🟦 *#شیعہ کا جھنڈا علم دجالی کیوں ہے۔۔؟؟ خراسان کونسے علاقے اور کالے جھنڈے اور امام مھدی کا جھنڈا۔؟حسینی جھنڈا۔؟سیدنا عباس علمبردار کا جھنڈا۔؟ امام مہدی کی کچھ مخصوص نشانیاں، شیعہ اور مرزا جہلمی۔۔؟ تفصیل و دلائل پڑھیے اس تحریر میں۔۔خلاصے کے8پوئنٹ تو ضرور پڑھیے*
۔
🔵 *#سوال*
بڑے عرصے سے مختلف احباب کرام حکم فرماتے رہے کہ تحقیق لکھیں کہ شیعوں کا جھنڈا حسینی جھنڈا ہے یا امام مہدی والا جھنڈا ہے، سیدنا عباس علمبردار والا جھنڈا ہے یا کچھ اور ہے۔۔۔؟؟ اور خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے اس میں امام مہدی ہوں گے کئی لوگ اس کو شیعہ کے حق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں تو حقائق کیا ہیں۔۔۔؟؟ اور مرزا جہلمی کہتا ہے کہ امام مہدی کے لیے سوٹ ایبل بندہ میں مرزا جہلمی ہوں کیونکہ میں نے ان کے لیے سارا کام تحقیقات جمع کر رکھی ہیں،جہلمی کو بھی جواب دینے کے لیے تحریر میں دلائل ضرور شامل کریں
۔
🟩 *#جواب و تحقیق*
👈👈خلاصہ ضرور ضرور پڑھیں اور گالیاں دینے مذمت لعن طعن کرنے کے بجائے اگے دییے گئے دلائل و حوالہ جات پڑھیں سمجھیں، اللہ کریم ہدایت کا باعث بنائے
۔
پوائنٹ نمبر1️⃣.... رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ👈 امام مہدی آئیں گے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی 👈سنتوں کو زندہ کریں گے دین اسلام کے سربلندی کریں گے اور خراسان سے ایک لشکر ہوگا جس میں امام مہدی بھی ہوں گے اور ان کے کالے جھنڈے ہوں گے اور دو ٹوک لکھا ہے کہ
👈 امام مہدی کا جھنڈا چار کونوں والا
👈 رسول کریم والا جھنڈا چار کونوں والا
👈حسینی جھنڈا چار کونوں والا
👈سیدنا عباس علمبردار کا جھنڈا چار کونوں والا
ہے
🚨جبکہ شیعہ کا جھنڈا تو تین کونوں والا ہے تو لہذا امام مہدی کا جھنڈا شیعہ والا جھنڈا نہ ہوگا اور شیعہ کا جھنڈا امام مہدی والا جھنڈا نہیں ہے،سیدنا عباس علمبردار والا جھنڈا نہیں ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا جھنڈا نہیں ہے
۔
پوائنٹ نمبر2️⃣...👈امام مہدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے اور امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی پیروی کریں گے اور شیعہ کتابوں میں لکھا ہے کہ امام حسن نے فرمایا ہے کہ چار خلفائے راشدین سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق سیدنا عثمان غنی سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہما اجمعین برحق سچے ہدایت والے ہیں انہوں نے کوئی بدعت جرم گناہ فسق وغیرہ کچھ نہیں کیا، کوئی حق نہیں مارا تو👈 لہذا امام مہدی اہلسنت والے افکار و نظریات و اعمال نافذ فرمائیں گے کیونکہ وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی سنتیں ہیں 👈جبکہ شیعہ کے مذہب کو ترویج نہ دیں گے بلکہ ختم کر دیں گے
🌹✅لیھذا
امامت خلافت کا مسئلہ ہو
افضلیت کا مسئلہ ہو
میراث رسول نہ ہونے کا مسئلہ
باغ فدک کا مسئلہ
اہلبیت سے ادب و احترام کا مسئلہ
کلمہ اذان نماز زکواۃ وغیرہ کا مسئلہ
ماتم سوگ تعزے شبیہ علم جھنڈے یا لباس کا مسئلہ ہو
تمام مسائل معاملات نظریات میں اہلسنت والے نظریات و مسائل و تعلیمات برحق ہیں، امام مھدی انہیں کو نافذ و بحال فرمائیں گے
۔
پوائنٹ نمبر3️⃣.... رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں اور اس کے بعد کے قریب قریب کے زمانہ مبارک میں 👈خراسان ان علاقوں کو کہا جاتا ہے جو اج کل پاکستان کے شمالی علاقے اور افغانستان کے کچھ علاقے اور اذربائجان کے کچھ علاقے اور تاجکستان کے کچھ علاقے اور ایران کی کچھ علاقے یہ ساری ایک پٹی خراسان کہلاتی تھی،
👈 لہذا ان علاقوں میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہوں گے سچے پیروکار ہوں گے خلفائے راشدین کے پیروکار ہوں گے اہل بیت کرام کے پیروکار سچے پیروکار ہوں گے 👈یعنی سچے اہلسنت ہوں گے وہی امام مہدی کے پیروکار اور لشکر اور مجاہد ہوں گے 👈باقی شیعہ اپنے مخصوص شیعہ نظریات پر ہوتے ہوئے امام مہدی کے پیروکار نہیں، امام مہدی انہیں شیعیت رافضیت سے نکال کر اہلسنت نظریات میں ڈالیں گے اور جو شیعہ اور خوارج قادیانی وغیرہ وغیرہ باطل و بدمذہب فرقے امام مہدی کی نہ مانیں گے ان سے امام مہدی جہاد اور لڑائی فرمائیں گے
۔
پوائنٹ نمبر4️⃣... رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو جھنڈا مبارک تھا وہی جھنڈا مبارک امام مہدی کا ہوگا اور وہی جھنڈا امام حسین اور اہل بیت کا ہے اور👈 دو ٹوک لکھا ہے کہ یہ نبوی جھنڈا تو حسینی جھنڈا،عباس علمبردار کا جھنڈا،خلفائے راشدین کا جھنڈا اور امام مہدی کا جھنڈا 👈یہ جھنڈا چار کونوں والا ہے،🚨تو شیعوں کا مروجہ تکونی علم جھنڈا منگھڑت ہے، اسکی کوئی فضیلت نہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جھنڈا مبارک کو کبھی بھی چار کونوں سے ہٹا کر تین کونوں والا نہیں بنایا
لیکن
👈👈رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجھنڈوں کےرنگ مختلف تجویز فرمائے جیسے سفید سبز وغیرہ تو اج کے دور میں امام مہدی کے انے سے پہلے جس رنگ کے بھی مناسب جھنڈے اہلسنت اہل حق کی پہچان ہوں وہ جائز و بہتر ہیں بشرط کہ چار کونوں والے ہوں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ چار کونوں والا جھنڈا اپنایا ہے،لیھذا اج کے دور میں کالا رنگ اہل بدعت خوارج داعش اور شیعوں کی نشانی ہے تو اس لیے اس کالے رنگ سے فی الحال اس دور میں اجتناب کیا جائے گا، لیکن جب امام مہدی تشریف لائیں گے تو وہ تمام مشابہات وغیرہ کو ختم کر دیں گے
