف سندوں سے مل کر حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے

(مقدمة مسند احمد1/78)

.

🔷دلیل و حوالہ36

، عن عليٍّ رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، مَنْ آلُ محمدٍ؟ قال: "كلُّ تقيٍّ" وأسانيدُها ضعيفةٌ ۔۔۔ولكنَّ شواهِدَه كثيرةٌ

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کی کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ال محمد کون ہے اہل بیت محمد کون ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہر مسلمان۔۔۔امام سخاوی فرماتے ہیں کہ اس کی بہت ساری سندیں ہیں لیکن ساری کی ساری ضعیف ہیں 

 المقاصد الحسنة۔۔ السخاوي1/119

۔

🔷دلیل و حوالہ37

 أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ فَقَالَ: «كُلُّ تَقِيٍّ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ»

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ال محمد اہل بیت محمد میں کون کون شامل ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میری امت محمدیہ میں سے ہر ایک مسلمان

فوائد تمام 2/217

۔

🔷دلیل و حوالہ38

 أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ فَقَالَ: «كُلُّ تَقِيٍّ

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ال محمد اہل بیت محمد میں کون کون شامل ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میری امت محمدیہ میں سے ہر ایک مسلمان

 المعجم الأوسط للطبراني3/338


.

🔷دلیل و حوالہ39

«آلي كُلُّ تقي» (١)، وفي رواية الطبراني: «آل محمد كل تقيّ»، [وروي هذا من حديث عليّ، ومن حديث أنس، وفي أسانيدها ضعف

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ میرے اہل بیت میں میری ال میں ہر مسلمان شامل ہے اور طبرانی کی روایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اہل بیت میں اور ال محمد میں ہر مسلمان شامل ہے،یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے اور ان کی سندوں میں ضعف ہے

البدر التمام شرح بلوغ المرام1/14

۔

🔷دلیل و حوالہ40

والدَّيلميُّ (١) مِنْ حديثِ النَّضرِ بنِ محمدٍ الشَّيبانيِّ، عن يحيى بنِ سعيد؛ كلاهما (٢) عن أنسٍ رضي الله عنه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ: مَنْ آلُ محمدٍ؟ قال: "كلُّ تقيٍّ مِنْ أمةِ (٣) محمدٍ".

مسند الفردوس میں روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ال محمد اہل بیت محمد میں ہر مسلمان شامل ہے

حاشیہ میں ہے کہ:

وهذا الإسناد ضعيف جدًّا

انفرادی طور پر یہ حدیث سخت ضعیف ہے (لیکن جیسے کہ ہم مسلسل کئی طرق اس کے لکھ رہے ہیں تو یہ حدیث سخت ضعیف سے نکل کر عام ضعیف بن جاتی ہے جو فضائل میں مقبول ہے)

 المقاصد الحسنة السخاوي1/118

۔

🔷دلیل و حوالہ41

آل محمد كل تقي۔۔۔قال الحافظ فى «الفتح» ١١ / ١٦١: أخرج البيهقى عن جابر نحوه فى قوله بسند ضعيف

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اہل بیت اور ال محمد میں ہر مسلمان شامل ہے تو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا کہ یہ روایت بہقی میں سیدنا جابر سے بھی ہے لیکن اس کی سند میں ضعیف ہے

روضة المحدثين6/281

.

🔷دلیل و حوالہ42

آل مُحَمَّد كل تَقِيّ أوردهُ تَمام والديلمي بأسانيد ضَعِيفَة

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ال محمد اہل بیت محمد میں ہر مسلمان شامل ہے اس کو تمام میں اور مسند الفردوس میں روایت کیا گیا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہیں

 أسنى المطالب ص20

۔

الحاصل:

سیدنا علی سیدنا جابر سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر مسلمان اہل بیت میں شامل ہے ال محمد میں شامل ہے تو ان روایتوں کی انفرادی طور پر سند سخت ضعیف ہے مگر جیسا کہ اوپر قاعدہ بتایا گیا تھا کہ سخت ضعیف حدیثیں مل کر عام ضعیف بن جاتی ہیں جو فضائل میں قابل قبول ہوتی ہیں لہذا یہ حدیث فضیلت کے معاملے میں ہے کہ تمام امت اہل بیت میں شامل ہے ال محمد میں شامل ہے لہذا یہ بھی دلیل ہے فضیلت کے معاملے میں

.

