🟦قسط اول:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔والحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء و المرسلین و علی الہ و اصحابہ و اولیاءہ اجمعین۔۔۔۔اما بعد
🟩 *#مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب نے کتاب لکھی وائرل کی جس میں لکھا کہ غوث اعظم ریٹائر ہوچکے،انکے اختیار محدود ہیں،قطب صرف شازلی ہونگے وغیرہ وغیرہ انکی باتوں سے کئ عام و خاص نے مجھے متوجہ کیا کہ آپ بھی لکھ کر تشویش کا ازالہ کریں،جس پر میں دلائل کے ساتھ معروضات لکھ کر وائرل کر رہا ہوں کہ مفتی صاحب کی باتیں درست نہیں، ان معروضات کو میں نے نام دیا ہے"معروضات البازلی الی بعض العلماء و المفتی الشاذلی" البازلی یعنی نئےدانت والا،یعنی ناتجربہ کار جوان۔۔یعنی مجھ ناچیز40سال عمر کےباوجود ناتجرکار فقیر عنایت اللہ حصیر کو کتب ِاسلاف میں جو دلائل و اقوال ملے وہ علماء و عوام کی جناب میں پیش کر رہا ہوں تاکہ علماء کرام کرم فرمائیں،تحریر کے بنیادی نکات کو شرف قبولیت بخشیں یا تسلی بخش جواب عطاء فرمائیں👈عوام تو معتبر علماء اہلسنت سے تصدیق کرائیں، انکےحکم پر عمل کریں،میں نےلفظ"بعض العلماء" اس لیے لکھا کہ کئ علماء کرام اس مسئلے کی تفصیل و دلائل و حوالہ جات سے واقف ہیں*
۔
🟩🚨🚨خبردار خبردار۔۔۔ہم عام لوگوں کو شریعت مطہرہ نے ہرگز ہرگز اجازت نہیں دی کہ ہم فتوی بازی کریں، شریعت نے ہم عوام کو اجازت نہیں دی کہ مفتی ابوبکر صدیق شازلی پر کوئی گمراہی یا بدمذہبی یا خارج از اہلسنت کا فتوی لگائیں۔۔کسی بھی قسم کا فتوی حکم لگانا بڑے مفتیان کرام کا ہے۔۔۔۔👈ہم ادب کے ساتھ معروضات عرض کریں گےکیونکہ اکابرین فرما گئے ہیں کہ ادب کے ساتھ اکابرین سے معروضات عرض چھوٹا بھی کرسکتا ہے
۔
🟨سوال:
شکل دیکھو، بڑوں سے اختلاف کرتے ہو،اور سوشل میڈیا پے وائرل کیوں کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟
🟩جواب:
اختلاف نہیں معروضات عرض و گزارشات ہیں اور اکابر فرماتے ہیں چھوٹے عرض معروضات پیش کرسکتے ہیں، مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب نے اپنی کتاب وائرل فرمائی ہے، اور اس معاملے میں سوشل میڈیا پہ مسلسل سرگرم بھی ہیں تو اس لیے ہم بھی معروضات وائرل کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ علماء کرام تک پہنچیں۔۔۔👈اور اکابرین یہ نہیں دیکھتے کہ کس نے لکھا، یہ دیکھتے ہیں کہ کیا لکھا۔۔۔؟؟
🌹سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول مبارک امام ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ:
لَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ قَالَ وَانْظُرْ إِلَى مَا قَالَ...قَالَهُ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ كَمَا رَوَاهُ ابْنُ السَّمْعَانِيِّ فِي تَارِيخِهِ عَنْهُ ذَكَرَهُ السُّيُوطِيُّ
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول مبارک ہے کہ یہ نہ دیکھو کہ کس نے کہا بلکہ یہ دیکھو کہ اس نے کیا کہا۔۔۔اس کو ابن سمعانی نے روایت کیا ہے اور یہی بات امام سیوطی نے بھی فرمائی ہے کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول مبارک ہے
(اسرار مرفوعہ روایت1051 مکتب دار الاسلام)
۔
👈المفھم شرح مسلم میں ایک حدیث پاک سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے...ترجمہ:
امام(مفتی اکابر وغیرہ) اور سربراہ کو مشورہ(معروضات عرض کر)دینا چاہیے خواہ انہوں نے مشورہ طلب نا کیا ہو
(المفھم شرح مسلم 1/208بحوالہ تبیان القرآن10/557مکتبہ فرید بک اسٹال)
.
👈امام نووی علیہ الرحمۃ ایک حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں.۔ترجمہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام اور سربراہ(لیڈر مفتی اکابر) کوئی حکم مطلق دے اور اس کے متبعین میں سے کسی شخص کی رائے اس کے خلاف ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ امیر و سربراہ کے سامنے اپنی رائے(عرض) پیش کرے تاکہ امیر اس پر غور کرے، پس اگر امیر پر یہ منکشف ہو کہ اس متبع کی رائے(مشورہ، معروضات)صحیح ہے تو اسکی طرف رجوع کر لے(شرف قبولیت بخشے) ورنہ اس متبع کے شبہ کو زائل کرے اور اسکی تسلی کرے
(شرح مسلم للنووی1/581بحوالہ تبیان القرآن10/557مکتبہ فرید بک اسٹال)
۔
🔵عرض فقیر حصیر:
مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب نے اپنی کتاب غوث الاغواث لکھی چھاپی اور سوشل میڈیا پہ وائرل بھی کی، جس سے ظاہری طور پر لگا کہ انہوں نے غوث اعظم علیہ الرحمۃ جیسے عظیم بزرگوں کو "ریٹائرڈ" قرار دیا اور فرمایا کہ مزید قطب صرف شازلی طریقت سے ہوں گے اور بھی بہت کچھ لکھا۔۔۔تو اکابرین کے مذکورہ بالا اقوال پر عمل کرتے ہوئے ہم چند معروضات عرض کریں گے جو مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کے ساتھ ساتھ دیگر بعض علماء کے لیے بھی ہوں گے اور عوام کو پیغام ہوگا کہ یہ تحریر مستند اہلسنت عالم دین سے تصدیق کرائیں اور وہ جو فرمائیں اس پر عمل کریں،کتاب نہ جانے کتنے علماء تک جا پہنچی تو ہم بھی اپنی معروضات وائرل کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ علماء تک ہماری عرض پہنچے اور وہ اگر اس کو درست پائیں تو قبول فرمائیں اور غلطی پائیں تو توجہ دلائیں تسلی بخش جواب ارشاد فرمائیں
۔
🔶نوٹ:
اللہ کے پیاروں سے مدد طلب کرنے، وسیلہ بنانے پر مستقل تحریرات لکھ چکا ہوں ، جسے چاہیے وہ طلب فرمائے یا میری فسیبک ائی ڈی پے "غیراللہ" لکھ کر سرچ کرے، "وسیلہ" یا "توسل" لکھ کر سرچ کرے تو دونوں موضوعات پہ تحریرات سامنے ا جائیں گی
۔
👈البتہ غوث قطب ابدال اوتاد مجذوب وغیرہ اولیاء کرام کے متعلق احادیث مبارکہ اسلاف نے جمع کر کے لکھی ہیں تو انہیں جمع کر کے مزید تسہیل و تحقیق کے ساتھ اس رسالے کی قسط میں جمع کر کے لکھوں گا ان.شاءاللہ عزوجل
🟤🟤🟤🟤🟤
پہلی بحث 1️⃣
مفتی ابوبکر صدیق شاذلی صاحب لکھتے ہیں:
۔
🟦عرض حصیر:
ہم پہلی بات کے عنوان کے تحت 👈قران و سنت و دلائل سے ماخوذ 35 اقوال مبارکہ اولیاء و علماء کرام کے لکھیں گے
اور
👈دوسری بات کہ عنوان کے تحت ہم مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کے دلائل کا جواب اسلاف کی زبانی لکھیں گے
۔
🟫 *#پہلی بات*
🔶1...اصول:
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
امور تکوینیہ۔۔۔۔کائنات کے بعض معاملات مثلا بارش، ہوا، رزق، بیماری، شفاء،فتح نصرت وغیرہ
(سیرت غوث الاغواث ص337 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ) شاذلیہ
۔
🔶2۔۔۔اصول:
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
(حدیث پاک اور)علماء امت کی عمومی عبارات کافی ہیں
(سیرت غوث الاغواث ص352 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶3۔۔۔۔اصول:
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
تمہارا ذکر کردہ کشف جمہور علماء کی تصریحات کے خلاف ہے۔۔۔۔حدیث شریف ( کے عموم) کا نسخ لازم ا رہا ہے
( سیرت غوث الاغواث ص376 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶فتوی1
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
فوت شدہ اولیاء کا دیوان اولیاء میں تکوینی معاملات کے حوالے سے کوئی عمل دخل نہیں ہوتا
(سیرت غوث الاغواث ص344 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶فتوی2:
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
زندوں کے معاملے میں ان فوت شدہ اولیاء کا اہل دیوان کے کاموں میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا
(سیرت غوث الاغواث ص344 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔🔶فتوی3:
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
انہیں زندوں کے معاملے میں کسی تصرف کا اختیار نہیں
(سیرت غوث الاغواث ص345 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔🔶فتوی4
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
جب ولی انتقال کر جاتا ہے تو مدد کرنے کے حوالے سے دنیا میں اس کا تصرف منقطع ہو جاتا ہے
(سیرت غوث الاغواث ص345 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶فتوی5
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
لہذا اب فوت شدہ ولی زندوں کے معاملے میں تکوینی تصرف نہیں کر سکتا
(سیرت غوث الاغواث ص346مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
.
