Labels

سیدہ ام کلثوم کا نکاح سیدنا عمر سے ہونے پر 5سال عمر ہونے کے اعتراض کا جواب اور اس نکاح کا ثبوت شیعہ کتابوں سے

 🟥 *#شیعہ کا بڑے عرصے سے وائرل اعتراض کہ اہل سنت کی تاریخ کی کتابوں حساب کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے نہیں ہوا، جو کہے ہوا ہے اس پر "ل.ع.ن.ت" ہے کیونکہ حساب کتاب سے سیدہ ام کلثوم کی عمر نکاح کے وقت5سال بنتی ہے۔۔۔اس اعتراض کا تاریخی حسابی عقلی جواب پڑھیے کہ سیدہ ام کلثوم کی عمر مبارک نکاح کے وقت 11سے14 سال کے قریب تھی، لیھذا یہ افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جو سنی اور شیعہ دونوں کتابوں سے ثابت ہے،نکاح مانو تو بھی "ل.ع.ن.ت" شیعوں پر اور اگر نہ مانو تو بھی ل.ع۔ن۔ت شیعوں پر لوٹ کر پڑتی ہے سوائے اس کے کہ حق قبول کرلیں تو اللہ کریم غفور رحیم ہے۔ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھانا چاہیے، حق قبول کرنا چاہیے، لعن طعن نہیں کرنا چاہیے۔۔۔تفصیل اس تحریر میں پڑھیے*

۔

🔴شیعہ نے کہا:

یہ سراسر جھوٹ ہے کہ حضرت عمر دامادِ جناب علی ہیں؟

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے، جو تاریخ سے بھی ثابت ہے اور سنی شیعہ دونوں فریقین کی کتابوں سے بھی ثابت ہے جیسے کہ ہم اگے ثابت کریں گے۔۔ان.شاءاللہ عزوجل

۔

🔴شیعہ نے کہا:

1️⃣- تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر بن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس 40 برس تھی، اور جب تئیسویں ہجری 26 ذوالحج کو اس دنیا سے رخصت ہوئے  تو ان کی عمر مبارک 63 برس تھی۔

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

نہیں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب اسلام لائے تو ان کی عمر23سے36 سال کے درمیان تھی وہ 40 ویں مرد تھے جو اسلام لائے یا 40 مردوں کے بعد اسلام لائے تو اس وجہ سے شاید اپ کو دھوکہ لگا یا دھوکہ دیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 40 سال تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 23سے36سال کے درمیان تھی جب اپ اسلام لائے

۔

🔴شیعہ نے کہا:

2️⃣- تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوتِ ذوالعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علی کی عمر مبارک 9 برس تھی۔

.

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

دعوت ذوالعشیرہ اعلان نبوت کے 3تیسرےسال ہوئی۔۔۔۔سیدنا علی کی عمر 9 سال کے ارد گرد۔۔۔اور ذوالعشیرہ کے 3 سال بعد یعنی اعلان نبوت کے 6سال سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا اس وقت سیدنا عمر کی عمر23سے36سال کے درمیان تھی

یہاں

ذوالعشیرہ کی تاریخ شیعہ چھپائی اور سیدنا عمر کی عمر 23سے36کے بجائے 40کردی۔۔۔۔دو بہت بڑی غلطیاں دھوکے

۔

🔴شیعہ نے کہا:

3️⃣- تمام شیعہ، سنی مورخین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ امام علی کا جناب فاطمہ زہرا سے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا۔۔۔ یعنی دعوتِ ذوالعشیرہ کے 16 برس بعد۔

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

 نہیں۔۔سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا سے سیدنا علی کا نکاح ہوا تو اس وقت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 21 سال کے قریب تھی25سال نہیں تھی۔۔ یعنی دعوتِ ذوالعشیرہ کے 11 برس بعد ناکہ 16برس بعد

یہاں

شیعہ نے سیدنا علی کی عمر غلط بتائی اور دعوتِ ذوالعشیرہ کے 11 برس بعد والے نکاح کو 16سال سے بدل ڈالہ

5٫6سال کا فرق کرکے اگے سیدہ ام کلثوم کی عمر کو پانچ سال کر دے گا جبکہ یہ 5٫6 سال مکس کیے جائیں تو سیدہ ام کلثوم کی نکاح کے وقت عمر 11 سال کے قریب بنتی ہے

۔

🔴شیعہ نے کہا:

4️⃣- یعنی عمر بن خطاب، دعوتِ ذوالعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لائے۔۔۔ یعنی جب انہوں نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علی کی عمر مبارک 16 برس تھی۔

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

نہیں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ دعوتِ ذوالعشیرہ یعنی 3سال نبوی کے بعد تیسرے سال یعنی 6سن اعلان نبوت اسلام لائے عمر مبارک23سے36سال کے ڈرمیان۔۔۔ جبکہ اس وقت سیدنا علی کی عمر 11٫12سال تھی 16سال نہ تھی

۔

🔴شیعہ نے کہا:

5️⃣- حضرت عمر کے اسلام لانے کے 9 برس بعد امام علی کا نکاح بحکمِ خدا جناب زہرا سے ہوا۔تمام مورخین نے یہ بھی لکھا کہ امام علیؑ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسنؑ کی ولادت باسعادت ہوئی اور 2 برس بعد امام حسینؑ دنیا میں تشریف لائے اور پھر 4 برس بعد سیدہ زینبؑ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ٹھیک!