👈👈اور جو ہم نے متقی کا ترجمہ مسلمان کیا ہے تو تقوی کے کئی درجے ہیں لیکن اس کا کم سے کم درجہ مسلمان ہونا ہے لہذا جو کم سے کم سچا مسلمان ہو وہ اہل بیت ال محمد میں شامل ہے


درجات التقوى خمس: أن يتقي العبد الكفر، وذلك مقام الإسلام

تقوی کے پانچ درجے ہیں ان میں سے سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ کفر سے نکل جائے اور مسلمان ہو جائے

 تفسير ابن جزی1/69

۔

ودرجات التقوى خمسة: أن يتّقي العبد الكفر

تقوی کے پانچ درجے ہیں ان میں سے کم سے کم درجہ یہ ہے کہ بندہ کفر سے نکل کر مسلمان ہو

 معترك الأقران في إعجاز القرآن –السيوطي2/356

۔

ولها خَمسُ درجاتٍ: أن يتقي العبد الكفر وذلك بمقام الإسلام

تقوی کے پانچ درجات ہیں ان میں سے کم سے کم درجہ یہ ہے کہ بندہ کفر سے بچے اور مسلمان ہو

 البحر المديد في تفسير القرآن المجيد – ابن عجيبة1/572

۔

وأصلها: اتقاء الشرك ثم اتقاء المعاصي

تقوی کا اصل یہ ہے کہ اس کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ شرک و کفر سے بچے مسلمان ہو جائے اور تقوی کا دوسرا درجہ ہے کہ گناہوں سے بچے

 الأشباه والنظائر - السبكي1/449

۔

🟣🟣🟣🟣🟣🟣

وأصل الآل: الأهْل

اہل اور ال دونوں کے ایک معنی ہیں

درج الدرر في تفسير الآي والسور۔ الجرجاني1/166


.

وآل الرجل: أهله وعيالُه. وآلُهُ أيضاَ: أتباعُه

اہل اور ال ہم معنی بھی ہیں اور دونوں کے معنی یہ بھی ہیں کہ کسی کے پیروکار ماننے والے

 الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية4/1627

۔

الآلِ وأنه أخصُّ من الأهل

کچھ علماء کے مطابق ال اہل سے خاص ہے (یعنی جب کہا جائے کہ ال محمد میں تمام امت شامل ہے تو پھر بدرجہ اولی اہل بیت میں تمام امت شامل ہے)

 تفسير الراغب الأصفهاني2/524

۔

[آلُ] الرجل: أهله.والألف فيه مبدلة من الهاء. والدليل عليه أنك إِذا صغرته قلت: أُهَيْل، والجميع أَهْلُون.وآلُ الرجل: أتباعه وأشياعه وأهل ملته.

ال کا معنی اہل ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کی تصخیر اہیل بنتی ہے،اور ان دونوں لفظوں کا معنی ہے پیروکار اہل ملت امت

 شمس العلوم ۔الحميري1/376

۔

آل الرجل: أَهله، وَالْفرق بَين الْآل والأهل: أَن الْآل قد خص بالأشراف،

ال اور اہل دونوں کا ایک ہی معنی ہے فرق یہ ہے کہ عام طور پر ال کا اطلاق کسی بڑی شخصیت کے لیے ہوتا ہے ( جیسے ال محمد... جبکہ اہل بڑی شخصیت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور کم شخصیت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے)

عمدة القاري بدر الدين العيني9/95

۔

🟣🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🟦اوپر احادیث مبارکہ سے ثابت کیا گیا کہ 

1️⃣ازواج مطہرات ال محمد اور اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہیں 

2️⃣ایت تطہیر میں ازواج مطہرات بھی شامل ہیں 

3️⃣ال محمد میں ازواج مطہرات کے علاوہ دیگر بھی شامل ہیں 

👈👈پھر 

4️⃣حدیث پاک ذکر کی کہ ال محمد اہل بیت محمد سے مراد ہر مسلمان ہے 

۔

🟦اب ائیے صحابہ کرام کے اقوال اور ائمہ اسلاف کے اقوال اور اہل لغت کے اقوال پڑھتے ہیں کہ اہل بیت محمد ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام امت شامل ہے

