🟩 *#قبلہ مفتی منیب الرحمن صاحب کے کالم پر اعتراض اور کالم کا درست مفھوم۔۔۔؟؟ اور گہری سیاست اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔۔۔۔؟؟ پڑھیے اس مختصر تحریر میں*
۔
تحریک لبیق پاکستان اور انکے قائدین کے متعلق تین پیجز پر مشتمل ایک کالم لکھا مفتی منیب الرحمن صاحب نے۔۔۔اور ان کے پیج پر جا کر میں نے کمنٹس پڑھے تو بہت اعتراضات بھی دیکھنے کو ملے اور داد دینے والے بھی بہت ملے
۔
📌📌نوٹ:
رظوی برادران۔۔۔تحریک لبیق کو درست الفاظوں کے ساتھ جان بوجھ کر میں نے نہیں لکھا تاکہ شیئر کرنے پر کوئی بلاک نہ ہو۔۔
۔
🛑اعتراضات سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں کہ:
مفتی منیب الرحمان صاحب نے لکھا ہے کہ لبیق والے قائدین خود روپوش ہیں اور توقع یہ رکھ رہے ہیں کہ علماء سر پر کفن باندھ کر ان کے لیے نکلیں
1️⃣سوال:
کیا واقعی لبیق کے قائدین خود رو پوش ہیں یا انہیں اغوا کیا گیا ہے۔۔۔۔؟؟
۔
2️⃣سوال:
جو حکومت قبلہ مفتی منیب الرحمن صاحب کی یقین دہانی کہ مسجد رحمت اللعالمین میں ایک نیوٹرل سنی امام مسجد رکھا جائے گا جو حکومت کے حوالے سے بات نہیں کرے گا،اس یقین دہانی کے باوجود بھی حکومت نے مسجد کو اب تک نہیں کھولا۔۔۔۔۔کیا ایسی حکومت و ایسے حکمرانوں کی اس بات پہ اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ لبیق کے قائدین رظوی برادران کو ہم نے اغوا نہیں کیا ، وہ ہمارے پاس نہیں۔۔۔؟؟ وہ خود روپوش ہیں۔۔۔۔؟؟
۔
3️⃣سوال:
یقینا اعتماد نہیں کیا جا سکتا تو پھر مفتی منیب الرحمن صاحب نے کیسے اعتماد کر لیا کہ قائدین خود روپوش ہیں۔۔۔؟؟
۔
4️⃣سوال:
قبلہ مفتی منیب الرحمن صاحب نے یہ کیسے فرمایا کہ اپ حکومت کے لوگ لائحہ عمل دیں جس پر دھرنے کرنے جلوس کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر تحریک لبیق عمل کرے گی،جبکہ ہر پارٹی کی سیاست کا اپنا ہی طریقہ ہے تو پھر لبیق پر سیاست کے طرز کی پابندی پوچھنا کیا درست عمل ہے۔۔۔؟؟
۔
🟩جوابات و گہری سیاست:
قبلہ مفتی صاحب نے کمال ہی کالم لکھا ہے،کہ غور و فکر کرنے والے کے لیے ان تمام سوالات کے جوابات ان تمام اعتراضات کے جوابات موجود ہیں۔۔۔اور مجھے لگتا ہے یہ مفتی صاحب کی سیاسی بصیرت کی انتہاء ہے
۔
1️⃣۔۔۔قبلہ مفتی صاحب نے یہ بالکل درست فرمایا کہ اپ تحریک لبیق کو سیاست سے مستقل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کے لیے کوئی ڈھانچا تیار کر کے دیں، جب وہ تیار کر کے دیتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ جناب جس طرح ہمیں یہ ڈھانچہ دیا گیا ہے اسی طرح تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی ڈھانچا دیا جائے گا اور جس پارٹی نے ڈھانچا توڑا اس پر وہی سلوک ہوگا جو سب پر ہوگا۔۔۔