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

سیدنا عمر اسلام لائے 6سال نبوی کو۔۔۔ہجرت ہوئی 13سال نبوی کو۔۔۔۔14واں سال پہلی ہجری ، 15واں سال 2ہجری۔۔۔2ہجری کو نکاح ہوا سیدنا علی کا

یعنی

سیدنا عمر کے اسلام لانے کے 9 سال بعد 2ہجری کو سیدنا علی کا نکاح ہوا۔۔۔سیدنا علی کی عمر 21سال تھی اور سیدنا عمر کی عمر 32سے45سال کے درمیان

۔

🔴شیعہ نے کہا:

6️⃣- اہل سنت مورخین کے مطابق جناب ام کلثوم بنت امام علیؑ، جناب زینبؑ کے 2 سال بعد پیدا ہوئیں۔

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

سیدنا علی کا نکاح 2 ہجری میں ہوا۔۔۔انکی بیٹی سیدہ ام کلثوم 6ہجری کو پیدا ہوئیں

۔

🔴شیعہ نے کہا:

7️⃣- تو بی بی ام کلثوم کی پیدائش پر عمر بن خطاب کی عمر 55 برس تھی (49+6=55)

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

غلط۔۔۔۔درست یہ کہ سیدہ ام کلثوم بنت علی 6ھجری میں پیدا ہوئیں۔۔ دعوت ذوالعشیرہ3سن نبوی کو ہوئی۔۔۔اس کے تین سال بعد 6سن نبوی کو23سے36سال کے درمیان عمر میں سیدنا عمر نے اسلام قبول کیا۔۔۔13سال نبوی کو سیدنا عمر کی عمر30سے43سال کے درمیان۔۔۔۔2ہجری کو سیدنا عمر کی عمر32سے45سال کے درمیان۔۔۔۔ اور 6ہجری کو سیدنا عمر کی عمر36سے49سال کے درمیان۔۔👈یعنی سیدہ ام کلثوم کی پیدائش کے وقت سیدنا عمر کی عمر 36سے49سال کے درمیان تھی نہ کہ 55 سال

جبکہ

شیعہ نے غلط تاریخیں بتاتے ہوئے دھوکہ دیتے ہوئے سیدنا عمر کی عمر 55 سال لگا دی

۔

🔴شیعہ نے کہا:

8️⃣ جناب ام کلثوم کی ولادت کے ٹھیک 8 سال بعد حضرت عمر قتل ہوگئے یعنی 63 سال کی عمر میں (63-55=8)

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

نہیں۔۔۔۔سیدہ ام کلثوم کی ولادت 6 ہجری۔۔۔ سیدنا عمر کی شہادت 23 ہجری۔۔۔۔ سیدہ ام کلثوم کی ولادت کے ٹھیک 16 سال بعد سیدنا عمر نے شہادت پائی

۔

🔴شیعہ نے کہا:

اب نتیجہ نکالتے ہیں۔۔۔

اہل سنت تاریخ دانوں کے مطابق عقدِ ام کلثوم حضرت عمر کے قتل سے 3 سال پہلے ہوا اور سب نے یہ بھی لکھا کہ اس مبینہ نکاح سے حضرت عمر کے ہاں ام کلثوم سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا، جس کا نام زید بن عمر تھا۔

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

سیدہ ام کلثوم 6 ہجری کو پیدا ہوئی۔۔۔۔،17 یا20ہجری کو نکاح ہوا۔۔۔۔23ہجری کو سیدنا عمر کی شہادت ہوئی۔۔۔ 3سال یا5یا6 سال قبل نکاح ہوا۔۔۔۔تو کم از کم سیدہ ام کلثوم کی باوقت نکاح عمر 11سے14سال بنتی ہے

۔

🔴شیعہ نے کہا:

9️⃣یعنی شادی کے وقت ام کلثوم کی عمر 5 برس ہوئی (8-3=5)

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

نہیں۔۔۔۔6ہجری سیدہ ام کلثوم پیدا ہوئیں۔۔۔17یا20ہجری کو نکاح سیدنا عمر سے ہوا تو17-6=11 یعنی نکاح کے وقت سیدہ ام کلثوم کی عمر 11سال کے لگ بھگ تھی

لیکن

اپ کی بتائی تاریخ یعنی شہادت عمر سے 3سال قبل نکاح ہوا تو 20-6=14یعنی نکاح کے وقت سیدہ ام کلثوم کی عمر 14 سال کی عمر کے لگ بھگ تھی