۔

🔷دلیل و حوالہ43

صحابی سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا فتوی:

عن جابر بن عبد الله قال: آل محمد ﷺ أمته. اهـ سند 

ضعيف

صحابی سیدنا جابرِ بنِ عبدِ اللَّه رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ( درود و دیگر مواقع مناسبہ میں) آل محمد سے مراد پوری امت محمد مراد ہے۔۔۔(یہ روایت انفرادی طور پر ضعیف ہے مگر متفقہ اصول ہے کہ فضائل میں ضعیف معتبر ہوتی ہے اور دیگر دلائل وغیرہ وجوہ تقویت کی وجہ سے اس کا ضعف ختم ہو جاتا ہے)

(العتيق مصنف جامع لفتاوى أصحاب النبي6/381)

۔

 🔷دلیل و حوالہ44

👈👈پیر مہر علی شاہ صاحب لکھتے ہیں 

(درود ابراہیمی میں)آل محمد سے مراد سب مومن ہیں اقارب و ازواج و اولاد وغیرہم۔۔۔ماسوائے درود شریف جیسا جیسا مقام ہوگا بقرینہ مقام خاص خاص معنی مراد ہوں گے 

فتاوی مہریہ ص29٫30

۔

🔷دلیل و حوالہ45

الآل: أتباع الرجل على ما هو عليه. فيحتمل أن يريد: أتباعه من ذريته، ويحتمل أن يريد أتباعه من كل من اتبعه. وإلى هذا ذهب مالك، واحتج بقوله تعالى:﴿أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ والأظهر أن «الآل» الأتباع

ال اور اسی طرح اہل بیت سے مراد اس کے متبعین و امت ہیں،اسی کی طرف امام مالک گئے ہیں اور دلیل قران مجید کی ایت سے دی ہے اور زیادہ ظاہر بھی یہی ہے کہ ال سے مراد پیروکار ہیں امت مراد ہیں

 الاقتضاب في غريب الموطأ وإعرابه على الأبواب – اليفرني، محمد بن عبد الحق1/194

۔

🔷دلیل و حوالہ46

وروى ابن أبي حاتم عن سفيان الثوري: أنه سئل عن قوله: «اللهم صل على محمَّد وعلى آل محمَّد، كما صليْت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم»؟ قال: أكرم الله أمة محمَّد - ﷺ - فصلى عليهم كما صلى على الأنبياء، فقال: ﴿هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ﴾ [الأحزاب: ٤٣]أشار سفيان إلى أن آل محمَّد أمته

 امام سفیان ثوری سے درود ابراہیمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہاں پر ال محمد سے مراد کیا ہے تو انہوں نے فرمایا امت محمد جیسے کہ سورہ احزاب ایت سے بھی ثابت ہوتا ہے

حسن التنبه لما ورد في التشبه1/298

.

🔷دلیل و حوالہ47

اختلف في الآل على أقوال.....واختار المحققون: أنهم جميع الأمة

ال کے معنی میں اختلاف ہے لیکن جمہور محققین نے فرمایا ہے کہ عام طور پر ال اور اہل بیت میں تمام امت شامل ہے

الإعلام بفوائد عمدة الأحكام – ابن الملقن3/454ملتقطا


۔

🔷دلیل و حوالہ48

والقول الثالث): أن آله -ﷺ- أتباعه إلى يوم القيامة، حكاه ابن عبد البرّ عن بعض أهل العلم، وأقدم من رُوي عنه هذا القول جابر بن عبد الله -رضي الله عنهما-، ذكره البيهقي عنه، ورواه عنه سفيان الثوريّ وغيره، وأختاره بعض أصحاب الشافعيّ، حكاه عنه أبو الطيّب الطبريّ في تعليقه، ورجّحه الشيخ محيي الدين النووي في "شرح مسلم"، 

واختاره الأزهري.