۔
اس طرح "نہ سو من تیل نکلتا اور نہ رادھا ناچتی" الٹا حکومت کو ہی کہنا پڑتا کہ ہر سیاسی تنظیم قانون کے مطابق اپنا طرز اختیار کر سکتی ہے اور قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ دھرنے احتجاج نہیں دیے جا سکتے۔۔۔گویا مفتی صاحب حکومت کو ائینہ دکھا رہے تھے کہ اگر اپ ہمیں مقید کرتے ہیں تو پھر ساری تنظیموں کو مقید کرنا ہوگا جو اپ نہیں کر سکتے تو اپ ہمیں بھی مقید نہیں کر سکتے۔۔۔ہاں اگر قانون بن جاتا کہ احتجاج دھرنا ساری تنظیمیں نہیں کر سکتیں بلکہ اس کے بدلے میں فلاں طریقہ اختیار کرنا ہوگا تو پھر ٹھیک ہے ہم بھی وہی طریقہ اختیار کرتے ہیں،لیکن کوئی طریقہ دیے بغیر ، کوئی راستہ دیے بغیر تحریک لبیق کو ہی مستقل ختم کر دینا حکومت کی غلط پالیسی ہے،یہی نتیجہ نکلتا ہے مفتی صاحب کی بصیرت اموز کالم کا۔۔۔۔!!
۔
2️⃣۔۔۔رظوی برادران اور تحریک لبیک کے قائدین روپوش ہیں اور اہل سنت علماء مفتیان کرام سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ وہ سر پر کفن باندھ کر نکل پڑیں۔۔۔۔اس پر بھی اعتراض درست نہیں ہے،بلکہ یہاں پر تحریک کے ذمہ داروں کو اور عوام اہل سنت کو ایک بہت بڑا سیاسی عمل سمجھایا جا رہا ہے
۔
وہ یہ ہے کہ قبلہ مفتی صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں رظوی برادران خود روپوش ہیں نہیں فرمایا تحریک کے بڑے قائدین روپوش خود ہیں یہ نہیں فرمایا۔۔۔الفاظ کے چناؤ کی باریکیوں پر غور کیجئے۔۔۔۔مفتی صاحب کے اس کلام سے چند لفظ پہلے یہ موجود ہے کہ تنظیم میں جب بڑے قائدین کا کوئی مسئلہ ہو جاتا ہے تو نچلی سطح پر کوئی نہ کوئی تحریک کو سنبھالتا ہے ذمہ داری لیتا ہے،لیکن تحریک لبیق کے نچلے سطح پر کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا رہا، مطلب قبلہ مفتی صاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نچلی سطح کے قائدین روپوش ہیں خاموش ہیں،خاص رظوی برادران روپوش ہیں یا روپوش کیے گئے ہیں کچھ بھی مطلب بن سکتا ہے مفتی صاحب کے کلام سے
۔
جب تحریک کے نچلی سطح کے ذمہ داران خاموش ہیں عملا روپوش ہیں تو یہ عوام اہل سنت سمجھ جاؤ کہ اس قدر حالات بگڑے ہوئے ہیں کہ جب خود تحریک کے بندے ہی نچلی سطح کے ذمہ دار ہی اٹھ کھڑے نہیں ہو رہے تو پھر اپ دیگر علماء و اکابرین اہلسنت پر تحقیر طعن و تشنیع نہ کریں کہ وہ کھڑے نہیں ہو رہے
۔