۔

✅الحاصل:

سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا تو اس وقت سیدہ ام کلثوم کی عمر کم سے کم 11 سے 14 سال کے قریب عمر مبارک تھی اور سیدنا عمر کی عمر47سے60سال کے درمیان تھی

۔

🔴شیعہ نے کہا:

🔟لو جی افسانۂ عقدِ ام کلثوم کے موجودہ باراتیوں کا تو جنازہ ہی نکل گیا۔۔۔ ذرا باراتی مجھے بتائیں گے کہ کس عقلی اور منطقی قانون کے تحت 5 برس کی عمر میں کسی بچی کی شادی بھی ہو جائے اور اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے۔۔۔؟؟؟

لعنت اللہ علی الکاذبین۔۔۔ اللہ کی ل۔ع.ن.ت ہو جھوٹوں پر۔۔۔ بے شمار۔۔۔

۔

🔷ہم اہلسنت کا جواب:

اب "ل.ع۔ن۔ت" کس پر ہے۔۔۔اور افسانہ کیا ہے حقیقت کیا ہے یہ تو تاریخ سے ہم نے ثابت کر دیا لیکن لیجئے اب ہم ان تاریخوں کے حوالہ جات پہلے لکھیں گے پھر اخر میں شیعہ کتب سے8حوالہ جات لکھیں گے کہ سیدہ ام کلثوم کا نکاح سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا تھا۔۔۔ لہذا اگر شیعہ کہے کہ نکاح ثابت نہیں تو ل.ع۔ن۔ت ہے نکاح ثابت کرنے والوں پر تو بھی شیعہ پر ل۔ع۔ن۔ت پڑتی ہے کیونکہ شیعہ محققین لکھ چکے ہیں کہ یہ نکاح ثابت ہے جیسے کہ ہم نیچے 8حوالہ جات دیں گے تحریر کے اخر میں۔۔۔۔ اور اگر شیعہ کہتا ہے کہ نکاح ثابت ہے تو ناحق جھوٹی ل۔ع۔ن۔ت بھیجی ہے تو وہ واپس لوٹ کر شیعہ پر ہی پڑے گی۔۔۔۔ ہر حال میں ل۔ع۔ن۔ت شیعہ پر ہی پڑ رہی ہے سوائے اس کے کہ توبہ تائب ہو کر دین حق دین اسلام کے سچے ترجمان اہلسنت والے عقائد فقہ نظریات کو مان لیں،نافذ کریں تو اللہ تعالی غفور رحیم ہے

۔

📌اہم ترین نوٹ:

وَاخْتُلِفَ فِي مِقْدَارِ سِنِّهِ يَوْمَ مَاتَ، رضي الله عنه، عَلَى أَقْوَالٍ عِدَّتُهَا عَشْرَةٌ فَقَالَ۔۔۔ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً.رِوَايَةٌ أُخْرَى: سِتٌّ وَخَمْسُونَ سَنَةً. وَثَالِثَةٌ: تِسْعٌ وَخَمْسُونَ.قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَقَالَ آخَرُونَ: كَانَ عُمُرُهُ ثَلَاثًا وَخَمْسِينَ سَنَةً، حُدِّثْتُ بِذَلِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ مُحَمَّدٍ. ثُمَّ رُوِيَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ تُوُفِّيَ وَلَهُ ثَلَاثٌ وَسِتُّونَ سَنَةً. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي عُمُرِ الصِّدِّيقِ مِثْلُهُ. وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ: تُوُفِّيَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَسِتِّينَ سَنَةً.۔۔وعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالزُّهْرِيِّ: خَمْسٌ وَسِتُّونَ سَنَةً.وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: سِتٌّ وَسِتُّونَ. وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ سَنَة۔۔۔۔۔وَقَالَ الْمَدَائِنِيُّ: تُوُفِّيَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً.

امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی کل عمر کتنی تھی اس کے بارے میں 10 اقوال ملتے ہیں

1...55سال

2...56سال

3....59سال

4...53سال

5....63سال

6.....61سال

7.....65سال

8......66سال

9.....60سال

10....57سال

البداية والنهاية - ت التركي – ابن كثير10/193)

۔

📌📌اہم ترین نوٹ2:

گربڑ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟ سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے نکاح کے مسئلے میں سیدنا عمر کی عمر سے کوئی فرق و گڑبڑ نہیں پڑتا فرق اس سے پڑتا ہے کہ

1️⃣۔۔۔سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر بوقت نکاح کتنی تھی۔۔۔۔جواب ہے2یا3ہجری میں سیدنا علی کا نکاح ہوا اپکی عمر مبارک21سال اور سیدنا عمر کی عمر مبارک اس وقت32سے45سال کے درمیان تھی