ال اور اہل بیت کے متعلق تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت ہے اس کو ابن عبدالبر نے روایت کیا ہے اور سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایت ہے اور سیدنا سفیان ثوری سے بھی روایت ہے اور اصحاب شافعی بھی یہی کہتے ہیں امام طبری نے بھی اس کو حکایت کیا ہے اور اسی کو ترجیح دی ہے امام نبوی نے اور اسی قول کو اختیار کیا ہے امام ازہری نے

 ذخيرة العقبى في شرح المجتبى15/127

۔

🔷دلیل و حوالہ49

🌹القرآن:

 وَ اَغۡرَقۡنَاۤ  اٰلَ فِرۡعَوۡنَ

اور ہم نے آل فرعون کو غرق کیا

(سورہ بقرۃ آیت50)

.

🔷دلیل و حوالہ50

آل فِرْعَوْن} قومه

آل فرعون سے مراد اسکی قوم ہے

( تفسير الجلالين ص236)

.

🔷دلیل و حوالہ51

آلِ فِرْعَوْنَ} أَتْبَاعِهِ وَأَهْلِ دِينِهِ

آل فرعون سے مراد اسکے ماننے والے ہیں، اسکے دین والے ہیں

( تفسير البغوي - طيبة1/90)

📌📌اس آیت مبارکہ سے دوٹوک واضح ہوا کہ آل سے مراد قوم و امت بھی ہوتے ہیں

۔

🔷دلیل و حوالہ52

وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ) [البقرة: ٤٩]، قال: هم أهل دينه...وكذلك آل محمد إنما هم أمته

قران مجید میں ال فرعون ایا ہے تو اس سے مراد اس کے ماننے والے ہیں۔۔۔عام طور اسی طرح ال محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد پوری امت ہے (فضائل وغیرہ معاملات میں عمومی طور پر ال رسول اہل بیت رسول سے مراد تمام امت ہے مگر یہ کہ جن مواقع پہ دلائل کے ساتھ آل رسول و اہل بیت رسول سے مخصوص افراد مراد ہوتے ہیں جب دلائل و قرائن اسکی دلیل بنیں)

(شرح صحيح البخاري - ابن بطال10/277)

.

🔷دلیل و حوالہ53

آل محمد: منْ هم؟ فقيل: أمته، وهذا قول طائفة مِن أصحاب محمد - صلى الله عليه وسلم

 ال محمد کون ہیں ایک قول یہ ہے کہ ال محمد سے مراد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے اور یہ صحابہ کرام کے ایک گروہ کا قول ہے

(معجم المناهي اللفظية ص302)

👈📌سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوٹوک مروی ہے اور مستند حوالہ جات میں دیگر صحابہ کرام نے نفی نہ کی تو یقینا یہ کہنا درست ہوگا کہ دو ٹوک طور پر بمع تقریری تسلیمی طور پر گروہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اور دیگر مستند علماء کرام کا قول مبارک ہے کہ عمومی فضائل وغیرہ میں اہل بیت ال رسول میں  تمام سچے ایمان والے امتی شامل ہیں الا کہ ان معاملات میں کہ جہاں پر تخصیص اگئی ہو


.

🔷دلیل و حوالہ54

وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْآلِ جَمِيعُ أُمَّةِ الْإِجَابَةِ، وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْآلِ الْأَزْوَاجُ وَمَنْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ وَيَدْخُلُ فِيهِمُ الذَّرِّيَّةُ، وَبِذَلِكَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْأَحَادِيثِ

 امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ ال سے مراد تمام امت ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ ال سے مراد ازواج مطہرات ہیں اور وہ جن پر صدقہ حرام ہے اس معنی میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذریت مبارکہ یعنی سیدنا حسن حسین سیدہ فاطمہ وغیرہ شامل ہیں، اس طرح احادیث مبارکہ میں تطبیق دی جائے گی، دونوں قسم کی احادیث کو اسکے مناسب مناسب پر جمع کیا جائے گا( یعنی دعا، عمومی فضیلت وغیرہ کے معاملے میں ال سے مراد تمام امت ہے اور باقی مخصوص معاملات میں ال سے مراد دیگر ہیں)

(مرقاۃ شرح مشکواۃ2/740)


.

🔷دلیل و حوالہ55

معني الآل كل الامة

آل محمد سے مراد تمام امت محمدیہ ہے

(فتح الباري لابن حجر ,11/157)


.

