Labels

مرزا جہلمی۔۔ آصف بن برخیا۔۔ مدد ۔۔ استمداد

 🟥 *#مرزا جہلمی یا اسکے فالوور اسٹوڈنٹ وغیرہ کا اعتراض تخت سلیمان والے واقعے کے متعلق اور ہمارا جواب، اولیاء۔۔۔ مدد۔۔۔؟؟ آصف بن برخیا سے مدد نہیں مانگتے ہو لیھذا۔۔۔۔؟؟ تحقیقی عقلی مدلل جواب اس مختصر مدلل تحریر میں پڑھیے۔۔۔۔!!*

۔

🔶مرزا جلیمی یا اس کا فالوور اسٹوڈنٹ لکھتا ہے:

تخت بلقیس پر دین تصوف کی دونمبری پکڑی گئی

حضرت سلیمان کے درباری آصف بن برخیا جو ایک لمحے میں تخت بلقیس کو حضرت سلیمان کے دربار میں لے آئے لیکن آصف بن برخیا کو نا حضرت سلیمان نے نا جنات نے بلکہ کسی نے بھی آصف بن برخیا کو یا غوث اعظم المدد کہہ کر نہیں پکارا اور نا ہی کسی نے آصف بن برخیا کو اپنا حاجت روا ، مشکل کشا مانا کیا آج تک کسی مسلمان نے آصف بن برخیا کو یا غوث اعظم المدد کہہ کر پکارا ہے؟

جب آصف بن برخیا جن کی کرامت کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہےاور آصف بن برخیا کو کوئی بھی مسلمان اپنا حاجت روا مشکل کشا نہیں مانا تو رسول اللہ کے بعد میں آنے والے اولیاء حاجت روا ، مشکل کشا کیسے ہو سکتے ہیں ؟


۔

🟩 *#جواب مدلل و عقلی*

1️⃣پہلا جھوٹ تو اس تحریر میں یہ ہے کہ اج تک کسی نے اصف بن برخیا کو مدد کے لیے نہیں پکارا۔۔۔کیونکہ اپ تعویذات اہلسنت کے دیکھتے تو اس میں سے بعض میں اصف بن برخیا کا نام اج بھی ہوتا ہے

۔

2️⃣دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ تم نے کہا کہ کوئی مدد نہیں مانگتا آصف بن برخیا سے۔۔۔۔ارے اپ نے سارے مسلمانوں کے دلوں میں کیسے جھانک کر دیکھ لیا کہ انہوں نے اج تک اصف بن برخیا سے مدد نہیں مانگی۔۔۔؟؟ بالکل مانگی ہوگی، ناجانے کتنے اربوں کھربوں نے مدد مانگی ہوگی لیکن ان سب کا لکھا ہونا کہ فلاں فلاں نے مدد مانگی تو یہ ضروری نہیں

۔

3️⃣تیسری بات کسی کے مشکل کشا ولی اللہ ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس سے مدد بھی ضرور مانگی جاتی ہو اور روایت میں مدد مانگنے کا واقعہ بھی ایا ہو،۔۔۔ اربوں کھربوں سے بھی زیادہ اولیاء کرام مشکل کشا ہیں لیکن سب کے واقعات منقول نہیں ہوئے۔۔۔🌹بس ایات مبارکہ و احادیث مبارکہ میں اصول بتا دیا گیا کہ مشکل کشا وہ ہو سکتا ہےجو اللہ کا پیارا ہو چاہے اس سے کوئی مدد مانگے یا نہ مانگے۔۔۔۔🌹تبرک و ایمان مضبوطی کے لیے بعض واقعات روایتوں میں بھی ائے ہیں لیکن روایتوں میں آنا ضروری نہیں۔۔۔۔🚨👈👈👈دیکھیے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام علیھم السلام اور اربوں کھربوں سے بھی زائد اولیاء کرام لیکن سب کے واقعات روایتوں میں نہیں آئے تو کیا ان سب کا انکار کر دیں گے۔۔۔۔؟؟ ہرگز نہیں۔۔۔معجزے کرامت  مشکل کشائی کے واقعات قصے برحق ہوتے رہتے ہیں مگر روایات میں آنا ضروری نہیں، چند ایک آگئے تاکہ تسلی و ایمان مضبوطی کا سامان بن جائے

۔

🌹1️⃣ القرآن:

فَاِنَّ اللّٰہَ  ہُوَ مَوۡلٰىہُ  وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

ترجمہ:

بے شک اللہ کریم مددگار ہے اور جبرائیل مددگار ہے اور نیک مومنین اولیاء اللہ مددگار ہیں

(سورہ التحریم ایت4)

✅ایت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اولیاء کرام بھی مددگار ہوتے ہیں 👈چاہے ان ان سے مدد مانگی جائے یا نہ مانگی جائے،ایسا نہیں کہ مددگار اور مشکل کشا تبھی کہلائیں گے کہ اج تک ان سے کوئی نہ کوئی مدد ضرور مانگے

.