۔

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ دعوتِ ذوالعشیرہ یعنی 3سال نبوی کے بعد تیسرے سال یعنی 6سن اعلان نبوت اسلام لائے عمر مبارک23سے36سال کے درمیان۔۔۔ جبکہ اس وقت سیدنا علی کی عمر 11٫12سال تھی 16سال نہ تھی

۔


2️⃣۔۔۔۔سیدہ ام کلثوم کب پیدا ہوئیں۔۔۔جواب ہے 6ہجری اور 6ہجری کو سیدنا عمر کی عمر مبارک36سے49سال کے درمیان۔۔👈یعنی سیدہ ام کلثوم کی پیدائش کے وقت سیدنا عمر کی عمر 36سے49سال کے درمیان تھی نہ کہ 55 سال

۔

3️⃣۔۔۔۔۔سیدہ ام کلثوم سے سیدنا عمر کا نکاح کب ہوا۔۔۔جواب ہے 17یا20ہجری کو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر مبارک اس وقت47سے60کے درمیان تھی

۔

4️⃣۔۔۔ سیدنا عمر کی شہادت سے کتنا عرصہ پہلے اپ نے سیدہ ام کلثوم سے نکاح کیا۔۔۔جواب سے 3یا6سال پہلے

6ہجری سیدہ ام کلثوم پیدا ہوئیں۔۔۔17یا20ہجری کو نکاح سیدنا عمر سے ہوا تو17-6=11 یعنی نکاح کے وقت سیدہ ام کلثوم کی عمر 11سال کے لگ بھگ تھی

لیکن

شیعہ کی بتائی تاریخ یعنی شہادت عمر سے 3سال قبل نکاح ہوا تو 20-6=14یعنی نکاح کے وقت سیدہ ام کلثوم کی عمر 14 سال کی عمر کے لگ بھگ تھی

🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩1️⃣ *#سیدنا عمر کی اسلام لانے کا وقت و عمر*

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب اسلام لائے تو ان کی عمر23سے36 سال کے درمیان تھی وہ 40 ویں مرد تھے جو اسلام لائے یا 40 مردوں کے بعد اسلام لائے۔۔ایک قول کے مطابق 26سال عمر تھی لیکن 40سال عمر تھی یہ شیعہ نے بےبنیاد و جھوٹ لکھا ہے، کسی مستند کتاب میں نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے 40 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا ہو ایسا کسی مستند کتاب میں نہیں ہے


1....قال أهل السير: أسلم عمر وهو ابن ست وعشرين سنة بعد أربعين رجلا وقال سعيد بن المسيب بعد أربعين رجلا وعشر نسوة.وقال عبد الله بن ثعلبة بن صعير بعد خمسة وأربعين رجلا وإحدى عشرة امرأة

تمام معتبر تاریخ نگاروں نے لکھا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر ایک قول کے مطابق 26 سال تھی اور انہوں نے 40 لوگوں کے بعد اسلام قبول کیا اور سیدنا سعید فرماتے ہیں ہے کہ 40 مردوں اور 10 عورتوں کے بعد اسلام قبول کیا، اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ 45 مردوں اور 11 اور عورتوں کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا

(صفة الصفوة ابن جوزی 1/103)

۔

2.....سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: وُلِدْتُ قَبْلَ الْفُجَّارِ الأَعْظَمِ الآخَرِ بِأَرْبَعِ سِنِينَ.وَأَسْلَمَ فِي ذِي الْحِجَّةِ السَّنَةِ السَّادِسَةِ مِنَ النُّبُوَّةِ وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ سَنَةً

راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اپ نے فرمایا کہ میں جنگ فجار اعظم اخر کے چار سال بعد پیدا ہوا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اعلان نبوت کے چھٹے سال ذوالحجہ میں اسلام قبول کیا اس حال میں کہ اپ کی عمر مبارک ایک قول کے مطابق 26 سال تھی

(طبقات ابن سعد3/204)

۔

🟤🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩2️⃣ *#سیدنا علی کی اسلام لانے کی عمر 7سے16سال کے درمیان ہے*

۔

أسلم على وهو ابن ثمان سنين.

(فتح الباري ٧١/٧) إسناده صحيح

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اس روایت کی سند صحیح ہے

(روضة المحدثين 3/498)

.

