Labels

کب روڈ راستے کاروبار بند کرکے، ہڑتال جلوس دھرنے وغیرہ کرکے، نظام زندگی ، نظام ملکی مفلوج کرنا جائز ہے۔۔؟؟ کب معتبر قائدین کے لیے نکلنا جائز ہے اور کیوں۔۔؟؟12مضبوط دلائل سے مزین یہ تحریر پڑھیے،خلاصہ تو ضرور پڑھیے

 🟦 *#کب روڈ راستے کاروبار بند کرکے، ہڑتال جلوس دھرنے وغیرہ کرکے، نظام زندگی ، نظام ملکی مفلوج کرنا جائز ہے۔۔؟؟ کب معتبر قائدین کے لیے نکلنا جائز ہے اور کیوں۔۔؟؟12مضبوط دلائل سے مزین یہ تحریر پڑھیے،خلاصہ تو ضرور پڑھیے۔۔۔۔!!*

۔

🔶سوال:

علامہ صاحب ہم ناموس رسالت اور ختم نبوت اور ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام اور قائدین کی ناحق گرفتاری وغیرہ مقاصد کے لیے ہڑتال احتجاج جلوس دھرنے کرتے ہیں روڈ راستے کاروبار بند کرتے ہیں تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہلڑ بازی ہے، اپنے ملک کو نقصان پہنچانا ہے اس لیے جائز نہیں ہے اور وہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ جس نے روڈ راستے بند کیے اس کا کوئی جہاد نہیں، مدلل جواب عطا فرمائیے

۔

🟩 *#جواب و تحقیق*

🔶 *#خلاصہ*

قران و سنت و حدیث سے کئ دلائل مثلا قران مجید میں ہے کہ برائی سے روکو اور اچھائی کا حکم دو اور حدیث پاک میں ہے کہ افضل جہاد ظالم حکمرانوں کے پاس کلمہ حق بلند کرنا ہے، اور حدیث پاک میں ہے کہ ظالم کو اس کے ہاتھوں سے پکڑ کر روکو، اور حدیث پاک میں ہے کہ بعض اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے و صحابہ کرام علیہم الرضوان نے محاصرہ کیا روڈ راستے بند کیے زندگی کے معاملات مفلوج کیے، قران مجید میں ہے حدیث پاک میں ہے کہ جمعہ نماز کے لیے کاروبار بند کیا جائے،ان تمام ودیگر دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ

🔷1.....ختم نبوت۔۔ ناموس رسالت۔۔ گستاخ رسول کے معاملے میں۔۔ صحابہ کرام کے معاملے میں۔۔۔اہل بیت کرام کے معاملے میں۔۔ناحق بڑے ظلم و ستم کے معاملے میں۔۔۔ اور دیگر اہم معاملات میں

دیگر طریقوں سے کوشش کرنے کے باوجود کامیابی حاصل نہ ہو رہی ہو تو مجبورا یا یہی طریقہ مفیدہ جائزہ ہی کارگر لگے تو  مناسب احتیاط کے ساتھ کہ ایمبولینس وغیرہ کو جگہ دی جائے، اسکے لیے متبادل رکھا جائے اس طرح احتیاط کے ساتھ روڈ راستے بند کیے جا سکتے ہیں، کاروبار بند کرائے جا سکتے ہیں، ہڑتال کی جا سکتی ہے، نظام کو اس طرح مفلوج کر دیا جا سکتا ہے کہ حکومت مطالبات مان لے،عمل کرے۔۔۔۔یہ للکار ہے، کلمہ حق بلند کرنا ہے،ہلڑ بازی نہیں، کبھی حکمران سنتے نہیں تو انہیں کلمہ حق اس طرح نظام مفلوج کرکے سنانا پڑتا ہے۔۔۔۔اپنا نقصان نہیں بلکہ اگر بہت احتیاط کے باوجود کچھ نقصان ہو بھی جائے تو بھی بہت بڑے دینی مقصد کے سامنے چھوٹا نقصان برداشت کرنا لازم ہے

