Labels

الابراد فی المیلاد* یعنی میلادِ خاتم النبیینﷺکی تاریخ،دلائل،فتاوی،اقوال سے مزین تحریر جو کلیجہ ٹھنڈا کر دے گی،ان.شاء اللہ عزوجل قسط1️⃣ اس میں قران و احادیث مبارکہ سے 👈21 دلائل لکھے گئے ہیں اور ساتھ میں اسلاف کے اقوال کہ جو احادیث مبارکہ اور ایات مبارکہ سے ماخوذ ہیں وہ بھی لکھے گئے ہیں،پڑھیے اس تحریر

 🟩 *#الابراد فی المیلاد*

یعنی میلادِ خاتم النبیینﷺکی تاریخ،دلائل،فتاوی،اقوال سے مزین تحریر جو کلیجہ ٹھنڈا کر دے گی،ان.شاء اللہ عزوجل

قسط1️⃣

اس میں قران و احادیث مبارکہ سے 👈21 دلائل لکھے گئے ہیں اور ساتھ میں اسلاف کے اقوال کہ جو احادیث مبارکہ اور ایات مبارکہ سے ماخوذ ہیں وہ بھی لکھے گئے ہیں،پڑھیے اس تحریر میں

🔶🔶🔶🔶🔶🔶


🟫دلیل1

اللہ تعالی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد سے پہلے ہی اپ کی امد کا ذکر فرمایا یعنی میلاد ایک طرح سے ہوا۔۔۔اور اللہ تعالی نے حکم بھی دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرو اور مفسرین نے فرمایا کہ رسول کریم کی تعظیم میں سے میلاد منانا بھی ہے 

۔

القرآن:

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ  الشّٰہِدِیۡنَ

ترجمہ:

اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا  جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول  کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائےتو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں،

(سورہ آل عمران ایت81)

۔

القرآن

 لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ  وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ  بُکۡرَۃً  وَّ اَصِیۡلًا

اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو

(سورہ فتح آیت9)

.

وعزَّروه"، يقول: وَقَّروه وعظموه

معنی ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ(ہر حال میں)رسول کی تعظیم و توقیر کرو

(تفسیر طبری13/168)

.

 ومن تعظيمه عمل المولد إذا لم يكن فيه منكر قال الامام السيوطي قدس سره يستحب لنا اظهار الشكر لمولده  انتهى. وقد اجتمع عند الامام تقى الدين السبكى  جمع كثير من علماء عصره فأنشد منشد قول الصر صرى فى مدحه 

قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب ... على ورق من خط احسن من كتب وان تنهض الاشراف عند سماعه ... قياما صفوفا أو جثيا على الركب۔۔۔فعند ذلك قام الامام السبكى وجميع من بالمجلس فحصل انس عظيم بذلك المجلس ويكفى ذلك في الاقتداء وقد قال ابن حجر الهيثمي ان البدعة الحسنة متفق على ندبها وعمل المولد واجتماع الناس له كذلك اى بدعة حسنة

اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے طریقوں میں سے یوم ولادت منانا ، میلاد منانا بھی ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی چیز قابل اعتراض نہ ہو۔ امام سیوطی نے کہا: "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کے موقع پر شکر کے اظہار کے طریقے مستحب و ثواب ہیں" 

امام تقی الدین السبکی کے گھر پر اپنے زمانے کے علماء کا ایک بڑا مجمع جمع ہوا اور ایک قاری نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں درج ذیل آیات کی تلاوت کی: "کاغذ پر سونے سے لکھنا برگزیدہ کی تعریف کے لیے ناکافی ہے، خواہ وہ کسی بھی رسم الخط سے بہتر لکھا گیا ہو۔ اور اگر بزرگان اس کو سن کر کھڑے ہو جائیں یا کھڑے ہو جائیں۔ گھٹنے..." اس پر امام سبکی اور تمام حاضرین کھڑے ہو گئے، اور اس مجلس میں بڑی خوشی و انسیت محسوس ہوئی۔

 پیروی کرنے کے لیے یہ ایک مثال کافی ہے۔

ابن حجر الہیثمی کہتے ہیں: "اچھی بدعت متفقہ طور پر مستحب ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت منانا اور اس کے لیے لوگوں کا جمع ہونا بھی اسی طرح ایک اچھی بدعت ہے۔"

(تفسیر روح البيان9/56)

.


مفی مکہ مکرمہ خاتمة المحدثین سید احمد زین دحلان مکی شافعی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

من تعظيمه  الفرح بليلة ولادته وقرائة المولد و القيام عند ذكر ولادته واطعام الطعام وغير ذلك مما يعتاد الناس فعله من انواع البر فإن ذلك كل من تعظيمه 

ترجمہ:

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم میں سے ہے کہ اپ کی ولادت کی رات (یعنی میلاد کی رات 12 ربیع الاول اور پیر شریف کے دن) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائی جائے اور میلاد پڑھا جائے اور جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر مبارک ائے تو کھڑے ہو کر میلاد پڑھا جائے اور اسی طرح میلاد میں کھانا کھلایا جائے اور اس کے علاوہ وہ سارے کام کیے جا سکتے ہیں جو عام طور پر لوگ جائز طریقے سے اچھے کام میلاد کے لیے کرتے ہیں وہ سب جائز و ثواب ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے طور پر کیے جا رہے ہیں

(الدرر السنیہ فی الرد علی الوہابیہ ص34)

۔

 المولد... من البدع الحسنة التي يثاب عليها صاحبها، لما فيه من تعظيم قدر النبي ﷺ وإظهار الفرح والاستبشار بمولده الشريف.

میلاد بدعت حسنہ میں سے ہے کیونکہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت اور تعظیم میں سے ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت پر خوشی کے اظہار کے جائز طریقوں میں سے ہے

 (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد1/367)

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل2

القرآن:

وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ

اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا

(سورہ الانشراح ایت4)

۔

اور میلاد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہی تو بلند کیا جاتا ہے, اور یہ سعادت ہر دور میں اہل سنت کو ملتی ہی رہے گی۔۔۔

.

امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں:

وَاعْلَمْ أَنَّهُ عَامٌّ فِي كُلِّ مَا ذَكَرُوهُ مِنَ النُّبُوَّةِ، وَشُهْرَتُهُ فِي الأرض والسموات....كَأَنَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: أَمْلَأُ الْعَالَمَ مِنْ أَتْبَاعِكَ كُلُّهُمْ يُثْنُونَ عَلَيْكَ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكَ

یہ ایت تمام ذکر(میلاد میں ذکر رسول، نماز میں ذکر رسول،کلمہ میں ذکر رسول،دیگر تمام معاملات میں ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم)کو شامل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہوگا ان کی نبوت کا ذکر مبارک ہوگا اور ان کی شہرت کا ذکر ہوگا زمینوں میں اور اسمانوں میں۔۔گویا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں اس عالم(دنیا جہاں) کو ان لوگوں سے بھر دوں گا جو حقیقی معنوں میں تمہارے پیروکار ہوں گے اور اپ کی خوب نعت گوئی کریں گے تعریف بیان کریں گے اور اپ پر درود بھیجیں گے

(تفسیر کبیر32/208)

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل3

القرآن...ترجمہ:

اپنے رب کی نعمت کا چرچہ کر..(سورہ والضحی آیت11)

بخاری میں ہےکہ:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہیں

(بخاری روایت3977)

میلاد میں اللہ کریم کی عظیم نعمت یعنی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچہ ہی تو ہوتا ہے

.