۔
پوائنٹ نمبر5️⃣....شیعہ کا جھنڈا تو دجالی ایلومیناتی نشان ٹرائنگل جیسے ▲۔۔۔◀ سے ملتا جلتا ہے، بس فرق اوپر نیچے دائیں بائیں زاویے کا ہے ورنہ دجالی ایلومیناتی تکونی نشان دجال و دشمنان اسلام کا ہے اسی طرح تکونی نشان شیعہ کے جھنڈے کا ہے، کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر دجالی قوتوں کا یہ اشارہ ہے کہ شیعہ فرقہ ہم نے بنایا اور یہ ہمارا ہی منافق ٹولہ ہے جس نے لباس اسلام پہنا ہوا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
۔
پوائنٹ نمبر6️⃣....مرزا جہلمی کہ جاہل و گستاخ ہونے کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ احادیث مبارکہ میں ہے کہ امام مہدی کو اللہ تعالی "علم لدنی" عطا فرمائے گا اور انہیں کسی کے علم کی ضرورت نہیں ہوگی
۔
پوائنٹ نمبر7️⃣۔۔۔امام مھدی کی چند مخصوص علامات و نشانیاں ہونگی مثلا
1...چار کونوں والا جھنڈا علم نبوی و حسینی جھنڈا انکا جھنڈا ہوگا
2...رسول کریم کی سچی تعلیمات جو خلفاء راشدین صحابہ کرام اہلبیت عظام کی بھی تھیں، وہ تعلیمات نظریات اعمال اہلنست نے اپنائی ہوئی ہیں تو امام مہدی یہی اہلسنت والی نظریات و تعلیمات اعمال نافذ فرمائیں گے
3....کندھے پے نشانی ہوگی
4.. آسمان سے غیبی اواز سے انکی حتمی پہچان ہوگی
۔
پوائنٹ نمبر8️⃣۔۔۔۔ ہم نے اس تحریر میں جو احادیث مبارکہ و روایات وغیرہ لائی ہیں وہ اگر انفرادی طور پر ضعیف مان بھی لی جائیں تو بھی تعدد طرق وغیرہ کی وجہ سے حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہیں اور اس پر ہم تحریر کے بالکل اخر میں حوالہ جات لکھ دیں گے کہ تعدد طرق سے تمام مکاتب فکر کے نزدیک روایت و احادیث حسن معتبر بن جاتی ہے دلیل بن جاتی ہے
🔴🔴🔴🔴🔴🔴
🟦اب کچھ تفصیل و دلائل و حوالہ جات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ، لَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ
بِإِيلِيَاءَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی شکست نہیں دے سکے گا یہاں تک کہ فتح کے وہ جھنڈے ایلیا میں گاڑھے جائیں گے
(ترمذی حدیث2269)
.
، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ، فَأْتُوهَا؛ فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللهِ الْمَهْدِيَّ
سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ کالے جھنڈے خراسان کی طرف سے ا رہے ہیں تو تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ کہ اس لشکر میں امام مہدی ہوں گے جو اللہ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوں گے
(مسند احمد حدیث22387)
۔
👈👈کالے جھنڈے کیسے ہونگے، چار کونے والے یا تین کونے والے۔۔۔۔۔؟؟
علي قال المهدي...كتفه علامة النبى يخرج براية النبى - صلى الله عليه وسلم - من مرط معلمة سودا مربعة
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی کی نشانی یہ ہے کہ
👈 اس کے کندھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ نشان ہوگا اور 👈امام مہدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مبارک جو کالا ہوگا چار کونوں والا ہوگا وہ لے کر نکلیں گے
(جامع الأحاديث سیوطی32/116)
(عقد الدرر في أخبار المنتظر ص103)
(كنز العمال 14/590)
(الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي2/639)
.
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاهى؟ فَقَالَ: «كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً
راوی فرماتے ہین کہ مجھےحضرت محمد بن قاسم نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کیسے ہوا کرتے تھے تو حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کےجھنڈے کالے رنگ کے👈 چار کونے والے ہوتے تھے
(ابو داود حدیث2591)
مسئلہ نمبر1️⃣۔۔۔
ثابت ہوا کہ
👈سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مبارک چار کونوں والا تھا اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور اہل بیت نے خلفائے راشدین کی تعلیمات اور روایات وغیرہ کو بدعت قرار نہیں دیا حق قرار دیا تو
👈حسینی جھنڈا چار کونوں والا ہے اور
👈سیدنا عباس علمبردار کا جھنڈا چار کونوں والا ہے
👈امام مہدی کا بھی یہی جھنڈا ہے چار کونوں والا
اور
👈 اہلسنت کا جھنڈا بھی چار کونوں والا ہوتا ہے
جبکہ
🚨 شیعہ کا جھنڈا نہ تو سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم والا ہے اور نہ ہی حسینی ہے اور نہ ہی امام مہدی والا جھنڈا ہے بلکہ یہ دجالی ایلومیناتی تثلیث مثلث تکونی والا ہے
۔
مسئلہ نمبر2️⃣...
خراسان علاقوں کو کہا جاتا ہے جو اج کل پاکستان کے شمالی علاقے اور افغانستان کے کچھ علاقے اور اذربائجان کے کچھ علاقے اور تاجکستان کے کچھ علاقے اور ایران کی کچھ علاقے یہ ساری ایک پٹی خراسان کہلاتی تھی،
👈 لہذا ان علاقوں میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہوں گے سچے پیروکار ہوں گے خلفائے راشدین کے پیروکار ہوں گے اہل بیت کرام کے پیروکار سچے پیروکار ہوں گے 👈یعنی سچے اہل سنت ہوں گے وہی امام مہدی کے پیروکار اور لشکر اور مجاہد ہوں گے 👈باقی شیعہ اپنے مخصوص شیعہ نظریات پر ہوتے ہوئے امام مہدی کے پیروکار نہیں، امام مہدی انہیں شیعہ رافضیت سے نکال کر اہل سنت نظریات میں ڈالیں گے اور جو شیعہ امام مہدی کی نہ مانیں گے ان سے جہاد اور لڑائی ہوگی
۔
👈👈خراسان ان علاقوں کو کہتے ہیں۔۔۔۔!!