🔶فتوی6
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
جو اولیاء وصال فرما چکے انہیں زندوں کے معاملے میں کوئی تکوینی تصرف حاصل نہیں ہوتا
سیرت غوث الاغواث ص347 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ
۔
🔶فتوی7
مفتی ابوبکر صدیق الشازلیصاحب لکھتے ہیں:
گزشتہ و موجودہ اولیاء اور رجال الغیب سب اس کا ادب کرتے ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ انہیں سلب احوال کا خوف ہوتا ہے
(سیرت غوث الاغواث ص360 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶فتوی8
مفتی ابوبکر صدیق الشازلی صاحب لکھتے ہیں:
موجودہ غوث زمانہ جسے چاہے منصب ولایت پر فائز کر دے اور جسے چاہے منصب ولایت سے معزول کر دے
(سیرت غوث الاغواث ص361مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶فتوی9
مفتی ابوبکر صدیق الشازلی صاحب لکھتے ہیں:
فوت شدہ اولیاء اگرچہ اپنے اپنے زمانوں میں غوثیت عظمی پر فائض رہے ہوں مگر اس وقت ان کی حیثیت ریٹائرڈ افسر کی سی ہوتی ہے یعنی جس کے پاس حکام بالا سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے محدود ذاتی اختیارات ہوتے ہیں
(سیرت غوث الاغواث ص368مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
🔶فتوی10
مفتی ابوبکر صدیق الشازلی صاحب لکھتے ہیں:
فوت شدہ ولی مقام غوثیت کا اہل نہیں ہوتا
(سیرت غوث الاغواث ص377 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
🟫خلاصہ:
مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کے اوپر ذکر کردہ تمام فتووں کا خلاصہ یہ ہے کہ وفات کے بعد غوث قطب اولیاء ریٹائر افسر کی حیثیت میں ہوتے ہیں،وہ غوث زماں سے ڈرتے ہیں،ان کے اختیارات تصرفات کرامات محدود ہوتے ہیں،ان کے تصرفات کرامات امور تکوینیہ میں نہیں ہوتے بلکہ امور غیرتکوینیہ میں محدود ہوتے ہیں
۔
🟫نوٹ۔۔۔اہم اصول:
اوپر مذکورہ بالا عبارات اپ نے مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کی غور سے پڑھ لی ہوں گی۔۔۔انہی کے اقوال سے 3 اصول یاد رکھیے یاکہ اگے دلائل سمجھ ائیں
👈1۔۔۔مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کے مطابق بھی علماء کرام اولیاء کرام اور احادیث مبارکہ کا عموم دلیل بنتا ہے
👈2۔۔۔جمہور علماء اور جمہور اولیاء کے قول نظریہ کو ترجیح ہوگی ان کے برخلاف جو اقوال ہوں گے وہ کلعدم قرار پائیں گے
👈3۔۔کرامات میں سے تصرف بھی ہے،یعنی کہا جائے کرامت حاصل ہے تو مطلب ہوگا کہ تصرف حاصل ہے اور اگر کہا جائے تصرف حاصل ہے تو مطلب ہوگا کرامت حاصل ہے
۔
🟩ہمارے معروضات و حوالہ جات:
👈مفتی ابوبکر صدیق شاذلی صاحب کے مذکورہ اقوال سے واضح ہو رہا ہے کہ غوثیت تصرف کرامات وغیرہ وفات کے بعد ختم و سلب یا محدود ہوجاتے ہیں👈جبکہ اسلاف نے عموم دلائل و تصریحی دلائل کے ساتھ لکھا کہ وفات کے بعد ان سے غوثیت تصرف کرامات وغیرہ نہ تو سلب ہوتی ہیں،نہ وہ معزول ہوتے ہیں اور نہ انکے تصرفات اختیارات کرامات محدود ہوتے ہیں بلکہ مزید بڑھ جاتے ہیں۔۔👈جیسے کہ اولیاء علماء کے اقوال کے عموم و تصریحات سے ثابت کریں گے اور مفتی صاحب کے مطابق بھی عموم اور تصریحات دونوں ہی معتبر ہیں
👈یہی قران و احادیث سے ثابت ہوتا ہے اور یہی جمھور اولیاء و علماء کا نظریہ ہے۔۔👈اور مفتی صاحب نے بھی اقرار کیا ہے کہ جمہور اولیاء علماء کا نظریہ ہی معتبر ہوگا جیسے کہ ہم نے اوپر مفتی صاحب کا قول اصول نمبر3 میں لکھا ہے
👈لیھذا غوث اعظم پیران پیر دستگیر محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ و رضی اللہ تعالی عنہ نہ تو معزول ہوئے ہیں اور نہ ہی ریٹائر ہوئے ہیں اور ان کے اختیارات تصرفات کرامات محدود بھی نہیں ہوئے بلکہ بڑھ گئے ہیں، بلکہ تمام اولیاء کرام معزول اور ریٹائر نہیں ہوتے، انکی کرامات تصرفات تکوینیہ و غیرتکوینیہ محدود نہیں ہوتے، وہ رٹائرڈ نہیں ہوتے
👈بلکہ کائنات میں اخیتارات کے ساتھ جگہ بدلتے ہیں، ریٹائرڈ کی جگہ ٹرانفسر بھی نہیں کہنا چاہیے کہ جو ٹرانسفر ہو جاتا ہے تو بعض حالات میں اسکےاختیارات اسی جگہ تک محدود ہوتے ہیں اسی مقام پر محدود ہوتے ہیں جہاں پر اس کا ٹرانسفر ہوتا ہے جبکہ 👈ان اولیاء کرام کی نہ تو ریٹائرمنٹ ہوتی ہے اور نہ ہی ٹرانسفر
بلکہ یہ تمام عالم میں اختیارات تصرفات تکوینہ و غیرتکوینہ و کرامات رکھتے ہوئے 👈اپنا مسکن و جگہ بدل لیتے ہیں۔پہلے ان کا مسکن جگہ(آفس) دنیا ہوتی ہے جبکہ اب وفات کے بعد مسکن بظاہر مزار مبارک ہے مگر ازادی و اختیارات و تصرفات کے ساتھ کہ جنت دنیا کائنات تمام عالم میں جہاں چاہیں ائیں جائیں بحسب اذن اللہ..
👈👈حتی کہ شازلی طریقت کے پانچویں امام بہت بڑے قطب عظیم الشان شیخ اﻟﻘﻄﺐ ﺷﻤﺲ اﻟﺪﻳﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺤﻨﻔﻲ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ اﻟﺘﻴﻤﻲ اﻟﺒﻜﺮﻱ اﻟﺸﺎﺫﻟﻲ فرماتے ہیں کہ میری وفات کے بعد میری قبر پر آکر جو چاہو حاجت ( یعنی عموم ہے یعنی تکوینی و غیرتکوینی جو حاجت چاہو) مانگو میں پوری کروں گا اور فرماتے ہیں کہ وہ مرد ہی نہیں کہ جو وفات کے بعد مدد نہ کرے حاجت پوری نہ کرے...انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ میں تو وفات کے بعد ریٹائرڈ ہو جاونگا، اختیارات محدود ہو جائیں گےاس لیے کسی اور زندہ ولی کے پاس جانا، ایسا نہیں فرمایا۔۔۔جیسے کہ نیچے حوالہ24 میں انکے الفاظ لکھے ہیں
👈یہی قران و احادیث سے ثابت ہوتا ہے اور یہی جمھور اولیاء و علماء کا نظریہ ہے۔۔۔اس بات نظریے پر اولیاء کرام علماء کرام کے35حوالہ جات لکھ رہا ہوں، دلائل و اقوال تو بےشمار ہیں مگر میری کوتاہ نگاہ میں فی الحال یہ 35حوالہ جات ائے، لیھذا دلائل 35نہیں بلکہ بےشمار ملیں گے کتب اسلاف میں۔۔۔!!
۔
۔
🔷حوالہ1
توجہ رہے کہ تصرفات کرامت ہی ہے،جیسے کہ نیچے واضح الفاظ میں بھی ائے گا لیھذا کرامات بعد از وفات ثابت ہوگی تو تصرفات بھی ثابت ہو جائیں گے
۔
👈قران مجید سے ثابت ہوتا ہے یہ نظریہ کہ اولیاء کرام وفات کے بعد بھی تصرفات فرماتے ہیں اور کرامات دکھاتے ہیں
👈المحقق المدقق شیخ الاسلام امام شھاب الدین لکھتے ہیں
عبارت:
ﺃَﻻ ﺇِﻥَّ ﺃَﻭْﻟِﻴﺎءَ اﻟﻠﻪِ ﻻ ﺧَﻮْﻑٌ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﻭﻻ ﻫُﻢْ ﻳَﺤْﺰَﻧُﻮﻥَ (62)}ﻗﺪ ﺗﺮﻛﻮا ﺯﺧﺎﺭﻑ اﻟﺪﻧﻴﺎ، ﻭﻟﺠﺄﻭا ﻣﻦ ﻫﺠﻴﺮﻫﺎ ﺇﻟﻰ ﻇﻠّﻪ، ﻓﺮﺣﻴﻦ ﺑﻤﺎ ﺁﺗﺎﻫﻢ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻓﻀﻠﻪ، ﻓﻬﻢ اﻟﻤﻤﻴﺰﻭﻥ ﻋﻦ ﻏﻴﺮﻫﻢ ﻓﻲ ﻋﺎﻟﻢ اﻟﺮﻓﺎﺕ، ﻓﻴﻠﻮﻫﻢ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ ﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ ﺑﻌﺪ اﻟﻤﻤﺎﺕ. ﻛﻤﺎ ﺩﻝ ﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﺇﻃﻼﻕ ﻋﺒﺎﺭاﺕ اﻷﺋﻤﺔ، اﻟﺬﻳﻦ ﻫﻢ ﻫﺪاﺓ اﻷﻣﺔ...👈ﻓﺎﻋﻠﻢ ﺃﻥ ﺗﺼﺮﻑ اﻷﻭﻟﻴﺎء ﺣﺎﻝ ﺣﻴﺎﺗﻬﻢ، ﻣﻦ ﺟﻤﻠﺔ ﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ....ﻭﺃﻣّﺎ ما یتعلق بما ﺑﻌﺪ ﻣﻤﺎﺗﻬﻢ ﻓﻘﺪ ﺗﻘﺪﻡ ﺃﻥ ﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ ﻻ ﺗﻨﻘﻄﻊ ﺑﺎﻟﻤﻮﺕ
ترجمہ:
قران مجید کی ایت مبارکہ کا ترجمہ ہے کہ
"خبردار بے شک اللہ کے اولیاء پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"(سورۂ یونس، آیت 62)
اولیاء کرام دنیا کی ظاہری آرائش و زینت کو چھوڑ دیا اور اس کی تپش و سختی سے نکل کر اللہ کے سایۂ رحمت کی پناہ لے لی۔ وہ اللہ کے عطا کردہ فضل و کرم پر خوش ہیں(ان پر فضل و کرم تصرفات کرامات کا زیادہ ملنا ہے کہ اگر تصرفات کرامات اولیاء سے سلب یا محدود ہوں تو فضل و کرم کم کہلائے گا اور انکی خوشی میں بھی کمی ہوگی جبکہ ایت میں ہے کہ ان پر فضل و کرم بعد اب وفات بہت ہوگا اور وہ بہت خوش ہونگے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں بعد از وفات بہت تصرفات کرامات ملیں گے اور) اسی طرح وہ عزت و رفعت کے عالم میں دوسرے لوگوں سے ممتاز ہیں، وہ اس طرح کہ ان اولیاء کرام کو بعدِ وفات بھی کرامات و تصرفات اللہ نے عطاء فرمایا ہے جیسے کہ اس نظریے پر ائمۂ دین کے وہ ارشادات دلالت کرتے ہیں جو امت کے ہادی اور رہنما ہیں۔۔پس جان لو کہ 👈اولیائے کرام کا اپنی زندگی میں تصرفات کرنا ان کی کرامات ہی میں سے ہے،اور کرامات موت کے بعد منقطع نہیں ہوتی لہذا اولیاء کرام وفات کے بعد بھی تصرفات فرماتے ہیں، کرامات ان سے وفات کے بعد بھی ظاہر ہوتی ہیں یہ سب کچھ اللہ کے اذن و کرم سے ہوتا ہے
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص53،68٫،69 مکتبہ دار جوامع الکلم)
✅واضح دلیل ہے کہ:
کرامات تصرفات جیسے زندگی میں تھے یعنی امور تکوینیہ اور امور غیر تکوینیہ، سارے کے سارے تصرفات کرامات وفات کے بعد منقطع نہیں ہوتے جبکہ مفتی صاحب کے مطابق منقطع یا محدود ہو جاتے ہیں
۔
🔷حوالہ2
احادیث مبارکہ سے بھی یہی نظریہ ثابت ہوتا ہے مثلا
المحقق المدقق شیخ الاسلام امام شھاب الدین فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں ہے کہ:
عبارت:
ﻫﻮ ﻗﺒﺮ ﺇﻧﺴﺎﻥ ﻗﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ"اﻟﻤﻠﻚ"ﺣﺘﻰ ﺧﺘﻤﻬﺎ؟ ﻓﻘﺎﻝ (ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ): «ﻫﻲ اﻟﻤﺎﻧﻌﺔ، ﻫﻲ اﻟﻤﻨﺠﻴﺔ ﻣﻦ ﻋﺬاﺏ اﻟﻘﺒﺮ» (1). ﺭﻭاﻩ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﻭﻗﺎﻝ: ﺣﺪﻳﺚ ﻏﺮﻳﺐ. اﻧﺘﻬﻰ ﻗﺎﻝ ﺷﺎﺭﺣﻪ"اﻟﻔﺎﺿﻞ"اﻟﻔﻴﻮﻣﻲ: ﻭﺭﻭاﻩ اﻟﺤﺎﻛﻢ. اﻧﺘﻬﻰ ﻭﻫﺬا ﺩﻟﻴﻞ ﻋﻠﻰ ﻭﻗﻮﻉ اﻟﻜﺮاﻣﺔ ﺑﻌﺪ اﻟﻤﻮﺕ، ﺑﺘﻘﺮﻳﺮﻩ (ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ)
ترجمہ:
حدیث پاک میں ہے جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے کہ ایک قبر مبارک سے اواز ارہی تھی وہ سورہ ملک کی تلاوت کی اواز تھی جو وفات شدہ تلاوت کر رہا تھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ یہ سورہ مانعہ ہے یہ عذاب قبر سے نجات دلاتی ہے۔۔۔اس کی شرح میں علامہ فاضل فیومی فرماتے ہیں کہ اس کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔۔اس حدیث پاک میں دلیل ہے کہ وفات کے بعد بھی کرامات کا ظہور ہوتا ہے جس کی تصدیق حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد مبارک سے تقریر مبارک سے بھی ہوتی ہے
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص61مکتبہ دار جوامع الکلم)
✅واضح دلیل ہے کہ:
وفات کے بعد کرامات تصرفات منقطع نہیں ہوتے یعنی جس طرح زندگی میں امور تکوینیہ اور امور غیر تکوینیہ سب میں کرامات تصرفات حاصل تھیں اسی طرح وفات کے بعد بھی سب حاصل ہیں
۔
🔷حوالہ3
یہی نظریہ جمھور اولیاء صوفیاء و علماء کا ہے
المحقق المدقق شیخ الاسلام امام شھاب الدین فرماتے ہیں:
عبارت:
ﻭﻛﺘﺐ ﺟﻤﻬﻮﺭ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻃﺎﻓﺤﺔ ﺑﻪ، ﻭﺃﻧﻪ جائز و ﻭاﻗﻊ، ﻻ ﻣﺮﻳﺔ ﻓﻴﻪ ﺑﻮﺟﻪ ﺃﻟﺒﺘﻪ؟! ﺣﺘﻰ ﻛﺎﺩ ﺃﻥ ﻳﻠﺤﻖ ﺑﺎﻟﻀﺮﻭﺭﻳﺎﺕ، ﺑﻞ ﺑﺎﻟﺒﺪﻳﻬﻴﺎﺕ. وﺫﻟﻚ ﻷﻥ ﻛﺮاﻣﺎﺕ ﻫﺬﻩ اﻷﻣﺔ ﻓﻲ ﺣﻴﺎﺗﻬﻢ، ﻭﺑﻌﺪ ﻣﻤﺎﺗﻬﻢ ﺗﺼﺮﻓﺎ، ﺃﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻣﻦ ﺟﻤﻠﺔ ﻣﻌﺠﺰاﺕ اﻟﻨﺒﻲ (ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ) اﻟﺪّاﻟﺔ ﻋﻠﻰ ﺻﺪﻕ ﻧﺒﻮّﺗﻪ، ﻭﻋﻤﻮﻡ ﺭﺳﺎﻟﺘﻪ؛ اﻟﺒﺎﻗﻴﺔ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﺗﻪ اﻟﺘﻲ ﻻ ﻳﻨﻘﻄﻊ ﺩﻭاﻣﻬﺎ
ترجمہ:
وہ نظریہ کہ جمہور اولیاء علماء اسلاف کی کتابیں اس پر بھری پڑی ہیں، وہ جائز و حق نظریہ ہے جس میں کوئی شک کرنے کی وجہ ہے ہی نہیں حتی کہ قریب ہے کہ وہ نظریہ ضروریات میں سے شمار ہو اور بدیہیات میں شمار ہو وہ یہ نظریہ ہے کہ (جو تصوف میں قطعی ضروری بدیہی اور جمہور صوفیا کا علماء کا نظریہ ہے کہ) امت محمدیہ میں اولیاء کرام وفات سے پہلے کرامات اور وفات کے بعد تصرفات و کرامات وغیرہ جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک طرح سے معجزہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ان کی رسالت کے عموم پر دلالت کرتا ہے اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی یہ سب کچھ ہے اور ہمیشہ رہے گا
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص261مکتبہ دار جوامع الکلم)
✅واضح طور پر فرمایا جا رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وفات کے بعد منقطع یا محدود نہیں ہوتی تو کرامات اولیاء بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے ہیں تو وفات کے بعد ان کی کرامات تصرفات بھی منقطع نہیں ہوتے کوئی کمی نہیں ہوتی، محدود نہیں ہوتے
۔
🔷حوالہ4
استاذ الاساتذہ۔۔ جہبذ الجہابذہ۔۔الولی العارف۔۔ ینبوع العوارف والمعارف۔۔ الامام الوحید الہام الفرید۔۔ العالم العلامۃ الحجۃ الفہامۃ۔۔ البحر الکبیر، الحبر الشہیر۔۔ شیخ الاسلام۔۔صدر الائمۃ الاعلام۔۔ قطب الاقطاب👈 امام نابلسی کا نظریہ
عبارت:
كرامات الاولیاء حق۔۔۔۔الاحیاء و الاموات اذ الولی لا ینعزل عن ولایتہ بالموت
ترجمہ:
اولیاء کرام کی کرامات تصرفات برحق ہیں چاہے وہ وفات ہی کیوں نہ پا چکے ہوں کیونکہ وفات کی وجہ سے ولی قطب غوث معزول نہیں ہوتا(ریٹائر نہیں ہوتا، اسکے اختیارات تصرفات کرامات محدود نہیں ہوتے)
(الحدیقۃ الندیۃ1/292 مکتبہ فاروقیہ)
✅واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ ولی معزول ریٹائر نہیں ہوتا،اس کی تمام کرامات تکوینیہ اور غیر تکوینیہ سب کرامات تصرفات وفات کے بعد حاصل ہوتی ہیں
۔
🔷حوالہ5
الحضرة الاستاذ الفاضل والملاذ الكامل نقطة دائرة عرفان لله وحلية جيد الفضل في هذا الزمان ناشر لواء التحقيق بالساطع البرهاني العلامة الشيخ 👈الامام نبھانی کا نظریہ:
الحضرة الاستاذ الفاضل والملاذ الكامل نقطة دائرة عرفان
الله وحلية جيد الفضل في هذا الزمان ناشر لواء التحقيق بالساطع البرهاني العلامة الشيخ يوسف بن اسماعيل النبهائي فرماتے ہیں:
الولی لا ینعزل عن ولایتہ بالموت
ترجمہ:وفات کی وجہ سے ولی قطب غوث معزول نہیں ہوتا(ریٹائر نہیں ہوتا، اسکے اختیارات تصرفات کرامات محدود نہیں ہوتے)
(جامع کرامات الاولیاء1/29مکتبہ مرکز اہلسنت برکات رضا)
✅واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ
ولی معزول ریٹائر نہیں ہوتا،اس کی تمام کرامات تکوینیہ اور غیر تکوینیہ سب کرامات تصرفات وفات کے بعد حاصل ہوتی ہیں
.
