Labels

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر 5وائرل اعتراضات کے مدلل تحقیقی جواب پڑھیے

 🟫 *#سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر 5وائرل اعتراضات کے مدلل تحقیقی جواب پڑھیے اس تحریر میں۔۔۔!!*

۔

🟩 شیعہ کتابوں سے ثابت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ایمان والے تھے، منافق کافر نہ تھے بس اجتہادی باغی تھے تو پھر شیعہ کے یہ سارے اعتراضات کہ سیدنا معاویہ کو لعنت کی رسول کریم نے یا فرمایا کہ معاویہ کو قتل کر دو یا فرمایا کہ معاویہ نے میری نافرمانی کی ہے نعوذ باللہ کافر ہو گیا ہے تو یہ سارے اعتراض خود بخود سرے سے ہی باطل ہو جاتے ہیں کیونکہ اگر اللہ نہ کرے ایسا ہوتا تو صحابہ کرام سیدنا علی اہل بیت شروع سے ہی سیدنا معاویہ سمیت سب کی مذمت کرتے اور سیدنا حسن کبھی صلح نہ کرتے۔۔۔

🔷1۔۔۔۔سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان

 یہ بات بالکل واضح ہے ظاہر ہے کہ ان(سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ)کا اور ہمارا رب ایک ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہے، انکی اور ہماری اسلامی دعوت و تبلیغ ایک ہے، ہم ان کو اللہ پر ایمان رسول کریم کی تصدیق کے معاملے میں زیادہ نہیں کرتے اور وہ ہمیں زیادہ نہیں کرتے...ہمارا سب کچھ ایک ہی تو ہے بس صرف سیدنا عثمان کے قصاص کے معاملے میں اجتہادی اختلاف ہے

(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ3/114)

✅ ثابت ہوا کہ سیدنا علی کا ایمان سیدنا معاویہ کا ایمان سیدنا معاویہ کا اسلام سیدنا علی کا اسلام اہل بیت کا اسلام صحابہ کرام کا اسلام قرآن و حدیث سب کے سب معاملات میں متفق ہی تھے،سیدنا علی و سیدنا معاویہ وغیرہ سب کے مطابق قرآن و حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ تھی....پھر کالے مکار بے وفا ایجنٹ غالی جھوٹے شیعوں نے الگ سے حدیثیں بنا لیں، قصے بنا لیے،الگ سے فقہ بنالی، کفریہ شرکیہ گمراہیہ نظریات و عمل پھیلائے، سیدنا علی و معاویہ وغیرہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام کے اختلاف کو دشمنی منافقت کفر کا رنگ دے دیا...انا للہ و انا الیہ راجعون

.


🔷2.... عن علي عليه السلام أنه سئل عن قتلى الجمل أمشركون هم؟قال: لا بل من الشرك فروا، قيل: فمنافقون، قال: لا ان المنافقين لا يذكرون الله الا قليلا: قيل: فما هم؟ قال: إخواننا بنوا علينا....ان عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من اهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق ولكن (ولكنه كان - خ) يقول هم إخواننا بغوا علينا....ان عليا عليه السلام كان يقول لأهل حربه انا لم نقاتلهم على التكفير لهم ولم نقاتلهم على التكفير لنا ولكنا رأينا انا على حق ورأوا انهم على

 حق

 👈سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا کہ جنگ جمل کے ہمارے مخالفین صحابہ کیا مشرک و کافر ہیں سیدنا علی نے فرمایا نہیں تو انہوں نے کہا کہ کیا پھر وہ منافق(ظالم غاصب مرتد) ہیں...؟؟ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نہیں... انہوں نے کہا کہ پھر وہ کیا ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا وہ تو ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے(اجتہادی) بغاوت کی ہے... سیدنا علی اپنے مخالفین جو جنگ کرتے تھے جنگ جمل اور جنگ صفین ان تمام صحابہ کرام کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ نہ تو منافق ہیں نہ مشرک ہیں ، فرمایا کرتے تھے ہم ان سے جنگ کفر(منافقت) کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ اس بنیاد پر جنگ کی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ درستگی پر ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم درستگی پر ہیں...

(شیعہ کتاب جامع أحاديث الشيعة 141 16/126)

(شیعہ کتاب بحارالانوار32/324)

(شیعہ کتاب وسائل الشیعۃ15/83)

(شیعہ کتاب قرب الاسناد ص94)

👈👈سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و معاویہ اور دیگر صحابہ کرام کو کھلےعام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں منافق ظالم کافر کہنے والے،توہین و گستاخی کرنےوالے، ایسے توہین والے اعتراضات کرنے والے رافضی نیم رافضی اپنےایمان کی فکر کریں کیونکہ سیدنا علی تو بھائی فرما رہے ہیں، کیا سیدنا علی کافر مرتد ظالم منافق کو بھائی کہیں گے اپنا۔۔۔۔۔۔؟؟ لیھذا گستاخ شیعہ محبانِ علی و اہلبیت نہیں بلکہ نافرمانِ علی ہیں،نافرمانِ اہلبیت ہیں

.

🔷3۔۔۔۔فنعى الوليد إليه معاوية فاسترجع الحسين...سیدنا حسین کو جب سیدنا معاویہ کی وفات کی خبر دی گئ تو آپ نےاِنَّا لِلّٰہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا…(شیعہ کتاب اعلام الوری طبرسی1/434) مسلمان کو کوئی مصیبت،دکھ ملےتو کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ  اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(سورہ بقرہ156)ثابت ہوا سیدنا معاویہ امام حسین کے مطابق کافر ظالم منافق دشمن برے ہرگز نہ تھے

۔

🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩🟩

🟩اب اعتراضات کے جوابات سے پہلے ایک مختصر سا اصول یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ

🔷 *#اصول۔۔۔ شیعہ کتابوں سے*

قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّی‌ اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ :  اَلْمَكْرُ وَ اَلْخَدِيعَةُ وَ اَلْخِيَانَةُ فِي اَلنَّارِ

مکر فریب دھوکہ دہی مکاری اور خیانت جہنم میں لے کے جاتی ہے جہنمی لوگوں کا کام ہے

(شیعہ کتاب مستدرک الوسائل حدیث206906)

۔

قَالَ قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّی‌ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِماً أَوْ ضَرَّهُ أَوْ مَاكَرَهُ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں جو دھوکہ دے مکر فریب کرے یا نقصان پہنچائے

(شیعہ کتاب بحار الانوار حدیث266191)

۔

أَوْلِيَاءُ اَلشَّيْطَانِ مِنْ أَهْلِ اَلطَّمَعِ وَ اَلْمَكْرِ وَ اَلْجَفَاءِ 

احادیث و روایات کے مطابق جو لوگ لالچی ہوتے ہیں مکر و فریب دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں اور بے وفائی کرنے والے ہوتے ہیں وہ شیطان کے دوست ہوتے ہیں

(شیعہ کتاب بحار الانوار33/566)

۔

🚨 اب ہم شیعہ کے اعتراضات لکھیں گے اور ان کے جوابات لکھیں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کریں گے کہ شیعہ نے کیسے دھوکہ مکاری مکر و فریب سے کام لیا اور اوپر اپ نے دھوکہ مکر فریب کے بارے میں شیعہ کتابوں کے حوالے سے مذمت پڑھ لی ہوگی

۔

اعتراض1️⃣

حضور نے فرمایا: "اگر تم معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو “

(ماخذ : تاریخ الطبری، تہذیب التہذیب، طبقات ابن سعد ) .

.