خُراسَانُ:بلاد واسعة، أول حدودها مما يلي العراق أزاذوار قصبة جوين وبيهق، وآخر حدودها مما يلي الهند طخارستان وغزنة وسجستان وكرمان، وليس ذلك منها إنما هو أطراف حدودها، وتشتمل على أمّهات من البلاد منها نيسابور وهراة ومرو، وهي كانت قصبتها، وبلخ وطالقان ونسا وأبيورد وسرخس وما يتخلل ذلك من المدن التي دون نهر جيحون، ومن الناس من يدخل أعمال خوارزم فيها ويعدّ ما وراء النهر منها وليس الأمر كذلك، وقد فتحت أكثر هذه البلاد عنوة وصلحا... وذلك في سنة ٣١ في أيام عثمان، رضي الله عنه
ترجمہ:
خراسان ایک بہت وسیع خطہ تھا۔ اس کی ابتدائی سرحد عراق کی جانب ازاذوار، جوین اور بیہق سے شروع ہوتی تھی (آج کا شمال مشرقی ایران)، اور اس کی آخری سرحد ہند کی طرف طخارستان، غزنی، سجستان اور کرمان تک جاتی تھی (آج کا افغانستان، ایران اور پاکستان سے متصل شمالی مغربی علاقے)۔ یہ علاقے خراسان کی سرحدی اطراف شمار ہوتے تھے۔خراسان میں بڑے اور اہم شہر شامل تھے، جیسے نیشاپور (ایران)، ہرات (افغانستان)، مرو (ترکمانستان، جو اس وقت دارالحکومت تھا)، بلخ (افغانستان)، طالقان (افغانستان)، نَسا، ابیورد اور سرخس (ایران و ترکمانستان کے سرحدی علاقے)، اور وہ تمام شہر جو دریائے جیحون (آج کا آمو دریا) کے اس پار نہیں بلکہ اس کے اس طرف واقع تھے۔کچھ لوگ خوارزم (ازبکستان/ترکمانستان) کو بھی خراسان میں شامل کرتے ہیں اور ما وراء النہر (وسطی ایشیا) کو بھی خراسان کا حصہ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔خراسان کے علاقوں میں سے زیادہ تر علاقے جنگ کے ذریعے یا صلح کے معاہدوں سے فتح کیے گئے، اور یہ فتوحات 31 ہجری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئیں۔
(معجم البلدان حموی 2/350)
۔
مسئلہ نمبر3️⃣
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو جھنڈا مبارک تھا وہی جھنڈا مبارک امام مہدی کا ہوگا اور وہی جھنڈا امام حسین اور اہل بیت کا ہے اور👈 دو ٹوک لکھا ہے کہ یہ جھنڈا نبوی جو جھنڈا حسینی جھنڈا خلفائے راشدین کا جھنڈا اور امام مہدی کا جھنڈا ، سیدنا عباس علمبردار کا جھنڈا چار کونوں والا ہے،🚨تو شیعوں کا مروجہ تکونی علم جھنڈا منگھڑت ہے، اسکی کوئی فضیلت نہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جھنڈا مبارک کو کبھی بھی چار کونوں سے ہٹا کر تین کونوں والا نہیں بنایا
لیکن
👈👈رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجھنڈوں کےرنگ مختلف تجویز فرمائے جیسے سفید سبز وغیرہ تو اج کے دور میں امام مہدی کے انے سے پہلے جس رنگ کے بھی مناسب جھنڈے اہل سنت اہل حق کی پہچان ہوں وہ جائز و بہتر ہیں بشرط کہ چار کونوں والے ہوں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ چار کونوں والا جھنڈا اپنایا ہے،لیھذا اج کے دور میں کالا رنگ اہل بدعت خوارج داعش اور شیعوں کی نشانی ہے تو اس لیے اس کالے رنگ سے فی الحال اس دور میں اجتناب کیا جائے گا، لیکن جب امام مہدی تشریف لائیں گے تو وہ تمام مشابہات وغیرہ کو ختم کر دیں گے
🟩 نبی پاکﷺکےجھنڈے اور انکا رنگ........؟؟
*#سبز جھنڈے*
ومعهمْ لواء أخضر
اور(رمضان میں شب قدر کی رات جب فرشتے اترتے ہیں تو)فرشتوں کے ساتھ بڑا سبز جھنڈا ہوتا ہے
(الترغيب و الترهيب2/100)
.
*#پانچ رنگ کے عمامے، گویا پانچ رنگ کے جھنڈے*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " أَدْرَكْتُ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ يَعْتَمُّونَ بِعَمَائِمَ كَرَابِيسَ سُودٍ، وَبِيضٍ، وَحُمْرٍ، وَخُضْرٍ، وَصُفْرٍ،
راوی فرماتے ہیں کہ میں نے اولین ہجرت کرنے والے صحابہ کرام کو پایا اس طرح کہ وہ عمامے باندھتے تھے کالے رنگ کے اور سفید رنگ کے اور (ہلکے یا دھاری دار)سرخ رنگ کے اور سبز رنگ کے اور زرد رنگ کے
[المصنف استاد بخاری ,5/181 روایت24987]
.
*#چیتے کے رنگ کے اور کالے رنگ کے چار کونوں والےجھنڈے:*
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاهى؟ فَقَالَ: «كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ»
ترجمہ:
راوی فرماتے ہین کہ مجھےحضرت محمد بن قاسم نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کیسے ہوا کرتے تھے تو حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کےجھنڈے کالے رنگ کے ہوتے تھے، چار کونے والے ہوتے تھے، چیتے کے رنگوں والے ہوتے تھے(چیتے کے رنگ والا مطلب سفید مٹیالہ کالے نقطوں والا)
[سنن أبي داود ,3/32حدیث2591]
.
.
*#سفید جھنڈے*
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «كَانَ لِوَاؤُهُ يَوْمَ دَخَلَ مَكَّةَ أَبْيَضَ
ترجمہ:
جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا(بڑا مرکزی)جھنڈا مبارک سفید تھا
[سنن أبي داود ,3/32حدیث2592]
.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ السَّالِحَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ لَاحِقَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ
ترجمہ:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے جھنڈے کالے ہوتے تھے اور آپ کا بڑا جھنڈا سفید ہوتا تھا
[سنن الترمذي حدیث1681]
.