🔷حوالہ6
بلال أحمد البستاني رفاعی کا👈 امام خلال کا حوالہ دیکر نظریہ:
أن كرامات الأولياء إنما هي تصرف بإذن الله تعالى، لا بتأثير مؤثر، ولا بقوة أخرى مودعة، وإذا كانت كذلك لا تتغير بموتهم بل هي بعد الحياة أولى منها۔۔۔۔ ثم إنه لا ينعزل الولي عن ولايته بالموت
ترجمہ:
بے شک اولیاء کرام کی کرامات اور ان کے تصرفات اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں کسی اور قوت سے نہیں، جب معاملہ ایسا ہے تو پھر اولیا کرام کی کرامات کا سلسلہ ان کی وفات سے ختم نہیں ہوتا بلکہ وفات کے بعد تو ان کے کرامات اور تصرفات بڑھ جاتے ہیں اور بے شک اللہ کا ولی وفات کی وجہ سے معزول نہیں ہوتا(ریٹائر نہیں ہوتا، اسکے اختیارات تصرفات کرامات محدود نہیں ہوتے)
(الشامل في أدلة المسائل ص288ومابعدہ دار الکتب العلمیہ)
✅واضح طور پر لکھا ہے کہ کرامات تصرفات کا تعلق اللہ کے اذن اور حکم سے ہے اور اللہ کا اذن اور حکم اور تاثیر تو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی تو وفات کے بعد بھی،اور ولایت کرامات تصرفات سب اللہ کے اذن اور حکم سے ہوتی ہیں تو پھر وفات سے کوئی کمی نہیں ہوتی کوئی محدودیت نہیں ہوتی کوئی ریٹائر نہیں ہوتا
۔
🔷حوالہ7
الشیخ الأکبر۔۔۔الکبریت الأحمر۔۔۔محیی الدین۔۔۔قطب العارفین۔۔۔ قدوۃ السالکین شیخ 👈امام ابن عربی کا نظریہ:
عبارت:
اﻟﺨﺒﺮ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻋﻦ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﻲ اﻟﻌﺒﺪ اﻟﺬﻱ ﻳﺘﻘﺮﺏ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﺑﺎﻟﻨﻮاﻓﻞ ﺣﺘﻰ ﻳﺤﺒﻪ ﻳﻘﻮﻝ ﻓﺈﺫا ﺃﺣﺒﺒﺘﻪ ﻛﻨﺖ ﺳﻤﻌﻪ اﻟﺬﻱ ﻳﺴﻤﻊ ﺑﻪ ﻭﺑﺼﺮﻩ اﻟﺬﻱ ﻳﺒﺼﺮ ﺑﻪ اﻟﺤﺪﻳﺚ۔۔ففیہ ﻳﺴﻤﻊ ﻭﻳﺒﺼﺮ ﻭﻳﺘﻜﻠﻢ ﻭﻳﺒﻄﺶ ﻭﻳﺴﻌﻰ.۔۔۔ فمن أحوال هذا الشخص بعد موته مثل هذه الأشياء لا فرق في حقه بين حياته وموته،....ﻭﻗﺪ ﺭﺃﻳﺖ ﺫﻟﻚ ﻟﻮاﻟﺪﻱ ﺭﺣﻤﻪ اللہ
ترجمہ:
امام ابن عربی فرماتے ہیں کہ صحیح حدیث میں ہے جو بخاری شریف اور دیگر کتب میں ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ بندہ نوافل( عبادات وغیرہ) کی وجہ سے اللہ کا قرب پاتا ہے اور اللہ اس کے کان بن جاتا ہے کہ جس سے وہ (دور کی بات غیب کی بات بھی) سنتا ہے، ہاتھ بن جاتا ہے کہ جس سے وہ تصرف کرتا ہے، یہ حدیث پاک دلیل ہے کہ جس شخص کو ایسا مقام یعنی قرب کرامت اور تصرف کرنے کا مقام و مرتبہ حاصل ہو تو وہ وفات کے بعد بھی تصرف کرتا ہے اور وفات کے بعد بھی اس کی کرامت ظاہر ہوتی ہیں، کرامات تصرفات اختیارات میں اس کے زندہ ہونے اور وفات شدہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہوتا(وہ معزول ریٹائرڈ نہیں ہوتا، اسکے کرامات اختیارات تصرفات محدود نہیں ہوتے)....ایسا مرتبہ میں نے اپنے والد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے لیے بھی پایا ہے
(فتوحات مکیہ1/336وماقبل...باب خامس و ثلاتون دار الکتب العلمیہ)
✅کتنا واضح اصول فرما دیا گیا کہ
جو تصرفات کمالات کرامات چاہے امور تکوینیہ میں ہوں یا غیر تکوینیہ میں ہوں سارے کے سارے معاملات میں ولی اللہ کی وفات اور حیات میں کوئی فرق نہیں،کوئی کمی نہیں ہوتی، کوئی ریٹائر نہیں ہوتا کوئی محدود نہیں ہوتا
۔
🔷حوالہ8
امام ربانی ۔۔۔مجدد الف ثانی ۔۔۔ قیوم ملت ۔۔۔ غوث صمدانی۔۔۔محدث رحمانی ۔۔۔ خزینۃ الرحمۃ ۔۔۔ ابو البرکات۔۔۔ الشیخ
👈 امام ربانی مجدد الف ثانی کا نظریہ
عبارت:
«کہ در نفحات مینویسد کہ ولایتِ جمیع اولیاء بعد از مردن سلب میشود، مگر چہار کس را بدانند کہ مراد از ولایت تصرفات و ظہورِ کرامات داشتہ باشد، نہ اہلِ ولایت، کہ عبارت از اقرب الٰہی است جل سلطانہ... و نیز مراد ازسلب سلبِ کثرتِ ظہورِ کرامات خواہد بود،
ترجمہ:
نفعات میں جو ہے کہ وفات کے بعد اولیاء کی ولایت سلب کر دی جاتی ہے ( ختم یا محدود کر دی جاتی ہے) سوائے چار عظیم بزرگوں کے (جن میں سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل ہیں) تو مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ ولایت سے مراد تصرفات اور کرامات کا ظہور ہے, یعنی وفات کے بعد ولی کے تصرفات اور کرامات کا ظہورکم ہو جاتا ہے(کرامات و تصرفات کا وقوع کم نہیں ہوتا, ظہور و وقوع میں فرق ہے)٫یہ معنی نہیں کہ سلب اور معزول ہو جاتا ہے, (یعنی کرامات تصرفات جس طرح زندگی میں فرماتے تھے اسی طرح وفات کے بعد بھی فرماتے ہیں ان کی تصرفات کرامات واقع ہوتی ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔۔۔۔ لیکن ان کا ظہور مشاہدہ ہم لوگ کم کرتے ہیں تو کمی ظہور میں ہوتی ہے نہ کہ وقوع میں...واقع ہونا اور ظاہر ہونا دو الگ چیزیں ہیں، مثلا کسی ولی کی کوئی کرامت واقع ہو جائے لیکن ہمیں اس کا علم نہ ہو وہ ہم پر ظاہر نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کرامت واقع ہی نہیں ہوئی،اسی طرح وفات کے بعد کرامات واقع تو ہوتی ہیں تصرفات واقعتا ہوتے ہیں ان میں کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن ان کی معلومات ان کا مشاہدہ ان کا ظہور ہم تک کم ہو جاتا ہے اللہ کی حکمت سے، اور ہماری کوتاہ نگاہ کی وجہ سے)
مکتوبات ربانی فارسی1/67 مکتوب نمبر 256 مکتبہ سعدیہ)
✅بریکٹ والی وضاحت کافی ہے۔۔۔اور یہاں بھی عموم کا قاعدہ چلے گا کہ یہاں بھی عموم ہے کہ امور تکوینیہ اور غیر تکوینیہ سب میں کرامات تصرفات جاری ہوتی ہیں
۔
🔷حوالہ9
سیدی احمد جوہری خالدی کا نظریہ بحقیق عاصم شاذلی:
عبارت:
لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق۔۔۔۔فھذا دلیل علی بقائم الی یوم القیامۃ و کراماتھم ثابتۃ و تصرفھم باذن اللہ تعالی باق، لا ینقطع بالموت ابدا۔۔۔والدلیل علی ذالک
ﻣﺎ ﺷﺎﻉ ﻭﺫاﻉ ﻭﻣﻸ اﻷﺳﻤﺎﻉ ﻣﻦ اﻹﺧﺒﺎﺭ ﺑﺬﻟﻚ ﻋﻨﻬﻢ، ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻢ.ﻭﻳﺠﻮﺯ اﻟﺘﻮﺳّﻞ ﺑﻬﻢ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ، ﻭاﻻﺳﺘﻐﺎﺛﺔ ﺑﻬﻢ، ﻭﺑﺎﻷﻧﺒﻴﺎء، ﻭاﻟﻤﺮﺳﻠﻴﻦ، ﻭﺑﺎﻟﻌﻠﻤﺎء، ﻭاﻟﺼﺎﻟﺤﻴﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﺗﻬﻢ، ﻷﻥ ﻣﻌﺠﺰﺓ اﻷﻧﺒﻴﺎء، ﻭﻛﺮاﻣﺔ اﻷﻭﻟﻴﺎء ﻻ ﺗﻨﻘﻄﻊ ﺑﻣﻮﺗﻬﻢ.۔۔۔ﺇﺫا ﻋﻠﻤﺖ ﺫﻟﻚ، ﻭﺗﺤﻘّﻘﺖ ﻣﺎ ﻫﻨﺎﻟﻚ.ﻓﺎﻋﻠﻢ ﺃﻥ ﺗﺼﺮﻳﻒ ﻛﻞ ﻭﻟﻲّ ﺣﻴّﺎ ﻭﻣﻴّﺘﺎ ﻋﻠﻰ ﻣﻘﺘﻀﻰ اﻟﻘﺪﺭﺓ اﻷﺯﻟﻴﺔ ﻭاﻟﻌﻠﻢ اﻟﻘﺪﻳﻢ، ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﺗﺎﺑﻊ ﻟﺘﺼﺮﻳﻒ اﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﺑﺈﺫﻧﻪ، ﻭﻫﻮ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺈﺫﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ.ﻓﺈﺫا ﻛﺎﻥ ﻛﺬﻟﻚ ﻓﻜﻞ ﺗﺼﺮﻳﻒ ﻭاﻗﻊ ﻓﻲ اﻟﻜﻮﻥ ﻓﻫﻮ ﺑﺈﺫﻥ اﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا،اس حدیث پاک میں دلیل ہے کہ اولیا کرام قیامت تک رہیں گے اور ان کی کرامات اور ان کے تصرفات اللہ کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے موت وفات کی وجہ سے ختم نہیں ہوتے۔۔۔اس پر ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ جو مشہور و معروف ہے اور متواتر خبروں روایات میں ہے کہ اولیاء کرام سے توسل کر سکتے ہیں اور ان سے مدد مانگ سکتے ہیں اور اسی طرح انبیاء کرام اور علماء اور صالحین سے بھی توسل اور مدد مانگ سکتے ہیں وفات کے بعد بھی۔۔۔۔کیونکہ انبیاء کرام کے معجزات اور اولیاء کرام کے کرامات ان کی وفات سے ختم نہیں ہوتے۔۔۔۔اور جب اپ نے یہ جان لیا اور اس بات کی تحقیق کر لی تو بے شک جان لو کہ وفات شدہ ولی یا زندہ ولی سے جو بھی تصرف کرامات واقع ہوتی ہیں وہ اللہ کی قدرت سے ہوتی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہوتی ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اجازت سے ہوتی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کی اجازت ہوتی ہے،لہذا وفات شدہ ولی امور تکوینیہ وغیر تکوینیہ میں جو بھی تصرفات کرامات فرماتے ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ہیں
(کرامات الاولیاء ضمن رسالۃ المقدمۃ فی التصوت ص54،47 مکتبہ دار الکتب العلیمہ)
۔
🔷حوالہ10
حتی کہ سخت گیر موقف کے حام امام صنعانی نے بھی تسلیم کیا کہ:
ولا ينقطع» أي: تصرفهم وكراماتهم بالموت
ترجمہ:
اولیاء کرام کے تصرفات اور کرامات وفات کی وجہ سے منقطع (ختم محدود معزول ریٹائر)نہیں ہوتے
(الإنصاف في حقيقة الأولياء ومالهم من الكرامات والألطاف ص81 دار ابن عفان)
۔
🔷حوالہ11
امام سمرقندی اور امام قرمانی کا نظریہ:
ﻭ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ ﻣﻘﺪﻣﺔ اﻹﻣﺎﻡ"ﺃﺑﻰ اﻟﻠﻴﺚ اﻟﺴﻤﺮﻗﻨﺪﻯ اﻟﺤﻨﻔﻲ ﻟﻠﻔﺎﺿﻞ اﻟﻘﺮﻣﺎﻧﻰ، ﻣﺎ ﻧﺼّﻪ:"ﻭﻣﻦ ﻛﺮاﻣﺎﺕ اﻹﻣﺎﻡ"ﺃﺑﻰ ﺣﻨﻴﻔﺔ"ﺑﻌﺪ اﻟﻤﻮﺕ ﻣﺎ ﺭﻭاﻩ اﻷﺋﻤﺔ
ترجمہ:
وفات کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ کی بہت ساری کرامات ہیں ان میں سے کچھ کرامات کو تو ائمہ تک نے لکھا ہے
ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝص66مکتبہ دار جوامع الکلم
.