🔷دلیل و حوالہ56

وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ) أَتْبَاعِهِ قَالَهُ مَالِكٌ

امام مالک نے فرمایا کہ آل محمد سے مراد متبعین(امت محمدیہ) مراد ہے

(شرح زرقانی علی الموطا1/572)

📌👈صحابہ کرام کا گروہ، امام مالک جیسے عظیم الشان مجتہد و امام اور علامہ زرقانی، علامہ ملا علی قاری بھی تمھارے تحریف و بغضِ ال رسول کے فتوے سے بچ نہیں پاتے، بھلا پھر کن صحابہ و علماء کو مانتے ہو.....؟؟ اہلسنت کے علماء تو یہی فتوی دے رہے ہیں اور تم چمن زمان انکے فتووں کو ردی کے ٹوکرے میں پھینکتے ہو، یہ گستاخی فساد امت پھیلانا ہے یا تمھارا مودبانہ اختلاف....؟؟ مودبانہ مدلل اختلاف قابل برداشت ہے مگر تحریف، غلط تفسیر، بغض اہلبیت کے جھوٹے فتوے مکاریاں چالبازیاں دھوکے بازیاں ایجنٹیاں منافقتیں قبول نہیں....ہرگز نہیں.......!!


.

🔷دلیل و حوالہ57

امام ابن عربی فرماتے ہیں

وقد اختلف في الآل هل هم أهل بيته أو أمته والصحيح أنهم أمته

آل محمد سے کیا مراد ہے اہلبیت یا امت محمد....صحیح یہ ہے کہ آل محمد سے مراد امت محمد ہے

(القبس في شرح موطأ مالك بن أنس ص356)

.

🔷دلیل و حوالہ58

امام خطابی فرماتے ہیں

وكذلك آلُ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هُمْ أُمَّتُهُ

اور اسی طرح آل محمد سے مراد امتِ محمد ہے 

(غریب الحدیث للخطابی1/319)

.

🔷دلیل و حوالہ59

امام ابن ملقن فرماتے ہیں:

وكذلك آل محمد إنما هم أمته

 اور اسی طرح ال محمد سے مراد امت محمدیہ ہے

(التوضيح لشرح الجامع الصحيح24/158)

.

🔷دلیل و حوالہ60

وقيل: المراد بالآل جميع أمة الإجابة. قال ابن العربي: مال إلى ذلك مالك. وقال النووي في شرح مسلم: هو أظهر الأقوال، قال: وهو اختيار الأزهري وغيره من المحققين

 امام ابن عربی نے فرمایا ہے کہ درود پاک میں ال سے مراد تمام امت ہے کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہو، اور یہی قول امام مالک کا ہے اور امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ یہ دیگر اقوال سے زیادہ ظاہر و مضبوط قول ہے اور اسی قول کو امام اظہری وغیرہ محققین نے اختیار کیا ہے

(مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح3/253)

.

🔷دلیل و حوالہ61

والآل أيضًا يجيء بمعنى الأتباع، وبهذا المعنى ورد إلى كل مؤمن، ومال إليه مالك، واختاره الأزهري وآخرون، وهو قول سفيان الثوري وغيره، ورجَّحه النووي في (شرح مسلم) (1)، وقيده القاضي حسين بالأتقياء (2)، والظاهر أن المراد في الحديث المعنى الأعم، واللَّه أعلم

 شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ال کا معنی متبعین(امت) بھی ہے، حدیث میں یہی معنی مراد ہے یہ فرمانا ہے امام مالک کا، اسی کو امام ازھری وغیرہ محققین نے اختیار کیا ہے اور یہی قول ہے سیدنا سفیان ثوری وغیرہ کا ہے اور اسی کو امام نووی نے راجح قرار دیا ہے.... امام قاضی عیاض نے فرمایا ہے کہ ال سے مراد متقی امتی ہے مگر ظاہر و قوی بات یہ ہے کہ یہاں درود(و دعا و دیگر عمومی فضائل) کے معاملے میں اعم(سب امتی) مراد ہیں

(لمعات شرح مشکواۃ3/58)