۔

آمَن باللَّهِ ورسولِه عليُّ بنُ أبي طالبٍ وهو يومَئذٍ ابْنُ عَشْرِ سنينَ.[قال أبو عمرَ ﵁] (^٦): قيل: أسلَم عليٌّ وهو ابنُ ثلاثَ عَشْرةَ سنةً، [وقيل: ابنُ اثنتَي عَشْرةَ سنةً، وقيل: ابنُ خمسَ عَشْرةَ، وقيل: ابنُ سِتَّ عَشْرةَ] (^٧)، [وقيل: ابنُ عشْرٍ] (^٨)، وقيل: ابنُ ثمانٍ.وذكَر عمرُ بنُ شَبَّةَ، عن المدائنيِّ، عن ابنِ جُعْدُبةَ (^٩)، عن نافعٍ، عن ابنِ عمرَ، قال: أسلَم عليٌّ وهو ابنُ ثلاثَ عَشْرةَ سنةً

ایک قول یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے

10 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا

اور ایک قول یہ ہے کہ 13 سال کی عمر میں۔۔۔

اور ایک قول ہے کہ 12 سال کی عمر میں۔۔۔

 اور ایک قول یہ ہے کہ 15 سال کی عمر میں۔۔۔

 اور ایک قول ہے کہ 16 سال کی عمر میں۔۔۔۔

 اور ایک قول ہے کہ 10 سال کی عمر میں۔۔۔۔

اور  ایک قول ہے کہ 8 سال کی عمر میں۔۔۔۔

 اور ایک قول ہے کہ 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب 5/305)

🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩3️⃣ *#دعوت ذوالعشیرہ کی تاریخ۔۔۔3یا4سن نبوی کو دعوت ذوالعشیرہ ہوئی*

۔1.... إنه كتم أمره ثلاث سنين، فكان يدعو مستخفيًا إلى أن أنزل الله تعالى: " وأنذر عشيرتك الأقربين "

 فأظهر الدعوة.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے تین سال دین کی دعوت دیتے رہے پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اپنے ذوالعشیرہ کو دعوت دیجئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرعام دعوت دی

(أسد الغابة في معرفة الصحابة 1/34)

.

 2...فكان يدعو «٣» ثلاث سنين مستخفيا، إلى أن أمر الله بإظهار الدعاء.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین سال خاموشی سے اللہ کی طرف بلاتے رہے پھر اس کے بعد اعلانیہ دعوت شروع کی

(نهاية الأرب في فنون الأدب16/196)

.


3....﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقرَبِينَ (٢١٤)﴾ [الشعراء: ٢١٤].

قال علماء السير: وأقام رسول الله ﷺ بعد النبوة ثلاث سنين مستخفيًا يدعو إلى الله سرًّا 

تمام معتبر علماء سیرت نگار فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین سال خاموشی سے دعوت دین دیتے رہے پھر اللہ تعالی نے حکم نازل فرمایا کہ ذوالعشیرہ کو دعوت دو تو اس ایت کے نازل ہونے کے بعد اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانیہ دعوت دینا شروع کی

(مرآة الزمان في تواريخ الأعيان3/99)

🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩4️⃣ *#سید عالم کی چار بیٹیاں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی اور ان کی عمریں اور تاریخ*

۔

1.... أن زينب هي الأولى، ثم رقية، ثم أم كلثوم، ثم فاطمة، ولدت لرسول الله ﷺ سنة إحدى وأربعين من مولده ﷺ وتزوجها علي - ﵄ - بعد وقعة أحد.......وكان سِنُّها يوم تزوجها ﵄ خمس عشرة سنة وخمسة أشهر ونصفًا، وسِنُّ علي يومئذ: إحدى وعشرون سنة وستة أشهر، وولدت له الحسن والحسين، وأم كلثوم، وزينب،

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی سیدہ زینب ہے پھر اس کے بعد سیدہ رقیہ ہے پھر ان کے بعد سیدہ ام کلثوم ہے پھر سیدہ فاطمہ ہے، رضی اللہ تعالی عنھن اجمعین۔۔۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح جنگ احد کے بعد (2 ہجری) میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا۔۔۔ شادی کے وقت سیدہ فاطمہ کی عمر 15 سال تھی اور سیدنا علی کی عمر 21 سال تھی اور ان کو اولاد پیدا ہوئی حسن حسین ام کلثوم اور زینب رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین

(المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم6/351)

.

2.... أنكحها رسول الله ﷺ علي بْن أَبي طالب بعد وقعة أحد... وكان سنها يوم تزوجها خمس عشرة سنة وخمسة أشهر ونصفا، وكان سن علي يومئذ إحدى وعشرين

 سنة

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کا نکاح سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جنگ احد کے بعد کرایا اس وقت سیدہ فاطمہ کی عمر 15 سال تھی اور سیدنا علی کی عمر 21 سال تھی

(تهذيب الكمال في أسماء الرجال35/247)

.

3.... تواترت به الأخبار في ترتيب بنات النبي -ﷺ- أن زَيْنب الأولى، ثم الثانية رُقية، ثم الثالثة أم كلثوم، ثم الرابعة فاطمة الزهراء رضي الله تعالى عنهن.وتزوجها علي أوائل المحرم سنة اثنتين، وكان سنها يوم تزويجها خمس عشرة سنة وخمسة أشهر ونصفًا، وكان سن علي إحدى وعشرين سنة وخمسة أشهر.