*#سرخ جھنڈے*
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ بُسْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا الرِّحَالُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أبِيهِ، عَنْ كَرِيزِ بْنِ سَامَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ رَايَةً لِبَنِي سُلَيْمٍ حَمْرَاءَ
بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سلیم کے لیے سرخ رنگ کا جھنڈا باندھا
[المعجم الكبير للطبراني ,19/189حدیث425]
.
*#زرد جھنڈے*
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ آخَرَ مِنْهُمْ قَالَ: رَأَيْتُ «رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ»
راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مبارک دیکھا وہ زرد رنگ کا تھا
[سنن أبي داود ,3/32حدیث2593]
۔
✅الحاصل:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈے کے رنگ میں سخت پابندی نہیں فرمائی سفید رنگ کالے رنگ زرد رنگ سرخ رنگ وغیرہ دیگر رنگ کے جھنڈے ہو سکتے ہیں بشرطیکہ کسی برے سے مشابہت نہ ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈے کا رنگ تو بدلا
لیکن جھنڈے ہمیشہ چار کونوں والے ہی رہے، لیھذا کسی بھی رنگ کا جھنڈا اس وقت استعمال ہو سکتا ہے لیکن چار کونوں والا ہونا لازمی ہے
لیھذا
👈رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا چار کونوں والا
👈صحابہ کرام علیھم الرضوان کا جھنڈا چار کونوں والا
👈اہل بیت کرام علیہم رضوان کا جھنڈا چار کونوں والا
👈سیدنا علی سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا جھنڈا چار کونوں والا
👈حسینی جھنڈا چار کونوں والا
👈سیدنا عباس علمبردار کا جھنڈا چار کونوں والا
👈امام مہدی کا جھنڈا چار کونوں والا
✅لیھذا
اہل سنت کا جھنڈا برحق و بابرکت ہے جو سنت کے موافق ہے صحابہ کرام کے مطابق ہے اہل بیت والا جھنڈا ہے حسینی جھنڈا ہے 👈سیدنا عباس علمبردار والا جھنڈا ہے امام مہدی والا جھنڈا ہے یعنی چار کونوں والا جھنڈا
🚨جبکہ شیعہ کا جھنڈا تین کونوں والا ہے جو کہ نہ تو رسول کریم کا جھنڈا ہے اور نہ اہل بیت کا جھنڈا ہے اور نہ ہی حسینی جھنڈا ہے اور نہ ہی سیدنا عباس علمبردار والا جھنڈا ہے اور نہ ہی امام مہدی والا جھنڈا ہے اور نہ ہی صحابہ کرام والا جھنڈا ہے
بلکہ
🚨شیعہ کا جھنڈا تو دجالی ایلومیناتی شکل سے ملتا جلتا مردود بےبرکت جھنڈا ہے
🤲🤲پہچانو
۔
🟥👊ہم نے یہاں یہ لکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہم وغیرہ نے صحابہ کرام کو نیک متقی پرہیزگار قرار دیا اور ان کی سنتوں پر ان کے طریقہ کار پر چلنے کو لازم قرار دیا تو خود بھی لازما اسی طریقے پر چلیں گے جس پر دوسروں کو چلنے کا حکم دیا لہذا صحابہ کرام اہل بیت عظام سب کا جھنڈا چار کونوں والا ہے حسینی جھنڈا چار کونوں والا ہے عباس علمبردار کا جھنڈا چار کونوں والا ہے اور خلافت باغ فدک گھر کی بے حرمتی ماتم سوگ تعزیے متعہ وغیرہ تمام مومنات میں صحابہ کرام کے فتوے وہی ہیں جو اہل بیت کرام کے فتوے ہیں۔۔۔اس کا حوالہ جات و دلائل ابھی
نیچے🔷 کی لیکر کے بعد ملاحظہ کیجیے
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
🟥✅دو اہم حوالہ جات نوٹ کرلیجیے،👊 بات کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہیں
🌹1️⃣حوالہ نمبر1
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
بأصحاب نبيكم لا تسبوهم الذين لم يحدثوا بعده حدثا ولم يؤووا محدثا، فإن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أوصى بهم
حضرت علی وصیت و نصیحت فرماتے ہیں کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق میں تمھیں نصیحت و وصیت کرتا ہوں کہ انکی برائی نہ کرنا ، گالی لعن طعن نہ کرنا(کفر منافقت ظلم تو دور کی بات) انہوں نے نہ کوئی بدعت نکالی نہ بدعتی کو جگہ دی،بےشک رسول کریم نے بھی صحابہ کرام کے متعلق ایسی نصیحت و وصیت کی ہے.(شیعہ کتاب بحار الانوار22/306)
✅ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے کیونکہ انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی
.
🌹سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
إنه بايعني القوم الذين بايعوا أبا بكر وعمر وعثمان على ما بايعوهم عليه، فلم يكن للشاهد أن يختار ولا للغائب أن يرد، وإنما الشورى للمهاجرين والأنصار، فإن اجتمعوا على رجل وسموه إماما كان ذلك لله رضى
میری(سیدنا علی کی)بیعت ان صحابہ کرام نے کی ہےجنہوں نےابوبکر و عمر کی کی تھی،یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کسی کی بیعت کرلیں تو اللہ بھی راضی ہے، ہمیں بھی راضی ہونا ہوگا(اور وہ خلیفہ برحق کہلائے گا) تو ایسی بیعت ہو جائے تو دوسرا خلیفہ انتخاب کرنے یا تسلیم نہ کرنے کا حق نہیں(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص491)
۔
🌹حضرت علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:
رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً
میں(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ بہت عجر و انکساری والے، بہت نیک و عبادت گذار تھے(فاسق فاجر ظالم غاصب نہ تھے)تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں...(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر کتاب نہج البلاغہ ص181)
۔
✅شیعہ کتاب میں موجود سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ان فرامین سے ثابت ہوتا ہے کہ
۔
👈1۔۔۔سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق دو ٹوک یا ڈھکے چھپے الفاظ میں گستاخی نہیں کرسکتے
۔
👈2۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ
سیدنا علی کے مطابق سیدنا ابوبکر و عمر مہاجرین انصار صحابہ کرام برحق سچےاچھےتھے ،انکی خلافت برحق تھی تبھی تو سیدنا علی نے انکی بیعت کو دلیل بنایا.....!!