🚨👈چمن زمان اور اسکو ماننے والو ذرا اپنے ضمیر سے پوچھو کہ کیا امام مالک، امام ابن عربی،  امام خطابی، امام ابن ملقن امام نووی، محدث شاہ دھلوی وغیرہ بھی تحریف کرنے والے، غلط تفسیر کرنے والے بغضِ آل رسول رکھتے تھے نعوذباللہ.....؟؟ چمن کے فتوے سے تو یہ ائمہ بھی نہ بچ سکے بلکہ صحابہ کرام سیدنا جابر پر بھی چمن زمان کا فتوی لگ رہا ہے، اب آپ کی مرضی ہے اجڑے چمن میں رہ کر تباہ ہونا ہے یا اسلاف کے اقوال کی چھاؤں تلے بہاروں میں زندگی گذارنی ہے.....؟؟

۔

🔷دلیل و حوالہ62

امام واحدی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے تفسیر لکھتے ہیں

روى عطاء عن ابن عباس: يريد من دخل بيتي، أي في ديني مؤمنًا....وقوله (٦): ﴿وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ عام في كل من آمن بالله وصدق الرسل.

سیدنا ابن عباس سے سیدنا عطا نے روایت کیا ہے کہ ایت میں گھر سے مراد دین ہے یعنی جو میرے دین میں داخل ہو جائے۔۔۔۔اور اگے جو ایت ہے کہ مومنین اور مومنات کی بخشش فرما تو یہ عام ہے کہ تمام دیگر رسولوں پر جو ایمان لائے اس کی بھی بخشش فرما

(التفسير البسيط – الواحدي22/275ملتقطا)

۔

🔷دلیل و حوالہ63

وقال ابن عباس: أي: دخل في ديني.فإن قيل: فعلى هذا يصير قوله: «مُؤمِنًا» مكررًا.فالجواب: إنَّ من دخل في دينه ظاهرًا قد يكون مُؤمنًا، وقد لا يكون مؤمنًا، فالمعنى: ولمن دخل دخولًا مع تصديق القلبِ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ بیت سے مراد گھر ہے یعنی جو میرے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے،اس تفسیر کو مراد لیا جائے تو بظاہر لفظ مومنا سے تکرار لازم ا رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک دین میں دو قسم کے لوگ داخل ہوتے ہیں ایک وہ کہ جو ایمان والے ہو کر داخل ہوتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں کہ جو ایمان والے نہ ہو کر منافق ہو کر داخل ہوتے ہیں تو یہاں پر مومنا تکرار نہیں بلکہ وضاحت ہے کہ جو میرے گھر میں ایمان والا ہو گا اور داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں ہے

(تفسیر اللباب في علوم الكتاب19/402)

۔

🔷دلیل و حوالہ64

امام قرطبی تفسیر لکھتے ہیں

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا: أَيْ وَلِمَنْ دَخَلَ دِينِي، فَالْبَيْتُ بِمَعْنَى الدِّينِ، حَكَاهُ الْقُشَيْرِيُّ وَقَالَهُ جُوَيْبِرٌ

سیدنا ابن عباس سے بھی یہ تفسیر مروی ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو سے مراد جو میرے دین میں داخل ہو۔۔تو لفظ بیت یہاں دین کے معنی میں ہے اس کو امام قشیری نے روایت کیا ہے اور یہی بات امام جویبر نے بھی فرمائی ہے.

 (تفسير القرطبي 18/314)


۔

🔷دلیل و حوالہ65

امام ابو منصور تفسیر لکھتے ہیں

وقَالَ بَعْضُهُمْ: (في بيتي) أي: في ديني؛ فيكون البيت كناية عن الدِّين.

امام ابو منصور فرماتے ہیں کہ بعض کے مطابق ایت میں بیت سے مراد دین ہے، (اور امام ابو منصور اس تفسیر کی تائید کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ) بیت سے کنایتا دین مراد ہے(اور اس طرح کے کنائے قران و حدیث میں کئی جگہ پر موجود ہیں بلکہ یہ وہ جامع کنایہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ حوالہ جات لکھے ہیں) 

( تفسير الماتريدي10/236)

۔

🔷دلیل و حوالہ66

امام فخر الدین رازی نے تو چمن زمان کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا لکھتے ہیں:

وَقِيلَ: لِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي، فَإِنْ قِيلَ: فَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَصِيرُ قَوْلُهُ: مُؤْمِنًا مُكَرَّرًا، قُلْنَا: إِنَّ مَنْ دَخَلَ فِي دِينِهِ ظَاهِرًا قَدْ يَكُونُ مُؤْمِنًا بِقَلْبِهِ وَقَدْ لَا يَكُونُ، وَالْمَعْنَى وَلِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي دُخُولًا مَعَ تَصْدِيقِ الْقَلْبِ.ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ إِنَّمَا خَصَّ نَفْسَهُ أَوَّلًا بِالدُّعَاءِ ثُمَّ الْمُتَّصِلِينَ بِهِ لِأَنَّهُمْ أَوْلَى وَأَحَقُّ بِدُعَائِهِ ثُمَّ عَمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ.

ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو میرے دین میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے، اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر یہ تفسیر درست ہے تو پھر لفظ مومن سے تکرار لازم ائے گا تو امام رازی اس کا جواب دیتے ہیں کہ دین میں کوئی داخل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے اور کوئی ایمان کے بغیر منافقتا داخل ہوتا ہے تو یہاں لفظ مومن نے وضاحت کر دی کہ میرے اہلبیت میں وہ شمار ہوگا کہ جو میری شریعت میں داخل ہوگا ایمان والا ہو کر۔۔۔پھر اگے مومنین مومنات کا پھر تذکرہ ہے تو یہ بھی تکرار نہیں کیونکہ سیدنا نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے متصل کے لیے دعا کی کیونکہ وہ اولی ہیں احق ہیں پھر (جب سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی پھر والدین کے لیے دعا کی پھر اپنی شریعت کے مومنین کے لیے دعا کی تو پھر) اس کے بعد دیگر تمام مومنین مومنات یعنی دیگر امتوں کے مومنین مومنات سب کے لیے دعا کر دی لہذا کوئی تکرار نہیں

(تفسير الرازي 30/660شرحا)

۔

🔷دلیل و حوالہ67

امام آلوسی نقشبندی لکھتے ہیں:

وفي رواية عن الحبر أنه أراد شريعته استعار لها اسم

 البيت

امام الوسی فرماتے ہیں کہ حبر الامہ یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ یہاں بیت سے مراد شریعت ہے اور شریعت کے لیے لفظ بیت استعارہ استعمال ہوا ہے(یہ وہ جامع استعارہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ اوپر حوالہ جات لکھے)

 (تفسير الألوسي روح المعاني15/89)

۔

🔷دلیل و حوالہ68

امام ماوردی نے ایک تفسیر یہ بھی کی کہ:

الثالث: من دخل في ديني

تیسری تفسیر یہ ہے کہ بیت سے مراد دین ہے

تفسير الماوردي = النكت والعيون6/106)

۔

🔷دلیل و حوالہ69

ثم قال عز وجل: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا يعني: سفينتي وديني

ایت میں جو ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو ایمان کی حالت میں۔۔۔تو گھر سے کشتی اور دین مراد ہے

 (تفسير السمرقندي = بحر العلوم2/502)

.

🔷دلیل و حوالہ70

وقال الكلبيُّ: أي: أمَّة محمَّد -ﷺ

اس ایت میں جو اگے ہے کہ امت نوح کی بخشش فرما اور پھر فرمایا کہ مومنین مومنات کی بخشش فرما تو ان مومنین مومنات سے مراد امت محمدیہ ہے

(التيسير في التفسير - أبو حفص النسفي15/35)

۔

🔷دلیل و حوالہ71

«وآلُ محمدٍ أهلُ بيته وأتباعُه وأشياعُه»

ال محمد اور اہل بیت محمد سے مراد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام امت اور پیروکار ہیں

ابن قتیبہ، غریب القرآن، 1/49

۔

🔷دلیل و حوالہ72

«ويدخل في الصلاة على آل محمد أزواجُه وذريّتُه وكلُّ من تبع دينه» —

 آلِ محمد میں ہر دینِ محمدی کا پیروکار داخل ہے

ابن ابی زید قیروانی، النوادر والزیادات، 1/188

۔

🔷دلیل و حوالہ73

«أحدهما: أنهم أتباعُه المتقون، وكذلك قال مالك»