متواتر طور پر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی سیدہ زینب ہے پھر سیدہ رقیہ ہے پھر سیدہ ام کلثوم ہے پھر سیدہ فاطمہ ہے رضی اللہ تعالی عنہھن اجمعین۔۔۔سیدہ فاطمہ سے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 2 ہجری محرم کے شروع میں نکاح کیا، اور اس وقت سیدہ فاطمہ کی عمر مبارک 15 سال تھی اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر مبارک 21 سال تھی اور ایک قول یہ ہے کہ سن 2 ہجری رجب کے مہینے میں نکاح کیا

(كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري5/288)


.

4..... وَكَانَ العقد فِي رَجَب وَقيل فِي رَمَضَان وَقيل تزوج بهَا فِي صفر من السّنة الثَّانِيَة من الْهِجْرَة وَبنى بهَا فِي ذِي الْحجَّة من السّنة الْمَذْكُورَة وَكَانَ سنّهَا حَال تَزْوِيجهَا خمس عشرَة سنة وَخَمْسَة أشهر وَنصف وَسن عَليّ ﵁ إِحْدَى وَعشْرين سنة وَخَمْسَة أشهر

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے رجب میں ہوا اور ایک قول ہے کہ رمضان میں ہوا اور ایک قول ہے کہ صفر کے مہینے میں ہوا، نکاح سن 2 ہجری میں ہوا، اور رخصتی ذوالحج میں ہوئی اور شادی کے وقت اپ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 15 سال تھی اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 21 سال تھی اور پانچ مہینے

(سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي1/514)

.

5....جملة ما اتفق عليه ستة: اثنان ذكور: القاسم وإبراهيم، وأربع بنات زينب ورقية وأم كلثوم وفاطمة۔۔۔تزوجها علي- رضي الله تعالى عنه- وهي ابنة خمس عشرة سنة وخمسة أشهر أو ستة ونصف من السنة الثانية من الهجرة في رمضان وبنى بها في ذي الحجة، وقيل: تزوجها في رجب وقيل: في صفر وسنها- رضي الله تعالى عنها- يومئذ إحدى وعشرين سنة وخمسة أشهر، ولم يتزوج عليها حتى ماتت- رضي الله تعالى عنهما-.قال جعفر بن محمد: تزوج علي فاطمة- رضي الله تعالى عنها- في شهر صفر في السنة 

الثانية

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد مبارک کی تعداد کے بارے میں جس پر تمام متفق ہیں وہ تعداد چھ ہے دو بیٹے چار بیٹیاں۔۔۔ دوسرے اقوال بھی ملتے ہیں مگر یہ تعداد متفق علیہ ہے۔۔۔ دو بیٹے سیدنا قاسم اور سیدنا ابراہیم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں سیدہ زینب سیدہ رقیہ سیدہ ام کلثوم سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھن اجمعین ہیں

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا اور سیدہ فاطمہ کی عمر مبارک 15 سال تھی رمضان میں یہ نکاح ہوا اور ذوالحج میں رخصتی ہوئی سن 2 ہجری میں اور ایک قول یہ ہے کہ نکاح رجب میں ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ نکاح صفر میں ہوا 21سال کی عمر میں، سن 2 ہجری میں

(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد11/16٫37)

🟤🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩5️⃣ *#سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ کی تاریخ ولادت6ہجری ہے*


شَأْنُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ ﵄:وَأَمَّا أَمُّ كُلْثُومٍ، فَوُلِدَتْ فِي حُدُودِ سَنَةِ سِتٍّ مِنَ الهِجْرَةِ، وَرَأَتِ النَّبِيّ

سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا جو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ہیں ان کی ولادت سن 6 ہجری کے آس پاس ہوئی اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے

(اللؤلؤ المكنون في سيرة النبي المأمون2/511)

.


أُمُّ كُلْثُوْمٍ بِنْتُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ الهَاشِمِيَّةُ ابْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ بنِ هَاشِمٍ الهَاشِمِيَّةُ، شَقِيْقَةُ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ.وُلِدَتْ: فِي حُدُوْدِ سَنَةِ سِتٍّ مِنَ الهِجْرَةِ، وَرَأَتِ النَّبِيَّ

سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ہیں اور سیدنا حسن حسین کی سگی بہن ہے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کی ولادت سن6 ہجری کی حدود میں ہوئی اور اپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا ہے

(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة3/500)

🟤🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩6️⃣ *#سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح اور اس کی تاریخ اور ان کی عمریں*

.

 أن عمر تزوج أم كلثوم على أربعين ألف درهم

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کیا 40 ہزار درہم کے حق مہر کے ساتھ

(المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري9/274)

.