🔷حوالہ12
رأيت أربعة من المشايخ يتصرفون في قبورهم كحياتهم، الشيخ معروف الكرخي، والشيخ عبد القادر الجيلاني، والشيخ عقيل المنبجي، والشيخ حياة بن قيس الحرّاني
ترجمہ:
فرمان مشھور ہے کہ
ہم نے چار عظیم اولیاء کرام کو دیکھا ہے کہ وہ وفات کے بعد بھی اسی طرح تصرف فرماتے ہیں جیسے کہ زندگی میں تصرفات فرماتے تھے
1امام معروف کرخی۔۔۔2شیخ عبدالقادر جیلانی
3شیخ عقیل المنبجی۔۔۔4شيخ حياة بن قيس الحرّاني
(شذرات الذهب في أخبار من ذهب6/442)
یعنی ان چار ہستیوں کی کرامات اور تصرفات وفات کے بعد بھی اتنی زیادہ ہیں ورنہ تو ان کے علاوہ بھی اولیاء کرام وفات کے بعد تصرفات کرامات فرماتے ہیں جیسے کہ حوالہ نمبر نو میں سیدی اعلی حضرت نے امام محقق کے حوالے سے لکھا ہے
۔
🔷حوالہ13
میں نے مشائخ میں سے چار حضرات کو دیکھا کہ اپنی قبروں میں رہ کر بھی ویسے ہی تصرف فرماتے ہیں جیسے حیات دنیا کے وقت فرماتے تھے یا اس سے بھی زیادہ (۱) شیخ معروف کرخی (۲) سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہما، اور دو اولیاء اور کو شمار کیا (شیخ عقیل منجبی بسہیاور شیخ حیاۃ ابن قیس حرانی رحمہما اللہ تعالٰی )ان کا مقصد حصر نہیں، بلکہ خود جو دیکھا او رمشاہدہ فرمایا وہ بیان کیا۔
(فتاوی رضویہ9/769 مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
۔
🔷حوالہ14
امام تاج الدین سبکی اور علامہ شھاب الدین حنفی کا نظریہ:
عبارت:
ﻓﺎﻋﻠﻢ ﺃﻥ ﺗﺼﺮﻑ اﻷﻭﻟﻴﺎء ﺣﺎﻝ ﺣﻴﺎﺗﻬﻢ، ﻣﻦ ﺟﻤﻠﺔ ﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ، ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺯﻣﺎﻥ، ﻻ ﺷﻚّ ﻓﻴﻪ، ﻭﻻ ﻳﻨﻜﺮﻩ ﺇﻻّ ﻣﻌﺎﻧﺪ.ﻗﺎﻝ اﻟﺘﺎﺝ اﻟﺴّﺒﻜﻰ ﺃن ﻣﻦ ﺃﻧﻮاﻉ اﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﻣﻘﺎﻡ اﻟﺘﺼﺮﻳﻒ:ﻭﺃﻣّﺎ ما یتعلق ﺑﻌﺪ ﻣﻤﺎﺗﻬﻢ ﻓﻘﺪ ﺗﻘﺪﻡ ﺃﻥ ﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ ﻻ ﺗﻨﻘﻄﻊ ﺑﺎﻟﻤﻮﺕ، ﺛﻢ ﺇﻥ ﺗﺼﺮﻑ اﻷﻭﻟﻴﺎء ﻓﻲ ﺣﻴﺎﺗﻬﻢ ﻭﺑﻌﺪ ﻣﻤﺎﺗﻬﻢ ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﺑﺈﺫﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭﺇﺭاﺩﺗﻪ ﻻ ﺷﺮﻳﻚ ﻟﻪ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﺧﻠﻘﺎ ﻭﺇﻳﺠﺎﺩا. ﺃﻛﺮﻣﻬﻢ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺑﻪ، ﻭﺃﺟﺮاﻩ ﻋﻠﻰ ﺃﻳﺪﻳﻬﻢ. ﻭبسببھم ﺧﺮﻗﺎ ﻟﻠﻌﺎﺩﺓ ﺗﺎﺭﺓ ﺑﺈﻟﻬﺎﻡ، ﻭﺗﺎﺭﺓ ﺑﻤﻨﺎﻡ ﻭﺗﺎﺭﺓ ﺑﺪﻋﺎﺋﻬﻢ، ﻭﺗﺎﺭﺓ ﺑﻔﻌﻠﻬﻢ ﻭاﺧﺘﻴﺎﺭﻫﻢ۔۔۔۔ﻭﺗﺎﺭﺓ ﺑﺎﻟﺘﻮﺳﻞ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ تعالی ﺑﻬﻢ ﻓﻲ ﺣﻴﺎﺗﻬﻢ، ﻭﺑﻌﺪ ﻣﻤﺎﺗﻬﻢ
ترجمہ:
جان لو کہ اولیاء کرام کے تصرفات زندگی میں کرامات ہی ہیں اور وہ بہت ہیں اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں (اگرچہ وہ کرامات ہمیں محسوس و معلوم نہ ہوں لیکن کرامات واقع ہر زمانے میں ضرور ہوتی ہیں) اس کا انکار ہٹ دھرم ہی کرے گا... امام سبکی نے فرمایا کہ اولیاء کرام کے تصرفات کرامات ہیں اور ولی اللہ سے بعد از وفات کرامات و تصرفات ختم نہیں ہو جاتی(وہ معزول ریٹائر نہیں ہوتے، ان کی کرامات اختیارات تصرفات محدود نہیں ہوتے)۔۔۔پھر یہ بھی سمجھ لو کہ اولیاء کرام کے تصرفات جو وہ زندگی میں کرتے ہیں اور وہ وفات کے بعد بھی کرتے ہیں وہ سب اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں جس کا کوئی شریک نہیں کسی بھی معاملے میں،یہ کرامات اس طرح ظاہر ہوتی ہیں کہ کبھی کبھار اللہ تعالی ان کو الہام فرماتا ہے اور کبھی کبھار اللہ تعالی ان کی دعا سے کرامت کو ظاہر کرتا ہے اور کبھی کبھار اللہ تعالی ان کو طاقت عطا فرماتا ہے کہ وہ اولیاء کرام زندگی میں اور وفات کے بعد اللہ کی عطا سے خود ہی تصرفات اور کرامات کرتے ہیں اور کبھی کبھار تصرفات کرامات کا وقوع اس طرح ہوتا ہے کہ وسیلہ بنایا جاتا ہے
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص68٫69مکتبہ دار جوامع الکلم)
۔
🔷حوالہ15
الحبر البحر الفہامۃ۔۔۔شافعی زمانہ۔۔۔ کہف الإسلام والمسلمین۔۔۔ عمدۃ الفقہاء والمحدثین۔۔۔فقیہ محقق امام خلیلی شافعی کا نظریہ:
عبارت:
ان جميع الكرامات الواقعة من الأولياء أحياء وأمواتا واقعة۔۔ فلا دلالة في هذه الأمور لنفي الكرامة للأولياء بعد موتهم
ترجمہ:
بے شک اولیاء کرام کے تمام کرامات تصرفات واقعہ ہیں سچ ہیں ان کی کرامات و تصرفات زندگی میں بھی ہوتی ہیں اور وہ وفات کے بعد بھی کرامات و تصرفات کرتے ہیں۔۔۔بعض دلائل سے بظاہر اس کی نفی ہوتی ہے لیکن ان دلائل میں غور کیا جائے تو ان سے ثابت نہیں ہوتا کہ وفات کے بعد ولی سے کرامت اور تصرف صادر نہ ہو ، ایسا ثابت نہیں ہوتا
( فتاوي الخليلي1/46)
.
🔷حوالہ16
علم العقائد کے امام۔۔سعد الملۃ والدین۔۔۔الإمام المحقق۔۔۔الحبر المدقق۔۔۔سلطان العلماء۔۔۔امام تفتازانی کا نظریہ:
عبارت:
ﻫﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﺑﻔﻌﻞ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ، ﻭاﻟﻮﻟﻲ ﻣﻈﻬﺮ ﻟﻪ. ﺃﻱ: ﻣﺤﻞ ﻟﻈﻬﻮﺭﻩ. ﻭﻓﻲ ﻫﺬا ﻻ ﻓﺮﻕ ﺑﻴﻦ ﺣﻴﺎﺓ اﻟﻮﻟﻲ ﻭﻣﻮﺗﻪ. ﻫﺬا ﻣﺎ ﺃﻓﺎﺩﻩ ﻛﻼﻡ اﻟﻤﺤﻘﻖ اﻟﺘﻔﺘﺎﺯاﻧﻰ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ اﻟﻌﻘﺎﺋﺪ اﻟﻨﺴﻔﻴﺔ.