ہر چیز کا ایک مناسب وقت،مناسب حالات ہوتے ہیں۔۔۔ڈاکٹر شفیک امینی صاحب اور وذیر القادری صاحب تحریک کے بڑے اہم ذمہ دار ہیں لیکن وہ تحریک کے معاملے میں اور رظوی برادران کے معاملے میں سرگرم نہیں ہیں،تو اے عوام اہلسنت ، اے تحریک لبیق کے کارکنان اپنی اصلاح کرو اور علماء کو تحقیر طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناؤ،کیونکہ جب خود اپ کے نچلی سطح کے ذمہ دار ہی ذمہ داری نہیں اٹھا پا رہے تو سمجھ جاؤ کہ دیگر علماء کرام کیسے ذمہ داری اٹھا پائیں گے
۔
کیا اپ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کی اس سخت پالیسی کی سزا دیگر علماء اور مدارس کو بھی ملے اور علماء اور مدارس بھی بند ہوتے جائیں اور اہل سنت کمزور سے کمزور ہوتی جائے۔۔۔؟؟
۔
3️⃣یقین مانیے عالمی سطح کی سوچ پر سیاست کی جائے تو یا تو موجودہ حکمران انتہائی مجبور ہیں یا پھر انتہائی سیاسی بصیرت والے ہیں یا پھر انتہائی منافق
👈1۔۔۔عالمی سطح کی مجبوری سمجھ میں بھی اتی ہے،اگر تحریک لبیق اور اہلسنت مسلسل دھرنوں احتجاجوں طاقت ڈنڈا وغیرہ کے ذریعے سے ملک کو جام کرتی رہے اور مطالبات منواتی رہے تو یہ عالمی طاقتوں کو کب بھائے گا۔۔۔؟؟ ضرور انہوں نے تحریک لبیق کو ختم کر دینے کا ٹاسک ہی دیا ہوگا موجودہ پاکستانی حکمرانوں کو۔۔۔۔۔ اور موجودہ پاکستانی حکمران انتہائی جبر اور مجبوری میں ہوں گے اور انہوں نے کم سے کم ڈیمج کر کے تحریک کو ایک قسم کا وقتی طور پر خاموش کر دیا۔۔کیونکہ عالمی سطح کی پابندیاں لگ جائیں تو ہم پڑوسی دشمن ممالک تو کیا اندرونی دشمنوں سے بھی نہ لڑ پائیں گے۔۔۔۔اور ادویات ٹیکنالوجی جدید تعلیم معیشت تجارت ایٹم بم لڑاکا طیارے اور اسلحہ تمام چیزوں پر پابندی لگ جاتی تو پھر ہم بھلا کس سے لڑ سکتے۔۔۔۔؟؟ بلکہ خطرہ ہوتا کہ عالمی طاقتیں تحریک لبیق کا بہانہ بنا کر پاکستان کو ہی دہشت گرد ڈیکلیئر کر دیتی جیسے کہ ایران کو ڈیکلیئر کر دیا گیا ہے افغانستان کو ڈیکلیئر کر دیا گیا ہے۔۔ان حالات میں رظوی برادران اور تحریک کے بڑوں بڑوں کا اغوا ہو جانا یا روپوش خود ہو جانا یا خاموش ہو جانا اور دیگر علماء کا بھی خاموش ہو جانا یا انہیں روپوش کرانا، وقتی طور پر خاموش کرانا ہی وقتی طور پر عافیت کا معاملہ لگتا ہے
۔
👈2۔۔۔عین ممکن ہے کہ موجودہ حکومت نے رظوی برادران کو روپوش کر کے تحریک کو ٹھنڈا کر دیا تاکہ فورا اس پر پابندی نہ لگانا پڑے اور ہمیشہ کے لیے اس پر پابندی نہ لگانا پڑے،عین ممکن ہے کہ عالمی طاقتیں رظوی برادران کو عالمی سطح کا دہشت گرد ڈیکلیئر کر کے سزا کا مطالبہ کرتی تو کیا جواب دے سکتے تھے حکمران۔۔۔اس لیے روپوش ہونا یا روپوش کرنا ہی وسیع سیاست بصیرت لگتی ہے،ہاں ہمیں ظلم پر افسوس ہے لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پورے پاکستان یا اہلسنت پر وسیع پیمانے پر ظلم ہوتا تو بہتر تھا یا پورے پاکستان کا ظلم تحریک لبیق کے چند مجاہدین نے اپنے سر لے لیا اور شہادت پا لی اور روپوشی پالی اور دیگر اہل سنت کو بچا لیا بہتر ہے۔۔۔۔۔؟؟