إِنَّ وِلَادَتَهُ ﷺ أَعْظَمُ النِّعَمِ عَلَيْنَا.... وَالشَّرِيعَةُ حَثَّتْ عَلَى إِظْهَارِ شُكْرِ النِّعَمِ....وَقَدْ أَمَرَ الشَّرْعُ بِالْعَقِيقَةِ عِنْدَ الْوِلَادَةِ، وَهِيَ إِظْهَارُ شُكْرٍ وَفَرَحٍ بِالْمَوْلُودِ،... فَدَلَّتْ قَوَاعِدُ الشَّرِيعَةِ عَلَى أَنَّهُ يَحْسُنُ فِي هَذَا الشَّهْرِ إِظْهَارُ الْفَرَحِ بِوِلَادَتِهِ ﷺ

بے شک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت مبارکہ عظیم نعمتوں میں سے ہے اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ نعمتوں کے شکرانے کے طور پر ان کا چرچہ کرو ( لہذا میلاد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا کرنا ہی تو ہے اور یہ میلاد منانا گویا کہ قران مجید سے ثابت ہے) اور میلاد کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ ولادت پر عقیقہ کیا جاتا ہے دعوت کی جاتی ہے،محفل مجلس کی جاتی ہے اور یہ ولادت کی شکرانے اور خوشی کے طور پر ہوتی ہے تو اس طرح یہ بھی دلائل ہیں کہ ربیع الاول مہینے کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کی خوشی میں میلاد منایا جائے اور جائز طریقوں سے خوشی ( اور جشن )کا اظہار کیا جائے

 (الحاوي للفتاوي1/226)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل4

القرآن...ترجمہ:

کہہ دیجیے اللہ کے فضل و رحمت اور اسی پر خوشی کرنا چاہیے..(سورہ یونس آیت58)

میلاد میں اللہ کی عظیم رحمت اور  اللہ کی عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے

۔

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

وَأَمَّا مَا يُعْمَلُ فِيهِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُقْتَصَرَ فِيهِ عَلَى مَا يُفْهِمُ الشُّكْرَ لِلَّهِ تَعَالَى مِنْ نَحْوِ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ مِنَ التِّلَاوَةِ وَالْإِطْعَامِ وَالصَّدَقَةِ وَإِنْشَادِ شَيْءٍ مِنَ الْمَدَائِحِ النَّبَوِيَّةِ وَالزُّهْدِيَّةِ الْمُحَرِّكَةِ لِلْقُلُوبِ إِلَى فِعْلِ الْخَيْرِ وَالْعَمَلِ لِلْآخِرَةِ، وَأَمَّا مَا يَتْبَعُ ذَلِكَ مِنَ السَّمَاعِ وَاللَّهْوِ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَيَنْبَغِي أَنْ يُقَالَ: مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ مُبَاحًا بِحَيْثُ يَقْتَضِي السُّرُورَ بِذَلِكَ الْيَوْمِ لَا بَأْسَ بِإِلْحَاقِهِ بِهِ، وَمَا كَانَ حَرَامًا أَوْ مَكْرُوهًا فَيُمْنَعُ، وَكَذَا مَا كَانَ خِلَافَ الْأَوْلَى. انْتَهَى.

ترجمہ:

میلاد منانے میں شکر اور خوشی کے وہ کام کہ جو بہترین ہیں اور جو جائز ہیں جن سے خوشی اور شکر ثابت ہوتا ہے تو ان پر اقتصار کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ تلاوت کھانا کھلانا صدقہ نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور زہد و تقوی اور بھلائی کے کاموں پر اقتصار کیا جائے، اور ممنوع کام لھو لعب کھیل کود حرام و مکروہ خلاف اولی کاموں سے اجتناب کیا جائے

 (الحاوي للفتاوي1/229ملخصا)


.

المولد... من البدع الحسنة التي يثاب عليها صاحبها، لما فيه من تعظيم قدر النبي ﷺ وإظهار الفرح والاستبشار بمولده الشريف.

اور میلاد اچھی بدعتوں میں سے ہے کیونکہ (حضور علیہ الصلوۃ والسلام رحمت نعمت ہیں اور) میلاد میں ایک تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے (جس کا حکم قران مجید میں بھی ہے) اور دوسرا یہ کہ اس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت میں خوشی کا اظہار ہوتا ہے (جیسا کہ مذکور ایت مبارکہ میں ہے کہ نعمت رحمت پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے)

(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد1/367)

.

الشيخ أبا موسى الزّرهونيّ يقول: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم فذكرت له ما يقوله الفقهاء في عمل الولائم في المولد فقال صلى الله عليه وسلم: «من فرح بنا

فرحنا به»

امام ابو موسی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں دیدار کیا اور میں نے عرض کی کہ میلاد شریف کے موقع کے مناسبت سے جو جشن اور پروگرام ہوتے ہیں ان کے متعلق جو فقہا فرما رہے ہیں کیا وہ ٹھیک ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے میری مناسبت سے خوشی کی تو میں اس سے خوش ہوں

(سبل الھدی و الرشاد1/363)

۔

فتاوى الشيخ محمد متولي الشعراوي المصري۔۔۔وإكراما لهذا المولد الكريم فإنه يحق لنا أن نظهر معالم الفرح والابتهاج بهذه الذكرى الحبيبة لقلوبنا كل عام

شیخ محمد متولی مصری فرماتے ہیں کہ ہر سال میلاد شریف کی تعظیم میں ہم پر حق بنتا ہے کہ ہم خوشی کے جائز طریقے سے ہر سال میلاد منائیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر مبارک سے اپنے دلوں کو خوش و منور کریں

(على مائدة الفكر الإسلامي ص295)

۔

اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

زیادہ بہتر ہے وہ یہ کہ فضل اور رحمت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قدوم (تشریف لانا،میلاد) مبارک لیے جائیں.... بس اس تفسیر کی بنا پر اس ایت کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم کو حق تعالی ارشاد فرما رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود پر خواہ وجود نوری ہو یا ولادت ظاہری اس پر خوش ہونا چاہیے۔۔۔۔پس ایسی ذات بابرکات کے وجود پر جس قدر بھی خوشی اور فرح ہو کم ہے 

(خطبات میلاد تھانوی ص65وماقبلہ)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل5

القران:

 ذَکِّرۡہُمۡ بِاَیّٰىمِ الله

اور ان کو اللہ کے دن یاد دلاؤ (یعنی وہ دن وقت مہینے یاد دلاؤ کہ جس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمت نعمت ملی)

(سورہ ابراہیم ایت5)

.

اور یقینا میلاد کی رات ، میلاد کا دن پیر شریف اور میلاد کا مہینہ ربیع الاول شریف ان دنوں میں سے ہے کہ جس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمت نعمت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ملی تو ہم میلاد منا کر لوگوں کو وہ دن یاد کراتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں اور شکر ادا کرواتے ہیں

.