پریشر سے حکومت مطالبات مانے تو اسکی دو صورتیں ہیں 

👈1۔۔۔منافق یا برے حکمران ہوں تو پریشر کی وجہ سے مطالبات مان لیں گے ورنہ عوام میں ننگے ہونگے

👈2۔۔۔یا اگر حکومت حکمران اچھے ہیں مگر دیگر بیرونی طاقتوں کے جبر میں ہوں تو ان کو اتنے بڑے احتجاج روڈ راستے نظام بلاک کی وجہ سے ایک بہانہ مل جائے گا کہ وہ اپنے آقاوں کو کہہ سکیں گے کہ دیکھو ہم مجبور ہیں ورنہ لوگ ہمیں بھی نکال دیں گے تو تم لوگوں کی بھی کوئی نہ چلے گی

اور

🔷2....جب قران و احادیث و سنت سے ثابت ہوتا ہے کہ مخصوص حالات میں روڈ راستے بند کیے جا سکتے ہیں محاصرہ کیا جا سکتا ہے تو وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ جس نے راستہ تنگ کیا اس کا کوئی جہاد نہیں تو اس کا معنی خود حدیث پاک کے تحت یہ واضح ہوتا ہے کہ جب بلا ضرورت بلا اجازت شریعت بلا حکمت مفیدہ جائزہ کے راستے بند کیے جائیں تنگ کیے جائیں تو ممانعت ہے ورنہ ممانعت نہیں یہی معنی علمائے کرام نے اس حدیث کا لکھا ہے جیسے کہ ہم تحریر کے اخر میں حوالہ جات لکھیں گے

اور

🔷3.....معتبر دینی قائدین یا دین کے معاملے میں نمائندگی و لیڈری رہنمائی کرنے والے اگر گرفتار ہو جائیں یا انہیں لاپتا کر دیا جائے یا ان پر ناحق کیسز بنائے جائیں تو ان کے لیے نکلنا دراصل حق و اسلام کے لیے نکلنا ہے کیونکہ معتبر قائدین نے کوئی ذاتی جرم نہیں کیا ہوتا کہ ہم اس ذاتی جرم کے دفاع میں نکلیں بلکہ وہ دینی معاملے کے لیے نکلتا ہے نمائندگی کرتا ہے لیڈری کرتا ہے تو اسے گرفتار کیا جاتا ہے لاپتہ کیا جاتا ہے یا ناحق کیسز بنائے جاتے ہیں تو ان کے لیے نکلنا دراصل حق و اسلام کے لیے نکلنا ہے اور جائز و لازم ہے

۔

🟩 *#دلائل و تفصیل*

دلیل1️⃣

حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا (روڈ راستے کاروبار وغیرہ بند کرکے نظام مفلوج کر دیا)

(بخاری حدیث4325)

۔

دلیل2️⃣ 

بُرَيْدَةَ قَالَ: «حَاصَرْنَا خَيْبَرَ....وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ، وَفُتِحَ لَهُ».

رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ

صحابی سیدنا بریدہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کا محاصرہ کیا(روڈ راستے کاروبار وغیرہ بند کرکے نظام مفلوج کر دیا).... پھر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو جھنڈا دیا گیا اور فتح حاصل ہوئی۔۔۔ امام ہیثمی فرماتے ہیں اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے، یہ حدیث صحیح ہے

(مجمع الزوائد6/150ومابعدہ)

.