ترجمہ:
محقق امام تفتازانی کے کلام کا خلاصہ ہے کہ کرامت کی اصل یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی کرم نوازی سے ہوتی ہے ولی تو صرف اس کا مظہر ہوتا ہے(اور اللہ کریم کی ذات تو ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گی) لہذا ولی وفات پا جائے یا زندہ ہو دونوں صورتوں میں ہی اس سے کرامت کا وقوع ہوتا ہے،اس معاملے میں اس کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں (لہذا وہ وفات کے بعد بھی زندوں کی طرح تمام اختیارات تصرفات کرامات رکھتا ہے, وہ معذور ریٹائر نہیں ہوتا اور اس کے اختیارات تصرفات کرامات محدود نہیں ہوتے)
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص58مکتبہ دار جوامع الکلم)
✅اس دلیل میں اور اسی طرح اوپر کئی دلیل دلائل میں یہی بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ کرامت کا تعلق اللہ تعالی کی کرم نوازی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عمومیت ہے تو پھر یہ دونوں چیزیں وفات کے بعد بھی محدود نہیں ہوتی، منقطع نہیں ہوتی لہذا اولیاء کرام کے تصرفات کرامات وفات کے بعد بھی نہ تو کم ہوتے ہیں نہ ہی امور غیر تکوینیہ میں محدود ہوتے ہیں
۔
🔷حوالہ17
امام ابن حجر کا نظریہ:
ﻗﺎﻝ اﻟﻌﻼﻣﺔ اﺑﻦ ﺣﺠﺮ: ﻭﻣﻄﺎﻟﻌﺔ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺼوفیۃ تﺤﺼّﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺑﻮﻗﻮﻋﻬﺎ ﺿﺮﻭﺭﺓ. ﻭﻗﺪ ﺭﺃﻳﻨﺎ ﻣﻦ ﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ ﺃﺣﻴﺎءا، ﻭﺃﻣﻮاﺗﺎ ﻣﺎ ﻳﻮﺟﺐ ﺫﻟﻚ، ﻓﻼ ﻳﻨﻜﺮﻫﺎ ﺇﻻّ ﻣﺨﺬﻭﻝ، ﻓﺎﺳﺪ اﻻﻋﺘﻘﺎﺩ ﻓﻲ ﺃﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ، ﻭﺧﻮاﺹ ﻋﺒﺎﺩﻩ
ترجمہ:
امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ صوفیاء کرام کی کتابوں کے مطالعہ سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے کہ اولیاء کرام کی کرامات اور تصرفات زندگی میں اور وفات کے بعد بھی ہوتی ہیں،اولیاء کرام کی کرامات تصرفات وفات کے بعد واقع ہوئی ہیں جو اس نظریے کو ثابت بھی کرتی ہیں تو ان کا انکار نہیں کرے گا مگر یہ کہ محروم شخص یا وہ شخص کہ جو اولیاء کرام کے معاملے میں برا عقیدہ رکھتا ہو
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝص75مکتبہ دار جوامع الکلم)
۔
🔷حوالہ18
امام الخادمی الحنفی فقیہ اصولی مدرس أیاصوفیہ کا نظریہ:
عبارت:
الزَّيْلَعِيِّ وَيَجُوزُ التَّوَسُّلُ إلَى اللَّهِ تَعَالَى وَالِاسْتِغَاثَةُ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ لِأَنَّ الْمُعْجِزَةَ وَالْكَرَامَةَ لَا تَنْقَطِعُ بِمَوْتِهِمْ وَعَنْ الرَّمْلِيِّ أَيْضًا بِعَدَمِ انْقِطَاعِ الْكَرَامَةِ بِالْمَوْتِ۔۔۔۔ وَعَنْ الْأُجْهُورِيِّ الْوَلِيُّ فِي الدُّنْيَا كَالسَّيْفِ فِي غِمْدِهِ فَإِذَا مَاتَ تَجَرَّدَ مِنْهُ فَيَكُونُ أَقْوَى فِي التَّصَرُّفِ كَذَا نُقِلَ عَنْ نُورِ الْهِدَايَةِ لِأَبِي عَلِيٍّ السِّنْجِيِّ (حَقٌّ)
امام خادمی فرماتے ہیں کہ امام زیلعی فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام سے اور اولیاء کرام سے ان کی وفات کے بعد توسل کیا جا سکتا ہے اور ان سے مدد طلب کر سکتے ہیں (کیونکہ وہ اللہ کے حکم سے مدد کرتے ہیں) کہ معجزہ اور کرامت وفات کی وجہ سے ختم و معزول و محدود نہیں ہوتے، امام رملی نے بھی فرمایا ہے کہ وفات کے بعد کرامت ختم و معزول نہیں ہوتی،اور امام اجہوری نے فرمایا ہے کہ وفات کے بعد ولی اللہ تلوار کی طرح صاف و شفاف ہو جاتا ہے ازاد ہو جاتا ہے تو وہ زندگی سے بھی زیادہ وفات کی حالت میں تصرف اور کمالات و کرامات اس سے واقع ہوتی ہیں،اسی طرح علامہ سنجی نے بھی فرمایا ہے
(بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية في سيرة أحمدية 1/203باب ثانی فصل اول کرامات الاولیاء مکتبہ العلوم الدینیہ ملتقطا)
✅یہاں تو فرمایا جا رہا ہے کہ زندگی میں جو کرامات امور تکوینیہ اور غیر تکوینیہ حاصل تھیں ان سے بھی زیادہ کرامات و تصرفات حاصل ہو جائیں گے وفات کے بعد۔۔۔۔اور یہ بھی فرمایا گیا کہ جس طرح معجزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی کمی، محدودیت ریٹائرمنٹ وغیرہ نہیں اسی طرح معجزہ رسول کے تابع یعنی کرامات اولیاء تصرفات اولیاء تصرفات اولیاء میں بھی کوئی کمی نہیں، کوئی محدودیت نہیں، کوئی ریٹائرمنٹ نہیں امور تکوینیہ غیر تکوینیہ سب میں کرامت تصرفات جاری و ساری رہتی ہیں
.
🔷حوالہ19
القطب الربانی۔۔۔العارف باللہ۔۔۔ولی المؤرخین۔۔مؤرخ الأولیاء والصالحین۔۔۔الفقیہ الشافعی الصوفی امام شعرانی اور ابو المواھب۔۔۔شیخ الفریقین۔۔۔منبع السّرَّین۔۔۔ القطب الذاتی۔۔۔صاحب الإشارات والبشارات امام جمال الدین شازلی کا نظریہ:
عبارت:
ﻗﺎﻝ اﻟﺸﻴﺦ ﺃﺑﻮ اﻟﻤﻮاﻫﺐ(الشاذلی) ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻭﺣﺎﺷﺎ ﻗﻠﻮﺏ اﻟﻌﺎﺭﻓﻴﻦ ﺃﻥ ﺗﺨﺒﺮ ﺑﻐﻴﺮ ﻓﻬﻢ، ﻭﻣﻌﻠﻮﻡ ﺃﻥ اﻷﻭﻟﻴﺎء ﺇﻧﻤﺎ ﻳﻨﻘﻠﻮﻥ ﻣﻦ ﺩاﺭ ﺇﻟﻰ ﺩاﺭ۔۔۔۔ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: ﻭﻋﻠﻰ ﻫﺬا اﻟﺬﻱ ﺫﻛﺮﻩ ﺷﻴﺨﻨﺎ ﻗﻮﻝ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﺤﻘﺎﺋﻖ، ﻭاﻟﺪﻗﺎﺋﻖ ﺣﺎﺷﺎ اﻟﺼﻮﻓﻲ ﺃﻥ ﻳﻤﻮﺕ، ﻭﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻝ: ﻣﻦ اﻷﻭﻟﻴﺎء ﻣﻦ ﻳﻨﻔﻊ ﻣﺮﻳﺪﻩ اﻟﺼﺎﺩﻕ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﺗﻪ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﺎ ﻳﻨﻔﻌﻪ ﺣﺎﻝ ﺣﻴﺎﺗﻪ،
ترجمہ:
شازلی طریقت کے بہت بڑے قطب اب المواہب فرماتے ہیں کہ یہ ہرگز نہ سمجھو کہ عارفین علماء اولیاء بغیر کسی فہم کے تمہیں کچھ بتاتے ہوں،اور یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اولیاء تو فقط ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف جاتے ہیں (یعنی فقط افس ٹرانسفر ہوتا ہے باقی تصرفات اختیارات کرامات میں کوئی کمی و محدودیت نہیں ہوتی) اسی طرح فرماتے ہیں کہ صوفی تو کبھی مرتا ہی نہیں اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ اولیاء کرام اپنی ظاہری وفات کے بعد مرید صادق کو زندگی سے بھی زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں,
(طبقات کبری2/226 ملتقطا احوال اﻟﺸﻴﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺃﺑﻮ اﻟﻤﻮاﻫﺐ اﻟﺸﺎﺫﻟﻲ...مکتبہ دار ضیاء شمس)
۔
🔷حوالہ20
نور الدین۔۔۔۔الشریف الإمام۔۔مؤرخ المدینۃ۔۔۔ مفتی المدینۃ
امام اجل شارح و محقق علامہ سمھودی کا نظریہ:
عبارت:
ﻭﻗﺎﻝ ﺷﺎﺭﺣﻪ"اﻟﺴﻤﻬﻮﺩﻱ": ﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻇﻬﻮﺭ اﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﻟﻬﻢ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﺗﻬﻢ، ﺃﻭﻟﻰ ﻣﻦ ﻇﻬﻮﺭﻫﺎ ﺣﺎﻝ ﺣﻴﺎﺗﻬﻢ، ﻷﻥ اﻟﻨﻔﺲ ﺑﺎﻗﻴﺔ ﺻﺎﻓﻴﺔ ﻣﻦ اﻷﻛﺪاﺭ ﻭاﻟﻤﺤﻦ ﻭﺣﻴﺮﺗﻬﺎ، ﻭﻗﺪ ﺷﻮﻫﺪ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻨﻬﻢ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﺗﻪ
ترجمہ:
مفتی مدینہ امام محقق شارح علامہ سمہودی فرماتے ہیں کہ وفات کے بعد تو اولیاء کرام سے کرامات تصرفات زیادہ واقع ہوتی ہیں(وہ ریٹائر اور معزول نہیں ہوتے اور ان کے کرامات تصرفات اختیارات میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے)اور بہت مشاہدہ بھی ہوا ہے کہ ولی اللہ وفات کے بعد بہت زیادہ تصرف اور کرامات فرماتا ہے۔۔۔ کیونکہ وہ اعلی مقام میں اللہ کے قرب میں پہنچ چکے اور ان کے دل صاف ستھرے ہیں۔۔۔
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص64٫65مکتبہ دار جوامع الکلم)
۔
🔷حوالہ21
ﻗﺎﻝ اﻟﺸﻴﺦ اﻟﻌﺎﻟﻢ اﻟﻌﻼﻣﺔ ﺳﻴﺪﻱ ﺃﺣﻤﺪ اﻟﺠﻮﻫﺮﻱ۔۔۔۔
ﻭﻛﺮاﻣﺎﺗﻬﻢ ﺛﺎﺑﺘﺔ، ﻭﺗﺼﺮّﻓﻬﻢ ﺑﺈﺫﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺑﺎﻕ، ﻻ ﻳﻨﻘﻄﻊ ﺑﺎﻟﻤﻮﺕ، ﺃﺑﺪا.
ترجمہ:
اولیاء کرام کی کرامات تصرفات ثابت ہیں اللہ کے حکم سے اور وفات کی وجہ سے کبھی بھی ان کے تصرفات اور کرامات منقطع نہیں ہوتے معزول نہیں ہوتے
(کرامات الاولیاء فی الحیاۃ و بعد الانتقال ص1)
۔
.
🔷حوالہ22
ابو الثناء۔۔۔مفتی۔۔۔شیخ العلماء امام المفسر شہاب آلوسی کا نظریہ:
عبارت:
الأولياء يتصرفون بعد وفاتهم بنحو شفاء المريض وإنقاذ الغريق والنصر على الأعداء وغير ذلك مما يكون في عالم الكون والفساد على معنى أن الله تعالى فوض إليهم ذلك، ومنهم من خص ذلك بخمسة من الأولياء والكل جهل وإن كان الثاني أشد جهلا. نعم لا ينبغي التوقف في أن الله تعالى قد يكرم من شاء من أوليائه بعد الموت كما يكرمه قبله بما شاء
ترجمہ:
اولیا کرام وفات کے بعد تصرفات فرماتے ہیں جیسے کہ مریض کو شفا دینا اور ڈوبتے ہوئے کو بچانا اور دشمنوں پر مدد دینا اور اس قسم کے دوسرے تصرفات کرامت جو تکوینی معاملات میں ہوں یا غیر تکوینی میں، یہ سب برحق ہے کہ بے شک اللہ تعالی زندوں کی طرح وفات شدہ اولیاء کرام کو بھی کرم نوازیوں سے کرامات سے تصرفات سے نوازتا ہے،یہ عقیدہ نظریہ درست ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں معاملے کے معاملات فلاں ولی اللہ کے ذاتی طور پر سپرد ہو گئے ہیں تو پھر یہ فاسد نظریہ ہے ورنہ نہیں
(تفسير الألوسي روح المعاني سورہ نازعات25/30مکتبہ دار احیاء تراث)
✅یہاں تو واضح طور پر امور تکوینی یعنی مریض کو شفا دینا اور مدد کرنا وغیرہ کرامات تصرفات کی تصریح کی گئی ہے کہ وہ وفات کے بعد بھی حاصل ہوتی ہیں
.