وسئل المحقق الولى أبو زرعة، المتوفى سنة ٨٢٦ هـ، وهو الإمام العلامة، والقدوة الفهامة شيخ السادة الشافعية قديما أحمد بن عبد الرحيم بن العراقى عن فعل المولد أمستحب أم مكروه، وهل ورد فيه شئ، أو فعله من يقتدى به؟ فأجاب بقوله: الوليمة وإطعام الطعام مستحب فى كل وقت، فكيف إذا انضم لذلك السرور بظهور نور النبوة فى هذا الشهر الشريف، ولا نعلم ذلك عن السلف، ولا يلزم من كونه بدعة كونه مكروها، فكم من بدعة مستحبة

محقق امام ابو زرعہ سے سوال کیا گیا کہ میلاد منانا ثواب ہے یا مکروہ ہے اور اس کے متعلق کیا روایات ہیں تو اپ نے ارشاد فرمایا کہ 

محفل کرنا اور کھانا کھلانا تو ہر وقت جائز اور مستحب ہے اور یہ محفل اور کھانا کھلانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دن کی خوشی کی یاد میں ہو تو پھر تو اور بھی زیادہ ثواب کا باعث بن جاتا ہے اور ہم اس میلاد کے بارے میں مستند اسلاف سے ممانعت نہیں جانتے اور اس طریقے سے مروجہ طور پر میلاد پہلے نہ منایا جاتا ہو تو اس سے یہ لازم نہیں اتا کہ یہ بری بدعت ہو جائے کیونکہ ایسی بہت ساری ظاہری طور پر بدعتیں ہوتی ہیں مگر وہ اچھی جائز و ثواب ہوتی ہیں شریعت کی روشنی میں

(الخطط التوفيقية الجديدة3/440)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل6

القران:

اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا

اے اللہ کریم ہم پر خوان مائدہ نازل فرما تاکہ وہ (دن,  وہ وقت) ہمارے اول اور ہمارے اخر سب کے لیے عید ہو جائے

(سورہ مائدہ ایت114)

۔


فنزول المائدة اعتبر عيداً لأهل الأرض للأولين والآخرين ليظهروا فرحهم فالأحرى لنا أن نفرح بمولده... قوله تعالى : لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولاً..... فإذا كان هنالك فرح يحق لنا إظهاره هو الفرح بفضل الله ورحمته ولا أعم وأشمل من رحمته تعالى للخلق بسيدنا محمد الله رحمة للناس كافة

جب مائدہ کا نازل ہونا عید ہو گیا اولین اخرین کے لیے کہ اس میں وہ خوشی کا اظہار کریں تو پھر اس سے بدرجہ اولی ثابت ہوتا ہے کہ ہم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کے دن مہینے کی خوشی منائیں عید منائیں (کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن مہینہ تو مائدہ کے نازل ہونے سے زیادہ افضلیت رکھتا ہے تو جب معائدہ کے نازل ہونے کے دن قران مجید کے مطابق عید کا دن ہے ،خوشی کا دن ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن مہینہ بھی عید اور خوشی کا موقع ہے) اور اللہ تعالی نے اپنی فضل اور رحمت پر خوشی کا حکم دیا ہے تو یہ ایت تمام فضل اور رحمتوں کو شامل ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں تو پھر ان کی خوشی منانا میلاد کرنا جائز و ثواب ہے

(الادلۃ الشرعیۃ بجواز الاحتفال بمیلاد خیر البریہ ص19وماقبلہ)

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل7

القرآن:

أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ

خلاصہ:

مال دولت اولاد رشتہ دار ہر چیز سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو

(سورہ توبہ ایت24)

۔

اور میلاد منانا بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے لیکن یہ ایک نشانی ہے فرض واجب نہیں،یعنی ایسا نہیں کہ جو مروجہ میلاد نہ منائے یعنی مروجہ طریقے سے نہ منائے تو اسے ہم محبت رسول والا نہ کہیں تو ایسا نہیں ہے 

۔


أننا لم نقل أبدأ إن الاحتفال بالمولد هو الدليل الوحيد على محبته ، وأن من لم يحتفل فليس بمحب، بل إننا نقول : إن الاحتفال بالمولد مظهر من مظاهر محبته، وهو دليل من دلائل التعلق به واتباعه، ولا يلزم أن من لم يحتفل لا يكون محباً ولا متبعاً

ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مروجہ میلاد منانا واحد دلیل ہے کہ وہ رسول کریم سے محبت کرتا ہو، حتی کہ ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ جو مروجہ طریقے سے میلاد نہ منائے وہ گستاخ نہیں ہے بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ میلاد منانا محبت کے دلائل میں سے نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے

(حول الاحتفال ص63)

۔

علامہ شامی نے فرمایا:

ان راتوں میں کثرت سے درود و سلام پڑھا جاے تو بھی کافی ہے(مگر جتنے زیادہ بھرپور انداز میں نیکیاں کرے خوشی کا اظہار کرے تو بہتر ہے)(جواہر البحار 3/340 باحوالہ شرح مسلم علامہ سعیدی3/184فرید بک اسٹال)

۔

الحدیث:

من أحب شيئا أكثر ذكره....ترجمہ:جو جس سے محبت کرتا ہے اسکا کثرت سے ذکرِ خیر کرتا ہے

(كنز العمال ,1/425)

اللہ سے عشق و محبت لازم ہے تو اسکا تقاضا ہے کہ ذکر اللہ کی کثرت کی جائے

.

انبیاء کرام علیہم السلام اور بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت لازم ہے تو اسکا تقاضا ہے کہ انکا  کثرت سے ذکرِ خیر کیا جائے۔۔۔اور میلاد انہی ذکر خیر میں سے ایک ہے

.

صحابہ کرام علیھم الرضوان سےعشق و محبت لازم ہے تو اسکا تقاضا  ہے کہ انکا  کثرت سے ذکرِ خیر کیا جائے

.

اہلبیت عظام علیھم الرضوان سےعشق و محبت لازم ہے تو اسکا تقاضا ہے کہ انکا  کثرت سے ذکرِ خیر کیا جائے

.

اولیاء و برحق علماء سےعشق و محبت لازم ہے تو اسکا تقاضا ہے کہ انکا  کثرت سے ذکرِ خیر کیا جائے

.

الحدیث:

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی اس وقت ایمان والا ہو گا جب وہ مجھ سے محبت اپنے اباء و اجداد اور اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر کرے

(بخاری حدیث15)

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل8

القرآن:

وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ  اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ  تَقۡوَی  الۡقُلُوۡبِ

اور جو اللہ تعالی کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقوی میں سے ہے

(سورہ حج ایت32)

.

الشَّعَائرُ» : جَمْهُ شَعِيرَةٍ، وهي العلامة، فَكُلُّ شَيْءٍ جُعِلَ عَلَماً مِنْ أعلام طاعةِ الله، فهو من شَعَائِر الله تعالى

ترجمہ:

شعائر شعیرہ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے نشانی... یعنی جو چیز بھی اللہ تعالی کی اطاعت کی نشانی ہو تو وہ  شعائر اللہ ہے

(تفسیر اللباب3/93)

صفا مروہ حج کے افعال اور قربانیوں کو بھی اللہ تعالی نے شعائر اللہ قرار دیا ہے جیسے کہ قران مجید کی بہت ساری ایتوں میں ہے تو ان تمام چیزوں سے افضل ذات یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ بھی یقینا شعائر اللہ ہے، اور یہ ذات مبارکہ جس رات مہینے میں ملی اس کی بھی بڑی عظمت و شان ثابت ہوئی

لیھذا

میلاد جائز طریقے سے منانا بھی اس ایت مبارکہ کے تحت دلوں کے تقوی میں سے ہے یہ کوئی کھیل کود کا دن نہیں بلکہ تقوی پرہیزگاری کا دن ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائز طریقے سے تعظیم اجاگر کرنے کا دن ہے اور تعلیمات اجاگر کرنے کا دن ہے 

۔

اسماعیل دھلوی لکھتے ہیں:

از فروع حب منعم است تعظیم شمائرا

انعام کرنے والے ذات مبارک سے محبت تقاضہ ہے کہ اس کی نشانیوں شعائر سے بھی محبت کی جائے 

(صراط مستقیم ص20)

حتی کہ اولیاء کرام کی محبت کو بھی اس ایت میں یعنی اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے، شعائر اللہ میں سے