🔶1...شیعہ مکار نے مکاری و دھوکہ دیتے ہوئے ایسے لکھا ہے جیسے کہ امام طبری نے تاریخ طبری میں اس روایت کو مستند کہہ کر لکھا ہو جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاق و سباق پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ

اس روایت کو طبری نے سیدنا معاویہ وغیرہ بنو امیہ کے متعلق لکھی گئ موضوع من گھڑت جھوٹی کتاب میں سے قرار دیا

(تاريخ الطبری54, 10/58)

.

🔶2...تھذیب التھذیب امام ابن حجر عسقلانی کا حوالہ تو دے دیا لیکن ان کا تبصرہ چھپا دیا جو کہ مکاری اور دھوکہ دہی ہے، جو کہ منافقوں اور جہنمی لوگوں کا کام ہے

تھذیب کی پوری عبارت یوں ہے

كان يضع الحديث وقال الحاكم ليس بالقوي عندهم وفي الكامل لابن عدي قال يحيى كذاب وقال بن حبان كان يشتم الصحابة ويروي عن الثقات الأشياء الموضوعات وهو الذي روى عن عاصم عن ذر عن عبد الله إذا رأيتم معاوية على منبري فأقتلوه

راوی الحکم کے بارے میں امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ یہ موضوع من گھڑت روایات گھڑ لیتا تھا اور امام یحیی نے فرمایا کہ یہ بہت بڑا جھوٹا راوی تھا اور امام ابن حبان نے فرمایا کہ یہ ایسا پلید راوی تھا کہ جو صحابہ کرام کو گالم گلوچ کرتا تھا اور اپنی طرف سے من گھڑت روایت گھڑ لیتا تھا اور اسے ثقہ راویوں کی طرف منسوب کر دیتا تھا۔۔ان من گھڑت روایتوں میں سے یہ بھی ہے کہ

 جب تم معاویہ کو میرے ممبر پر دیکھو تو اس کو قتل کر دو

(تھذیب التھذیب2/428)

۔


👈اس روایت کے ایک راوی مجالد کے متعلق امام بخاری اور امام ابن معین فرماتے ہیں

عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعْينٍ، أَنَّهُ قَالَ: مُجَالِدٌ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مُجَالِدٌ كَذَّابٌ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: مُجَالِدٌ كَذَّابٌ

ابن معین فرماتے ہیں کہ مجالد کی حدیث سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی وہ کذاب جھوٹا راوی ہے اور امام بخاری فرماتے ہیں کہ مجالد کذاب و جھوٹا راوی ہے 

(الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير1/354)

.


👈امام سیوطی اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں

مَوْضُوع. عباد رَافِضِي وَالْحكم مَتْرُوك كَذَّاب

یہ روایت جھوٹی من گھڑت ہے اس کی ایک سند میً عباد راوی ہے جوکہ رافضی ہے اور ایک راوی حکم بھی ہے جوکہ متروک و کذاب جھوٹا ہے

(اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة1/388)

.

🔶3...طبقات ابن سعد کا جھوٹا حوالہ دیا ہے بہت تلاش کے باوجود طبقات ابن سعد میں ایسی کوئی روایت ہمیں نہیں ملی

۔

🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥

اعتراض2️⃣

حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کو گدھے پر سوار قریب آتے دیکھا، معاویہ اس کی اس کی رہنمائی کر رہا تھا اور معاویہ کا بیٹا یزید اسے ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رہنما، سوار اور ہانکنے والے پر لعنت کرے۔“

(ماخذ : انساب الاشرف، تاریخ الطبری، تاریخ ابوالفد)

۔

✅تحقیق و جواب:

🔶1....شیعہ نے دھوکہ دیتے ہوئے مکاری کرتے ہوئے حوالہ جات ایسے دیے ہیں جیسے ان کتابوں میں اس روایت کو مستند کہہ کر لکھا گیا ہو جبکہ

امام طبری نے سیدنا معاویہ و سفیان علیھم الرضوان کی مذمت کرتے ہوئے مزکورہ بات نہیں لکھی بلکہ یہ لکھا ہے

 کہ

المعتضد بالله على لعن معاويه بن ابى سفيان على المنابر، وامر بإنشاء كتاب بذلك يقرا على الناس

[تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري ,10/54]

یعنی

معتضد باللہ نے جمعہ کے خطبوں میں سیدنا معاویہ و سفیان پر لعنت کا حکم دیا اور ایک تحریر لکھ دی جو ہر خطبہ جمعہ میں پڑھی جاتی تھی اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ

ومنه قول الرسول ع وقد رآه مقبلا على حمار ومعاويه يقود به ويزيد ابنه يسوق به: لعن الله القائد والراكب والسائق]

ترجمہ

👈معتضد باللہ کے گندے کرتوت میں سے یہ من گھڑت تحریر بھی تھی کہ رسول اللہ نے دیکھا کہ ابو سفیان گدھے پے سوار ہے معاویہ آگے سے کھینچ رہا ہے اور اسکا بیٹا یزید گدھے کو پیچھے سے ہانک رہا ہے تو رسول نے فرمایا اللہ کی لعنت ہو سوار پر کھینچنے والے پر ہانکنے والے پر(تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري ,10/58]

.

👈👈اس روایت کے جھوٹے من گھرت ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس میں یزید بن معاویہ کا ذکر ہے کیونکہ یزید بن معاویہ زمانہ رسالت میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا...

۔

🔶2...بلاذری معتبر اہلسنت راوی نہیں، بلاذری کی کتب میں کیا کیا نہیں موجود، اللہ پناہ دے،

بلاذری كثير الهجاء بذيء اللسان آخذا لأعراض

 الناس،

بلاذری بہت زیادہ مذمتیں کرتا تھا ۔۔۔ فحش زبان تھا ۔۔۔ عزتوں کو پامال کرتا تھا

(معجم الادباء حموى 2/531)

.

🔶3...شیعہ نے مکاری اور دھوکہ دہی کرتے ہوئے حوالہ اس طرح دیا کہ جیسے تاریخ ابو الفدا میں اس روایت کو معتبر روایت کہہ کر لکھا ہے جبکہ اس کتاب میں اس کو خلیفہ معتضد کے کرتوت میں شمار کیا ہے کہ اس نے ایسی روایت من گھڑت روایت لوگوں میں عام کروائی

وفيها أمر المعتضد أن يكتب إلى الأقطار....ورأى النبي صلى الله عليه وسلم أبا سفيان مقبلاً ومعاوية يقوده، ويزيد أخو معاوية يسوق به، فقال: " لعن الله القائد والراكب

والسائق

ایک سال کے احوال میں تاریخ ابو الفدا کے مصنف لکھتے ہیں کہ اس سال معتضد نے حکم دیا کہ لوگوں میں یہ من گھڑت روایت پھیلا دیا جائے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کو گدھے پر سوار قریب آتے دیکھا، معاویہ اس کی اس کی رہنمائی کر رہا تھا اور معاویہ کا بیٹا یزید اسے ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رہنما، سوار اور ہانکنے والے پر لعنت کرے

(تاریخ ابی الفداء2/57)

۔

👈👈اور یہ بھی یاد رہے کہ تاریخ ابو الفدا اہل سنت کی معتبر کتب میں سے نہیں ہے۔۔۔ لہذا اگر یہ اس روایت کو معتبر روایت کہہ کر بھی لکھے تو بھی غیر معتبر کہلائے گی کہ کتاب تاریخ ابو الفداء ہی غیر معتبر ہے

(دیکھیے میزان الکتب ص324)


🟥🟥🟥🟥🟥🟥

اعتراض3️⃣

جب معاویہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاوے کو نظر انداز کیا اور کھانے میں مگن رہا تو حضور صلی علیا سلم نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے“ (ماخذ صحیح مسلم، حدیث (2604)