🔷حوالہ23
امام شعرانی۔۔۔
ﻭﺗﺎﺭﺓ ﻳﺨﺮﺝ اﻟﻮﻟﻲ ﻣﻦ ﻗﺒﺮﻩ ﺑﻨﻔﺴﻪ ﻳﻘﻀﻲ ﺣﻮاﺋﺞ اﻟﻨﺎﺱ
ترجمہ:
وفات کے بعد اولیاء کرام اس طرح بھی تصرفات کرتے ہیں کہ وہ خود بنفس نفیس اپنی قبر مبارک سے نکل کر لوگوں کی حاجتیں پوری کرتے ہیں
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص82مکتبہ دار جوامع الکلم)
۔
🔷حوالہ24
امام شعرانی شازلی نے شازلی طریقت کے پانچویں امام اﻟﻘﻄﺐ ﺷﻤﺲ اﻟﺪﻳﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺤﻨﻔﻲ: ﻫﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ اﻟﺘﻴﻤﻲ اﻟﺒﻜﺮﻱ اﻟﺸﺎﺫﻟﻲ کا قول لکھا ہے کہ:
عبارت:
صرفہ فی الکون۔۔۔وقال سيدي محمد رضي الله عنه في مرض موته : من كانت له حاجة فليأت إلى قبري ويطلب حاجته أقضيها له ؛ فإنَّ ما بيني وبينكم غير ذراع من تراب ، وكل رجل يحجبه عن أصحابه ذراع من تراب فليس برجل
ترجمہ:
قطب سیدنا شمس الدین حنفی شازلی کو اللہ تعالی نے کرامات اور تصرفات عطا فرمائے تھے تکوینی میں اور غیر تکوینی میں۔۔۔۔۔اپ میں مرض وفات میں ارشاد فرمایا کہ
میری وفات کے بعد جس کو کوئی کسی بھی قسم کی حاجت ہو تو وہ میری قبر کی طرف ائے اور اپنی حاجت طلب کرے میں پوری کر دوں گا کیونکہ اس کے درمیان اور میرے درمیان ایک زراع مٹی ہی تو ہے،اور وہ مرد ہی نہیں کہ جس کو ایک ذراع مٹی تصرفات کرامات سے روک دے
(طبقات کبری شعرانی2/285وماقبلہ مکتبہ دار ضیاء)
✅یہاں اور دیگر ہمارے تمام حوالاجات میں مطلق اور عموم ہے کہ جو کوئی بھی حاجت ہو وہ پوری فرماتے ہیں تصرفات کرتے ہیں کرامات دکھاتے ہیں اور ان کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں ہوتا تو پھر ہم کون ہوتے ہیں فرق کرنے والے کے محدود ہیں اور فقط امور تکوینیہ تک محدود ہیں،یہ محدودیت اور امور غیر تکوینہ والا نظریہ قران اور احادیث اور اسلاف کے اقوال کی تصریحات اور عمومیت سے بالکل میل نہیں کھاتا بلکہ رد ہو جاتا ہے
۔
🔷حوالہ25
شیخ الاسلام شہاب رَملی کا نظریہ:
”سئل عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلان يا رسول اللہ ونحو ذٰلک من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والعلماء والصالحین فهل ذلك جائز أم لا؟وھل للمشائخ اغاثۃ بعد موتھم ام لا؟ فاجاب بأن الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء والعلماء والصالحین جائزۃ وللرسل وللانبیاء والاولیاء والصالحین اغاثۃ بعد موتھم لأن معجزة الأنبياء وكرامات الأولياء لا تنقطع بموتهم“
ترجمہ:
ان سے استفتاء ہواکہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیا ومرسلین واولیا و صالحین سے فریاد کرتے اور یاشیخ فلاں (یارسولَ اللہ، یاعلی، یاشیخ عبدالقادر جیلانی) اور ان کی مثل کلمات کہتے ہیں،یہ جائز ہے یا نہیں ؟اور اولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بےشک انبیاء و مرسلین واولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعدِ انتقال بھی امداد فرماتے ہیں،کیونکہ انبیائے کرام کے معجزات اور اولیائے کرام کی کرامات ،ان کی وفات سے منقطع یعنی ختم نہیں ہوتیں(معزول ریٹائر و محدود نہیں ہوتی)
(فتاویٰ رملی4/382 المكتبة الإسلاميہ بحولہ فتوی مفتی قاسم مدنی صاحب)
✅یہاں بھی علماء کرام نے وہی بات ارشاد فرمائی کہ جب اللہ تعالی کی کرم نوازی میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے میں کوئی محدودیت نہیں ہوتی تو پھر ان کے تابع یعنی کرامات تصرفات میں بھی کوئی منقطع نہیں، کوئی محدودیت نہیں
۔
🔷حوالہ26
حکیم الامت ۔۔۔ مجدد ملت۔۔۔حجة اللہ۔۔۔شیخ الاسلام۔۔امام ہند ۔۔ محقق محدث شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کا نظریہ
عبارت:
سیدی احمد بن زروق کہ از عاظم فقہاء وعلماء ومشائخ دیار مغرب ست گفت روزے شیخ ابوالعباس حضرمی از من پرسید کہ امدادِحی قوی ست یا امداد میّت، من گفتم قوی میگویند کہ امداد حی قوی تر است ومن میگویم کہ امداد میّت قوی تراست پس شیخ گفت نعم زیرا کہ وے دربساط حق ست ودر حضرت اوست ونقل دریں معنی ازیں طائفہ بیشتر ازان است کہ حصر و احصار کردہ شود و یافتہ نمی شود درکتاب و سنت اقوالِ سلف صالح کہ منافی ومخالف ایں باشد و ردکندایں را
ترجمہ:
سیدی احمد بن زروق جودیارِ مغرب کے عظیم ترین فقہاء اور علماء ومشائخ سے ہیں، فرماتے ہیں کہ ایک دن شیخ ابوالعباس حضرمی نے مجھ سے پوچھا زندہ کی امداد قوی ہے یاوفات یافتہ کی؟ میں نے کہا کچھ لوگ زندہ کی امداد زیادہ قوی بتاتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وفات یافتہ کی امداد زیادہ قوی ہے۔(یعنی وفات کے بعد اولیاء کرام کے تصرفات اختیارات کرامات کم یا محدود یا معزول نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں)اسی پر شیخ نے فرمایا: ہاں ! اس لیے کہ وہ حق کے دربار اور اس کی بارگاہ میں حاضر ہے (فرمایا) اس مضمون کا کلام ان بزرگوں سے اتنا زیادہ منقول ہے کہ حد وشمار سے باہر ہے اور کتاب وسنت اور سلف صالحین کے(معتبر) اقول میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جو اس کے منافی ومخالف اور اسے رد کرنے والی ہو۔۔۔۔
(اشعۃ اللمعات1/716مکتبہ نوریہ رضویہ)
✅یہاں بھی واضح طور پر فرمایا گیا کہ وفات کے بعد اولیاء کرام کے تصرفات کرامات امور تکوینیہ غیرتکوینیہ تمام میں ترقی ہوتی ہے، اضافہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔کمی نہیں ہوتی ،محدودیت نہیں ہوتی، ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی
۔
🔷حوالہ27
کشف الغطاء میں ہے:
’’ارواح کمل کہ درحینِ حیات ایشاں بہ سبب قرب مکانت ومنزلت از رب العزت کرامات وتصرفات وامداد داشتند بعد از ممات چوں بہماں قرب باقیند نیز تصرفات دارند چنانچہ درحین تعلق بجسد داشتند یا بیشتر ازاں‘‘
ترجمہ:
کاملین کی روحیں ان کی زندگی میں رب العزت سے قرب مرتبت کے باعث کرامات وتصرفات اور حاجتمندوں کی امداد فرمایا کرتی تھیں ، بعدِ وفات جب وہ ارواح شریفہ اسی قرب واعزاز کے ساتھ باقی ہیں، تو اب بھی ان کے تصرفات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے جسم سے دنیاوی تعلق کے تھے یا اس سے بھی زیادہ۔
(باحوالہ فتاوی رضویہ9/768مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
۔
🔷حوالہ28
جامع البرکات میں ارشاد فرمایا :
’’اولیاء راکرامات وتصرفات دراکوان حاصل است وآن نیست مگر ا رواحِ ایشاں راچون ارواح باقی است بعد از ممات نیزیاشد‘‘
ترجمہ:
اولیاء کو کائنات میں کرامات وتصرفات کی قوت حاصل ہے اور یہ قوت ان کی روحوں کو ہی ملتی ہے، توروحیں جب بعد وفات بھی باقی رہتی ہیں ،تو یہ قوت بھی باقی رہتی ہے۔
(باحوالہ فتاوی رضویہ9/768مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
۔
🔷حوالہ29
امام سیوطی فرماتے ہیں :
ذھب اھل الملل من المسلمین وغیر ھم الی ان الروح تبقی بعد موت البدن و خالف فیہ الفلاسفۃ دلیلتا ماتقدم من الاٰیات والاحادیث فی بقائھا وتصرفہا الخ (ملخصًا)
ترجمہ:
تمام اہل ملت مسلمین اور ان کے سوا سب کا یہی مذہب ہے کہ روحیں بعد موت بدن باقی رہتی ہیں فلاسفہ یعنی بعض مدعیان حکمت نے اس میں خلاف کیا ، ہماری دلیل۔ وہ آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے ثابت کہ روح بعد موت باقی رہتی اور تصرفات کرتی ہے
۔(باحوالہ فتاوی رضویہ9/750 مکتہ رضا فاؤنڈیشن،)
۔
🔷حوالہ30
ردالمحتار میں امام غزالی سے ہے :
وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ فَإِنَّهُمْ مُتَفَاوِتُونَ فِي الْقُرْبِ مِنْ اللَّهِ - تَعَالَى، وَنَفْعُ الزَّائِرِينَ بِحَسَبِ مَعَارِفِهِمْ وَأَسْرَارِهِمْ.