 اولیاء کرام کی محبت کو بھی شامل کیا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی شعائر اللہ میں سے ہے اور محبت کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس کا ذکر کثیر کی جائے جیسے کہ حدیث پاک میں بھی ہے اور ہر ذی شعور بھی سمجھتا ہے اور میلاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر ذکر کثیر میں سے ہے۔۔۔اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں 

بلکہ اگر اچھی طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے بزرگ لوگوں کی محبت پیار کرنے والے کے ایمان اور پرہیزگاری کی علامت ہے 

(صراط مستقیم مترجم صفحہ54٫53)


🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل9

القران:

 وَاشْكُرُوا لِي

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرا شکر ادا کرو،میری نعمتوں کا شکر ادا کرو

(سورہ بقرہ ایت152)

۔

اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف اوری میلاد بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہے تو اس پر شکر ادا کرنا چاہیے اور میلاد میں اللہ تعالی کا شکر بھی ادا کیا جاتا ہے اور میلاد میں اس نعمت کا چرچہ بھی کیا جاتا ہے اور ان کی سنتوں کا بیان بھی کیا جاتا ہے اور دین اسلام کی ترویج کی جاتی ہے عظمت و بلندی بیان کی جاتی ہے 

۔

أَنْ يُزَادَ فِيهِ مِنْ الْعِبَادَاتِ وَالْخَيْرِ شُكْرًا لِلْمَوْلَى سبحانه وتعالى عَلَى مَا أَوْلَانَا مِنْ هَذِهِ النِّعَمِ الْعَظِيمَةِ

اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے عبادات اور اچھے کام کر کےکہ اس نے ہمیں میلاد کی رات اور ولاد کے مہینے جیسے عظیم نعمتوں سے نوازا ہے

(المدخل لابن الحاج2/2)

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل10

بخاری و دیگر کئ معتبر کتابوں میں ہے کہ 

 ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ ، قَالَ لَهُ : مَاذَا لَقِيتَ ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ : لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ، غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ.

َ ابو لہب جب مر گیا تو اس کی بری حالت کسی کے خواب میں ائی تو اس شخص نے کہا کہ تم نے کیا پایا تو ابو لہب نے کہا کہ مجھے کچھ بھی نفع نہ ہوا مگر یہ کہ مجھے اس انگلی سے پلایا جاتا ہے کیونکہ میں نے اس انگلی سے اشارہ کر کے ثویبہ باندی کو ازاد کیا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش  ہوئی تھی

(بخاری5101)

.

قال ابن الجوزى فاذا كان هذا أبو لهب الكافر الذى أنزل القرآن بذمّه جوزى فى النار بفرحة ليلة مولد النبىّ ﷺ فما حال المسلم الموحد من أمّته عليه السلام يسرّ بمولده ويبذل ما تصل اليه قدرته فى محبته ﷺ لعمرى انما يكون جزاؤه من الكريم أن يدخله بفضله جنات النعيم ولا يزال أهل الاسلام يحتفلون بشهر مولده عليه السلام ويعملون الولائم ويتصدّقون فى لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور ويزيدون فى المبرات ويعتنون بقراءة مولده الكريم ويظهر عليهم من

 بركاته

ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ ابو لہب کافر کہ جس کے مذمت میں قران نازل ہوا جب اس کو فائدہ ملا میلاد النبی منانے کا تو مسلمان کو بہت زیادہ فائدہ میلاد منانے کا ہوگا کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد مناتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتا ہے اور جو اس کی قدرت میں ہوتا ہے وہ خرچ کرتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں۔۔۔۔تو  خدا کی قسم اس کی جزا جنت ہے اور جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔۔۔۔ اور اہل اسلام ہمیشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت کے مہینے میں میلاد مناتے رہے ہیں اور محفلیں دعوتیں کرتے رہے ہیں صدقہ کرتے رہے ہیں اور خوشیوں کا اظہار کرتے رہے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے واقعات اور دیگر واقعات احادیث وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں اور ان سب کی برکتیں ظاہر ہوتی رہتی ہیں

( تاريخ الخميس في أحوال أنفس النفيس1/222,223)

.

1...حافظ شمس الدين محمد بن عبد الله جذري نے اپنی کتاب

عرف التعریف میں میلاد کے ثبوت و جائز و ثواب ہونے میں مذکورہ دلیل لکھی 

2...امام قسطلانی نے بھی مواھب لدنیہ میں میلاد کے ثبوت و جائز و ثواب ہونے میں مذکورہ دلیل لکھی 

3....امام زرقانی نےبھی شرح مواھب لدنیہ میں میلاد کے ثبوت و جائز و ثواب ہونے میں مذکورہ دلیل لکھی 

4...امام سیوطی نے بھی حسن المقصد  میں میلاد کے ثبوت و جائز و ثواب ہونے میں مذکورہ دلیل لکھی

5...امام یوسف صالحی نے سبل الہدی میں میلاد کے ثبوت و جائز و ثواب ہونے میں مذکورہ دلیل لکھی

اور

بھی کئی علماء نے اس کو میلاد کی دلیل کے طور پر لکھا ہے


قلت: ولأجل هذا المعنى ما زال المسلمون يُعظِّمون المولد الشريف، جاعلين له عيدًا أعظم من كل عيد، وهو حقيقٌ بذلك وجدير.

 بخاری شریف کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اسی معنی کے لحاظ سے اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کے مہینےاور میلاد کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اس کو عید سے بھی زیادہ بناتے ہیں اور یہ حقیقت و درست ہے بلکہ زیادہ لائق ہے کہ میلاد کے دن یعنی پیر کے دن اور میلاد کے مہینے یعنی ربیع الاول کو میلاد منایا جائے

(كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري1/72)

۔

 الْحَافِظُ شمس الدين ابن ناصر الدين الدمشقي فِي كِتَابِهِ الْمُسَمَّى «مَوْرِدُ الصَّادِي فِي مَوْلِدِ الْهَادِي»: قَدْ صَحَّ أَنَّ أبا لهب يُخَفَّفُ عَنْهُ عَذَابُ النَّارِ فِي مِثْلِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ لِإِعْتَاقِهِ ثويبة سُرُورًا بِمِيلَادِ النَّبِيِّ ﷺ

حافظ شمس الدین اپنی کتاب مورد الصادی میں فرماتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ ابو لہب کے عذاب میں تخفیف ہوئی پیر کے دن کی مثل میں کیونکہ اس نے باندی ثویبہ کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے میلاد و ولادت کی خوشی میں ازاد کیا تھا

 (الحاوي للفتاوي – الجلال السيوطي1/230)

.

شاہ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں 

در اینجا سند است مر اھل موالید را کہ در شب میلاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سرور کنند و بذل اموال نمایند ابو لہب کے کافر بود و قران بمذمت وے نازل شدہ چوں بسرور میلاد انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وبذل شیر جاریہ وے بجہت انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جزا دادہ شد تا حال مسلمان کہ مملو ست بمحبت و سرور و بذل مال در وے چہ باشد

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت و سند ہے کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے خوشی کرنی چاہیے اور مال خرچ کرنا چاہیے۔۔۔ ابو لہب کافر تھا اور اس کی مذمت کے لیے قرآن نازل ہوا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بہتے ہوئے دودھ کا رزق اس لیے دیا گیا کہ اس نے ثویبہ باندی کو انگلی کے اشارے سے ازاد کیا تو مسلمان جو  محبت اور خوشی سے لبریز ہو اور مال خرچ کرے میلاد کی مناسبت سے تو اس پر رحمتوں نعمتوں کی کتنی بارش ہوگی اس کا کوئی حساب ہی نہیں

(مدارج النبوۃ2/19)