۔
👈3۔۔۔ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جو بات بات پہ بدل جاتے ہوں،من مرضیاں کرتے ہوں اور گناہوں میں خباثتوں میں خود ملوث ہوں تو ان کے متعلق احتیاط یہی ہے کہ یہ نہ سوچا جائے کہ وہ ہمارے خیر خواہ ہیں بلکہ یہ احتیاط بھی رکھی جائے کہ ممکن ہے کہ وہ مجبور ہوں لیکن لگتا یہی ہے کہ وہ منافق ایجنٹ ہیں کہ جیسے ہی کوئی بہانہ ملا تو تحریک لبیق کو مکمل طور پر کلعدم کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن نہ کر پائے اور کچھ حد تک ڈیمیج کر پائے،ان منافقوں پر کوئی بھروسہ نہیں۔۔۔۔ہم اٹھیں گے لیکن وقت و حکمت کے ساتھ
اس وقت کارکنان کی تربیت و سوچ کو بہتر کرنا بھی لازمی ہے اور ساری باتین بڑے بڑے لوگ سرعام نہیں کر سکتے
۔
🟩مجھے یہ سمجھ اتا ہے اکابرین کی روش سے کہ:
اے تحریک لبیق کے کارکنان اور اہل سنت کے کارکنان اپنے جذبے جوش ہمت کو ٹھنڈا مت ہونے دو۔۔۔ہم اکابرین بظاہر اپ لوگوں کو ڈانٹیں گے لیکن اپ لوگوں نے کبھی بھی جوش کو ختم ہونے نہیں دینا،اپ لوگ اپنا کام کریں اپنی ذمہ داری نبھائیں اور ہمیں اپنی ذمہ داری نبھاتے رہنے دیں،ہاں گالم گلوچ لعن طعن سے پرہیز کریں تاکہ سیاست پاکیزہ رہے کہ اپ لوگ ہمیشہ کہتے رہو کہ اپ علماء اکابرین ہمارے سروں کے تاج ہیں لیکن فلاں مسئلے میں اپ لوگ کیوں خاموش ہیں،فلاں مسئلے میں ایسا ہونا چاہیے،فلاں مسئلے میں اپ لوگ نکلے ہم اپ کے ساتھ ہیں،اپ لوگ کیوں نہیں نکل رہے،کسی مسئلے میں کسی مطالبے میں لاکھوں کروڑوں ٹویٹس پوسٹیں مطالبہ مناسب انداز میں انے چاہیے،عملی طور پر بھی وقتا فوقتا تقاضا کرتے رہو مناسب الفاظ میں۔۔۔۔اس طرح مناسب انداز الفاظ میں تقاضا کرتے رہیں تاکہ ہمیں بھی مزید جوش اور جذبہ ملتا رہے اور حکمرانوں سے ہم کہہ سکیں کہ دیکھو یہ صرف ہماری بات نہیں بلکہ یہ عوامی تقاضہ ہے۔۔۔حکمرانوں کے جبر کی وجہ سے کبھی ہمیں ڈانٹنا بھی پڑے گا لیکن اپ لوگوں نے کبھی تھوڑی خاموشی اور پھر وہی جوش جذبہ،اور وقتا فوقتا ہمیں اور حکمرانوں اور عوام کو یاد دہانی کراتے رہنا ہے
۔
✅جوش اور ہوش دونوں لازم،دونوں نعمتیں ہیں
القرآن:
اے ایمان والو ہوشیاری،احتیاط سے کام لو..(سورہ نساء آیت71)جوش کے ساتھ ساتھ ہوش بھی ضروری ہے..اور ہوش کے ساتھ ساتھ جوش بھی ضروری ہے۔۔۔۔اس وقت ہوش اور جوش اسی طرز میں نظر اتا ہے جو میں نے اوپر اسلاف کی روش سے سمجھ کر لکھا
واللہ تعالی اعلم و رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلم بالصواب
.
📌 *#نوٹ*
دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475