دلیل3️⃣

 أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ غَدَا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَحَاصَرَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا(روڈ راستے کاروبار وغیرہ بند کرکے نظام مفلوج کر دیا)حتی کہ وہ حکم ماننے پہ راضی ہو گئے

(الأموال لابن زنجويه1/299)

(التلخيص الحبير  ابن حجر عسقلاني حدیث6198 نحوہ)

۔

دلیل4️⃣

 حاصَرْنا مع أَبي موسى تُسْتَرَ

صحابہ کرام و تابعین فرماتے ہیں کہ ہم نے صحابی رسول سیدنا ابو موسی اشعری کے ہمراہ تستر کا محاصرہ کیا(روڈ راستے کاروبار وغیرہ بند کرکے نظام مفلوج کر دیا حتی کہ تستر فتح کر لیا)

(التاريخ الكبير بخاري4/10)

✅محاصرے کے کئ واقعات ہیں ہم تبرکا 4 حوالے دیے ہیں،محاصرے سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی دلائل و حکمت و اجازت شریعت کے تحت روڈ راستے بند کرنا، نظام مفلوج کرنا حق کی سربلندی کے لیے جائز و سنت سے ثابت طریقے ہیں

۔

دلیل5️⃣

احتجاج ہڑتال جلوس دھرنے مجبورا ہیں لیھذا ان کی وجہ ٹریفک جام،  کاروبار جام وغیرہ چھوٹے موٹے نقصانات و اذیت برداشت کیجیے

🌹القرآن:

إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة، فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع

جب جمعہ کے دن جمعہ نماز کے لیے ندا دی جائے(نماز جمعہ کے لیے بلایا جائے، اذان دی جائے) تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو اور کاروبار چھوڑ دو

(سورہ جمعہ آیت9)

✅جمعہ نماز فرض ہے مگر تحفظِ اسلام اور تحفظِ ناموس رسالت اور تحفظِ ختمِ نبوت تو نمازِ جمعہ سے بڑھ کر عظیم فریضہَِ اسلام ہیں

👈جب جمعہ نماز کے لیے اسلام نے سختی کی، کاروبار بند کرایا تو یقینا حالتِ مجبوری میں تحفظِ اسلام اور تحفظ ناموس رسالت اور تحفظِ ختمِ نبوت وغیرہ اسلام کے اہم معاملات و نظریات کے لیے کاروبار اور اکثر راستے بند کرائے جاسکتے ہیں...احتجاج دھرنے ہڑتال جلوس جلسے کیے جاسکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ بھرہور کوشش کی جائے کہ کسی کی موت و بڑا نقصان احتجاج دھرنے وغیرہ کی وجہ سے نا ہو...اس لیے کچھ راستے، متبادل راستے ایمبولینس وغیرہ ایمرجنسی کے لیے کھلے رکھنا چاہیے

👈کوشش کے باوجود کسی کی موت ہوجائے ، نقصان ہوجائے تو عظیم مقصد کے لیے شہادت  کہلائے گی، اس شہادت و قتل کا ذمہ دار مجبور احتجاجی ذمہ دار نہیں کہلاءیں گے... احتجاج دھرنے ہڑتال ریلیاں وغیرہ مجبوری ہیں، موجودہ حالات میں ہم کمزوروں مجبوروں کے پاس احتجاج دھرنے ہڑتال ریلیاں وغیرہ کے علاوہ مفید راستہ ہی کیا بچا ہے.....؟؟

.

🌹لیھذا جب بھی انتہاہی اہم اسلامی مقصد کے لیے مجبورا احتجاج یا دھرنے وغیرہ کی کال دی جائے تو دل و جان سے حصہ لیجیے...کاروبار بند کیجیے... تکلیف برداشت کیجیے... اور جنہین تکلیف ہو اسے سمجھائیے حوصلہ بڑھاءیے کہ بھائی آپ کو عظیم مقصد کی خاطر مشقت اٹھانا پڑ رہی ہے تو آپ کو اجر و ثواب دوگنا سے بھی زیادہ بڑھا کر دیا جائے گا

👈اسلام ہماری اذیت و مشقت نہیں چاہتا، جان بوجھ کر تکلیف میں پڑنے اور دوسروں کو تکلیف میں ڈالنے سے روکتا ہے مگر اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ اچھے کام میں مشقت اٹھانی پڑے تو اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے

🌹حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ولكنها على قدر نفقتك أو نصبك

ترجمہ:

اور تمھیں اسکا ثواب تمھارے خرچ یا تھکاوٹ و مشقت کے حساب سے ملے گا

(بخاری حدیث1787)

.