🌹2️⃣الحدیث:

اطْلُبُوا الْخَيْرَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ۔۔۔قَالَ السُّيُوطِيّ وَهَذَا الحَدِيث فِي نقدي حسن صَحِيح

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر قسم کی بھلائی مدد خوش رویوں نیک صالحین سے مانگو۔۔۔اس حدیث کو امام سیوطی نے حسن صحیح معتبر قرار دیا ہے

(تنزیہ الشریعۃ2/133)

مجدد دین و ملت امام اہل سنت امام احمد رضا نے اس حدیث کے کم و بیش 30 سندیں لکھیں دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں

۔

🌹3️⃣الحدیث:

رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره

کچھ ایسے بکھرے بالوں والے گرد و غبار لگے ہوئے بھی ہوتے ہیں جنہیں دروازوں سے دھتکارا جاتا ہے مگر اللہ کی قسم اٹھا کر اگر وہ کچھ کہہ دیں تو اللہ انکی وہ بات ضرور پوری فرماتا ہے 

(مسلم حديث6682)

۔

✅ ثابت ہوا کہ: 

اللہ کے پیارے بندے اولیاء کرام سے بھی مدد طلب کر سکتے ہیں، 👈چاہے وہ مدد مافوق الاسباب ہو یا ما تحت الاسباب کیونکہ اللہ تعالی نے فرما دیا ہے کہ ایسے پیارے بندے اولیاء کرام اگر اللہ کی بارگاہ میں سوال کر دیں قسم اٹھا کر کچھ عرص کر دیں تو اللہ تعالی انہیں رسوا نہیں فرماتا اور ان کی ضرور سنتا ہے اور ان کی دعا پوری فرماتا ہے اس طرح ہماری مدد ہو جائے گی ان اولیاء کرام کے ذریعے سے لہذا اولیاء کرام سے مدد مانگ سکتے ہیں....👈اور اس حدیث پاک میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایسے اولیاء بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں بظاہر گھروں سے دھتکارا جاتا ہے مطلب ان سے مدد نہیں مانگی جاتی لیکن وہ مددگار ہوتے ہیں مشکل کشا ہوتے ہیں،لیھذا مشکل کشا ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر وقت ان سے مدد بھی مانگی جاتی ہو

۔

🌹4️⃣حدیثِ قدسی ہے میں ہے کہ

، وإن سألني لأعطينه

اگر وہ(باعمل نیک عبادت گذار پرہیزگار ولی اللہ) مجھ سے کچھ سوال کرتا ہے تو میں ضرور اسے دیتا ہوں

(بخاری حدیث6502)

۔

✅ ثابت ہوتا ہے کہ:

اللہ کے نیک بندے علماء اولیاء اگر اللہ تعالی سے کوئی سوال کریں تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں ان کا سوال ضرور پورا کروں گا تو ثابت ہوا کہ👈 ہم مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب کوئی بھی حاجت مدد کا سوال ان سے کر سکتے ہیں اور وہ اللہ کی بارگاہ میں سوال کریں گے تو ہماری مراد پوری ہو جائے گی.... 👈اور حدیث پاک میں یہ لفظ اشارہ کر رہا ہے کہ اگر مانگے۔۔۔ مطلب مشکل کشا ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ مانگنا بھی ضروری ہو تب جا کر وہ مشکل کشا کہلائے گا ایسا نہیں ہے۔۔۔👈اولیاء کرام تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ بن مانگے کبھی بہت سارے لوگوں کے مشکل کشائی کر دیتے ہیں

۔

5️⃣🌹الحدیث مع شرح اہلحدیث و وہابی:

وَإِن أَرَادَ عونا فَلْيقل يَا عباد الله أعينوا يَا عباد الله أعينوا يَا عباد الله أعينوا (ط)) // الحَدِيث أخرجه الطَّبَرَانِيّ فِي الْكَبِير......وَأخرج الْبَزَّار من حَدِيث ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ۔۔۔۔ فَإِذا أصَاب أحدكُم شَيْء بِأَرْض فلاة فليناد أعينوني يَا عباد الله قَالَ فِي مجمع الزَّوَائِد رِجَاله ثِقَات وَفِي الحَدِيث دَلِيل على جَوَاز الِاسْتِعَانَة بِمن لَا يراهم الْإِنْسَان من عباد الله من الْمَلَائِكَة وصالحي الْجِنّ وَلَيْسَ فِي ذَلِك بَأْس كَمَا يجوز للْإنْسَان أَن يَسْتَعِين

 ببني آدم

اہلحدیث غیر مقلد وہابی نجدی وغیرہ کا معتبر ترین امام شوکانی لکھتا ہے کہ حدیث پاک میں ہے کہ

کوئی شخص مدد کے لیے پکارنا چاہے تو کہے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔۔۔اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔۔۔ اے اللہ کے بندو میری مدد کرو جیسے کہ طبرانی میں یہ حدیث ہے۔۔۔۔ اور امام بزاز نے بھی ایسی حدیث پاک لکھی ہے جس میں ہے کہ مسلمان مدد کے لیے پکارے کہ

 اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔۔۔ امام ہیثمی نے مجمع زوائد میں اس حدیث پاک کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ معتبر ہیں۔  تو اہلحدیث غیر مقلد وہابی نجدی وغیرہ کا معتبر ترین امام شوکانی لکھتا ہے کہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مدد طلب کر سکتا ہے ان سے بھی جنہیں وہ دیکھتا بھی نہیں جیسے ملائکہ اور مسلمان جن اور اسی طرح انسانوں سے بھی مدد مانگ سکتا ہے، جائز ہے

(طبرانی۔۔۔جامع صغیر۔۔۔مسند بزاز۔۔۔كتاب تحفة الذاكرين بعدة الحصن الحصين شوکانی ص238ملتقطا)

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.