۔
👈3۔۔۔اس قول سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق رسول کریمﷺنے دوٹوک کسی کو خلیفہ نہ بنایا اگر بنایا ہوتا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی رائے و انتخات کو وقعت نہ دیتے بلکہ وہ نص بیان فرماتے کہ میں تو فلاں آیت یا حدیث کی وجہ سے خلیفہ بلافصل ہوں....
۔
👈4۔۔۔۔اس قول مبارک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی کے مطابق خلافت میں پہلا نمبر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرا نمبر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا...
۔
👈5۔۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر وغیرہ صحابہ کرام کافر مشرک مرتد منافق ظالم غاصب بدعتی نہ تھے، انہوں نے خلافت نہ چھینی نہ ہی باغ فدک چھینا ، نہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے گھر کے بےحرمتی کی بلکہ خلافت و باغ فدک و دیگر تمام کے تمام معاملات میں بھی سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام کا فیصلہ شریعت و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا
۔
👈6۔۔۔۔اس قول مبارک سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام نیک و عبادت گذار سچے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ انکی تعریف و مدح کرتے تھے
۔
👈👊7۔۔۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا مبارک چار کونوں والا تھا تو صحابہ کرام نے کوئی بدعت نہیں نکالی انہوں نے بھی وہی جھنڈا جاری رکھا چار کونوں والا،اور ماتم متعہ سوگ تعزیہ وغیرہ جو بدعتیں و حرام کام جنکو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام و ممنوع قرار دیا اس کو انہوں نے بھی سختی سے حرام و ممنوع ہونے کو پھیلایا، سختی سے ان گناہوں ممنوعات سے روکا،،،اپنی طرف سے نہیں روکا۔۔۔اگر اپنی من مرضی سے روکا ہوتا تو یہ دین میں اضافہ کرنا من مانی کرنا بدعت کرنا کہلاتا اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اس کی خوب مذمت فرماتے لیکن سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ صحابہ کرام خلفائے راشدین بدعتی نہیں ہیں نیک صالح ہیں متقی پرہیزگار ہیں انہوں نے کوئی بدعت ایجاد نہیں کی انہوں نے تمام کام سنت کے مطابق کیے
.
🌹2️⃣دوسرا حوالہ
هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين
(شیعوں کے مطابق)امام حسن نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے
(شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)
۔
معاوية، وأعد لهم الخطباء فقال:يا حسن قم قبايع فقام وبايع، ثم قال للحسين عليه السلام: قم فبايع، فقام
فبايع
ثالثین نے کہا کہ اے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھیے اور امام معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کیجئے تو امام حسن اٹھے اور بیعت کی اور پھر امام حسن نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے فرمایا کہ اٹھیے بیعت کیجئے تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے بھی سیدنا معاویہ کی بیعت کی
(شیعہ کتاب بحار الأنوار - العلامة المجلسي44/61)
.
✅شیعہ کتابوں میں موجود سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہما کے اس عمل اور اس فرمان سے
ثابت ہوا کہ
👈1۔۔۔سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق امام علی گذرے تھے لیکن سیدنا حسن "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جسکا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسن کا وہی نظریہ تھا جو سچے اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنھم خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسن نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے امام حسن....
۔
👈2۔۔۔۔اور دوسری بات یہ بھی اہلسنت کی ثابت ہوئی کہ "قرآن و سنت" اولین ستون ہیں کہ ان پے عمل لازم ہے جبکہ شیعہ قرآن و سنت کے بجائے اکثر اپنی طرف سے اقوال گھڑ لیتے ہیں اور اہلبیت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں
۔
👈3۔۔۔۔اور سیدنا معاویہ کی حکومت سنت رسول و سیرت خلفاء پر اچھی تھی ورنہ ظالمانہ ہوتی تو سیدنا حسن حسین ضرور باءیکاٹ فرماتے صلح نہ فرماتے چاہے اس لیے جان ہی کیوں نہ چلی جاتی جیسے کہ یزید سے بائیکاٹ کیا
۔
👈4۔۔۔۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان وغیرہ تمام صحابہ کرام ظالم فاسق بدعتی منافق نہ تھے لہذا باغ فدک کا معاملہ ہو یا خلافت کا، متعہ ماتم سوگ تعزیے وغیرہ تمام معاملات میں سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان درست تھے، سنت رسول اور شریعت کے مطابق درست تھے انکے فیصلے ، انہوں نے کوئی ظلم کفر منافقت بدعت نہ کی کیونکہ سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفاء راشدین یعنی رشد و ہدایت والے خلیفہ قرار دے رہے ہیں
۔
👈👊5۔۔۔ سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے اس عمل سے ثابت ہوا اور اس فرمان سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام خلفائے راشدین نیک صالح متقی پرہیزگار تھے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جھنڈے مبارک کو نہیں بدلا اور ماتم سوگ تعزیے متعہ وغیرہ میں بھی خلفائے راشدین نے کوئی بدعت نہیں کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی سنت کو نہیں بدلا لہذا جھنڈا بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وعلی چار کونوں والا برقرار رہا اور سیدنا حسین حسن رضی اللہ تعالی عنہما جب خلفائے راشدین کو نیک متقی فرما رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ان کی پیروی کرنی ہے تو لازما سیدنا حسن حسین رضی اللہ تعالی عنہ بھی خلفائے راشدین کی پیروی فرماتے رہے لہذا حسینی جھنڈا علم یقینا چار کونوں والا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت والا تھا اور یہی جھنڈا امام مہدی کا بھی ہوگا لہذا شیعوں کا جھنڈا تین کونوں والا ثابت نہیں من گھڑت ہے
🟢🟢🟢🟢🟢
عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ فَقَالَ : إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ، يُشْبِهُهُ فِي الْخُلُقِ
ترجمہ:
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا بے شک یہ میرا بیٹا سردار ہے جیسے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سردار قرار دیا ہے اور سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہی امام مہدی ہوں گے جن کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہوگا امام مہدی اخلاقیات اعمال عقائد نظریات وغیرہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے مشابہ ہوں گے
(ابوداود حدیث4290ماخوذا)
🟦نتیجہ:
ثابت ہوا کہ تمام معاملات میں امام مہدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے اور امام حسن بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ عمل کرنے والے ہوں گے اور امام مہدی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والے ہوں گے لہذا جھنڈا بھی چار کونوں والا ہوگا اور سوگ ماتم تعزیے متعہ وغیرہ کو واضح طور پر حرام ظاہر کیا جائے گا کیونکہ حرام قرار تو رسول کریم نے دیا ہے جب کہ یہ پاسبان تو حرام ہونے کو زیادہ واضح اور ظاہر کریں گے، جیسے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے متعہ کی حرام ہونے کو زیادہ واضح اور ظاہر کیا، سختی سے نافذ کیا، اور اسی طرح خلافت باغ فدک وغیرہ تمام معاملات میں اہل سنت کے نظریات جو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریات سے ماخوذ ہیں وہی نافذ ہوں گے،شیعہ کے نظریات و اعمال کو واضح طور پر باطل مردود ظاہر کیا جائے گا اور امام مہدی شیعہ کے ان سب نظریات و اعمال کو برا قرار دے کر ختم کر دیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ جو کہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے ذریعے سے ہم تک پہنچی وہ وہی ہے جس پر اہل سنت قائم و دائم ہیں اور یہی امام مہدی نافذ فرمائیں گے
۔
🟢🟢🟢🟢🟢🟢
عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هُوَ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي، يُقَاتِلُ عَلَى سُنَّتِي كَمَا قَاتَلْتُ أَنَا عَلَى الْوَحْيِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میری عترت میں سے ہوگا اور وہ میری سنت بحال و نافذ کرنے پر جہاد کرے گا جیسے کہ میں نے وحی کو نافذ کرانے پر جہاد کیا ہے
(الفتن لنعيم بن حماد حدیث1092)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُولُ بِسُنَّتِي، يُنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَتُخْرِجُ لَهُ الْأَرْضُ مِنْ بَرَكَتِهَا، تُمْلَأُ الْأَرْضُ مِنْهُ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ
جَوْرًا وَظُلْمًا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اپ نے فرمایا کہ امام مہدی میری امت میں سے ایک مرد ہوگا جو کہ میری سنتوں کا قائل ہوگا، اللہ تعالی خوب بارشیں عطا فرمائے گا اور زمین خوب برکتیں عطا کرے گی اور امام مہدی زمین کو عدل اور انصاف کے ساتھ سنتوں کے ساتھ بھر دیں گے جیسے کہ پہلے زمین میں ظلم اور نا انصافی بھری ہوگی
(طبرانی اوسط حدیث1075)
۔
🟦نتیجہ:
امام مہدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو نافذ کرائیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں تو وہ ہیں کہ جس کے مطابق سیدنا امام حسن نے فرمایا کہ خلفائے راشدین کی تمام سنتوں طریقوں فیصلوں پر عمل کرو کیونکہ وہ نیک صالح بندے تھے رسول کریم کی سنتوں کے پابند تھے اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی صحابہ کرام کی تمام معاملات کو سنت قرار دیا سنتوں کا پابند قرار دیا اور انہیں بدعتی قرار نہ دیا لہذا صحابہ کرام اور اہل بیت عظام اور امام مہدی وہی عقائد نظریات اعمال نافذ فرمائیں گے کہ جن پر اہل سنت ہے، اور ان سنتوں کو نافذ کرانے کے لیے اور ان سنتوں کے خلاف جو نظریات خوارج اور شیعہ قادیانی وغیرہ فرقوں نے بنا رکھی ہوں گی ان کو ختم کرنے کے لیے جہاد فرمائیں گے
.🟢🟢🟢🟢🟢🟢
🟦امام مہدی کی عظیم نشانی یہ ہے کہ اسمان سے غیبی اواز ائے گی کہ یہ امام مہدی ہیں اس کی اطاعت کرو،8حوالہ جات پڑھیے
۔
1.....الحدیث:
سَتَكُون فتْنَة لَا يهدأ مِنْهَا جَانب إِلَّا جاش مِنْهَا جَانب حَتَّى يُنَادي مُنَاد من السَّمَاء: أَلا إِن أميركم فلَان " {وَكَانَ سعيد بن الْمسيب يَقُول: ذَلِك الْأَمِير حَقًا۔۔۔۔ وحَدثني أَبُو شُرَحْبِيل، قَالَ: حَدثنَا أَبُو الْيَمَان، قَالَ: حَدثنَا إِسْمَاعِيل، عَن ابْن أبي حُسَيْن، عَن سعيد بن الْمسيب، عَن طَلْحَة بن عبيد الله، عَن النَّبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ - مثل ذَلِك۔۔۔۔(" القَوْل فِي علل هَذَا الْخَبَر ")وَهَذَا خبر - عندنَا -صَحِيح سَنَده
امام طبری لکھتے ہیں کہ
صحیح سند کے ساتھ حدیث پاک ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرب قیامت اتنے فتنے ہوں گے کہ ایک جگہ سے فتنہ ٹھنڈا ہوگا تو دوسری جگہ سے بھڑک اٹھے گا اور اس وقت امام مہدی ائیں گے جس کی نشانی یہ ہے کہ اسمان سے غیبی اواز ائے گی کہ تمہارا خلیفہ تمہارا امیر فلاں بندہ امام مہدی ہے
(تهذيب الآثار - الجزء المفقود طبری ص337ملخصا)
۔
2....الحدیث:
حُذَيْفَة بن الْيَمَان يَقُول: قَالَ رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم...نَادَى مُنَاد من السَّمَاء: أَلا أَيهَا النَّاس {إِن الله قد قطع مُدَّة الجبارين وَالْمُنَافِقِينَ وأتباعهم، ووليكم الجابر جبر أمة مُحَمَّد - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ -: الحقوه بِمَكَّة؛ فَإِنَّهُ الْمهْدي، واسْمه: أَحْمد بن عبد الله
سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غیبی اواز ائے گی کہ اے لوگو یہ خلیفہ امام مہدی ہے جس کا نام احمد بن عبداللہ ہے اور یہ امت محمدیہ کے تمام نقصانات پورے فرما دے گا
( تهذيب الآثار - الجزء المفقود طبری ص337ملخصا)
۔
3......حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَرْوَانَ، عَنْ أَرْطَاةَ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ۔۔۔(القتال) وَذَاكَ بَعْدَ الْهَدَّةِ وَالْوَاهِيَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَبَعْدَ افْتِرَاقِ ثَلَاثِ رَايَاتٍ، يَطْلُبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ
الْمُلْكَ لِنَفْسِهِ
صحابی کعب فرماتے ہیں کہ فتنے قتال جنگوں اور تین لوگ اپنے لیے خلافت کے دعوی دار ہوں گے اس کے بعد غیب سے ایک اواز ائے گی جو امام مہدی کی نشانی ہوگی
(الفتن لنعيم بن حماد1/336)
.