ارواح طیبہ اولیائے کرام (بعد از وفات)کا حال یکساں نہیں بلکہ وہ متفاوت ہیں ﷲ سے نزدیکی اور زائروں کو نفع دینے میں موافق اپنے معارف واسرار کے(یعنی وفات سے پہلے جو جتنا بڑا ولی تھا جتنے اس کو تصرف اختیارات کرامات حاصل تھی اسی حساب سے وفات کے بعد بھی ان کو وہی تصرف کرامات اختیارات ملتے ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہوتی وہ معزول و ریٹائر نہیں ہوتے)
(رد المحتار فتاوی شامی1/604مکتبہ دار احیاء التراث)
۔
🔷حوالہ31
شیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالبلد الامین مولٰنا جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :
قال العلامۃ الغنیمی وھو خاتمۃ محققی الحنفیۃ اذاکان مرجع الکرامات الٰی قدرۃ اﷲ تعالٰی کما تقرر فلا فرق بین حیاتھم ومماتھم (الٰی ان قال) قد اتفقت کلمات علماء الاسلام قاطبۃً علٰی ان معجزات نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تحصر لان منھا ما اجرہ اﷲ تعالٰی ویجریہ لاولیائہ من الکرامات احیاءً وامواتًا الٰی یوم القیٰمۃ ۔
ترجمہ:
علاّمہ غنیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہ محققین حنفیہ کے خاتم ہیں فرمایا جب ثابت ہوچکا کہ مرجع کرامات قدرت الٰہی کی طرف سے ، تو اولیاء کی حیات و وفات میں کچھ فرق نہیں(یعنی وفات کے بعد وہ معزول نہیں ہوتے ریٹائر نہیں ہوتے اور ان کے اختیارات تصرفات کرامات محدود نہیں ہوتے...از حصیر)تمام علماء اسلام ایك زبان فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے معجزے محدود نہیں کہ حضور ہی کے معجزات سے ہیں وہ سب کرامتیں جو اولیائے زندہ و مرُدہ سے جاری کیں اور قیامت تک ان سے جاری فرمائے گا۔
(باحوالہ فتاوی رضویہ9/767مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
۔
🔷حوالہ32
امام ابن حجر مکی پھر شیخ نے شروح مشکوٰۃ میں فرمایا :
صالحاں رامدد بلیغ است بہ زیارت کنند گانِ خود رابر اندازہ ادب ایشاں ۔
صالحین اپنے زائرین کے ادب کے مطابق ان کی بے پناہ مدد فرماتے ہیں۔(بے پناہ یعنی ان کے تصرفات اختیارات کرامات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی محدود و معزول و ریٹائر نہیں ہوتے...از حصیر)
(باحوالہ فتاوی رضویہ9/772مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
✅بےپناہ پے غور کیجیے۔۔۔امداد پے غور کیجیے۔۔۔ امداد وغیرہ یا سارے کرامات تصرفات امور تکوینیہ میں سے ہیں جو بے پناہ ہو جاتے ہیں وفات کے بعد۔۔۔جبکہ مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب محدود کر رہے ہیں
۔
🔷حوالہ33
: امام علامہ تفتازانی نے شرح مقاصد میں اہلسنت کے نزدیك علم وادراك موتٰی کی تحقیق کرکے فرمایا :
ولھذا ینتفح بزیارۃ قبور الابرار والاستعانۃ من نفوس الاخبار
اسی لیے قبور اولیاء کی زیارت اور ارواح طیبہ سے استعانت نفع دیتی ہے۔
(باحوالہ فتاوی رضویہ9/773مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
۔
🔷حوالہ34
علامہ نابلسی قدس سرہ ، نے حدیقہ ندیہ میں فر مایا :
کرامات الاولیاء باقیۃ بعد موتھم ایضا ومن زعم خلاف ذلك فھو جاھل متعصب
اولیاء کی کرامتیں بعدا نتقال بھی باقی ہیں جو اس کے خلاف زعم کرے وہ جاہل ہٹ دھرم ہے،
(باحوالہ فتاوی رضویہ9/766مکتہ رضا فاؤنڈیشن)
۔
🔷حوالہ35
مجدد دین و ملت۔۔۔ فقیہ بےمثل۔۔۔ محقق بےمثال۔۔اما احمد رضا کا نظریہ
عبارت:
اولیاء کرام کی کرامتیں، اولیاء کے تصرف بعد وصال بھی بدستور ہیں(لفظ بدستور پے توجہ کیجیے جس کا معنی ہےحسب معمول، سابق کی طرح، جوں کا توں،۔۔۔۔یعنی جیسے زندگی میں تصرفات کرامات اختیارات رکھتے تھے ویسے ہی بغیر کسی کمی کے ، بغیر کسی محدودیت کے، بغیر کسی معزولی کے ، بغیر کسی ریٹائرمنٹ کے بدستور ان کی کرامات وفات کے بعد بھی جاری و ساری رہتی ہیں)
(فتاوی رضویہ9/766 مکتبہ رضا فاؤنڈیشن)
🔵🔵🔵🔵
🟫 *#دوسری بات*
مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کے دلائل اور ان کے جوابات اسلاف کی زبانی
۔
🟤دلیل1:
مفتی صاحب نے حدیث پاک کو دلیل بنایا کہ جب ایک قطب وفات کر جاتا ہے تو اس کی جگہ پر دوسرے کو قطبیت منتقل کی جاتی ہے۔۔۔اس بات پر دلیل ہے علامہ زرقانی کا قول لکھا وہ قول یہ ہے:
بأن إقامته في التصرف الذي كان أمر به في حياته، فلا يرد أن الأولياء يتصرفون بعد موتهم بتصرفات خاصة تمكنوا منها وفعلوها
ترجمہ: کیونکہ اسے ( فوت شدہ ولی کو) جس تصرف کا حکم دیا گیا تھا وہ اس کی زندگی میں تھا پس یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ اولیاء اپنی وفات کے بعد بھی خاص قسم کے تصرفات کرتے ہیں جس میں انہیں قدرت ہوتی ہے اور وہ اسے استعمال کرتے ہیں
یہ لکھنے کے بعد مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب نتیجہ لکھتے ہیں:
عبارت سے بھی واضح ہو گیا کہ فوت شدہ ولی کے صرف تکوینی اختیارات منتقل ہوتے ہیں
(سیرت غوث الاغواث ص347 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
🟩جواب:
علامہ زرقانی یہ عبارت میں ایسا کون سا لفظ ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ وفات شدہ ولی کو صرف امور غیر تکوینیہ میں کرامت اور تصرف حاصل ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟ جبکہ علامہ زرقانی صاحب کی پوری عبارت پڑھیں تو معاملہ ہی کچھ اور نکل اتا ہے علامہ ذرقانی کی پوری عبارت یہ ہے:
بأن إقامته في التصرف الذي كان أمر به في حياته، فلا يرد أن الأولياء يتصرفون بعد موتهم بتصرفات خاصة تمكنوا منها وفعلوها لا لكونهم مأمورين بها لزوال التكليف بالموت،
ترجمہ:
وہ تصرف جو زندگی میں ولی اللہ کرتا تھا وہ امر (حکم) کی وجہ سے تھا تو اعتراض نہ ہوگا کہ ولی اللہ تو وفات کے بعد بھی تصرفات کرتے ہیں کیونکہ وہ تصرفات مامور بن کر نہیں کرتے بلکہ غیر مامور بن کر کرتے ہیں کیونکہ ان سے تکلیف یعنی اللہ کا حکم یعنی مامور ہونا وفات کی وجہ سے ختم ہو گیا ہے
(شرح الزرقاني على المواهب اللدنية5/398 مکتبہ دار المعرفہ)
✅علامہ زرقانی نے جو علت بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ اعتراض اس طرح ختم ہو سکتا ہے کہ یہ علت بیان کی جائے کہ زندہ اولیاء کرام تصرفات کرامات تکوینیہ غیرتکوینیہ کرتے ہیں لیکن ان کو اللہ کا حکم ہوتا ہے یعنی مکلف ہوتے جبکہ وفات کے بعد اولیاء کرام تصرفات کرامات تکوینیہ غیرتکوینیہ سارے کرتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ مکلف نہیں ہوتے
۔
🟤دلیل2
مفتی صاحب نے دوسری دلیل امام شازلی کا وہ قول لکھا کہ میری قبر پر ا کر مجھ سے مدد مانگنا۔۔۔۔پھر مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب لکھتے ہیں:
بعد ویزال اولیاء کے صرف تکوینی عہدے کے تصرفات باقی نہیں رہتے
(سیرت غوث الاغواث ص347 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
✅جواب:
امام شازلی کے قول میں ایسی کوئی بات نہیں کہ مجھے امور تکوینیہ کے معاملے میں مت پکارنا۔۔۔بلکہ مطلق فرمایا کہ کوئی بھی حاجت ہو تکوینی غیر تکوینی کسی قسم کی حاجت ہو تو میرے پاس ا جانا۔۔۔یہ تو ہماری دلیل ہے،یہی وجہ ہے کہ علامہ حنفی نے بھی فرمایا کہ امام شازلی کا یہ فرمان دراصل ان کے اس فرمان سے رجوع ہے کہ جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ وفات کے بعد تصرفات نہیں ہوتے
ﻭﻧﻘﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺃﻳﻀﺎ اﻟﺸﻴﺦ ﻋﺒﺪ اﻟﻮﻫﺎﺏ اﻟﺸﻌﺮاﻧﻲ ﻣﻦ ﺃﻥ اﻟﻮﻟﻲ ﺇﺫا ﻣﺎﺕ اﻧﻘﻄﻊ ﺗﺼﺮّﻓﻪ ﻓﻲ الکون من الامداد، ﻭﺇﻥ ﺣﺼﻞ للزائر مدد ﺑﻌﺪ اﻟﻤﻮﺕ، ﺃﻭ ﻗﻀﺎء ﺣﺎﺟﺘﻪ، ﻓﻬﻮ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻠﻰ ﻳﺪ اﻟﻘﻄﺐ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﻮﻗﺖ، ﻳﻌﻄﻰ اﻟﺰاﺋﺮ ﻣﻦ اﻟﻤﺪﺩ ﻋﻠﻰ ﻗﺪﺭ ﻣﻘﺎﻡ اﻟﻤﺰﻭﺭ ﻣﺤﻤﻮﻝ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﻌﻠﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺑﺈﻟﻬﺎﻡ ﺃﻥ اﻟﻮﻟﻲ ﻳﺘﺼﺮﻑ ﺑﻌﺪ اﻟﻤﻮﺕ، ﻭﺑﻬﺬا یحصل اﻟﺘﻮﻓﻴﻖ ﺑﻴﻦ ﻛﻼﻣﻴﻪ
(ﻧﻔﺤﺎﺕ اﻟﻘﺮﺏ ﻭاﻻﺗّﺼﺎﻝ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﻟﺘّﺼﺮﻳﻒ ﻷﻭﻟﻴﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭاﻟﻜﺮاﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻻﻧﺘﻘﺎﻝ ص87مکتبہ دار جوامع الکلم)
۔
🟤دلیل3
مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب نے تیسری دلیل یہ دی کہ بہت بڑے صوفی شیخ عبدالعزیز دباغ شازلی فرماتے ہیں کہ
انہیں زندوں کے معاملے میں کسی تصرف کا اختیار نہیں
(سیرت غوث الاغواث ص345 مکتبہ عالمی حلقہ قادریہ شاذلیہ)
۔
✅جواب:
مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب نے یہ دلیل تو دی لیکن یہ دلیل خود ان کے دعوے کے خلاف ہے کیونکہ اس دلیل میں تو یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ وصال کے بعد وفات کے بعد امور تکوینیہ اور امور غیر تکوینیہ کسی میں بھی کوئی تصرف کرامت واقع نہیں ہوتی۔۔۔۔جو کہ خود مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کے موقف کے خلاف ہے۔۔۔لہذا مفتی ابوبکر صدیق شازلی صاحب کہ اصول کے مطابق جمہور صوفیا اولیاء علماء کا قول ترجیح پائے گا اور سیدی عبدالعزیز دباغ کا قول مبارک غیرمفتی بہ کالعدم مرجوح کہلائے گا
📌 *#نوٹ*
دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!
.
📣 *#توجہ*
اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں
.
✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
New whatsapp nmbr
03062524574
00923062524574
purana whatsapp nmbr
03468392475