لَمَّا تَزَوَّجَ عُمَرُ أُمَّ كُلْثُومٍ بنت علي ﵃ قَالَ: أَلَا تهنوني فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَ سَبَبِي ونسبي

(اخرجہ المحقق بنحو ثمانیۃ من الاسانید و الطرق ثم قال)

وعليه فالحديث بالنظر إلى كل طريق على حدة ضعيف أو شديد الضعف وبالنظر في الطريقين الأولى والثانية يرتقي إلى درجة الحسن لغيره.وبالنظر إلى مجموع الطرق الأخرى يكون صحيحاً لغيره،

جب سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا تو اپ نے صحابہ کرام وغیرہ سے فرمایا کہ تمہیں مبارکباد دینی چاہیے کہ میرا  اس گھرانے میں نکاح ہوا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر سبب و نسب منقطع ہو جائے گا قیامت کے روز سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب اور نسب کے۔۔۔۔

اس روایت کی تحقیق میں کتاب کے مصنف نے اس روایت کے کوئی سات اٹھ سندوں کو جمع کیا اور لکھا کہ اگرچہ سندوں کو ضعیف مان لیا جائے تو بھی ضعیف سندیں مل کر حسن معتبر صحیح قابل دلیل بن جاتی ہیں(جیسا کہ سنی شیعہ کا متفقہ اصول ہے)

(المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية16/252)

۔

🔷 *#متفقہ اصول*

انفرادی طور پر مذکورہ روایات و حدیث کو ضعیف مان بھی لیا جائے تو بھی تعدد طرق کی وجہ سے حسن و معتبر کہلائے گی کیونکہ سنی شیعہ نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ تعدد طرق سے ضعیف روایت حسن و معتبر بن جاتی ہے

.

وقد يكثر الطرق الضعيفة فيقوى المتن

تعدد طرق سے ضعف ختم ہو جاتا ہے اور(حدیث و روایت کا) متن قوی(معتبر مقبول صحیح و حسن)ہوجاتا ہے

👈(شیعہ کتاب نفحات الازھار13/55)

.

أن تعدد الطرق، ولو ضعفت، ترقي الحديث إلى الحسن

بےشک تعدد طرق سے ضعیف روایت و حدیث حسن و معتبر بن جاتی ہے(اللؤلؤ المرصوع ص42)

.

لِأَنَّ كَثْرَةَ الطُّرُقِ تُقَوِّي

کثرت طرق(تعدد طرق)سے روایت و حدیث کو تقویت ملتی ہے(اور ضعف ختم ہوجاتا ہے)

(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي ,1/179)

۔

وفيها: تزوج عمر بأم كلثوم بنت فاطمة الزهراء....سنة ثماني عشرة:فيها قال ابن إسحاق: استسقى عمر للناس

سن 18 ہجری کے احوال ذکر کرنے سے پہلے سن 17 ہجری کے احوال میں لکھا ہے کہ اس سال سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہم سے نکاح کیا

(سير أعلام النبلاء - ط الرسالة راشدون ص120)

۔

 ثمَّ تزوج عمر أم كُلْثُوم بنت عَليّ بْن أبي طَالب وَهِي من فَاطِمَة وَدخل بهَا فِي شهر ذِي الْقعدَة ثمَّ حج واستخلف على الْمَدِينَة زيد بْن ثَابت

امام ابن حبان نے 17ھجری کے واقعات میں یہ لکھا کہ:

اس سال یعنی 17 ہجری کو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کیا پھر اپ نے حج کیا اور مدینہ پر زید بن ثابت کو خلیفہ بنایا

(الثقات لابن حبان2/216)

۔ 

.

قَالَ: وَفِيهَا تَزَوَّجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُمَّ كُلْثُومٍ ابْنَةَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَهِيَ ابْنَةُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص، ودخل بها في ذي القعده

امام طبری 17 ہجری کے واقعات میں لکھتے ہیں کہ اس سال سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا بنت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کیا اور ذوالقعدہ میں رخصتی ہوئی

(تاريخ طبري الطبري4/69)

.

وفيها تزوّج عمر أمّ كلثوم بنت علىّ۔۔۔۔۔۔۔ذكر سنة ثمانى عشرة للهجرة النبويّة

مصنف کتاب سن 18 ہجری کے واقعات لکھنے سے پہلے سن 17 ہجری کے واقعات میں لکھتے ہیں کہ اس سال سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے نکاح کیا

(كنز الدرر وجامع الغرر3/203)

۔

✅🚨نوٹ کیجیے:

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح سیدہ فاطمہ سے دو ہجری میں ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر 21 سال تھی اور چھ ہجری کے اس پاس سیدہ ام کلثوم کی ولادت ہوئی اور 17 ہجری کو سیدہ ام کلثوم کا نکاح سیدنا عمر سے ہوا تو۔۔۔۔17-6=11۔۔۔۔یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح ہوا تو سیدہ ام کلثوم کی عمر کم از کم 11 سال تو ضرور تھی یہ بات اوپر والے دلائل سے ثابت ہو گئی جبکہ شیعہ نے دھوکہ دہی سے سیدہ ام کلثوم کی عمر نکاح کے وقت5 ثابت کرنے کی کوشش کی

🟤🟤🟤🟤🟤🟤🟤

🟩7️⃣ *#سیدنا عمر کی شہادت کی تاریخ 23ہجری متفق علیہ ہے*

 «تُوُفِّيَ عُمَرُ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ،

امام طبرانی نے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت سن 23 ہجری میں ہوئی

(المعجم الكبير للطبراني1/70)

.