✅عظیم مقصد کے لیے تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں...بلکہ عظیم مقصد میں ہمیں تکلیف پر تکلیف ہی نہیں ہونی چاہیے

۔

🧠مریض کا علاج کے وقت اسے کتنی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے...؟؟کبھی تو جسم کا کوئی عضو بھی کاٹنا پڑتا ہے...مریض کے ناچاہتے ہوئے بھی اسے کڑوی دوائی دی جاتی ہے...کڑوی دوا کی اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے...مریض پر مختلف پابندیاں اس کی بھلائی کے لیے لگائی جاتی ہیں... مرض موذی وبائی ہو تو معاشرتی بھلائی کے لیے دوسروں پر پابندی لگائی جاتی ہے...دوسروں کو بھی اپنی بھلائی اور مریض کی بھلائی کے لیے تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہیں

👈 اسی طرح

گستاخیِ رسول موذی وبائی مرض ہے

سیکیولر ازم من پرستی،فحاشی بھی وبائی مرض ہے

جو

🚨پاکستان میں پھیلا گیا اور پھیلایا جا رہا تھا اس کے علاج کے لیے دیگر طریقوں کے علاوہ لبیق و دیگر اہلسنت کے دھرنے اور احتجاج کریں تو اپنی بھلائی اور معاشرتی بھلائی کے لیے تکلیف برداشت کیجیے اور احتجاج دھرنوں میں شرکت کیجیے

.

دلیل6️⃣

القرآن:

وَ اۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ انۡہَ  عَنِ الۡمُنۡکَرِ

اور بھلائی کا حکم دو برائی(گستاخی رسول، توہین رسول، صحابہ کرام اہل بیت کی توہین و گستاخی، غیرشرعی بل و قانون پاس ہونے، کفر شرک بدمذہبی شراب جوا زنا وغیرہ ہر قسم کی برائی، اسلام کی منع کردہ ہرچیز) سے روکو

(سورہ لقمان آیت17)

✅اور بے شک برائی کے روکنے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم برے کو ہاتھ سے روکیں جلوس جلسے بائیکاٹ ہڑتال کرکے روڈ راستے بند کر کے پریشر ڈال کر مختلف طریقوں سے جائز طریقوں سے برائی سے روکیں اور بروں کو سزا دلوائیں اور برے قانون وغیرہ بل وغیرہ کلعدم کروائیں اور اچھائی کو نافذ کراتے جائیں

.

دلیل7️⃣

الحدیث:

قالوا: يا رسول الله، هذا ننصره مظلوما، فكيف ننصره ظالما؟ قال: تأخذ فوق يديه

صحابہ کرام نے عرض کیا "یا رسول اللہ" مظلوم کی مدد تو ٹھیک مگر ظالم کی مدد کس طرح....؟؟آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:

(ظالم بدمذہب گستاخ برے لوگ و حکمران وغیرہ کی مدد اس طرح کرو)کہ اس کے ہاتھ کو پکڑ لو،(یعنی اس کو ہاتھ طاقت جلوس ہڑتال وغیرہ جائز طریقوں سے ظلم بدمذہبی لاقانونیت اسلام کی خلاف ورزی کرنے، برائی کرنے سے روکو)

(بخاری حدیث2444)

✅سمجھائیے پھر سمجھائیے اور پھر روکیے....ہاتھ ہڑتال و پریشر دے کر روکیے کہ شاید اسے سمجھ نہیں،  اسکا ذائقہ خراب عقل کمزور ہوگئ ہے...اسے براءی بدمذہبی سے روکیے،طاقت کے زور پے روکیے...اسی میں اسکی بھی بھلائی ہے اور معاشرے کی بھی بھلائی ہے......!!