۔


🚨ابولھب نے میلاد ایجاد نہیں کیا کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتا تھا جبکہ میلاد تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر اخری نبی مان کر ان کی ولادت کی مناسبت سے پروگرام نیکیاں جشن وغیرہ کرنا ہے۔۔۔لیکن جب وہ منکر ہو کر صرف ولادت کی خوشی میں کہ اس کے خاندان میں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے اس خوشی میں اس نے خوشخبری دینے والی باندی کو ازاد کیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالی نے اسے اس انگلی سے پلایا جاتا ہے تو پھر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر ان پر ایمان لا کر میلاد منائیں اور حقیقت میں وہی میلاد ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخری نبی مان کر میلاد منایا جائے تو وہی میلاد ہے تو یہ میلاد بدرجہ اولی بہت زیادہ نعمتوں رحمتوں کا باعث ہے اور بالکل جائز ثواب و حق ہے

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل11

نبی پاک نے کئ بار ایک طریقے سے میلاد منایا...نبی پاک سے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئ تو آپ نے فرمایا:

یہ دن میری ولادت کا دن ہے..(مسلم حدیث2747)

یہ حدیث کئ کتابوں میں ہے

 

أَشَارَ - عليه الصلاة والسلام -إلَى فَضِيلَةِ هَذَا الشَّهْرِ الْعَظِيمِ «بِقَوْلِهِ - عليه الصلاة والسلام - لِلسَّائِلِ الَّذِي سَأَلَهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ لَهُ - عليه الصلاة والسلام - ذَلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ» فَتَشْرِيفُ هَذَا الْيَوْمِ مُتَضَمِّنٌ لِتَشْرِيفِ هَذَا الشَّهْرِ الَّذِي وُلِدَ فِيهِ. فَيَنْبَغِي أَنْ نَحْتَرِمَهُ حَقَّ الِاحْتِرَامِ....أَلَا تَرَى أَنَّ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ فِيهِ فَضْلٌ عَظِيمٌ لِأَنَّهُ - ﷺ - وُلِدَ فِيهِ. فَعَلَى هَذَا يَنْبَغِي إذَا دَخَلَ هَذَا الشَّهْرُ الْكَرِيمُ أَنْ يُكَرَّمَ وَيُعَظَّمَ وَيُحْتَرَمَ الِاحْتِرَامَ اللَّائِقَ بِهِ وَذَلِكَ بِالِاتِّبَاعِ لَهُ - ﷺ - فِي كَوْنِهِ - عليه الصلاة والسلام - كَانَ يَخُصُّ الْأَوْقَاتَ الْفَاضِلَةَ بِزِيَادَةِ فِعْلِ الْبِرِّ فِيهَا

 وَكَثْرَةِ الْخَيْرَاتِ

حدیث پاک میں جو ہے کہ رسول کریم نے فرمایا کہ میں پیر کے دن اس لیے روزہ رکھتا ہوں کہ اس دن میری ولادت ہوئی ہے تو اس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ عطا فرمایا ہے کہ ربیع الاول مہینے کی بڑی شان ہے کیونکہ اس مہینے کی بھی نسبت ولادت سے ہے،اس لیے پیر کے دن اور ربیع الاول کے مہینے میں میلاد کرنا چاہیے اور ان دنوں کا خوب احترام کرنا چاہیے اس طرح کے اس میں نیک کام زیادہ کیے جائیں اور خیرات صدقہ وغیرہ کی کثرت کی جائے

 (المدخل لابن الحاج – ابن الحاج2/2)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل12

اسی طرح صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھ کر میلاد منایا ہے

دیکھیے ابو داود 1/331)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل13

نبی پاک کی ولادت پر عقیقہ ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے دوبارہ  اپنا عقیقہ کیا جو کہ میلاد کی دلیل ہے

دیکھیے سنن کبری  بیہقی روایت19273 ... فتح الباری9/595)

.

امام سیوطی نے دلیل اخذ کرتے ہوئے لکھا:

قُلْتُ: وَقَدْ ظَهَرَ لِي تَخْرِيجُهُ عَلَى أَصْلٍ آخَرَ، وَهُوَ مَا أَخْرَجَهُ الْبَيْهَقِيُّ عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ عَقَّ عَنْ نَفْسِهِ بَعْدَ النُّبُوَّةِ» مَعَ أَنَّهُ قَدْ وَرَدَ أَنَّ جَدَّهُ عبد المطلب عَقَّ عَنْهُ فِي سَابِعِ وِلَادَتِهِ، وَالْعَقِيقَةُ لَا تُعَادُ مَرَّةً ثَانِيَةً، فَيُحْمَلُ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الَّذِي فَعَلَهُ النَّبِيُّ ﷺ إِظْهَارٌ لِلشُّكْرِ عَلَى إِيجَادِ اللَّهِ إِيَّاهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وَتَشْرِيعٌ لِأُمَّتِهِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي عَلَى نَفْسِهِ لِذَلِكَ، فَيُسْتَحَبُّ لَنَا أَيْضًا إِظْهَارُ الشُّكْرِ بِمَوْلِدِهِ بِالِاجْتِمَاعِ وَإِطْعَامِ الطَّعَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ الْقُرُبَاتِ وَإِظْهَارِ الْمَسَرَّاتِ،

امام سیوطی فرماتے ہیں کہ میلاد منانے کی ایک اور دلیل مجھے یہ ملی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عقیقہ ہو جانے کے بعد دوبارہ اپنا عقیقہ کیا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمت نعمت کے مواقع پہ دوبارہ شکر کا اظہار کرنا چاہیے عقیقہ کر کے اور دیگر اچھے کام کر کے تو مستحب ہے ہمارے لیے کہ ہم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کی مناسبت سے پیر کے دن اور ربیع الاول کے دن میں میلاد کے اجتماع کریں اور اس میں کھانا کھلائیں اور اس میں نیک کام کریں اور اس میں خوشی کا اظہار کریں

(الحاوي للفتاوي – الجلال السيوطي1/230)


.

۔

#ہر لنگر اور بالخصوص میلاد کے لنگر کا احترام کیجیے*

بسکٹ وغیرہ میلاد کا لنگر عوام کیطرف پھینکنا بےادبی،ضیاع کاخطرہ ہے، اس لیے منع و گناہ ہے...ایسا نہ کریں لنگر سلیقےسےبانٹیں (دیکھیے فتاوی رضویہ 24/495رضا فاؤنڈیشن لاھور پاکستان)

.

سیدی امام احمد رضا لکھتے ہیں:

روٹیاں پکا کر تقسیم کرنا بھی خیر ہے مگر پھینکنا منع ہے اور ان کا پاؤں کے نیچے آنا یا ناپاک جگہ گرنا سخت شدید مواخذہ کا موجب، ایک تو روٹی کی بیحرمتی جس کی تعظیم کا حدیث میں حکم فرمایا، دوسرے نیاز کی چیز کی بے توقیری، نیاز کی چیز معظم ہوتی ہے(فتاوی رضویہ 24/495رضا فاؤنڈیشن لاھور پاکستان)

.

*#میلاد کا کیک..........؟؟*

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کیا:

نہیں،اللہ کی قسم آپﷺکا نام مبارک کبھی نہیں مٹاؤنگا…پھر نبی پاک نےخود مٹایا(ماخذ بخاری حدیث3184)

نیکی روزہ نوافل تلاوت درود ،جائز خوشی،عبادات خیرات کرکے میلاد منانا بہتر…میلاد پےکیک کاٹیں یا نہ ، یہ مسلہ اپنی جگہ مگر کم سےکم کیک پےنام مبارک تو ہرگز ہرگز نہ لکھا جائےکہ نام مٹےگا جو عشاق کا طریقہ نہیں،ہاں ضرورتا لکھنا مٹانا جائز جیسےبلیک بورڈ

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

.