4....بن طاوس...فتنة حتى يصيح صائح من السماء: إنّ الأمير فلان
سیدنا ابن طاؤوس فرماتے ہیں کہ اسمان سے غیبی اواز ائے گی کہ تمہارا امیر تمہارا خلیفہ فلاں امام مہدی ہے
(أخبار مكة - الفاكهي4/255)
.
5....سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " تَكُونُ فِتْنَةٌ كَأَنَّ أَوَّلَهَا لَعِبُ الصِّبْيَانِ، كُلَّمَا سَكَنَتْ مِنْ جَانِبٍ طَمَتْ مِنْ جَانِبٍ، فَلَا تَتَنَاهَى حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَلَا إِنَّ الْأَمِيرَ فُلَانٌ
سیدنا سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ قرب قیامت ایسا فتنہ ہوگا جیسے کہ بچوں کا کھیل.... ایک جانب سے ٹھنڈا ہوگا تو دوسری جانب سے بھڑک اٹھے گا اسی اثنا میں امام مہدی ائیں گے اور ان کی نشانی یہ ہوگی کہ اسمان سے ندا ائے گی کہ یہ امام مہدی تمہارے امیر و خلیفہ ہیں
(الفتن لنعيم بن حماد1/337)
.
6.....الْمُغيرَة بن عبد الرَّحْمَن، عَن أمه - وَكَانَت إمرأة قديمَة} - قَالَ: " قلت لَهَا لما كَانَت فتْنَة ابْن الزبير -: وَالله إِن هَذِه لفتنة يهْلك فِيهَا النَّاس {قَالَت: كلا يَا بني} وَلَكِن تكون بعْدهَا فتْنَة يهْلك النَّاس فِيهَا، لَا يَسْتَقِيم أَمرهم على أحد، حَتَّى يُنَادي مُنَاد من السَّمَاء: عَلَيْكُم بفلان بن فلَان
سیدنا مغیرہ بن عبدالرحمن نے اپنی والدہ سے روایت کی ہے کہ ان کی والدہ فرمایا کرتی تھی کہ جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے وقت جنگ فتنے فساد ہوئے تو اس وقت انہوں نے فرمایا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں قیامت کے قریب اس سے بڑھ کر فتنے ہوں گے اور کسی ایک پر سب کا اتفاق نہ ہوگا یہاں تک کہ اسمان سے اواز ائے گی کہ تم پر لازم ہے کہ فلاں بن فلاں امام مہدی کی اطاعت کرو اس کو امیر بنا لو
( تهذيب الآثار - الجزء المفقود طبری ص378)
.
7....ابن شہاب۔۔۔۔فَإِذَا كَانُوا بِالْمَوْسِمِ سَمِعُوا مُنَادِيًا مِنَ السَّمَاءِ: أَلَا إِنَّ الْأَمِيرَ فُلَانٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ الْأَرْضِ: كَذَبَ، وَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: صَدَقَ، فَيَطُولُ ذَلِكَ فَلَا يَدْرُونَ أَيَّهُمَا يَتَّبِعُونَ، وَإِنَّمَا يُصَدِّقُ مَنْ فِي السَّمَاءِ الصَّوْتَ الثَّانِي الَّذِي يُنَادِي مِنَ السَّمَاءِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ كَلِمَةَ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، وَكَلِمَةُ الشَّيْطَانِ هِيَ السُّفْلَى "
امام ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ قیامت کے قریب حج کے موسم میں اسمان سے ندا ائے گی کہ تمہارا امیر تمہارا خلیفہ اب امام مہدی ہے جو کہ فلاں شخص ہے اور زمین سے اواز ائے گی کہ یہ جھوٹ ہے اور اسمان سے اواز ائے گی کہ نہیں سچ ہے اور یہ معاملات طول پکڑ جائے گا اور لوگ پریشان ہوں گے کہ کس کی پیروی کریں تو ایسا معاملہ ہو تو جان لو کہ اللہ کا کلمہ بلند ہے، یعنی جو غیب سے اسمان سے ندا ائے گی وہ برحق ہوگی اور جو زمین سے اواز ائے گی وہ شیطان کی ہوگی
( الفتن لنعيم بن حماد1/337)
۔
8....سعيد بن المسيب....حتى ينادي منادي من السماء: ألا إن الأمير فلان. ثم قال ابن المسيب: فذلكم الأمير، فذلكم الأمير، فذلكم الأمير، قال ذلك ثلاث مرات....وهو المهدي.
سیدنا سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن امام مہدی کی نشانی یہ ہوگی کہ اسمان سے اواز ائے گی کہ فلاں شخص امام مہدی ہے یہ تمہارا برحق امیر ہے اور یہ الفاظ سیدنا سعید بن مسیب نے تین مرتبہ فرمائے
(عقد الدرر في أخبار المنتظر ص114 ملتقطا)
۔
🔵🔵🔵🔵🔵🔵
مرزا جہلمی کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں کہتا ہے کہ امام مہدی کے لیے "سوٹ ایبل" میں ہوں کہ میں نے امام مہدی کا آدھا کام کر دیا ہے کہ بنو امیہ کے کرتوت واضح کر دییے ہیں
.
جواب:
اس سے تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نعوذ باللہ مرزا جہلمی کے مطابق امام مہدی تو جہلمی جیسے علماء سے علم حاصل کریں گے...نعوذ باللہ یہ امام مہدی کی توہین و گستاخی کی ہے مرزا جہلمی نے....!!
.
ارے او اجہلِ زماں گمراہ و گمراہ کن جاہل فسادی بےباک گستاخ مرزا جہلمی نام نہاد علمی کتابی سن.....!! کاش کہ تم نے واقعی میں علم کو پڑھا ہوتا سمجھا ہوتا....اسلاف نے دوٹوک لکھا کہ امام مھدی کو علم لدنی ہوگا، اس وقت کے تمام علماء سے زیادہ علم ہوگا امام مہدی کو، لیکن تو اور تیرے دام میں پھسنے والے لوگ اسلاف کے اقوال کو کہاں مانیں گے...لے تیرے لیے اور تیرے ماننے چاہنے والوں کے لیے سچی علمی پھکی کہ شاید تجھے اور تیرے ماننے چاہنے والوں کو ہدایت مل جائے
الحدیث:
الْمَهْدِيُّ مِنِّي، أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، أَقْنَى الْأَنْفِ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام مہدی مجھ سے ہونگے اور ان کی پیشانی اجلی(نورانی چوڑی)ہوگی اور ناک لمبی ہوگی اور وہ زمین کو عدل اور انصاف کے ساتھ اس طرح بھر دیں گے جس طرح کہ زمین ظلم اور ناانصافیوں سے بھری ہوئی ہوگی
(ابوداود حدیث4285)
اب اگر علم ہی نہیں ہوگا تو عدل و انصاف کیسے کوئی کرے گا.......؟؟ لامحالہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ اس وقت سب سے زیادہ علم امام مہدی کو ہوگا
.