شوگر کا مریض جتنا چاہے جتنا کہے کہ لڈو کھلاتے رہو مگر آپ نے نہیں دینا....اگر اسکے ہاتھ میں لڈو ہو تو چھین لیجیے... ہاتھوں سے روک لیجیے کہ اسی میں اسکی بھلائی ہے اور دوسروں کی بھی بھلائی ہے کہ وہ بھلے اپنے آپ سے تنگ ہو مگر کسی اور کے لیے کل کائنات ہوسکتا ہے، کسی کی زندگی و خوشی ہوسکتا ہے

۔

دلیل8️⃣

الحدیث:

مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَاِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ

جو تم میں سے کوئی بُرائی دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ سے بَدَل دے(برائی سے روک کر بھلائی کی طرف بدل دے) اور اگر وہ اِس کی قوّت نہیں رکھتا تو اپنی زَبان سے (روک کر بھلائی کی طرف بدل دے) پھر اگر وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا جانے) اور یہ سب سے کمزور ایمان کادَرَجہ ہے۔(مسلم،حدیث: 177...49)

✅طاقتور سیاستدان حکمران جرنیلز لیڈرز تحریک جو بھی ہاتھ سے ، طاقت سے، دھمکی للکار وغیرہ سے روک سکتے ہیں تو ضرور روکیں.....!!۔۔۔ ہم عوام میں بھی بہت طاقت ہے....ہم جلسے جلوس ریلیاں دھرنے ہڑتال احتجاج کرکے پریشر ڈال کر بہت کچھ اسلام کے لیے کرسکتے ہیں...تو واقعی اسلام کی سربلندی کے لیے کوئی کال دے تو جی جان سے لبیک کہیے....کاروبار راستے بند کیجیے... تکلیف برداشت کیجیے، جلوس دھرنے ریلی کامیاب کیجیے کہ حکمران پریشر کو بہانہ بنا کر اپنے اقاؤن سے کہہ سکیں گے کہ دیکھو ہمیں فلاں برا غیراسلامی قانون اجازت نامہ واپس لینا ہوگا یا فلاں مجرم گستاخ کو سزا دینا ہوگا ورنہ عوام ہمیں جوتے مارے گی

.

🟢عام حکم یہی ہے کہ جہاد میں لڑنے والے ظالم فسادیوں سے ہی لڑا جائے عورتوں بچوں بوڑھوں مریضوں کو تکلیف نہ پہنچائی جاءے،راستے بند نہ کییےجاءیں،عوام کو تکلیف نہ پہنچائی جائے لیکن بھرپور کوشش کے باوجود اگر تکلیف پہنچے تو اسے برداشت کرنا چاہیے اس پر اجر ہے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ولكنها على قدر نفقتك أو نصبك

ترجمہ:

اور تمھیں اسکا ثواب تمھارے خرچ یا تھکاوٹ و مشقت کے حساب سے ملے گا

(بخاری حدیث1787)

.

📌اہم دلیل...9️⃣

شاید کسی کے ذہن میں سوال ابھرے گا کہ یہ تو مشرکین کفار کے ساتھ جائز ہے.....مسلمان مسلمان کے ساتھ ایسا کرے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے

👈👈جواب:

عام مسلمانوں کے ساتھ ایسا واقعی جائز نہیں مگر نااہل ظالم خائن حکمران سےٹکرانا بھی جہاد ہے،یہی درس کربلا ہے.....