🟫دلیل14

صحابہ کرام ایک دن محفل سجائے بیٹھے تھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے حمد کر رہے تھے، نبی پاک کی آمد و بعثت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ یہ اللہ کا عظیم احسان ہے تو نبی پاک نے صحابہ کرام سے فرمایا:

اللہ فرشتوں سے تم پر فخر کر رہا ہے...(صحیح سنن نسائی حدیث5426) مسند احمد طبرانی وغیرہ کتب مین بھی یہ واقعہ درج ہے

۔

مجدد سلف ثانی فرماتے ہیں

مولود۔۔۔۔در نفس قرآن خوانی بصورت حسن در قصائد و منقبت خواندن چه مضائقه است؟ ممنوع تحریف و تغیر حروف قرآن است والتزام رعایت مقامات نغمه وتردید صوت مآن طریق الحان بالتفصیق مناسب آن در شعر نیز غیر مباح است اگر به نھجے خوانند كه تحریفے در كلمات قرآنى واقع نشدد ودر قصائد خواندن شرائط مذكوره متحقق نگردد وآنراھم بغرض صحیح تجویز نمایند چه مانع است؟"

ترجمہ:

 اچھی آواز سے صرف قرآن مجید اور نعت و منقبت کے قصائد پڑھنے میں کیا حرج ہے( یعنی اس طرح جائز کاموں پر مشتمل میلاد میں کوئی حرج و ممانعت نہیں) منع تو یہ ہے کہ قرآن کے حروف کو تبدیل و تحریف کی جائے، مقامات نغمہ کا التزام کرنا، الحان کے طریقہ سے آواز کو پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا — جو کہ شعر میں بھی جائز نہیں — اگر ایسے طریقہ سے مولود(میلاد) پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو، قصائد پڑھنے میں مذکورہ شرائط متحقق نہ ہوں، اور اسے صحیح نیت سے اختیار کریں، تو پھر  اس طرح کے میلاد کےجائز ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں

(مکتوبات امام ربانی3/116)

.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل15

*#ہر سال دن معین کرکےمیلاد منانےکی ایک اور دلیل......!!*

الحدیث:

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ، وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا، يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ «أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ» فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ

ترجمہ:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ بڑی عظمت والا دن  ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم فرمایا۔

[صحيح البخاري ,4/153حدیث3397]

ایسی حدیث پاک مسلم ابن ماجہ طبرانی شعب الایمان صحیح ابن حبان وغیرہ کئ کتب میں ہے


.

علامہ شامی علیہ الرحمۃ مذکورہ حدیث پاک سے دلیل نقل فرماتے ہیں کہ:

فيستفاد من فعل ذلك شكرا لله تعالى على ما من به في يوم معين من إسداء نعمة أو دفع نقمة، ويعاد ذلك في نظير ذلك اليوم من كل سنة، والشكر لله تعالى يحصل بأنواع العبادات والسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي الكريم نبيّ الرحمة في ذلك اليوم؟

ترجمہ:

اس حدیث پاک، نبی پاک و صحابہ کرام کے اس فعل سے ثابت ہوتا ہے کہ جن پر کسی معین دن میں کوئی نعمت ملی ہو یا عذاب و برائی ٹلی ہو اس دن اللہ تعالیٰ شکر کا دن منانا چاہیے اور یہ دن ہر سال منانا چاہیے اور مختلف قسم کی عبادات سجود روزے صدقہ تلاوت وغیرہ بہت طریقوں سے شکر ادا کیاجاسکتا ہے اور ہمارے پیارے نبی رحمت کی جس دن دنیا میں تشریف آوری ہوئی اس دن سے بڑھ کر شکر و نعمت والا دن بھلا کوئی ہوسکتا ہے....؟؟(لیھذا ہر سال بارہ ربیع الاول یوم ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی جشن منا کر ، روزہ نوافل صدقہ خیرات کرکے مختلف نیکیاں و عبادات کرکے کسی بھی نئے پرانے اچھے طریقے سے شکر و نعمت کے دن کے طور پر منانا مذکورہ حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے)

[سبل الهدى والرشاد1/366)

.

سب کے مستند علامہ امام ابن حجر عسقلانی علامہ امام ابن حجر ہیتمی علامہ امام سیوطی علامہ امام سخاوی نے فرمایا کہ:بخاری و مسلم کی مذکورہ حدیث (بخاری حدیث3397)سے ثابت ہوتا ہے

 کہ

ہر سال معین دن( بارہ ربیع الاول)یوم ولادت نبیﷺکو جائز خوشی کرکے،روزہ نوافل صدقہ خیرات کرکے مختلف نیکیاں و عبادات کرکے کسی بھی اچھےطریقےطریقوں سےمیلاد منانا ثواب ہے(سبل الهدى والرشاد1/366۔۔الاجوبہ المرضیۃ3/111 الحاوی للفتاوی1/22۔۔ تحفۃ المحتاج7/424..ملخصا)

.

امام ابن حجر امام سیوطی امام سخاوی نے ملتی جلتی عبارت لکھی ہے جسکا خلاصہ ہم نے ابھی اوپر لکھا، اسکی عربی الفاظ یہ ہیں:

وَقَدْ سُئِلَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ حَافِظُ الْعَصْرِ أبو الفضل ابن حجر عَنْ عَمَلِ الْمَوْلِدِ، فَأَجَابَ بِمَا نَصُّهُ: أَصْلُ عَمَلِ الْمَوْلِدِ بِدْعَةٌ لَمْ تُنْقَلْ عَنْ أَحَدٍ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِ مِنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، وَلَكِنَّهَا مَعَ ذَلِكَ قَدِ اشْتَمَلَتْ عَلَى مَحَاسِنَ وَضِدِّهَا، فَمَنْ تَحَرَّى فِي عَمَلِهَا الْمَحَاسِنَ وَتَجَنَّبَ ضِدَّهَا كَانَ بِدْعَةً حَسَنَةً وَإِلَّا فَلَا، قَالَ: وَقَدْ ظَهَرَ لِي تَخْرِيجُهَا عَلَى أَصْلٍ ثَابِتٍ وَهُوَ مَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: هُوَ يَوْمٌ أَغْرَقَ اللَّهُ فِيهِ فرعون وَنَجَّى مُوسَى فَنَحْنُ نَصُومُهُ شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى» ، فَيُسْتَفَادُ مِنْهُ فِعْلُ الشُّكْرِ لِلَّهِ عَلَى مَا مَنَّ بِهِ فِي يَوْمٍ مُعَيَّنٍ مِنْ إِسْدَاءِ نِعْمَةٍ أَوْ دَفْعِ نِقْمَةٍ، وَيُعَادُ ذَلِكَ فِي نَظِيرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ، وَالشُّكْرُ لِلَّهِ يَحْصُلُ بِأَنْوَاعِ الْعِبَادَةِ كَالسُّجُودِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَالتِّلَاوَةِ، وَأَيُّ نِعْمَةٍ أَعْظَمُ مِنَ النِّعْمَةِ بِبُرُوزِ هَذَا النَّبِيِّ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ

(السيوطي ,الحاوي للفتاوي ,1/229)

۔

لَقَدْ أقر رسول الله الله الإحتفال بنجاه موسى وقومه وذلك بصيام عاشوراء تعبيراً عن سروره وشكره الله تعالى على ما من به وأنه صلى الله عليه وسلم أولى بالفرح والصيام بنجاة موسى من اليهود .وإذا نظرنا إلى ما مَنَّ الله تعالى به على العالم بمولده لعلمنا أن ميلاده الله يعتبر من أعظم النعم المستحقة للشكر المستوجبة للسرور وإظهار الفرح ، ويستفاد من هذا الحديث على جواز شكر الله تعالى على نعمه الكثيرة والاحتفال بميلاده صلى الله عليه وسلم إذ هي من أخص النعم المستحقة لشكره تعالى