 ایک قول یہ ہے کہ آلِ محمد اس کے متقی پیروکار ہیں، یہی امام مالک کا قول ہے۔

ابن العربی، أحکام القرآن، 3/623

۔

🔷دلیل و حوالہ74

«آلُ محمدٍ أتباعُه وشيعتُه وأهلُ دينه

 آلِ محمد سے اس کے پیروکار، اہلِ دین مراد ہیں

ابن عبد البر، التمہید، 11/144


🔷دلیل و حوالہ75

«ويكون الآلُ أتباعَ الرجل وأهلَ دينه» 

 آل آدمی کے پیروکار اور اہلِ دین بھی ہوتے ہیں

قاضی عیاض، مشارق الأنوار، 1/144

۔

لیجیے عربی لغت سے حوالہ جات

🔷دلیل و حوالہ76

آلُ) الرَّجُلِ أَهْلُهُ وَعِيَالُهُ وَ (آلُهُ) أَيْضًا أَتْبَاعُهُ

ال کا معنی ہے اہل و عیال اور آل کا معنی متعبین(امت) بھی ہے

(مختار الصحاح ص25)

.

🔷دلیل و حوالہ77

فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: آلُ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنِ اتَّبَعَهُ قَرَابَةً كَانَتْ أَو غَيْرَ قَرَابَةٍ...فَيَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ كُلُّ مَنِ اتَّبَعَ النَّبِيَّ، صَلَّى الله عليه وَسَلَّمَ، قُرَابَةً كَانَ أَو غَيْرَ قُرَابَةٍ...قَالَ قَائِلٌ آلُهُ أَهله وأَزواجه...: وَقَالَ قَائِلٌ آلُ مُحَمَّدٍ أَهل دِينِ مُحَمَّدٍ...وَقِيلَ: آلُهُ أَصحابه وَمَنْ آمَنَ بِهِ وَهُوَ فِي اللُّغَةِ يَقَعُ عَلَى الْجَمِيعِ

 کچھ لوگوں نے کہا کہ ال کا معنی ہے اہل و عیال ازواج رشتے دار... کچھ لوگوں نے فرمایا کہ ال کا معنی ہے پیروکار تو آل محمد کا معنی ہوا "دینِ محمدی والے" تو اس معنی کے تحت درود پاک میں آل سے مراد امت محمد ہے....اگرچہ اختلاف ہے مگر آل کے یہ سب معنی لغت کے اعتبار سے درست ہیں

(لسان العرب11/38)

.

🔷دلیل و حوالہ78

الآلُ: أَهْلُ الرَّجُلِ وعِيالُه أَيْضا: أَتْباعُه وأولِياؤُه،

ال کا معنی ہے اہل و عیال، آل کا معنی پیروکار(امت) بھی ہے اور آل کا معنی دوست بھی ہے

(تاج العروس جز28 ص36

۔

🔷دلیل و حوالہ79

«وأهلُ الرجل، وأتباعُہ

ال اور اہل سے مراد پیروکار ہیں

 القاموس المحیط، 1/963

۔

🔷دلیل و حوالہ80

«آلُه أتباعُه»؛

ال اور اہل سے مراد پیروکار ہیں

الوجوه والنظائر، 1/84

.

🟣🟣🟣🟣🟣🟣

🔷دلیل و حوالہ81

الحديث يقتضي أنهم من أهل البيت لا أنه ليس غيرهم

وہ جو حدیث پاک میں ہےکہ نبی پاکﷺ نےانکو چادر میں لیا تو👈اسکا یہ مطلب نہیں کہ ان پنجتن کےعلاوہ کوئی اہلبیت نہیں

(تفسیر بیضاوی4/231)

۔

🔷دلیل و حوالہ82

فإنَّما يدلُّ على كونِهم من أهلِ البيتِ لاعلى أنَّ من عداهم ليسُوا كذلك

یعنی پنجتن پاک کو رسول کریم نے چادر میں لیا تو اس کا یہ مطلب تو ہے کہ وہ بھی اہل بیت ہیں یہ مطلب نہیں کہ ان کے علاوہ کوئی اہل بیت نہیں

(تفسیر ابی السعود7/103)

۔

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.