كونه يملأ الأرض عدلاً وقسطاً لا شك أنه مبني على علم
امام مہدی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے بے شک اس کا معنی یہ بنتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ علم ہوگا(کہ جس کے ذریعے عدل و انصاف کریں گے)
(شرح سنن أبي داود للعباد44/481)
.
الحدیث:
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَهْدِيُّ مِنَّا - أَهْلَ الْبَيْتِ - يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوگا ، اللہ تعالی اسے ایک رات(کے حصے)میں ہی علم و حکمت الھام فرما دے گا(علم لدنی عطاء فرمائے گا)
(ابن ماجہ حدیث4085)
.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵
انفرادی طور پر مذکورہ روایات و حدیث کو ضعیف مان بھی لیا جائے تو بھی تعدد طرق کی وجہ سے حسن و معتبر کہلائے گی کیونکہ سنی شیعہ نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ تعدد طرق سے ضعیف روایت حسن و معتبر بن جاتی ہے
وقد يكثر الطرق الضعيفة فيقوى المتن
تعدد طرق سے ضعف ختم ہو جاتا ہے اور(حدیث و روایت کا) متن قوی(معتبر مقبول صحیح و حسن)ہوجاتا ہے
(شیعہ کتاب نفحات الازھار13/55)
أن تعدد الطرق، ولو ضعفت، ترقي الحديث إلى الحسن
بےشک تعدد طرق اگرچہ ضعیف ہوں ان سے ضعیف روایت و حدیث حسن و معتبر بن جاتی ہے(اللؤلؤ المرصوع ص42)
لِأَنَّ كَثْرَةَ الطُّرُقِ تُقَوِّي
کثرت طرق(تعدد طرق)سے روایت و حدیث کو تقویت ملتی ہے(اور ضعف ختم ہوجاتا ہے)
(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي ,1/179)
وإنما يحكم له بالصحة عند تعدد الطرق) أي أو طريق واحد مساو له، أو أرجح
ضعیف حدیث کی ایک اور مساوی ضعیف سند مل جائے یا ایک ارجح سند مل جائے یا ایک سے زائد ضیف سندیں مل جائیں تو اس تعددِ طرق سے ضعیف حدیث صحیح(و حسن معتبر قابل دلیل) کہلاتی ہے
(شرح نخبۃ الفکر للقاری1/297)
تحسينَ الحديث الضعيف ضعفاً خفيفاً بتعدُّد طرقه، أو وجود شواهد له، مذهبٌ دَرَجَ عليه حفاظ الحديث ونقاده من الأئمة المتقدمين، أمثال الإمام أحمد بن حنبل، وعلي بن المديني، ومحمد بن إسماعيل البخاري وغيرهم، وارتضاه المتأخرون من أهل العلم، وأخذوا به، ومَشَوْا عليه إلى يومنا هذا، وفيما دوَّنَه الحفاظ:المنذريُّ والعراقي وابن كثير والذهبي وابن حجر والزَّيْلعي وغيرهم
مسند امام احمد بن حنبل کے حاشیہ میں ہے کہ وہ حدیث کہ جو زیادہ سخت ضعیف نہ ہو وہ درج ذیل ائمہ امام احمد بن حنبل امام بخاری امام علی بن مدینی امام منذری امام عراقی امام ابن کثیر امام ذہبی امام ابن حجر عسقلانی امام زیلعی وغیرہ کئی ائمہ محدثین کے مطابق دیگر ضعیف احادیث یا دیگر ضعیف سندوں سے مل کر حسن معتبر قابل دلیل بن جاتی ہے
(مقدمة مسند احمد1/78)
.
👊*#اصول*
صحیح حدیث و روایت سے بھی دلیل اخذ کی جاتی ہے تو یہ بھی یاد رہے کہ حسن حدیث و روایت سے بھی دلیل اخذ کی جاتی ہے۔۔۔یہ لیجیے چار حوالہ جات حق چار یار کی نسبت سے۔۔۔!!
۔
1۔۔۔۔وهو في الاحتجاج به كالصحيح عند الحمهور
حسن حدیث دلیل بننے کے لحاظ سے جمہور کے نزدیک صحیح حدیث کی طرح ہے
(امام ابن کثیر الباعث الحثیث ص37)
.
2۔۔۔۔لِأَنَّ غَالِبَ الْأَحَادِيثِ لَا تَبْلُغُ رُتْبَةَ الصَّحِيحِ (وَيَقْبَلُهُ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ)
حسن احادیث کی اکثریت صحیح حدیث کے درجہ سے کم ہوتی ہے... حسن حدیث کو اکثر علماء نے قبول کیا ہے دلائل میں فضائل میں
(امام سیوطی تدریب الراوی1/167)
.
3۔۔۔۔وَهُوَ أَن يُقَال إِن الصِّفَات الَّتِي يجب (مَعهَا قبُول الرِّوَايَة) لَهَا مَرَاتِب ودرجات فأعلاها هُوَ الصَّحِيح وَكَذَلِكَ أوسطها وَأَدْنَاهَا الْحسن
صحیح بات اور تحقیق کی بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ دلائل و فضائل میں جن احادیث کو قبول کرنا واجب ہے انکے مراتب ہیں،اعلی مرتبہ صحیح حدیث کا ہے اور پھر حسن حدیث کا مرتبہ ہے کہ انکو فضائل و دلائل میں معتبر قرار دینا واجب ہے
(النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح1/306)
امام ابن ملقن المقنع فی علوم الحدیث1/84)
.
4۔۔۔۔ويقبله أكثر العلماء، ويستعمله عامة الفقهاء...ثم الحسن كالصحيح في الاحتجاج به وإن كان دونه في القوة
حسن حدیث کو اکثر علماء و محدثین و محققین نے قبول کیا ہے دلائل و فضائل میں اور عام فقہاء نے اس کو استعمال کیا ہے دلائل و فضائل و مسائل میں اور حسن حدیث دلیل کے اعتبار سے صحیح کی طرح ہے اگرچہ حدیث صحیح سے تھوڑا کم درجہ کی ہے
(امام نووی التقریب والتیسییر ص29)
.
📌 *#نوٹ*
دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475