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز قرار دے دیا کہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات والے دن روزہ رکھ کر خوشی کا اور شکر کا اظہار کرنا چاہیے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ اور ان کی ولادت کا دن پیر شریف اور ولادت کا مہینہ ربیع الاول زیادہ حقدار ہے کہ ہم اس میں روزے رکھیں اور خوشی کا جائز طریقے سے اظہار کریں،جب ہم غور کریں گے تو دیکھیں گے کہ اللہ تعالی نے ہمیں دنیا میں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان سب میں سب سے بڑی نعمت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو مستحق ہے کہ ہم اس کا شکر ادا کریں اور اس پر خوشی کا اظہار کریں تو اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں پر شکر ادا کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی محفلیں کریں اور جائز طریقوں سے میلاد منائیں کیونکہ یہ تمام نعمتوں میں سے سب سے خاص نعمت ہے

(الادلۃ الشرعیۃ بجواز الاحتفال بمیلاد خیر البریہ ص28)



.

*#نوٹ*

الحدیث:

صوموا يوم عاشوراء,وخالفوا اليهود صوموا قبله يوما أو بعده يوما...ترجمہ:

عاشورہ(دس محرم) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو(اس طرح)کہ اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو...(صحیح ابن خزیمہ حدیث2095)

.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل16

*#میلاد اسٹیج نعت*

نبی علیہ الصلاۃ والسلام حضرت حسان کے لیے منبر (اسٹیج) رکھواتے اور وہ اس پر کھڑے ہوکر  شانِ مصطفی بیان کرتے، نعتِ نبی بیان کرتے،مفاخر بیان کرتے اور کافروں مشرکوں کی مذمت بیان کرتے تھے، نبی پاک کا دفاع بیان کرتے تھے..

(دیکھیے بخاری حدیث3212 ترمذی حدیث2846)

الحمدللہ وقتا فوقتا اس سنت پر عمل جاری و ساری رہتا ہے تو

میلاد بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و مدحت کے لیے ہی تو ہے۔۔۔۔!!

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل17

*#میلاد ولادت اور سلام*

القرآن..ترجمہ:

مجھ(حضرت عیسی علیہ السلام) پر سلام ہو میری ولادت کے دن..(سورہ مریم آیت33)

جب ولادت کے دن کی مناسبت سے سلام سلامتی درود و سلام ایت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے تو میلاد میں بھی تو یہی ہوتا ہے کہ ولادت کی مناسبت سے صلاۃ و سلام بھی پڑھا جاتا ہے تو یہ ایت مبارکہ بھی میلاد کو ثابت کرتی ہے

.🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل18

امد و میلاد کی مناسبت سے جھنڈے جشن جلوس:

جب نبی پاک مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت عظیم الشان جلوس کے ساتھ آپ علیہ السلام کا استقبال کیا گیا، طلع البدر علینا اور دیگر نعت پڑھی گئ، جھنڈا نہیں تھا تو ایک صحابی نے اپنے عمامے کو اتار کر بڑا جھنڈا بنا لیا، یا محمد یا رسول اللہ کے نعرے لگائے گئے، جشن امد رسول ہی تو تھا اور میلاد میں یہی جشن امد رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہی تو ہوتا ہے

لا تدخل المدينة إلا ومعك لواء، فحل عمامته ثم شدّها في رمح ثم مشى بين يديه صلّى الله عليه وسلّم(الوفا).....فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلَاحِ، فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ، فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ(بخاري)....فصعد الرجال والنساء ، فوق البيوت وتفرق الغلمان ، والخدم في الطرق ينادون يا محمد يا رسول الله ، يا محمد يا رسول الله(مسلم)

(دیکھیےوفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى ,1/190 بخاری روایت3905 مسلم روایت5722)

.

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل19

*#میلاد پے فی زمانہ لائٹنگ*

علامہ قطب الدین لکھتے ہیں

یزار فی اللیلۃ الثانیۃ عشر من شھر ربیع الاول فی کل عام فیجتمع الفقھاء و الاعیان۔۔۔والقضاۃ الاربعۃ بمکۃ المشرفۃ۔۔۔بالشموع الکثیرۃ۔۔۔ویخطب فیہ شخص۔۔۔ویاتی الناس۔۔۔ویفرحون بھا و کیف لا یفرح المومنون بلیلۃ ظہر فھا اشرف الانبیاء والمرسلین۔۔۔والصواب ان ھذہ الجمعیۃ۔۔۔بدعۃ حسنۃ۔۔۔بقولہ۔۔۔ذاک یوم ولدت فیہ۔۔۔لیشغلہ بالعبادۃ و الصیام و القیام و یظہر السرور

12 ربیع الاول کو مکہ کے لوگ جمع ہوتے ہیں فقہاء اور بڑے بڑے لوگ شخصیات حاضر ہوتے ہیں اور چاروں فقہ (فقہ حنفی، فقہ شافعی،فقہ مالکی، فقہ حنبلی) کے قاضی حاضر ہوتے ہیں، لوگ بہت ساری شمعیں لے کر اتے ہیں۔۔۔اور اس بڑے اجتماع میں بہت سارے لوگ حاضر ہوتے ہیں اور وہاں پر وعظ و خطاب کیا جاتا ہے اور خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔۔۔۔اور مومن اس دن کیوں نہ خوشی کا اظہار کریں کہ 12 ربیع الاول کی رات  تمام انبیاء و مرسلین علیھم السلام سے زیادہ شرف و منزلت رکھنے والے سید عالم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس طرح اجتماعی طور پر بھی میلاد منانا بدعت حسنہ کہلائے گا اس کی دلیل ایک یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے دن کے متعلق فرمایا تھا کہ میں اس دن روزہ اس لیے رکھتا ہوں کہ یہ میری ولادت کا دن ہے۔۔۔اس حدیث پاک سے اشارہ ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ عبادات کرے نوافل پڑھے اور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد کے موقع کی مناسبت سے خوشی کا اظہار کرے

(الاعلام باعلام بیت اللہ ص196)

۔

اس زمانہ میں شمعیں لا کر چراغاں کیا جاتا تھا اور اج کے دور میں عظمت اور خوشی کے اظہار کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بہت زبردست قسم کی لائٹنگ کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ نیکیاں عبادات خیرات علم خرچ وغیرہ کو بھی ہرگز نہ بھلایا جائے

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل20

امد پے، میلاد پے جشن و معتدل جھومنا

ابوداود میں ہے کہ:

 قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ فَرَحًا بِذَلِكَ، لَعِبُوا بِحِرَابِهِمْ.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب امد مبارک مدینہ شریف میں ہوئی تو حبشہ لوگ صحابہ کرام اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اور مل کر(جشن کی صورت میں) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد کی خوشی میں جھومنے لگے

(ابو داؤد 4923)

۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد کی مناسبت سے جشن منانا خوشی کا اظہار کرنا صحابہ کرام کی سنت مبارکہ ہے اور یہی تو میلاد ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امد کی مناسبت سے یعنی ربیع الاول کے مہینے میں جشن منایا جاتا ہے اور خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور نیک کام کیے جاتے ہیں یہ میلاد اس حدیث پاک سے بھی ثابت ہوا اور میلاد میں جھومنا بھی ثابت ہوا اور میلاد کا جشن بھی ثابت ہوا