۔

✅ *#جواب و تحقیق*

*#پہلا جواب* 1️⃣

اپ نے جو یہ کہا کہ سیدنا معاویہ نے کہا کہ میں کھانا کھا رہا ہوں ، جھوٹ کہا کیونکہ اس روایت میں واضح ہے کہ سیدنا معاویہ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں کھانا کھا رہا ہوں بلکہ

 👈سیدنا ابن عباس نے اپنی طرف سے جا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ سیدنا معاویہ کھانا کھا رہے ہیں۔۔✅۔لہذا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اس بدعا کہ مستحق ہی نہیں ٹھہرے تو ان پر مذمت کیوں۔۔۔؟؟

۔

🔷علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں:

ان ابن عباس راہ یاکل استحی ان یدعوہ،فجاء و اخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بانہ یاکل و کذا فی المرۃ

 الثانیۃ

بے شک ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو( کم عمری کی وجہ سے اپ نے یہ سمجھا کہ) سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کھانے سے اٹھانے میں مجھے شرم ا رہی ہے اس لیے جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کھانا کھا رہے ہیں اسی طرح دوسری مرتبہ بلانے پر بھی سیدنا ابن عباس نے اپنی طرف سے کہا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں

(تطہیر الجنان ص103)

۔

*#دوسرا جواب* 2️⃣

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان مبارکہ نہیں کہ وہ مسلمانوں کو بددعا دیتے پھریں وہ تو مشرکین کافرین کے لیے بھی دعا فرماتے تھے کہ ہدایت پر ا جائیں۔۔۔لہذا علماء کرام نے فرمایا کہ رسول کریم نے یہ 👈بددعا نہیں دی بلکہ یہ عرب کی عادت کے مطابق کہے جانے والے جملے تھے جس سے بظاہر مذمت کا پہلو نکلتا ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق ارشاد فرما دیا کہ ایسا جملہ اگر میں بول دوں کسی مسلمان کو تو اسے بد دعا مت سمجھو بلکہ وہ اس مسلمان کے لیے پاکیزگی طہارت اور اجر و ثواب بن جائے گا

اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے اللہ جس مومن کو میں نے برا کہا تو اس کے لیے اس بظاہر

 بد دعا کو دعا میں بدل دینا اور اس کے لیے وہ ثواب کا باعث بن جائے 

(بخاری حدیث6361)

۔

فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس مسلمان کو میں نے بظاہر لعنت کی ہو یا بظاہر برا کہا ہو تو یا اللہ کریم اس بظاہر بددعا کو دعا میں تبدیل فرما دے اور اس کے لیے ثواب بنا دے طہارت و پاکیزگی بنا دے

(مسلم حدیٹ6614,2600)

.

*#تیسرا جواب* 3️⃣

اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق یہ کہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر انے میں تاخیر کی اور کھانا کھانے کو ترجیح دی تو کہنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کر کے کفر کیا تو اب بتائیے ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو کیوں نہ بتایا کہ نعوذ باللہ معاویہ کافر ہو گیا ہے اسے اپنے اپ سے دور کر دو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ وہ تو منافقین کو اور مرتدین کو دھتکار دیتے تھے اپنے سے جدا کر دیتے تھے 

تو

لازما کہنا پڑے گا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مومن تھے ایمان والے تھے اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں بھی انہیں اپنا ساتھی بنائے رکھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بظاہر بددعا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے دعا بن گئی تھی 

۔

اسی لیے کئی علماء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ مذکورہ بالا بظاہر بددعا حقیقت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے دعا تھی رحمت کی دعا تھی اجر کی دعا تھی پاکیزگی کی دعا تھی تو یہ حدیث پاک تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان بیان کر رہی ہے۔۔۔امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

وَفِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ  بطنه ونحو ذلك لا يقصدون بشئ مِنْ ذَلِكَ حَقِيقَةَ الدُّعَاءِ فَخَافَ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم أن يصادف شئ مِنْ ذَلِكَ إِجَابَةً فَسَأَلَ رَبَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَرَغِبَ إِلَيْهِ فِي أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ رَحْمَةً وَكَفَّارَةً وَقُرْبَةً وَطَهُورًا وَأَجْرًا وَإِنَّمَا كَانَ يَقَعُ هَذَا مِنْهُ فِي النَّادِرِ وَالشَّاذِّ مِنَ الْأَزْمَانِ وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا

 وَلَا لَعَّانًا

اور وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول کریم نے بظاہر فرمایا کہ اللہ تمہارا پیٹ نہ بھرے تو اس سے مقصد بددعا نہیں تھی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ یا اللہ کریم اس دعا کو ان جیسی دعاؤں کو مومنین کے لیے کفارہ بنا دے ثواب بنا دے پاکیزگی بنا دے اجر بنا دے اور یاد رہے اس قسم کی بظاہر بد دعائیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی زبان اقدس سے کبھی کبھار نکلا کرتی تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام فحش گوئی کرنے والے لعنتیں کرنے والے نہیں تھے

(شرح مسلم نووی16/152)


۔

*#چوتھا جواب* 4️⃣

سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے جو بظاہر بددعا کے کلمات نکلتے تھے وہ دراصل بددعا مقصود ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ عرب لغت کے مطابق محاورے کے طور پر استعمال ہوتے تھے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام بھی عرب محاورے کو استعمال فرما لیا کرتے تھے اس سے بد دعا مراد نہیں ہوتی تھی

كَيْفَ يَدْعُو عَلَى مَنْ لَيْسَ هُوَ بأهل للدعاء عَلَيْهِ أَوْ يَسُبُّهُ أَوْ يَلْعَنُهُ وَنَحْوُ ذَلِكَ فَالْجَوَابُ مَا أَجَابَ بِهِ الْعُلَمَاءُ وَمُخْتَصَرُهُ وَجْهَانِ أَحَدُهُمَا أَنَّ الْمُرَادَ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى وَفِي بَاطِنِ الْأَمْرِ وَلَكِنَّهُ فِي الظَّاهِرِ مُسْتَوْجِبٌ لَهُ فَيَظْهَرُ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِحْقَاقَهُ لِذَلِكَ بِأَمَارَةٍ شَرْعِيَّةٍ وَيَكُونُ فِي بَاطِنِ الْأَمْرِ لَيْسَ أَهْلًا لِذَلِكَ وَهُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَأْمُورٌ بِالْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ وَاَللَّهُ يَتَوَلَّى السَّرَائِرَ وَالثَّانِي أَنَّ مَا وَقَعَ مِنْ سَبِّهِ وَدُعَائِهِ وَنَحْوِهِ لَيْسَ بِمَقْصُودٍ بَلْ هُوَ مِمَّا جَرَتْ بِهِ عَادَةُ الْعَرَبِ فِي وَصْلِ كَلَامِهَا بِلَا نِيَّةٍ

پہلا جواب تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھاکہ بظاہر جو چیز ہو اس کے مطابق فیصلہ فرمائے اس کے مطابق عمل فرمائیں اس لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو حقیقت میں پتہ ہوتا تھا کہ فلاں ان الفاظوں کا مستحق نہیں پھر بھی ظاہر کے مطابق ان الفاظوں کا مستحق بن رہا ہے تو اس لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ الفاظ ادا فرمائے 

اور دوسرے جواب یہ ہے کہ یہ الفاظ بظاہر بددعا والے حقیقت میں بددعا ہی نہیں تھے بلکہ عرب محاورے کے مطابق حضور علیہ الصلوۃ والسلام بطور محاورہ استعمال فرمایا کرتے تھے

(شرح مسلم نووی16/152ملخصا)

.

🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥

اعتراض4️⃣

حضور صلی علیہ اسلام نے فرمایا: ایک باغی گروہ عمار کو قتل کر دے گا۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ کو صفین میں معاویہ سے لڑتے ہوئے شہید گیا تھا۔ (ماخذ صحیح مسلم حدیث 2916)

۔

🟩 *#جواب و تحقیق*

سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ بغاوت کہتے کس کو ہیں

القران:

اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ  بَغَتۡ اِحۡدٰىہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ  حَتّٰی تَفِیۡٓءَ  اِلٰۤی  اَمۡرِ اللّٰہِ

ترجمہ:

اگر مومنوں کے دو گروہ اپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ ،صلح کے بعد جو بغاوت کرے تو بغاوت کرنے والوں سے لڑو تاکہ وہ اللہ کے معاملے(اسلام کے احکامات لوازمات) کی طرف لوٹ ائیں

(سورہ الحجرات ایت9)

.

سوال:

صلح کون کرائے۔۔۔۔۔؟؟ بادشاہ اسلام صلح کرائے یا کوئی ثالث  یا کوئی امیر  یا کوئی عالم دین یا کون صلح کرائے۔۔۔۔۔؟؟

۔

جواب:

يصلح بينهما قوم مؤمنون

کوئی بھی مومن ان دونوں گروہوں میں صلح کرا سکتا ہے

(تفسیر شعراوی2/1063)

۔

وَالْأَمْرُ بِالْإِصْلَاحِ مُخَاطَبٌ بِهِ جَمِيعُ النَّاسِ مِنْ ذكر وأنثى،

صلح کرانے کا جو حکم ہے وہ تمام لوگوں سے ہے چاہے وہ مرد ہوں یا(کوئی طاقتور صلح کرانے والی باپردہ) خاتون

(تفسیر قرطبی14/181)

۔

حضرت ابو شریح نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وبارک وسلم سے عرض کیا:

ان قومى اذا اختلفوا في شئى اتونى فحكمت بينهم فرضى كلا الفريقين قال (عليه الصلاة و السلام)ما احسن

 من هذا

بیشک میری قوم جب کسی چیز میں اختلاف کرتی ہے تو میرے پاس فیصلہ کرانے آتی ہے تو میں ان کا فیصلہ کر دیتا ہوں اور فریقین میرے فیصلہ پے راضی ہو جاتے ہیں تو نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: تمھارا یہ کام (یعنی ثالث بن کر فیصلہ کرنا صلح کرانا ) بہت ہی اچھا کام ہے

(ابوداود، نسائی حدیث3527)

.

صلح صفائی کی عظیم شان ہے مگر اس میں بھی یہ لازم ہے کہ اسلامی حدود و اختیارات و احکامات کا خیال رکھا جائے،معتبر عالم دین کی تصدیق یا مشاورت سے حتمی بات کی جائے

القرآن:

 وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

جو کچھ اللہ نے احکامات نازل کییے ان(اسلامی قوانین و تعلیمات) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کریگا تو وہی ظالم ہے

(سورہ مائدہ ایت45)

۔

🔷 *#نتیجہ*

اس ایت مبارکہ اور اس کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ دو گروہوں میں اختلاف ہو جائے تو ان کے درمیان کوئی بھی ثالث ادمی ,ثالث گروپ یا دو چار ادمی مل کر یا بادشاہ اسلام اکیلا  یا کوئی بھی مسلمان ان کے درمیان صلح کرائے۔۔۔۔صلح کے بعد صلح کرانے والوں کی کوئی نافرمانی کرے تو اسے ایت مبارکہ میں بغاوت کہا گیا ہے۔۔۔۔تو ثابت ہوا کہ 

بادشاہ اسلام کی نافرمانی کی جائے تو بغاوت ہے 

خلیفہ وقت کی نافرمانی کی جائے تو بغاوت ہے 

کسی شرعی امیر ،

کسی ثالث مصلح ادمی،

کسی عالم دین

 کسی پنچائیت

نے اسلام کے اصولوں کے تحت صلح کرائی تو اگر اس کی نافرمانی کی جائے تو بغاوت ہے 

۔


البغاة: هم الذين يقاتلون الإمام متأولين كالخوارج وغيرهم، والذين يخرجون على الإمام، أو يمتنعون عن الدخول في طاعته، أو يمنعون حقا وجب عليهم كالزكاة

وشبهها

باغی مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔۔۔وہ بھی باغی ہیں کہ جو تاویل کر کے بادشاہ سے یا خلیفہ سے جنگ کریں۔۔۔وہ لوگ بھی باغی ہیں کہ جو خلیفہ برحق امام برحق پر خروج کریں۔۔۔۔وہ بھی باغی ہیں کہ جو خلیفہ برحق ، امام برحق ،

شرعی امیر برحق کی اطاعت نہ کریں بلکہ نافرمانی کریں تو وہ بھی باغی ہیں۔۔۔۔وہ لوگ بھی باغی ہیں کہ جن پر زکوۃ وغیرہ جیسے حقوق تھے اور وہ ادا نہیں کر رہے تو وہ بھی باغی ہیں۔۔۔

(الموسوعة الفقهية الكويتية19/74)

.

وأَصلُ البَغْي مُجَاوَزَةُ الْحَدِّ

بغاوت کی اصلی تعریف و معنی یہ ہے کہ حد سے بڑھ جانا

(لسان العرب 14/78

مجمع بحار الانوار1/200)

۔

امام کی اطاعت کرنی تھی۔۔۔۔گروہ کے امیر کی اطاعت کرنی تھی۔۔۔ثالثین کی اطاعت کرنی تھی۔۔۔۔مگر اطاعت کے بجائے نافرمانی کرنے لگ گئے تو وہ باغی کہلائیں گے کیونکہ وہ حد سے بڑھ گئے۔۔۔

۔

البَغْيُ على ضَرْبَيْن: أَحدُهما مَحْمودٌ وَهُوَ تَجاوزُ العَدْلِ إِلَى الإحْسانِ والفَرْضِ إِلَى التَّطوّعِ؛ وَالثَّانِي: مَذْمومٌ وَهُوَ تَجاوزُ الحقِّ إِلَى الباطِلِ، أَو تَجاوزُه إِلَى الشّبَهِ، ۔۔۔۔۔ والبَغْيُ فِي أَكْثَر المَواضِع مَذْمومٌ

👈👈باغی کی عام طور پر دو قسمیں ہیں ایک باغی وہ ہوتا ہے کہ جو اچھا ہوتا ہے ۔۔۔ بغاوت کرنا اس کی اچھائی ہوتا ہے جیسے عدل کے بجائے عدل سے بڑھ کر احسان کرے اور وہ فرض پر اکتفا کرنے کے بجائے فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی کثرت کرے تو یہ بھی شریعت کی مقرر کردہ کم سے کم حد سے بڑھ کر جا رہے ہیں اور شریعت نے اس کم سے کم حد پر اکتفا کرنے کو ضروری قرار نہیں دیا تو یہاں حد سے بڑھ جانا برائی نہیں بلکہ اچھائی ہے۔۔۔ایک باغی وہ ہوتا ہے کہ جو حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف تجاوز کر جاتا ہے۔۔۔۔ایک باغی وہ ہوتا ہے کہ جو مشتبھ کی طرف تجاوز کر جاتا ہے۔۔۔۔اکثر طور پر باغی مذمت کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار باغی کے درست معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں

(تاج العروس37/185مشرحا)

.