🌹نا اہلوں سے جھاد اور وہ بھی تین طریقوں سے:

الحدیث:

مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ، يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ، وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ 

ترجمہ:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

پہلے کی امتوں میں جو بھی نبی علیہ الصلاۃ والسلام گذرا اسکے حواری تھے،اصحاب تھے جو اسکی سنتوں کو مضبوطی سے تھامتے تھے اور انکی پیروی کرتے تھے،

پھر

ان کے بعد ایسے نااہل آے کہ جو وہ کہتے تھے اس پر عمل نہیں کرتے تھے،اور کرتے وہ کچھ تھے جنکا انھیں حکم نہیں تھا، جو ایسوں سے جہاد کرے ہاتھ سے وہ مومن ہے

اور جو ایسوں سے جھاد کرے زبان سے  وہ مومن ہے

اور جو ایسوں سے جھاد کرے دل سے   وہ مومن ہے

اور اس کے علاوہ میں رائ برابر بھی ایمان نہیں

(مسلم حدیث 50)

.

✅اہم اسلامی مطالبات پے ملک گیر زبردست احتجاج دھرنے جلوس ریلیاں ہوں تو شرکت کرکے کامیاب بنائیے کہ اس سے حکومت کو بہانا مل جائے گا کہ وہ عالمی طاقتوں کو کہہ سکے گی کہ دیکھو ہم تو نہیں چاہتے مگر عوام کا دباو ہے…

👈👈لبیق وغیرہ اہلسنت قائدین ورکرز کی ذات کی گرفتاری نہیں بلکہ نظریہ کی گرفتاری ہے…لیھذا ایسے قائدین کے لیے نکلنا بھی اسلام کے لیے نکلنا ہے

.

🧠پاکستان میں ایسے احتجاج دھرنے راستے کاروبار بند وغیرہ بہت سیاسی تنظیمیں کرتی ہیں تو اسے جمہوریت کا رنگ و حق کہا جاتا ہے لیکن افسوس کوءی دینی جماعت شرعی حقوق و مقاصد کے لیے مجبورا ایسے کرتی ہے تو اس پر تنقید و مذمت کی جاتی ہے...افسوس دہرے معیار پر

۔

دلیل🔟

نکلو جلسے جلوس ہڑتال دھرنے کامیاب بناو

القرآن:

وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ

اور اگر وہ تم سے دین کی خاطر مدد طلب کریں تو تم پر انکی مدد کرنا لازم ہے..(انفال ایت72)

القرآن..ترجمہ:

تقوی پرہیزگاری اور نیکی بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور سرکشی اور گناہ میں ایک دوسرے کی مدد نا کرو.

(سورہ مائدہ آیت2)

القرآن..ترجمہ:

اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ.(سورہ توبہ آیت119)

✅لبیق اور دیگر اہلسنت تنظیموں کا ساتھ دیجیے، دھرنے جلوس ریلی احتجاج میں شرکت کیجیے,کامیاب بنائیے

.

دلیل1️⃣1️⃣

ظالم کے ساتھ نہ چلنا، تعاون و مدد حمایت نہ کرنا فرض ہے اور حتی المقدور مظلوم کے ساتھ چلنا، ساتھ دینا، تعاون و حمایت کرنا لازم ہے

الحدیث:

رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من مشى مع ظالم ليعينه وهو يعلم أنه ظالم، فقد خرج من الإسلام

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جسے پتہ ہو کہ فلاں ظالم ہے پھر بھی اس ظالم کے ساتھ چلے تاکہ اسکی مدد کرے(ساتھ دے، تعاون و حمایت کرے) تو وہ اسلام سے نکل گیا(طبرانی حدیث619)

اسی حدیث کا مفھومِ معتبر یہ بنے گا کہ

جسے پتہ ہو کہ فلاں مظلوم ہے اور وہ اس مظلوم کے ساتھ چلے ، تعاون حمایت مدد کرے تو یہ عین ایمان و اسلام...(طبرانی حدیث619مفھوما)

۔

📌اہم دلیل1️⃣2️⃣

.الحدیث:

 : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ". أَوْ : " أَمِيرٍ جَائِرٍ ".