۔

وَلَا شَكَّ أَنَّ يَوْمَ قُدُومِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُمْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْعِيدِ

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف اوری کا دن ان صحابہ کرام کے لیے عید سے بھی بڑھ کر تھا

(فتح الباری2/443)

۔

ثابت ہوا کہ میلاد مبارک تو عیدوں کی بھی عید ہے 

۔

الحدیث:

عن علي قال: أتيت النبي - صلى الله عليه وسلم - وجعفر وزيد، قال: فقال لزيد: أنت مولاي، فحجل! قال: وقال لجعفر: أنت أشبهت خلقى وخلقي، قال: فحجل وراء زيد! قال لي: أنت مني وأنا منك، قال: فحجلت وراء جعفر

ترجمہ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت جعفر اور حضرت زید رضی اللہ عنھم اجمعین تینوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے

حضور نے حضرت زید کہا "انت مولائی"(یہ سن کر حضرت زید خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگے

پھر

حضور نے حضرت جعفر سے فرمایا کہ تم میری صورت اور سیرت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو(یہ سن کر حضرت جعفر خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر حضرت زید کے پیچھے جھومنے لگے

پھر

حضور نے مجھ(حضرت علی) سے کہا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں(تو یہ سن کر خوشی سے) میں حضرت جعفر کے پیچھے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگا

(مسند احمد حدیث857)

.

امام بیھقی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں

فَالرَّقْصُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى مِثَالِهِ يَكُونُ مِثْلَهُ فِي الْجَوَازِ

ترجمہ:

اس قسم سے ملتا جلتا(غیرِ فحش)رقص و جھومنا جائز ہے

(سنن کبری بیھقی تحت روایت21027)

.

حمد و نعت ، نثر و بیان میں اللہ اور اسکے رسول کی محبت و تذکرے میں اور خاص کر میلاد کے مواقع پر معتاد معتدل بلاترتیبِ رقاصِ مذموم محض جھومنا جائز و ثواب ہے مگر فرض واجب نہیں، ایسا نہیں کہ جو نہ جھومے وہ محب نہیں....ہرگز نہیں، اور اسی طرح بلادلیل و شواہد جھومنے والوں پر دکھاوے جہالت و مذمت کے فتوے لگانا بھی ٹھیک نہیں..

.

ہم معتدل جھومنے کو جائز کہتے ہیں مگر مذموم ڈھول دھماکے ناچ گانے اور عورتوں مردوں کے اختلاط کو ہر گز جائز نہیں سمجھتے....ہم اہلسنت ہمیشہ لکھتے رہتے ہیں ، کہتے رہتے ہیں کہ میلاد گناہوں خرافات سے پاکیزہ ہونا ضروری ہے....کچھ جاہل لوگ یا سازشی لوگ میلاد پے ایسی خرافات کرتے ہیں تو ان خرافات کی مذمت کیجیے میلاد کی مزمت و تردید مت کیجیے بلکہ میلاد کو پاکیزہ رکھنے کی ہدایات و تلقین کیجیے.

.

مخالفین اور ہمارے معتبر عالمِ دین، عظیم شخصیت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:

اس موقعہ(میلاد، جلوس محافل) پر جو "بری بدعتیں" پیدا کر لی گئ ہیں اور آلاتِ محرمہ کے ساتھ گانا باجا ہوتا ہے ان سے محفل خالی ہو...(مدارج النبوۃ2/19باحوالہ شرح مسلم علامہ سعیدی3/175 )

۔

🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵

🟫دلیل21

کسی چیز کے متعلق حرام یا حرام ہونے کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں قران اور احادیث میں ذکر نہ ہو تو پھر حکما حدیث مبارک کا حکم ہے کہ اس مطابق عمل کیا جائے جو محققین نیک صالح باشعور جمہور علماء کرام ارشاد فرما جائیں 

اور

جمہور اکثر محققین علماء عابدین نیک صالحین نے میلاد کو جائز لکھا ہے لہذا اس حدیث پاک کے تحت بھی میلاد جائز و ثواب ہے۔۔۔کن کن علماء محققین نیک صالح علماء نے میلاد کو جائز لکھا ہے ان میں سے کچھ کا تذکرہ تو اس تحریر میں اگیا اگلی اقساط میں ان.شاءاللہ عزوجل علمائے کرام محقیقین کے نام اور ان کی تصنیفات اور ان کی عبارات لکھی جائیں گی کہ جس میں انہوں نے میلاد کو جائز و ثواب قرار دیا ہے 

۔

فَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ

جس کام کو محقق مومنین علماء اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے

مسند ابوداود طیالسی حدیث243

طبرانی کبیر حدیث8583

۔

وإسناده صحيح

اہل حدیث وغیرہ کا معتبر ترین محقق البانی کہتا ہے کہ یہ روایت صحابی تک صحیح سند سے ثابت ہے یعنی یہ صحابی کا قول ہے حدیث پاک نہیں (لیکن علمائے محققین فرماتے ہیں کہ صحابی اپنی طرف سے ایسا قول نہیں کہہ سکتا لہذا ایسا قول صحابی نے فرمایا ہے اور وہ صحیح سند سے ثابت ہے تو لازما یقینا اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی کوئی بات سنی ہے لہذا حکمی طور پر وہ صحابی کا قول حدیث پاک کی حیثیت رکھتا ہے)

( سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة – ناصر الدين الألباني2/17)

۔

أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ يَحْدُثُ لَيْسَ فِي كِتَابٍ وَلَا سُنَّةٍ ، فَقَالَ : " يَنْظُرُ فِيهِ الْعَابِدُونَ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سے دریافت کیا گیا کہ کوئی کام کہ جس کے متعلق قران اور سنت میں دو ٹوک حکم موجود نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے معاملے میں دیکھا جائے گا کہ نیک صالح مسلمان محققین کیا کہتے ہیں، کیا عمل کرتے ہیں 

(سنن دارمی حدیث117)

۔

فَمَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْكُمْ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَلْيَقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ ﷺ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ ﷺ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ،۔۔۔۔قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : هَذَا الْحَدِيثُ جَيِّدٌ جَيِّدٌ.

صحابی فرماتے ہیں کہ 

تمہارے پاس کوئی معاملہ ائے تو قران مجید کے ذریعے سے فیصلہ کرو اگر اس معاملے میں قران مجید میں دو ٹوک حکم موجود نہ ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنت کے ذریعے سے فیصلہ کرو اگر ان دونوں میں دو ٹوک حکم موجود نہ ہو تو وہ فیصلہ کرو کہ جو نیک صالح محققین نے فیصلہ فرمایا ۔۔۔اس روایت کی سند بہترین ہے

(سنن نسائی روایت5397)

.

📌 *#نوٹ*

 دل سے اجازت ہے کہ آپ میری کسی بھی تحریر میں سے لنک وغیرہ نکال کر نمبر وغیرہ نکال کر بھی اگے فارورڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ناشر لکھ کر اپنا نام بھی لکھ سکتے ہیں ہمارا مقصد ہے حق اور شعور پھیلے کسی بھی اچھے طریقے سے...!!

.

📣 *#توجہ*

 اہلسنت کے کسی بھی معاملے پر اعتراضات ہوں یا کسی حدیث وغیرہ کی تحقیق تخریج تصدیق کرانی ہو شرعی مسائل درپیش ہوں تو ان کا جواب لینے کے لیے مجھے 03062524574 پر واٹسپ میسج کرسکتےہیں،کوشش ہوگی کہ جلد از جلد جواب بھیج دوں

.

✍️تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

New whatsapp nmbr

03062524574

00923062524574

purana whatsapp nmbr

03468392475

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.