✅ *#رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باغی لیکن رسول کریم نے ان باغیوں کو ملامت نہ کی۔۔۔۔!!*


إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ، فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تین بندے بھی نکلیں تو کسی ایک کو اپنا امیر بنا لیں

(ابوداود حدیث2608)

۔

 مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی بے شک اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو شرعی امیر کی اطاعت کرے گا بے شک اس نے میری اطاعت کی

(بخاری حدیث2957)

۔

🧠 *#رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ امیر کی اطاعت کرنی ہے اور امیر کی اطاعت رسول کریم کی اطاعت ہے مگر اب ہم اپ کو وہ حدیث پاک بتا رہے ہیں کہ جہاں شرعی امیر کی اطاعت نہیں کی جا رہی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تو بھی اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامت نہ فرمائی*

.

الحدیث:

 قال النبي صلى الله عليه وسلم لنا لما رجع من الأحزاب: «لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة» فأدرك بعضهم العصر في الطريق، فقال بعضهم: لا نصلي حتى نأتيها، وقال بعضهم: بل نصلي، لم يرد منا ذلك، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم، فلم يعنف واحدا منهم

ترجمہ:

غزوہ احزاب سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم(یعنی صحابہ کرام) سے فرمایا کہ:

تم میں سے ہر ایک بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھے" (صحابہ کرام نے جلد پہنچنے کی بھر پور کوشش کی مگر)راستے میں عصر کا وقت ختم ہونے کو آیا تو کچھ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہم عصر نماز بنی قریظہ پہنچ کر ہی پڑہیں گے اور کچھ صحابہ کرام نے فرمایا کہ نبی پاک کا یہ ارادہ نا تھا(کہ نماز قضا ہو اس لیے) ہم عصر پڑھ لیں گے

(طبرانی ابن حبان وغیرہ کتب میں روایت ہے جس میں ہے کہ کچھ صحابہ نے راستے میں ہی عصر نماز پڑھ لی اور کچھ نے فرمایا کہ ہم رسول کریم کی تابعداری اور انکے مقصد میں ہی ہیں لیھذا قضا کرنے کا گناہ نہین ہوگا اس لیے انہوں نے بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر نماز پڑھی)

پس یہ معاملہ رسول کریم کے پاس پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک پر بھی ملامت نا فرمائی

(بخاری حدیث946)

.

غزوہ احزاب کے بعد صحابہ کرام ٹولیوں میں بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ان کو دل و جان سے یاد ہوگا کہ سفر پر نکلیں تو تین بھی ادمی اگر نکلیں تو ایک کو امیر بنا لیں لہذا ٹولیوں میں جو صحابہ کرام روانہ ہوئے تو ہر ایک نے لازما اپنی ٹولی کا کوئی امیر مقرر کیا 

پھر 

ایک ٹولی دو گروہوں میں بٹ گئی، ہر ایک نے اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کیا اور دوسرے کی نافرمانی کی۔۔۔ان میں سے کسی ایک ٹولی میں تو لازما امیر ہوگا تو یہاں پر ٹولی کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ لازما بغاوت کرنے والا کہلائے گا ، باغی کہلائے گا لیکن یہ چونکہ اجتہاد کر کے بغاوت کر رہا تھا اور اسلام کی سربلندی کے لیے بغاوت کر رہا تھا تو لہذا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغی گروہ کو ملامت نہ فرمایا 

۔

✅ *#ثابت ہوا کہ اسلام کی سربلندی کے لیے ایک گروہ دوسرے سے بغاوت کرے اور دونوں گروہ الگ الگ نظریے پر قائم رہیں اور اپنے نظریے پر عمل کریں لیکن دونوں کا مقصد اسلام کی سربلندی ہو تو ان میں سے جو بھی باغی ہو وہ باغی ملامت کا مستحق نہیں کیونکہ وہ اجتہادی باغی ہے جس کا مقصد اسلام کی سربلندی ہی ہے اور ایسے اجتہادی بغاوت پہ جو اسلام کی سربلندی کے لیے ہو اس پر بھی ایک اجر ملتا ہے*

.

الحدیث:

فاجتهد، ثم اصاب فله اجران، وإذا حكم فاجتهد، ثم اخطا فله اجر

مجتہد نے اجتہاد کیا اور درستگی کو پایا تو اسے دو اجر اور جب مجتہد نے اجتہاد کیا خطاء پے ہوا اسے ایک اجر ملے گا

(بخاری حدیث7352)

۔

*#نوٹ*

اوپر لفظ امیر آیا ہے۔۔۔اس سے مراد وہ شخص نہیں کہ جو پیسے والا ہو یعنی اردو والا امیر مراد نہیں بلکہ امیر سے مراد حکم دینے والا سربراہ مراد ہے

۔

📌 *#اب سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا معاملہ دیکھتے ہیں کہ کیا انہوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے اجتہاد کر کے بغاوت کی یا نعوذ باللہ کچھ اور مقصد تھا۔۔۔۔۔۔؟؟*

.

سچے اہلسنت کو سمجھانے کی اور دلیل دینے کی حاجت ہی نہیں۔۔۔کیونکہ ہر سچا سنی سمجھتا ہے کہ کوئی بھی صحابی اسلام کی سربلندی کے علاوہ کسی اور باطل مقصد کے لیے بغاوت کرے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔مگر کیا کریں کچھ لوگ ہیں کہ جو دلیل کے بغیر نہیں مانتے 

تو یہ لیجیے دلائل کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی سربلندی کے لیے معاشرتی بھلائی کے لیے اجتہادی بغاوت کی 

۔

سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو ظلم و ستم کے ساتھ شہید کیا گیا۔۔ ان کا کھانا پانی بند کیا گیا۔۔۔ انہیں کئی روز تک نظر بند کیا گیا ۔۔۔۔ مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا اور اخر کار شہید کر دیا گیا۔۔۔۔سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا اور قصاص کا مطالبہ اسی لیے کیا کہ قاتل دوسروں کے لیے عبرت کا نشان ہوں کہ معاشرے میں بھلائی کی سوچ اجاگر ہوگی کہ اگر کسی نے بادشاہ وقت اور خلیفہ وقت پر ظلم کیا اسے ظلما شہید کیا تو اسے تلاش کر کر کے ڈھونڈ ڈھونڈ کے بدلہ لیا جائے گا تاکہ کسی کی ائندہ جرات نہ ہو 

۔

معافی بھی لازم مگر کبھی بدلے میں بھلائی ہوتی ہے...!!

القرآن:

وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ

اے عقل والو تمھارے لیے قصاص(بدلے)میں زندگی ہے

(سورہ بقرہ آیت179)

۔

معاف کرنا اختیار کرو(سورہ اعراف199)

۔

اکثر معافی و صلح ہی کرنی چاہیےمگر کبھی ظالم شریروں فسادیوں کا غرور توڑنے،اپنا حق لینےاور دیگر اچھےجائز مقصد کےلیےبدلہ لینا بھی برحق بلکہ کبھی لازم تک ہوجاتا ہے کہ اسی میں انفرادی معاشرتی بھلائی و زندگی ہوتی ہے

۔

🔷 *#سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مطالبے کی وضاحت۔۔۔۔۔۔۔!!*

القرآن:

مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا

جو ظلماً قتل کیا جائے تو اللہ نے اس کے ولی کو قوت و اختیار دیا ہے(کہ قصاص لیں یا دیگر اختیارات چنیں)

(سورہ بنی اسرائیل آیت33)

.

الحدیث:

عن ابن عمر، قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة، فقال: يقتل هذا فيها مظلوما لعثمان

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنے کا تذکرہ فرمایا اور حضرت عثمان کے متعلق فرمایا کہ اس فتنے میں وہ یعنی حضرت عثمان مظلوم شھید کیے جائیں گے..

(ترمذی حدیث نمبر3708)

.

صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ، وَقَالَ: «اسْكُنْ أُحُدُ - أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ -، فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ»

نبی پاکﷺاحد پہاڑ پے تشریف فرما ہوئے اور آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنھم تھے تو احد پہاڑ جنبش کرنے لگا نبی پاکﷺ نے فرمایا اے احد ساکن ہو جا راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں نبی پاکﷺنے اپنا پاؤں مبارک احد پہاڑ پے مار کر فرمایا تھا کہ ساکن ہوجا.....(پھر نبی کریم نے فرمایا)بےشک تجھ پر نبیﷺاور صدیق اور دو شہید ہیں(یعنی سیدنا عمر و عثمان ناحق و ظلماً قتل کییے جائیں گے،شہادت کا رتبہ پائیں گے )

(صحيح البخاري ,5/15حدیث3699)

.

وشهيدان) هما: عمر وَعُثْمَان

 بخاری شریف کی حدیث میں جو ہے کہ دو شہید ہیں ان سے مراد سیدنا عمر اور سیدنا عثمان شہید ہیں

(عمدۃ القاری شرح بخاری16/191)

.

وفيه معجزة للنبي - صلى الله عليه وسلم - حيث أخبر عن كونهما شهيدين، وكانا كما قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم ...

 مذکورہ حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ظاہر ہورہا ہے کہ بے شک نبی پاک صلی اللہ وسلم نے(اللہ کی عطاء سے ملے ہوئے علمِ غیب سے) یہ خبر دی تھی کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان شہید ہونگے اور ایسا ہی ہوا جیسے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

(شرح مصابیح السنۃ6/434)

.

إِنَّهُ فَقِيهٌ

سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں کہ بےشک سیدنا معاویہ فقیہ(مجتہد) ہیں

(بخاری روایت3765)

.

✅🚨آیت مبارکہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ظلماً جو قتل کیا جائے اس کے ولی قصاص لے سکتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں تو قصاص لینے میں ہی معاشرے کی بھلائی ہے جیسے کہ اوپر ایت گزری اور حدیث پاک اور اسکی شرح سے سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ظلماً شہید کیے گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ولی تھے ،قصاص لے سکتے تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہی تو ارشاد فرمایا تھا کہ میں سیدنا عثمان کا ولی ہوں لیھذا میں قصاص کا مطالبہ کرتا ہوں کہ سیدنا عثمان ظلماً شہید کیے گئے...سیدنا معاویہ نے اپنا دعوی اپنا اختلاف و اجتہاد قرآن و حدیث پے ہی رکھا یعنی معاملہ قرآن و حدیث و سنت کی طرف لوٹا دیا اور آیت میں ہے ایمان والے ہیں وہ مسلمان جو اپنا معاملہ قران و حدیث و سنت کی طرف لوٹا دیں لیھذا ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ مومن متقی نیک عادل پرہیزگار اور قرآن و سنت و حدیث کے پیروکار تھے ہاں فقیہ و مجتہد بھی تھے اور اسلام کی سربلندی، معاشرے کی بھلائی کے لیے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے

.


أَنْتَ تُنَازِعُ عَلِيّاً، أَمْ أَنْتَ مِثْلُهُ؟فَقَالَ: لاَ وَاللهِ، إِنِّيْ لأَعْلَمُ أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنِّي، وَأَحَقُّ بِالأَمْرِ مِنِّي، وَلَكِنْ أَلَسْتُم تَعْلَمُوْنَ أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ مَظْلُوْماً، وَأَنَا ابْنُ عَمِّهِ، وَالطَّالِبُ بِدَمِهِ

 سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا گیا کہ آپ سیدنا علی سے جھگڑا کر رہے ہیں اختلاف کر رہے ہیں کیا آپ ان کی مثل ہیں تو سیدنا معاویہ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم میں ان جیسا نہیں ہوں، میں انکے برابر نہیں ہوں، میں جانتا ہوں کہ سیدنا علی مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے معاملے میں وہ مجھ سے زیادہ حقدار ہیں لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ سیدنا عثمان ظلماً شہید کئے گئے اور میں اس کے چچا کا بیٹا ہو اور اس کے قصاص کا طلب گار ہوں

(سير أعلام النبلاء ابن جوزی ط الرسالة3/140)

(البداية والنهاية امام ابن کثیر ت التركي11/425)

.

محققین نے اس روایت کی سند کو جید معتبر قرار دیا ہے

إسناده جيد

(روضة المحدثين7/242)

۔

🟩📌ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ فقیہ مجتہد تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ولی وارث تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ظلم و ستم کے ساتھ شہید کیے گئے اور قران و احادیث کے مطابق کبھی کبھار قصاص لینا ہی معاشرے کی بھلائی ہوتا ہے تو اسی لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مطالبہ کیا کہ پہلے اپ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا قصاص لیجئے پھر میں اپ کی بیعت کروں گا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیعت نہ کرنا بغاوت تھا جو اجتہاد پر مبنی تھا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اجتہادی باغی قرار پائے اور اوپر ہم پڑھ چکے ہیں کہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ، اسلام کی سربلندی کے لیے اجتہادی بغاوت کی جائے تو اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ملامت نہیں فرمائی 

۔

اور ادھر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا اجتہاد تھا کہ قران مجید میں ہے فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرما رہے تھے کہ فورا قصاص کس سے لیں۔۔۔۔؟؟ قاتلین عثمان کو تلاش کرنا پڑے گا اور ان قاتلوں کو کس چیز نے ایسے گندے کام پر ابھارا اس کی چھان بین کرنی پڑے گی، ایک عرصے تک خفیہ چھان بین کرنی پڑے گی اور جب فتنے کا اصل سرچشمہ پتہ چلے گا تو پھر ان فتنہ بازوں کو سمجھایا جائے گا ان کے اعتراضات کا جوابات دیا جائے گا اور پھر قصاص کا معاملہ اٹھایا جائے گا 

۔

✅بہرحال سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ دونوں کا مقصود معاشرے کی بھلائی اور فتنے کی سرکوبی ہی تھا ۔۔۔اسلام کی سربلندی ہی تھا۔۔۔لہذا کسی پر کوئی ملامت نہیں

.

🚨 *#سوال*

اپ کہہ رہے ہیں کوئی ملامت نہیں جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا گروہ جہنم کی طرف بلا رہا ہوگا۔۔۔۔اس کا کیا جواب دو گے۔۔۔۔۔؟؟

۔

✅ *#جواب*

جب احادیث مبارکہ ایات مبارکہ تفاسیر کتب سے یہ واضح ہو گیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اجتہادی باغی ہیں ان پر کوئی ملامت نہیں وہ نیک متقی مومن صحابی ہیں تو قران اور حدیث سے ثابت شدہ اس شرح سے حدیث کے اگلے حصے کی بھی شرح ہو جاتی ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا گروہ جہنم کی طرف بلا رہا ہوگا تو اس کا ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ یہ معنی مراد ہے کہ ظاہری الفاظ تو یہی ہیں مگر اجتہاد کی وجہ سے حدیث کی شرح سے یہ معنی ہی بنے گا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا گروہ حقیقت میں جنت کی طرف ہی بلا رہا تھا کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا قصاص لینا جنتی کام ہے لہذا حدیث کے اگلے حصے کی شرح حدیث سے ہی ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے اس کا بھی  یہی جواب دیا ہے۔۔۔ حق چار یار کی نسبت سے👈 چار حوالہ جات حاضر ہیں