«تُوُفِّيَ عُمَرُ ﵁ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ»

امام ابن ابی عاصم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت 23 ہجری میں ہوئی

(الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم1/115)

۔

✅🚨نوٹ کیجیے کہ:

سیدہ ام کلثوم چھ ہجری کے اس پاس پیدا ہوئیں اور 17 ہجری کو نکاح ہوا سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے۔۔۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات 23 ہجری میں ہوئی۔۔۔ اب شیعہ کے قول کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات سے تین سال قبل سیدہ ام کلثوم سے نکاح کیا یعنی 20 ہجری میں نکاح کیا تو۔۔۔20-6=14...یعنی شیعہ کے اپنے قول کے مطابق سیدہ ام کلثوم کا نکاح جب سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا تو سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 14 سال بنتی ہے نہ کہ 5 سال

۔

🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩

🟥8️⃣ *#شیعہ کتب سے چند حوالہ جات پڑھتے جائیے کہ شیعہ کتب سے بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہم سے ہوا تھا...8حوالہ جات شیعہ کتب سے پڑھیے*

.

🔶1....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ 📌کلینی لکھتا ہے

ان عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم

فانطلق بها إلى بيته

بے شک سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بیٹی ام کلثوم کو اپنے گھر لے گئے عدت گزارنے کے لیے جب ان کے شوہر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی

(شیعہ کتاب الكافي،الشيخ الكليني6/115)

۔

🔶2....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ📌طوسی لکھتا ہے

ان عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بیٹی ام کلثوم کو اپنے گھر لے گئے عدت گزارنے کے لیے جب ان کے شوہر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی

(شیعہ کتاب تهذيب الأحكام، الشيخ الطوسي8/161)

۔

🔶3....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ📌تقی مجلسی لکھتا ہے

وفي الصحيح۔۔۔۔إن عليا عليه السلام لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته۔۔۔وفي الموثق كالصحيح۔۔۔۔ إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم وانطلق بها إلى بيته

شیعوں کے محقق کے مطابق صحیح روایت میں ہے کہ جب سیدہ ام کلثوم بنت علی کے شوہر سیدنا عمر کی وفات ہوئی تو سیدنا علی ام کلثوم کو گھر لے کر گئے۔۔۔۔۔ اور اسی طرح کی دوسری بھی صحیح روایت موجود ہے

(شیعہ کتاب روضة المتقين في شرح من لا يحضرہ الفقیہ9/89)

۔

🔶"4....أن عليا ( عليهم السلام ) ، نقل ابنته أم كلثوم في عدتها ، حيث مات زوجها عمر بن الخطاب 

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کے شوہر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا علی اپنی بیٹی کو عدت میں لے کر گئے

(شیعہ کتاب مستدرك وسائل الشیعہ10/36)

۔

🔶5....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ 📌طوسی لکھتا ہے

ماتت أم كلثوم بنت علي عليه السلام وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم کا نکاح سیدنا عمر سے ہوا اور ان سے بیٹا زید پیدا ہوا، سیدہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے زید کی اکٹھے وفات ہوئی

(شیعہ کتاب تهذيب الأحكام، الشيخ الطوسي9/362)

۔

🔶6....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ 📌عاملی لکھتا ہے

ماتت أم كلثوم بنت علي ( عليه السلام ) وابنها زيد

بن عمر  بن الخطاب في ساعة واحدة

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم کا نکاح سیدنا عمر سے ہوا اور ان سے بیٹا زید پیدا ہوا، سیدہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے زید کی اکٹھے وفات ہوئی

(شیعہ کتاب وسائل الشيعة الحر العاملي26/314)

۔

🔶7....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ 📌مجلسی لکھتا ہے

قَالَ مَاتَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ ع وَابْنُهَا زَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم کا نکاح سیدنا عمر سے ہوا اور ان سے بیٹا زید پیدا ہوا، سیدہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے زید کی اکٹھے وفات ہوئی

(شیعہ کتاب ملاذ الأخيار في فهم تهذيب الأخبار، المجلسي15/382)

۔

🔶8....شیعوں کا معتبر ترین عالم محقق شیخ 📌عاملی لکھتا ہے

 أن عمر تزوج أم كلثوم بنت علي ( عليه السلام ) فأصدقها أربعين ألف درهم

بے شک سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کیا اور 40 ہزار درہم حق مہر دیا

(شیعہ کتاب سائل الشيعة، الحر العاملي،21/263)

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.