راہِ حق سے ہٹے ہوے ظالم بادشاہ یا راہِ حق سے ہٹے ہوے ظالم امیر (امیر یعنی حاکم،لیڈر، قاضی، جج، سردار وغیرہ کؤئی بھی ذمہ دار، عھدے دار) کے پاس عدل.و.حق کی بات کہنا افضل جھاد ہے.. (ابوداؤد حدیث نمبر4344ملخصا)

✅اور ان مسلمان و دیگر غیرمسلم حکمرانوں ججوں جرنیلوں وغیرہ تک حق بات پہنچانے کے لیے کلمہ حق بلند کرنے کے لیے مجبورا ایک راستہ روڈ راستے بلاک کرنا ہڑتال کرنا نظام مفلوج کرنا دھرنے جلسے جلوس کرنا بھی ہے۔۔۔ یہ ہلڑ بازی نہیں یہ شور شرابہ نہیں بلکہ کلمہ حق بلند اواز سے بلند کرنا ہے،کبھی حکمران سنتے نہیں تو انہیں کلمہ حق، عدل و حق کی بات اس طرح نظام مفلوج کرکے سنانا پڑتا ہے۔۔۔۔!!

.

🟥محاصرے وغیرہ کے ذریعے ضرورت و حاجت و حکمت مفیدہ جائزہ کے وقت راستے بند کرنے کے اوپر 12 مضبوط و اہم دلائل لکھ چکے ہیں لیھذا راستے بند کرنے کی ممانعت والی حدیث کا صحیح معنی یہ ہے کہ بلاضرورت بلا اجازت شریعت بند کرنا جرم و گناہ ہے،اگر ضرورت ہو، وہی طریقہ مفید رہے تو محاصرہ کرکے راستے بند کرنا سنت سے ثابت و جائز ہے،یہی معنی حدیث کا علماء کرام نے لکھا ہے، حق چار یار کی نسبت سے چار حوالہ جات پڑھیے:

۔

🟤1.....أخذوا منازلَ لا حاجةَ لهم إليها، فضيَّقوا بذلك

 المكانَ

حدیث پاک میں جو ہے کہ راستوں پہ بیٹھ کر راستے بند کرنا درست نہیں اسے ثواب نہیں ملے گا تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ بلا ضرورت بغیر کسی حاجت کے ایسا کرے اور راستے تنگ کر دے( حاجت ضرورت اور حکمت شریعہ مفیدہ جائزہ کے تحت راستے بند کرنے کی ممانعت نہیں بلکہ اجازت ہے)

(لمعات شرح مشکواۃ6/641)

۔

🟤2....التضييق هنا بسبب أخذ منزل لا حاجة له إليه أو فوق حاجته.

راستے تنگ کرنے کی جو ممانعت ہے وہ اس صورت میں ہے کہ جب بغیر ضرورت کے راستہ تنگ کیا جائے یا جتنی ضرورت ہو اس سے زائد طور پر راستہ تنگ کیا جائے تو وہ ممنوع ہے ورنہ نہیں

(شرح مشکواۃ طیبی8/2689)

۔

🟤3....بسبب أخذِ كلٍّ منهم منزلاً لا حاجة له فيه

یہ راستہ بند کرنے تنگ کرنے کی ممانعت اس وقت ہے کہ جب اسکی کوئی حاجت و ضرورت نہ ہو

(شرح المصابیح4/372)

۔

🟤4....أَيْ: عَلَى غَيْرِهِمْ بِأَنْ أَخَذَ كُلٌّ مَنْزِلًا لَا حَاجَةَ لَهُ فِيهِ، أَوْ فَوْقَ حَاجَتِهِ

راستہ بند کرنے تنگ کرنے کی جو ممانعت حدیث پاک میں ہے وہ اس صورت میں ہے کہ جب اس کی ضرورت نہ ہو یا ضرورت سے زائد راستہ بند کر دیا جائے تو ممنوع ہے ورنہ جائز ہے( یعنی حاجت ضرورت اور حکمت شریعہ مفیدہ جائزہ کے تحت راستے بند کرنے کی ممانعت نہیں بلکہ اجازت ہے)

(مرقاۃ المفاتیح6/2522)

۔

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.