۔

1....فَإِنْ قِيلَ كَانَ قَتْلُهُ بِصِفِّينَ وَهُوَ مَعَ عَلِيٍّ وَالَّذِينَ قَتَلُوهُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ مَعَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ فَكَيْفَ يَجُوزُ عَلَيْهِمُ الدُّعَاءُ إِلَى النَّارِ فَالْجَوَابُ أَنَّهُمْ كَانُوا ظَانِّينَ أَنَّهُمْ يَدْعُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ مُجْتَهِدُونَ لَا لَوْمَ عَلَيْهِمْ فِي اتِّبَاعِ ظُنُونِهِمْ فَالْمُرَادُ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ الدُّعَاءُ إِلَى سَبَبِهَا وَهُوَ طَاعَةُ الْإِمَامِ وَكَذَلِكَ كَانَ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى طَاعَةِ عَلِيٍّ وَهُوَ الْإِمَامُ الْوَاجِبُ الطَّاعَةُ إِذْ ذَاكَ وَكَانُوا هُمْ يَدْعُونَ إِلَى خِلَافِ ذَلِكَ لَكِنَّهُمْ معذورون للتأويل الَّذِي ظهر لَهُم

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ اگر اعتراض کیا جائے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس گروہ نے شہید کیا جس میں صحابہ کرام بھی تھے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرام جہنم کی طرف بلا رہے ہوں۔۔۔۔۔؟؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول نہیں، یعنی ظاہر میں وہ جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے کیونکہ سیدنا علی کی اطاعت نہ کرنے کی طرف بلا رہے ہوں گے تو امام برحق کی اطاعت نہ کرنے کی طرف بلانا بظاہر جہنم کی طرف بلانا ہے لیکن حقیقت میں وہ اپنے خیال میں جنت کی طرف بلا رہے تھے کیونکہ ان کا اجتہاد کہتا تھا کہ جنت کا سبب یہ ہے کہ ہم قصاص  عثمان کا مطالبہ کریں۔۔۔اسی طرح سیدنا عمار رضی اللہ تعالی عنہ انہیں جنت کی طرف بلا رہے تھے کیونکہ وہ امام برحق سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اطاعت کی طرف بلا رہے تھے لیکن صحابہ کرام میں سے ہر ایک کے پاس اجتہاد تھا تو انہوں نے اپنے اجتہاد پر عمل کیا

(فتح الباری شرح بخاری1/542ملخصا)

۔

2....فإن قيل: قتلَه أهلُ الشَّام بصِفِّيْن، وفيهم صحابةٌ، فكيف جاز أنَّهم يَدعونَه إلى النَّار؟قيل: هم يظنُّون أنَّهم يدعونَه إلى الجنَّة باجتهادهم

سیدنا عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو جس گروہ نے قتل کیا ان میں صحابہ کرام بھی شامل تھے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حدیث کے مطابق صحابہ کرام جہنم کی طرف بلا رہے ہوں۔۔۔۔۔؟؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بظاہر وہ جس کام کی طرف بلا رہے تھے وہ جہنم کا سبب تھا لیکن صحابہ کرام اپنے خیال میں جنت کی طرف بلا رہے تھے کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا قصاص لینا جنتی لوگوں کا کام ہے(حتی کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا قصاص لینے کے حق میں تھے لیکن وہ کچھ عرصے بعد کے قصاص لینے کا ارادہ رکھتے تھے لہذا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سب جنت کی طرف بلانے والے ہیں)

(الامع الصبیح3/214)

۔

3....لأنهم كانوا مجتهدين ظانّين أنهم يدعونه إلى الجنة، وإن كان في نفس الأمر بخلاف ذلك فلا لوم عليهم في اتباع

ظنونهم

سیدنا عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والے اگرچہ بظاہر جہنم کی طرف بلا رہے تھے لیکن وہ مجتہد تھے وہ اپنے اجتہاد اور گمان کے مطابق جنت کی طرف بلا رہے تھے (کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا قصاص لینا جنتی کام ہے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عثمان کا قصاص لینے کے لیے بلاتے تھے تو گویا اپنے خیال میں جنتی کام کی طرف بلاتے تھے)تو کسی پر کوئی ملامت نہیں کر سکتے

(شرح القسطلانی1/442)

۔

4....وَالْجَوَاب الصَّحِيح فِي هَذَا أَنهم كَانُوا مجتهدين ظانين أَنهم يَدعُونَهُ إِلَى الْجنَّة، وَإِن كَانَ فِي نفس الْأَمر خلاف ذَلِك، فَلَا لوم عَلَيْهِم فِي اتِّبَاع ظنونه

صحیح جواب یہ ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والے صحابہ کرام مجتہد تھے وہ اپنے گمان میں جنت کی طرف بلا رہے تھے(کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا قصاص لینا جنتی کام ہے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عثمان کا قصاص لینے کے لیے بلاتے تھے تو گویا اپنے خیال میں جنتی کام کی طرف بلاتے تھے) اگرچہ بظاہر ایسا نہیں تھا لیکن اپنے اجتہاد اور گمان پر عمل کرنے کی وجہ سے ان پر کوئی ملامت نہیں ہے


(عمدة القاري شرح بخاری4/209)

۔

🟩✅ *#الحاصل*

 ثابت ہو گیا کہ حدیث پاک کی روشنی میں قران مجید کی روشنی میں تفاسیر کی روشنی میں کتب کی روشنی میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مجتہد باغی تھے اور وہ حقیقت میں اپنے اجتہاد کے مطابق جنت کی طرف بلا رہے تھے لہذا ان پر کوئی طعن ملامت مذمت کرنا جائز نہیں ہے۔۔ہرگز نہیں۔۔یہی وجہ ہے کہ سچے مسلمان یعنی اہلسنت کے علماء محققین محدثین شارحین سب نے لکھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بغاوت اجتہادی تھی وہ خطاء اجتہادی پر تھے

🟥🟥🟥🟥🟥🟥🟥

اعتراض5️⃣

معاویہ نے مسجدوں میں حتی کہ صحابہ کو بھی مولا علی ع کو سر عام گالی دینے پر مجبور کیا کیا گیا۔ (ماخذ صحیح مسلم حدیث (2409)

۔

🟩 *#پہلی بات*

 روافض نیم روافض مرزا جہلمی اسکے چاہنے والے جب یہ دلیل پیش کرتے ہیں تو انکے چہرے پے دبی سی مسکراہٹ ضرور ہوتی ہے جیسے انہیں کوئی کمال کی دلیل ہاتھ لگ گئ،ضرور انکے دل میں بغض بھرا ہوگا....جن کے دل میں اللہ والوں کی محبت ہوتی ہے، جن کے دل میں اخلاق و اعتدال پسندی حق پسندی ہوتی ہے وہ ایسی دلیل سن کر سناٹے میں چلا جاتا ہے اور مرجھائے چہرے سے سوچتا ہے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے یا پھر وہ مطمئین ہوکر کہتا ہے کہ ایسی دلیل مجھے ملی ہے مگر ضرور یہ دلیل گڑبڑ والی ہوگی کیونکہ قرآن احادیث صحابہ اہلبیت علماء صوفیاء سب سے یہی ثابت ہے کہ اللہ والے گالم گلوچ نہیں کرتے، ہاں اجتہادی اختلاف ہوسکتا ہے مگر اللہ کے پیارے ایک دوسرے کو لعنت کریں....دل نہیں مانتا....ایسا شخص پھر دل و دماغ سے غور و فکر کرتا ہے تدبر کرتا ہے، ہر زاویے سے روایت کی چھان بین کرتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ ضرور روایت میں کچھ جھول ہوگا ورنہ اللہ کے پیارے بندے صحابہ کرام اہلبیت عظام گالیاں لعنتیں دیتے ہوں، یہ نہیں ہوسکتا........اگر کسی ولی سے گناہ ہو بھی جاتا ہے تو اللہ اسے توبہ استغفار کی توفیق عطاء فرماتا ہے

.

🟢 *#دوسری بات……!!*

پہلی بات کو پڑھا سمجھا تو آپ ضرور غور کریں گے، تو آءیے مل کر غور کرتے ہیں کہ صحیح مسلم کی روایت میں اصل الفاظ کیا ہے...تو یہ لیجیے اصل الفاظ:

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ، قَالَ : فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا

 سیدنا سہل بن سعد سے ال مروان کے ایک شخص نے کہا کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دو

(مسلم روایت6229)

👈👈👈 غور کیجئے لفظ ال مروان ہے یعنی مروان کی اولاد میں سے ایک نے کہا کہ تم سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو گالی دو.... جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تو مروان کی اولاد میں سے ہیں ہی نہیں....!!  سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تو ال ابو سفیان میں سے ہیں

.

🔶 *#مرزا جہلمی اینڈ کمپنی اور روافض و نیم روافض کی دوسری دلیل جس پے بہت اچھل کود کرتے ہیں.......!!*

روافض نیم روفض شیعہ ویہ مرزا جہلمی اور اس کے چاہنے والے اور کئ وہ لوگ جو خود کو معتدل پڑھا لکھا سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ سیدنا علی سے بغض رکھتے تھے گالیاں دلواتے تھے دلیل صحیح مسلم کی روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ تم سیدنا علی کو گالی کیوں نہیں دے رہے ہو....؟؟ اور یہ لوگ اپنی جاہلی علمیت جھاڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا صاف مطلب ہے کہ اسے سعد تم علی کو گالی دو...نعوذ باللہ

.

✅ *#جواب.و.تحقیق......!!*

 اپنی جاہلانہ علمیت جھاڑنے سے پہلے بدگمانیاں کرنے سے پہلے کچھ تحقیق و تفکر و تدبر سے کام لے لیا ہوتا... دراصل بات یہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد فتنوں سے جنگوں سے الگ ہو گئے تھے، جنگوں میں نہ تو سیدنا علی کے ساتھ تھے ، جنگوں میں نہ تو سیدنا معاویہ کے ساتھ تھے.... سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی جنگ خوارج کے ساتھ بھی ہوئی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ عائشہ سے بھی ہوئی... تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ جیسے عظیم الشان صحابی اخر کس کی طرف تھے... خوارج کی طرف تھے... سیدنا علی کی طرف تھے ... سیدنا معاویہ کی طرف تھے یا کس کی طرف تھے...؟ اگر کسی کی طرف نہ تھے تو سیدنا علی کے متعلق ان کا کیا نظریہ تھا .... سیدنا معاویہ کے متعلق ان کا کیا نظریہ تھا اور خوارج کے متعلق ان کا کیا نظریہ تھا ....؟؟ اخر کچھ تو وضاحت ہونی چاہیے کہ یہ عظیم الشان صحابی کہ جسے جنت کی بشارت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی عطا فرما دی تھی... یعنی سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ ان دس عظیم الشان صحابہ کرام میں سے تھے کہ جن کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے...آخر ایسی شخصیت کس طرف کھڑا ہے....؟؟

.

یہی وہ وجہ تھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ جیسے ہوشیار ذہین شخصیت نے سوال پوچھا کہ اے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو گالی کیوں نہیں دے رہے اخر کیا وجہ ہے....؟؟ تمہارا کیا نظریہ ہے...؟؟ کیونکہ بظاہر تو تم سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ نہیں ہو اور نہ ہی میرے ساتھ ہو تو کیا کہیں تم خوارج میں سے تو نہیں ہوگئے نعوذ باللہ یا کہیں تم بغضِ علی تو نہیں رکھتے نعوذ باللہ یا مجھ سے بغض تو نہیں رکھتے....؟؟ اخر آپ کس طرف ہو...؟؟

.

 سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب میں سیدنا علی کی تین عظیم الشان فضیلتیں بیان کر کے یہ واضح کر دیا کہ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے شدید محبت رکھنے والا ہوں ، میں خوارج میں سے نہیں ہوں.....بس اتنی سی بات تھی، نہ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے گالی دینے کا حکم دیا اور نہ ہی گالی خود دی اور نہ ہی اس جواب کے بعد ان کی کوئی ملامت کی یا اس پر کوئی جبر کیا

.

ولما قتل عثمان اعتزل سعد الفتن

 جب سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ تمام جنگوں سے فتنوں سے دور رہے

(توضیح شرح بخاری2/637)

.

اعتزل سعد الفتنة، فلا حضر الجمل ولا صفين

 ولا التحكيم

 سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ تمام جنگوں سے فتنوں سے دور رہے اور وہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حاضر نہ ہوئے اور نہ ہی تحکیم والے معاملے(خوارج والے معاملے) میں حاضر ہوئے

(تاريخ الإسلام - ط التوفيقية3/248)

.

‏‏قوله : ( إن معاوية قال لسعد بن أبي وقاص : ما منعك أن تسب أبا تراب ؟ ) ، فقول معاوية هذا ليس فيه تصريح بأنه أمر سعدا بسبه ، وإنما سأله عن السبب المانع له من السب ، كأنه يقول : هل امتنعت تورعا ، أو خوفا ، أو غير ذلك ، فإن كان تورعا وإجلالا له عن السب فأنت مصيب محسن ، وإن كان غير ذلك فله جواب آخر

 سیدنا معاویہ نے جو سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ آپ کو کیا چیز منع کرتی ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو گالی دو تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول گالی دینے کا حکم نہیں ہے بلکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ان سے پوچھ رہے ہیں کہ اپ گالی نہیں دے رہے اس کی وجہ کیا ہے کیا اپ خوف سے  گالی نہیں دے رہے(یعنی اندر سے خوارج میں سے ہوگئے ہو کیا....؟؟ یاـمنافق ہوگئے ہو کیا....؟؟) یا آپ اسلام کے حکم کی پیروی میں گالی نہیں دے رہے ہو یا کوئی اور سبب ہے تو بتاؤ....؟؟ تاکہ آپ کو اس مطابق سمجھایا جائے جواب دیا جائے( جب سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تین عظیم الشان فضیلتیں بیان کر دیں تو جواب واضح ہو گیا کہ وہ سیدنا علی سے شدید محبت کرتے ہیں ، وہ خوارج میں سے نہیں، منافقین میں سے نہیں اور نہ ہی سیدنا علی سے اصولی اختلاف کرنے والوں میں سے ہیں....جب بات واضح ہوگئ شکوک شبہات ختم ہوگئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی انہیں کچھ نہ کہا، کوئی ملامت وغیرہ نہ کی، کوئی جبر وغیرہ نہ کیا ،کوئی مذمت نہ کی)

(شرح مسلم نووی 15/175)

.

 قَالُوا وَيَحْتَمِلُ تَأْوِيلًا آخَرَ أَنَّ مَعْنَاهُ ما مَنَعَكَ أَنْ تُخَطِّئَهُ فِي رَأْيِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَتُظْهِرَ لِلنَّاسِ حُسْنَ رَأْيِنَا وَاجْتِهَادِنَا

 وَأَنَّهُ أَخْطَأَ

اور علماء کرام فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ نے جو یہ فرمایا کہ اے سیدنا سعد اپ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پر "سب" کیوں نہیں کرتے تو اس کا معنی یہ ہے کہ اپ ان کو اجتہادی خطا پر کیوں نہیں ٹھہراتے اور مجھ معاویہ کو اچھی اجتہاد ، اچھی رائے پر کیوں قرار نہیں دیتے۔۔مطلب سب کا معنی گالی نہیں بلکہ اجتہادی خطاء پر قرار دینا معنی مراد ہے

(شرح صحیح مسلم نووی15/176 )

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.